آگ – ہمارے غلاموں کی غلام

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، الفضل انٹرنیشنل 4؍جنوری2026ء)

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 28؍مارچ 2014ء میں مکرم عمران احمد صاحب اپنے مضمون میں تحریر کرتے ہیں کہ خاکسار کے والد مکرم محمد جمیل صاحب (ولد حبیب احمد صاحب) معلّم سلسلہ ہیں۔ درودشریف کا ورد کرنا اُن کی عادت ہے۔ خداتعالیٰ بھی اپنے فضل سے اُن کو بارہا معجزات دکھاتا رہا ہے۔ مثلاً ہمارا گھر جو ہماری زرعی زمین کے درمیان میں واقع ہے۔ والد صاحب بیان کرتے ہیں کہ 1994ء میں ایک بار جب مَیں رخصت پر گھر آیا ہوا تھا اور اپنی بہن کے ہمراہ گھر کی طرف جارہا تھا تو ہماری زمین سے کچھ فاصلے پر مسلح پولیس کی بڑی تعداد کھڑی دیکھی۔ پہلے تو مَیں نے سمجھا کہ شاید مخالفین نے ہمارے گھر پر حملہ کردیا ہے۔ لیکن قریب پہنچ کر علم ہوا کہ ہماری زمین کے ساتھ والی زمین میں ایک مسلح شخص چھپا ہوا ہے جو کسی کو قتل کرکے بھاگا ہے۔ کچھ دیر میں ایک مولوی بھی چند افراد کے ہمراہ وہاں پہنچا اور پولیس آفیسر کے قریب جاکر اُسے کوئی بات کہی جس پر پولیس آفیسر نے ہمسائے کی فصلوں کے ساتھ ہماری گنے کی فصل کو بھی آگ لگانے کی ہدایت دی۔ مَیں نے احتجاج کیا کہ ہماری فصل کو کیوں جلانے لگے ہو اس فصل کے درمیان تو ہمارا گھر ہے جس میں اس وقت پندرہ افراد موجود ہیں۔ لیکن وہ نہ مانا۔ اس پر مَیں نے کہا کہ پھر مجھے اتنی مہلت دو کہ مَیں اپنے گھر والوں کو اور مویشیوں کو باہر نکال لاؤں۔ اُس نے مجھے اجازت دے دی۔ لیکن ابھی مَیں تھوڑا ہی گھر کی طرف چلا تھا کہ اُس نے ہماری فصلوں کو آگ لگادی اور مسلح پولیس نے شدید فائرنگ بھی شروع کردی۔ مَیں بھاگ کر گھر پہنچا اور سب کو جلدی سے نکلنے کا کہا اور مویشیوں کو کھول دیا۔ لوگ کھڑے ہوکر ہمارا تماشا دیکھ رہے تھے اور خوش ہورہے تھے کہ آج مرزائی اپنے گھر سمیت جل جائیں گے۔ بہرحال مَیں گھر والوں کو لے کر جلدی جلدی زمین کے دوسری طرف نکل گیا۔ اُدھر جنگل تھا۔ ہم وہاں انتظار کرتے رہے۔ جب فائرنگ ختم ہوئی تو ہم واپس گھر کی طرف چلے۔ ہمیں حیرت اس بات پر ہوئی کہ اگرچہ ہماری گنے کی فصل اور باغ تو جل چکا تھا لیکن گھر مکمل طور پر محفوظ رہا تھا حالانکہ گھر میں مویشیوں کے لیے گھاس پھونس کا چھپر تھا، ٹریکٹر بھی کھڑا تھا اور ڈیزل کا ڈرم بھی پڑا ہوا تھا۔ مخالفین بھی یہ دیکھ کر حیران تھے۔
والد صاحب نے یہ واقعہ بھی بیان کیا کہ 2000ء میں مَیں ضلع لاہور کے ایک نواحی علاقے کی احمدیہ مسجد میں متعین تھا۔ رمضان کا مہینہ تھا کہ مخالفین نے منصوبے کے تحت ایک لڑکے کو احمدیہ مسجد میں بھجوایا جو مجھ سے احمدیت کے بارے میں سوال و جواب کرتا رہا۔ اُس نے روزہ بھی ہمارے ساتھ افطار کیا اور مغرب کی نماز پڑھ کر چلاگیا۔ رات ہوئی تو اچانک لاٹھیوں اور پتھروں سے مسلّح قریباً ایک سو افراد مسجد میں زبردستی داخل ہوکر مجھے میرے کمرے میں لے آئے اور مجھے غصہ دلانے کے لیے گالیاں دیں لیکن مَیں درودشریف کا ورد ہی کرتا رہا۔ وہ گستاخانہ سوال کرتے ہوئے حضرت مسیح موعودؑ کی شان میں بدزبانی کرتے تومَیں بار بار کہتا کہ مجھے جو مرضی کہہ لو لیکن حضرت اقدسؑ کے بارے میں کچھ نہ کہو لیکن اُن پر کوئی اثر نہ ہوتا تھا۔ اسی دوران جب مَیں کوئی حوالہ ڈھونڈنے کے لیے سٹول پر کھڑا ہوکر کتاب تلاش کررہا تھا تو ایک مولوی کے زور سے کھینچنے پر مَیں گرگیا اور میز کا ایک کونہ میری کمر میں ایسا لگا کہ جیسے ہڈی ٹوٹ گئی ہو، تب سے وہاں مستقل درد رہنے لگ گیا۔ آخر چار گھنٹے بحث کرنے کے بعد اُن مخالفین میں سے ہی بعض نے محسوس کیا کہ میری طرف سے جو بھی جواب دیا جاتا ہے اُن کے مُلّاؤں کے پاس دلیل کی بجائے صرف گالی گلوچ ہی ہے۔ اس پر انہوں نے کہنا شروع کیا کہ اب ہمیں چلنا چاہیے کیونکہ صبح روزہ بھی رکھنا ہے۔ بہرحال اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے اُس روز میری جان و مال کی حفاظت بھی کی اور علمی لحاظ سے بھی احمدیت کی صداقت غیروں پر واضح کردی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں