احمدیت کی برکات
(مطبوعہ رسالہ انصارالدین نومبرودسمبر2014ء)

خاکسار موضع باسو پنوں تحصیل پسرور ضلع سیالکوٹ کا رہنے والا ہے۔ ایک دن ہمارے ٹیوب ویل کے انجن میں خرابی ہو گئی تو مستری نے ایک پرزہ لانے کا کہا تو والد صاحب نے مجھے گوجرانوالہ شہربھیجا تومیں نے چوک گھنٹہ گھر میں لوگوں کا بہت بڑا ہجوم دیکھا جو ایک آتش زدہ مکان کو گھیرے کھڑے تھے، خاکسار نے بڑی سادگی سے ایک آدمی سے پوچھا کہ اس آگ کو بجھانے کی کیوں کوشش نہیں کرتے؟ اس نے کہا ’’پہلوان جی! اے بجھان لئی لائی اے؟‘‘ خاکسار نے تفصیل پوچھی تو اس نے کہا کہ یہ مرزائی ہیں۔ سن 1974ء میں یہ ظالمانہ واقعہ دیکھ کر مَِیں بہت پریشان ہوا، سوچا کہ لاؤڈسپیکروں میں تو مولوی شور مچاتے ہیں کہ ہمارے نبی کریم ﷺ سب انسانوں بلکہ جانوروں پر بھی رحم فرماتے تھے، کبھی نہیں سنا کہ صحابہؓ کو حکم دیا ہو کہ فلاں یہودی کا گھرجلا دو۔ الغرض سوالات کے ہجوم میں بھاری دل لے کر اپنا مفوضہ کام مکمل کرکے واپس اپنے گاؤں پہنچا۔ ایک یا دو دن بعد اپنے گاؤں کے مولوی صاحب سے ملاقات میں واقعہ گوجرانوالہ بیان کیا تو جواب ملا کہ آپ کو نہیں معلوم کہ یہ لوگ تو مرتد ہوچکے ہیں، مزید بتایا کہ انہوں نے رسول کریم ﷺ کو چھوڑ کر نیا نبی بنالیا ہے، کلمہ بھی اسی نئے نبی یعنی قادیانی کا پڑھتے ہیں اس لیے ان کو مکمل طور پر تباہ و برباد کرنا، مال و جان سے محروم کرنا بہت بڑا جہاد ہے۔ یہ انگریز نے ہم مسلمانوں میں بہت بڑا فتنہ چھوڑا ہے ہم سب نے مل کراس فتنے کا قلع قمع کرنا ہے۔ جو اس کو ختم کرنے میں حصہ لے گا وہ جنت میں جائے گا۔
خاکساربھی باپ دادا سے اہل سنت والجماعت کا ممبر تھا اور یہ مولوی بھی اہل سنت تھا۔ مولوی کی یہ ساری باتیں سن کر مَیں واپس آگیا اور پھر اہلحدیث مولوی احمد حسن نامی سے راہنمائی حاصل کرنے گیا۔ اُس سے ملاقات ہوئی تو اس نے تو پہلے مولوی سے بھی بڑھ کر ظالمانہ جواب دیا۔ یوں میرا دل دکھ سے اَور بھی بھر گیا۔ خاکسار کی عمر اس وقت 26 سال تھی۔ زمیندار گھرانہ سے تعلق تھا۔ دینی علم محدود تھا۔ نمازجمعہ بھی شاذ کے طور پر ہی ادا کرتا تھا۔ درسی تعلیم پرائمری تک تھی۔ لیکن اللہ تعالیٰ کی قدرت کہ واقعہ گوجرانوالہ دل سے نکلتا نہ تھا۔ کچھ دنوں کے بعد قلعہ کالروالہ گیا اور ایک احمدی سے ملا۔ الزامات کی حقیقت پوچھی تو انہوں نے بتایا کہ مولوی لوگ ہم احمدیوں کے متعلق محض جھوٹ پھیلاتے ہیں۔ ہم رسول کریم ﷺ کی آنے والے موعود کے متعلق پیشگوئیوں کو من وعن مانتے ہیں۔ مزید یہ فرق ہے کہ غیر ابھی منتظر ہیں اور ہم اسی موعود کو مہدی مان چکے ہیں۔ اس احمدی بھائی نے مجھے قرآن کریم سے وفات مسیحؑ اور ختم نبوت کے متعلق کچھ حوالہ جات بھی دیے جو قبول احمدیت کے لئے ممد ثابت ہوئے۔ کچھ عرصہ بعد ایک احمدی بھائی محمد نواز صاحب سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ ایک بیعت فارم ہوتا ہے جس پر دستخط کردیں تو احمدیت میں شمولیت ہوتی ہے۔ تب خاکسار کی اہلیہ صفیہ بیگم صاحبہ نے بھی امام مہدیؑ کی بیعت کرلی۔ یوں ہم میاں بیوی بہت خوش تھے کہ ہم ظالموں سے نکل کر مظلوموں میں شامل ہوگئے ہیں۔
سن 1974ء سے 1989ء تک ہم اسی خوشی میں رہے کہ ہم احمدی ہیں۔ لیکن نہ چندہ دینے کا پتہ اور نہ ملکی الیکشن میں شمولیت کا علم، نہ یہ پتہ کہ غیراحمدیوں کے پیچھے نماز نہیں پڑھنی اور نہ بدرسوم وغیرہ سے بچنے کا پتہ، صرف اتنا ہی علم تھا کہ ہم نے امام مہدیؑ کو مان لیا ہے۔ عام لوگوں کو اور مولویوں کو بھی یہ بات بار بار بتائی تھی کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہم نے احمدیت قبول کی ہے اور آپ کے ظلم و ستم دیکھنے کی وجہ سے ایسا ہوا ہے لیکن وہ غور ہی نہیں کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ کے فضل سے میرے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں، 1989 میں ان بچوں کی تعلیم کے لئے عارضی طور پر گوجرانوالہ شہر میں کرایہ پر مکان لے کر اس میں رہائش پذیر ہوا تو بھگوان پورہ کی احمدیہ مسجد میں جمعہ ادا کرنے کے لیے گیا۔ وہاں سے جماعتی روایات، قواعد و ضوابط، چندہ جات، مرکز کی اہمیت اور خلافت احمدیہ کی برکات کا علم ہوا۔ پھر ’’احمدیہ پاکٹ بک‘‘ کے مطالعہ سے مخالفین سے دلائل کے ساتھ بات کرنے کی جرأت پیدا ہوئی۔ غالباً 1990ء کے شروع میں خاکسار نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے عام تبلیغ کرنا شروع کی۔ لوگ چونکہ کم علمی کی وجہ سے خوداعتمادی نہیں رکھتے تھے اس لئے بعض نے تو کہنا کہ مولوی صاحب سے آپ کی بات کرواتے ہیں پھر پتہ چلے گا کہ کون سچا ہے۔ تو اس طرح کئی دفعہ موقعہ ملا کہ سنیوں اور اہل حدیث مولویوں سے دو دو تین تین گھنٹے بات ہوتی رہی۔ عرصہ تین سال میں سعید فطرت عوام کے دل بدلنے لگے۔ پھر یہ بھی خدا تعالیٰ کا خاص فضل تھا کہ اس عرصہ میں مولوی بھی اخلاق کے دائرہ میں رہے اور عزت بھی کرتے رہے۔
1993ء میں اللہ تعالیٰ کی قدرت نمائی سے میرے ذریعے چھ لوگ بیعت کرکے احمدیت میں شامل ہوئے تو خاکسار نے قلعہ کالروالہ جماعت میں مربی سلسلہ مکرم احمد محمود صاحب کوبیعت فارم دیے۔ انہوں نے پوچھا کہ آپ نے کب بیعت کی تھی؟ عرض کیا کہ 1974ء میں۔ لیکن جب مربی صاحب نے مرکز جاکر ریکارڈ دیکھا تو وہاں ہمارا کوئی ریکارڈ نہ تھا۔ لہٰذا ہم دونوں میاں بیوی نے دوبارہ سے بیعت فارم بھرے۔ ادھر چھ نومبائعین کا سن کر گاؤں کے مولویوں نے شدید مخالفت شروع کردی۔ ایک نومبائع محمد بشیر پنوں کی اہلیہ مولویوں کی مخالفت کی تاب نہ لاسکی اور بچے چھوڑ کر میکے چلی گئی۔ خاکسار نے محمد بشیر کو صبرکی تلقین کی اورمعہ بچگان ان کے کھانے پینے کا بندوبست اپنے گھر سے کروادیا۔ اللہ تعالیٰ نے خاص مدد فرمائی۔ تقریباً ایک ماہ نہیں گزرا تھا کہ ان کی بیوی واپس آگئی۔ محمد بشیر کا بڑا بھائی مولویوں کے ساتھ مل کر احمدیت کی مخالفت کرتا تھا۔ وہ اپنی سب سے بڑی بہن جو کہ ان کے خاندان میں زیادہ بااثر تھی، کو لے کر محمد بشیر کے گھر آیا تاکہ وہ محمد بشیرکو واپس اپنے مذہب میں لائے، ان کے پردادا نے سکھ مت سے اسلام قبول کیا تھا۔ جب وہ بہن محمد بشیر صاحب کو نصیحت کرنے لگی کہ آپ کافر ہوگئے ہو۔ یہ بہت بڑا گناہ ہے اس کو چھوڑ دو۔ پھر پنجابی میں کہا ’’وے بشیر! وے توں اپنے باپ ول نہ ویکھیا، وے توں اپنے دادے ول نہ ویکھیا‘‘ یہ کہہ کر خاموش ہوگئی۔ تو بشیر صاحب کہنے لگے بہن! رک کیوں گئی ہو پڑدادا کا بھی تو نام لو کہ انہوں نے اپنا مذہب کیوں بدل کر اسلام قبول کیا۔ کیا پہلے والا بہتر نہیں تھا۔ لہٰذا اس وقت پڑدادا نے قربانی دی تھی اور اب اللہ تعالیٰ نے مجھے توفیق دی ہے، آپ جو چاہے کرو مَیں نے امامِ وقت کو مانا ہے، اب انکار نہیں کرسکتا۔
اسی اثناء میں خاکسار کی ایک بڑی ہمشیرہ عزیزہ بیگم صاحبہ کے میاں فوت ہوگئے تو ان کی نماز جنازہ کے موقع پرمخالفین کی طرف سے ایک شرارت کی صورت پیدا ہوئی لیکن عرصہ چھ ماہ بعد ہی میرا بھانجا مکرم منور احمد صاحب اور ان کی اہلیہ نسیم بیگم صاحبہ اور آپا عزیزہ بیگم صاحبہ بیعت کرکے احمدیت میں شامل ہوگئے۔ اس وقت منور احمد گوجرانوالہ میں رہائش پذیر ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپنے حلقہ کے صدر جماعت اور گوجرانوالہ شہر کے وقف جدید کے سیکرٹری ہیں۔
’’احمدیہ پاکٹ بُک‘‘ جو خاکسار کے پاس تھی اس میں اللہ تعالیٰ نے کوئی ایسی برکت رکھ دی تھی کہ جب بھی اور جدھر بھی اس کو لے کر نکلتا تھا ایسا لگتا تھا کہ ہر تیر نشانے پر لگتا ہے۔ وہ دن ایسے تھے کہ ہر وقت ایک نشہ سا رہتا تھا جس میں بہت لذت تھی۔ دنیا کے کام میں جی نہیں لگتا تھا۔ ہر گھڑی دماغ میں یہی خیال اور سوچ تھی کہ کل فلاں کی طرف گیا تھا، فلاں فلاں سے بات ہوئی تھی، آج فلاں کی طرف جانا چاہیے۔ کسی کو کوئی رپورٹ بھی نہیں دینی ہوتی تھی اور نہ ہی کوئی رپورٹ لینے والا تھا کیونکہ ہماری ابھی جماعت ہی قائم نہیں ہوئی تھی۔ یہ سلسلہ 1998ء تک جاری رہا۔
ایک سکول ٹیچر مکرم نصیر احمد صاحب ابن مکرم عنایت اللہ صاحب ایک دفعہ مجھے کہنے لگے کہ آپ مولوی صاحب سے احمدیت پر بات کر سکتے ہو تو اس سے ہمیں اور کچھ اَور لوگوں کو بھی فائدہ ہوگا خاکسار نے کہا کہ ماسٹر صاحب آ پ جانتے ہی ہیں کہ آج کل مولویوں کا فتنہ بہت بھاری ہے ان کو آپ کنٹرول کرسکوگے؟ اس پر وہ میرے سامنے تو مان گئے کہ ٹھیک ہے (رہنے دیں) لیکن انہوں نے اپنے دل میں ارادہ پکا کرلیا کہ ضرور مولوی سے بات ہو کر رہے گی اور پھر وہ موقع کی تلاش میں رہے۔ خاکسار کا اکثر اُن کے ہاں آنا جانا رہتا تھا۔ ایک دن صبح اُن سے ملنے اُن کے ڈیرے پر پہنچا تو ماسٹر صاحب کی ڈیوٹی پرائمری سکول میں تھی۔ سکول سے ملحقہ فرقہ اہلحدیث کا مدرسہ بھی تھا ماسٹر صاحب خود بھی اہلحدیث تھے۔ جب مَیں سکول پہنچا تو خاکسار کو صحن میں کرسی پر بٹھا کر وہ خود اندر کمروں میں چلے گئے۔ اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کیسے جلدی جلدی سب کچھ ہوا کہ ابھی دس پندرہ منٹ گزرے ہوں گے کہ دیکھا کہ کچھ لوگ تو چارپائیاں اٹھائے آرہے تھے اور مولوی صاحب بغل میں ایک بڑی سی تفسیرِ قرآن اٹھائے خاکسار کے پاس آکھڑے ہوئے۔ سکول کے سارے ماسٹر صاحبان ملا کر دس پندرہ لوگ وہاں جمع ہوگئے۔ اب کوئی چارہ نہ تھا تو اللہ تعالیٰ کی مدد اس کے پیاروں کی دعاؤں سے شامل حال ہوئی ۔ خاکسار نے مولوی سے کہا کہ آپ تو عالم ہیں، مَیں تو ایک زراعت پیشہ آدمی ہوں، اتنا پڑھا لکھا بھی نہیں ہوں۔ ہاں یہ ہے کہ احمدی ضرور ہوں اور امام مہدی کے ماننے والا ہوں۔ آپ سے یہ سوال کرتا ہوں کہ آپ حضرت عیسیٰؑ کو آسمان پر زندہ بمعہ جسم مانتے ہیں ذرا ہمیں قرآن کریم سے سمجھا بھی دیں اور وہ آیت ہم سب کو دکھا بھی دیں۔ تو مولوی نے فوراً ما قتلوہ والی آیت نکالی پڑھی اور دکھائی۔ خاکسار نے لوگوں سے کہا کہ آپ لوگ خود اس آیت کو پڑھو اور مولوی صاحب سے بھی پوچھو کہ کہاں ہے عربی کا وہ لفظ جس سے زندہ اور جسم اور آسمان کا ترجمہ لیا گیا ہے۔ پھر خاکسار نے مولوی صاحب سے کنفرم کیا کہ کیا کوئی اَور نبی بھی بمعہ جسم آسمان پر زندہ گیا ہے؟ تو مولوی نے کہا کہ نہیں، صرف عیسیٰؑ ہی گئے ہیں۔ اس پر خاکسار نے مولوی سے سورۃ مریم کی آیت جس میں حضرت ادریسؑ کے متعلق رفع کا لفظ آیا ہے وہ پڑھنے کو کہا اور سب لوگوں کو بھی آیت دکھائی۔ سب نے اس کو پڑھا۔ پھر خاکسار نے بمعہ مولوی سب لوگوں سے سوال کیا کہ اگر ایک لفظ مذکورہ بالا سے ایک نبی بمعہ جسم زندہ جاسکتا ہے تو دوسرا کیوں نہیں جاسکتا؟ لوگوں نے مولوی سے بار بار جواب طلب کیا مگر مولوی تو پتھر کا سا بت بن کر رہ گیا تھا۔ نظریں جھکی ہوئی تھیں اور مُردہ کی طرح حالت تھی۔ خاکسار کا دل اللہ تعالیٰ کی حمد کے گیت گا رہا تھا۔ تب ایک مقامی ماسٹر خالق احمد صاحب چارپائی پر کھڑے ہوئے اور دونوں بازو اوپر کو کھڑے کر کے پنجابی میں کہنے لگے ’’او لوکو! ہن تے ساڈی ہڈ دھرمی اے جے نہ منیئے تے ‘‘ (اے لوگو! اب بھی اگر ہم نہ مانیں تو ہماری ہٹ دھرمی ہے۔)
پھر اس کے بعد مدرسہ کے انچارج مولوی عبدالقیوم صاحب جو کہ اس وقت وہاں موقع پر موجود نہ تھے ان کو جب اس واقعہ کی خبر ملی تو وہ ماسٹر نصیر احمد صاحب کے ڈیرہ پر پہنچ کر واویلا کرنے لگے کہ ہماری بڑی بے عزتی ہوئی ہے میں نے سات سال جامعہ پاس کیا ہوا ہے عرصہ بیس سال سے مدرسہ چلا رہا ہوں آج تک کوئی ہمارے سامنے ٹھہر نہیں سکا لیکن اب ہم کہیں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے اس لئے ایک دفعہ پھر ہمارے درمیان بات کروا دو۔ تو ماسٹر صاحب نے کہا کہ ٹھیک ہے میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں جب بھی موقع ملا ضرور کرواؤں گا۔ لیکن پھر جب ایک دن اسے پیغام بھیجا گیا کہ فوراً آجاؤ، وہ احمدی موجود ہے تو مولوی عبدالقیوم کہنے لگا کہ اس کو جانے نہ دیں مَیں موضع موریکے ججہ سے مولوی اکرم ججہ صاحب کو بھی ساتھ لے آؤں کیونکہ مرزائیوں کے پاس بہت علم ہوتا ہے۔ الغرض اس کو موقع ملنے پر بھی اُس کے دل میں سے احمدیت کی سچائی کا خوف نہ گیا۔
1998ء میں مکرم خواجہ ظفر احمد صاحب امیر ضلع سیالکوٹ دورہ پر تشریف لائے تومقامی جماعت کا قیام عمل میں آیا اور خاکسار اس چھوٹی سی جماعت کا صدر منتخب ہوا ۔ خاکسار کے گھر کا صحن کافی بڑا ہے اسی سال ایک چھوٹی سی مسجد گھر کے صحن میں بنانے کی توفیق ملی ،جماعت قائم ہونے سے کوئی چھ سات ماہ پہلے خاکسار کو خواب میں ایک واضح آواز سنائی دی جو کہ پنجابی کے الفاظ تھے ’’پنج ست سورتاں یاد کرلے۔‘‘ اس پر عمل کرتے ہوئے مَیں نے قرآن کریم کی چھوٹی چھوٹی دس سورتیں زبانی یاد کیں۔ چنانچہ جماعت کے قیام کے بعد پھر باجماعت نماز کے لئے جب خاکسار کو امام کی جگہ پر کھڑے ہو کر یہ سورتیں پڑھنے کی توفیق ملی تو اس پر بلند شان والے قادرِ مطلق اور اس کے فرستادے پر دل میں ایمان مضبوط اور تقویت پکڑتا گیا۔ اس عرصہ میں خاکسار کے چھوٹے بھائی مکرم شوکت علی پنوں بمعہ اہلیہ بیعت کرکے جماعت میں شامل ہوچکے تھے جو خاکسار کے بعد 2003ء سے جماعت کے صدر منتخب ہوتے آرہے ہیں۔
ادھر مخالفین بھی اپنا دائرہ وسیع کرتے ہوئے دور دراز تک اپنے جوہر دکھانے لگے۔ ہمارے گاؤں کے اردگرد کے 9 دیہات کی پکی ڈیوٹی تھی کہ وہ باقی ٹائم کے علاوہ صبح کا درس فُل آواز میں سپیکر کھول کر جماعت احمدیہ کے خلاف زہر اگلتے تھے۔ اس کے علاوہ بھی نت نئے ہتھکنڈے استعمال کرنے کی کوشش جاری رہتی تھی۔ اسی دوران ہمارے گاؤں کے دونوں مولویوں اور شریر لوگوں نے مل کر ہمارا بائیکاٹ کرنے کا منصوبہ بنایا۔ اُن کا اس مقصد کے لیے قبرستان میں اکھٹے ہونے کے لئے اتوار کا دن مقرر ہوا لیکن اللہ تعالیٰ کی خاص قدرت سے وہ بائیکاٹ ان پر پلٹ گیا۔
بدگمانوں سے بچایا مجھ کو خود بن کر گواہ
کر دیا دشمن کو اک حملہ میں مغلوب و خوار
اسی طرح ایک اوربہت بڑے ابتلا سے بھی خدا تعالیٰ نے اپنی حفاظت میں رکھا ۔ ایک اشتہاری ڈاکو، کرائے کا قاتل، اغواء برائے تاوان کا عادی بِلّا بٹ اپنے سولہ سترہ ساتھیوں سمیت ، جدید اسلحہ سے لیس گھوڑوں پر سوار ہماری زمینوں کے ساتھ والے ڈیرے پر آکر رہنے لگا۔ تین ٹائم کھانے کے لئے جس کو آرڈر کرتے وہ ان کو مہیا کرتا تھا، مارچ کا مہینہ تھا۔ جس کی گندم میں چاہتے گھوڑے چراتے کسی کی مجال تھی کہ اُف بھی کر دے یہ حالات دیکھ کر خاکسار کو بہت فکر ہوئی زیادہ فکر اس لئے تھی کہ ہمارا جو سب سے بڑا مخالف مولوی تھا اس کا بیٹا بلے بٹ کا بڑا گہرا دوست تھا جب رات ہوتی تھی تو روزانہ ان کے پاس آکر کسی خفیہ جگہ پر گزارتا تھاایسے حالات میں ہم گھر بیٹھے تھے تو حضرت مسیح موعودؑ کے قادر خدا نے خود حفاظت کے سامان پیدا فرمائے جبکہ لوگوں کی فصلیں تباہ ہوئیں بہت سارے لوگوں سے کئی دن تک حکماً روٹیاں منگوائیں، بے عزت کرتے رہے، کئی لوگوں کو مارا پیٹا بھی، جبراً رقمیں وصول کیں، میرے ایک بااثر مقامی دوست نے بتایا کہ آپ کے مخالفوں نے کوشش بہت کی تھی لیکن بِلّا بٹ ان کو ٹال مٹول کر دیا کرتا تھا ۔
ہماری برادری کے ایک مولوی محمد الیاس پنوں صاحب بھی مخالفت میں پیش پیش تھے ایک دفعہ ان مخالفین نے توہین رسالت کا مقدمہ بنانے کا منصوبہ بنایا جس کا مدعی الیاس صاحب کو مقرر کیا گیا لیکن اللہ تعالیٰ کی خاص الخاص حفاظت سے ان دشمنوں کا یہ وار بھی خالی گیا۔ اور حقیقی عاشقان مصطفیٰ محفوظ رہے۔حالانکہ ان مولویوں کی کوشش اور منصوبہ اتنا کاری تھا کہ ہم اپنی تمام تر کوشش کرکے بھی اس سے نہیں بچ سکتے تھے۔ صرف اور صرف خدا نے بچایا۔
ایک واقعہ اس طرح پیش آیا کہ یوکے کا سالانہ جلسہ 2001ء جرمنی میں ہوا تھا تو حضور خلیفۃالمسیح الرابع رحمہ اللہ کے اختتامی خطاب پر میں نے چالیس سے زیادہ غیراحمدی مہمانوں کو دعوت دی اور ان کے لئے دیگوں میں پلاؤ اور زردہ وغیرہ تیار کروایا۔ حضور انور کا روح پرور خطاب ہماری مقامی مجلس خدام الاحمدیہ کے مثالی تعاون سے نہایت حسن انتظام سے ٹیلی ویژن پر کثیر مرد و زن نے سنا۔ لوگوں کے بیٹھنے، حضور رحمہ اللہ کے خطاب کی اونچی آواز اور موقع کی مناسبت سے روشنی کا معقول انتظام میرے بڑے بیٹے محمد عاصم شہزاد کی غیرمعمولی کوششوں سے مکمل ہوا۔ کرسیاں بھر جانے پر کچھ لوگوں کو خطاب کھڑے ہوکر سننا پڑا۔ اسی طرح گھر کی چھت پر بھی ایک ٹی وی رکھا ہوا تھا جو کہ لجنہ کے لئے مخصوص تھا۔ اسی طرح بن بلائے بھی کافی عورتیں ہمسایوں کی چھتوں پر بیٹھ کر حضور کا خطاب سنتی تھیں، الحمدللہ جلسے کا خوب لطف اٹھایا لیکن سویرے علی الاعلان مخالفت شروع ہوگئی، سپیکروں کی زوردار گونج میں یہ اعلان کیا جارہا تھا کہ جو تقریر سننے والی عورتیں ہمارے گھر پر بھی نہیں آئی تھیں ان کے بھی اور جو عورتیں اور مرد ہمارے گھر آئے تھے ان کے بھی سب کے نکاح ٹوٹ گئے ہیں، کھانا بھی جن لوگوں نے کھایا وہ حرام تھا۔ شرارت کا یہ سلسلہ کافی دیر تک چلتا رہا۔ مخالفین کا ٹولہ بڑھتا ہی چلاگیا۔ آخر ڈی ایس پی پسرور تک معاملہ پہنچا۔ لیکن اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت خاص سے شیطانوں کو ناکام و نامراد کیا۔
