تعارف: ’’گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے‘‘

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ مسیح موعود نمبر)

حضرت مسیح موعود و مہدی معہود ؑ

رسالہ ’’ریویو آف ریلیجنز‘‘ (اردو) کے پہلے شمارے مطبوعہ جنوری1902ء میں حضورعلیہ السلام کے نام کے بغیر ایک مضمون بعنوان’’گناہ سے نجات کیونکر مل سکتی ہے‘‘ شائع ہوا تھا۔ تاہم طرزِ تحریر اور مضمون کی اندرونی اور بیرونی شہادات سے ثابت ہے کہ یہ مضمون حضرت مسیح موعودؑ کا ہی تحریر فرمایا ہوا ہے۔ اسی رسالہ کے انگریزی ایڈیشن مطبوعہ 20؍جنوری 1902ء میں بھی یہ مضمون شامل کیا گیا۔ چنانچہ اس شمارے میں شامل دو مضامین ’’گناہ سے نجات کیوں کر ممکن ہے‘‘ اور ’’اُخروی زندگی ‘‘ کے لیے پسندیدگی کا اظہار مشہور مصنف ٹالسٹائی نے بھی متعلقہ رسالے کے مطالعہ کے بعد کیا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کی اجازت سے یہ مضمون پہلی بار روحانی خزائن کے کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن 2008ء میں شامل کیا گیا ہے۔ترتیب کے لحاظ سے یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی 70ویں کتاب ہے جو کہ روحانی خزائن کی اٹھارھویںجلد میں چھٹے نمبر پر موجود ہے۔ رسالہ ’’خدیجہ‘‘ جلد2014ء نمبر1 میں اس مختصر کتابچہ کا تعارف مکرمہ درّثمین احمد صاحبہ کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔

شبیہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام

حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس مضمون میں عیسائی مشنریوں کے نجات سے متعلق تصور کہ ’’حضرت عیسیٰؑ نے انسانوں کو گناہوں سے نجات دلانے کی خاطر صلیب پر قربانی دی‘‘ کی اصلاح فرمائی ہے۔ اس عقیدے کے نتیجے میں سادہ لوح مسلمان متاثر ہورہے تھے۔ حضورؑ نے اس تصورِنجات کو ردّ فرماتے ہوئے وضاحت فرمائی ہے کہ ہر شخص اپنے گناہوں اور اعمال کا خود ذمہ دار ہے۔ لہٰذا نجات کے حصول کے لیے ضروری ہے کہ انسان ازخود جدوجہد کرے تاکہ اپنے گناہوں سے نجات پائے۔ ہم جس قدر جسمانی حالت میں ترقی کرگئے ہیں اسی قدر ہم روحانیت میں تنزل میں ہیں۔ دنیا کا کاروبار دو کششوں پر چلتا ہے جس پہلو میں یقین کی قوت زیادہ ہے وہ دوسرے پہلو کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ برائی کی کشش کے مقابل پرخداتعالیٰ آسمانی کشش کو ظاہر کرے اور جب دو مخالف اور پُر زور کششیں باہم ٹکرائیں تو ضروری ہے کہ ایک کشش دوسری کو فنا کردے یا دونوں فنا ہوجائیں۔ اس ضمن میں آپؑ نے مختلف الہامی کتابوں سے مثالیں دے کر اس لڑائی کے مختلف ادوار بیان کیے اور فرمایا کہ اس حساب کی رو سے ہم کہہ سکتے ہیں کہ یہ زمانہ نور اور ظلمت کی لڑائی کا آخری زمانہ ہے۔ ظلمت اپنے پورے زوروں پر ہے اور اسلام کی سچائی اب محض نام کی رہ گئی ہے اور رسمی عقیدے، رسمی نمازیں اور رسمی علم اس روشنی کو بحال نہیں کرسکتیں۔ اس کے لیے ایسے آسمانی نورکے منار کی ضرورت ہے جس کی روشنی سے تمام دنیا منور ہوجائے۔

منارۃالمسیح قادیان

آپؑ نے لفظ منار کی بھی نہایت لطیف تشریح فرمائی کہ منار اس نفسِ مقدس، مطہر اوربلند ہمت کا نام ہے جو انسانِ کامل کو ملتا ہے۔اسی لیے مسیح موعود کی خاص طور پر آمد اور منار کے پاس اترنے سے مراد ایک جلالی طور کی آمد ہے جو خدائی رنگ اپنے ساتھ رکھتی ہے۔ پس مسیح موعود کا آنا دو رنگ میں ہوگا۔ اول کہ وہ دور ابتلاء اور تکلیفوں کا ہوگا۔ تب اس کی جلالی آمد کا وقت آجائے گا اور ان پر یہ ظاہر کیا جائے گا کہ آنے والا سچا اور خدا کی جانب سے ہے جس کی پیشگوئیاں روایتوں اور حدیثوں میں مذکور ہیں۔ مذہب میں یہ قوت ہے کہ اس کے لیے کسی تلوار کی ضرورت نہیں پڑتی بلکہ وہ اپنی سچائی کو عقلی دلائل سے یا آسمانی شہادتوں سے بآسانی ثابت کرسکتا ہے۔
اس کے بعد آپؑ نے قانونِ قدرت کے ان تین اہم حقوق کا ذکر کیا جو بنی نوع سے تعلق رکھتے ہیں جنہیں لوگوں نے اپنے مفاد کی خاطر تبدیل کرلیا اور اس کام میں مولوی بھی شریک ہیں۔ نیز آپؑ نے عیسائی مذہب کی غلط اور فرسودہ تعلیم اور ان کے نظریات کو ردّ کیا اور باطل قرار دیتے ہوئے فرمایا کہ دونوں مذاہب ہی افراط وتفریط کا شکار ہو چکے ہیں مگر مسلمانوں میں بہت سے ایسے ہیں جو بندوں کے حقوق کو تلف کرتے ہیں جبکہ عیسائیوں نے تو خدا کے حقوق کو تلف کردیا یہاں تک کہ ایک انسان کو خدا بنا ڈالا۔
حضورؑ فرماتے ہیں کہ قدرتی طور پر انسان ہر اس چیز سے اپنے تئیں بچاتا ہے جس کے مضر اثرات سے وہ واقف ہوتا ہے لہٰذا گناہگاروں کے متعلق یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے وجود اور یوم آخرت پر یقین نہیں رکھتے کیونکہ خدا تعالیٰ کی معرفت اور اس پر کامل ایمان اس کو اس بات سے روکتا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کی قائم کردہ حدود کو توڑے اور گناہ کرے۔ خدا کی ذات کا کامل عرفان اور اس کی ذات پر یقین ہی وہ پانی ہے جو گناہ کے نقوش کو دھوئے گا اور لوح سینہ کو صاف کرکے ربانی نقوش کے لیے مستعد کردے گا اور اس لیے تم کوشش کرو تاکہ تمہیں توفیق ملے اور ڈھونڈو تاکہ تم کو یہ میسر ہو اور دلوں کو نرم کرو تاکہ تمہیں ان باتوں کی سمجھ آسکے کیونکہ سخت دل کبھی سچائی کو نہیں پا سکتا۔
اسلام کا دیگر بڑے مذاہب سے موازنہ کرتے ہوئے حضورؑ مزید فرماتے ہیں کہ کیا تم خیال کرتے ہو کہ تم بغیر اس راہ کے کہ خدا کی عظمت تمہارے دل میں قائم ہو اور اس زندہ خدا کا جلال تم پر کھلے اور اس کا اقتدار تم پر ظاہر ہو اور دل یقین کی روشنی سے بھر جائے کسی اور طریق سے تم گناہ سے سچی نفرت کرسکو۔ ہرگز نہیں۔ ایک ہی راہ ہے اور ایک ہی خدا اور ایک ہی قانون۔ صرف مذہب اسلام ہی ہے جو انسان کوخدا تعالیٰ کی کامل معرفت دیتا اور اس کی ذات کا کامل یقین دیتا ہے اور اس کے نتیجہ میں اسے گناہ سے نجات دلاتا ہے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں