تاریخ مذاہب میں ہجرتوں کی کہانی
(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، روزنامہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ ؍جنوری2026ء)
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
’’وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی خاطر ہجرت کی اس کے بعد کہ اُن پر ظلم کیا گیا ہم ضرور انہیں دنیا میں بہترین مقام عطا کریں گے اور آخرت کا اجر تو سب (اجروں) سے بڑا ہے۔ کاش وہ علم رکھتے!‘‘ (سورۃالنحل:42)
ہجرت کے مضمون کا بیان قرآن کریم میں دیگر مقامات کے علاوہ سورۃالنحل:111، سورۃالنساء:98 اور سورۃالنساء:101 میں بھی موجود ہے۔

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 24؍مارچ 2014ء میں مکرم میر غلام احمد نسیم صاحب کے قلم سے ایک مضمون شامل اشاعت ہے جس میں مذاہبِ عالم کی تاریخ کے حوالے سے کی جانے والی چند ہجرتوں کے بیان اور اس کے نتیجے میں ملنے والی کامیابیوں کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
حدیث میں آیا ہے کہ ہجرتیں کئی قسم کی ہوتی ہیں۔ کوئی انسان بیوی کی خاطر ہجرت کرتا ہے، کوئی مال کی خاطر، کوئی خدا کی خاطر۔ حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ جدھر بھی مسلمانوں نے ہجرت کی وہ جگہ اُن کے لیے بہتر ہوگئی۔ اگر ہجرت کے آخری انجام کو دیکھا جائے تو اس کے نتیجے میں معمولی تاجر اور اونٹ پالنے والے دنیا کے بادشاہ بن گئے۔ اللہ تعالیٰ کی خاطر تکلیف اٹھاکر ہجرت کرنا ایک بڑی نیکی ہے۔ مگر اس حالت میں جبکہ سب سامان لُٹ جائے اور وطن تک چھوڑنا پڑے دل کو اس یقین سے پُر رکھنا کہ ہم تباہ نہیں ہوسکتے اللہ تعالیٰ ضرور ہماری مدد کرے گا اس سے بھی بڑی نیکی ہے۔ (ماخوذ از تفسیر کبیر جلد چہارم صفحہ170۔171)
وحدانیت کے علمبردار مذاہب کی تاریخ پر نظر ڈالیں تو یہ حقیقت عیاں ہوتی ہے کہ ہجرتیں ہی ان مذاہب کی کامیابیوں کا باعث بنیں۔ چنانچہ حضرت نوح علیہ السلام کو جب اُن کی قوم نے جھٹلایا اور اذیتیں دیں تو اللہ تعالیٰ نے طوفان کا عذاب بھیج کر حضرت نوحؑ اور مومنوں کو کشتی کے ذریعے بچالیا جو چالیس دن کے بعد کوہ ارارات پر آکر رُک گئی۔ سورہ ہود میں اس مقام کا الجودی کے نام سے ذکر کیا گیا ہے۔ گویا یہ بھی ایک قسم کی ہجرت ہی تھی۔ توریت کے مطابق اس کے بعد حضرت نوحؑ کے تین بیٹے اور اُن کی اولاد دنیا کے مختلف حصوں میں پھیل گئے اور مختلف اقوام اور زبانوں کو جنم دیا۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام قریباً 2000قبل مسیح عراق کے شہر اُور (UR) میں پیدا ہوئے۔ نبوت کے دعویٰ کے بعد مخالفت کی بِنا پر وہاں سے حاران (بالائی عراق) کی طرف تشریف لے گئے اور وہاں سے اپنے بھتیجے حضرت لوط علیہ السلام کے ساتھ کنعان کی طرف خداتعالیٰ کے حکم سے آپؑ نے ہجرت کی۔ پھر وہاں سے بیت المقدس میں آکر آباد ہوئے اور یہ زمین آپؑ کی اولاد کے لیے آئندہ مقدّر کردی گئی۔ آپؑ کی قوم آگے مصر کو نکل گئی مگر آپؑ کنعان میں ہی مقیم رہے۔ بعدازاں آپؑ کے ایک بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو الٰہی حکم کے تحت مکّہ پہنچا دیا گیا جہاں دونوں نے مل کر خانہ کعبہ تعمیر کیا۔ حضرت اسماعیلؑ کی اولاد عرب میں آباد ہوئی جبکہ دوسرے بیٹے حضرت اسحٰقؑ جو اُن کے ساتھ رہے، اُن سے بنی اسرائیل اور دوسرے قبائل ہوئے جو شام میں آباد رہے۔ روایات کے مطابق حضرت ابراہیمؑ کی وفات شام میں ہوئی اور وہیں آپؑ کی قبر بھی ہے۔
روایات کے مطابق حضرت یعقوبؑ کی اولاد بنی اسرائیل کہلاتی ہے۔ قریباً 1250قبل مسیح میں بنی اسرائیل نے فلسطین سے مصر ہجرت کی اور حضرت یوسفؑ کے ذریعے وہاں ترقیات حاصل کیں تو فرعون کی قوم کو خوف پیدا ہوا کہ کہیں یہ حکومت پر قابض نہ ہوجائیں لہٰذا ان پر مظالم کا طویل دَور شروع ہوا جس کا ذکر قرآن کریم اور دیگر کتب میں موجود ہے۔ حضرت موسیٰؑ بھی مصر میں پیدا ہوئے۔ وہاں سے مدین گئے اور وہاں شادی کرکے دس سال وہاں رہے۔ پھر مصر لَوٹے اور بنی اسرائیل کو لے کر فلسطین کی طرف ہجرت کی۔ بنی اسرائیل کا مصر میں قیام قریباً پانچ سو سال رہا لیکن انہوں نے اپنی انفرادیت قائم رکھی اور مصری معاشرے میں پوری طرح جذب نہ ہوسکے۔ مصر سے نکل کر بنی اسرائیل کافی عرصہ بیابانوں میں محو سفر رہے اور بالآخر فلسطین میں اپنی حکومت قائم کرنے میں کامیاب ہوئے۔ گویا یہ کامیابی بھی انہیں ہجرت کے نتیجے میں ملی۔
آنحضورﷺ نے جب دعویٰ فرمایا تو آپؐ پر اور مسلمانوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے۔ پھر پانچ سال بعد آنحضورﷺ نے بعض افراد کو حبشہ ہجرت کرنے کا ارشاد فرمایا۔ چنانچہ رجب ۵نبوی میں گیارہ مرد اور چار عورتیں حبشہ کی طرف ہجرت کرگئے۔ بعد میں یہ سلسلہ جاری رہا اور مہاجرین کی تعداد ایک سو تک پہنچ گئی۔ آخر تیرہ سال کی تکالیف برداشت کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ کے اذن سے آنحضورﷺ کی مکہ سے ہجرت 12؍ستمبر622ء کو ہوئی اور آٹھ روز کے سفر کے بعد 20؍ستمبر622ء کو آپؐ مدینہ پہنچے۔ تاہم کفّار اور مشرکین نے یہاں بھی چین نہیں لینے دیا اور دس سال تک آپؐ کے خلاف کم و بیش 35 لڑائیاں لڑیں۔ تاہم ہجرت کے بعد اسلام کی ترویج تیزی سے ہوئی اور یہ پیغام جزیرۂ عرب سے باہر بھی پہنچ گیا۔


جماعت احمدیہ بھی ایک الٰہی جماعت ہے اور یہ بھی اس قدرتی نظام سے باہر نہیں رہی۔ ترقی کی منازل سرعت سے طے کرنے کے لیے اس کے افراد کو بھی ہجرت کرنی پڑی جس کے نتائج ہمیشہ ہی نہایت بابرکت رہے۔ چنانچہ 1947ء میں تقسیم ہند کے نتیجے میں قادیان سے ہجرت ہوئی تو نئے مرکز ربوہ کا قیام عمل میں آیا۔ یہاں حاسدین کی مخالفت بڑھتے بڑھتے جب ہر پہلو سے انتہا کو پہنچ گئی حتٰی کہ اذان دینا بھی جرم قرار پایا تو آخرحضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کو 1984ء میں پاکستان سے ہجرت کرکے لندن آنا پڑا جہاں اللہ تعالیٰ نے نہ صرف جماعت کو نیا مرکز عطا فرمایا بلکہ قانون قدرت کے مطابق اس ہجرت کے نتیجےمیں عظیم الشان کامیابیاں عطا ہوئیں جن میں سے ایک ایم ٹی اے کا قیام بھی ہے۔ نیز دنیابھر میں جماعتوں کا قیام عمل میں آیا، مساجد تعمیر ہوئیں اور دعوت الی اللہ کے نئے زاویے آشکار ہوئے۔