ہیں تیری پیاری نگاہیں دلبرا اک تیغ تیز
جس سے کٹ جاتا ہے سب جھگڑا غم اغیار کا
اسی طرح ایک دفعہ چاچا جی عنایت اللہ صاحب جو کہ احمدی ہوچکے تھے ان کے کچھ دوست جو کہ موضع کھیوہ باجوہ کے رہنے والے تھے اور عنایت اللہ صاحب اور ان کے بیٹوں کو ملنے ان کے گاؤں رتہ جٹھول اکثر ان کا آنا جانا رہتا تھا۔ خاکسار بھی اکثر وہاں جایا کرتا تھا تو اس طرح ان کے ساتھ بھی احمدیت پر گفتگو ہوتی رہتی تھی۔ ایک دن بات چیت جاری تھی تو وہ کہنے لگے کہ ہمارے ایک مولوی صاحب ہیں جو کہ بڑے نیک اور حیادار ہیں اور وہ باقی علماء کی طرح فساد نہیں کرتے، علم بھی کافی رکھتے ہیں اور فاضل کا امتحان پاس کیا ہوا ہے۔ تو ہم آپ کو دعوت دیتے ہیں کہ شام کا کھانا بھی ہمارے پاس کھائیں رات کو اپنے گھر مولوی صاحب کو بلائیں گے اور بڑے آرام سے گفتگو ہوگی۔ یہ بات سن کر مکرم عنایت اللہ صاحب اور ان کے صاحبزادوں نے بھی زور دیا کہ جانا چاہیے۔ لہٰذا اتوار کا دن طے پایا کہ ہم انشاءاللہ حاضر ہوں گے۔ مقررہ دن شام کے قریب ہم لوگ موضع کھیوہ باجوہ میں محبوب احمد صاحب کے گھر پہنچ گئے موضع کھیوہ باجوہ میں ہمارے ایک ماسٹر ارشد صاحب رہتے ہیں جو کہ بڑے مخلص احمدی داعی الی اللہ اور جماعتی ورکر ہیں۔ ان کو بھی کہیں سے پتہ چلا تو وہ بھی آگئے۔ خیر کھانے سے فارغ ہوکر سب دوست چارپائیوں پر بیٹھ گئے تو مولوی محمد بوٹا صاحب بھی تشریف لائے اور ان سے گفتگو شروع ہوئی۔ کبھی وفات مسیح پر اور اچانک کبھی خاتم کے لفظ پر۔ لیکن جب ہم مولوی صاحب کو کسی ایک لائن پر لانے کی کوشش کرتے تو وہ فوراً لائن تبدیل کر جاتے۔ ہم اس اعتراض کے پیچھے چلنے کی طرف رُخ کرتے تو وہ تیسری طرف رُخ اختیار کرلیتے۔ مختصر یہ کہ اسی حالت میں رات کا تیسرا پہر شروع ہونے والا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے قریب آکر ہماری مدد فرمائی۔ وہ اس طرح کہ مولوی صاحب کہنے لگے کہ حدیث میں آیا ہے کہ جب امام مہدی آئے گا تو سب سے پہلے چالیس ابدال اس کی بیعت کریں گے مزید کہنے لگے کہ چلو اس بات پر فیصلہ کر لیتے ہیں کہ وہ ابدال جنہوں نے مرزا صاحب کے ہاتھ پر بیعت کی ہو ہمیں ابدال دکھا دو تو ہم بھی آپ کی جماعت میں شامل ہو جائیں گے خاکسار نے ان لوگوں کو مخاطب کر کے عرض کیا جو کچھ مولوی صاحب نے فرمایا ہے آپ نے ٹھیک طرح سمجھا ہے تو انہوں نے کہا ہاں تو خاکسار نے عرض کیا کہ پھر گواہ رہنا پھر مولوی صاحب کو مخاطب کیا اور پوچھا کہ آپ عالم ہیں ہمیں ابدال کے معنی بتادو کیا ہوتے ہیں؟ تو مولوی صاحب خاموش رہے پھر دوبارہ عرض کیا کہ خاموش کیوں ہیں تو مولوی صاحب نے فرمایا کہ اصل میں ابدال کے معنی کیا ہیں میں صاف گوئی سے بتانا چاہتا ہوں کہ مجھے اس کا علم نہیں ہے اگر کوئی غلط جواب دوں تو مناسب نہ ہوگا۔ مولوی صاحب کی اس بات پر ہمیں خوشی ہوئی کہ اس زمانہ کے مولویوں کی نسبت تو ان مولوی صاحب میں ایک اچھی بات نظر آئی ہے۔ اس کے بعد خاکسار نے عرض کیا کہ ابدال کے معنی ہم آپ کے سامنے بیان کرتے ہیں امید ہے آپ بھی اتفاق کریں گے۔ کہنے لگے بتائیے تو خاکسار نے بتایا کہ اللہ تعالیٰ ضرورتِ زمانہ کے مطابق لوگوں کی ہدایت کے لئے اپنے ہادی یا مہدی دنیا میں مبعوث فرماتا ہے تو اس اول وقت میں جو لوگ ایمان لا کر اپنے آپ میں مکمل تبدیلی کر لیتے ہیں انہیں ابدال کہتے ہیں جیسا کہ رسول کریم ﷺ نے اپنے زمانۂ اول میں سینکڑوں ہزاروں ابدال بنائے تھے اور ابھی بھی یہ سلسلہ جاری ہے یہاں تک کہ اس کی امت میں مہدیؑ بھی آئے اور جب امام مہدیؑ کو بیعت لینے کا اذن ہوا تو سب سے پہلے مہدی کے ابدال اعظم نے بیعت کی اور اسی دن اسی وقت باقی انتالیس ابدال نے بھی بیعت کی۔ آپ نے جو حدیث بیان کی ہے اسی کے مطابق اللہ تعالیٰ نے رسول کریم ﷺ کی پیشگوئی پوری فرمائی ہے۔ اس کے لئے جو بھی ثبوت آپ چاہیں ہم آپ کو مہیا کرنے کے لئے تیار ہیں۔ اب تو آپ کا یہی حق بنتا ہے کہ اپنے ساتھیوں سمیت امام مہدیؑ پر ایمان لا کر اپنے مولا کریم کے آگے سرخرو ہوجائیں۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہ ساری چالاکیاں جو مولوی صاحب نے ابتداء میں ماری تھیں سب جاتی رہیں۔ پھر گردن جھکا کر تھوڑی دیر بعد انہوں نے اجازت چاہی اور چلے گئے۔
نور دکھلا کے تیر اسب کو کیا ملزم و خوار
سب کا دل آتش سوزاں میں جلایا ہم نے
خاکسار اپنے گاؤں باسوپنوں سے مارچ 2003ء میں امیر صاحب حلقہ چوہدری ناصر احمد باجوہ صاحب مرحوم کے مشورہ پر ربوہ شفٹ ہوا تھا، اللہ تعالیٰ کے فضل سے خاکسار کو 1990ء تا مارچ 2003ء تقریباً عرصہ 13سال مسلسل دعوت الی اللہ کی توفیق ملی خاکسار پہلے بیان کرچکا ہے کہ سکول میں پرائمری پاس کی ہے اور ناظرہ سادہ قرآن کریم پڑھ سکتا ہوں وہ بھی تلفظ کے بغیر، عبادت گزار بھی نہیں ہوں، زندگی گناہوں سے بھری پڑی ہے۔ لیکن موضع باسو پنوں ضلع سیالکوٹ میں حضرت مسیح موعودؑ کی نصرت کا تہیہ کرنے والے خدا نے 1998ء میں ایک نئی جماعت قائم فرمائی ہے جماعت باسوپنوں سے جو لوگ ہجرت کر چکے ہیں ان کی تعداد 30 ہے اور خدا کے فضل سے جو وہاں موجود ہیں تجنید کے حساب سے ان کی تعداد 35 ہے تو اس طرح سب کو ملا کر 65 تعداد بنتی ہے ۔ اس پر غور کیا جائے تو انسانی عقل کے خلاف ہے کہ ایک ان پڑھ بندہ یہ سب کیسے کر سکتا ہے لیکن صرف ایک طرح ممکن ہے کہ وہ سچے وعدوں والا خدا کہ ہدایت جس کے قبضے میں ہے اور خلیفۃالمسیح کی دعاؤں کے ہتھیاروں سے جس نے UK کے جلسہ کے اختتامی خطاب میں فرمایا تھا کہ خدا سے ایک کروڑ کی خواہش ہوا کرتی تھی تو اس نے آٹھ کروڑ دے دیے ہیں ۔ حضرت مسیح موعودؑ کے ساتھ اور اس کے خلفاء کے ساتھ جو اللہ تعالیٰ کے معجزات جو دن رات دکھا رہا ہے اسی سے رضائے باری تعالیٰ کا فتح المبین کا سلسلہ مسیح محمدی ﷺ کی طرف نظر آتا ہے۔
تیرا یہ سب کرم ہے تو رحمتِ اتم ہے
کیوں کر ہو حمد تیری کب طاقتِ قلم ہے
ہماری ہجرت کے وقت حالات کچھ اس طرح تھے کہ موضع گھٹیالیاں میں صبح فجر کی نماز پر مسجد میں ہمارے پانچ افراد شہید کئے گئے کچھ شدید زخمی بھی ہوئے تھے تو اس کے کچھ عرصہ بعد ہی موضع داتہ زیدکا کا ایک مشہور شیطان اپنے کچھ ساتھیوں سمیت ہمارے گاؤں کے مولویوں اور سب شیطانوں سے مل کر مختلف طریقوں سے لوگوں کو اکساتے تھے اور طرح طرح کی شکلیں نت نئے طریقے کبھی سورج نکلنے سے پہلے تین چار کا ٹولہ شکل سے مولوی کندھوں پر رائفلیں ٹانگیں کیچڑ سے بھری ہوئیں مخالفین کے ڈیرو ں پر آتے دیکھا پھر دھمکیاں بھی ملنی شروع ہوئیں مختلف لوگوں سے پیغام بھی ملے تو ہمارے امیر حلقہ چوہدری ناصر احمد باجوہ صاحب بڑے نیک دانا اور دانشور تھے اللہ بہتر جانتا ہے کہ ان کو خاکسار سے بھی زیادہ معلوم تھا جو حالات بر موقع تھے تو انہوں نے خاکسارکو ہمدردانہ انداز میں مشورہ دیا کہ چھ ماہ کے لئے یہاں سے چلے جاؤ تو خاکسار نے عرض کیا کہ اکیلا تو نہیں جا سکتا بچے بھی لے جاؤں گا لیکن ٹائم ایک ماہ تو ہونا چاہیے۔ اس پر رضامند ہوئے۔ خاکسار کے پاس جانے کے لئے اور جا کر رہنے کے لیے خرچ نہیں تھا تو ایک غیر از جماعت کو کہا کہ میں نے کچھ زرعی زمین فروخت کرنی ہے آپ لے لو تو وہ رضامند ہوگیا۔ 99 کنال زمین مبلغ اٹھائیس لاکھ کی فروخت کی ربوہ میں ایک رہائشی مکان خریدا اور بڑا بیٹا محمد عاصم شہزاد بذریعہ ایجنٹ یو کے پہنچ گیا۔ خاکسار بمعہ فیملی ربوہ جا کر رہائش پذیر ہو گیا چھوٹے بھائی مکرم شوکت علی پنوں صاحب کو قائم مقام صدر بنایا اور سب جماعت کو اللہ تعالیٰ کے سپرد چھوڑ آئے۔ اس مالکِ حقیقی کے فضلوں کا شمار کرنا تو بس کی بات نہ ہے۔
جماعت باسو پنوں میں دس افراد جو کہ ادھر موجود ہیں انہیں وصیت کی بابرکت تحریک میں شامل ہونے کی توفیق ملی ہے بلکہ کچھ تو حصہ جائیداد کی ادائیگی بھی کر چکے ہیں ۔ مسجد کے علاوہ اب 2010ء میں مربی ہائوس بھی مکمل ہو کر اب معلم صاحب موجو د ہیں ۔

مارچ 2003ء کو جب خاکسار نے اپنا گاؤں چھوڑا تھا جب اپنے گھر سے سب افراد نکل رہے تھے تو اس وقت سب کے آنسو بہ رہے تھے کہ ہمارے باپ داداپرانا خاندانی مقام اور گھر بار چھوڑے جا رہے ہیں اور ہمارا قصور کیا ہے کس جرم میں ہم یہ گھر بار چھوڑ رہے ہیں لیکن اس وقت یہ پتہ نہیں تھا ہمارا مولا کریم جو ازل سے مظلوموں کے ساتھ ہے وہ ہمیں بہتری کی طرف لے کر جا رہا ہے ۔
خاکسار کو ربوہ میں دارالنصر غربی اقبال میں 2005ء سے جون 2010ء تک بطور زعیم انصاراللہ اور جولائی 2010ء تا 22؍مارچ2011ء تک بطور صدر محلہ خدمت کی توفیق ملی ۔
خاکسار کے تین بیٹے اور تین بیٹیاں ہیں یہ سب کے سب اس وقت بمعہ اپنی اپنی فیملی اپنے اپنے گھر میں لندن مورڈن بیت الفتوح کے ارد گرد رہائش پذیر ہیں اور خاکسار بھی 22مارچ 2011ء سے بمعہ اہلیہ ادھر ہی رہ رہا ہے۔ خاکسار کے اس وقت پوتیاں پوتے نواسیاں نواسے سب ملا کر یہ تعداد 13ہیں جو وقفِ نو کی بابرکت تحریک میں شامل ہیں۔ بڑا بیٹا محمد عاصم شہزاد 2003ء سے ایم ٹی اے لندن میں خدمت کی توفیق پا رہا ہے اس کے علاوہ تنظیم میں یعنی خدام الاحمدیہ میں بھی عرصہ تقریباً دس سال سے کسی نہ کسی رنگ میں خدمت کی توفیق مل رہی ہے ۔ سب سے چھوٹا بیٹا محمد احمد فزکس میں پی ایچ ڈی کر رہا ہے ۔ اس کی تعلیم کا خرچہ مبلغ ساٹھ ہزار پونڈ سے اوپر ہے جو پاکستانی کرنسی کے حساب سے کروڑ کے قریب بنتا ہے۔ مجھے گاؤں کی زمین سے اٹھائیس لاکھ روپے رقم ملی تھی اورمیرا ایک طالب علم بیٹا تعلیم پر ایک کروڑ خرچ کرتا ہے جبکہ باقی سب کے سب بھی بمعہ بال بچہ لندن پہنچ چکے ہیں ۔
خدا تعالیٰ اپنے بے حساب فضلوں پر ہمیں شکر بجا لانے کی توفیق دے، نیز حق کے مخالفین کی ذلت و رسوائی جس پر میں خود شاہد ہوں وہ ایک لمبا قصہ ہے۔ دعا ہے کہ مولا کریم ان کو بھی ہدایت دے اور معاف فرمائے۔
غرض رکتے نہیں ہر گز خدا کے کام بندوں سے
بھلا خالق کے آگے خلق کی کچھ پیش جاتی ہے
