حضرت چودھری تصدّق حسین صاحبؓ

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ 11 مئی 2026ء)

غلام مصباح بلوچ صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 6؍مارچ 2014ء میں حضرت چودھری تصدّق حسین صاحبؓ آف ہجن ضلع سرگودھا کا مختصر تعارف اور حضرت مسیح موعودؑ کے حوالے سے بیان فرمودہ اُن کی چند ایمان افروز روایات مکرم غلام مصباح بلوچ صاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہیں۔
حضرت چودھری تصدّق حسین صاحبؓ حضرت مولوی غلام نبی صاحبؓ ریٹائرڈ پوسٹ ماسٹر (وفات1918ء) کے بیٹے اور حضرت مولوی شیرمحمد صاحبؓ یکے از 313 (بیعت:7؍ستمبر1889ء۔ وفات1904ء) کے بھتیجے تھے۔
رجسٹر بیعتِ اولیٰ کے مطابق آپؓ نے 16؍فروری 1892ء کو حضرت مسیح موعودؑ کے سفرِ سیالکوٹ کے دوران بیعت کی۔ آپؓ بیان فرماتے ہیں کہ میرے والد بزرگوار نارمل سکول راولپنڈی میں حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ کے ہم جماعت تھے نیز دُور کا ایک رشتہ بھی تھا۔ اسی لیے مجھے بھی والد بزرگوار نے تعلیم حاصل کرنے اُن کے پاس جموں بھیجا تھا۔ تب تک وہ احمدی نہیں ہوئے تھے۔

حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ
جمّوں میں قیام کے دوران

1892ء میں جب مَیں سیالکوٹ پہنچا تو سنا کہ مرزا صاحب وہاں ہیں۔ جس سے پوچھا اُس نے حضورؑ کی رہائش کی جگہ بتانے کی بجائے بدگوئی کی۔ آخر مولابخش بوٹ فروش سے پوچھا تو انہوں نے مجھے دکان کے اندر بلالیا اور پوچھا کہاں سے آئے ہو؟ پھر اُس نے بتایا کہ فلاں مسجد میں مرزا صاحب اور بہت مخلوق نظر آئے گی۔ مَیں گیا تو دیکھا کہ حضرت اقدسؑ مسجد کے ایک دروازے میں تشریف رکھے ہوئے تھے اور کافی حاضرین سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ وہ وقت تھا جب عوام دیواروں اور مکانوں کی چھتوں سے تماشابینی کے طور پر جھانکتے، گالی گلوچ بھی کرتے اور پتھر بھی برسایا کرتے۔ مجلس میں مولوی عبدالکریم صاحبؓ بھی بیٹھے تھے جن کو پہلی دفعہ مَیں نے بھیرہ میں حضرت حکیم مولوی نورالدین صاحبؓ کی صاحبزادی کی شادی (ہمراہ عبدالواحد ولد مولوی عبداللہ صاحب غزنوی) کے موقع پر دیکھا تھا۔ مَیں نے کسی کے ذریعے پیغام بھیج کر مولوی صاحب کو بلوایا اور اپنی پہچان کروائی۔ آپ میری درخواست پر مجھے حضرت اقدسؑ کے سامنے لے گئے اور میرے تایا کا نام لے کر تعارف کروایا کہ یہ بھائی شیرمحمد صاحب سکنہ ہجن ضلع شاہ پور کے بھتیجے ہیں۔ حضورؑ نے دو دفعہ فرمایا: ’’وہ بہت نیک اور صالح آدمی ہیں۔‘‘ مَیں نے مصافحہ کیا۔ پھر حضورؑ نے تقریر شروع فرمائی۔ مَیں ایک رومال میں کچھ پھل لے گیا تھا جو حضورؑ کے سامنے رکھ دیے۔ دورانِ تقریر مجھے خیال آیا کہ مَیں نے یہ غریبانہ ہدیہ پیش کیا ہے اس کو آپؑ نے اٹھایا نہیں، شاید مَیں بہت گنہگار ہوں اور میرا ناچیز ہدیہ اٹھانا پسند نہیں فرماتے۔ جونہی میرے دل میں یہ خیال گزرا حضرت اقدسؑ نے فوراً اس رومال کو اٹھالیا اور ایک آدمی کو دے کر فرمایا کہ لے جاؤ۔

حضرت مسیح موعود و مہدی معہود ؑ
مَیں نے دو دفعہ بیعت کی درخواست کی تو یہی فرمایا کہ ابھی ٹھہرو۔ تیسری دفعہ شاید دوسرے تیسرے روز مَیں نے بیعت کی۔ مَیں نے حضورؑ سے عرض کیا کہ مَیں نیک کاموں کی طرف دل میں رغبت پاتا ہوں لیکن سستی کی وجہ سے نیک کام ہوتے نہیں۔ حضورؑ نے فرمایا: یہ بھی مومن کی ایک نشانی ہے کہ وہ نیک کاموں کی طرف رغبت رکھتا ہے۔ آپ ہر نماز کے بعد گیارہ مرتبہ لَاحَوْلَ وَلَاقُوَّۃَ اِلَّابِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْم پڑھ کر اپنے سینے پر پھونک لیا کریں۔
مَیں حضرت اقدسؑ کے لیکچر سیالکوٹ کے وقت بھی موجود تھا، لیکچر گیلا گیلا (یعنی بالکل تازہ )چھپا ہوا تھا جو حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ نے پڑھا اور لوگوں میں تقسیم بھی کیا گیا۔ حضرت اقدسؑ نے زبانی بھی کچھ تقریر فرمائی۔
سیالکوٹ میں کُل نو دن ٹھہرا۔ پھر وہاں سے جموں پہنچا تو معلوم ہوا کہ حضرت مولوی نورالدین صاحب مہاراجہ کے ساتھ پنجاب میں کہیں گئے ہوئے تھے۔ چند یوم میں تشریف لے آئے اور پھر مہاراجہ کا تار ملنے پر لاہور روانہ ہوگئے۔ لیکن میرا کرایہ ایک شاگرد کو دے گئے۔ مَیں نے اُس سے کرایہ لیا اور لاہور آیا۔ آپؓ نے مجھ سے پوچھا کہ اب کدھر کا ارادہ ہے؟ مَیں نے عرض کیا: فیروزپور کا۔ آپؓ نے مجھے کرایہ دیا اور مَیں اُدھر چل دیا۔

حضرت مولوی عبدالکریم صاحبؓ سیالکوٹی

لاہور میں بھی مَیں نے حضرت اقدسؑ کا ایک لیکچر سنا جو بریڈلاء ہال میں ہوا تھا۔ میرے والد میرے ساتھ تھے۔ ہم سحری کے وقت ہال میں چلے گئے۔ لوگ رات کو ہی لیکچرہال چلے گئے تھے تاکہ جگہ لے لیں۔ لیکچر طلوع آفتاب کے وقت شروع ہونا تھا۔ بہت مخلوق ہر ایک مذہب کی جمع ہوئی۔ حضرت اقدسؑ بگھی میں تشریف لائے جس کے آگے دو گھوڑے جتے ہوئے تھے۔ بگھی سے آگے دو انگریز پولیس کپتان گھوڑوں پر سوار جارہے تھے۔ بگھی کے دائیں بائیں اور پیچھے کی طرف دیگر پولیس افسر گھوڑوں پر سوار ساتھ دوڑ رہے تھے۔ حضورؑ کا لیکچر مولوی عبدالکریم صاحبؓ نے پڑھا۔ حضرت اقدسؑ کے ایک طرف مولوی صاحبؓ اور دوسری طرف حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ کرسیوں پر تشریف فرما تھے۔ جب لیکچر ختم ہوا تو کسی نے عرض کیا کہ حضورؑ خود بھی کچھ فرمائیں۔ لیکن لوگ بول رہے تھے۔ انگریز پولیس کپتان نے چپ کروانے کی کوشش کی لیکن لوگوں نے ایک نہ سنی۔ حضورؑ نے مولوی عبدالکریم صاحبؓ کو قرآن مجید پڑھنے کا ارشاد فرمایا۔ انہوں نے ابھی بیٹھے بیٹھے اَعُوْذُ ہی پڑھی تھی کہ سب چپ ہوگئے۔ آپؓ پر قرآن مجید پڑھنا ختم تھا۔ چنانچہ میاں چراغ الدین صاحبؓ کے مکان پر ایک بار نماز ہونے لگی جہاں حضرت اقدسؑ اُترے ہوئے تھے تو سڑک پر جمع ہونے والے تماش بینوں نے خاموش رہنے کی درخواست کی گئی لیکن وہ شور مچاتے رہے۔ مولوی عبدالکریم صاحبؓ نے فرمایا: تکبیر کہو۔ تکبیر کہی گئی اور جب آپؓ نے بِسْمِ اللّٰہ کہا تھا تو سبحان اللہ! ایسی سریلی آواز تھی کہ سب شریر چپ ہوگئے۔
حضرت اقدسؑ کے لیکچر کے وقت دو تین مخالف مولوی بازاروں اور راستوں پر منادی کرتے رہے کہ جو لیکچر سننے جائے گا وہ کافر ہوجاوے گا۔ یہی طریق سیالکوٹ میں بھی شریروں نے اختیار کیا تھا تاکہ کوئی لیکچر سننے نہ جائے۔ وہ لیکچر جمّوں کے مہاراجہ کی سرائے کے اندر ہوا تھا اور اُس وقت بھی حضورؑ بندبگھی میں اپنی فرودگاہ سے سرائے تک تشریف لائے تھے۔ سرائے کے باہر دروازے کے پاس مخالفین نے ایک خیمہ لگارکھا تھا جس میں مولوی بھی لیکچر کررہے تھے اور شور مچا مچا کر لوگوں کو روکتے تھے کہ جو اندر لیکچر سننے جائے گا اُس کا نکاح ٹوٹ جائے گا اور وہ کافر ہوجائے گا۔ پولیس کپتان عیسائی تھا، وہ کہتا تھا کہ عجیب بات ہے کہ یہ شخص یعنی حضرت اقدسؑ ہمارے برخلاف اسلام کی تائید میں لیکچر دے رہا ہے اور ہم تو عیسائی ہوکر اس کی حفاظت کررہے ہیں اور یہ مسلمان مولوی لیکچر سننے سے لوگوں کو روکتا ہے۔
حضرت چودھری تصدق حسین صاحبؓ نے تیسری مرتبہ کسولی پہاڑ سے قادیان حاضر ہوکر حضورعلیہ السلام کی مجلس میں شریک ہونے کی سعادت پائی۔

مسعود احمد دہلوی صاحب

آپؓ کی زندگی کا ایک بڑا حصہ سرگودھا شہر میں گزرا۔ آپؓ کی شادی محترمہ صغریٰ خانم صاحبہ بنت حضرت مولوی محمودالحسن خان صاحبؓ آف پٹیالہ یکے از 313 کے ساتھ ہوئی۔ دونوں میاں بیوی تحریک جدید کے پانچ ہزاری مجاہدین میں شامل تھے۔ آپؓ نے 15؍اپریل1940ء کو بعمر 69؍سال ہجن میں وفات پائی اور وہیں تدفین ہوئی۔ آپؓ کی اہلیہ محترمہ نے 10؍اپریل 1959ء کو 78؍سال کی عمر میں وفات پائی۔ آپؓ کے ایک بیٹے مکرم چودھری عطاءاللہ رانجھا صاحب اور ایک بیٹی مکرمہ سلیمہ بیگم صاحبہ اہلیہ مکرم مسعود احمد خان دہلوی صاحب (سابق ایڈیٹر الفضل ربوہ) تھیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں