تعلق باللہ
(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل’’ 4 مئی 2026ء)
رسالہ ’’انصارالدین‘‘ لندن ستمبرواکتوبر2014ء میں ’’تعلق باللہ‘‘ کے عنوان سے مکرم مبشر احمد کاہلوں صاحب کی جلسہ سالانہ برطانیہ کے موقع پر کی جانے والی ایک تقریر شامل اشاعت ہے جو نہایت ایمان افروز روایات پر مشتمل ہے۔ اس تقریر کا خلاصہ ہدیۂ قارئین ہے۔ آپ نے بیان کیا کہ

٭…حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی زندگی میں حضرت حافظ روشن علی صاحبؓ حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ سے حدیث پڑھا کرتے تھے۔ ایک دن ابھی انہوں نے کھانا نہیں کھایا تھا کہ پڑھائی شروع ہوگئی۔ اسی دوران اللہ تعالیٰ نے ان پر کشفی حالت طاری کی اور ان کے سامنے گھی میں تلے ہوئے پراٹھے اور بھنا ہو اگو شت پیش ہوا۔ جسے وہ خوب مزے لے کر کھاتے رہے۔ جب خوب سیر ہو کر کھا چکے تو کشفی حالت ختم ہوگئی۔ اللہ تعالیٰ کا عجیب تصرف ہے کہ حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کو بھی اللہ تعالیٰ نے کشفی طورپر اس سارے منظر کی خبر دے دی اور حضورؓ پڑھانے کے دوران ہی حضرت حافظ روشن علی صاحبؓ کی طرف باربار دیکھتے تھے۔ جب حافظ صاحب کھانے سے فارغ ہوگئے اور کشفی حالت ختم ہو گئی تو حضورؓ نے بڑی ہی محبت سے فرمایا: حافظ صاحب! اکیلے اکیلے۔

٭…حضرت مولانا غلام رسول صاحب راجیکیؓ بیان کرتے ہیں کہ مَیں ایک دفعہ مکرم غلام حیدر صاحبؓ کے ساتھ لاہور میں اپنے بعض رشتہ داروں سے ملنے کے لیے گیا۔ چند دن قیام کے بعد جب ہم واپس آنے لگے تو اہل خانہ نے مزید قیام کی خواہش ظاہر کی اور ہمارا سامان اور نقدی بھی نہ دی کہ شاید اسی وجہ سے ہم وہاں رُک جائیں لیکن ہم نے صبح کا ناشتہ کرتے ہی واپسی کا ارادہ کر لیا اور لاہور سے پیدل ہی چل پڑے۔ صرف نو پیسے ہمارے پاس تھے۔ دو پیسے دے کر کشتی میں دریائے راوی عبور کیا۔ جب کامونکی سے کوئی چار میل کے فاصلہ پرپہنچے تو سور ج غروب ہو گیا۔ ادھر برادرم غلام حید ر صاحب کو سفر کی تھکان اور سخت سردی کی وجہ سے بخار محسوس ہونے لگا ۔پاس ہی ایک سکھوں کا گاؤں تھا ہم نے چاہا کہ رات وہاں بسر کریںمگر کوئی صورت نہ بنی۔آخر کار رات کے دس بجے کامونکی پہنچے اور وہاں ایک ویران مسجد میںقیام کے لیے ڈیرے ڈال دیے۔ مسجد میں ایک صف بچھی ہوئی تھی اور ایک طرف ایک مسافر لیٹا ہوا تھا۔ مَیں نے میاں صاحب کو وہاں لٹا دیا اور اپنا کھیس اتار کر ان کے اوپر دے دیا اور خود باقی نقدی لے کر بازار میں کھانا خریدنے کے لیے گیا۔ اتنی رات کو سارے بازار بند تھے۔ میں خالی ہاتھ واپس لَوٹ آیا۔ آکر دیکھا تو میاں صاحب کا بخار بہت تیز ہوچکا تھا۔ اب مَیں پریشان تھا کہ اس غریب الوطنی میں اگر خدانخواستہ میاں صاحب کو کچھ ہوگیا تو کیا ہوگا؟ یہ خیال میرے دل میں بھر آیا اور میں خدا کے حضور سجدہ میں گرگیا اور گڑگڑا کر خوب رویا اور بہت دعا کی۔ دعا کے بعد مَیں نے کسی ضرورت کے لیے مسجد کا دروازہ کھولا تو ایک اجنبی کو گرم گرم روٹیاں، حلوے کا ایک طشت اور گوشت کے گرم گرم سالن کا پیالہ اٹھائے کھڑا پایا۔ مَیں نے اس سے حیران ہوکر پوچھا کہ آپ نے کس سے ملنا ہے؟ اس نے کہا کہ میں آپ ہی سے ملنا چاہتا ہوں، آپ میرے ہاتھ سے یہ کھانے کے برتن لے لیں۔ میں نے کہا کہ کھانا کھانے کے بعد یہ برتن کہاں رکھوں؟ کہنے لگا کہ وہیں رکھ دینا۔ مَیں نے مسجد کے اندر آکر جب اس کھانے میں سے کچھ میاں غلام حیدر صاحب کو کھلایا تو ان کی طبیعت سنبھل گئی۔ اس کے بعد وہ کھانا میں نے بھی سیر ہو کر کھایا مگر پھر بھی ایک آدمی کا کھانا بچ گیا۔ ہمارے ساتھ جو مسافر لیٹا ہوا تھا اس نے بھی پیٹ بھر کر کھانا کھایا۔ اس کے بعد ہم نے برتنوں کو وہیں رکھ دیا اور خود کنڈی لگا کر سوگئے۔ صبح دیکھا تو کنڈی اسی طرح لگی ہوئی تھی اور وہ مسافر بھی سویا ہو ا تھا مگر کھانے کے برتن غائب تھے۔
٭…دوالمیال ضلع چکوال کے ایک فوجی مکرم رسالدار احمد خان صاحب نے خلافت اولیٰ میں بیعت کی تھی۔ ڈیرہ اسماعیل خان میں ڈیوٹی تھی کہ سخت بیمار ہوگئے۔ تین دن تک کچھ نہ کھایا ۔ایک دن دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ چاولوں پر شوربہ ڈالا ہوا ہو تو خوب جی بھر کر کھاؤں۔ اسی سوچ میں آنکھ لگ گئی۔ یکدم کان میں آواز آئی کہ چاول اور یخنی تیار ہے کھالو۔ اٹھ کر دیکھا تو میز پر موجود پیالے میں شوربہ اور پلیٹ میں چاول رکھے ہوئے ہیں۔ خوب مزے سے پیٹ بھر کر کھایا اور پھر لیٹ گئے۔ ایک ماہ تک آپ ہسپتال میں زیرعلاج رہے لیکن کوئی بھی شخص ان برتنوں کا وارث نہ بنا۔ چنانچہ وہ برتن بعد میں بھی ان کے گھر میں موجود رہے۔
٭…حضرت مولوی محمد اسحاق صاحب کھریپڑ ضلع قصور کے باشندہ تھے۔ ایک دن اُن کی تین شادی شدہ بیٹیاں یکے بعد دیگرے ملنے آگئیں۔ چند دن کے بعد تینوں بیٹیوں کے خاوند بھی ایک ہی دن اپنی اپنی بیویوں کو لینے کے لیے آگئے۔ رات کا کھانا کھا کر باقی سب سوگئے مگر حضرت مولوی صاحب سخت پریشان کہ تنگ دستی کی حالت ہے، صبح بیٹیاں رخصت ہوں گی جبکہ میری جیب خالی ہے۔ پریشانی کے عالم میں وضو کیا اور گھر کی کوٹھڑی میں جاکر جائے نماز بچھا کر اللہ کی بارگاہ میں دعاؤں میں لگ گئے۔ کچھ دیر کے بعد یقین ہو گیا کہ میری دعا قبول ہوگئی ہے تو اٹھے اور جب جائے نماز کو اٹھایا تو اس کے نیچے دس دس روپے کے تین نئے نوٹ موجود تھے۔
٭…محترم صوفی محمد عبداللہ صاحب ضلع خانیوال کے گاؤں میں رہتے تھے۔ایک مرتبہ گندم کی فصل تھوڑی ہوئی اور وہ بھی انہوں نے ساری کی ساری راہ خدا میں مستحقین میں تقسیم کردی۔ گھر آکر بیوی کے پوچھنے پر جواب دیا کہ گندم ضرورت کے لیے ناکافی تھی، اس لیے ساری کی ساری مستحقین میں تقسیم کردی ہے، خدا خود ہی ہمارا انتظام کردے گا۔ابھی دو یا تین دن ہی گزرے تھے کہ ایک شخص دس پندرہ گدھوں پر گندم کی بوریاں لادے اُن کے ہاں آیا اور پوچھنے لگا کہ کیا آپ نے گندم خریدنی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ہاں۔ اور ساتھ ہی کہا کہ ساری بوریاں میرے گھر کے صحن میں اُلٹا دو۔ وہ بوریاں اُلٹانے لگا اور اس دوران آپ اپنے گھر سے گندم کے پیسے لینے گئے۔ جب پیسے لے کر باہر آئے تو وہ شخص کہیں نہ ملا۔ لوگوں سے پوچھا لیکن اس شخص کا کوئی سراغ نہ ملا۔

٭…حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ ایک بحری جہاز میں سفر کر رہے تھے۔ سمندر بڑے جوش میں تھا چنانچہ دورانِ سفر متلی اور قے سے آپؓ کی طبیعت بہت خراب ہو گئی۔ تب آپؓ نے سمندر کو مخاطب کر کے کہا کہ اے سمندر! تُو جانتا ہے کہ اس جہاز پر مسیح موعودؑ کا صحابی صرف تبلیغ دین کے لیے سفر کررہا ہے۔ تُو مجھے کیوں بےآرام کرتا ہے۔ ٹھہر جا۔ یہ سنتے ہی سمندر ساکن ہو گیا اور جہاز سکون سے چلنے لگا۔
٭…حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ پہلی عالمی جنگ کے دوران ہندوستان سے انگلستان جا رہے تھے ۔ جب بحری جہاز بحیرہ روم میں داخل ہوا تو کپتان نے مسافروں کو کہا کہ یہ سمندر جرمن آبدوزوں سے بھرا ہوا ہے اور معلوم نہیں کہ کب ہمارا جہاز ان کے نشانے سے ڈوب جائے۔ اگر ایسا ہوا تو جہاز ڈوبنے سے پہلے ایک سیٹی بجائی جائے گی ۔سیٹی کے بجتے ہی تمام مسافر بحری جہاز کے ساتھ لٹکی ہوئی کشتیوں میں بیٹھ جائیں۔ پھر یہ کشتیاں جہاں آپ کو لے جائیں وہ آپ کی قسمت ہے ۔
حضرت مفتی صاحبؓ نے یہ سن کر اپنے کمرے میں آکر دعا شروع کردی۔ اسی دوران دیکھا کہ ایک فرشتہ آپ کو کہتا ہے کہ ’’صادق! یقین کرو کہ یہ جہاز صحیح سلامت پہنچے گا۔‘‘ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ کئی جہاز اس جہاز کے آگے پیچھے، دائیں بائیں ڈوبے جن کی لکڑیاں آپؓ نے پانی میں تیرتی ہوئی دیکھیں، مگر خدا نے آپؓ کا جہاز بحفاظت انگلستان پہنچا دیا۔
٭…حضرت قاضی محمد یوسف صاحبؓ امیر صوبہ خیبر پختون خواہ پر ایک احراری نے پشاور کے بھرے بازار میں سامنے کھڑے ہوکر گولی چلائی مگر خدا کی قدرت کہ گولی پستول میں پھنس گئی اور پستول نہ چل سکا۔
