خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 14؍دسمبر 2007ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
آنحضرتﷺ کا ہر عمل، ہر نصیحت، ہر بات، ہر لفظ اپنے اندر حکمت لئے ہوئے ہے۔
آنحضرتﷺ کی حیات طیبہ سے آپ کے مختلف پُرحکمت فیصلوں اور ارشادات کی روشن مثالوں کا تذکرہ
بعض دفعہ بڑی معمولی باتیں دوسروں کی ٹھوکر کا باعث بن جاتی ہیں توایسی صورت میں وضاحت کرکے شکوک کودور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ دوسرا ٹھوکر سے بچے اور اپنے ایمان کو ضائع ہونے سے بچائے۔
احمدی یاد رکھیں کہ ہم نے کسی سے دشمنی کا بدلہ اور انتقام نہیں لینا بلکہ وہ راستہ اختیار کرنا ہے جوہمارے سامنے رسول اللہﷺ نے اپنے اسوہ سے پیش فرمایا۔
یہ ظلم جو احمدیوں پر ہو رہاہے انشاء اللہ تعالیٰ یہ زیادہ دیر نہیں چلے گا۔ فتح ہماری ہے اور یقینا ہماری ہے۔
شیخوپورہ کے ایک نوجوان ہمایوں وقار ابن سعید احمد صاحب ناصر کی شہادت کا تذکرہ اور نماز جنازہ غائب۔ انشاء اللہ تعالیٰ ان شہیدوں کا خون ضرور رنگ لائے گااورلانے والاہے۔
خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ مورخہ 14؍دسمبر 2007ء بمطابق14؍فتح 1386 ہجری شمسی بمقام مسجد بیت الفتوح، لند ن (برطانیہ)

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

آج مَیں اللہ تعالیٰ کی صفات سے سب سے زیادہ حصہ پانے والے یا اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ اس دنیا میں اللہ تعالیٰ کے رنگ میں سب سے زیادہ رنگین ہونے والے اور اللہ تعالیٰ کی صفات کے وہ مظہر حقیقی جن سے زیادہ کوئی انسان اللہ تعالیٰ کا رنگ اپنے اوپر نہیں چڑھا سکتا، یعنی حضرت خاتم الانبیاء محمد مصطفیﷺ کا صفت حَکِیْم کے حوالے سے ذکر کروں گا۔ آپؐ اللہ تعالیٰ کے وہ پیارے ہیں جن کی پیدائش زمین و آسمان کی پیدائش کی وجہ بنی۔ جن پر اللہ تعالیٰ اور اس کے فرشتے رحمت بھیجتے ہیں۔ پس آپؐ کا مقام اور آپؐ کے مبارک کلمات کی اہمیت ایسی ہے کہ ایک مومن کی ان پر نظر رہنی چاہئے۔ ایک تو وہ تزکیہ ٔ نفس کے لئے تعلیم اور حکمت کی باتیں ہیں جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں آپؐ کے ذریعہ ہمیں بتائیں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے

کَمَآ اَرْسَلْنَافِیْکُمْ رَسُوْلًا مِّنْکُمْ یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِنَا وَیُزَکِّیْکُمْ وَیُعَلِّمُکُمُ الْکِتٰبَ وَاْلحِکْمَۃَ وَیُعَلِّمُکُمْ مَّالَمْ تَکُوْنُوْا تَعْلَمُوْن(سورۃ البقرہ آیت نمبر152)۔

جیسا کہ ہم نے تمہارے اندر تمہیں میں سے تمہارا رسول بھیجا ہے جو تم پر ہماری آیات پڑھ کر سناتا ہے اور تمہیں پاک کرتا ہے اور تمہیں کتاب اور اس کی حکمت سکھاتا ہے اور تمہیں ان باتوں کی تعلیم دیتا ہے جن کا تمہیں پہلے کچھ علم نہ تھا۔
دوسرے آپؐ کے حکم، قول، عمل اور نصیحت جو روز مرہ کے معمولات سے لے کر قومی معاملات تک پھیلی ہوئی ہیں جس میں آپؐ کی ہر ایک بات، ہر عمل، ہر نصیحت، ہر کلمہ، ہر لفظ جو ہے وہ اپنے اندر حکمت لئے ہوئے ہے۔ اور دراصل تو آپؐ کا قول، عمل اور نصائح جو قرآن کریم کی پُر حکمت تعلیم ہیں، اس کی تفسیر ہیں جو آپؐ کے ہر قول اور فعل میں جھلکتی ہیں۔ پس یہ اُسوہ حسنہ جو ہمارے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمارے ہر قول و فعل کو پُر حکمت بنانے کے لئے بھیجا ہے۔ یہی ہے جس کے پیچھے چل کر ہم حکمت و فراست کے حامل بن سکتے ہیں۔

یَتْلُوْا عَلَیْکُمْ اٰیٰتِنَا

کہہ کر اللہ تعالیٰ نے اس بات کی تصدیق کر دی کہ تمہیں پاک کرنے اور تمہارے فائد ے کے لئے یہ نبی جو بھی تمہیں سناتا ہے وہ یا ہمارا اصل کلام ہے جو سنایا جاتا ہے یا اس کی وضاحت ہے۔ اس لئے اس نبی کی کوئی بات بھی ایسی نہیں ہے جسے تم سمجھو کہ بے مقصد اور حکمت سے خالی ہے۔ اور پھر یہ نبی صرف تمہیں حکم نہیں دیتاکہ ایسا کرو۔ ایسا نہ کرو۔ نصیحت نہیں کرتا بلکہ عملی نمونے بھی دکھاتا ہے۔ اس لئے خداتعالیٰ تمہیں حکم دیتا ہے کہ اس اسوئہ حسنہ پر عمل کرو جو اللہ تعالیٰ کے اس پیارے نبی ﷺ نے قائم فرمایا۔ پس ہر مومن کو آنحضرت ﷺ کی ہر بات کو سمجھنا چاہئے اور اس پر غور کرنا چاہئے۔ اگر واضح طور پر سمجھ نہ بھی آئے تو یہ ایمان ہو کہ یقینا اس میں کوئی حکمت ہے اور ہمارے فائدے کے لئے ہے۔ یہی سوچ ہے جو ایک مومن کی شان ہونی چاہئے، مومن کے اندر ہونی چاہئے۔
اب مَیں آنحضرت ﷺ کی چند احادیث پیش کرتا ہوں جس میں مختلف امور بیان فرماتے ہوئے آپؐ نے ہماری عملی تربیت بھی فرمائی ہے۔
سب سے پہلے تو یہ حدیث پیش کرتا ہوں۔ ایک حدیث میں آپؐ فرماتے ہیں کہ

اَلْکَلِمَۃُ الْحِکْمَۃُ ضَالَّۃُ الْمُؤْمِنِ حَیْثُ مَا وَجَدَھَا فَھُوَ اَحَقُّ بِھَا۔

(سنن ابن ماجہ۔ کتاب الزھد۔ باب الحکمۃ)
حضرت ابو ہریرہ ؓ سے یہ روایت ہے کہ رسول کریمﷺ نے فرمایا حکمت اور دانائی کی بات مومن کی گمشدہ چیز ہے۔ جہاں کہیں وہ اسے پاتا ہے وہ اس کا زیادہ حقدار ہوتا ہے۔
اس میں جہاں یہ واضح فرمایا کہ حکمت کی بات کہیں سے بھی ملے خواہ وہ غیر مذہب والے سے ملے، غریب سے ملے، بچّے سے ملے، تمہارے خیال میں کوئی جاہل ہے، کم پڑھا لکھا ہے اس سے ملے، لیکن یہ دیکھو کہ بات کیا ہے۔ اگر حکمت ہے تو اس کو اپنا لو کیونکہ تم اس کے حقدار ہو۔ اسے تکبر سے رَدّ نہ کرو یا یہ نہ سمجھو کہ جو کچھ مجھے پتہ ہے وہی سب کچھ ہے۔ بلکہ غور کرتے ہوئے اسے اختیار کرو۔
اب دیکھیں وہ ایک بچے کی حکمت کی بات ہی تھی جو اس نے بزرگ کو کہی تھی۔ واقعہ آتا ہے بارش میں ایک بچہ چلا جا رہا تھا تو بزرگ نے کہاکہ دیکھو بچے آرام سے چلو کہیں پھسل نہ جانا۔ بچے نے کہا کہ اگر مَیں پھسلوں گا تو صرف مجھے چوٹ لگے گی لیکن آپ تو قوم کے راہنما ہیں، روحانی راہنما ہیں۔ آپ اگر پھسلے تو پوری قوم کے پھسلنے کا خطرہ ہے، متأثر ہونے کا خطرہ ہے۔ تو بڑی حکمت کی بات ہے جو ایک بچے کے منہ سے نکلی۔
دوسرے اس طرف توجہ دلائی کہ ایک مومن کو فضولیات سے بچتے ہوئے حکمت کی باتوں کی تلاش رہنی چاہئے۔ اگر اس سوچ کے ساتھ ہم اپنی زندگی گزاریں گے تو بہت سی لغویات اور فضول باتوں سے بچ جائیں گے۔
پھر آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں۔ حدیث میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایاکہ رشک دو آدمیوں کے متعلق جائز ہے۔ ایک وہ آدمی جسے اللہ نے مال دیا ہو اور وہ اسے راہ حق میں خرچ کرتا رہے۔ اور ایک وہ آدمی جسے اللہ تعالیٰ نے حکمت عطا کی ہو اور وہ اس کے ذریعہ سے فیصلے کرتا ہے اور اسے دوسروں کو سکھاتا ہے۔ (صحیح بخاری باب الاغتباط فی العلم والحکمۃ)
اس میں مومنوں کے ذمے یہ کام بھی کر دیا کہ حکمت کو آگے بھی پھیلاؤ۔ حاصل بھی کرو اور پھر آگے پھیلاؤ تمہارے تک محدود نہ رہ جائے۔ اگر کوئی پُر حکمت اور علم کی بات ہے تو مومن کی شان یہی ہے کہ اسے آگے پھیلاتا چلاجائے تاکہ حکمت و فراست قائم کرنے والا معاشرہ قائم ہو۔ ایسی مجالس جن میں حکمت کی باتیں ہوتی ہوں آنحضرت ﷺ نے اُنہیں

نِعْمَ الْمَجْلِس

کا نام دیا ہے۔
عون بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ (بن مسعود) نے کہا کہ کیا ہی عمدہ وہ مجلس ہے کہ جس میں حکمت والی باتیں پھیلائی جاتی ہیں۔ یہ براہ راست آنحضرت ﷺ کی طرف تو روایت نہیں ہے۔ لیکن یہ انہوں نے سنا اور فرمایا کہ کیا ہی عمدہ مجلس ہے جس میں حکمت کی باتیں پھیلائی جائیں اور جس میں رحمت کی امید کی جاتی ہے۔ (سنن الدارمی۔ باب من ھاب الفتیامخافۃ)۔
تو یہ ہماری مجالس کے معیار ہونے چاہئیں اور اللہ تعالیٰ کا حکم بھی یہی ہے کہ لغو مجالس سے اٹھ جاؤ۔ ایسی مجالس سے بھی اٹھ جاؤ جہاں دین کے خلاف باتیں ہو رہی ہوں۔ مذہب پر منفی تبصرے ہو رہے ہوں۔ خداتعالیٰ کی ذات کے متعلق فضول باتیں ہو رہی ہوں۔ اگر تمہارے علم میں ہے تو سمجھانے کے لئے اور اس لئے کہ کچھ لوگوں کا بھلا ہو جائے اور یا جوکوئی بھی صاحب علم ہیں وہ ایسے لوگوں کو سمجھانے کے لئے اگر ایسی مجلس میں بیٹھ جاتے ہیں تو ٹھیک ہے لیکن اگر دیکھیں کہ یہ لوگ صرف ڈھٹائی سے کام لے رہے ہیں، سمجھنا نہیں چاہتے تو پھر ایسی مجلس سے اٹھ جانے کا اللہ تعالیٰ کا بھی حکم ہے۔ کیونکہ پھر فرشتے ایسی مجلسوں پر لعنت بھیجتے ہیں۔ اور ایک مومن کو تو ایسی مجلس کی تلاش ہونی چاہئے جس میں حکمت کی باتیں ہوں۔
حضرت ابن عباسؓ بیان کرتے ہیں کہ میرے لئے رسول اللہﷺ نے دو مرتبہ یہ دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مجھے حکمت عطا کرے۔ (سنن الترمذی۔ کتاب المناقب باب مناقب عبداللہ بن عباسؓ) آپؐ کے نزدیک اس کی اتنی اہمیت تھی۔ یہ اتنا بڑا تحفہ تھا کہ آپؐ نے دعا دی۔
پھر علم اور حکمت کے بارے میں آنحضرت ﷺ کا ایک اور انداز جس کا جنگی قیدیوں کے سلسلہ میں روایت میں ذکر آتا ہے، یہ ہے کہ حضورﷺ نے ان قیدیوں کو جو لکھنا پڑھنا جانتے تھے انہیں اختیار دیا کہ اگر وہ انصار کے دس بچوں کو لکھنا پڑھنا سکھا دیں تو آزاد ہوں گے۔ چنانچہ بچے جب لکھنے پڑھنے کے قابل ہو جاتے تھے توان قیدیوں کو جو جنگی قیدی تھے، آزاد کر دیا جاتا تھا۔ (طبقات لابن سعد۔ جلد 2صفحہ260)۔ یہ اہمیت تھی آپؐ کی نظر میں علم کی۔
حکمت کے ایک معنی علم بھی ہیں کیونکہ علم دماغ روشن کرنے کا باعث بنتا ہے۔ جہالت کو ختم کرتا ہے۔ آنحضرت ﷺ نے اس حکمت کے پیش نظر یہ حکم دیا تھا کہ دماغ روشن ہوں گے تو بہترین طریق پر اسلام کا پیغام آگے پہنچا سکیں گے۔ اگر آپﷺ کے ذہن میں یہ بات ہوتی جس کا آج کل آپﷺ پر الزام لگایا جاتا ہیکہ نعوذ باللہ آپ تلوار کے زور پر ساری دنیا کو زیر نگیں کرنا چاہتے تھے تو یہ حکم پھر آپؐ کبھی نہ دیتے کہ جو اتنے بچوں کو پڑھنا لکھنا سکھادے گا اس کو آزادی مل جائے گی۔ بلکہ اس کی جگہ یہ ہوتا کہ اگر جرمانہ دے کر رہائی نہیں پا سکتے تھے تو اگر کوئی قیدی لڑائی کا خاص قسم کا ہنر اور فن جانتا ہے تو وہ سکھائے گا تو رہائی ہو گی۔ لیکن آپؐ نے تو علم و حکمت کی طرف اپنی اُمّت کو توجہ دلائی۔
پس ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ آج ہمارے غالب آنے کے ذرائع بھی علم و حکمت ہی ہیں۔ تبلیغ کے لئے ایسے ذرائع استعمال کئے جائیں جو حکمت سے پُر ہوں۔ اس لئے علم سیکھنے کی طرف بھی ضرور توجہ ہونی چاہئے۔ اس بارے میں خداتعالیٰ نے ہمیں قرآن میں بھی حکم فرمایا ہے جیسا کہ فرماتا ہے۔

اُدْعُ اِلٰی سَبِیْلِ رَبِّکَ بِالْحِکْمَۃِ َوَالْمَوْعِظَۃِالْحَسَنَۃِ وَجَادِلْہُمْ بِالَّتِیْ ھِیَ اَحْسَنُ۔ اِنَّ رَبَّکَ ھُوَ اَعْلَمُ بِمَن ضَلَّ عَنْ سَبِیْلِہٖ وَھُوْ اَعْلَمُ بِالْمُھْتَدِیْنَ (النحل:126)۔

اپنے ربّ کی طرف حکمت کے ساتھ اور اچھی نصیحت کے ساتھ دعوت دے اور ان سے ایسی دلیل کے ساتھ بحث کر جو بہترین ہو۔ یقینا تیرا ربّ ہی اسے جو اس کے راستے سے بھٹک چکا ہو سب سے زیادہ جانتا ہے اور وہ ہدایت پانے والوں کا بھی سب سے زیادہ علم رکھتا ہے۔
پس یہ حکم ہے تبلیغ کرنے والوں کو کہ موقع محل کے لحاظ سے حکمت سے بات کرو۔ دوسرے کے بارے میں بھی صحیح علم ہو تاکہ صحیح دلیل کے ساتھ جواب دے سکو اور صرف خشک دلیلوں اور کج بحثی میں نہ پڑو۔ مومن کو حکمت اور فراست ہوتی ہے اور علم کے ساتھ یہ بڑھتی ہے۔ اگر ڈھٹائی نظر آئے دوسرے فریق میں تو جیسے کہ پہلے بھی مَیں نے کہا تھا، حکمت یہی ہے کہ پھر ایسی مجلس سے اٹھ جاؤ اور اللہ تعالیٰ کا حکم بھی یہی ہے یا بحث ختم کر دو جب تک کہ دوسرا فریق دلیل اور حکمت سے بات کرنے پر تیار نہ ہو اور یہی طریق عموماً تبلیغ میں دوسرے کے دل کو نرم کرنے اور بات سننے کا ذریعہ بنتا ہے اور بنے گا۔ باقی یہ کہ ہدایت کسی کے حصہ میں آتی ہے کہ نہیں یہ اللہ تعالیٰ کو ہی پتہ ہے۔ ہمارا کام حکمت سے پیغا م پہنچا تے چلے جانا ہے۔
ایک حدیث میں آتا ہے جسے ہم مختلف مضامین کے ساتھ کئی دفعہ پڑھ چکے ہیں، سن چکے ہیں۔ علی بن حسین سے روایت ہے کہ حضرت صفیہؓ زوجہ مطہرہ رسولِ کریمﷺ نے بتایا کہ ایک دفعہ وہ آنحضرت ﷺ کو ملنے گئیں جبکہ آپؐ مسجد میں رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف بیٹھے ہوئے تھے۔ رات کے وقت کچھ دیر باتیں کیں اور پھر وہ واپس جانے لگیں۔ رسول کریمﷺ دروازے تک چھوڑنے گئے۔ جب آپ مسجد کے دروازے تک پہنچیں جو حضرت اُمّ سلمہ کے حجرہ کے ساتھ تھا تو انصار میں سے دو شخص ان دونوں کے پاس سے گزرے اور رسول اللہﷺ کو سلام کرکے تیزی سے چل پڑے۔ رسول اللہﷺ نے فرمایا ٹھہرو۔ یہ صفیہ بنت حُییّ ہے۔ ان دونوں نے کہا سبحان اللہ یا رسول اللہ ! اور یہ بات ان دونوں کو گراں گزری۔ آپؐ نے فرمایا: یقینا شیطان انسان کے جسم میں خون کے دوڑنے کی طرح دوڑتا ہے اور میں ڈرا کہ وہ تمہارے دلوں میں بدگمانی نہ ڈالے۔
(صحیح بخاری۔ کتاب الادب۔ باب التکبیر والتسبیح عند التعجب)
اب دیکھیں بدظنی سے بچانے کے لئے آپؐ نے فوری طور پر یہ پُر حکمت فیصلہ فرمایا۔ یہ سبق ہے کہ دوسرے کو کسی بھی قسم کی ٹھوکر لگنے سے بچانے کے لئے کوشش کرنی چاہئے۔ اگر کوئی اتنا ہی بدقسمت ہے کہ جس نے بدظنیوں پر اڑے رہنا ہے تو اور بات ہے ورنہ ہر ایک کو دوسرے کو بچانے کی کوشش کرنی چاہئے۔ خاص طورپر عہدیداران کو بھی اس طرف توجہ دینی چاہئے کسی بھی صورت میں کوئی ایسی حرکت نہ ہو جو کسی کی ٹھوکر کا باعث بنے۔ ضروری نہیں کہ بڑے بڑے معاملات ٹھوکر کا باعث بنتے ہیں بعض دفعہ بڑی معمولی باتیں دوسرے کی ٹھوکر کا باعث بن جاتی ہیں تو ایسی صورت میں وضاحت کرکے شکوک کو دُور کرنے کی کوشش کرنی چاہئے تاکہ دوسرا ٹھوکر سے بچے اور اپنے ایمان کو ضائع ہونے سے بچائے۔
اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہے کہ دوسرے گھروں میں اجازت لے کر داخل ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔

لَا تَدْخُلُوْا بُیُوْتًا غَیْرَ بُیُوْتِکُمْ حَتّٰی تَسْتَأْنِسُوْا وَتُسَلِّمُوْا عَلٰٓی اَھْلِھَا (النور:28)

یعنی اپنے گھروں کے سوا کسی دوسرے کے گھر میں بغیر اجازت اور سلام کے داخل نہ ہو۔ یہ بڑا پُرحکمت اور اعلیٰ اخلاق کی طرف توجہ دلانے والا حکم ہے۔
ایک روایت میں آتا ہے حضرت سہلؓ بن سعد بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضورﷺ کے حجرے کے سوراخ میں سے اندر جھانکا جبکہ نبی کریمﷺ کنگھی سے سر کھجا رہے تھے یا کنگھی کر رہے تھے۔ تو آپؐ نے فرمایا اگر مجھے معلوم ہو جاتا کہ تُو جھانک رہا ہے تو مَیں یہ کنگھی تیری آنکھ میں چبھوتا۔ پھر فرمایا دیکھنے کی وجہ سے ہی گھر میں اجازت لے کر داخل ہونے کا حکم دیا گیاہے۔ (صحیح بخاری۔ کتاب الدیات۔ باب من اطلع فی بیت قوم ففقؤا)۔ تو آنحضرت ﷺ کو یہ برداشت نہیں تھا کہ جن اعلیٰ اخلاق کو قائم کرنے کے لئے آپؐ آئے ہیں اور جس پُر حکمت تعلیم کو پھیلانے کے لئے آپؐ آئے ہیں کوئی اس سے ذرا بھی پرے ہٹنے والا ہو۔ آپؐ نے بڑی سختی سے اُس جھانکنے والے کا نوٹس لیا اور اُسے بڑے سخت الفاظ میں تنبیہ فرمائی کہ اگر مجھے پتہ لگ جاتا تو میں یہ کنگھی تیری آنکھ میں چبھو دیتا۔
پھر ایک حکم ہے اللہ تعالیٰ کا کہ مومن اس پر توکل کریں۔ لیکن بعض اس کو غلط سمجھتے ہیں اور جو اسباب اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائے ہیں ان کا استعمال نہیں کرتے اور اسی طرح آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں ایک دفعہ ہوا کہ اسباب کے استعمال نہ کرنے کے بارے میں پوچھا۔ کیونکہ یہ حکمت سے عاری بات ہے۔ اسباب بھی اللہ تعالیٰ نے پیدا فرمائے ہوئے ہیں اس لئے ان کا استعمال ضروری ہے۔ تو ایسے پوچھنے والے ایک شخص نے جب حضرت رسول کریمﷺ سے یہ سوال پوچھا کہ کیا مَیں اونٹ کا گھٹنا باندھ کے خدا پر توکل کروں یا اونٹ کو کھلا چھوڑ دوں اور خدا پر توکل کروں تو حضرت رسول کریم ﷺ نے فرمایا

اَعْقِلْہَا وَتَوَکَّلْ۔

اونٹ کا گھٹنا باندھو اور توکل کرو۔
(سنن الترمذی کتاب صفۃ القیامۃ والرقائق)
پھر قومی معاملات میں آپؐ کے پُر حکمت فیصلے تھے۔ غزوۂ اُحد میں سب جانتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے ایک پُر حکمت فیصلہ کو نہ ماننے کی وجہ سے مسلمانوں کو نقصان پہنچا اور خود آنحضرت ﷺ کی ذات کو بھی جسمانی نقصان پہنچا، زخم آئے، دانت شہید ہوا۔ مسلمانوں کی جنگ کے بعد جو حالت تھی گو کہ اس کو شکست تو نہیں کہنا چاہئے لیکن فتح حاصل کرتے کرتے پانسہ پلٹ گیا تھا۔ بہرحال جب جنگ ختم ہوئی تو مسلمانوں کا زخموں اور تھکن کی وجہ سے بہت برا حال تھا تو’’غزوۂ اُحد کے اگلے دن جب کہ رسول کریم ﷺ اپنے صحابہ کے ہمراہ مدینہ پہنچ چکے تھے تو رسول کریم ﷺ کو یہ اطلاع ملی کہ کفار مکّہ دوبارہ مدینہ پر حملہ آور ہونے کی تیاری کر رہے ہیں۔ کیونکہ بعض قریش ایک دوسرے کو یہ طعنے دے رہے تھے کہ نہ تو تم نے محمد (ﷺ) کو قتل کیا (نعوذ باللہ) اور نہ مسلمان عورتوں کو لونڈیاں بنایا اور نہ ان کے مال و متاع پر قبضہ کیا۔ اس پر رسول کریم ﷺ نے ان کے تعاقب کافیصلہ فرمایا۔ حضورﷺ نے اس بات کا اعلان کروایا کہ ہم دشمن کا تعاقب کریں گے اور اس تعاقب کے لئے میرے ساتھ صرف وہ صحابہ شامل ہوں گے جو گزشتہ روز غزوۂ اُحد میں شامل ہوئے تھے‘‘۔ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد۔ جلد دوم صفحہ 274۔ غزوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حمراء الاسد)
یہ آپؐ کا ایک پُر حکمت فیصلہ تھا کہ مسلمانوں کا حوصلہ بلند رہے۔ وہ لوگ جو جنگ سے آئے ہیں، تقریباً ہاری ہوئی صورت حال تھی، وہ مایوس نہ ہو جائیں کہیں۔ ان کے حوصلے بھی بلند رہیں اور دشمن پر رعب بھی پڑے کہ یہ نہ سمجھو کہ تم فتح حاصل کرکے گئے ہو بلکہ یہ تومعمولی سا پانسہ پلٹ گیاتھا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ جب یہ تعاقب میں گئے تو دشمن کو جرأت نہ ہوئی کہ واپس مڑیں اور حملہ کریں۔ وہ چلے گئے۔
اللہ تعالیٰ نے کیونکہ آپ کو تمام دنیا کی راہنمائی اور حکمت کے لئے مبعوث فرمانا تھا۔ اس لئے آپ کو زمانہ نبوت سے پہلے ہی پُر حکمت تعلیم پھیلانے کے لئے حکیم خدا نے تیار کر لیا تھا اور آپؐ کے فیصلے نبوت سے پہلے بھی ایسے تھے جن کو لوگ پسند کرتے تھے۔ ان میں سے ایک واقعہ جو تعمیر کعبہ کا واقعہ ہے اس کا ذکرآتا ہے کہ حجراسود کی تنصیب کے لئے قبائل کا باہم اختلاف ہو گیا اور نوبت آپس میں جنگ تک پہنچ گئی۔ چار پانچ دن تک اس کا کوئی حل نظر نہیں آرہا تھا۔ ایک دن قریش جمع ہوئے اور آپس میں مشورہ کیاتو ابو امیہ بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مکتوم، جو قریش کے سب سے بوڑھے شخص تھے اس نے کہا کہ اے قریش آپس میں یہ طے کر لو کہ تمہارے اس اختلاف کا وہ شخص فیصلہ کرے گا جو کل سب سے پہلے بیت اللہ میں آئے گا۔ چنانچہ انہوں نے یہ تجویز مان لی اور اگلے روز انہوں نے دیکھا کہ سب سے پہلے بیت اللہ میں داخل ہونے والے رسول اللہ ﷺ تھے۔ چنانچہ انہوں نے آپؐ کو دیکھا اور کہا یہ امین آگیا۔ ہم خوش ہو گئے۔ یہ محمد اہیں۔ چنانچہ وہ ان کے پاس پہنچے اور قریش نے اپنا سارا جھگڑا آپؐ کو بتایا تو آپؐ نے فرمایا کہ ایک کپڑا لاؤ۔ چنانچہ آپؐ کو کپڑا پیش کیا گیا۔ آنحضورﷺ نے کپڑا بچھایا اور حجر اسود کو اٹھا کر اس چادر پر رکھ دیا۔ پھر آپ نے ہر قبیلہ کے سردار کو کہا کہ اس چادر کا کونہ پکڑ لو اور پھر سب مل کر حجر اسود کو اٹھاؤ اور اس کی جگہ کے قریب لے کر آؤ۔ چنانچہ ایسا ہی کیا گیا اور آپؐ نے پھر وہاں سے اٹھا کر حجر اسود کو اس کی اصل جگہ پر رکھ دیا‘‘۔ آپؐ نے یہ ایسا پُر حکمت فیصلہ کیا تھا جس نے وہاں ان قبائل کو قتل و غارت سے بچا لیا۔ ان کی جنگیں تو پھر سالہا سال تک چلتی تھیں۔ پتہ نہیں کتنے قتل ہو جاتے اور کب تک ہوتے چلے جاتے۔
آپؐ کو حکمت سے خداتعالیٰ نے کس طرح بھرا۔ اس کے بارہ میں ایک روایت آتی ہے۔ حضرت انس بن مالک ؓ بیان کرتے ہیں کہ حضرت ابوذرؓ نے بتایا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ مَیں مکّہ میں تھا کہ میرے گھر کی چھت کھولی گئی اورجبرائیل نازل ہوئے۔ انہوں نے میرا سینہ کھولا۔ پھر اسے آبِ زمزم سے دھویا۔ پھر ایک سونے کا طشت لائے جو کہ حکمت اور ایمان سے بھرا ہوا تھا۔ پھر اسے میرے سینے میں انڈیل دیا۔ پھر اسے بند کر دیا۔ پھر میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ورلے آسمان کی طرف لے گئے۔ (صحیح بخاری۔ کتاب الصلاۃ باب کیف فرضت الصلاۃ فی الاسراء)
ہشام بن زیدؓ بن انس روایت کرتے ہیں کہ مَیں نے حضرت انسؓ بن مالک کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ ایک مرتبہ ایک یہودی رسول اللہﷺ کے پاس سے گزرا اور اس نے

اَلسَّامُ عَلَیْکَ

کہا یعنی تجھ پر ہلاکت ہو۔ آپؐ نے اس کے جواب میں فرمایا

عَلَیْکَ۔

تم پر۔ پھر رسول اللہا نے صحابہ ؓ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تمہیں پتہ چلا ہے کہ اس نے کیا کہا تھا۔ پھر آپؐ نے بتایا کہ اس نے

اَلسَّامُ عَلَیْکَ

کہا تھا۔ صحابہ ؓ نے یہودیوں کی یہ حرکت دیکھی تو آنحضرت ﷺ سے دریافت کیا کہ کیا ہم اس کو قتل نہ کر دیں۔ آنحضورﷺ نے فرمایا نہیں، اسے قتل نہ کرو اہل کتاب میں سے کوئی شخص جو تمہیں سَلَام کہے تو تم اس کو

’’وَعَلَیْکُم‘‘

کہہ کر جواب دے دیا کرو۔
(صحیح بخاری۔ کتا ب استتابۃ المرتدین والمعاندین وقتالھم۔ باب اذاعرض الذمی وغیرہ بسَبّ النبیؐ ولم یصرح نحوقولہ السام علیک)۔ بجائے اس کے کہ جھگڑا فساد لڑائیاں پیدا ہوں مختصر جواب دو اور جھگڑوں سے بچو۔
سعیدؓ بن ابی سعید بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے حضرت ابوہریرہؓ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ رسول کریم انے نجد کی طرف مہم بھیجی جو بنو حنیفہ کے ایک شخص کو قیدی بنا کر لائے۔ جس کا نام ثُمامہ بن اثال تھا۔ صحابہ ؓ نے اسے مسجد نبوی کے ستون کے ساتھ باندھ دیا۔ رسول کریمﷺ اس کے پاس تشریف لائے اور فرمایا کہ اے ثمامہ! تیرے پاس کیا عذر ہے یا تیرا کیا خیال ہے کہ تجھ سے کیا معاملہ ہو گا۔ اس نے کہا میرا ظن اچھا ہے۔ اگر آپؐ مجھے قتل کر دیں تو آپؐ ایک خون بہانے والے شخص کو قتل کریں گے۔ اگر آپؐ انعام کریں تو آپ ایک ایسے شخص پر انعام کریں گے جو کہ احسان کی قدر دانی کرنے والا ہے۔ اور اگر آپؐ مال چاہتے ہیں تو جنتا چاہے لے لیں۔ یہاں تک اگلا دن چڑھ آیا۔ آپؐ پھر تشریف لائے اور ثمامہ سے پوچھا کیا ارادہ ہے؟ چنانچہ ثمامہ نے عرض کیا مَیں تو کل ہی آپؐ سے عرض کر چکا تھا کہ اگر آپؐ انعام کریں تو آپؐ ایسے شخص پر انعام کریں گے جو کہ احسان کی قدردانی کرنے والا ہے۔ آپؐ نے اس کو وہیں چھوڑا یہاں تک کہ تیسرا دن چڑھ آیا۔ آپؐ نے فرمایا اے ثمامہ تیرا کیا ارادہ ہے؟ اس نے عرض کی جو کچھ مَیں نے کہنا تھا کہہ چکا ہوں۔ آپﷺ نے فرمایا اسے آزاد کر دو۔ ثمامہ مسجد کے قریب کھجوروں کے باغ میں گیا، غسل کیا اور مسجد میں داخل ہو کر کلمہ شہادت پڑھا اور کہا اے محمدﷺ بخدا مجھے دنیا میں سب سے زیادہ ناپسند آپؐ کا چہرہ ہوا کرتا تھا اور اب یہ حالت ہے کہ مجھے سب سے زیادہ محبوب آپؐ کا چہرہ ہے۔ بخدا مجھے دنیا میں سب سے زیادہ ناپسند آپؐ کا دین ہوا کرتا تھا لیکن اب یہ حالت ہے کہ میرا محبوب ترین دین آپؐ کا لایا ہوا دین ہے۔ بخدا مَیں سب سے زیادہ ناپسند آپ کے شہر کو کرتا تھا۔ اب یہی شہر میرا محبوب ترین شہر ہے۔ آپؐ کے گھڑ سواروں نے مجھے پکڑ لیا جب کہ مَیں عمرہ کرنا چاہتا تھا۔ آپؐ اس کے بارے میں کیا ارشاد فرماتے ہیں۔ رسول اللہﷺ نے اسے خوشخبری دی اور اسے عمرہ کرنے کا حکم فرمایا۔ جب وہ مکّہ پہنچا تو کسی نے کہا کیا تو صابی ہو گیا ہے؟ تو اس نے جواب دیا کہ نہیں مَیں محمد رسول اللہﷺ پر ایمان لے آیا ہوں۔ (بخاری کتاب المغازی۔ باب وفد بنی حنیفہ وحدیث ثمامۃ بن اثال)
تو آپؐ نے تین دن تک اسے اسلام کی تعلیم سے آگاہ کرنے کا بڑا پُر حکمت طریقہ اختیار فرمایا تاکہ یہ دیکھ لے کہ مسلمان کس طرح عبادت کرتے ہیں۔ کتنا ان میں خلوص ہے۔ اپنے ربّ کے آگے کس طرح گڑ گڑاتے ہیں۔ کس طرح رسول اللہﷺ کے ساتھ عشق و محبت کا اظہار کرتے ہیں۔ اور کیا تعلیم آپﷺ اپنے ماننے والوں کو دیتے ہیں۔ کوئی براہ راست تبلیغ نہیں تھی۔ صرف روزانہ یہ پوچھتے تھے کہ کیا ارادہ ہے تاکہ دیکھیں کہ اس کو اثر ہوا ہے کہ نہیں اور تیسرے دن آپؐ کے نورِ فراست نے یہ پہچان لیا کہ اب اس میں نرمی آگئی ہے۔ اس لئے بغیر کسی اقرار کے اس کو چھوڑ دیا اور پھر جو نتیجہ نکلا اس سے ثابت ہوا کہ آپؐ کا خیال صحیح تھا۔ اس نے اسلام قبول کرلیا۔
پھر صلح حدیبیہ کا ایک واقعہ ہے کس طرح آپ کی قیافہ شناسی تھی اور حکمت سے آپ نے ایک کام کروا دیا جس کا قریش کے ایک سردار پر اثر ہوا۔ جب صلح حدیبیہ کے دوران عروہ بن مسعود نے واپس جا کر قریش کو بتایا (اس کو حضرت میاں بشیر احمد صاحب نے سیرۃ خاتم الانبیاء میں اپنے انداز سے بیان فرمایا ہے) کہ لوگو! مَیں نے دنیا میں بہت سفر کیا ہے۔ بادشاہوں کے دربار میں بھی شامل ہوا ہوں قیصر و کسریٰ کے سامنے بطور وفد کے بھی پیش ہوا ہوں مگر خدا کی قسم جس طرح مَیں نے محمدﷺ کے صحابیوں کو محمدﷺ کی عزت کرتے دیکھا ہے ایسا مَیں نے کسی اور جگہ نہیں دیکھا۔ عروہ کی یہ گفتگو سن کر قبیلہ بنو کنانہ کے ایک رئیس نے جس کا نام حُلَیس بن علقمہ تھا قریش سے کہا کہ اگر آپ لوگ پسند کریں تو مَیں محمدا کے پاس جاتاہوں۔ انہوں نے کہا ہاں جاؤ دیکھو۔ کوئی فیصلہ کرکے آؤ۔ چنانچہ یہ شخص حدیبیہ میں آیا اورجب آنحضورﷺ نے اُسے دُور سے آتے دیکھا تو صحابہ ؓ سے فرمایا کہ یہ شخص جو ہماری طرف آرہا ہے ایسے قبیلے سے تعلق رکھتا ہے جو قربانی کے منظر کو پسند کرتا ہے۔ فوراً آپؐ نے یہ پُر حکمت فیصلہ فرمایا۔ اورحکم دیا۔ (کیونکہ آپؐ جنگ و جدل کو نہیں چاہتے تھے اور نہ وہاں جنگ و جدل کے لئے گئے تھے بلکہ امن سے حج کرنا چاہتے تھے)۔ آپؐ نے فرمایا کہ فوراً اپنی قربانی کے جانوروں کو اکٹھا کرو اور سامنے لاؤ تاکہ اسے پتہ لگے اور احساس ہو کہ ہم کس غرض سے آئے ہیں۔ چنانچہ صحا بہؓ اپنے قربانی کے جانوروں کو ہنکاتے ہوئے اور تکبیر کی آواز بلند کرتے ہوئے سامنے جمع ہو گئے کیونکہ آپؐ نے فرمایا تھا کہ یہ جس قبیلے سے تعلق رکھتا ہے یہ لوگ قربانی کے مناظر کو بہت پسند کرتے ہیں۔ اس لئے آپؐ نے فوراً یہ فیصلہ فرمایا کہ ان کی طبیعت کے مطابق فوراً عمل کیا جائے اور صحابہ ؓ اپنی قربانی کی بھیڑوں کو ہانکتے ہوئے اور تکبیر کی آواز بلند کرتے ہوئے جمع کرکے اس کے سامنے لے آئے۔ جب اس نے یہ نظارہ دیکھا تو کہنے لگا سبحان اللہ !سبحان اللہ !یہ تو حاجی لوگ ہیں۔ انہیں بیت اللہ کے طواف سے کس طرح روکا جا سکتا ہے۔ چنانچہ وہ جلد ہی قریش کی طرف واپس لوٹ گیا اور قریش کو کہنے لگا کہ مَیں نے دیکھا ہے کہ مسلمانوں نے اپنے جانوروں کے گلوں میں قربانی کے ہار باندھ رکھے ہیں اور ان پر قربانی کے نشان لگائے ہوئے ہیں۔ پس یہ کسی طرح مناسب نہیں کہ انہیں طواف کعبہ سے روکا جائے۔ لیکن بہرحال کیونکہ اس وقت کفّار کی، قریش کی دو مختلف رائیں تھیں۔ ایک اجازت دینا چاہتا تھا۔ دوسرا نہیں چاہتا تھا۔ اس لئے بہرحال اس سال فیصلہ یہی ہوا کہ حج نہیں ہو گا اور بعد میں اللہ تعالیٰ نے اس کے بہترنتائج پیدا فرمائے۔ (ماخوذ از سیرت خاتم النبیین حصہ سوم۔ صفحہ758)
پھر فتح مکّہ کے موقع پر بھی تاریخ میں ابو سفیان کا ایک واقعہ درج ہے۔ حضرت مصلح موعود ؓ نے اسے اپنے انداز میں بیان فرمایا ہے۔ جب ابو سفیان گرفتار ہو کر رسول کریمﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ تو محمد رسولﷺ نے اسے فرمایا:’’مانگو کیا مانگتے ہو‘‘۔ کہنے لگا یا رسول اللہﷺ کیا آپؐ اپنی قوم پر رحم نہیں کریں گے۔ آپؐ تو بڑے رحیم و کریم ہیں اور پھر مَیں آپؐ کا رشتہ دار بھی ہوں، بھائی ہوں اور میرا کوئی اعزازبھی ہونا چاہئے کیونکہ اب مَیں مسلمان بھی ہو گیا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا اچھا جاؤ مکّہ میں اعلان کر دو کہ جو شخص ابو سفیان کے گھر میں گھسے گا اسے پناہ دی جائے گی۔ کہنے لگا یا رسول اللہؐ میرے گھر میں کتنے لوگ آجائیں گے۔ اتنا بڑا شہر، میرے گھر میں کتنے لوگ امن پائیں گے۔ آپؐ نے فرمایا کہ اچھا جاؤ۔ جو شخص خانہ کعبہ میں چلا جائے گا اسے امان دی جائے گی۔ ابو سفیان نے کہا یا رسول اللہﷺ خانہ کعبہ بھی چھوٹی سی جگہ ہے کتنے لوگ اس میں چلے جائیں گے پھر بھی لوگ رہ جائیں گے۔ آپؐ نے فرمایا اچھا جو اپنے گھر کے دروازے بند کر لیں گے انہیں بھی پناہ دی جائے گی۔ اس نے کہا یا رسول اللہ گلیوں والے جو ہیں وہ بیچارے کیا کریں گے؟ تو آپؐ نے فرمایا اچھا؟ آپؐ نے ایک جھنڈا بنایا اور فرمایا کہ یہ بلالؓ کا جھنڈا ہے۔ ابی رویحہؓ ایک صحابی تھے۔ آپؐ نے مدینہ میں جب مہاجرین اور انصار کی آپس میں مواخات شروع کی تھی اور ایک دوسرے کا بھائی بھائی بنایا تھا، تو ابی رویحہ کو بلالؓ کا بھائی بنایا تھا۔ مصلح موعودؓ لکھتے ہیں یہ ان کی اپنی رائے ہے کہ شاید اس وقت بلالؓ وہاں نہیں تھے یا کوئی اور مصلحت تھی تو بہرحال آپؐ نے بلالؓ کا جھنڈا بنایا اور ابی رویحہ کے سپرد کر دیا جو انصاری تھے اور فرمایا کہ یہ بلالؓ کا جھنڈا ہے۔ یہ اسے لے کر چوک میں کھڑا ہو جائے اور اعلان کر دے کہ جو اس جھنڈے تلے کھڑا ہو جائے گا، جھنڈے تلے آجائے گا اس کی بھی جان بخشی کر دی جائے گی۔ ابو سفیان نے کہا ٹھیک ہے۔ اب کافی ہے۔ مجھے اجازت دیں۔ مَیں جا کر اعلان کرتا ہوں۔
تو کیونکہ قریش مکّہ کاجو سردار تھا وہ خود ہی ہتھیار پھینک چکا تھا۔ اس لئے گھبراہٹ کی کوئی ایسی بات تو تھی نہیں۔ وہ مکّہ میں داخل ہوا اور اس نے اعلان کر دیا کہ اپنے اپنے گھروں کے دروازے بند کر لو اور کوئی باہر نہ نکلے۔ خانہ کعبہ میں چلے جاؤ اور یہ بلالؓ کا جھنڈا ہے جو اس کے نیچے آجائے ان سب کو پناہ دی جائے گی۔ ان سب کی جان بخشی جائے گی اور کچھ نہیں کہا جائے گا۔ لیکن اپنے ہتھیار باہر لا کر پھینک دو۔ تو لوگوں نے اپنے ہتھیار باہر لا کر پھینکنا شروع کر دئیے اور حضرت بلالؓ کے جھنڈے تلے جمع ہونا شروع ہو گئے۔
اس واقعہ کا حضرت مصلح موعودؓ نے یہ تجزیہ کیا ہے کہ اس میں جو سب سے عظیم الشان بات ہے وہ بلالؓ کا جھنڈا ہے کہ رسول کریمﷺ بلالؓ کا جھنڈا بناتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ جو شخص بلالؓ کے جھنڈے کے نیچے کھڑا ہو جائے گا اسے پناہ دی جائے گی حالانکہ سردارتو محمد رسول اللہﷺ تھے۔ مگر آنحضرت ﷺ نے اپنا کوئی جھنڈا کھڑا نہیں کیا۔ آپؐ کے بعد قربانی کرنے والے حضرت ابوبکرؓ تھے، حضرت عمر ؓ تھے، حضرت عثمان ؓ تھے، حضرت علیؓ تھے، لیکن کسی کابھی جھنڈا کھڑا نہیں کیا گیا۔ اس کے بعد خالد بن ولید تھے اور لیڈر تھے سردار تھے وہاں کسی کا جھنڈا نہیں بنایا۔ آنحضرت ﷺ نے اگر جھنڈا بنایا تو حضرت بلالؓ کا بنایا۔ آپ فرماتے ہیں کہ اس کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ خانہ کعبہ پر جو حملہ ہونے لگا تھا، ابو بکر دیکھ رہے تھے کہ جن کو مارا جانے والا ہے وہ اس کے بھائی بند ہیں۔ انہوں نے خود بھی کہہ دیا تھا کہ یا رسول اللہ! کیا اپنے بھائیوں کو ماریں گے۔ وہ ان ظلموں کو بھول چکے تھے جو مسلمانوں پر کئے جاتے تھے۔ حضرت عمر ؓ تھے تو انہوں نے بظاہر آنحضرت ﷺ کی خدمت میں یہی عرض کیا کہ ان کافروں کو ماریں، ان سے بدلہ لیں لیکن دل میں یہی کہتے ہوں گے کہ ہمارے بھائی ہیں۔ اگر بخشے جائیں تو اچھا ہے۔ اسی طرح حضرت عثمانؓ ہیں، علیؓ ہیں یا باقی جو سردار تھے سب کی رشتہ داریاں اور ہمدردیاں کسی نہ کسی صورت میں مکہ کے رہنے والوں کے ساتھ تھیں۔ صرف ایک شخص تھا جس کی مکّہ میں کوئی رشتہ داری نہیں تھی۔ جس کی مکّہ میں کوئی طاقت نہیں تھی۔ جس کا مکّہ میں کوئی ساتھی نہ تھا اور اس کی بیکسی کی حالت میں اس پر وہ ظلم کیا جاتا تھا جو نہ ابوبکر ؓ پہ ہوا، نہ حضرت عمر ؓ پہ ہوا، نہ حضرت علیؓ پر ہوا، نہ حضرت عثمانؓ پر ہوا اور نہ آنحضرت ﷺ پر۔ مکّہ میں اس طرح ہواکہ جلتی اور تپتی ہوئی ریت پر حضرت بلال ؓ کو ننگا لٹا دیا جاتا تھا۔ ان کو ننگا کرکے تپتی ریت پر لٹایا جاتا تھا۔ پھر کیلوں والے جوتے پہن کر نوجوان ان کے سینے پر ناچتے تھے اور کہتے تھے کہ کہو خدا کے سوا اور کئی معبود ہیں۔ کہو محمد رسول اللہ جھوٹے ہیں، (نعوذ باللہ) اور جب وہ مارتے تھے تو بلال آگے سے اپنی حبشی زبان میں یہی کہتے تھے

اَسْہَدُاَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّااللّٰہ، اَسْہَدُاَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّااللّٰہ

وہ شخص آگے سے یہی جواب دیتے تھے کہ جتنا مرضی ظلم کر لومَیں نے جب دیکھ لیا کہ خدا ایک ہے تو دو کس طرح کہہ دوں اور جب مجھے پتہ ہے کہ محمد رسول اللہﷺ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں تو مَیں کس طرح کہوں کہ وہ نہیں ہیں، وہ جھوٹے ہیں۔ اس پر وہ انہیں اور مارتے تھے۔ گرمیوں میں اور سردیوں میں بھی ننگا کرکے پتھروں پر گھیسٹتے تھے۔ اُن کی کھال زخمی ہو جاتی تھی۔ چمڑا اکھڑ جاتا تھا لیکن وہ ہمیشہ یہی کہتے تھے کہ

اَسْہَدُاَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّااللّٰہ، اَسْہَدُاَنْ لَّااِلٰہَ اِلَّااللّٰہ

اور محمدﷺ اللہ کے سچے رسول ہیں۔ تو حضرت بلالؓ کے دل میں یہ خیال آسکتا تھا یا آیا ہو گا کہ آج ان بوٹوں کا بدلہ لیا جائے گا۔ آج اُن ماروں کا معاوضہ مجھے ملے گا۔ لیکن آنحضرت ﷺ نے جب ابو سفیان کو یہ فرمایا کہ جو تمہارے جھنڈے تلے آجائے، جو خانہ کعبہ میں آجائے، دروازے بند کر لے ان سب کو معاف کیا جاتا ہے۔ تو بلالؓ کے دل میں یہ خیال آیا ہو گا کہ اپنے بھائیوں کو معاف کر رہے ہیں اچھا کر رہے ہیں لیکن میرا بدلہ کس طرح لیا جائے گا؟ کیونکہ وہ دن ایسا تھا کہ اس دن صرف اس شخص کو تکلیف پہنچ سکتی تھی جس کا وہاں کوئی نہیں تھا اور جس پر بے انتہا ظلم ہوئے تھے۔ تو آنحضرتﷺ نے حضرت بلالؓ کے بدلے کا ایک نیا طریقہ نکالا۔ آپ نے فرمایاکہ حضرت بلالؓ کے ظلموں کا مَیں بدلہ لوں گا اور ایسا بدلہ لوں گا کہ جس سے میری نبوت کی شان بھی باقی رہے اور بلال کا دل بھی خوش ہو جائے۔ آپ نے فرمایا بلالؓ کا جھنڈا کھڑا کرو اور مکّہ کے سردار جو جوتیاں لے کر حضرت بلالؓ کے سینے پر ناچا کرتے تھے، جو اُن کے پاؤں میں رسّی ڈال کے انہیں گھسیٹا کرتے تھے، جوانہیں تپتی ریت پر لٹاتے تھے کہ کہہ دو کہ اللہ ایک نہیں ہے اور محمد رسول اللہ ﷺ اللہ کے رسول نہیں ہیں، تبھی تمہاری جان بچے گی اور تم آزادی سے زندگی گزار سکوگے۔ اُن کے لئے آنحضرت ﷺ نے اعلان فرمایا کہ اس بلالؓ کے جھنڈے تلے جمع ہو جاؤ جس پر تم ظلم کیا کرتے تھے اور آج اس بلال ؓکے جھنڈے تلے جمع ہو کر ہی تمہاری جان بھی بچے گی اور تمہارے بیوی بچوں کی جان بھی بچے گی۔ تو حضرت مصلح موعودؓفرماتے ہیں کہ مَیں سمجھتاہوں کہ جب سے دنیا پیدا ہوئی ہے، جب سے انسان کو طاقت حاصل ہوئی ہے اور جب سے کوئی انسان دوسرے انسان سے اپنے خون کا بدلہ لینے کے لئے تیار ہواہے، اس کو طاقت ملی ہے اس قسم کا عظیم الشان بدلہ کسی انسان نے نہیں لیا۔ بلال ؓ کا جھنڈاخانہ کعبہ کے سامنے میدان میں گاڑا گیا اور عرب کے وہ رؤسا جو اُنہیں پیروں کے نیچے مسلا کرتے تھے اور کہا کرتے تھے کہ بولتا ہے کہ نہیں کہ محمد رسول اللہﷺ اللہ کے رسول نہیں ہیں اور جھوٹے ہیں، وہی لوگ اب دوڑ دوڑ کر اپنے بیوی بچوں کے ہاتھ پکڑ کر اور لا لا کر بلال کے جھنڈے تلے جمع کر رہے تھے تاکہ ان کی جان بچ جائے تو یہ بدلہ لیا جا رہا تھا۔ اُس وقت بلالؓ کا دل اور ان کی جان کس طرح محمد رسولﷺ پر نچھاور ہو رہی ہو گی۔ وہ کہتے ہوں گے کہ خبر نہیں کہ مَیں نے ان کفّار سے بدلہ لینا تھا کہ نہیں، یا لے بھی سکتا تھا یا نہیں لیکن اب وہ بدلہ لیا گیا ہے کہ ہر شخص جس کی جوتیاں میرے سینے پر پڑتی تھیں اس کے سر کو آنحضرت ﷺ نے میری جوتی پر جھکا دیا ہے۔
(ماخوذ از سیر روحانی صفحہ 560تا 563)
پھر اس پُر حکمت فیصلے نے بلالؓ کے جھنڈے تلے آنے والوں کو یہ بھی بتا دیا کہ وہ جسے تم غلام سمجھتے تھے وہ جس کا کوئی قبیلہ، کوئی رشتہ دار مکّہ میں نہیں تھا۔ وہ جسے ایک حقیر اور پاؤں کی ٹھوکر سے اڑانے والا شخص سمجھ کر تم نے اس پر ظلم کی انتہا کر دی تھی۔ آج سن لو اور دیکھ لو کہ طاقت والے تم نہیں، غالب تم نہیں، عزیز تم نہیں، عزیز تو بلالؓ کا خدا ہے۔ عزیز تو محمد رسولﷺ کا خدا ہے اور محمد رسول اللہﷺ تو اس عزیز حکیم خدا کی صفات اپنائے ہوئے ہیں اور یہ صفات اپنائے ہوئے ہیں۔ اس طرح غلبہ کے بعد بدلہ لیتے ہیں جس میں تکبر اور نخوت نہیں۔ ہوش و حواس سے عاری ہو کر دشمن کو تہس نہس نہیں کرتے بلکہ حکمت سے ایسے فیصلے کرتے ہیں جس میں بدلہ بھی ہے اور تمہیں اپنی غلطیوں کا احساس دلانے کی طرف توجہ بھی ہے۔ آج حکمت کا تقاضا ہے کہ اس عزیز خدا کی پہچان کروانے کے لئے تمہاری نظروں میں جو کمترین انسان تھا بلکہ تم اسے جانوروں سے بھی بدتر سمجھتے تھے اس کے جھنڈے کے نیچے جمع ہونے کے لئے تمہیں کہا جائے تاکہ تمہیں یہ بھی احساس ہو کہ جب تم بلال کے لئے ظلم کی بھٹیاں جلاتے تھے اور اپنے زُعم میں اپنے آپ کو عزیز سمجھتے تھے اور خیال کرتے تھے کہ اس ذلیل اور حکمت سے عاری شخص پر ظلم کرو تو یہ اپنے دین سے پھر جائے گا۔ اُس دین سے پھر جائے گا۔ جو تمہارے خیال میں حکمت سے عاری دین ہے۔ اُن ظالموں کا سرغنہ ابوالحکم کہلاتا تھا اوراُس کے حکم سے یہ سارے ظلم ہوتے تھے۔ مکّہ والوں کو یہ بتانے کے لئے بھی یہ پُر حکمت فیصلہ تھا کہ تم جو اپنے آپ کو عقلمند سمجھتے تھے۔ تم جو نام نہاد ابو الحکم کے پیچھے چل پڑے تھے جو حقیقت میں ابو جہل تھا۔ تم جو خدا کو عزیز خیال نہیں کرتے تھے بلکہ اپنے بتوں کو ہر چیز پر غالب سمجھتے تھے آج دیکھ لو کہ حکمت اور عزت تمہارے پاس تمہارے سرداروں کے پاس یا تمہارے بتوں کے پاس ہے یا اس سے بے آسرا اور دنیا کی نظر میں اُس حبشی غلام کے پاس ہے جس نے اپنی فراست، دل کی صفائی اور حکمت سے اس نور کو پہچان لیا جو خدا کی طرف سے آیا اور جس کے مقدر میں غلبہ تھا۔ پس آج اس غلام کے جھنڈے تلے آجاؤ جو عزیز اور حکیم خدا کو مانتا ہے۔ وہ بلالؓ جس کی حکمت اپنے ربّ کے رنگ میں رنگین ہو کر مزید نکھر آئی ہے۔ پس آج اس حکمت کو بھی سمجھ لو کہ طاقت کوئی چیز نہیں۔ ظالم کبھی نہیں پنپتا اور کبھی ہمیشہ نہیں رہتا۔ انسان کو اگر اشرف المخلوقات بنا کر اللہ تعالیٰ نے صاحب حکمت و فراست بنایا ہے تو اس کا صحیح استعمال کرو اور دوسرے انسان کے ذہن و دل اور مذہبی آزادی پر قبضہ نہ کرو۔ دوسروں کے جذبات کا خیال رکھو کہ یہ نہ کرنا حکمت سے عاری لوگوں کی باتیں ہیں۔
پس آنحضرت ﷺ نے یہ عمل دکھا کر قریش مکّہ اور رؤسائے مکّہ کو یہ باورکرا دیا کہ حکمت کا تقاضا یہی ہے کہ عزیز صرف خدا کی ذات کو سمجھو۔ اگر کوئی حالات کی مجبوریوں کی وجہ سے تمہارے زیر نگیں ہے تو اس کو غلامی کی زنجیروں میں اس طرح نہ جکڑو کہ کل جب حالات بدل جائیں جس کا کسی کو علم نہیں کہ کل کیا ہونے والا ہے تو پھر تم زندگی کی بھیک مانگتے پھرو۔ پس رسول اللہﷺ نے یہ اعلان فرما کراس پُر حکمت فیصلے سے جہاں قریش مکہ کو سزا سے بچایا وہاں عملاً یہ اعلان بھی فرما دیا کہ غلامی کا بھی آج سے خاتمہ ہے۔ ظلموں کا بھی آج سے خاتمہ ہے۔ آج

لَاتَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْم

کا اعلان صرف میرا نہیں بلکہ میرے ماننے والوں کا بھی ہے۔ ماننے والوں میں سے اُن کمزور لوگوں کا بھی ہے جو تمہاری غلامی کے عرصہ میں تمہارے ظلموں کی چکی میں پستے رہے۔ اس حسین اور پُر حکمت فیصلے نے بلال کو بھی احساس دلادیا کہ اے وہ کمزور انسان جس نے کئی سال پہلے فراست اور حکمت سے کام لیتے ہوئے اللہ کے پیغمبرﷺ کو پہچانا تھا۔ آج جب کہ تیری حکمت مزید نکھر آئی ہے ان سے یہ انتقام لے کہ جو تیرے جھنڈے تلے جمع ہوں انہیں اپنے جھنڈے تلے جمع کرکے محمد رسول اللہ کے جھنڈے تلے جمع کر اور جو تیرے آگے جھکنے والے ہیں۔ جو تیرے قدموں پر جھکنے والے ہیں انہیں خداتعالیٰ کے آگے جھکنے والا بنا دے۔ اور پھر دنیا نے بعینہٖ یہ نظارہ دیکھا اور اسی طرح ہوتے دیکھا کہ وہ لوگ جو یہ ظلم کرتے تھے مسلمانوں پراور اللہ کے مقابلے میں بت بنائے ہوئے تھے وہی اللہ کے آگے جھکنے والے بن گئے۔
آج احمدی بھی یاد رکھیں کہ انشاء اللہ تعالیٰ یہ نظارہ دہرایا جانے والا ہے اور ہم نے کسی سے دشمنی کا بدلہ ظلم اور انتقام سے نہیں لینا بلکہ وہ راستہ اختیارکرنا ہے جو ہمارے سامنے رسول اللہﷺ نے اپنے اُسوہ سے پیش فرمایا۔ مخالفین احمدیت بھی یادرکھیں کہ تم جو احمدیوں کو عقل سے عاری سمجھتے ہوکہ انہوں نے مسیح موعود کو مان کر یہ بڑا غلط فیصلہ کیا ہے۔ یہ وقت بتائے گا کہ عقل سے عاری کون ہے اور عقل والا کون ہے۔ غلط فیصلہ کرنے والا کون ہے اور صحیح فیصلہ کرنے والا کون ہے۔ پس مخالفتیں بند کرو اور عزیز خدا کے سامنے جھکو اور اس سے حکمت مانگو۔ یہ ظلم جو احمدیوں پر ہو رہا ہے، انشاء اللہ تعالیٰ یہ زیادہ دیرنہیں چلے گا۔ فتح ہماری ہے اور یقینا ہماری ہے اور آج ہر ایک کو یہ سمجھ لینا چاہئے کہ انشاء اللہ وہ دن دور نہیں جب یہ نظارے قریب ہونے والے ہیں۔ ظلم احمدیوں پر ہوتے ہیں مختلف ملکوں میں جہاں مسلمان حکومتیں ہیں یا علماء کا زور ہے زیادہ ہوتے ہیں۔
آج بھی ایک افسوس ناک اطلاع ہے شہادت کی۔ یہ شیخوپورہ کے ایک نوجوان ہمایوں وقار ابن سعید احمد صاحب ناصر ہیں ان کو 7؍دسمبر کو شیخوپورہ میں نامعلوم افراد نے شہید کر دیا۔ اپنی دکان پر بیٹھے ہوئے تھے اور وہ آئے اور فائر کرکے شہید کر دیا۔ ان کی عمر 32سال تھی۔ بڑے شریف النّفس تھے اور خدام الاحمدیہ شیخوپورہ کے فعال رکن تھے۔ ناظم تربیت نومبائعین تھے۔ انشاء اللہ تعالیٰ ان شہیدوں کا خون ضرور رنگ لائے گا اور لانے والا ہے۔ اس کی تو ہمیں کوئی فکر نہیں ہے لیکن مخالفین کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں اور یہ جو پہلے واقعات ہیں ان سے سبق حاصل کرناچاہئے کہ اس حد تک نہ بڑھو کہ بعد میں تم لوگوں کو شرمندگی ہو۔ اللہ تعالیٰ مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کے لواحقین کو صبر عطا فرمائے۔ ابھی انشاء اللہ نمازوں کے بعد مَیں ان کی نماز جنازہ غائب بھی پڑھوں گا۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/GGJJp]

اپنا تبصرہ بھیجیں