بیوی کا پوچھنا شک نہیں ایک فطری حق ہے

(عمر ہارون)

بیوی کا پوچھنا شک نہیں ایک فطری حق ہے

اہم نکات

•   بیوی کا سوال کرنا اکثر شک نہیں بلکہ خوف اور عدمِ تحفظ کا احساس ہوتا ہے
•   کہاں گئے؟ کہاں سے آئے؟ بیوی کا یہ پوچھنا تعلق کو محفوظ رکھنے کی کوشش ہے
•   بیوی نے اپنے رشتے میں وقت اور جذبات کی قربانی اور گویا اپنی زندگی دی ہوتی ہے
•   مرد کا غصہ، اُس کی انا اور سختی رشتے میں ناانصافی پیدا کرتی ہے
•   بیوی شوہر کی فطرت کو جانتی ہے اسی لیے وہ محتاط رہتی ہے
•   یہ رویہ اپنی اور رشتے کی حفاظت کے لئے ہے، کوئی بداعتمادی نہیں ہے
•   اپنے خاوند پر بیوی کے شک کی اصل وجہ اُس کی طرف سے توجہ اور گفتگو کی کمی ہوتی ہے
•   نرمی سے وضاحت کرنا اور اعتماد قائم کرنا بیوی کے ذہن میں اٹھنے والے سوالات کو ختم کر دیتا ہے

بیوی کیا کرتی ہے

•   گھر اور بچوں کی ذمہ داری اٹھاتی ہے
•   شوہر کے سکون، عزت اور ضروریات کا خیال رکھتی ہے
•   جذباتی طور پر رشتے میں مکمل شامل ہوتی ہے
•   شوہر کو اپنی ماں کی نظر سے شہزادہ سمجھتی ہے

مرد کے لیے درست طریقہ

•   غصہ نہ کریں
•   صاف اور سادہ جواب دیں
•   بات چیت جاری رکھیں
•   بیوی کو اہمیت اور یقین دیں

ہومیوپیتھک ریمیڈیز

•   Lachesis شک اور حسد
•   Hyoscyamus شدید وہم اور بدگمانی
•   Natrum muriaticum اندرونی خوف دبے جذبات
•   Pulsatilla توجہ کی شدید خواہش
•   Ignatia جذباتی صدمہ اور دل کا بوجھ

باخ فلور ریمیڈیز

•   Chicory عدمِ تحفظ اور توجہ کی طلب
•   Holly حسد شک اور منفی جذبات
•   Mimulus معلوم خوف اور عدمِ اعتماد
•   Aspen انجانا خوف دل کی بے چینی
•   Red Chestnut عزیز کے بارے میں حد سے زیادہ فکر
•   Walnut تبدیلی کے دوران جذباتی کمزوری

خلاصہ

•   بیوی کا پوچھنا رشتے کی قدر ہے
•   اعتماد رویّے سے بنتا ہے دوا سے نہیں

نوٹ: ہومیوپیتھی دواؤں کی پوٹینسی ہر کیس کے لحاظ سے مختلف ہوسکتی ہے۔ لیکن Bach flowers کی پوٹینسی ایک ہی ہوتی ہے اور یہ طریقہ علاج 1935ء سے زیراستعمال ہے تاہم بہت سے ہومیوپیتھ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے۔ اس حوالے سے مزید معلومات کے لئے آپ اپنے علاقہ کے کسی ہومیوپیتھ سے رابطہ کریں یا ہمیں میسیج کرکے مضمون نگار کا فون نمبر بھی حاصل کرسکتے ہیں۔

بیوی کا پوچھنا شک نہیں ایک فطری حق ہے” ایک تبصرہ

  1. اپ کا مضمون پڑھا اور مجھے اچھا لگا لیکن میرا یہ میرا ذاتی فیصلہ ہے کہ ہمیں مردوں کو نہیں پوچھنا چاہیے کہ وہ کہاں گئے تھے؟، کدھر گئے تھے؟، کیوں دیر سے آئے ہیں؟ آتے ہی جب وہ گھر میں داخل ہوں۔ ہاں بعد میں پوچھ سکتے ہیں کہ آپ تھوڑا لیٹ آئے تھے، خیریت تھی؟ میرے خاوند اگر کبھی لیٹ ہوں تو میں فون کرتی ہوں کہ خیریت ہے آج اپ لیٹ ہوگئے ہیں؟ تو وہ بتادیتے ہیں کہ فلاں مسئلہ ہے۔ یا وہ مجھے پہلے ہی بتاکر جاتے ہیں کہ آج میں کسی کام سے جاؤں گا اور واپس لیٹ آؤں گا۔ لیکن یہ جو شک ہوتا ہے نا یہ تو بسے بسائے گھروں کو توڑ دیتا ہے چاہے وہ مرد کی طرف سے ہو یا عورت کی طرف سے ہو۔ اس لیے یہ کسی کی نیچر پر منحصر ہے۔ اگر عورت کو اپنے آپ پر اعتماد ہے تو اس کو مرد سے پوچھنا نہیں چاہیے بلکہ اپنے مرد پر بھی اعتماد ہونا چاہیے۔ اور اگر مرد کو اپنی عورت پر اعتماد ہے تو مرد کو بھی شک کی نظر سے نہیں پوچھنا چاہیے کہ تم لیٹ کیوں ہوگئی تھی۔ ہاں بعد میں بندہ پوچھ سکتا ہے کہ بڑی دیر ہوگئی تھی، خیریت تھی۔ اگر اس کو اپنائیں تو زیادہ اچھی بات ہے۔ مردوں اور عورتوں دونوں کے لیے یہ بات ہے کیونکہ شک کرنے سے زندگی نہیں سنورتی ہے بلکہ زندگی بگڑتی ہے

اپنا تبصرہ بھیجیں