حضرت مسیح موعودؑ کے چند علمی اعجاز

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ مسیح موعود نمبر)
حضرت مسیح موعودؑ کے علمی اعجاز کے حوالے سے مکرم اخلاق احمد انجم صاحب کی ایک تقریر مجلس انصاراللہ برطانیہ کے مجلّہ ’’انصارالدین‘‘ ستمبر و اکتوبر ۲۰۱۴ء میں شائع ہوئی ہے۔

اخلاق احمد انجم صاحب

حضورعلیہ السلام کو مارچ ۱۸۸۲ء میں ماموریت کا پہلا الہام ہوا جس میں یہ فرمایا گیا کہ تیرا سب سے بڑا ہتھیار قرآن کریم اور اس کے علوم ہوں گے اور تیرے علمی معجزات اس کے گرد چکر لگائیں گے۔ فرمایا: اے احمد! اللہ نے تجھے برکت دی ہے پس اسلام کی حمایت میں اپنی قلم کے ذریعہ جو تُو نے دشمنوں کی طرف تیر چلائے ہیںوہ تُو نے نہیں چلائے بلکہ دراصل خداتعالیٰ نے ہی چلائے ہیں۔اِسی رحمٰن خدا نے تجھے قرآن کا علم عطا کیا ہے تاکہ تُو ان لوگوں کو ہشیار کرے جن کے باپ دادے ہشیار نہیں کیے گئے۔اور تا مجرموں کا راستہ واضح ہوجائے۔ اب تُو دنیا میں اعلان کر دے کہ مجھے خدا تعالیٰ کی طرف سے مامور بنایا گیا ہے اور اپنی ماموریت پر مَیں سب سے پہلے ایمان لاتا ہوں۔ (براہینِ احمدیہ)

پھر ایک مرتبہ الہام ہوا: الرّحمان علَّم القرآن۔ یَااحمد فاضیت الرحم علی شفتیک۔ یعنی خدا نے تجھے اے احمد قرآن سکھا دیا اور تیرے لبوں پر رحمت جاری کی گئی۔ آپؑ فر ماتے ہیں اس الہام کی تفہیم مجھے اس طرح پر ہوئی کہ کرامت اور نشان کے طور پر قرآن اور زبانی قرآن کی نسبت دو طرح کی نعمتیں مجھ کو عطا کی گئیں ہیں۔ایک یہ کہ معارفِ عالیہ، فرقانِ حمید بطور خارق عادت مجھ کو سکھلائے گئے جس میں دوسرا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ دوسرے یہ کہ زبانی قرآن یعنی عربی میں وہ بلاغت اور فصاحت مجھے دی گئی کہ اگر تمام علمائے مخالفین باہم اتفاق کر کے اس میں بھی میرا مقابلہ کرنا چاہیں تو ناکام و نا مراد رہیں گے۔اور وہ دیکھ لیں گے کہ جو حلاوت اور بلاغت اور فصاحت لسانِ عربی مع التزام حقائق و معارف و نکات میرے کلام میں ہے وہ ان کو اور ان کے دوستوں اور ان کے استادوں اور ان کے بزرگوں کو ہرگز حاصل نہیں۔ (تریاق القلوب جلد۱۵صفحہ۲۳۰)

دل میں یہی ہے ہر دم تیرا صحیفہ چوموں
قرآں کے گرد گھوموں کعبہ میرا یہی ہے

حضرت مسیح موعودؑ فرماتے ہیں کہ میں قرآن مجید کے معجزہ کے ظِلّ کے طور پر فصاحت و بلاغت کا نشان دیا گیا ہوں۔ کوئی نہیں جو میرا مقابلہ کرسکے۔ (ضرورۃ الامام)
نیز فرمایا: ’’مَیں خدا تعالیٰ کی اعجاز نمائی کو انشاءپردازی کے وقت بھی اپنی نسبت دیکھتا ہوں کیونکہ جب مَیں عربی میں یا اردو میں کوئی عبارت لکھتا ہوں تو یوں محسوس کرتا ہوں کہ کوئی اندر سے مجھے تعلیم دے رہا ہے اور ہمیشہ میری تحریر گو عربی ہو یا اردو یا فارسی دو حصّہ پر تقسیم ہوتی ہے۔ ایک تو یہ کہ بڑی سہولت سے سلسلۂ الفاظ اور معنی کا میرے سامنے آجاتا ہے اور مَیں اس کو لکھتا جاتا ہوں کہ اس تحریر میں مجھے کوئی مشقّت نہیں اٹھا نا پڑتی۔ …‘‘ (نزول مسیح)
٭…حضرت اقدس مسیح موعودؑ کا ایک انقلاب انگیز علمی معجزہ ’’براہینِ احمدیہ‘‘ ہے۔یہ وہ کتاب ہے جو بارگاہِ الٰہی میں مقبول ہوئی اور اس نے قطبی نام پایا۔ آپؑ نے اس کتاب میں دین اسلام اور نبوتِ محمدیہ اور قرآن شریف کی حقانیت کو عقلی اور نقلی طور سے ثابت کرنے کے لیے تین سو مضبوط دلائل پیش فرمائے ہیں اور عیسائی، آریہ اور نیچریہ، ہنود اور برہمو سماج وغیرہ جمیع المذاہب مخالفِ اسلام کو ازروئے تحقیق ردّ فرمایا ہے۔ آپؑ نے دوسرے مذاہب کو چیلنج دیا اور دس ہزار روپے کے انعام کا اشتہار بھی دیا کہ اگر کوئی مخالف یا مکذّب اسلام اپنی مذہبی کتاب سے تمام دلائل یا نصف یا خمس تک پیش کرنے سے قاصر ہو تو ہمارے دلائل کو ہی نمبروار توڑدے تو بلاتأمل اس کو دس ہزار روپیہ تک ا نعام دیا جائے گا۔ لیکن آج تک کوئی اس علمی معجزہ کا جواب نہیں دے سکا۔
براہین احمدیہ کے منصہ شہود پر آتے ہی عیسائیت کا فولادی قلعہ جس کی پشت پناہی ۱۸۵۷ء کے بعد سے حکومت کی پوری مشینری کر رہی تھی پاش پاش ہو گیا۔
٭…آپؑ کا ایک علمی معجزہ وہ عظیم الشان لیکچر ہے جو جلسۂ مذاہب عالم کے موقع پر لاہور میں سنایا گیا اور ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ کے نام سے شائع ہوا۔ اس کے بارے میں آپؑ نے یہ اعلان فر مایا کہ مجھے خدائے علیم نے مطلع فرمایا ہے کہ یہ وہ مضمون ہے جو سب پر غالب آئے گا اور اسلام کو اس کے ذریعہ ایک نمایاں فتح حاصل ہوگی۔ چنانچہ اس مضمون کے پڑھے جانے کے بعد بلااستثناء ہر زبان پر یہی کلمہ جاری تھا کہ اس مضمون کے سامنے سارے مضامین ماند پڑگئے۔ ایک اخبار لکھتا ہے: ’’مرزا صاحب نے نہ صرف مسائلِ قرآن کی فلاسفی بیان کی بلکہ الفاظ ِقرآن کی فلالوجی اور فلاسفی بھی ساتھ ساتھ بیان کردی۔ غرضیکہ مرزا صاحب کا لیکچر بحیثیتِ مجموعی ایک مکمل اور حاوی لیکچر تھا جس میں بے شمار معارف و حقائق و حکم و اسرار کے موتی چمک رہے تھے اور فلسفہ الٰہیہ کو ایسے ڈھنگ سے بیان کیا گیا تھا کہ تمام اہلِ مذاہب ششدر رہ گئے۔ لیکچر ایسا پُرلطف اور ایسا عظیم الشان تھاکہ بجز سننے کے اس کا لطفِ بیان نہیں آسکتا۔‘‘(اخبار ’’چودھویں صدی‘‘ یکم فروری ۱۸۹۷ء)
اس عظیم الشان علمی معجزے کے بارے میںحضرت مسیح موعودؑ خود فرماتے ہیں:’’ہر ایک فرقہ کی شہادت اور نیز انگریزی اخباروں کی شہادت سے میری پیش گوئی پوری ہو گئی کہ مضمون با لا رہا۔ یہ مقابلہ اُس مقابلہ کی مانند تھا جو موسیٰ نبی کو ساحروں کے ساتھ کرنا پڑا تھا کیونکہ اس مجمع میں مختلف خیالات کے آدمیوں نے اپنے اپنے مذہب کے متعلق تقریریں سنائی تھیں جن میں سے بعض عیسائی تھے اور بعض سناتن دھرم کے ہندو اور بعض آریہ سماج کے ہندو اور بعض برہمو اور بعض سکھ اور بعض ہمارے مخالف مسلمان تھے۔ اور سب نے اپنی اپنی لاٹھیوں کے خیالی سانپ بنائے تھے لیکن جبکہ خدا نے میرے ہاتھ سے اسلامی راستی کا عصا ایک پاک اور پُرمعارف تقریر کے پیرایہ میں اُن کے مقابل پر چھوڑا تو وہ اژدھا بن کر سب کو نگل گیا اور آج تک قوم میں میری اس تقریر کا تعریف کے ساتھ چرچا ہے جو میرے منہ سے نکلی تھی۔ فالحمدللہ علیٰ ذلک۔‘‘ (حقیقۃالوحی)
٭…حضرت مسیح موعودؑ کا ایک علمی معجزہ کتاب ’’آئینہ کمالاتِ اسلام‘‘ہے جو ۱۸۹۲ء کی تصنیف ہے۔ اس کتاب کی تحریر کے دوران آپؑ کو رسول کریمؐ کی دو مرتبہ زیارت ہوئی اور حضرت نبی کریمﷺ نے اس تالیف پر بہت خوشنودی کا اظہار فر مایا۔ آپؑ فر ماتے ہیں کہ ایک رات یہ بھی دیکھا کہ ایک فر شتہ بلند آواز سے لوگوں کے دلوں کو اس کی طرف بلاتا ہے اور کہتا ہے: ھذا کتاب مبارک فقوموا للاجلال والاکرام۔ یعنی یہ کتاب مبارک ہے اس کی تعظیم کے لیے کھڑے ہو جاؤ۔ اس میں مقامِ فنا، بقا، لقاء روح القدس کی دائمی رفاقت اور ملائک و جنات کے وجود کے ثبوت پر جدید زاویے سے روشنی ڈالی گئی ہے اور کتاب میں وہ قوت اور شوکت ہے کہ سطر سطر سے تائیدِ حق کا جلوہ نظرآتا ہے۔
اس کتاب کا ایک حصہ عربی زبان میں ہے اور یہ عربی میں آپؑ کی پہلی تحریر تھی۔ اس کی تحریک یوں ہوئی کہ جب آپؑ کتاب مکمل کرچکے تو حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ نے عرض کیا کہ اس کتاب میں اُن فقراء اور پیرزادوں کی طرف بھی بطور دعوت و اتمامِ حجت ایک خط شامل ہونا چاہیے جو بدعات میں دن رات غرق اوراس سلسلے سے بےخبر ہیں جس کو خداتعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے قائم کیا ہے۔ آپؑ کا ارادہ تھا کہ یہ خط اردو میں لکھا جائے لیکن رات کو بعض اشاراتِ الہامی میں آپؑ کو عربی لکھنے کی تحریک ہوئی اور اللہ تعالیٰ کے حضورؑ دعا کرنے پر آپؑ کو رات ہی رات میں عربی کا چالیس ہزار مادہ سکھا دیا گیا۔ چنانچہ آپؑ نے اس الہامی قوّت سے التبلیغ کے نام سے فصیح و بلیغ عربی میں ایک خط تحریر فر مایا جس میں آپؑ نے ہندوستان، عرب، ایران، ترکی،مصر اور دیگر ممالک کے پیرزادوں، سجادہ نشینوں، زاہدوں، صوفیوں اور خانقاہ نشینوں تک پیغامِ حق پہنچایا۔ اس کتاب کے بارے میں ایک عرب فاضل نے کہا کہ اسے پڑھ کر ایسا وجد طاری ہوا کہ دل میں آیا کہ سر کے بَل رقص کرتا ہوا قادیان پہنچوں۔ طرابلس کے مشہور عالم السیّد محمد سعید شامی نے اسے پڑھتے ہی بے ساختہ کہا: ’’واللہ ایسی عبارت عرب نہیں لکھ سکتا‘‘ اور بالآخر اسی سے متأثر ہوکر احمدیت قبول کرلی۔
٭…التبلیغ کے آخر میں آنحضرتﷺ کی شانِ اقدس میں ایک معجزہ نما عربی قصیدہ بھی حضورؑ نے رَقم فر مایا جو آپ اپنی نظیر ہے۔ جب حضوؑر یہ قصیدہ لکھ چکے تو آپؑ کا روئے مبارک فرطِ مسّرت سے چمک اُٹھا اور آپؑ نے فرمایا یہ قصیدہ جنابِ الٰہی میں قبول ہو گیا اور خدا تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے کہ جو شخص یہ قصیدہ حفظ کرے گا اور ہمیشہ پڑھے گا تو مَیں اُس کے دل میں اپنی اور اپنے رسولؐ کی محبت کوٹ کوٹ کر بھر دوں گا اور اپنا قرب عطا کروں گا۔
٭…حضورؑ نے قریباً اکیس عربی تصانیف فرمائیں۔ نیز دعویٰ فر مایا کہ عربی میں بلیغ عبارت کی آمد کا معجزہ بحرِ ذخّار کی طرح مجھے دیا گیا ہے اور ایسی کامل اور معجزانہ قدرت عطا فرمائی گئی ہے کہ اس کے مقابلہ میں کوئی دوسرا شخص نہیں ٹھہر سکتا۔ آپؑ نے بڑی تحدّی کے ساتھ اپنی عربی دانی کے مقابل پرمخالفین کو بار بار بلایا۔ آپؑ نے یہاں تک اعلان فرمایا کہ اگر کوئی فرد اس مقابلہ کی جرأت نہیں کرسکتا تو میری طرف سے اجازت ہے کہ سب مل کر میرے مقابلہ پر آؤ اور میرے جیسی فصیح اور بلیغ اور معارف سے پُر عربی لکھ کر دکھاؤ۔ آپؑ نے اپنے چیلنج کو عربوں، مصریوں اور شامیوں تک وسیع کردیا لیکن کوئی بھی آپؑ کے مقابلہ پر نہ آیا۔
٭…خطبہ الہامیہ بھی حضرت مسیح موعوؑد کا عظیم الشان علمی معجزہ ہے۔ حضورؑ فرماتے ہیں:۱۱؍اپریل ۱۹۰۰ء کو عید الاضحی کے دن صبح کے وقت مجھے الہام ہوا کہ آج تم عربی میں تقریر کرو تمہیں قوت دی گئی اور نیز یہ الہام ہوا: کلام افصحت من لدن رب کریم۔ یعنی اس کلام میں خدا کی طرف سے فصاحت بخشی گئی ہے۔ تب مَیں عید کی نماز کے بعد عید کا خطبہ عربی زبان میں پڑھنے کے لیے کھڑا ہو گیا اور خدا تعالیٰ جانتا ہے کہ غیب سے مجھے ایک قوت دی گئی اور وہ فصیح تقریرعربی میں فی البدیہہ میرے منہ سے نکل رہی تھی کہ میری طاقت سے بالکل باہر تھی اور مَیں نہیں خیال کر سکتا کہ ایسی تقریر جس کی ضخامت کئی جزو تک تھی ایسی فصاحت اور بلاغت کے ساتھ کوئی شخص دنیا میں بغیر خاص الہام الٰہی کے، بیان کر سکے۔ سبحان اللہ اُس وقت ایک غیبی چشمہ کھُل رہا تھا کیونکہ مَیں جانتا تھا کہ اس کلام میں میرا دخل نہ تھا۔ خود بخود بنے بنائے فقرے میرے منہ سے نکلے جاتے تھے اور ہر ایک فقرہ میرے لیے ایک نشان تھا۔ یہ علمی معجزہ خدا نے دکھلایا اور کوئی اس کی نظیر پیش نہیں کرسکتا۔ (ماخوذ از حقیقۃالوحی نشان۱۶۵)
٭…۱۸۹۵ء میں آپؑ نے خدا سے علم پا کر اعلان فر مایا کہ عربی ’’امّ الالسنہ‘‘ یعنی تمام دوسری زبانوں کی ماں ہے۔ اس سے دنیا کے موجودہ دَور کی ساری زبانیں نکلی ہیں جو بعد میں آہستہ آہستہ بدل کر نئی صورتیں اختیار کرگئی ہیں۔ اسی لیے خدا نے اپنی آخری شریعت عربی زبان میں نازل فرمائی۔آپؑ فرماتے ہیں کہ آیت ’’لِتُنْذِرَ اُمُّ القُریٰ‘‘ میں مجھ پر کھولا گیا کہ یہ آیت عربی زبان کے فضائل پر دلالت کرتی ہے اور اشارہ کرتی ہے کہ عربی زبان تمام زبانوں کی اور قرآن مجید تمام پہلی کتابوں کی ماں ہے۔
نیز فر مایا: ’’مجھے خدا تعالیٰ کے مقدس اور پاک کلام قرآن شریف سے اس بات کی ہدایت ہوئی کہ وہ الہامی زبان اور اُمّ الالسنہ جس کے لیے پارسیوں نے اپنی جگہ اور عبرانی دانوں نے اپنی جگہ اور آریہ قوم نے اپنی جگہ دعوے کیے کہ انہی کی وہ زبان ہے، وہ عربی مبین ہے اور دوسرے تمام دعویدار غلطی اور خطا پر ہیں۔‘‘ (منن الرحمن صفحہ ۱۸۸)
آپؑ فرماتے ہیں: سو خدا نے مبین کے لفظ کو عربی کے لیے ایک خاص صفت ٹھہرایا اور یہ عربی کے صفاتِ خاصہ میں سے ہے اور کوئی دوسری زبان اس صفت میں اس کی شریک نہیں۔ اور اس زبان کی بلاغت کی طرف اشارہ کیا اور نیز یہ کہ یہ زبان کامل اور ہر یک امر احتیاج پرمحیط ہے۔
عربی زبان کی فضیلت اور کمال اور فوق الالسنہ ہونے کے دلائل مبسوط طور پر لکھنے کے بعد آپؑ نے دوسروں کو چیلنج بھی کیا۔ فرماتے ہیں:’’اب ہر ایک کو اختیار ہے کہ ہماری کتاب کے چھپنے کے بعد اگر ممکن ہو تو یہ کمالات سنسکرت یا کسی اَور زبان میں ثابت کرے …ہم نے اس کتاب کے ساتھ پانچ ہزار روپے کا انعامی اشتہار شائع کر دیا ہے جو فتح یابی کی حالت میں بغیر حرج کے وہ روپیہ ان کو وصول ہوجائے گا۔‘‘
اس تحقیق سے کہ عربی زبان الہامی اور امّ الا لسنہ ہے آپؑ نے اسلام کی عالمگیر فتح کی بنیاد رکھ دی۔ کیونکہ اس سے یہ بھی تسلیم کرنا پڑے گا کہ تمام کتابوں میں سے جو مختلف زبانوں میں مخصوص قوموں کی اصلاح کے لیے انبیاء پر نازل ہوئیں، اعلیٰ اور ارفع، اتم اور اکمل اور خاتم الکتب اور اُمّ الکتب قرآن مجید ہے اور رسولوں میں سے خاتم النّبیین اور خاتم الرسل حضرت سیّدنا محمد مصطفیٰﷺ ہیں۔
٭…حضرت مسیح موعودؑ کا ایک علمی معجزہ وہ ہے جس نے دنیائے مسیحیت میں تہلکہ مچا دیا یعنی یہود کا یہ اعتقاد کہ حضرت مسیحؑ صلیب پر لٹکائے گئے ہیں اور صلیب پر ہی فوت ہوئے اور نعوذباللہ لعنتی موت مرے۔ اور عیسائیوں کا اعتقاد کہ مسیحؑ صلیب پر فوت ہوکر مسیحیوں کے گناہوں کا کفارہ ہوئے۔ نیز عام مسلمانوں کا یہ خیال ہے کہ مسیحؑ صلیب پر لٹکائے نہیں گئے بلکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ آسمان پر اٹھالیا اور آج بھی آسمان پر زندہ موجود ہیں۔ حضرت مسیح موعودؑ نے قرآن کریم سے یہ بتایا کہ حضرت مسیح صلیب پر لٹکائے گئے تھے لیکن خدا تعالیٰ نے اُنہیں زندہ ہونے کی حالت میں صلیب سے اتار لیا اور تین دن کے لیے زمین دوز پناہ گاہ میں علاج معالجہ کے بعد آپؑ افغانستان سے ہوتے ہوئے کشمیر تشریف لائے اور یہیں آپؑ کی وفات ہوئی۔ حضورؑ نے قرآن کریم کی تیس آیات سے بھی حضرت مسیح ناصریؑ کی طبعی موت کو ثابت فر مایا۔ آپؑ کا یہ دعویٰ ٹھوس دلائل اور قاطع براہین پر مبنی تھا جس کی تائید ایک طرف تاریخی اور واقعاتی شواہد سے ملتی ہے تو دوسری طرف بےشمار منقولی دلائلِ کتبِ مقدسہ اس تحقیق کی صداقت پر دال ہیں۔ چنانچہ حضرت مسیح موعودؑ نے اپنی بیشتر تصانیف میں اس تحقیق کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے اور ایک مکمل کتاب ’’مسیح ہندوستان میں‘‘ تحریرفرمائی جس میں تمام شواہد لکھ کر عیسائیت کے صلیبی عقیدے کو پاش پاش کرکے کاسرِ صلیب ہونے کا حق بھی ادا کر دیا۔
٭…رسول کریمﷺ نے فرمایا تھا کہ مسیح موعود کے زمانے میں جنگ موقوف ہو جائے گی۔ چنانچہ حضورؑ نے اپنی تصنیف ’’گورنمنٹ انگریزی اور جہاد‘‘ میں مسئلہ جہاد پر جامع رنگ میں روشنی ڈالی اور قرآن و حدیث سے ثابت کیا کہ اسلام سے بڑھ کر صلح و امن کا علمبردار کوئی مذہب نہیں ہے۔ آپؑ نے فرمایا کہ مسئلہ جہاد کو جس طرح مسلمان علماء نے سمجھ رکھا ہے وہ ہر گز صحیح نہیں۔ بلکہ جہاد کا لفظ جُہد سے مشتَق ہے جس کے معنی کوشش کرنے کے ہیں اور مجازی طور پر دینی لڑائیوں کے لیے بولا گیا ہے۔ آپؑ نے قرآن کریم سے ثابت کیا کہ آنحضورﷺ کی ساری جنگیں دفاعی تھیں اور مذہب کو پھیلانے کے لیے ہر گز نہیں تھیں۔ پس اصل جہاد اپنے نفسوں کو پاک کرنا ہے۔
٭…حضرت مسیح موعودؑ کا ایک علمی اعجاز ’’اعجازالمسیح‘‘ کی تصنیف ہے جس میں آپؑ نے عربی زبان میں سورت فاتحہ کی تفسیر لکھی ہے۔ جو نہ صرف زبان کے لحاظ سے بلکہ معنوی لطافت کے لحاظ سے بھی نہایت بلند پایہ مقام رکھتی ہے۔ اس کتاب کا محرّک پیر مہر علی شاہ گولڑوی اور اُن کے مریدوں کی مخالفت ہوئی۔ انہوں نے حضرت مسیح موعودؑ کے خلاف کتابیں شائع کیں جن میں آپؑ پر ناگوار حملے کیے اور مقابلے کی دعوت دی۔ حضرت مسیح موعودؑ نے پیرصاحب کو سورت فاتحہ کی عربی تفسیر لکھنے کی دعوت دی اور اس کی میعاد ۱۵؍دسمبر۱۹۰۰ء سے ۲۵؍فروری۱۹۰۱ء تک مقرر فرمائی۔ آپؑ نے پیر صاحب کو یہ اجازت بھی دی کہ وہ اس تفسیر میں دنیا کے علماء اور عربی دانوں سے مدد لے لیں۔ پھر اگر بالمقابل تفسیر لکھنے کے بعد عرب کے تین نامی ادیب اُن کی تفسیر کو جامع لوازم بلاغت و فصاحت قرار دیں اور معارف سے پُر خیال کریں تو پانسو روپیہ ان کو انعام دوں گا اور اپنی تمام کتابیں جلا دوں گا اور ان کے ہاتھ پر بیعت کرلوں گا۔
اس اعلان کے مطابق اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعودؑ نے مدّتِ معینہ کے اندر ۲۳؍فروری ۱۹۰۱ء کو فصیح و بلیغ عربی زبان میں سورت فاتحہ کی تفسیر شائع کردی جو ایک عظیم الشان نشان اور بےمثال علمی معجزہ ہے۔ آپؑ نے اس کتاب کے سرورق پر بطور تحدی فرمایا کہ یہ ایک لاجواب کتاب ہے جو شخص بھی غصّہ میں آکر اس کتاب کا جواب لکھنے کے لیے تیار ہو گا وہ نادم ہوگا اور حسرت کے ساتھ اس کا خاتمہ ہوگا۔ چنانچہ اس عظیم الشان پیش گوئی کے مطابق نہ پیر صاحب کو اور نہ عرب و عجم کے کسی اَور عالم و فاضل کو اس کتاب کا فصیح عربی میں جواب دینے کی جرأت ہو سکی۔
٭…حضرت مسیح موعودؑ نے جب قرآن کریم کی تفسیر پر مشتمل بعض عربی کتب تصنیف فر مائیں تو مخالفین نے ان کی قدرو منزلت کم کرنے کے لیے اَعَانَہٗ عَلَیہِ قَوْمٌ اٰ خَرُوْنَ۔ (الفرقان:۵) کا الزام لگایا۔اس الزام سے آپؑ کی بریّت ثابت کرنے کے لیے اللہ تعالیٰ نے ایک تقریب پیدا کی۔ چنانچہ مدّ ضلع امرتسر میں حضورؑ کے نمائندہ حضرت مولوی محمد سرور شاہؓ اور اہلِ حدیث مولوی ثناءاللہ امرتسری کے درمیان ۲۹ اور ۳۰؍اکتوبر۱۹۰۲ء کو ایک منا ظرہ منعقد ہوا۔ حضورؑ نے پانچ دن کے مختصر عرصے میں ۱۵۳۳؍اشعار پر مشتمل ایک طویل قصیدہ مع ترجمہ رقم فر مایا جس میں مباحثہ مدّ کے حالات تفصیلاً درج تھے اور اس کے بارے میں یہ کہنا نا ممکن تھا کہ اسے پہلے سے لکھوایا گیا ہے۔ حضورؑ نے اس مترجم قصیدہ کو دس دن کے اندر چھپوا کر مولوی ثناء اللہ امرتسری اور بعض دوسرے علماء کو بھجوایا اور دس ہزار روپے کے انعامی چیلنج کے ساتھ یہ بھی تحریر فرمایا کہ اگر بیس دن میں انہوں نے اِس قصیدہ اور اردو مضمون کا جواب چھاپ کر شائع کر دیا تو یوں سمجھو کہ میں نیست و نابود ہو گیا اور میرا سلسلہ باطل ہو گیا۔ اِس صورت میں میری تمام جماعت کو چاہیے کہ مجھے چھوڑ دیں اور قطع تعلق کریں۔ پھر آپؑ نے پورے یقین اور تحّدی کے ساتھ فرمایا: ’’دیکھو! مَیں آسمان اور زمین کو گواہ رکھ کر کہتا ہوں کہ آج کی تاریخ سے اِس نشان پر حَصر رکھتا ہوں۔ اگر میں صادق ہوں اور خدا جانتا ہے کہ میں صادق ہوں تو کبھی ممکن نہ ہوگا کہ مولوی ثناء اللہ اور ان کے تمام مولوی پانچ دن میں ایسا قصیدہ بناسکیں اور اردو مضمون کا رَدّ لکھ سکیں کیونکہ خداتعالیٰ ان کی قلموں کوتوڑ دے گا اور ان کے دلوں کو غبی کردے گا۔‘‘ چنانچہ ایسا ہی ثابت ہوا۔

حضرت مصلح موعود خلیفۃالمسیح الثانیؓ فر ماتے ہیں: ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی تحریروں کی روانی کی مثال ایسی ہے جیسے پہاڑوں پر برسا ہوا پانی بہتا ہے۔ بظاہر اس کا کوئی رُخ معلوم نہیں ہوتا مگر وہ خود اپنا رُخ بناتا ہے۔حضرت مسیح موعودؑ کی تحریروں میں الٰہی جلال ہے اور وہ تصنع سے بالا ہیں۔ جس طرح پہاڑوں کے قدرتی مناظر ان تصویروں سے کہیں زیادہ دلفریب ہوتے ہیں جو انسان سالہاسال کی محنت سے تیار کر کے میوزیم میں رکھتا ہے … اسی طرح حضرت مسیح موعود کی عبارت بھی سب سے فائق ہے۔‘‘ ( خطباتِ محمود جلد۱۳)
نیز فر مایا : ’’حضرت مسیح موعودؑ کی تحریر کے اندر اس قدر روانی، زور اور سلاست پائی جاتی ہے کہ باوجود سادہ الفاظ کے، باوجود اس کے کہ وہ ایسے مضامین پر مشتمل ہے جن سے عام طور پر دنیا ناواقف نہیں ہوتی اور باوجود اس کے کہ انبیاء کا کام مبالغہ،جھوٹ اور نمائشی آر ا ئش سے خالی ہوتا ہے اس کے اندر ایک ایسا جذب اور ایسی کشش پائی جاتی ہے کہ جوں جوں انسان اسے پڑھتا ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ الفاظ سے بجلی کی تاریں نکل نکل کر جسم کے گرد لپٹتی جا رہی ہیں اور جس طرح جب ایک زمیندار گھاس والی زمین پر ہل چلانے کے بعد سہاگہ پھیرتا ہے تو سہاگہ کے گرد گھاس لپٹتا جاتا ہے اسی طرح معلوم ہوتا ہے حضرت مسیح موعودؑ کی تحریر انسانوں کے قلوب کو اپنے ساتھ لپیٹتی جارہی ہے۔‘‘ (خطباتِ محمود جلد۱۳)

اپنا تبصرہ بھیجیں