انجیر

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ 22؍جون 2026ء)
انجیر کو جنت کا پھل کہا جاتا ہے۔ قرآن کریم کی سورۃالتین کے آغاز میں اس کی قسم بھی کھائی گئی ہے۔ انجیر کے بارے میں ایک معلوماتی مضمون روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 5؍نومبر 2014ء میں اخبار ’’ایکسپریس‘‘ سے منقول ہے۔

یہ کمزور اور دبلے پتلے لوگوں کے لیے نعمتِ بیش بہا ہے جو جسم کو فربہ اور سڈول بناتا ہے اور خون پیدا کرتا ہے۔ بخار میں بھی مفید ہے۔ یہ ایک نازک پھل ہے جو پکنے کے بعد خودبخود گرجاتا ہے۔ اس محفوظ کرنے کا بہترین طریق خشک کرلینا ہے۔ خشک کرنے کے دوران اسے جراثیم سے پاک کرنے کے لیے گندھک کی دھونی دی جاتی ہے اور پھر نمک کے پانی میں ڈبویا جاتا ہے تاکہ سوکھنے کے بعد نرم و ملائم رہے۔
انجیر مشرق وسطیٰ اور ایشیائے کوچک کا پھل ہے جو مسلمانوں کی آمد کے بعد برصغیر میں پہنچا۔ اس کے اندر پروٹین، معدنی اجزاء، کیلشیم، فاسفورس اور شکر پائے جاتے ہیں۔ اس میں وٹامن اے اور سی کافی مقدار میں جبکہ وٹامن بی اور ڈی قلیل مقدار میں ہوتے ہیں۔ یہ فضلات کو خارج کرتا ہے، جگر اور تلّی کے سدّوں کو کھولتا ہے۔ اس کی سفید قسم گردہ اور مثانہ سےپتھری کو تحلیل کرتی ہے اور زہر کے مضر اثرات سے بچاتی ہے۔بادام اور اخروٹ کے ساتھ ملاکر کھانا فوائد کو بڑھا دیتا ہے۔ نہار منہ کھانا بھی کئی فوائد کا حامل ہے۔چند گھنٹے بھگوکر رکھیں تو انجیر پھول جاتی ہے جو دائمی قبض کے لیے مفید ہے۔
سوکھی انجیر میں بعض اوقات کیڑے پیدا ہوجاتے ہیں اس لیے اس کو استعمال کرنے سے قبل کھول کر دیکھ لینا چاہیے۔

انجیر” ایک تبصرہ

  1. مکرم برادرم ملک محمود احمد صاحب
    السلام علیکم
    جزاکم اللہ تعالی احسن الجزا۔ آپ کی خلاصہ نگاری بہت عمدہ ہوتی ہے۔ اصل مضمون کا لطف برقرار رہتا ہے۔ لیکن اس سے بھی بڑھ کر موضوعات اور مضامین کا انتخاب بھی بہت اعلی اور مفید ہوتا ہے۔ بے شک یہ خدمت ہے جو آپ کے لیے دعا کرنے پر بے آختیار مائل کر تی ہے۔ اللہ تعالی آپ کو اس کی بہترین جزا عطا فرمائے ۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں