خطاب حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز برموقع افتتاح جامعہ احمدیہ جرمنی دسمبر2012

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

آج ہمارے درمیان اس وقت علاوہ، جامعہ کے طلباء کے علاوہ، احمدیوں کے علاوہ بعض معزز مہمان دوسرے بھی آئے ہوئے ہیں۔ جو ان کا اسلام سے تعلق نہیں۔ دوسرے مذاہب سے ہیں۔ اس لئے پہلے تو میں ان سب کا شکریہ ادا کرتا ہوں جو ہمارے اس فنکشن کے لئے تشریف لائے اور اس کو رونق بخشی ۔ اس بات کا اظہار کیا کہ جماعت احمدیہ وہ پُرامن اسلام پیش کرنے والی ہے جو حقیقی اسلام ہے۔ اس بات کا اظہار کیا کہ ہمارے مختلف مذاہب میں آپس میں روابط ہونے چاہئیں۔ اس بات کا اظہار کیا کہ اس ملک کے پڑھے لکھے، یہاں کے پڑھے لکھے نوجوان بچے اس جامعہ احمدیہ میں داخل ہوئے ہیں، تعلیم حاصل کر رہے ہیں، تا کہ یہاں کے لوگوں کو صحیح اسلام کی تصویر پیش کریں، حقیقی اسلام کے متعلق بتائیں۔ اسلام کے متعلق جو بعض غلط فہمیاں پیدا کر دی گئی ہیں بعض شدت پسندوں کی طرف سے، اُن کو دور کریں۔ بہر حال یہ سارے اظہار ایسے ہیں جو اس بات کا بھی اظہار ہیں کہ اُن کو جماعت احمدیہ سے توقعات ہیں اور انشاء اللہ تعالیٰ جیسا کہ جماعت احمدیہ کی گزشتہ ایک سو تیئس، چوبیس سالہ تاریخ گواہ ہے۔ احمدیت وہ حقیقی اسلام ہے جو محبت اور پیار اور بھائی چارے کو پیش کرنے والی ہے۔ اور انشاء اللہ تعالیٰ یہ دیکھیں گے کہ یہاں کے فارغ ہونے والے طلباء اُس اسلام کی حقیقی تصویر اس ملک کے لوگوں کو بتائیں گے۔ یہاں میں ایک بات کا اور بھی اضافہ کر دوں کہ یہاں زیادہ اظہار یہ ہوتا رہا کہ جرمنی کے طلباء یہاں کے پڑھے لکھے، جبکہ اس جامعہ احمدیہ میں جو یورپ کے باقی ممالک ہیں، بیلجیئم ہے، ہالینڈ ہے، اس کے علاوہ بھی کچھ ملک ہیں، ان کے طلباء بھی یہاں پڑھ رہے ہیں۔ (فرانس) تو یہ صرف جرمنی کے طلباء نہیں یہاں پڑھ رہے بلکہ اس چھوٹے شہر میں جو میئر صاحب نے کہا کہ لندن کے بعد یہ چھوٹا سا شہر ہے جس میں جامعہ احمدیہ وِرشٹاٹ ہیمر جامعہ احمدیہ ہے جہاں، اسلامی تعلیم دی جا رہی ہے، سکول قائم ہوا۔ اس شہر میں وہ سکول قائم ہوا جس میں صرف جرمنی کے طلباء نہیں بلکہ یورپ کے مختلف ممالک کے طلباء بھی آ کے تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ گویا اس چھوٹے شہر سے علم کی ایک روشنی نکل کے سارے یورپ میں پھیلنے والی ہے۔ اور یورپین یونین تو اپنے معاشی حالات کی وجہ سے، اقتصادی حالات کی وجہ سے، سیاسی حالات کی وجہ سے ایک ہو کے کام کر رہی ہے لیکن مذہب کی طرف یورپی یونین توجہ نہیں دے رہی۔ تو یہ جماعت احمدیہ ہے جس نے ایک وِرشٹاٹ میں ایک ایسی اکائی یورپ کی بھی قائم کر دی ہے جہاں سے دینِ اسلام کی حقیقی تعلیم دینے والے لوگ سارے یورپ میں پھیل کر اور ہو سکتا ہے کہ یورپ سے باہر نکل کے بھی اسلام کی حقیقی تصویر کو پیش کریں۔ تو اس لحاظ سے بھی یہ اعزاز اس شہر کو حاصل ہے۔

اب میں مہمانوں سے چند باتیں کرنے کے بعد جو میرا اصل مقصد ہے، یہاں کے طلباء کو آج جامعہ کے افتتاح کے حوالے سے کچھ کہنے کا، اُس طرف آتا ہوں۔ جامعہ کے طلباء اور تمام جماعت احمدیہ جرمنی کو اس بات پر اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہئے کہ اُس نے اُنہیں توفیق دی کہ یہاں جامعہ احمدیہ قائم کیا۔ ایک بہت بڑا پراجیکٹ تھا، جماعت احمدیہ کوئی ایسی جماعت نہیں ہے جس کے پاس تیل کا پیسہ ہے یا جو تجارتوں پر انحصار کرتی ہے۔ جماعت احمدیہ تو وہ ایک چھوٹی سی جماعت ہے جو اپنے سارے پراجیکٹس، چاہے وہ مساجد ہوں، چاہے مشن ہاؤس ہوں، مشنریز کو باہر بھیجنا ہو، تبلیغی پروگرام ہوں، لٹریچر کی اشاعت ہو، جامعہ کے مربیان اور معلمین تیار کرنا ہوں۔ یہ سب جماعت احمدیہ کے افراد اپنے قربانی کر کے مالی قربانی کر کے چندوں کے ذریعہ سے ان اخراجات کو پورا کرتے ہیں۔ تو یہ بہت بڑا پراجیکٹ جیسا کہ میں نے کہا، یہ تھا اور میرا خیال تھا کہ شاید ایک دو سال اور لگ جائیں اس کو مکمل ہوتے، لیکن اللہ کے فضل سے جماعت احمدیہ جرمنی کو اللہ تعالیٰ نے توفیق دی کہ اس کو انہوں نے بڑی جلدی مکمل کر لیا اور آج ایک خوبصورت عمارت جس میں تمام قسم کی سہولتیں مہیا ہیں، طلباء جامعہ احمدیہ کے لئے مہیا کر دی۔ اس بات پر طلباء کو بھی اللہ تعالیٰ کا شکر گزار ہونا چاہئے اور اب اس شکر گزاری کا ایک اظہار یہ بھی ہے کہ اپنی تعلیم پر پوری توجہ دیں، اُس مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کریں جس کے لئے آپ جامعہ احمدیہ میں داخل ہوئے اور وہ مقصد یہ ہے کہ دنیا کو تباہی سے بچانا۔ اپنے اندر وہ پیار اور محبت دنیا کے ہر شخص کے لئے پیدا کرنا جس کی مثال ایک دنیاوی شخص میں ہمیں ملتی ہو۔ پس اس ذمہ داری کو سمجھیں اور اس مقصد کے حصول کے لئے اپنی تعلیم حاصل کریں اور اس مقصد کے حصول کے لئے اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اس کو احسن رنگ میں پھیلانے کا عہد کریں۔ دنیا کو تباہی سے بچانا کس طرح ہے؟ ایک تو دنیاوی کوششیں ہیں، سیاسی کوششیں ہیں، امن اور محبت اور پیار کا پیغام ہم دیتے رہتے ہیں۔ دنیا کو جنگ کے حالات سے دنیادار بھی ڈراتے ہیں، میں بھی مختلف موقعوں پر کہتا رہتا ہوں لیکن ایک مبلغ ایک مربی جو جامعہ احمدیہ میں تعلیم حاصل کر رہا ہے، اُس نے دنیا کو خدا تعالیٰ کے وجود کا احساس دلانا ہے۔ خدا تعالیٰ کے قریب لانے کے لئے اپنی ذمہ داریوں کو نبھانا ہے۔ دنیا کو یہ باور کرانا ہے کہ دنیا میں امن، انصاف اور محبت اُس وقت تک قائم نہیں ہو سکتی جب تک یہ احساس دل میں پیدا نہیں ہو گا کہ ہمارے ہر کام اور ہر فعل کو خدا تعالیٰ دیکھ رہا ہے۔

پس جہاں آپ دنیا کو یہ احساس دلانے کے لئے اپنی کوششیں کریں گے وہاں سب سے پہلے اپنے آپ کو اس احساس اور اس ذمہ داری کا حقدار بنانا ہو گا۔ اپنے آپ کو، اپنے آپ پر یہ تعلیم لاگو کرنی ہو گی۔ اپنے آپ کا خدا تعالیٰ سے تعلق پیدا کرنا ہو گا، تبھی آپ حقیقی رنگ میں دوسروں کو بھی بتا سکتے ہیں کہ خدا کیا ہے؟ خدا کی تعلیم کیا ہے؟ خدا کو اپنی مخلوق سے کتنا پیار ہے؟ اور اُس پیار کی وجہ سے ہی خدا تعالیٰ نے ہر زمانے میں دنیا کی اصلاح کے لئے نبی بھیجے اور آخر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اس دنیا میں بھیجا اور دین کو کامل اور مکمل کر دیا اور پھر جو ایک قدرتی پراسیس ہے، اُس میں بعض دفعہ دین میں خرابیاں بھی پیدا ہو جاتی ہیں۔ اس آخری کامل اور مکمل دین کی پھر تجدید کے لئے از سرِ نو اُس کو رائج کرنے کے لئے اُس کو خوبصورت رنگ میں پیش کرنے کے لئے اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا۔ پس یہ باتیں جب آپ بتائیں گے تو اس سے پہلے آپ کو خود اپنے آپ کو دیکھنا ہو گا کہ آپ کیا ہیں؟ آپ کا اپنا خدا تعالیٰ سے تعلق کیسا ہے؟ آپ کا اسلام کی تعلیم پر عمل کیسا ہے؟ آپ کو مخلوقِ خدا سے کس قدر محبت اور پیار ہے؟ یہ باتیں رکھیں گے سامنے تو پھر انشاء اللہ تعالیٰ آپ کے کاموں میں برکت پیدا ہوتی چلی جائے گی۔ اللہ تعالیٰ نے جو دین کے سیکھنے والے ہیں، قرآنِ کریم میں آتا ہے کہ دین کے سیکھنے والے وہ تفقہ فی الدین کرتے ہیں۔ تفقہ فی الدین کا حکم ہے کہ ایک گروہ تم میں سے ایسا ہو جو تفقہ فی الدین کرے اور ماں باپ نے آپ کو، بہت سارے ایسے واقفینِ نو ہیں جن کو ماں باپ نے پیدائش سے پہلے دین کے سیکھنے کے لئے وقف کیا۔ اُس کے بعد آپ نے خود اپنے آپ کو پیش کیا۔ کوئی مجبوری نہیں تھی، کوئی زبردستی نہیں تھی، آپ نے اپنے آپ کو خود والنٹیئر کیا، خودآپٹ کی، آپشن اس بات کو پیش کیا کہ ہم نے دین کے لئے اپنے آپ کو پیش کرنا ہے اور دین کی خدمت کرنی ہے۔ پس یہ جب دین سیکھ لیا یا سیکھنے کی طرف آئے تو اُس کا احساس بھی آپ کو ہونا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے تفقہ فی الدین کے ساتھ یہ بھی بتایاتھا کہ تمہارے کیا مقصد ہونے چاہئیں۔ یہ کہ ہر قوم کو یا جہاں بھی تمہارا ماحول ہے تم اُس کو ہوشیار کرو۔ جیسا کہ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی طرف لاؤ۔ خدا تعالیٰ کے وجود سے ہوشیار کرو۔ دین کی ضرورت کا احساس دلاؤ اور غلط کاموں اور گمراہی سے بچنے کی طرف توجہ دلاؤ۔ اللہ تعالیٰ نے اسلام میں جہاں حقوق العباد کی اہمیت بیان فرمائی ہے، حقوق اللہ کی اہمیت بیان فرمائی ہے، اپنے حق کی اہمیت بیان فرمائی ہے، وہاں بندوں کے حقوق، حقوق العباد کی بھی بہت زیادہ اہمیت بیان فرمائی ہے۔ اور حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بھی یہی فرمایا کہ دو بڑے مقاصد ہیں جن کو میں لے کر دنیا میں آیا ہوں۔ ایک، بندے کو خدا سے قریب کرنا اور دوسرا، بندوں کو ایک دوسرے کے حق اد اکرنے کی طرف توجہ دلانا۔ اور پھر اسی میں ایک دوسری بات بھی نکلتی ہے، اس حق میں سے کہ تمام قسم کی مذہبی جنگوں کا خاتمہ کرنا۔ تو آج جو اسلام کی تصویر دنیا میں پیش کی جا رہی ہے کہ جی اسلام شدت پسند مذہب ہے، سخت مذہب ہے، اسلام صرف terrorismکو ہوا دیتا ہے، اس کو دماغوں سے نکالنا اور اُس کے لئے پھر آپ کو اپنے رویوں میں بھی تبدیلی کرنی ہو گی، اپنے رویوں کو بھی ایسا بنانا ہو گا کہ آپس میں اتنا پیار اور محبت ہو، رحماء بینھم کا تو حکم ہے آپ کو، لیکن یہ بھی حکم ہے ساتھ کہ ایک مسلمان حقیقی مسلمان وہ ہے جس سے ہر دوسرا امن پسند محفوظ ہے۔ ہر شخص جو سلامتی بھیجنے والا ہے، پیار محبت پھیلانے والا ہے وہ محفوظ ہے۔ نہ صرف محفوظ ہے بلکہ اُس کی حفاظت بھی آپ کے ذمہ ہے۔ پس یہ تعلیم آپ نے دنیا کو دینی ہے اور یہی وہ مقصد جو ہے جسے آپ تفقہ فی الدین کا حق ادا کرنے والے بن سکیں گے۔ اس طرف ہر وقت آپ کو توجہ ہونی چاہئے۔ اور اس کے علاوہ حقوق العباد میں پھر بہت ساری دوسری اعلیٰ اخلاقی قدریں آ جاتی ہیں۔ تو ان کی تفصیل میں جتنا جتنا جائیں، وہ آپ پر کھلتی چلی جائیں گی۔ ان کی تفصیل حاصل کرنا اور اُس کے مطابق عمل کرنا یہ آپ کا کام ہوگا۔ اور یہ حقیقی روح پیدا کرنے کے لئے بھی اللہ تعالیٰ نے ہمیں قرآنِ کریم میں ایک مثال دے دی، کس طرح تم پیدا کر سکتے ہو۔ فرمایا کہ شہد کی مکھی کو بھی مثال بنا لو۔ جس طرح شہد کی مکھی کام کرتی ہے، اُس طرح تم نے کام کرنا ہے۔ شہد کی مکھی اپنے چھتے اب تو خیر ڈومیسٹک مکھیاں بھی پالنے لگ گئے ہیں، ڈبوں میں نیچے بھی رکھ دیتے ہیں، لیکن تب بھی ایک اونچائی ہوتی ہے اُن کی، عموماً شہد کی مکھی اپنے چھتے اونچی جگہوں پر بناتی ہے۔ پہاڑوں پر بنائے گی، درختوں پر بنائے گی یہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے اور یہی ہم دیکھتے بھی ہیں، اس لئے آپ کی سوچیں بھی اونچی ہونی چاہئیں۔ آپ کی علم کی وسعتیں بھی اونچائی تک پہنچنی چاہئیں۔ یہ نہیں کہ زمینی چیزوں پر انحصار ہو جائے بلکہ آسمانوں کی طرف پرواز ہونی چاہئے آپ کی۔ آپ کے ٹھکانے اللہ تعالیٰ کی ذات پر ہونے چاہئیں نہ زمینی لوگوں پر۔ یہ ایک سبق بھی ہے شہد کی مکھی جو ہمیں دیتی ہے کہ اونچی جگہوں پر اپنے ٹھکانے بنانے ہیں آپ نے اور سب سے اونچا ٹھکانہ خدا تعالیٰ کی ذات ہے، اُس ٹھکانے کو پکڑ لیںتو کوئی دنیاوی ٹھکانا آپ کو نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ آپ یہاں اللہ تعالیٰ نے کہا ہے نہ مختلف پھلوں سے، نیکٹر سے شہد حاصل کرتی ہے مکھی، آپ کو یہاں بھی مختلف پھل پیش کئے جا رہے ہیں، اب قرآن جو ایک تمام قسم کی خوبیوں کا منبع ہے، ہر قسم کی تعلیمات کا منبع ہے، خدا تعالیٰ تک پہنچانے کا ذریعہ ہے، بندوں کے حقوق ادا کرنے کا بہترین سبق اس میں موجود ہے۔ مذہبی رواداری قائم کرنے کا سبق اس میں موجود ہے۔ ہر مذہب کا لحاظ اور اُس کی عزت کرنے کا سبق اس میں موجود ہے۔ تو اس کی تعلیم آپ یہاں حاصل کر رہے ہیں، پھر اُس کی تشریح میں احادیث ہیں جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمائی ہیں، اُن کی تعلیم آپ یہاں حاصل کر رہے ہیں۔ پھر فقہاء نے اُس کی مختلف تشریحات کی ہیں، فقہ پڑھ رہے ہیں، اُس کی تعلیم آپ حاصل کر رہے ہیں، پھر آپس میں مذہب کو جاننے کے لئے، ایک دوسرے کے مذہب کو جاننے کے لئے آپ موازنہ مذاہب کی تعلیم بھی یہاں حاصل کر رہے ہیں۔ عیسائیت کی تعلیم حاصل کریں گے، یہودیت کی تعلیم کو بھی دیکھیں گے، بدھ ازم کی تعلیم کو بھی دیکھیں گے، دوسرے مذاہب کو بھی دیکھیں گے تا کہ یہ دیکھیں کہ ان کی تعلیم کیا ہے اور اسلام کی تعلیم کیا ہے۔ اگر کوئی مذہب اسلام پر اعتراض کرتا ہے تو اُس کا آپ نے کس طرح جواب دینا ہے۔ اور بجائے اس کے کہ دوسرے مذاہب کی برائیاں دوسروں کو بیان کریں، اسلام کی خوبیاں مختلف قسم کی تعلیمات، مذاہب کی تعلیمات کو حاصل کرنے کے بعد پھر اسلام کی خوبیاں لوگوں کو بتانی ہیں۔ پس یہ گہرائی سے مطالعہ بھی آپ کے لئے ضروری ہے۔

پھر یہ بھی کہ بعض خاص قسم کے شہد ہوتے ہیں جو ملکہ کے لئے تیار کئے جاتے ہیں، اُس میں تخصص ایک خصوصی بات آگئی آپ کی، جب آپ پڑھ کے نکلیں گے تو بعض اُس میں آپ مضامین میں سپیشلائز بھی کریں گے، وہ ایسا ہے جو شہد جو مختلف بیماریوں کا علاج کرے گا۔ تو اس کو اگر آپ اپنے سامنے رکھیں اس مثال کو تو ایک عجیب سبق ہمیں ملتا چلا جاتا ہے اس سے، لیکن یہ سب چیز حاصل کرنے کے بعد پھر کیا سبق دیا شہد کی مکھیوں نے۔ فرمایا فاسلکی سبل ربک ذللا۔ کہ اپنے رب کے راستوں پر عاجزی کرتے ہوئے چلنے والی ہیں۔ علم حاصل کرنے کے بعد قرآن اور حدیث اور مختلف مذاہب کا علم حاصل کرنے کے بعد تکبر اور غرور نہیں پیدا ہونا چاہئے پھر ایک مبلغ میں اور ایک مربی میں، بلکہ وہ عاجزی دکھائے، اُن رستوں پر چلے جو لوگوں کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔ شہد کی مکھی ہے، شفاء للناس۔ لوگوں کے لئے شفاء کا صحت کا انتظام کر رہی ہے۔ آپ نے اپنے علم سے روح کی صحت کا انتظام کرنا ہے۔ روحانی شفاء ہمارے مبلغین کے ذریعے سے ملنی چاہئے۔ یہ مطمح نظر ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں۔

پس یہ چیزیں اگر آپ سامنے رکھیں گے تو پھر دیکھیں دنیا آپ کی طرف کس طرح کھنچی چلی آتی ہے۔ آپ کے مقاصد میں کس قدر کامیابی ہوتی ہے۔ دنیا کو اسلام کی خوبصورت تعلیم کا کس طرح پتا لگتا ہے۔ چاہے وہ جرمنی کے رہنے والے لڑکے ہیں جو یہاں تعلیم حاصل کر رہے ہیں یا بیلجیئم سے آئے ہوئے لڑکے ہیں جو تعلیم حاصل کر رہے ہیں، یا فرانس سے آئے ہوئے بچے ہیں جو تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یا ہالینڈ کے لڑکے ہیں جو مبلغ بن کے نکلیں گے انشاء اللہ اور وہاں جا کے تبلیغ کریں گے۔ ہر ایک اپنے اپنے علاقے میں جا کے ایک روح کی شفاء کا انتظام کر رہا ہو گا۔ پس وہ شفاء بن جائیں آپ۔ اب دیکھیں علم حاصل کا جہاں تک تعلق ہے، کئی دفعہ مثالیں بیان کر چکا ہوں۔ غیر از جماعت مولوی ہیں، وہ بھی بڑے بڑے عالم ہیں۔ کئی کئی لمبے لمبے حوالے اُن کو یاد ہیں، احادیث کی کتابوں کی کتابیں اُن کو زبانی یاد ہیں۔ قرآنِ کریم کی آیتیں اُن کو یاد ہیں۔ نمبر دے کے حوالے بھی دے دیتے ہیں لیکن کیونکہ زمانے کے امام سے اُن کی تربیت نہیں اس لئے ایک تو اس کو وہ صحیح طرح سمجھ نہیں سکتے، دوسرے یہ علم اُن میں تکبر پیدا کر دیتا ہے اور وہ تکبر جو ہے پھر اُن کو بجائے آسمانوں کی طرف لے جانے کے زمین کی گہرائیوں کی طرف لیتا چلا جاتا ہے۔ وہ دنیا کی طرف جھکنے والے بن جاتے ہیں۔ اُن کی انانیت اور عزتیں جھوٹی انانیت اور جھوٹی عزتیں اُن کو وہ روحانی مقام نہیں دلاتیں جو ایک صحیح، حقیقی مبلغ اور عالمِ دین کو ہونا چاہئے۔ پس یہ چیزیں اگر آپ سامنے رکھیں تو آپ پھر اس سے مزید عبرت حاصل کریں گے۔

پس دوبارہ میں یہی بات کہوں گا کہ اگر مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کے لئے آپ لوگوں نے جنہوں نے اپنے آپ کو اس کام کے لئے آپٹ کیا ہے، پیش کیا ہے، حقیقی مددگار بننا ہے تو پھر اپنے اس ادارے میں اپنی تعلیمی معیاروں کو بھی بلند کرتے چلے جائیں اور اپنے اخلاقی معیاروں کو بھی بلند کرتے جائیں، اپنی ہر قسم کی عادات جو ہیں اُن کو ایسا بنائیں جو ایک انتہائی با اخلاق انسان میں ہو سکتی ہیں۔ تا کہ اس علاقے میں بھی اسلام کی خوبصورت تعلیم پیش کر سکیں۔ یا پھر یہاں اس شہر میں، ایک چھوٹا سا شہر ہے یہ کہتے ہیں، بائیس ہزار کی یہاں آبادی ہے۔ اس شہر میں آپ نکلیں تو لوگ آپ کو دیکھ کے یہ نہ سمجھیں کہ یہ عموماً آپ تو ایشین ہی ہیں نہ ایک آدھ ہی ہے شاید سٹوڈنٹ جو کسی یورپ کے ملک کا ہے رہنے والا، مقامی باشندہ۔ عموماً آپ لوگ بیشک یہاں پلے بڑھے ہیں، یہاںپیدا ہوئے ہیں لیکن شکل و صورت آپ کی ایشین کی ہے۔ آپ کو دیکھ کے یہ لوگ ڈر نہ جائیں کہ سو ڈیڑھ سو لڑکا کہاں سے آ گیا اس قسم کے چھوٹے سے شہر میں۔ یہ کہیں طالبان قسم کی کوئی چیز نہ ہوں، کہیں کوئی شدت پسند نہ ہوں، دہشت گرد نہ ہوں، ان کی داڑھیاں، ان کی ٹوپیاں، ان کے لباس عجیب قسم کا تاثر پیش کر رہے ہیں۔ چھوٹے سے شہر میں بڑی جلدی مشہوری ہو جاتی ہے۔ اس لئے اس شہر میں جب آپ اپنے نمونے دکھائیں گے، اپنے اخلاق دکھائیں گے، دوکانوں میں جائیں گے بازار میں پھریں گے، سڑکوں پر جاتے ہوئے لوگوں کو سلام کریں گے، خوش اخلاقی سے پیش آئیں گے، آپ کے چہروں کی نرمی ہو گی تو یہ شہر خود بخود آپ کا گرویدہ ہو جائے گا۔ اور پھر یہی عمل جو ہے اس علاقے میں آپ کی پہچان بن جائے گا۔ اسلام کی خوبصورت تعلیم کو پھیلانے کا ذریعہ بن جائے گا۔

پس یہ بہت بڑی ذمہ داری ہے، یہ کام صرف یہ نہیں کہ جامعہ سے فارغ ہونے کے بعد سات سال کے بعد جب آپ فارغ ہوں گے تو تبھی آپ نے میدانِ عمل میں جانا ہے، آپ کا میدانِ عمل ابھی سے شروع ہو گیا ہے۔ یہ بائیس ہزار کی آبادی آپ کی طرف دیکھ رہی ہے کہ کیا جماعت احمدیہ جو کہتی ہے وہ کرتی بھی ہے یا نہیں اور اس کی صحیح تصویر کشی آپ کے عمل سے آپ کے اٹھنے بیٹھنے سے، آپ کے رکھ رکھاؤ سے، آپ کے باتیں کرنے سے، شہر میں پھرنے سے، بازاروں میں جانے سے ہو گی۔ اور اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں کہ اس شہر میں آپ مبلغ بن چکے ہیں ابھی چاہے اولیٰ میں پڑھ رہا ہے، ممہدہ میں پڑھ رہا ہے یا ثانیہ میں یا خامسہ میں۔ آپ اس شہر کے مربی بھی ہیں۔ آپ اس شہر میں اسلام کے سفیر بھی ہیں۔ اور اس ملک میں بھی۔ پس ان باتوں کو ہمیشہ یاد رکھیں اور اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں۔ خالصتاً مکمل خالص ہو کر اپنی تعلیم کی طرف توجہ دیں اور کسی بھی قسم کا ایسا اظہار آپ سے نہ ہو جو جماعت کی بدنامی کا باعث بننے والا ہو۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ آپ ان تمام باتوں کو کرنے والے ہوں اور حقیقی رنگ میں مبلغ اور مربی بن کے یہاں اسلام کی روشنی کو پھیلانے والے ہوں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں