تعمیر و استحکامِ پاکستان میں سیّدنا حضرت مصلح موعودؓ کا عظیم الشان کردار

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، روزنامہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ …؍فروری 2026ء)

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ کے صدسالہ جوبلی سوونیئر 2013ء میں مکرم پروفیسر راجا نصراللہ خان صاحب کا مضمون شائع ہوا ہے جس میں تاریخی حوالوں سے جماعت احمدیہ کے اُس کردار پر روشنی ڈالی ہے جو پاکستان کی آزادی، کشمیری مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت اور بعدازاں نوزائیدہ مملکت کے استحکام میں ادا کیا گیا۔ یہ مضمون دراصل حضرت مصلح موعودؓ کی مسلمانوں کے ساتھ بےلوث ہمدردی، بےمثال راہنمائی اور ہرممکن عملی مدد کی خوبصورت تصویر بھی ہے۔
سیّدنا حضرت مصلح موعودؓ اخبار الفضل کے بانی تھے لیکن اس اخبار کی اہمیت حضرت مصلح موعودؓ کے دورِ خلافت میں غیرمعمولی طور پر بڑھ گئی کیونکہ حضورؓ کے بیسیوں قیمتی مضامین، پیغامات اور خطباتِ جمعہ باقاعدگی سے اس میں شائع ہوتے تھے اور یہ احمدیوں کے علاوہ غیروں تک پیغام پہنچانے کا بھی نہایت عمدہ ذریعہ تھا۔ عجیب الٰہی تصرف ہے کہ تحریک پاکستان کا سارا صبر آزما سفر اور حصول پاکستان کا معجزنما مرحلہ حضرت مصلح موعودؓ کے مبارک دَور میں طویل جادہ پیمائی کے بعد کامیابی سے ہمکنار ہوا۔ اس سارے عرصے میں حضورؓ نے مسلمانانِ ہند کی مسلسل راہنمائی اور عملی مدد بھی فرمائی۔ الفضل کے شماروں میں تحریک پاکستان کے کچھ سنگِ میل کا ذکر محفوظ ہے۔
٭…1923ء میں ہندوؤں کے آریہ فرقہ کی جانب سے شدھی (مسلمانوں کو ہندو بنانے کی کوششیں) ہوئیں تو مذہبی نفرت کا اظہار شروع ہوگیا۔ اس حساس موقع پر حضرت مصلح موعودؓ نے 14؍نومبر1923ء کو بریڈ لا ہال لاہور میں ایک لیکچر دیا جس میں ہندو مسلم اتحاد کو نقصان پہنچنے کی کئی وجوہات بیان فرمائیں۔ پھر آپ نے مسلمانوں کو حفاظتی اقدامات کرنے کی طرف اسلامی تعلیمات کی روشنی میں توجہ دلائی اور مؤثر تجاویز بتائیں جن میں سے دو بنیادی نوعیت کی تھیں:

ایک: مسلمان اپنے تئیں مضبوط کریں جس کے لیے مسلم لیگ جیسی تنظیموں کو قائم اور مضبوط رکھنا ضروری ہے تاکہ مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ ہوسکے۔
دو: مسلمانانِ ہند سیاسی اور مذہبی اختلافات نظرانداز کرکے باہمی اتحاد اور اتفاق کو فروغ دیں اور مذہبی اختلافات کی وجہ سے کسی فرقہ کو اپنے میں سے الگ نہ کریں۔
حضور نے اپنے لیکچر میں واضح فرمایا کہ مستقل صلح کے لیے ضروری ہے کہ سب مذاہب والے ایک دوسرے کے مذہبی بزرگوں اور پیشواؤں کا احترام کریں یا کم از کم اپنے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرنے پر اکتفا کریں یعنی دوسروں کے مذہب پر ناروا اور دل آزارانہ حملے نہ کریں۔
٭…حضورؓ نے ایک بار فرمایا: جب مسلم لیگ قائم ہوئی تو اس کی مالی حالت اتنی کمزور تھی کہ انہیں جلسے منعقد کرنے کے لیے بھی روپیہ نہیں ملتا تھا اور ہمیشہ مَیں انہیں مدد دیا کرتا تھا۔
٭…تحریک پاکستان کا ایک اہم مرحلہ سائمن کمیشن کی ہندوستان آمد تھی۔ 8؍نومبر1927ء کو قائم ہونے والے اس برطانوی کمیشن کے سربراہ سرجان سائمن تھے۔ اس کمیشن کا مقصد اہل ہند کے مطالبات سے آگاہی حاصل کرنا تھی۔ لیکن کانگریس اور مسلم لیگ نے اس کمیشن کا بائیکاٹ کردیا۔ حضرت مصلح موعودؓ نے اپنی فراست سے سمجھ لیا کہ بائیکاٹ سے مسلمانوں کا نقصان ہوگا کیونکہ جب وہ اپنے مسائل پیش نہیں کریں گے تو حکومت سے ان کو حقوق کیسے ملیں گے؟ چنانچہ آپ نے مسلمانانِ ہند کی راہنمائی کے لیے آٹھ اہم مسائل کی نشاندہی کی جن میں جداگانہ انتخابات کا مطالبہ بھی تھا۔ چنانچہ مسلمانوں کے ایک بہت بڑے طبقے نے کمیشن کا بائیکاٹ کرنے کی مخالفت کی۔ چنانچہ بائیکاٹ کا خاتمہ بالآخر مسلمانوں کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہوا اور جداگانہ انتخاب کا مطالبہ منظور ہوکر حصولِ وطن کے لیے بنیادی نکتہ ثابت ہوا۔

گاندھی جی اور قائداعظم

٭… پنڈت موتی لال نہرو کی سربراہی میں نہرو رپورٹ 1928ء میں سامنے آئی جس کا مقصد ہندوؤں کی ہرلحاظ سے بالادستی قائم کرنا اور مسلمانوں کو محرومی سے دوچار کرنا تھا۔ حضرت مصلح موعودؓ نے نہرو رپورٹ پر بھرپور تبصرہ کیا جو الفضل میں سات اقساط میں اور بعد میں کتابی شکل میں شائع ہوا۔ حضورؓ نے ثابت کیا کہ نہرو رپورٹ تیار کرنے والی کمیٹی کسی صورت میں ہندوستان کی نمائندہ نہیں کہلاسکتی۔ پھر مسلمانوں کے اصولی مطالبات بیان فرمائے۔
٭…متحدہ ہندوستان میں آئینی اصلاحات اور مسلمانوں کے حقوق کے تحفظ کے لیے لندن میں (1930ء، 1931ء اور 1932ء) میں تین گول میز کانفرنسیں منعقد ہوئیں جن کے نتیجے میں مسلمانوں کے کم و بیش تمام مطالبات منظور کر لیے گئے جن میں جداگانہ انتخاب، صوبہ سرحد میں مکمل اصلاحات، سندھ کو بمبئی سے علیحدہ کرکے صوبے کا درجہ دینا وغیرہ شامل تھیں۔ حضرت سر محمد ظفرﷲ خان صاحبؓ کو تینوں مواقع پر شرکت کرنے اور فعال کردار ادا کرنے کی توفیق ملی۔ ان کی کامیاب مساعی پر انہیں خراج تحسین پیش کرنے والوں میں قائداعظم محمدعلی جناحؒ، خواجہ حسن نظامی ایڈیٹر اخبار منادی، سید حبیب صاحب ایڈیٹر اخبار سیاست (لاہور)بھی شامل تھے۔

حضرت مولانا عبدالرحیم دردؓ

٭…تحریک آزادی کے دوران ایک مرحلہ ایسا بھی آیا جب بابائے قوم محمد علی جناحؒ نے ہندوستان کے سیاسی حالات سے بددل ہوکر مستقل طور پر لندن سکونت اختیار کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ حضرت مصلح موعودؓ کے دردمند دل نے محسوس کیا کہ مسلمانوں کو منزل آزادی تک پہنچانے کے لیے محمد علی جناح جیسے عظیم لیڈر کی راہنمائی از حد ضروری ہے۔ چنانچہ آپؓ کی ہدایت پر 1933ء میں حضرت مولانا عبدالرحیم صاحب دردؓ امام مسجد فضل لندن نے قائداعظم سے ملاقاتیں کیں اور اُن کو اپنا ارادہ بدلنے پر آمادہ کر لیا۔ پھر اپریل 1933ء میں مسجد فضل میں منعقدہ ایک تقریب میں قائداعظم نے ہندوستان کے مستقبل پر تقریر کی جس میں یہ بھی فرمایا کہ امام صاحب کی فصیح و بلیغ ترغیب و تلقین نے میرے لیے بچنے کی کوئی راہ نہیں چھوڑی۔ بالآخر دسمبر1934ء میں وہ ہندوستان واپس آگئے اور مسلمانانِ ہند کی کامیاب راہنمائی فرمائی۔
٭…اہل کشمیر کی لمبی زبوں حالی کا حضرت مصلح موعودؓ کے درد مند دل پر گہرا اثر تھا اور آپؓ نے کشمیریوں کی حمایت اور اُن کے حالات کو بہتر بنانے کے اقدامات سے متعلق تین اہم مضمون الفضل میں تحریر فرمائے۔ نیز فوری طور پر ایک خطیر رقم مظلومین کشمیر کی امداد کے لیے ارسال فرمائی جس کی تصدیق تحریک آزادی کے مشہور لیڈر مفتی ضیاءالدین صاحب نے اپنے منظوم کتابچہ ’’نوحہ کشمیر‘‘میں کی ہے ۔ حضورؓ نے ایک تفصیلی تار وائسرائے ہند کو بھجوایا جس میں نہایت ہی مدلّل اور مؤثر انداز میں اہل کشمیر کی حالت زار کو واضح کیا گیا۔ علاوہ ازیں حضور نے 25؍جولائی 1931ء کو شملہ میں مسلمان زعماء کو دعوت دی کہ وہ کشمیر کے معاملہ پر غور و خوض کے لیے اکٹھے ہوں۔ حضوؓر نے روزنامہ الفضل کو اہل کشمیر پر ظلم و ستم کے خلاف پُرزور آواز بلند کرنے کا ارشاد بھی فرمایا۔ 18؍جولائی1931ء کو قادیان میں ایک احتجاجی جلسہ منعقد کیا گیا جس میں کشمیریوں پر ہونے والے مظالم پر تقاریر کی گئیں اور ڈوگرہ حکومت کے خلاف متحدہ قراردادیں پاس کی گئیں۔

علامہ سر محمد اقبال

٭…’’کشمیر کی کہانی‘‘ کے مصنف جناب ظہور احمد رقمطراز ہیں کہ ڈاکٹر محمد اقبال نے تجویز کیا کہ کشمیر کمیٹی کے صدر امام جماعت احمدیہ ہوں۔ ان کے پاس وسائل اور مخلص اور کام کرنے والے کارکن ہیں۔ خواجہ حسن نظامی نے فوراً اس کی تائید کی اور متفقّہ طور پر حضورؓ کو منتخب کرلیا گیا۔ پھر سب حاضرین کی رضامندی سے حضرت مولانا عبدالرحیم دردؓ کو کمیٹی کا سیکرٹری مقرر کیا گیا ۔
٭…آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے پہلے اجلاس منعقدہ شملہ میں قرار پایا تھا کہ14؍ اگست 1931ء کو ملک بھر میں یوم کشمیر منایا جائے۔ چنانچہ حضرت مصلح موعودؓ نے 6؍ اگست کو الفضل میں ایک مضمون لکھا جس میں پُرزور تحریک فرمائی کہ کشمیرڈے پورے جذبہ و اہتمام سے منایا جائے۔ آپ نے تحریر فرمایا: ’’مسلمانوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ان کے تیس لاکھ بھائی بےزبان جانوروں کی طرح قسم قسم کے ظلموں کا تختۂ مشق بنائے جا رہے ہیں … ریاست جموں و کشمیر میں جلسہ کرنے کی اجازت نہیں۔ انجمن بنانے کی اجازت نہیں اور اخبار نکالنے کی اجازت نہیں۔ غرض اپنی اصلاح اور ظلموں پر شکایت کرنے کے سامان بھی ان سے چھین لیے گئے ہیں۔ وہاں کے مسلمانوں کی حالت اس شعر کے مصداق ہے ؎

نہ تڑپنے کی اجازت ہے نہ فریاد کی ہے
گھٹ کے مر جاؤں یہ مرضی میرے صیاد کی ہے‘‘

یوم کشمیر ملک بھر میں نہایت کامیاب رہا۔ بلکہ حضورؓ کی ہدایت پر حضرت مولوی فرزند علی صاحب مبلغ انچارج یوکے نے مظلومانِ کشمیر کے حالات برطانوی اخبارات میں شائع کرائے جن کا تذکرہ اخبار ’’انقلاب‘‘ کے نمائندہ مقیم لندن نے بھی اپنی یکم اکتوبر1931ء کی اشاعت میں کیا۔
٭…حضرت مصلح موعودؓ کی زیر صدارت کشمیر کمیٹی کو مظلوم کشمیریوں کے لیے اہم اصلاحات، مراعات اور دوسری خدمات کی وسیع توفیق ملی۔ چنانچہ تاریخی حقیقت یہ ہے کہ مسلسل جدوجہد کے نتیجے میں مہاراجہ کشمیر نے 12؍نومبر1931ء کو ابتدائی حقوقِ آزادی دینے کا اعلان کر دیا ۔
کشمیر کمیٹی کی بےلوث مساعی زور و شور سے جاری تھی کہ اندرونی ریشہ دوانیوں اور احراری سازشوں کی وجہ سے حضورؓ نے 7؍مئی 1933ء کو کمیٹی کی صدارت سے استعفیٰ دے دیا۔ پھر ڈاکٹر سر محمد اقبال کو قائمقام صدر مقرر کیا گیا لیکن وہ بھی ڈیڑھ ماہ بعد یعنی 20؍جون کو مستعفی ہوگئے۔
٭…4؍اکتوبر1947ء کو حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ نے آزاد کشمیر حکومت کی بنیاد رکھی۔ چنانچہ سردار گل احمد خاں صاحب کوثر سابق چیف پبلسٹی آفیسر جمہوریہ حکومت کشمیر کا بیان ہے کہ ’’…جناب مرزا بشیرالدین محمود احمد صاحب امام جماعت احمدیہ نے دیکھا کہ یہی وقت کشمیریوں کی آزادی کا ہے تو آپ نے کشمیری لیڈروں اور ورکروں کو بلایا۔ میٹنگ میں فیصلہ ہوا کہ مفتی اعظم ضیاءالدین ضیاء صاحب کو عارضی جمہوریہ کشمیر کا صدر بنایا جائے مگر انہوں نے انکار کیا۔ اس کے بعد ایک اَور نوجوان قادری صاحب کو کہا گیا۔ اس نے بھی انکار کیا۔ آخر میں قرعہ خواجہ غلام نبی گلکار انور صاحب کے نام پڑا۔‘‘
٭…جب حکومتِ پاکستان کی طرف سے ایک رضاکار بٹالین کے قیام کا منشاء ظاہر کیا گیا تو حضرت مصلح موعودؓ کے ارشاد کے مطابق فرقان بٹالین کا قیام عمل میں آیا جو جون 1948ء سے جون 1950ء تک قائم رہی۔ جولائی1948ء میں یہ بٹالین محاذ جنگ باغسر (بربط) پر تعینات ہوئی اوردو سال تک اپنے فرائض جرأت اور کامیابی سے ادا کیے۔
٭…حضرت مصلح موعودؓ نے 8؍فروری1957ء کو آزادیٔ کشمیر کے لیے دعاؤں کی خاص تحریک فرمائی۔

حضرت چودھری سر محمد ظفراللہ خان صاحبؓ

٭…23؍مارچ1940ء کو منٹو پارک لاہور میں قراردادِ پاکستان منظور ہوئی۔ روزنامہ الفضل کا اعزاز ہے کہ جنوری اور مارچ 2012ء کے تین شماروں میں مستند حوالوں اور دلائل پر مشتمل ایسے مضامین شامل ہیں جن سے واضح ہوتا ہے کہ اس تاریخ ساز قرارداد کی تیاری میں حضرت چودھری سرمحمد ظفرﷲ خان صاحبؓ نے مرکزی کردار ادا کیا۔
٭…تحریکِ پاکستان کی متعدد اہم منزلوں میں سے تین بنیادی منزلیں یہ تھیں: (1) مسلم لیگ کے جھنڈے تلے جمع ہونے کے لیے لفظ مسلمان کی تعریف محمد رسول ﷲﷺ کی نبوت اور شریعت پر ایمان (کلمہ طیبہ) تسلیم کی گئی۔ جس سے مسلم لیگ کو زیادہ سے زیادہ عددی قوت ملی۔ (2) جداگانہ انتخابات پر زور جس سے مسلم لیگ کی سیاسی قوت بڑھی۔ اور (3)حکومت کا فیڈرل سسٹم اپنانا جس سے مسلم اکثریت کے صوبوں میں مسلمانوں کو سیاسی اور انتظامی تقویت حاصل ہوئی۔ ﷲ تعالیٰ کے فضل سے یہ تینوں نکات حضرت مصلح موعودؓ نے پُرزور اور مدلّل طور پر تجویز فرمائے تھے۔ چوتھا بنیادی مرحلہ 1945-46ء کے انتخابات کا تھا۔ جس میں حضرت مصلح موعودؓ میں مسلم لیگ کے حق میں حتمی فیصلہ فرمایا۔ لیکن ایسے میں بعض مسلمان کہلانے والے گروہوں اور افراد کا مسلم لیگ اور قائداعظم کی مخالفت کرنا کس قدر افسوس اور بدقسمتی کی بات تھی۔ 22؍اکتوبر1945ء کے الفضل میں حضورؓ نے احمدیوں کے لیے ایک پیغام بھی شائع فرمایا کہ آئندہ انتخابات میں ہر احمدی کو مسلم لیگ کی پالیسی کی تائید کرنی چاہئے …۔ اس پر مولانا رئیس جعفری اپنی کتاب میں لکھتے ہیں:
مسلم قوم کی مرکزیت پاکستان یعنی ایک آزاد اسلامی حکومت کے قیام کی تائید، مسلمانوں کے یاس انگیز مستقبل پر تشویش، عامۃ المسلمین کی صلاح و فلاح، نجاح و مرام کی کامیابی، تفریق بین المسلمین کے خلاف برہمی اور غصہ کا اظہار کون کر رہا ہے؟ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر اور جماعت حزب ﷲ کا داعی اور امام الہند؟ نہیں پھر کیا؟ جانشین شیخ الہند اور دیوبند کا شیخ الحدیث؟ وہ بھی نہیں۔ پھر کون؟ وہ لوگ جن کے خلاف ’کفر‘ کے فتووں کا پشتارہ موجود ہے۔ جن کی نامسلمانی کا چرچا گھر گھر ہے۔ جن کا ایمان، جن کا عقیدہ مشکوک، مشتبہ اور محل نظر ہے۔ کیا خوب کہا ایک شاعر نے ؎

کامل اس فرقۂ زہاد میں اٹھا نہ کوئی
کچھ ہوئے تو یہی رندانِ قدح خوار ہوئے

(قائداعظم اور ان کا عہد۔ صفحہ345-346)

٭…انتخابات میں مسلم لیگ کی عظیم الشان فتح کے بعد پاکستان کا قیام تو یقینی ہو گیا لیکن کانگریس کی سازباز کی وجہ سے پنجاب میں خضرحیات کی وزارت نے مسلم لیگ کے حق میں مستعفی ہونے سے انکار کر دیا۔ اس پر دیگر کوششوں کے علاوہ حضرت مصلح موعودؓ کی ہدایت پر سر محمد ظفرﷲ خان صاحب نے سرخضرحیات سے ملاقات کرکے ان کو استعفیٰ دینے پر آمادہ کرلیا اور یوں مسلم لیگ کی یہ مشکل حل ہو گئی۔ اخبار ٹریبیون 5؍مارچ 1947ء میں یہ خبر شائع ہوئی: معتبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ خضر حیات خان صاحب نے یہ فیصلہ سر محمد ظفر اﷲ خان صاحب کے مشورہ اور ہدایت کے مطابق کیا ہے۔
٭…روزنامہ الفضل کا ایک امتیاز ڈاکٹر عبدالسلام خورشید اپنی کتاب ’’داستانِ صحافت‘‘ میں یوں بیان کرتے ہیں: آزادی کے فوراً بعد صحافت ایک انقلاب سے گزری۔ بہت سے غیر مسلم اخبار ہندوستان چلے گئے اس کے باوجود ہندوستان کا کوئی مسلمان روزنامہ لاہور نہ آیا۔ البتہ جماعت احمدیہ کا روزنامہ الفضل قادیان سے لاہور منتقل ہو گیا۔

٭… نوزائیدہ مملکت پاکستان کے روشن مستقبل کے لیے حضرت مصلح موعودؓ نے لاہور میں 2؍دسمبر1947ء تا 17؍جنوری 1948ء چھ معرکہ آراء لیکچرز دیے جنہیں مدبرین اور اہل علم و قلم نے بےحد سراہا۔
پہلے لیکچر میں حضورؓ نے پاکستان کے دفاع کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ملک کی زرعی ترقی کی اہمیت واضح فرمائی۔
دوسرے لیکچر میں حضورؓ نے ملکی ترقی کے لیے لکڑی کا وجود نہایت ضروری قرار دیا اور فرمایا کہ پاکستان کو اپنی نباتی دولت کو ترقی دینی چاہیے۔
تیسرے لیکچر میں فرمایا کہ ملک کی معنوی دولت ہی اس کی اصل قوت ہوتی ہے۔ ہمارے ملک کا ہر نوجوان یہ عہد کرے کہ اپنی تمام قوتیں ملک و ملت کے لیے وقف کردینی ہیں ۔ اپنے اخلاق درست کرنا ہے اور وقت کی قدر کرنی ہے۔
چوتھے لیکچر میں حضورؓ نے نہایت تفصیل سے ملک کی دفاعی طاقت کا جائزہ لیا اور دفاع کو مضبوط بنانے کے طریق بتائے خصوصاً فضائی طاقت کو مضبوط بنانے پر زور دیا۔
پانچویں لیکچر میں حضورؓ نے بحری طاقت کی ضرورت اور تجارتی بیڑوں کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔ نیز عرب ممالک کے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم کرنے اور دیگر ممالک کے ساتھ سیاسی تعلقات کے سلسلے میں اہم تجاویز پیش فرمائیں۔
چھٹے لیکچر میں حضورؓ نے پاکستان کے دستور پر روشنی ڈالی اور فرمایا کہ اسلامی آئین اساسی کے معنی یہی ہوں گے کہ کوئی ایسی بات نہ کی جائے جو قرآن کریم، سنت اور رسول کریمؐ کی تعلیم کے خلاف ہو۔ حضورؓ نے معاشرتی مساوات کے قیام اور دیگر اسلامی احکام کی خصوصیات بھی بیان فرمائیں۔
٭…مختلف ادوار میں بے شمار مخلص، قابل اور ماہر احمدی سپوتو ں نے ملک و ملّت کی قابل ذکر و قابل ستائش خدمات سرانجام دیں۔ ان میں پہلا نمایاں نام حضرت چودھری سر محمد ظفرﷲ خان صاحبؓ کا ہے جن کی عظیم الشان قومی اور بین الاقوامی خدمات کی تفصیل الفضل اور پاکستان کے قومی اخبارات میں بھی شائع ہوتی رہی۔

٭… جب بھی مملکت پاکستان پر اندرونی یا بیرونی خطرات کے بادل منڈلائے تو الفضل کے ذریعے حضرت مصلح موعودؓ اور دیگر خلفائے کرام نے بھی وطن کی محبت کے حوالے سے اسلامی تعلیمات بیان کرتے ہوئے احمدیوں کو ہدایات عطا فرمائیں۔ زیرنظر مضمون میں ایسے کئی ارشادات شامل اشاعت ہیں۔ مثلاً حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اﷲ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں: ’’جماعت احمدیہ نے پہلے دن سے ہی جب سے کہ پاکستان کا قیام عمل میں آیا ہے ہمیشہ پاکستان اور مسلمانوں کے حقوق کے لیے قربانیاں دی ہیں … پس جماعت احمدیہ نے اس ملک کے بنانے میں بھی حصہ لیا ہے اور انشاءﷲ اس کی تعمیر و ترقی میں بھی ہمیشہ کی طرح حصہ لیتی رہے گی کیونکہ آج ہمیں ’وطن کی محبت ایمان کا حصہ ہے‘ کا سب سے زیادہ ادراک ہے۔ آج احمدی ہے جو جانتا ہے کہ وطن کی محبت کیا ہوتی ہے!‘‘ (الفضل انٹرنیشنل 4؍نومبر2005ء)
حقیقت یہ ہے کہ تعمیر و استحکام پاکستان میں سیّدنا حضرت مصلح موعودؓ اور روزنامہ الفضل کا کردار ایک سمندر کی مانند وسیع مضمون ہے جو ایک صدی سے زائد عرصے کے شماروں میں پھیلا ہوا ہے۔ گو اس وقت مملکت پاکستان کے حالات احمدیوں کے لیے مشکل کردیے گئے ہیں لیکن ہم یقین رکھتے ہیں کہ اِک وقت آئے گا اور ؎

چراغِ زندگی ہوگا فروزاں ، ہم نہیں ہوں گے
چمن میں آئے گی فصلِ بہاراں ، ہم نہیں ہوں گے
جئیں گے جو وہ دیکھیں گے بہاریں زلف جاناں کی
سنوارے جائیں گی گیسوئے دوراں ، ہم نہیں ہوں گے
جوانو! اب تمہارے ہاتھ میں تقدیرِ عالم ہے
تم ہی ہوگے فروغِ بزم امکاں ، ہم نہیں ہوں گے
ہمارے بعد ہی خونِ شہیداں رنگ لائے گا
یہی سرخی بنے گی زیب عنواں ، ہم نہیں ہوں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں