شذرات

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ …؍جون 2026ء)

قائداعظم محمدعلی جناحؒ

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 26؍مارچ 2014ء میں قومی جرائد سے چند دلچسپ اقتباسات (مرسلہ:مکرم ناصرالدین بلوچ صاحب) شائع ہوئے ہیں۔
٭…جناب ضیاءشاہد بیان کرتے ہیں کہ احمدیوں کے خلاف علماء کا ایک وفد جلوس کی شکل میں قائداعظم کے پاس آیا۔ آپؒ نے فرمایا: میرے پاس صرف دس منٹ ہیں، آٹھ منٹ آپ کے لیے اور دو منٹ میرے لیے۔ علماء نے تمہید میں ہی آٹھ منٹ پورے کردیے تو قائداعظم نے ہاتھ سے انہیں روکا اور فرمایا: اب دو منٹ میرے لیے ہیں۔ ہمیں ہر شخص کی ضرورت ہے جو اپنے آپ کو مسلمان کہتا ہے۔ سب سے پہلے ہم اپنی الگ ریاست حاصل کرلیں اس کے بعد بیٹھ کر فیصلہ کرتے رہیے گا کہ کون مسلمان ہے اور کون نہیں۔ میری نظر میں ہر وہ شخص مسلمان ہے جو خود کو مسلمان کہتا ہے۔
اس پر بہت لے دے ہوئی اور دیوبندی اور احراری مولویوں کی طرف سے قائداعظمؒ کو ’’کافراعظم‘‘ بھی کہا گیا۔

(ماخوذ از اردو ڈائجسٹ دسمبر2012ء صفحہ102)

حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ
جمّوں میں قیام کے دوران

٭…حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ نے ایک غریب بیوہ عورت سے بار بار پوچھا کہ کوئی ضرورت ہو تو بیان کرو۔ اُس کا ایک لڑکا بھی تھا اور بےحد غریب تھی۔ لیکن وہ یہی کہتی رہی کہ اللہ کا بڑا فضل ہے۔ اُس کے گھر میں صرف ایک چھوٹا سا لحاف اور معمولی سی چارپائی تھی۔ آپؓ نے پوچھا مائی! تمہیں لحاف چاہیے، سردی زیادہ ہے اور لحاف چھوٹا ہے۔ کہنے لگی میرا لحاف بڑا عمدہ ہے۔ ہم ماں بیٹا ایک ہی جگہ سو جاتے ہیں۔ جب سردی لگتی ہے تو پہلے ایک پہلو کو گرم کرلیتے ہیں پھر دوسرے کو۔ آپؓ نے اصرار کیا کہ کوئی ضرورت تو بیان کرو۔ اس پر اُس نے کہا کہ میری نظر کمزور ہوگئی ہے، باریک حرفوں والے قرآن سے حروف نظر نہیں آتے، اگر کچھ دینا ہی ہے تو موٹے حرفوں والا قرآن لے دیں۔ پس خدا نے اُسے دنیا میں ہی جنت دے رکھی تھی۔ اُس کے دل میں ہی جنّت تھی اسی لیے کسی دوسری چیز کی خواہش پیدا ہی نہ ہوئی۔

(ماخوذ از خطبات محمود جلد13 صفحہ552)

٭…تقسیم ہند کے زمانے میں لاہور کے ایک اشاعتی ادارے کے مالک پنڈت نول کشور تھے۔ انہوں نے احترامِ قرآن کا معیار یہ مقرر کیا تھا کہ پہلے تو پنجاب بھر سے اعلیٰ ساکھ والے حفاظ اکٹھے کرکے زیادہ تنخواہ پر ملازمت دی۔ جہاں قرآن کی جلدبندی ہوتی تھی وہاں کسی کو جوتوں سمیت جانے کی اجازت نہیں تھی۔ ایک بار پنجاب اسمبلی کے سربراہ سرچھوٹورام تشریف لائے تو اُن کو بھی اس قاعدے کا احترام کرنا پڑا۔ اس اصول پر وہ سودے بازی کے قائل نہ تھے اور کہتے تھے کہ ’’مجھے اس بات کی پرواہ نہیں کہ میرا ادارہ چلتا ہے یا نہیں مگر مَیں احترام کے معاملے میں لچک ظاہر نہیں کرسکتا۔‘‘ ادارے میں دو ملازمین کا صرف یہ کام تھا کہ کاغذ کے ہر اُس ٹکڑے کو اٹھاکر بوری میں بند کرلیں جو کبھی قرآنی اوراق کا حصہ رہا ہو۔ پھر ان بوری بند اوراق کو دریا میں بہا دیا جاتا یا زمین میں دفن کردیا جاتا۔ یہی وجہ تھی کہ پنڈت جی نے مسلمانوں کا دل جیت لیا تھا اور جب تقسیم ہند کے بعد انہوں نے ہجرت کا فیصلہ کیا تو لاہور کے لوگوں نے انہیں اُن کے خاندان اور سامان سمیت سرحد کے پار پہنچایا۔ پنڈت جی نے دہلی جاکر بھی اشاعتِ قرآن کا سلسلہ جاری رکھا۔ وہاں کے مسلمان بھی آپ کے گرویدہ تھے اور دہلی مسجد کے امام بخاری سے اُن کے ذاتی تعلقات تھے۔ چنانچہ 1951ء میں اُن کا انتقال ہوا تو ہندو رسوم کے مطابق اُن کی ارتھی اٹھی۔ سوگواران میں مسلمانوں کا ہجوم بھی شامل تھا۔ ارتھی کو شمشان گھاٹ لے جاکر چتا پر رکھا گیا اور نذرآتش کیا جانے لگا تو خشک ایندھن نے آگ پکڑنے سے انکار کردیا۔ رسم کے مطابق گھی کے کئی ٹین بھی انڈیلے جاچکے تھے۔ امام بخاری کو علم ہوا تو فوراً وہاں پہنچے اور پنڈت جی کے لواحقین کو بڑی حکمت سے سمجھایا کہ احترامِ قرآن کی وجہ سے پنڈت جی کے جسم کو آگ نہیں لگ سکتی اس لیے آپ بھی اُن کو دفن کرکے خالق حقیقی کے منشاء پر عمل کریں۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور اُنہیں شمشان گھاٹ میں دفن کرکے بعد میں ہندوؤں نے اپنی روایات کے مطابق ایک سمادھی بھی وہاں تعمیر کردی۔ 1970ء تک اُن کی سمادھی پر ہندو اور مسلمان بلاتفریق حاضر ہوتے اور اپنے عقائد کے مطابق دعائیں مانگا کرتے تھے۔

(اردو ڈائجسٹ مئی2012ء صفحہ256)

اپنا تبصرہ بھیجیں