کلمہ طیبہ کے ایک مقدمے کی روئیداد

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ 22؍جون 2026ء)

ماہنامہ ’’احمدیہ گزٹ کینیڈا‘‘ جنوری 2014ء میں مکرم ملک محمود احمد صاحب آف گوجرانوالہ کے قلم سے ایک مقدمے کی روئیداد بیان کی گئی ہے جو جنرل ضیاءالحق کے جاری کردہ بدنام زمانہ آرڈیننس کے نتیجے میں قائم کیا گیا تھا۔
مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ 20؍اکتوبر1984ء کی شام میری ایجنسی پر SHO نے آکر مجھے ایک FIR دی اور کہا کہ آپ پر ایک مقدمہ درج ہوا ہے، مَیں نے مناسب نہیں سمجھا کہ اس سلسلے میں خود کارروائی کروں، آپ اپنی ضمانت کروالیں۔
FIR کے مطابق مخالفین نے بیان کیا تھا کہ احمدیہ مسجد کی بیرونی دیوار پر کلمہ طیّبہ لکھا ہے جو خلافِ قانون ہے۔ اس میں خاکسار کے علاوہ مکرم حاجی محمد شریف صاحب نائب امیرضلع اور مکرم مولانا محمد اعظم اکسیر صاحب مربی سلسلہ ملزم گردانے گئے تھے۔ بعدازاں مکرم چودھری محمد شریف احمد صاحب جنرل سیکرٹری کو بھی ملزمان کی فہرست میں شامل کرلیا گیا۔ امیر صاحب لاہور کو اطلاع دی گئی تو وہاں سے تین وکلاء مکرم سی۔اے رحمان صاحب، مکرم مرزا نصیر احمد صاحب اور مکرم ملک محمود مجید خان صاحب گوجرانوالہ آئے اور اگلے ہی روز عدالت میں درخواست دے کر عارضی ضمانت منظور ہوگئی جس کی توثیق 11؍نومبر1984ء کو سیشن کورٹ سے ہونا تھی۔
11؍نومبر کو ہم سیشن کورٹ پہنچے تو باہر مُلّاؤں نے ایک ہجوم اکٹھا کررکھا تھا۔ ستّر اسّی احمدی بھی موجود تھے۔ آواز پڑنے پر ہم عدالت میں داخل ہوئے تو ہجوم نے وکلاء کی کرسیوں پر بھی قبضہ کیا ہوا تھا۔ ہمیں دیکھتے ہی انہوں نے عدالت کے اندر ہی نعرہ بازی شروع کردی۔ بحث شروع ہوئی تو مخالفین کے وکلاء جذباتی تقریریں کرتے اور ضمانت کی منسوخی سے کم پر راضی ہوتے نظر نہیں آتے تھے۔ عدالت پر شدید دباؤ تھا اور یقین ہوچلا تھا کہ فیصلہ ہمارے خلاف آئے گا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور عدالت نے ضمانت کی توثیق کردی تاہم مخالفین کی تسلّی کے لیے زرِضمانت پانچ ہزار سے بڑھاکر پچاس ہزار کردیا۔
یہ مقدمہ قریباً دس سال چلتا رہا۔ ہر ماہ پیشی ہوتی۔ ہم تینوں ملزمان کے خلاف 1985ء اور 1986ء میں اسی قسم کے مزید مقدمات بھی بنادیے گئے۔ مقدمے کی طوالت دیکھتے ہوئے بعض قانونی حلقوں کی رائے تھی کہ عدم ثبوت کی بِنا پر عدالت سے بریّت کے لیے رجوع کیا جائے تاہم ہمارا یہی جواب تھا کہ یہ مقدمات ہمارے لیے تکلیف نہیں بلکہ راحت کا باعث ہیں۔ اس دوران مکرم محمد اعظم اکسیر صاحب کی تبدیلی فیصل آباد ہوگئی تو وہ بڑی دقّت سے ہر تاریخ پر سفر کرکے آتے۔ خاکسار نے ایک بار اُن سے کہا کہ قانون میں یہ رعایت موجود ہے کہ آپ کو حاضری سے استثناء مل جائے تو انہوں نے اس تجویز کو پسند نہیں کیا اور کہا کہ یہ تو ایک اعزاز ہے، آپ مجھے کیوں اس سے محروم کرنا چاہتے ہیں۔ چنانچہ جب دس سال بعد مقدمہ خارج ہوگیا تو بھی مربی صاحب اداس ہوکر کہنے لگے کہ یہ تو برکت کا ایک ذریعہ تھا جو ختم ہوگیا۔ عدالت میں آنے والے اکثر احمدی اپنے سینوں پر کلمہ طیبہ کا بَیج لگاکر آتے تھے۔ بعض کو اس پاداش میں گرفتاری اور جیل کا سامنا بھی کرنا پڑا جن میں ایک نابینا مکرم حافظ بشیر احمد صاحب بھی شامل تھے۔ احمدیوں کا کلمہ طیبہ سے عشق کا یہ حال تھا مقدمے کے دوران احمدیہ مسجد باغبان پورہ کی بیرونی دیوار پر 47 مرتبہ کلمہ طیبہ لکھا گیا اور ہر مرتبہ پولیس نے اسے مٹایا۔ اسی دوران مکرم مولانا یٰسین ربّانی صاحب مربی سلسلہ ضلع پر بھی کلمہ طیّبہ کے سلسلے میں مقدمہ درج ہوا۔ خاکسار نے اُن کی ضمانت کی درخواست دائر کی ۔ چند دنوں بعد ضمانت کی توثیق کی تاریخ تھی تو میں اپنے گھر سے سیشن کورٹ کی طرف جارہا تھا۔ مَیں نے دیکھا کہ ربّانی صاحب سائیکل پر اپنے گھر کی طرف جارہے تھے۔ مَیں نے خیال کیا کہ شاید وہ بھول گئے ہیں۔ مَیں نے اُنہیں روک کر کہا کہ آپ کو تو اس وقت کچہری میں ہونا چاہیے تھا۔ کہنے لگے کہ گھر سے اسی نیت سے نکلا تھا لیکن کلمہ طیّبہ کا بَیج سینے پر لگانا بھول گیا ہوں، اس لیے واپس جارہا ہوں۔ بڑی مشکل سے اُنہیں راضی کیا کہ حکمت کا تقاضا ہے کہ آج کے دن یہ بَیج نہ لگائیں کہیں عدالت خوامخواہ نہ بپھر جائے۔
کلمہ طیّبہ کی مُہم کے دوران عجیب روح پرور ماحول تھا۔ بےشمار احمدیوں نے کوشش کرکے اس میں اپنا حصہ ڈالا جن میں سے کئی دوست آج ہم میں موجود نہیں۔ ان سب کے لیے دعا کی درخواست ہے

جن دوستوں کی آج کمی ہے حیات میں
وہ اپنے درمیاں تھے ابھی کل کی بات ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں