خطبہ جمعہ سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ فرمودہ 06؍ جنوری 2006ء

حضرت مرزا مسرور احمد خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
وقف جدید کے 49 ویں سال کا اعلان
مالی قربانی اصلاح نفس اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے بہت ضروری ہے۔
نومبائعین کو بھی مالی نظام کا حصہ بنائیں۔ یہ اگلی نسلوں کو سنبھالنے کے لئے بڑا ضروری ہے۔
اب زمانہ ہے کہ ہر گاؤں میں، ہر قصبہ میں اور ہر شہر میں اور وہاں کی ہر مسجد میں ہمارا مربی اور معلم ہونا چاہئے۔
اب اس کے لئے بہرحال جماعت کو مالی قربانیاں کرنی پڑیں گی، اپنے بچوں کی قربانیاں کرنی پڑیں گی کہ ان کو اس کام کے لئے پیش کریں، وقف کریں اور سب ایسے ہونے چاہئیں کہ وہ تقویٰ کے اعلیٰ معیار پر بھی قائم ہوں۔
وقف جدید کے گزشتہ مالی سال میں 21لاکھ 42 ہزار سے زائد کی وصولی ہوئی اور شامل ہونے والوں کی تعداد 4 لاکھ 66 ہز ار ہے۔
مجموعی وصولی کے لحاظ سے امریکہ اول،پاکستان دوم اور برطانیہ تیسرے نمبر پر رہے۔
خطبہ جمعہ سیدنا امیر المومنین حضرت مرزا مسرور احمدخلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز
فرمودہ مورخہ 06؍ جنوری 2006ء (06؍صلح 1385ہجری شمسی) بمقام جلسہ گاہ، قادیان دارالامان (بھارت)

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں- چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
یٰٓاَ یُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ھَلْ اَدُلُّکُمْ عَلٰی تِجَارَۃٍ تُنْجِیْکُمْ مِّنْ عَذَابٍ اَلِیْمٍ۔تُؤْمِنُوْنَ بِاللہِ وَرَسُوْلِہٖ وَتُجَاھِدُوْنَ فِیْ سَبِیْلِ اللہِ بِاَمْوَالِکُمْ وَاَنْفُسِکُمْ۔ ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ اِنْ کُنْتُم تَعْلَمُوْنَ۔یَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَیُدْخِلْکُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھٰرُ وَمَسٰکِنَ طَیِّبَۃً فِیْ جَنّٰتِ عَدْنٍ۔ ذٰلِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ (الصف:12-11)

ان آیات کا ترجمہ ہے کہ اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کیا مَیں تمہیں ایک ایسی تجارت پر مطلع کروں جو تمہیں ایک دردناک عذاب سے نجات دے گی۔ تم جو اللہ پر اور اس کے رسول پر ایمان لاتے ہو اور اللہ کے رستے میں اپنے اموال اور اپنی جانوں کے ساتھ جہاد کرتے ہو یہ تمہارے لئے بہت بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو۔ وہ تمہارے گناہ بخش دے گا اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل کر دے گا جن کے دامن میں نہریں بہتی ہیں اور ایسے پاکیزہ گھروں میں بھی جو ہمیشہ رہنے والی جنتوں میں ہیں۔یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
آج کے خطبے میں سب سے پہلے تو مَیں عالمگیر جماعت احمدیہ کو، جماعت احمدیہ کے ہرفرد کو نئے سال کی مبارکباد دیتا ہوں۔ گزشتہ خطبے میں مَیں نے توجہ دلائی تھی کہ ہر احمدی شکر کے مضمون کو دل میں رکھتے ہوئے آئندہ سال میں داخل ہو تاکہ گزشتہ سال اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے جو بے شمار نظارے ہم نے دیکھے ان میں اللہ تعالیٰ اپنے وعدوں کے مطابق اضافہ فرماتا رہے۔ اللہ تعالیٰ یہ نیا سال ہمارے لئے ہر لحاظ سے بابرکت اور مبارک فرمائے۔ انسان کی تو سوچ بھی اُن انعاموں اور فضلوں اور احسانوں تک نہیں پہنچ سکتی جو اللہ تعالیٰ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی جماعت پر فرما رہا ہے۔ لیکن ہر احمدی کا یہ فرض بنتاہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو یاد رکھتے ہوئے اس کے آگے جھکے، اس کے حکموں پر عمل کرے اور ان حکموں پر عمل کرنے کی انتہائی کوشش کرے، حتی الوسع جس حد تک جس جس کی استعدادیں ہیں اس کو عمل کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کی کوشش کرے تاکہ یہ برکتیں اور انعامات ہمیشہ جاری رہیں۔اگر ہم خالص ہو کر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والے بنے رہے،اس کے حکموں پر عمل کرتے ہوئے نیکیاں بجا لاتے رہے، اپنے مال میں سے اس کی راہ میں خرچ کرتے رہے تو پھر یہ وعدہ بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ایک سال یا دو سال یا تین سال کی بات نہیں ہے بلکہ ان باتوں کی طرف توجہ اور ان امور کی انجام دہی کے بعد پھر تم ہمیشہ کے لئے خداتعالیٰ کے مقرب بن جاؤ گے۔ ہر سال تمہارے لئے برکتیں لے کر آئے گا اور ہر گزشتہ سال تمہارے لئے برکتوں سے بھری جھولیاں چھوڑ کرجائے گا۔اور پھر یہ اعمال جو ہیں اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ان نعمتوں کا وارث بنائیں گے۔
ہر سال جنوری کے پہلے جمعہ میں وقف جدید کے نئے سال کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اس حوالے سے مالی قربانی کے بارے مَیں مختصراً کچھ بتاؤں گا اور پھر گزشتہ سال تحریک وقف جدید کے ذریعے ہونے والی مالی قربانیوں کا ذکر ہو گا اور نئے مالی سال کا اعلان بھی۔
مالی قربانی اصلاح نفس اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے بہت ضروری ہے اور اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اس کا کئی جگہ ذکر فرمایا ہے، مختلف پیرایوں میں اس کی اہمیت بیان فرمائی ہے۔ پس جماعت احمدیہ میں جو مختلف مالی قربانی کی تحریکات ہوتی ہیں یہ اللہ تعالیٰ کا قرب دلانے اور دلوں کو پاک کرنے کی کڑیاں ہیں۔ اللہ تعالیٰ اپنے راستے میں خرچ کرنے کا حکم دیتے ہوئے فرماتا ہے کہ

وَمَالَکُمْ اَلَّاتُنْفِقُوْا فِی سَبِیْلِ اللّہِ (الحدید:11)

اور تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے۔ پس اپنی زندگیوں کو سنوارنے کے لئے مالی قربانیوں میں حصہ لینا انتہائی ضروری ہے بلکہ یہ بھی تنبیہ ہے کہ اللہ کی راہ میں خرچ نہ کرنے والے اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالتے ہیں۔ جیسے کہ فرماتا ہے۔

وَاَنْفِقُوْافِیْ سَبِیْلِ اللہِ وَلَاتُلْقُوْا بِاَیْدِیْکُمْ اِلَی التَّھْلُکَۃِ (البقرۃ۔ ۱۹۶)۔

اور اللہ کے راستے میں مال خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ پس جیسا کہ میں نے کہا یہ مالی تحریکات جو جماعت میں ہوتی ہیں، یا لازمی چندوں کی طرف جو توجہ دلائی جاتی ہے یہ سب خداتعالیٰ کے حکموں کے مطابق ہیں۔ پس ہر احمدی کو اگر وہ اپنے آپ کو حقیقت میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰ ۃ و السلام کی جماعت کی طرف منسوب کرتا ہے اور کرنا چاہتا ہے، اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے مالی قربانیوں کی طرف توجہ دینی چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے مخلصین کی ایک بہت بڑی جماعت اس قربانی میں حصہ لیتی ہے لیکن ابھی بھی ہر جگہ بہت زیادہ گنجائش موجود ہے۔ یہ آیت جو مَیں نے تلاوت کی ہے اس میں بھی اللہ تعالیٰ نے یہی حکم فرمایا ہے کہ اگر آخرت کے عذاب سے بچنا ہے اور اللہ تعالیٰ کی جنتوں کے وارث بننا ہے تو مال و جان کی قربانی کرو۔اس زمانے میں جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آ کر تلوار کا جہاد ختم کر دیا تویہ مالی قربانیوں کا جہاد ہی ہے جس کو کرنے سے تم اپنے نفس کا بھی اور اپنی جانوں کا بھی جہاد کر رہے ہوتے ہو۔ یہ زمانہ جو مادیت سے پُرزمانہ ہے ہر قدم پر روپے پیسے کا لالچ کھڑا ہے۔ ہر کوئی اس فکر میں ہے کس طرح روپیہ پیسہ کمائے چاہے غلط طریقے بھی استعمال کرنے پڑیں کئے جائیں۔
پھر کمپنیاں ہیں اور مختلف قسم کے تجارتی ادارے ہیں۔ باتوں سے اشتہاروں سے ایسی دلچسپی پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ کسی طرح مال بکے اور زیادہ سے زیادہ منافع کما لیا جائے۔ ان اشتہاروں وغیرہ پر بھی لاکھوں خرچ ہوتے ہیں۔ بچوں تک کو مختلف چیزوں کی طرف راغب کرنے کے لئے،توجہ پیدا کرنے کے لئے ایسے اشتہار دئیے جاتے ہیں۔ ٹی وی وغیرہ پر ایسے اشتہارآتے ہیں ، کوشش کی جاتی ہے کہ ماں باپ کو جن کو توفیق ہو بچے مجبور کریں کہ ان کو وہ چیز لے کر دی جائیں،۔ اور جن میں توفیق نہیں ان میں پھر بے چینی پیدا ہوتی ہے۔ اس بے چینی کی وجہ یہی ہے کہ ہر ایک مادیت کی طرف جھک رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکموں پر عمل کرنے کی طرف توجہ کم ہے اور امیر ملکوں میں ، مغربی ممالک میں یہ بہت زیادہ ہے۔ تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ یہ تجارتیں، یہ خرید و فروخت تمہیں کوئی فائدہ نہیں دیں گے۔ دنیا و آخرت سنوارنے کے لئے اللہ تعالیٰ کی رضا اوراس کا قرب حاصل کرنے کے لئے بہترین تجارت یہ ہے کہ اس کی راہ میں مالی قربانی کرو۔ اور اس زمانے میں کیونکہ نئی نئی ایجادیں بھی ہو گئی ہیں جیسا کہ مَیں نے کہا ہے اور دنیا ایک ہو جانے کی وجہ سے ترجیحات بھی بدل گئی ہیں تو جہاں جہاں بھی یہ مالی قربانی ہو رہی ہے یہ ایک جہاد ہے۔ اسی طرح ہمارے ملکوں میں ایک کثیر تعداد ہے جو مالی لحاظ سے کمزور ہیں۔افراد جماعت عموماً یا تو مالی لحاظ سے کمزور ہیں یا اوسط درجہ کے ہیں۔ تو جب بھی ہم میں سے، جماعت کا کوئی فرد مالی قربانی کرتا ہے تو وہ اپنے نفس کا اپنی جان کا بھی جہاد کر رہا ہوتا ہے۔ بعض اوقات اپنے بچوں کی ضروریات کو بھی پس پشت ڈال کر قربانی کر رہاہوتا ہے۔ اس کی کئی مثالیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زما نے میں بھی روایات میں آتی ہیں اور آج کل بھی موجود ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے مالی قربانی کرنے کی یہ مثالیں سوائے جماعت احمدیہ کے اور کہیں نہیں ملیں گی۔
حضرت مسیح موعود ؑکے زمانے کی بات ہے قاضی محمد یوسف صاحب پشاوری نے ایک روایت کی ہے کہ وزیر آباد کے شیخ خاندان کا ایک نوجوان فوت ہو گیا۔ اس کے والد نے اس کے کفن دفن کے لئے 200روپے رکھے ہوئے تھے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے لنگر خانے کے اخراجات کے لئے تحریک فرمائی۔ ان کو بھی خط گیا تو انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو رقم بھجوانے کے بعد لکھا کہ میرا نوجوان لڑکا طاعون سے فوت ہوا ہے میں نے اس کی تجہیز و تدفین کے واسطے مبلغ دو سو روپے تجویز کئے تھے جو ارسال خدمت کرتا ہوں اور لڑکے کو اس کے لباس میں دفن کرتا ہوں۔ یہ ہے وہ اخلاص جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مریدوں نے دکھایا۔ (قاضی محمد یوسف فاروقی احمدی قاضی خیل۔ رسالہ ظہور احمد موعود صفحہ71-70 مطبوعہ 30؍جنوری 1955ء)۔ وہ ہر وقت اس سوچ میں رہتے تھے، اس انتظار میں رہتے تھے کہ کب کوئی مالی تحریک ہو اور ہم قربانیاں دیں۔ آج بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں یہ نظارے نظر آتے ہیں۔ اس زمانے میں مادیت پہلے سے بھی بہت زیادہ بڑھ گئی ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی قوت قدسی کا تو براہ راست اثر آپ کے صحابہ پر پڑتا تھا۔ آج زمانہ اتنا دُور ہونے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے وعدے کئے ہیں اس کے نظارے ہمیں دکھارہا ہے۔ کئی احمدی نوجوان ایسے ہیں جو اپنی خواہشات کو مارتے ہوئے اپنی جمع پونجی اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کر دیتے ہیں۔
گزشتہ سال کی بات ہے پاکستان کی جماعتوں کے لئے جو ٹارگٹ مقرر کیا گیا تھا سال کے آخر میں اس کاپورا ہونے کا وقت آیا تو اس بارے میں مجھے صدر لجنہ لاہور نے ایک رپورٹ دی۔انہوں نے بھی اپنی لجنہ کو تحریک کی تو اس وقت ایک بچی نے اپنی جہیز کی رقم میں سے بہت بڑی رقم ادا کر دی اور پرواہ نہیں کی کہ جہیز اچھا بنتا ہے کہ نہیں بنتا یا بنتا بھی ہے کہ نہیں۔ اور وہ بچی اس جلسے پہ قادیان بھی آئی تھی اور مجھے ملی۔ تو ایسے لوگ اس زمانے میں بھی ہیں جو اپنے مال اور نفس کا جہاد خدا تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے کر رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس بچی کی بھی شادی ہر لحاظ سے کامیاب فرمائے،بابرکت فرمائے اور اس قربانی کے بدلے میں اسے اتنا دے کہ اس سے سنبھالا نہ جائے اور پھر اس میں برکت کے لئے پہلے سے بڑھ کر قربانیوں کی طرف راغب ہو اور اللہ تعالیٰ ایسے بے شمار قربانیاں کرنے والے جماعت کو دیتا چلا جائے۔ اور وہ فرشتوں کی دعاؤں کے بھی وارث ہوں کہ اللہ تعالیٰ خرچ کرنے والے سخی کو اور دے اور اس جیسے اور پیدا کرتا چلا جائے۔
پس مالی قربانی کرنے والے ہر جگہ سے دعائیں لے رہے ہوتے ہیں۔ اور یوں اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے اور جنت کے وارث بن رہے ہوتے ہیں۔ اللہ کرے کہ جماعت میں ایسے لوگوں کی تعداد بڑھتی چلی جائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بے شمار جگہ مالی قربانیوں کی طرف توجہ دلائی ہے۔ اس کے چند نمونے میں پیش کرتا ہوں۔
حضرت عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ:’’ آگ سے بچو خواہ آدھی کھجور خرچ کرنے کی استطاعت ہو‘‘۔ (بخاری کتاب الزکوٰۃ۔باب اتقواالنار ولوبشق تمرۃ)۔ یعنی اللہ کی راہ میں قربانی کرو چاہے آدھی کھجور کے برابر ہی کرو۔
پس یہ جو وقف جدید کا چندہ ہے اس میں تو ایسی کوئی شرط نہیں ہے کہ ضرور اتنی رقم ہونی چاہئے۔غریب سے غریب بھی اپنی استطاعت کے مطابق حصہ لے سکتا ہے۔ جب مالی قربانی کریں گے تو پھر دعائیں بھی لے رہے ہوں گے۔ فرشتوں کی دعائیں بھی لے رہے ہوں گے اور خداتعالیٰ کی رضا بھی حاصل کررہے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کے مطابق اس قربانی کی وجہ سے حالات بہتر فرمائے گا۔ پس ہر احمدی کومالی قربانی کی اہمیت کو سمجھنا چاہئے۔ نومبائعین کو بھی اس میں شامل ہونا چاہئے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیش گوئیوں کے مطابق اللہ تعالیٰ نے اس دنیا میں اصلاح کے لئے بھیجا ہے تو اپنے نفس کی اصلاح کا ایک ذریعہ یہ ہے کہ مالی قربانی کی جائے، اس میں ضرور شامل ہوا جائے۔
پھر اس پیغام کو پہنچانے کے لئے مالی اخراجات کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس لئے نومبائعین کو بھی شروع میں ہی عادت ڈالنی چاہئے۔ اپنے آپ کو اس طرح اگر عادت ڈال دی جائے تھوڑی قربانی دے کر وقف جدید میں شامل ہوں پھر عادت یہ بڑھتی چلی جائے گی اور مالی قربانیوں کی توفیق بھی بڑھتی چلی جائے گی۔
حضرت مصلح موعود رضی تعالیٰ عنہ جنہوں نے وقف جدید کی تحریک شروع فرمائی تھی ایک موقع پر فرمایا تھا کہ:’’ مجھے امید ہے کہ وقف جدیدکی تحریک جس قدر مضبوط ہو گی اسی طرح قدر اللہ تعالیٰ کے فضل سے صدر انجمن احمدیہ اور تحریک جدید کے چندوں میں اضافہ ہو گا‘‘۔(پیغام 3؍جنوری 1962ء)
پس جماعت کی انتظامیہ کو بھی کوشش کرنی چاہئے کہ تمام کمزوروں اور نئے آنے والوں کو بھی مالی قربانی کی اہمیت سے آگاہ کرے، ان پہ واضح کرے کہ کیا اہمیت ہے۔ اللہ تعالیٰ کے حکموں سے ان کو آگاہی کرائے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس بارے میں جو ارشادات ہیں ان سے لوگوں کوآگاہ کریں۔ اگر نہیں کرتے تو پھر میرے نزدیک انتظامیہ بھی ذمہ دار ہے کہ وہ ان لوگوں کو نیکیوں اور اللہ تعالیٰ کی رضا کے حصول سے محروم کر رہے ہیں۔ جیسا کہ میں نے کہا اس جہاد سے پھر نفس کے جہاد کی بھی عادت پڑے گی،اپنی تربیت کی طرف بھی توجہ پیدا ہو گی، عبادتوں کی بھی عادت پڑے گی۔
ایک روایت میں آتا ہے حضرت جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک بارنماز عید پڑھائی آپ کھڑے ہوئے اور نماز کا آغاز کیا اور پھر لوگوں سے خطاب کیا۔جب فارغ ہو گئے تو آپ منبر سے اترے اور عورتوں میں تشریف لے گئے اور انہیں نصیحت فرمائی۔ آپ اس وقت حضرت بلالؓ کے ہاتھ کا سہارا لئے ہوئے تھے اور حضرت بلالؓ نے کپڑا پھیلایا ہوا تھا جس میں عورتیں صدقات ڈالتی جا رہی تھیں۔(بخاری کتاب العیدین باب موعظۃ الامام النساء یوم العید)
تو یہ تھیں اس زمانے کی عورتوں کی مثالیں۔ اس زمانے میں بھی، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے زمانے میں بھی ایسی عورتیں ہیں جو بے دریغ خرچ کرتی ہیں۔ حضرت مصلح موعود نے بھی کئی مثالیں دی ہیں۔ خلافت ثالثہ میں بھی کئی مثالیں ہیں۔ خلافت رابعہ میں بھی کئی مثالیں ملتی ہیں۔ اب بھی کئی عورتیں ہیں جو قربانیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں، اپنے زیور اتار کر دے دیتی ہیں۔ تو جب تک عورتوں میں مالی قربانی کا احساس برقرار رہے گا اس وقت تک انشاء اللہ تعالیٰ قربانی کرنے والی نسلیں بھی جماعت احمدیہ میں پیدا ہوتی رہیں گی۔
یہ جو مَیں بار بار زور دیتا ہوں کہ نومبائعین کوبھی مالی نظام کا حصہ بنائیں یہ اگلی نسلوں کو سنبھالنے کے لئے بڑا ضروری ہے کہ جب اس طرح بڑی تعداد میں نومبائعین آئیں گے تو موجودہ قربانیاں کرنے والے کہیں اس تعداد میں گم ہی نہ ہو جائیں اور بجائے ان کی تربیت کرنے کے ان کے زیر اثر نہ آ جائیں۔ اس لئے نومبائعین کو بہرحال قربانیوں کی عادت ڈالنی پڑے گی اور نومبائع صرف تین سال کے لئے ہے۔ تین سال کے بعد بہرحال اسے جماعت کا ایک حصہ بننا چاہئے۔ خاص طور پر نئی آنے والی عورتوں کی تربیت کی طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔
پھر ایک روایت میں ہے عبداللہؓ بن عمروبن العاص سے روایت ہے کہ مَیں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا الشُّح یعنی بخل سے بچو۔ یہ بخل ہی ہے جس نے پہلی قوموں کو ہلاک کیا تھا۔ (مسنداحمد بن حنبل جلد 2صفحہ159مطبوعہ بیروت)
پس اللہ تعالیٰ کی راہ میں بخل کابالکل سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ بڑا ہی انذار ہے اس میں۔ پہلی قوموں کی ہلاکت اس لئے ہوئی تھی کہ اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے تھے۔ جیسا کہ مَیں نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے پرانے احمدیوں کی بہت بڑی تعداد اللہ تعالیٰ کی راہ میں مالی قربانیوں کی اہمیت کو سمجھتی ہے لیکن اگر نئے آنے والوں کو اس کی عادت نہ ڈالی اور وہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ کرنے سے لیت و لعل سے کام لیتے رہے تو پھر جیسا کہ ہم دیکھ چکے ہیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت خوفناک انذار فرمایا ہے۔ پس اس انعام کی قدر کریں اور اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو ماننے کی جو توفیق دی ہے اس کا شکر بجا لائیں اور آپ کے پیغام کو دنیا میں پہنچانے کے لئے کسی بھی قسم کی قربانی کرنے سے کبھی دریغ نہ کریں۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُس کا پیغام تو پھیلنا ہی ہے یہ تقدیر الٰہی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کے وعدے ہیں۔لیکن اگر تم نے کنجوسی کی تو اپنی کنجوسی کی وجہ سے تم لوگ ختم ہو جاؤ گے جس طرح کہ حدیث میں ذکر بھی ہے اور لوگ آجائیں گے۔ جیسا کہ فرمایا ہے

وَمَنْ َّیبْخَلْ فَاِنَّمَا یَبْخَلُ عَنْ نَّفْسِہٖ (محمد:39)

اور جو کوئی بخل سے کام لے وہ اپنی جان کے متعلق بخل سے کام لیتا ہے۔ پھر فرمایا

وَاِنْ تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْمًا غَیْرَکُمْ۔ ثُمَّ لَا یَکُوْنُوْا اَمْثَالَکُمْ (محمد:39)

کہ اگر تم پھر جاؤ تووہ تمہاری جگہ ایک اور قوم کو بدل کر لے کر آئے گا پھر وہ تمہاری طرح سستی کرنے والی نہیں ہو گی۔
پس یہ مالی قربانیاں کوئی معمولی چیز نہیں ہیں ان کی بڑی اہمیت ہے۔ ایمان مضبوط کرنے اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث ہونے کے لئے انتہائی ضروری چیز ہے۔ صحابہ کی قربانیوں کو اللہ تعالیٰ نے کس طرح پھل لگائے جس کا روایات میں کثرت سے ذکر آتا ہے۔ شروع میں یہی صحابہ جو تھے بڑے غریب اور کمزور لوگ تھے، مزدوریاں کیا کرتے تھے۔ لیکن جب بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے کسی بھی قسم کی کوئی مالی تحریک ہوتی تھی تو مزدوریاں کرکے اس میں چندہ ادا کیا کرتے تھے۔ حسب توفیق بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی کوشش کیا کرتے تھے تاکہ اللہ اور اس کے رسول کا قرب پانے والے بنیں، ان برکات سے فیضیاب ہونے والے ہوں جو مالی قربانیاں کرنے والوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے مقدر کی ہیں، جن کے وعدے کئے ہیں۔
ایک روایت میں آتا ہے حضرت ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب صدقہ کرنے کا ارشاد فرماتے تو ہم میں سے کوئی بازار کو جاتا وہاں مزدوری کرتا اور اسے اجرت کے طورپر ایک مُداناج وغیرہ ملتا تو اس میں سے صدقہ کرتا۔ تھوڑی سی بھی کوئی چیز ملتی تو صدقہ کرتا۔ اور اب ان کا یہ حال ہے انہی لوگوں کا جوسب مزدوری کرتے تھے۔ کہ ان میں سے بعض کے پاس ایک ایک لاکھ درہم یا دینار ہے۔ (بخاری کتاب الاجارۃ۔باب من آجر نفسہ لیحمل علی ظہرہ ثم تصدق بہ…)
پس دیکھیں کہ ابتدائی حالت کیا تھی اور آخری حالت کیا ہے اللہ تعالیٰ نے کس طرح ان پر فضل فرمائے۔ ان کی قربانیوں کو کس طرح نوازا۔
چندوں کی اہمیت اور ضرورت کے بارے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:
’’مَیں یقینا جانتا ہوں کہ خسارہ کی حالت میں وہ لوگ ہیں جو ریاکاری کے موقعوں میں تو صد ہاروپیہ خرچ کریں۔ اور خدا کی راہ میں پیش و پس سوچیں۔شرم کی بات ہے کہ کوئی شخص اس جماعت میں داخل ہو کر پھر اپنی خست اور بخل کو نہ چھوڑے۔ یہ خداتعالیٰ کی سنت ہے کہ ہر ایک اہل اللہ کے گروہ کو اپنی ابتدائی حالت میں چندوں کی ضرورت پڑتی ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی کئی مرتبہ صحابہ پر چندے لگائے جن میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ سب سے بڑھ کر رہے۔ سو مردانہ ہمت سے امداد کے لئے بلاتوقف قدم اٹھانا چاہئے۔ جو ہمیں مدد دیتے ہیں آخر وہ خدا کی مدد دیکھیں گے‘‘۔(مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 156)۔ پس خدا کی مدد دیکھنے کے لئے ہر ایک کو اپنی قربانیوں کے معیار بلند کرنے چاہئیں۔
پھر آپ نے فرمایا :’’ تمہارے لئے ممکن نہیں کہ مال سے بھی محبت کرو اورخدا تعالیٰ سے بھی۔ صرف ایک سے محبت کر سکتے ہو۔ پس خوش قسمت وہ شخص ہے کہ خدا سے محبت کرے اور اگر کوئی تم میں سے خدا سے محبت کرکے اس کی راہ میں مال خرچ کرے گا تو مَیں یقین رکھتا ہوں کہ اس کے مال میں بھی دوسروں کی نسبت زیادہ برکت دی جائے گی۔کیونکہ مال خود بخود نہیں آتا بلکہ خدا کے ارادہ سے آتا ہے۔ پس جو شخص خدا کے لئے بعض حصہ مال کا چھوڑتا ہے وہ ضرور اُسے پائے گا۔ لیکن جو شخص مال سے محبت کرکے خدا کی راہ میں وہ خدمت بجا نہیں لاتا جو بجا لانی چاہئے تو وہ ضرور اس مال کو کھوئے گا۔یہ مت خیال کرو کہ مال تمہاری کوشش سے آتا ہے بلکہ خداتعالیٰ کی طرف سے آتا ہے۔ اور یہ مت خیال کرو کہ تم کوئی حصہ مال کا دے کر یا کسی اور رنگ سے کوئی خدمت بجا لا کر خداتعالیٰ اور اس کے فرستادہ پر کچھ احسان کرتے ہو بلکہ یہ اس کا احسان ہے کہ تمہیں اس خدمت کے لئے بلاتا ہے۔ اور مَیں سچ سچ کہتا ہوں کہ اگر تم سب مجھے چھوڑ دو اور خدمت اور امداد سے پہلو تہی کرو تو وہ ایک قوم پیدا کر دے گا کہ اس کی خدمت بجا لائے گی۔ تم یقینا سمجھو کہ یہ کام آسمان سے ہے اور تمہاری خدمت صرف تمہاری بھلائی کے لئے ہے۔ پس ایسا نہ ہو کہ تم دل میں تکبر کرو اور یہ خیال کرو کہ ہم خدمت مالی یا کسی قسم کی خدمت کرتے ہیں۔مَیں بار بار تمہیں کہتا ہوں کہ خدا تمہاری خدمتوں کا ذرہ محتاج نہیں ہاں تم پر یہ اُس کا فضل ہے کہ تم کو خدمت کا موقعہ دیتا ہے‘‘۔ (مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 497-498 منقول از ضمیمہ ریویو آف ریلیجنز اردو ستمبر 1903ء)
پھر حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں کہ:’’ میرے پیارے دوستو! میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ مجھے خدائے تعالیٰ نے سچا جوش آپ لوگوں کی ہمدردی کے لئے بخشا ہے اور ایک سچی معرفت آپ صاحبوں کی زیادت ایمان وعرفان کے لئے مجھے عطا کی گئی ہے۔ اس معرفت کی آپ کو اور آپ کی ذریت کو نہایت ضرورت ہے۔ سو مَیں اس لئے مستعد کھڑا ہوں کہ آپ لو گ اپنے اموال طیبہ سے اپنے دینی مہمات کے لئے مدد دیں اور ہریک شخص جہاں تک خداتعالیٰ نے اس کو وسعت و طاقت و مقدرت دی ہے اس راہ میں دریغ نہ کرے اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے اپنے اموال کو مقدم نہ سمجھے۔ اور میں پھر جہاں تک میرے امکان میں ہے تالیفات کے ذریعہ سے ان علوم و برکات کو ایشیا اور یورپ کے ملکوں میں پھیلاؤں جو خداتعالیٰ کی پاک روح نے مجھے دی ہیں ‘‘۔ (ازالہ اوہام۔روحانی خزائن جلد 3صفحہ516)
آج حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام کا یہ پیغام گاؤں گاؤں، قریہ قریہ، اس ملک میں بھی اور پاکستان میں بھی اس کے پھیلانے کا کام وقف جدید کے سپرد ہے۔ پس ہر احمدی کو اپنے نفس کو پاک کرنے کے لئے مالی قربانی کا فعّال حصہ بننا چاہئے۔ چاہے نئے آنے والے ہیں یا پرانے احمدی ہیں۔ اگر مالی قربانیوں کی روح پیدا نہیں ہوتی تو ایمان کی جو مضبوطی ہے وہ پیدا نہیں ہوتی۔ کوئی یہ نہ دیکھے کہ معمولی توفیق ہے، غریب آدمی ہوں اس رقم سے کیا فائدہ ہو گا۔ اللہ تعالیٰ کی راہ میں قربانی کے جذبے اور خلوص سے دئیے ہوئے ایک پیسے کی بھی بڑی قدر ہوتی ہے۔ ایسے ہی یہ قربانی کا ذکر جماعت احمدیہ کی تاریخ میں اس طرح بھی محفوظ ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں ایک معذور اور غریب آدمی تھے حضرت حافظ معین الدین صاحب؄ کہ روایت میں آتا ہے ان کی طبیعت میں بڑا جوش تھا کہ وہ سلسلے کی خدمت کے لئے قربانی کریں حالانکہ ان کی اپنی حالت یہ تھی کہ نہایت تنگی کے ساتھ گزارا کرتے تھے اور بوجہ معذور ہونے کے کوئی کام بھی نہیں کر سکتے تھے اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک پراناخادم سمجھ کر لوگ محبت و اخلاص کے ساتھ کچھ نہ کچھ تحفہ وغیرہ ان کو دے دیا کرتے تھے۔ لیکن حافظ صاحب کا ہمیشہ یہ اصول تھا کہ وہ اس روپیہ کو جو ان کو اس طرح لوگوں کی طرف سے تحفہ کے طور پر ملتا تھا، کبھی اپنی ذاتی ضرورت پر خرچ نہیں کرتے تھے، بلکہ اس کو سلسلے کی خدمت کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے حضور پیش کر دیا کرتے تھے۔ اور کبھی کوئی ایسی تحریک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی طرف سے نہیں ہوئی جس میں انہوں نے حصہ نہ لیا ہو چاہے وہ ایک پیسہ ڈال کر حصہ لیتے۔ کیونکہ جو ذاتی حیثیت تھی اس حیثیت سے جو بھی وہ قربانی کرتے تھے یہ کوئی معمولی قربانی نہیں تھی چاہے وہ پیسے کی قربانی تھی۔ اس وقت حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی کئی دفعہ حافظ صاحب کی خدمتوں کا ذکر فرمایا ہے اور بعض دفعہ یہ بھی ہوتا تھا کہ حافظ صاحب بھوکے رہ کر بھی یہ خدمت کیا کرتے تھے۔ (اصحاب احمد۔ جلد 11صفحہ293)
پھر ایک اور دو بزرگوں کا نقشہ ہے جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ و السلام نے خود فرمایا ہے۔ فرماتے ہیں :
’’مَیں اپنی جماعت کے محبت اور اخلاص پر تعجب کرتا ہوں کہ ان میں سے نہایت ہی کم معاش والے جیسے میاں جمال الدین اور خیرالدین اور امام دین کشمیری میرے گاؤں سے قریب رہنے والے ہیں۔وہ تینوں غریب بھائی جو شاید تین آنے یا چار آنے روزانہ مزدوری کرتے ہیں سرگرمی سے ماہواری چندے میں شریک ہیں۔ ان کے دوست میاں عبدالعزیز پٹواری کے اخلاص سے بھی مجھے تعجب ہے کہ باوجود قلت معاش کے ایک دن سو روپیہ دے گیا کہ مَیں چاہتا ہوں کہ خدا کی راہ میں خرچ ہوجائے۔ وہ سو روپیہ شاید اس غریب نے کئی برسوں میں جمع کیا ہو گا مگر للّہی جوش نے خدا کی رضا کا جوش دلا یا‘‘۔ (ضمیمہ انجام آتھم۔ روحانی خزائن جلد 11صفحہ 314-313)
جہاں یہ مثالیں غریب اور نئے آنے والے احمدیوں کو توجہ دلانے کے لئے ہیں وہاں جو اچھے کھاتے پیتے احمدی ہیں ان کے لئے بھی سوچ کا مقام ہے، ان کو بھی سوچنا چاہئے کہ وہ دیکھیں کہ کیا وہ جو مالی قربانی کر رہے ہیں کبھی انہیں یہ احساس ہوا کہ واقعی یہ قربانی ہے۔ غریب آدمی تو بیچارہ اپنا پیٹ کاٹ کر چندہ دیتا ہے لیکن امراء اس نسبت سے دیتے ہیں کہ نہیں۔ اور اگر چندہ دینے کے بعد بھی کبھی احساس نہیں پیدا ہوا کہ کسی قسم کی قربانی کی ہے تواس کا مطلب ہے کہ ان میں بہت گنجائش موجود ہے۔
جیسے مَیں نے بتایا کہ وقف جدید کی تحریک حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے شروع فرمائی تھی اس کی اہمیت بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ:
’’مَیں احباب جماعت کو تاکید کرتا ہوں کہ وہ اس تحریک کی اہمیت کو سمجھیں اور اس کی طرف پوری توجہ دیں اور اس کو کامیاب بنانے میں پورا زور لگائیں اور کوشش کریں کہ کوئی فرد جماعت ایسا نہ رہے جو صاحب استطاعت ہوتے ہوئے اس چندے میں حصہ نہ لے‘‘۔
پس گزشتہ چند سالوں میں بھارت اور پاکستان میں،گو تھوڑی تعداد میں نئے آئے ہیں مگر افریقہ میں بڑی بھاری تعداد جماعت میں شامل ہوئی ہے۔ اگر آپ ان لوگوں کو جماعت کا فعال حصہ بنانا چاہتے ہیں اور وہ لوگ خود اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنا چاہتے ہیں اور جماعت کا فعال حصہ بننا چاہتے ہیں تو پھر کوشش کرکے مالی قربانیوں میں حصہ ڈالیں اور اس کے لئے ابتداء میں وقف جدید میں ہی چاہے حصہ لیں۔ پھر آہستہ آہستہ دو تین سال میں جب عادت پڑ جائے گی تو باقی مالی نظام میں بھی شامل ہو جائیں گے اور یہ اس لئے ضروری ہے تاکہ ایمان میں بھی مضبوطی پیدا ہواور اللہ تعالیٰ کی رضا بھی حاصل ہو۔
پھر حضرت مصلح موعودؓ کے ذہن میں جو منصوبہ تھا کہ اس تحریک سے کیا کیا کام لینے ہیں ،کس طرح پھیلانا ہے، ایک موقع پر آپؓ نے اس کا ذکر فرمایا اور وہی پروگرام اب بھارت کو دیا گیا ہے۔وقف جدید کے تحت اس وقت تقریباً پونے بارہ سو معلمین اور مبلغین کام کر رہے ہیں۔ لیکن ابھی بھی میرے نزدیک کافی نہیں ہے۔ آپؓ نے فرمایا کہ: پس مَیں جماعت کے دوستوں کو ایک بار پھر اس وقف کی طرف توجہ دلاتا ہوں کہ ہماری جماعت کو یاد رکھنا چاہئے کہ اگر وہ ترقی کرنا چاہتی ہے تو اس کو اسی قسم کے وقف جاری کرنے پڑیں گے اور چاروں طرف رشد و اصلاح کا جال پھیلانا پڑے گا۔ اب وہ زمانہ نہیں رہا کہ ایک مربی ایک ضلع میں مقرر ہو گیا اور وہ دورہ کرتا ہوا ہر جگہ گھنٹہ گھنٹہ دو دو گھنٹے ٹھہرتا ہوا سارے ضلع میں پھر گیا۔ اب ایسا زمانہ آ گیا ہے کہ ہمارے مربی کو ہر گھر ہر جھونپڑی تک پہنچنا پڑے گا اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب میری اس نئی سکیم پر عمل کیا جائے۔ (الفضل 11؍جنوری 1958ء)
پھر آپ نے فرمایا کہ:
’’ ہر جگہ ایسے آدمی مقرر کر دئیے جائیں جو اس علاقہ کے لوگوں کے اندر رہیں اور ایسے مفید کام کریں کہ لوگ ان سے متاثر ہوں اور وقف کے کام کرنے والے جو ہیں ان کی بھی ذمہ داریاں ہیں کہ ایسے مفید کام کریں کہ لوگ متاثرہوں یہ انہیں پڑھائیں بھی اور رشد و اصلاح کا کام بھی کریں۔ اور یہ جال اتنا وسیع طورپر پھیلایا جائے کہ کوئی مچھلی باہر نہ رہے۔ پس جب تک ہم اس جال کو نہ پھیلائیں گے اس وقت تک ہم کامیاب نہیں ہو سکتے ‘‘۔اگر یہ جال صحیح طرح پھیلا ہوا ہوتو ہم نومبائعین کو بڑی اچھی طرح سنبھال سکتے ہیں۔ ان کو قربانیوں کا احساس بھی دلا سکتے ہیں اور توجہ بھی دلا سکتے ہیں اور ان کو بڑی آسانی سے نظام کا حصہ بھی بنا سکتے ہیں۔ پس اس طرف بہت توجہ کی ضرورت ہے۔
پھر جہاں لوگ مالی قربانیاں دیں وہاں جو معلمین اور مبلغین ہیں وہ اپنی پوری پوری استعدادوں کو استعمال کریں۔ یہاں ہندوستان میں بھی اور پاکستان میں بھی اور دوسری جگہوں پر بھی۔ جیسا کہ مَیں نے کہا یہ تصور ہماری انتظامیہ کے ذہن میں بھی کئی جگہ پر آ گیا ہے۔ جماعتی عہدیداران کے اندر بھی موجود ہے کہ ہمارے، مربیان کی، معلمین کی جو تعداد ہے وہ کافی ہے۔ یہ صحیح نہیں ہے۔ اب زمانہ ہے کہ ہر گاؤں میں، ہر قصبہ میں اور ہر شہر میں اور وہاں کی ہر مسجد میں ہمارا مربی اور معلم ہونا چاہئے۔ اب اس کے لئے بہرحال جماعت کو مالی قربانیاں کرنی پڑیں گی۔ تبھی ہم مہیا کر سکتے ہیں۔
پھر جماعت کے افراد کو اپنی قربانیاں کرنی پڑیں گی۔ اپنے بچوں کی قربانیاں کرنی پڑیں گی کہ ان کو اس کام کے لئے پیش کریں، وقف کریں۔ اور یہ سب ایسے ہونے چاہئیں کہ وہ تقویٰ کے اعلیٰ معیار پر بھی قائم ہوں۔ ہم نے صرف آدمی نہیں بٹھانے بلکہ تقویٰ پر قائم آدمیوں کی ضرورت ہے۔ آئندہ سالوں میں انشاء اللہ واقفین نو بھی میدان عمل میں آجائیں گے لیکن جوان کی تعداد ہے وہ بھی یہ ضرورت پوری نہیں کر سکتے۔ یہ کام وسیع طور پر ہمیں کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آدمیوں کی ضرورت بڑی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔اللہ تعالیٰ تقویٰ پرچلنے والے مربیان اور معلمین ہمیں مہیا فرماتا رہے۔
اب مَیں کچھ مالی جائزے پیش کرتا ہوں جو گزشتہ سال وقف جدید کی مالی قربانیوں کے تھے۔ کیونکہ ہم پاؤنڈوں میں Convert کرتے ہیں اور ساری دنیا کے چندے مختلف کرنسیوں میں ہوتے ہیں اس لئے ایک کرنسی بنانے کے لئے کرنسی سٹرلنگ پاؤنڈ میں رکھی جاتی ہے۔ جو رپورٹیں موصول ہوئی ہیں ا ن میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے وقف جدید کی کل وصولی 21لاکھ 42ہزار پاؤنڈ ہوئی جو اللہ کے فضل سے گزشتہ سال کی نسبت دو لاکھ پاؤنڈ زائد ہے۔ الحمدللہ۔ اور شامل ہونے والوں کی تعداد 4,66000 ہے۔ مَیں نے بھارت کو ٹارگٹ دیا تھا کہ اگر وہ کوشش کریں تو پانچ لاکھ شامل کر سکتے ہیں ابھی ان کی یہ کوشش جاری ہے لیکن ابھی تک اسے پورا نہیں کیا۔بہرحال اکیاون ہزار نئے مخلصین اس وقف جدید کی تحریک میں شامل ہوئے ہیں۔ پاکستان، ہندوستان، کی تعداد زیادہ قابل ذکر ہے۔ پھر جرمنی، کینیڈا، نائیجیریا وغیرہ ہیں۔ نائیجیریا میں تحریک جدید میں بھی، وقف جدید میں بھی، مالی قربانیوں کی طرف کافی توجہ پیدا ہو رہی ہے اور ماشاء اللہ کافی آگے بڑھ رہے ہیں۔ باقی افریقی ممالک کو بھی نیکیوں میں سبقت لے جانے کی روح کے تحت آگے بڑھنا چاہئے خاص طو رپر غانا والے بھی اس طرف توجہ کریں۔ اور اسی طرح جیسا کہ مَیں نے پہلے کہا ہے کہ ہندوستان میں بھی گو کہ تعداد میں اضافہ ہوا ہے لیکن کافی گنجائش موجود ہے کیونکہ ان کی رپورٹ کے مطابق گواس وقت جو وقف جدید کی تحریک میں جو شامل ہیں ان کی کُل تعداد ایک لاکھ پچیس ہزار ہے۔ اور گو اس سال 28ہزار کا اضافہ ہوا ہے لیکن مَیں سمجھتا ہوں اگر ٹھوس اقدامات کئے جائیں اور پوری طرح کوشش کی جائے تو یہ لاکھوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔بہرحال پوری دنیا اس کا بھی انتظار کر رہی ہوتی ہے اب دنیا بھر میں مجموعی وصولی کے لحاظ سے بالترتیب پہلی دس جماعتوں کی رپورٹ یہ ہے۔ اس میں امریکہ اول ہے پاکستان دوم اور برطانیہ تیسری پوزیشن پہ، جرمنی چوتھی پوزیشن پہ، کینیڈا پانچویں پہ۔ ہندوستان چھٹی پہ، انڈونیشیا ساتویں پوزیشن پہ بلجیم آٹھویں ،آسٹریلیا نویں اور دسویں پہ سوئٹزر لینڈ۔ آسٹریلیا نے بھی اس دفعہ کوشش کی ہے اپنی دسویں پوزیشن سے نویں پر آئے ہیں۔
پاکستان میں چندہ بالغان اور اطفال کا علیحدہ علیحدہ بھی موازنہ کیا جاتا ہے۔ اس لحاظ سے بالغان میں اول لاہور، دوم کراچی اور سوئم ربوہ۔ اور اس میں مجموعی ترتیب کے لحاظ سے جو پہلی دس پوزیشنیں ہیں سیالکوٹ، راولپنڈی، اسلام آباد، گوجرانوالہ، میرپور خاص، شیخوپورہ، فیصل آباد، سرگودھا، کوئٹہ اور نارووال اضلاع ہیں۔
پھر اسی طرح دفتر اطفال میں جو پہلی تین پوزیشنیں ہیں۔ اول کراچی،دوئم لاہور، سوئم ربوہ۔ اور اس میں بھی جو اضلاع کی پوزیشن یہ ہے اسلام آباد اول، پھر سیالکوٹ، گوجرانوالہ، شیخوپورہ، راولپنڈی، میرپورخاص، فیصل آباد، سرگودھا، نارووال، کوئٹہ۔ تو یہ ہے ان کی وصولیوں کی کل پوزیشن۔
یکم جنوری 2006ء سے وقف جدید کا نیا سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے شروع ہو چکا ہے۔ آج اس کا اعلان بھی میں کر رہاہوں۔ یہ وقف جدید کا اُنچاسواں سال ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سال میں پہلے سے بڑھ کر ثمرات عطا فرمائے۔ جماعت کے مالی قربانیوں کے معیار بھی بلند ہوں اور واقفین زندگی، مربیان، معلمین کے تقویٰ اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کے معیار بھی بلند ہوں اور جماعت کے ہر فرد کو اپنی اہمیت اور ذمہ داری کا احساس بھی ہو اور ہم میں سے ہر ایک، ایک تڑپ کے ساتھ اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ کا پیار سمیٹنے والاہو اور اس کوشش میں رہے اللہ سب کو اس کی توفیق دے۔
آج خطبہ لیٹ شروع ہوا تھا۔ باہر والے لوگ ایم ٹی اے کے انتظار میں بہت جلدی پریشان ہو جاتے ہیں یہاں کیونکہ بجلی کا مسئلہ رہتا ہے۔ ایک جنریٹر انہوں نے لگایا تھاوہ خراب ہو گیا تو دوسرا لگایا گیا اس کی صحیح طاقت نہیں تھی۔ اس وجہ سے ان کے سگنل صحیح نہیں جا رہے تھے اس لئے لیٹ ہوا۔کیونکہ لوگ مجھے لکھنا شروع کر دیتے ہیں شاید مجھے کچھ ہو گیا ہے۔تو یہ میری وجہ نہیں بلکہ بجلی کی خرابی کی وجہ ہے۔

0
یہ مضمون شیئر کرنے کے لئے یہ چھوٹا لنک استعمال کریں۔ جزاک اللہ [https://khadimemasroor.uk/jNs4N]

اپنا تبصرہ بھیجیں