رسول کریمﷺ کی مہمان نوازی

October 9, 2026 • 10 مناظر • الفضل ڈائجسٹ

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ …؍اکتوبر 2026ء)

مسجد نبوی مدینہ منورہ

آنحضورﷺ نے فرمایا : مَیں اخلاق حسنہ کو کمال تک پہنچانے کے لیے مبعوث ہوا ہوں۔
اخلاق حسنہ میں سے ایک بنیادی خلق مہمان نوازی بھی ہے۔ اگرچہ یہ خلق اسلام سے قبل بھی عرب معاشرے میں موجود تھا لیکن اس حوالے سے معین ضوابط یا کوئی اصولی تعلیم نہ تھی۔ چنانچہ کبھی یہ ہوتا کہ دشمن بھی مہمان بن کر آتا تو میزبان اپنی انا اور عزت کی خاطر اپنے جانور ذبح کردیتے اور کبھی یوں بھی ہوتا کہ مہمان کسی معمولی سی بات کو ہتک عزت گردان کر میزبان کو ہی تہ تیغ کردیتا۔ ایسے میں آنحضرت ﷺ نے مسلمانوں کو مہمان نوازی کی ایسی تعلیم دی جس کی مثال کسی دوسرے مذہب یا معاشرے نہیں مل سکتی تھی۔اس حوالے سے ماہنامہ ’’خالد‘‘ ربوہ کے ’’سیرت خیرالوریٰؐ نمبر‘‘ برائے نومبرودسمبر2012ء میں ایک مضمون مکرم میر انجم پرویز صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔

میر انجم پرویز صاحب

آنحضورﷺ نے فرمایا کہ جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لاتا ہے اس کو چاہیے کہ اپنے مہمان کا اکرام کرے۔ اکرام میں کھانے پینے اور آرام کا خیال رکھنا شامل ہے نیز مہمان کو دمِ واپسی گھر کے دروازے تک چھوڑنا بھی اکرام ضیف میں داخل ہے اور یہی رسول کریم ﷺ کی سنّت بھی تھی۔ آپؐ کی یہ بھی سنّت تھی کہ مہمان کو خود اپنے ہاتھ سے کھانا پیش کرتے۔ حضرت مغیرہ بن شعبہؓ ایک رات آنحضورﷺ کے ہاں مہمان ہوئے تو آپؐ نے بُھنا ہوا پہلو کا گوشت منگوایا اور چھری سے کاٹ کاٹ کر اُن کو دینے لگے۔ اسی طرح جب حبشہ سے نجاشی کا بھیجا ہوا وفد مدینہ آیا تو آپؐ خود اُن کی مہمان نوازی کے لیے سعی فرماتے۔ صحابہؓ عرض بھی کرتے کہ ہم خدمت کے لیے حاضر ہیں تو آپؐ فرماتے کہ ان لوگوں نے ہمارے صحابہؓ کی عزت کی تھی، مَیں پسند کرتا ہوں کہ خود اپنے ہاتھوں سے ان کی مہمان نوازی کروں کہ ان کے احسان کا یہی بدلہ ہے۔
آنحضرتﷺ نے فرمایا ہے کہ جب تمہارے پاس کسی قوم کا سردار یا معزز آدمی آئے تو اُس کی حیثیت کے مطابق اُس کی عزت و تکریم کرو۔ نیز آنحضورﷺ مختلف علاقوں سے آنے والے وفود کو تحائف بھی دیا کرتے تھے۔ چنانچہ بہت سے غیرمسلم آپؐ کی مہمان نوازی اور حُسن اخلاق سے متاثر ہوکر مشرف بہ اسلام ہوئے۔ ایک بار ایک یہودی آپؐ کا مہمان ہوا۔ رات کو اسہال کی وجہ سے بستر کی چادر خراب ہوگئی تو شرم سے وہ ملے بغیر ہی منہ اندھیرے چلا گیا۔ اتفاق سے وہ اپنی تلوار وہیں بھول گیا۔ یاد آنے پر واپس آیا تو دیکھا کہ حضورﷺ اپنے ہاتھوں سے بستر کو دھو رہے ہیں۔ یہ دیکھ کر اُس نے اسلام قبول کرلیا۔
نبی کریم ﷺ نے دین اسلام کی دعوت کا آغاز ہی بےلَوث مہمان نوازی اور جذبۂ خدمت خلق کے تحت فرمایا۔ دو بار آپؐ نے اپنے رشتہ داروں کو دعوت پر بلایا اور تبلیغ کی ۔
ایک رات ایک غیرمسلم آنحضورﷺ کے ہاں مہمان ہوا تو یکے بعد دیگرے سات بکریوں کا دودھ اُس کو پیش کیا گیا تب اُس کی تسلّی ہوئی۔ حضورﷺ کے حُسن اخلاق سے متاثر ہوکر صبح اُس نے اسلام قبول کرلیا۔ دوسرے روز اُس کے لیے پھر دودھ پیش کیا گیا تو اُس نے صرف ایک بکری کا دودھ پیا جبکہ دوسری بکری کا سارا دودھ بھی ختم نہ کرسکا۔
ایک صحابی کا بیان ہے کہ آنحضورﷺ اُن کو لے کر حضرت عائشہؓ کے ہاں پہنچے اور فرمایا کہ کچھ کھانے کو لاؤ۔ وہ حریسہ لائیں جو ہم نے کھالیا۔ پھر آپؐ نے فرمایا کچھ پینے کے لیے لاؤ۔ وہ دودھ لائیں جو ہم نے پی کر ختم کردیا۔
ابوعبداللہ بن طخفہؓ کا بیان ہے کہ جب آنحضرت ﷺ کے پاس مہمان زیادہ ہوجاتے تو لوگوں میں تقسیم کردیے جاتے۔ لیکن ایک رات مہمان اتنے زیادہ تھے کہ ہم پانچ مہمان بچ رہے۔ آپؐ ہمیں لے کر حضرت عائشہؓ کے ہاں آگئے اور پوچھا کہ کچھ کھانے کے لیے ہے؟ انہوں نے عرض کیا کہ آپؐ کے افطار کے لیے کچھ کھانا تیار ہے۔ پھر وہ پلیٹ میں کھانا لے آئیں۔ آنحضورﷺ نے اس میں سے تھوڑا سا کھایا اور باقی ہم کو دیا کہ بسم اللہ پڑھ کر کھاؤ۔ پھر حضرت عائشہؓ اَور کھانا لائیں وہ بھی ہم نے کھالیا۔ پھر آپؐ کے فرمانے پر وہ پینے کے لیے دودھ لائیں تو آپؐ نے تھوڑا سا پی کر باقی ہمیں دے دیا اور ہم نے پی کر ختم کردیا۔ اس کے بعد آپؐ نے فرمایا کہ اگر چاہو تو یہیں سو جاؤ اور چاہو تو مسجد چلے جاؤ۔ ہم نے کہا کہ مسجد جائیں گے۔ چنانچہ ہم مسجد جاکر سوگئے۔ صبح نماز سے قبل آنحضورﷺ تشریف لائے اور ’’نماز، نماز‘‘ کہہ کر سونے والوں کو جگایا۔ مَیں پیٹ کے بل سویا ہوا تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ کوئی آدمی پاؤں سے مجھے ہلا رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ اس طرح سونا اچھا نہیں۔ مَیں نے دیکھا تو وہ آنحضرت ﷺ تھے۔
آنحضور ﷺ نے تین دن کی مہمان نوازی کو مہمان کا حق قرار دیا ہے۔ اور فرمایا کہ ایک دن رات تو خصوصی آؤبھگت کرنی چاہیے۔ نیز فرمایا کہ کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں کہ اپنے میزبان بھائی کے پاس اتنا عرصہ رہے کہ اُسے گناہگار ہی کردے۔ صحابہؓ نے عرض کیا کہ وہ کیسے گناہگار کرے گا؟ فرمایا کہ مہمان اُس کے پاس مقیم ہو اور وہ مہمان نوازی کا حق نہ ادا کرسکے۔
ایک اَور موقع پر آپؐ نے فرمایا کہ مہمان اتنا عرصہ قیام نہ کرے کہ میزبان کا حرج ہو۔
اگرچہ مدینہ میں آنے والے وفود چونکہ دُور دُور سے آتے تھے اس لیے اُن کا قیام لمبا ہوجاتا تھا۔ بعض دین سیکھنے کے لیے بھی لمبا عرصہ قیام کرتے۔ ایسے میں آنحضور ﷺ کے گھر کے علاوہ کئی دیگر مخلصین کے گھر بھی استعمال ہوتے۔ چنانچہ حضرت رملہؓ کا گھر دارالضیوف کہلاتا تھا، حضرت اُمّ شریکؓ نے بھی اپنے گھر کو مہمان خانہ بنادیا تھا۔
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ نے تبوک کے مقام پر فرمایا کہ دو قسم کے لوگ بےمثال ہیں۔ ایک وہ جو اپنے گھوڑے کے ساتھ جہاد فی سبیل اللہ کے لیے نکلتا ہے اور لوگوں کے شر سے اپنے تئیں بچاتا ہے اور دوسرا وہ شخص جس کو اللہ تعالیٰ نے دنیاوی نعمتوں سے نوازا ہو اور وہ اپنے مہمان کا اکرام کرے اور مہمان نوازی کا حق ادا کرے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *