نیند
(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ 22؍جون 2026ء)
ہفت روزہ ’’بدر‘‘ قادیان 9؍جنوری2014ء میں نیند کے بارے میں ایک مختصر مضمون مکرم صدیق اشرف علی موگرال صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے مختلف مقامات پر رات کی نیند کی اہمیت بیان فرمائی ہے۔ مثلاً فرمایا: اور اس کے نشانات میں سے تمہارا رات کو اور دن کو سونا ہے اور تمہارا اس کے فضل کی جستجو کرنا بھی۔ (الروم:24)
اسی طرح نیند کو تسکین اور آرام کا ذریعہ اور دن کو روشن اور معیشت کمانے کا ذریعہ بیان فرمایا۔ چنانچہ فرمایا: اللہ وہ ہے جس نے تمہارے لیے رات کو بنایا تاکہ تم اس میں تسکین پاؤ اور دن کو دکھانے والا بنایا۔ یقیناً اللہ لوگوں پر بہت فضل کرنے والا ہے لیکن اکثر انسان شکر نہیں کرتے۔ (المومن:62)
نیز فرمایا: اللہ جانوں کو ان کی موت کے وقت قبض کرتا ہے اور جو مَری نہیں ہوتیں (انہیں) ان کی نیند کی حالت میں (قبض کرتا ہے)۔ پس جس کے لیے موت کا فیصلہ کر دیتا ہے اسے روک رکھتا ہے اور دوسری کو ایک معین مدت تک کے لیے (واپس) بھیج دیتا ہے۔ یقیناً اس میں فکر کرنے والوں کے لیے بہت سے نشانات ہیں۔ (الزمر:43)
مذکورہ بالا آیت کے حوالے سے حضرت خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ اس آیت میں ایک عظیم الشان راز سے پردہ اٹھایا گیا ہے کہ نیند بھی ایک قسم کی موت ہے جس میں روح یا شعور بار بار ڈوبتا ہے اور پھر اللہ تعالیٰ نے ایسا نظام مقرر فرمادیا ہے کہ معین وقت پر دماغ کی تہ سے ٹکراکر پھر واپس اُبھرتا ہے۔ سائنس دانوں نے اس پر تحقیق کی ہے اور بتایا ہے کہ یہ واقعہ معین وقت میں ایک سوئے ہوئے شخص سے بار بار پیش آتا رہتا ہے۔ اس معین وقت کو اٹامک گھڑی سے بھی ناپا جاسکتا ہے اور اس مدّت میں کسی قسم کا کوئی فرق نظر نہیں آئے گا۔ پھر جب اللہ تعالیٰ اس نفس کو ڈوبنے کے بعد دوبارہ واپس نہیں بھیجتا تو اسی کا نام موت یا وفات ہے۔
حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے سونے کے حوالے سے ہدایت دیتے ہوئے فرمایا کہ تازہ وضو کی حالت میں لیٹنے کا اثر قلب پر پڑتا ہے اور اس سے خاص قسم کی نشاط پیدا ہوتی ہے، ایسا شخص نشاط کی حالت میں ہی اُٹھتا بھی ہے۔ اسی طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ عشاء کی نماز کے بعد بغیر کلام کیے سو جانا چاہیے تاکہ دینی خیالات پر ہی آنکھ لگے۔ نیز کوئی ذکر کرکے سوئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم بھی سونے سے پہلے تینوں قُل پڑھ کر اپنے ہاتھوں پر پھونکتے اور ہاتھ سارے جسم پر پھیرتے اور ایسا تین دفعہ کرتے اور پھر دائیں طرف منہ کرکے یہ دعا کرتے:
اللّٰھُمَّ اَسْلَمْتُ نَفْسِیْ اِلَیْکَ وَ وَجَّھْتُ وَجْھِیْ اِلَیْکَ وَ فَوَّضْتُ اَمْرِیْ اِلَیْکَ رَغْبَۃً وَّرَھْبَۃً اِلَیْکَ لَامَلْجَأَ وَلَامَنْجَأَ اِلَّا اِلَیْکَ اٰمَنْتُ بِکِتَابِکَ الَّذِیْ اَنْزَلْتَ وَ نَبِیِّکَ الَّذِیْ اَرْسَلْتَ۔ (ترمذی)
پھر لیٹ کر دل میں سُبْحَانَ اللّٰہِ وَبِحَمْدِہٖ سُبْحَانَ اللّٰہِ الْعَظِیْم یا کوئی بھی ذکر کرتے ہوئے انسان سوجائے تو عام طور پر ساری رات وہ اسی حالت میں گزارتا ہے اور اسی کیفیت میں جاگتا ہے۔ (ماخوذ از ذکرالٰہی)
حضرت چودھری سرمحمد ظفراللہ خان صاحبؓ جب عالمی عدالت انصاف کے جج تھے تو ایک بار اپنے ڈاکٹر کے دریافت کرنے پر آپؓ نے بتایا کہ بستر پر لیٹنے کے بعد نیند آنے میں مجھے اوسطاً تین منٹ لگتے ہیں۔ بہت شاذ ہی ایسا ہوتا ہے کہ کسی سوچ کی وجہ سے نیند نہ آئے تو مَیں اپنے تئیں سمجھاتا ہوں کہ دنیا کا مالک اللہ تعالیٰ ہے، تم نہیں ہو۔ آج تم نے اپنی توفیق کے مطابق کام کیا۔ کل صبح تک زندہ رہوگے تو پھر اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ توفیق کے مطابق کام شروع کردینا۔ یہ وقت آرام کا ہے، اب سوجاؤ۔ ڈاکٹر کے دریافت کرنے پر آپؓ نے فرمایا کہ یہ ترکیب ہر بار کارگر ہوتی ہے۔
حضرت چودھری صاحبؓ جب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر تھے تو ایک بار آپؓ نے اپنے سیکرٹری سے فرمایا: یہ درست ہے کہ مَیں جلد سو جاتا ہوں اور آپ کو دیر تک کام کرنا پڑتا ہے جس کی مَیں قدر کرتا ہوں۔ لیکن ٹیلیفون میرے بستر کے پاس ہی ہوتا ہے۔ جب ضرورت ہو آپ بِلاتکلّف رات کی کسی ساعت میں میرے ساتھ بات کرسکتے ہیں۔ مَیں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ آپ میرے آرام میں مخل نہیں ہوں گے، نہ میری آواز میں نیند کا اثر محسوس کریں گے اور بات ختم کرنے کے نصف منٹ کے اندر مَیں پھر گہری نیند سو رہا ہوں گا۔
نیند نہ آنے کی بےشمار وجوہات ہیں اور اسی طرح بےشمار نسخے بھی بیان کیے جاتے ہیں۔ مثلاً ایسی حالت میں دودھ میں ایک چمچہ شہد ملاکر پینا مفید پایا گیا ہے۔ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے ہومیو دوا Nux Vomica 30 کو بےخوابی کی مؤثر دوا فرمایا ہے خصوصاً اُن لوگوں کے لیے جنہیں کسی نشے کی یا نیند کی گولیاں کھانے کی عادت ہوجائے۔ اگر یہ اکیلی دوا کام نہ کرے تو پھر اس کے ساتھ Chamomilla ملالیں۔ اسی طرح اگر اعصابی اُکساہٹ کی وجہ سے کبھی نیند نہ آئے تو Kali Phos استعمال کریں۔