٭…حضرت مولوی محبوب عالم صاحبؓ کشمیر کے رہائشی تھے، دن رات تبلیغ میں مصروف رہتے۔ جنگلی درندوں سے حفاظت کے لیے آپؓ نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے آپؓ کی دعا قبول فرمائی اور ایک شیر کو بطور محافظ آپؓ کے لیے مامور فرمادیا۔ ایک دفعہ آپ کا ایک شاگرد ایک تبلیغی سفر میں آپؓ کے ساتھ ہو لیا ۔جنگل میں داخل ہوتے ہی آپؓ کی حفاظت کے لیے مامور شیر آگیا جس کو دیکھتے ہی شاگرد کی خوف کے مارے چیخیں نکل گئیں۔ آپؓ نے اُس کو تسلی دیتے ہوئے فرمایا: ڈرو نہیں،یہ تمہیں کچھ نہیں کہے گا۔ اس کو میرے خدا نے جنگلی درندوں سے میری حفاظت کے لیے مقرر کیا ہوا ہے۔ جب جنگل ختم ہو جاتا ہے اور بستی آجاتی ہے تویہ واپس جنگل میں لَوٹ جاتا ہے۔

٭…ایک ہندو نوجوان مہاشہ یوگندرپال احمدی ہوئے۔ مولوی فاضل کیا۔ زندگی وقف کی اور ساری عمر تبلیغ اسلام میں بسر کی۔ان کا اسلامی نام مہاشہ محمد عمررکھا گیا۔ جب 1924ء میں یوپی انڈیا میں ہندوؤں نے شدھی کے نام سے مسلمانوں کو ہندو بنانے کی مہم شروع کی تو بے شمار احمدی شدھی کی تحریک کا مقابلہ کرنے کے لیے جانے لگے۔ مہاشہ محمد عمر بھی ایک وفد کے ہمراہ اس علاقہ میں گئے۔ یہ وفد شام کے وقت ایک گاؤں میں پہنچا جو سارا مُرتد ہوچکا تھا۔ انہوں نے آریوں کے زیر اثر احمدیوں کو سختی سے کہا کہ یہاںسے چلے جائیں۔ چنانچہ یہ وفد رات قریباً گیارہ بجے گاؤں سے نکلا۔ دریائے گنگا کے کنارے کنارے بہت ہی خطرناک راستہ تھا۔ رات اندھیری تھی۔ ایک جگہ پرایک برساتی نالہ دریائے گنگا میں گر رہا تھا۔ ڈر تھا کہ اندھیرا ہونے کی وجہ سے کوئی شخص دریا یا نالے میں نہ گر جائے۔وفد کے اراکین میں سے کوئی ایک رکن چند قدم اکیلے آگے جاتا اور پھردوسروں کو آواز دیتا کہ آجاؤ۔ پھر وہ چند قدم آگے جاتا اوررک کر آوازدیتا۔ اس طرح یہ سلسلہ چلتا رہا۔ مگرایک جگہ پر آکر صورت حال اتنی خطرناک ہوگئی کہ سب پریشان ہو کر کھڑے ہو گئے کہ اب کیا کیا جائے؟ اسی دوران گنگا کے پانی پر ایک چھوٹے سے گیند کے برابر روشنی نمودار ہوئی ۔پھر وہ روشنی کا گولہ بلند ہوتا گیا اور بڑھتے بڑھتے اونچے مینار کے برابر ہوگیا۔ اس گولے سے اتنی روشنی پیدا ہوئی کہ رات کے اندھیرے میں اس جنگل میں ہر چیز صاف دکھائی دے رہی تھی۔ اس روشنی میں یہ وفد چلتا گیا اور وہ روشنی کا مینار گنگا کے پانی پر ان کے ساتھ ساتھ چلتا گیا۔ جب وہ خطرناک راستہ ختم ہوگیا اور یہ وفد بحفاظت محفوظ مقام پر پہنچ گیا تو روشنی کا مینار غائب ہوگیا۔
٭…حضرت ڈاکٹر عبداللہ صاحبؓ سانگلہ ہل ضلع ننکانہ صاحب کے مقامی امیر تھے۔ 1974ء کا فساد عروج پر تھا تو دفتر کی طرف سے مجھے اس علاقے میں جماعتوں کا حال معلوم کرنے بھیجا گیا۔ مَیں سانگلہ ہل کی مسجد میں پہنچا تو صف پر ڈاکٹر صاحب اکیلے لیٹے ہوئے تھے۔ احمدیہ مسجد کے بالمقابل سڑک کے دوسری طرف مخالفین کی مسجد ہے جہاں سے جلوس تیار ہوکر سارے شہر میں جاتے تھے۔ میں نے اپنا تعارف کروایا اور عرض کی کہ سارا علاقہ آپ کو جانتا ہے پھر بھی آپ مسجد میں اکیلے لیٹے ہوئے ہیں۔ وہ فرمانے لگے: مَیں تو اتنا بوڑھا ہوں کہ اگر کوئی مجھے دھکا دے کر گرا دے تو میں خودبخود اٹھ بھی نہیں سکتا۔ جب مخالفت شروع ہوئی اور ہر روز پتہ چلتا تھا کہ آج فلاں فلاں کو مارا ہے تب مجھے بھی گھبراہٹ پیدا ہوئی۔ مَیں نے خدا کے حضور دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے الہاماً فرمایا: ’’تُو فکر نہ کر، میں تیری حفاظت کروں گا۔‘‘ اس وقت سے مَیں بے فکر مسجد میں اکیلا ہی لیٹا رہتا ہوں۔
٭…محترم مولانا نذیر احمد صاحب مبشر گھانا میں مبلغ تھے۔ وہاں ایک علاقے میں جماعت کے خلاف جلوس نکالے گئے کہ مہدی ابھی نہیں آیا کیونکہ زلزلے نہیں آئے، اگر مہدی ظاہر ہوگیا ہوتا تو ضرور زلزلہ آتا۔محترم مولوی صاحب کو جب یہ اطلاع ملی تو انہوں نے ایک ہفتے تک اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں زلزلے کا نشان دکھانے کے لیے دعا کی۔ جب آپ کو یقین ہوگیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعا قبول کرلی ہے تو پھر آپ نے اسی علاقے میں تین مقامات پر جلسے کرنے کا پروگرام بنایا۔ اور ہرجلسے میں آپ نے یہ بھی ذکر کیا کہ امام مہدی کی صداقت کے اظہار کے لیے آپ کے علاقے میں اب ضرور زلزلہ آئے گا۔ ابھی دو ہی مقامات پر جلسہ ہوا تھا اور تیسرے مقام کی جگہ کا انتظام کیا جارہا تھا کہ سارے گھانا میں شدید زلزلہ آیا جس کے بعد 180؍افراد نے بیعت کرلی۔
٭…حضرت مولوی رحمت علی صاحب مرحوم رئیس التبلیغ انڈونیشیا ایک مرتبہ پاڈانگ شہر میں کسی احمدی کی دکان پر بیٹھے تھے کہ اتفاقاً ہالینڈ کے ایک عیسائی پادری وہاں آنکلے اور ان کاحضرت مولوی صاحب سے مباحثہ شروع ہوگیا جسے سننے کے لیے بہت سے لوگ جمع ہو گئے۔ اسی اثناء میں اچانک موسلادھار بارش شروع ہو گئی ۔اس علاقے میں جب بارش ہو تو کئی کئی گھنٹے مسلسل برستی رہتی ہے۔ تب پادری نے حضرت مولوی صاحب کو کہا کہ اگر واقعی عیسائیت کے مقابلے میں تمہارا مذہب اسلام افضل ہے تو اِس وقت اسلام کے خدا سے کہو کہ وہ بارش کو بند کردے۔ اس پر حضرت مولوی صاحب نے اپنے زندہ خدا پر کامل بھروسہ کرتے ہوئے بڑی ہی پُراعتماد آواز میں بارش کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اے بارش! تُو خدا کے حکم سے تھم جا اور اسلام کے زندہ اور سچے خدا کا ثبوت دے۔ ابھی چند منٹ بھی نہ گزرے تھے کہ بارش تھم گئی اور حاضرین اس عظیم نشان پر حیران رہ گئے۔
حضرت مولوی رحمت علی صاحب کی رہائش پاڈانگ کے محلہ یاسر مسکین میں تھی جہاں اکثر مکانات لکڑی کے بنے ہوئے اور باہم متصل ہیں۔ اتفاقاً ایک مرتبہ اس محلہ میں آگ لگ گئی جو تیزی سے مکانات کو راکھ کرتی ہوئی مولوی صاحب کے مکان کے قریب پہنچ گئی حتیٰ کہ اس کے شعلے آپ کے مکان کے چھجے کو چھونے لگے۔ یہ صورت حال دیکھ کر تمام احمدی اور غیراحمدی اصرار کرنے لگے کہ آپ فوری طور پر سامان سمیت مکان سے باہر نکل آئیں۔ مگر آپ دعا میں مشغول رہے اور لوگوں کو تسلی دیتے رہے کہ یہ آگ انشاءاللہ ہمارا کچھ نہ بگاڑ سکے گی کیونکہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کوالہاماً فرمایا ہے کہ آگ ہماری غلام بلکہ غلاموں کی غلام ہے۔ یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ اچانک بادل امڈ آئے اور موسلادھار بارش شروع ہوگئی جس نے آناًفاناً اس آگ کو بالکل ٹھنڈا کرکے رکھ دیا جبکہ اردگرد کی عمارتیں جل کر راکھ ہو چکی تھیں مگر وہ مکان خدا کے فضل سے معجزانہ طورپر محفوظ رہا اور اس کے چھجے پر آگ کے شعلوں کے سیاہ نشانات عرصہ تک لوگوں کو اس نشان کی یاد دلاتے رہے۔
٭…دوسری عالمی جنگ کے دوران انڈونیشیا پر جاپان قبضہ کرچکا تھا کہ ایک شخص نے محتر م مولانا محمد صادق صاحب سماٹری مرحوم رئیس التبلیغ انڈونیشیا کو بتایا کہ جاپانی حکومت نے آپ کے قتل کافیصلہ کیا ہے کیونکہ آپ پر الزام ہے کہ تمام علمائے اسلام سماٹرا نے فتویٰ دیا ہے کہ جاپان کی انگریزوں اور امریکہ سے یہ جنگ جہاد فی سبیل اللہ ہے مگر آپ نے ایسا فتویٰ دینے سے انکار کر دیا ہے۔ یہ اطلاع ملنے پر محتر م مولوی صاحب نے جماعت کو دعاؤں کی تحریک کی اور خود بھی دعاؤں میں لگ گئے۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے اپریل کے آخر یا مئی 1945ء کے شروع میں خواب میں دیوار پر موٹے حروف میں لکھا ہوا دکھایا گیا کہ ’’دانیال نبی کی کتاب کی پانچویں فصل پڑھو۔‘‘ چنانچہ آپ نے وہ کتاب نکالی تو عبارت کا خلاصہ یہ تھا کہ بادشاہ کی ایک خواب کی تعبیر دانیال نبی نے یہ کی کہ ’’خدا نے تیری مملکت کا حساب کیا اور پھر اسے ختم کرڈالا۔…‘‘ چنانچہ اُسی دن وہ بادشاہ بِلشَضَّرقتل ہوا اور دارا مادی نے اس کی مملکت لے لی۔ اس سے صاف معلوم ہوتا تھا کہ جاپانی حکومت بھی ختم ہونے والی ہے۔ چنانچہ چند ہفتوں بعد امریکہ نے جاپان کے دو شہروں پر ایٹم بم برسائے اور جاپانی حکومت نے شکست تسلیم کرلی۔ انہی دنوں جاپانی حکومت کے کاغذات سے معلوم ہوا کہ دس دن بعد یعنی 23 اور 24؍اگست 1945ء کی رات 65؍افراد کو قتل کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا اور اس فہرست میں پہلے نمبر پر مولوی محمد صادق صاحب سماٹری کا نام تھا۔
٭…حضرت ملک مولا بخش صاحبؓ لکھتے ہیں کہ ایک دفعہ ہم ڈیرہ غازیخان کی رندان بستی میں بعض احمدیوں کے اختلافات دُور کروانے کے لیے جارہے تھے۔ ہم نے کچھ فاصلہ لاری پر طے کیا پھر ایک ٹم ٹم کرایہ پر لی۔ گرمی بہت تھی اچانک گھوڑا تھک کر گر گیا ۔ بہت کوشش کی لیکن وہ گھوڑا نہ اٹھا۔ تب مَیں پیدل ہی آگے چل پڑا۔ اتنے میں دُور سے ایک شخص سرپٹ گھوڑا دوڑاتا ہوا نظر آیا۔ گھوڑا میرے قریب آیا تو ٹھہر گیا۔ یہ میرا واقف قادر بخش گرداور قانون گو تھا۔ کہنے لگا کہ سوار ہوجائیں۔ مَیں نے عذر کیا اور کہا کہ آپ چلیں مَیں آجاتا ہوں لیکن اس نے جواباً کہا کہ ملک صاحب! کوئی عذر نہ کریں اور بس فوراً گھوڑے پر بیٹھ جائیں۔ میرے لیے اُس کا یوں کہنا بہت عجیب واقعہ تھا۔ چنانچہ پوچھنے پر اس نے بتایا کہ چند سال سے مَیںروزانہ اس گھوڑے پر بستی رندان سے اپنے حلقہ کوجاتا ہوںاور یہ میرے اشارے پر چلتا ہے۔ مگر آج نہ معلوم کیا ہواکہ جب مَیں گاؤں سے نکلا تو یہ واپس مڑ گیا اور بھاگنا شروع کردیا۔ ہرچند مَیں نے اسے روکنے کی کوشش کی لیکن یہ نہ رُکا۔یہ دیکھیے میرے ہاتھ بھی باگیں کھینچ کھینچ کر سرخ ہو گئے ہیں۔ آپ کے پاس پہنچ کر یہ خود بخود ہی ٹھہر گیا ہے۔ بس آپ اس پر سوار ہو جائیں۔ مَیں چونکہ گرمیوں میں پیدل چلنے کا عادی نہ تھا اس لیے خداتعالیٰ نے غیب سے میرے لیے انتظام کر دیا۔
٭… حضرت منشی ظفر احمد صاحبؓ کے بیٹے حضرت محمد احمد صاحب مظہر کا چھوٹا لڑکا ٹائیفائیڈ سے بیمار تھا کہ حالت نازک ہوگئی۔ حضرت منشی صاحبؓ بھی اس کے لیے دعا کر رہے تھے کہ آواز آئی: ‘‘دق کیوں کر رکھا ہے آرام تو آگیا ہے۔’’ جب صبح آپ پوتے کو دیکھنے گئے تو رات کا واقعہ بیان کرکے ہنسے اور فرمایا کہ واقعی میں نے دق کردیا تھا۔
سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام فرماتے ہیں:
’’اگر تم خدا کے ہو جاؤ گے تو یقیناً سمجھو کہ خدا تمہارا ہی ہے۔ تم سوئے ہوئے ہوگے اور خدا تعالیٰ تمہارے لیے جاگے گا، تم دشمن سے غافل ہوگے اور خدا اُسے دیکھے گا اور اس کے منصوبے کو توڑے گا۔ تم ابھی تک نہیں جانتے کہ تمہارے خدا میں کیا کیا قدرتیں ہیں۔ …اگر تم کو اس خزانہ کی اطلاع ہوتی کہ خدا تمہارا ہر ایک حاجت کے وقت کام آنے والا ہے تو تم دنیا کے لیے ایسے بےخود کیوں ہوتے، خدا ایک پیارا خزانہ ہے اُس کی قدر کرو کہ وہ تمہارے ہر ایک قدم میں تمہارا مددگار ہے۔ تم بغیر اُس کے کچھ بھی نہیں اور نہ تمہارے اسباب اور تدبیریں کچھ چیز ہیں۔‘‘
(کشتی نوح، روحانی خزائن جلد19صفحہ22)
