خطاب حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز برموقع تقریب تقسیم اسناد جامعہ احمدیہ یوکے9 جون 2012

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

الحمد للہ کہ آج جامعہ احمدیہ یوکے (UK) کی پہلی شاہد کلاس میدانِ عمل میں جانے کے لئے تیار ہے۔ ہمیشہ یاد رکھیں، اس علم کے بعد جو آپ نے سات سال جامعہ احمدیہ میں رہ کر حاصل کیا ہے، اُس علم کے حصول کی ابتدا ہوئی ہے جو آپ نے اپنی زندگی میں اب حاصل کرتے چلے جانا ہے۔ یہ سات سال کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد آپ کی تعلیم کی انتہا نہیں ہوئی، بلکہ اس تعلیم کی اب ابتدا ہوئی ہے۔ اور اب میدانِ عمل میں جا کے جہاں آپ نے عملی زندگی کا آغاز کرنا ہے وہاں آپ نے علم کو بھی اب آگے بڑھاتے چلے جانا ہے۔ اس ابتدا کو انتہا تک پہنچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں جو دعا سکھائی ہے، اُس کو ہمیشہ یاد رکھیں اور وہ ہے رَبِّ زِدۡنِیۡ عِلۡمًا۔ (طٰہٰ:115)پس اللہ تعالیٰ سے عاجزی اور انکساری کے ساتھ اُس کے حضور جھکتے ہوئے یہ دعا مانگتے رہیں گے تو آپ کے علم میں اضافہ ہوتا رہے گا۔ اور پھر اللہ تعالیٰ آپ کے ذہنوں کو بھی مزید جلا بخشے گا ۔ آپ کی طاقتوں میں بھی اضافہ ہو گا۔ آپ کے وقت میں بھی برکت پڑے گی جس سے آپ کو مزید علم حاصل کرنے میں آسانیاں پیدا ہوتی رہیں گی۔ پس اللہ تعالیٰ کے حضور جھکتے ہوئے اس مقصد کو ہمیشہ سامنے رکھیں۔

 دعا کے لئے ہمیشہ یاد رکھیں، جامعہ احمدیہ کے طلباء اللہ تعالیٰ کے فضل سے دینی علم بھی رکھتے ہیں، قرآن بھی پڑھا ہے، حدیث بھی پڑھی، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا کلام بھی پڑھا، میرے خطبات بھی سنتے رہے اور جہاں تک مجھے علم ہے، جہاں تک میں نے assess کیا ہے، پرکھا ہے، دیکھا ہے، اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑے شوق سے اس طرف توجہ رہی ہے، اور آپ جانتے ہیں کہ ان تمام باتوں کا محور یہی رہا ہے کہ اپنے خدا سے ایسا دل لگائیں کہ جس کی کوئی مثال نہ ملتی ہو۔ اور مجھے امید ہے کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے آپ میں سے بہتوں نے اس کی کوشش کی ہے اور کر رہے ہیں یا کی ہو گی اور کر رہے ہوں گے۔ کیونکہ خدا تعالیٰ سے دل لگائے بغیر ہماری کوئی کوشش کبھی کامیاب نہیں ہو سکتی۔ اور دعا کی قبولیت کے لئے آپ سب جانتے ہیں کہ بہترین ذریعہ نماز ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا، آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں بھی کہ جب بھی کوئی مسئلہ سامنے آتا تھا، جب بھی کوئی مشکل سامنے آتی تھی، آپؐ ہمیشہ نماز کے لئے کھڑے ہو جاتے تھے اور اُس میں دعا مانگتے تھے۔

 (ماخوذ از ملفوظات جلد پنجم صفحہ 93۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)

پس دعاؤں کی طرف تو آپ کی توجہ رہے گی انشاء اللہ تعالیٰ، لیکن اس کے لئے نمازوں کی پابندی اور اس پر توجہ رکھیں۔ اپنی دعائیں، اپنی نمازوں اور نوافل میں مانگیں۔ نوافل کی طرف توجہ رکھیں اور اپنے علم کے حصول کے لئے بھی یہ جب دعا اللہ تعالیٰ سے کر رہے ہوں تو صرف زبانی دعائیں نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کے حضور کھڑے ہو کر باقاعدہ اہتمام کے ساتھ اس کے لئے دعا مانگیں۔ انشاء اللہ تعالیٰ، اللہ تعالیٰ آپ کے ذہنوں کو جلا بھی بخشے گا اور اس سے علم میں وسعت بھی پیدا ہو گی۔ نمازوں کے معیار کیا ہونے چاہئیں؟ یہ آپ نے پڑھا بھی ہے، یہ علم تو آپ کو حاصل ہو گیا، اور بعض بچوں کو مَیں جانتا ہوں، بعض لڑکوں کو مَیں جانتا ہوں جو اس معیار کے حصول کے لئے کوشش بھی کرتے ہیں۔ لیکن میدانِ عمل میں آ کر آپ کو مزید اس کے لئے کوشش کرنی ہو گی اور اُس معیار، اُس اسوہ کو ہمیں اپنے سامنے رکھنا چاہئے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے سامنے رکھا۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی ایک موقع پر فرمایا۔ نماز جیسے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے تھے، ویسے پڑھو۔

(ماخوذ از ملفوظات جلد دوم صفحہ191۔ ایڈیشن 2003ء مطبوعہ ربوہ)

             اور وہ نماز کیا تھی، اُس کی خوبصورتی اور لمبائی کے بارے میں حضرت عائشہؓ نے فرمایا: کچھ نہ پوچھو وہ کیا تھی۔

(مسند احمد بن حنبل جلد 8 صفحہ20 مسند عائشۃ حدیث:24574 عالم الکتب بیروت 1998ء)

پس ان نمازوں کی طرف آپ کی توجہ رہے گی، نوافل کی طرف آپ کی توجہ رہے گی تو اللہ تعالیٰ سے ایک تعلق بھی قائم رہے گا اور یہ تعلق ہی ہے جو آپ کو میدانِ عمل میں پھر ہر لحاظ سے کامیابیاں بھی عطا فرمائے گا۔ پس ہمیں اُن نمازوں کی تلاش کرنی چاہئے جس کا اسوہ ہمارے سامنے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمایا اور کوشش یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کے حضور انتہائی عاجزی سے جھک کر اور فنا کی کیفیت پیدا کر کے نمازیں پڑھی جائیں۔ میدانِ عمل میں آ کے جتنی ذمہ واریاں آپ پر پڑنے والی ہیں، اُن کے لئے تو بہت ضروری ہے کہ بہت زیادہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں اور اُس کے حضور جھکیں۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق میں بڑھیں تاکہ آپ کو قدم قدم پر آسانیاں مہیا ہوتی رہیں۔ قدم قدم پر آپ کی ہدایت کے سامان اللہ تعالیٰ فرماتا رہے۔

اِھۡدِناَ الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ (الفاتحۃ:6)کی جب آپ دعا مانگیں تو ہدایت کے اُن تمام راستوں کو اپنے سامنے رکھیں جو آپ کے لئے بھی ضروری ہیں اور جن کی ہدایت کا سامان آپ نے بننا ہے، اُن کے لئے بھی ضروری ہیں۔ پس اب آپ کا میدانِ عمل میں آنا اور آپ کی اپنی اصلاح صرف اپنے لئے نہیں، بلکہ آپ کے نمونے اب دوسروں کے لئے بھی راہِ ہدایت کا باعث بننے والے ہیں۔ پس اس بات کو ہمیشہ اپنے سامنے رکھیں۔ اُن راستوں کی تلاش کریں جو خدا تعالیٰ کو پسند ہیں۔ اِھۡدِناَ الصِّرَاطَ الۡمُسۡتَقِیۡمَ کی دعا تو ہم مانگتے ہیں لیکن شیطان نے بھی یہی کہا تھا کہ میں صراط مستقیم پر ہی بیٹھوں گا۔ پس صراط مستقیم کا یہ مطلب نہیں کہ آپ کو ایک ہدایت مل گئی، سیدھے راستے پر چل پڑے تو اب کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ شیطان ہر قدم پر آپ کے لئے اُسی رستے پر بیٹھا ہوا ہے۔ نفس میں بگاڑ پیدا کرنے کے لئے بیٹھا ہوا ہے۔ بعض لوگوں کو یہ خیال ہو جاتا ہے، علم حاصل کر کے شاید ہمارے اندر ایک علمی قابلیت پیدا ہو گئی ہے کہ اب ہم اپنے آپ کو ماہر سمجھنے لگ گئے ہیں یا دوسروں کا منہ بند کرا سکتے ہیں۔ یہ سب خیالات ترقی کی راہ میں روک ہیں۔ یہ وہ خیالات ہیں جو نفس میں شیطان پیدا کرتا ہے۔ پس کبھی اپنے آپ کو کامل نہ سمجھیں۔ کبھی اپنے آپ کو کسی بھی علم میں ماہر نہ سمجھیں۔ perfection کبھی کسی میں نہیں پیدا ہوسکتی۔ ہاں اُس کی تلاش ہمیشہ رہتی ہے۔ کامل انسان دنیا میں ایک پیدا ہوا اور وہ کامل انسان ہمارے لئے اُسوہ حسنہ ہے۔ اُس کے قدموں پر چلنا ہمارے لئے ضروری ہے۔ اُس کی عاجزی کی بھی مثالیں دیکھیں تو انتہا کو چھو رہی ہیں۔ اُس کی عبادات کی مثالیں دیکھیں تو انتہا کو چھو رہی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآنِ کریم آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل فرمایا، علم و عرفان کی انتہا تو ہونی تھی لیکن آپؐ نے پھر بھی نہیں کہا کہ میرے اُسوہ پر چلو، بلکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ پیروی کرو گے تو تب ہی میرے سے تعلق بھی پیدا ہو ں گے۔ (آل عمران:32)

 پس یہ نمونے ہمارے سامنے ہیں اور اس زمانے میں آپ کے عاشقِ صادق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے نمونے ہمارے سامنے ہیں۔ ان باتوں کی ہمیشہ جگالی کرتے رہیں تو سیدھے رستے پر قائم رکھیں گے، چلتے رہیں گے۔ اور اُن رستوں پر شیطان جتنی بھی روکیں ڈالے گا اُس سے بچ کر انشاء اللہ تعالیٰ گزرتے چلے جائیں گے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔

            حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اپنے ایک شعر میں فرمایا۔                    ؎

بدتر بنو ہر ایک سے اپنے خیال میں                 شاید اسی سے دخل ہو دارالوصال میں

(براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21 صفحہ 18)

پس اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے کے لئے، اللہ تعالیٰ کا پیار حاصل کرنے کے لئے اپنی عاجزی کو ہمیشہ سامنے رکھیں۔ جیسا کہ مَیں پہلے بھی کہہ چکا ہوں، کبھی یہ خیال نہ آئے کہ ہمارے اندر کوئی علم و معرفت کے ایسے دروازے ہم پر کھل گئے ہیں کہ اب ہم ہر ایک کا منہ بند کرا سکتے ہیں۔ یقینا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے کہ تیرے ماننے والے علم و معرفت میں ترقی حاصل کریں گے اور منہ بند کرائیں گے۔

(ماخوذ از تجلیات الٰہیہ روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 409)

لیکن اپنے دل میں، اپنے خیال میں، اپنے زُعم میں کبھی یہ نہ سمجھیں کہ ہم اس انتہا کو چھو گئے ہیں۔ ہاں ہر دفعہ، ہر مرتبہ، ہر میدان میں جب اللہ تعالیٰ آپ کو کامیابی عطا فرمائے تو مزید جھکتے چلے جائیں۔ حقیقی علم وہی ہے جو عاجزی پیدا کرتا ہے۔ اور یہ عاجزی پھر آگے علم و عرفان میں مزید بڑھاتی چلی جاتی ہے۔ فیلڈ میں جائیں گے، میدانِ عمل میں جائیں گے اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعتیں مربیان کومبلغین کو بڑا عزت اور احترام دیتی ہیں۔ یہ عزت و احترام آپ کو ملے گا لیکن ہمیشہ یاد رکھیں کہ یہ عزت و احترام حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی وجہ سے ہے۔ اُس محبت کی وجہ سے ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ساتھ جماعت کو ہے۔ اُس محبت کی وجہ سے ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جماعت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے اور خدا تعالیٰ کے لئے پیدا کی ہے۔ پس کسی بھی بات کو اپنی بڑائی کا ذریعہ نہ سمجھیں۔ کوئی قدم جس سے آپ کی تعریف ہو اُس کا کریڈٹ کبھی اپنے پر لے کر نہ جائیں بلکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کی عطا اور اُس کی نعمتوں کی وجہ سے ہے۔ اس لئے ہمیشہ اس بارے میں بھی عاجزی اختیار کرتے چلے جائیں اور اسی طرف توجہ رکھیں۔

خلافتِ احمدیہ سے ہمیشہ وفا کا تعلق رکھیں۔ یاد رکھیں آپ نمائندے ہیں خلیفہ وقت کے، جماعتوں میں، جس میدان میں بھی آپ ہیں، جس جگہ بھی آپ کو لگایا گیا ہے۔ اور اس نمائندگی کا حق تبھی ادا ہو سکتا ہے جب آپ اپنے ہر عمل کو خدا تعالیٰ کی رضا کے حصول کا ذریعہ بنائیں گے۔ ہر عمل میں انصاف کو مدّ نظر رکھیں گے۔ ہر عمل میں تقویٰ کو مدّ نظر رکھیں گے۔ اور آپ کیونکہ علم حاصل کر چکے ہیں، دینی علم کے لئے اپنے آپ کو آپ نے پیش کیا۔ کچھ سال جامعہ میں رہ کے اُس کو حاصل کیا اور اب مزید زندگی میں بھی اس کو حاصل کرنا ہے۔ اس لئے کہ سطحی یا موٹے موٹے تقویٰ کی راہیں نہیں جو آپ نے اپنانی ہیں بلکہ ہر اُس شخص کو جو جامعہ احمدیہ سے کامیاب ہو کے نکل رہا ہے، ہر اُس شخص کو جو جامعہ احمدیہ میں پڑھ رہا ہے، ہر اُس مربی کو، ہر اُس مبلغ کو جو میدانِ عمل میں ہے تقویٰ کی باریک راہوں پر چلنا چاہئے تاکہ ان راستوں پر چلتے ہوئے پھر آپ دنیا کی رہنمائی بھی کر سکیں۔ آپ کے اپنے نمونے ہی ہیں جو دنیا کو راہِ راست پر لانے والے ہیں۔ پس ان نمونوں کے اعلیٰ معیار قائم کرنے کی کوشش کریں۔

حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ایک اور الہام بھی ہے جو اکثر میں جامعہ کے طلباء جب مجھے ملتے ہیں یا بعضوں کو میں نے باتوں میں، نصیحتوں میں کہا بھی ہے کہ ’’تیری عاجزانہ راہیں اُس کو پسند آئیں۔‘‘ (تذکرہ صفحہ595 ایڈیشن چہارم شائع کردہ نظارت اشاعت ربوہ)

پس ان عاجزانہ راہوں کی تلاش کرتے رہیں کہ کہاں ملتی ہیں۔ کبھی کوئی اَنانیت آپ میں پیدا نہ ہو۔ کہیں مقابلہ پیدا نہ ہو۔ پھل لگتے ہیں، ثمر دار شاخیں جو ہوتی ہیں تو وہ جھکتی ہیں۔ آپ کو پھل لگیں گے تو مزید جھکتے چلے جائیں۔ آپ کے علم و عرفان میں اللہ تعالیٰ اضافہ فرمائے گا تو مزید جھکتے چلے جائیں۔ اور یہ عاجزی ہی ہے جو آپ کو پھر اونچا کرے گی۔ یہ عاجزی ہی ہے جو آپ کے ہر عمل میں وہ مٹھاس اور شیرینی پیدا کرے گی جو دنیاکو محسوس ہو گی اور یہ پھل ایسا نہیں جو پیٹ میں گیا اور ہضم ہو گیا اور بس دنیاوی لذت حاصل کر لی بلکہ یہ پھل ایسا ہے جو پھر روح کی تازگی کا باعث بنتا ہے اور روح کی تازگی سے اُن لوگوں کو جو آپ سے فائدہ اُٹھائیں گے، خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے والا ہے۔ اُس مزے کا صرف احساس نہیں بلکہ وہ مزہ دلوں میں پیدا کرنے والا ہو گا جو پھر آپ کے ذریعے سے اُن لوگوں میں پیدا ہو گا جن کا تعلق خدا تعالیٰ سے قائم ہو گا۔ پس یہ باتیں ہمیشہ یاد رکھیں کہ ایک مربی، ایک مبلغ کا ہر عمل ایسا ہونا چاہئے جو دوسرے کو بھی فائدہ پہنچانے والا ہو۔

مَیں جامعہ احمدیہ کے طلباء سے روزانہ عموماً جب میں لندن میں ہوا تو ملاقات کرتا رہا۔ روزانہ تین طالب علم میرے پاس ملاقات کے لئے آتے ہیں اور مقصد یہی تھا کہ اُن سے ذاتی تعلق بھی پیدا ہو اور اُن کی رہنمائی بھی ہوتی رہے۔ بعض دفعہ میں ناغے کر دیتا تھا لیکن بعد میں مَیں نے یہ شروع بھی اس لئے کیا کہ حضرت مصلح موعود کی ایک بیٹی اور(پہلے بھی میں ذکر کر چکا ہوں) میر محمود احمد صاحب کی اہلیہ نے ایک خواب دیکھی تھی کہ ایک جہاز ہوا میں اُڑ رہا ہے، ساتھ وہ بھی بیٹھی ہیں، حضرت مصلح موعود اُس میں تشریف فرما ہیں اور وہ جہاز فضا میں چلتا چلا جا رہا ہے اور نیچے جامعہ احمدیہ کی عمارت ہے، وہ بھی ساتھ ساتھ چلتی چلی جا رہی ہے اور ختم ہی نہیں ہو رہی۔ گویا کہ یہ جامعات دنیا میں ہر جگہ پھیلنے والے ہیں اور دوسرے یہ کہ جامعہ احمدیہ سے فارغ ہونے والے دنیا کے مختلف ممالک سے آئے ہوئے طلبا اب دنیا میں پھیلتے چلے جائیں گے اور خلافت کی براہِ راست نگرانی میں یہ رہیں گے۔ اس لئے ضروری تھا، اس کے واسطے میں نے خاص طور پر یہ کر دیا تا کہ کچھ نہ کچھ ذاتی تعلق بھی جن طلباء جامعہ احمدیہ سے میں قائم کر سکتا ہوں، کروں۔ اور اس کو دنیا نے بھی محسوس کیا، لوگوں نے بھی محسوس کیا۔ جامعہ احمدیہ کینیڈا کے سابق پرنسپل مجھے ملے اور کہنے لگے کہ میں نے جامعہ احمدیہ ربوہ کے طلبا بھی دیکھے ہیں، کینیڈا کے بھی، یہاں کے بھی۔ اور یہاں کے طلبا میں جو دوسروں سے ایک فرق ہے، وہ مَیں الفاظ میں بیان تو نہیں کرسکتا لیکن مجھے لگتا ہے کہ دوسروں سے یہ مختلف ہیں۔ اور اگر یہ ہے تو یہ بڑی خوشی کی بات ہے اور مَیں سمجھتا ہوں کہ پھر میرا ان ملاقاتوں کا مقصد بھی پورا ہو گیا کہ آپ لوگوں میں دوسروں سے ایک امتیازی شان ہے۔ اور یہ امتیازی شان صرف جامعہ میں رہتے ہوئے نہیں رہنی چاہئے، میدانِ عمل میں جا کے بھی پہلے سے بڑھ کر اُبھرنی چاہئے۔ جب یہ ابھرے گی انشاء اللہ تعالیٰ، تو پھر آپ حقیقی طور پر جیسا کہ مَیں نے کہا اُس نمائندگی کاحق ادا کرسکیں گے جو خلیفۂ وقت کی نمائندگی ہے جو اپنے اپنے دائرہ عمل میں آپ کے سپرد کی گئی ہے۔ جہاں بھی آپ ہوں، اُس دائرے کے اندر آپ نمائندے ہیں اور اس کو آپ کو پیشِ نظر رکھنا چاہئے۔

مختلف ممالک سے آئے ہوئے طالب علم جامعہ احمدیہ میں پڑھ رہے ہیں، کچھ پڑھ کے فارغ التحصیل ہوئے ہیں۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو وہ سلطانِ نصیر عطا فرمائے ہیں جن کو زبانوں کا کوئی مسئلہ نہیں۔ پہلے ہمیں یہ فکر رہتی تھی کہ جامعہ احمدیہ کے فارغ طالب علموں کو کہاں کہاں بھیجنا ہے اور اُن کو کون کونسی زبانیں سکھانی چاہئیں، کس طرح زبانیں سکھانی چاہئیں، کس حد تک زبان سکھانی چاہئے کہ اُن میں اتنی perfection پیدا ہو جائے کہ آسانی سے ترجمہ کر سکیں۔ اب اللہ تعالیٰ نے یہ انتظام فرما دیا ہے، یہاں جرمنی کے طالب علم بھی ہیں، بیلجیئم کے بھی ہیں، فرانس کے بھی ہیں۔ بیلجیئم میں دو زبانیں بولی جاتی ہیں، اُن کے ماہر بھی ہیں، اللہ تعالیٰ کے فضل سے۔ مطلب ہے کہ اپنی زبان میں اچھے ہیں اور مزید پالش کرتے چلے جائیں۔ فرنچ میں، جرمن زبان میں، نارویجیئن میں، سکینڈے نیویا کی دوسری زبانوں میں، ڈچ میں، انگریزی میں۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ سامان مہیا فرمائے ہیں کہ اب آسانی سے ان ملکوں میں ان کی زبان میں اسلام کا پیغام پہنچایا جاسکے۔ لٹریچر کے ذریعے سے تو پہنچ ہی رہا ہے، اس میں مزید وسعت پیدا کی جائے اور زبانی تبلیغ کے ذریعے سے بھی۔ ابھی تو ابتدا ہے، انشاء اللہ تعالیٰ مزید طالب علم جو یہاں جامعہ میں آتے جائیں گے اور پاس ہو کے میدانِ عمل میں جاتے جائیں گے تو اُس میں وسعت پیدا ہوتی چلی جائے گی۔

            حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے جو یہ نظم میں فرمایا تھا: ’’آ رہا ہے اس طرف احرارِ یورپ کا مزاج۔ ‘‘

(براہین احمدیہ حصہ پنجم روحانی خزائن جلد 21صفحہ131)

تو اس مزاج کے مطابق اُن کی زبان میں اُن کو اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچانا، حق کا پیغام پہنچانا ، اسلام کا پیغام پہنچانا یہ ہمارا کام ہے۔ اور جیسا کہ میں نے کہا، اللہ تعالیٰ نے اب اس دَور میں یہ آسانی پیدا فرما دی ہے کہ علاوہ اور ذرائع کے مختلف لٹریچر اور میڈیا کے اب ہمیں مبلغین بھی عطا فرمانا شروع کر دئیے ہیں جو اُن لوگوں کی اپنی زبان بول سکتے ہیں، اُن کی زبان میں اُن کو پیغام حق پہنچا سکتے ہیں، گہرائی میں اُن زبانوں کے مطالب کو سمجھ کر پھر اُن کو سمجھا سکتے ہیں۔ پس یہ ایک بہت بڑا احسان ہے جو اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے ہم پر فرمایا ہے اور یہ بھی وہ پیشگوئی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمائی تھی کہ احرارِ یورپ کا مزاج اب اس طرف آ رہا ہے، ان کو سمجھائیں۔ اور اس کو سمجھانے کے لئے آپ پر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ پہلا ردّ عمل ان کا یہ ہوا کہ مذہب سے ہٹ گئے، دوسرا ردّ عمل یہ ہوا کہ مذہب سے ہٹنے کے بعد خدا تعالیٰ کے وجود کے انکاری ہو گئے کیونکہ ان کو وہاں چین اور سکون نہیں تھا۔ یہ چین اور سکون مہیا کرنے کے لئے ان کو راستے میسر نہیں تھے۔ ان کو بتانے والا کوئی نہیں تھا۔ اب یہ راستے دکھانے والے آپ لوگ ہیں جنہوں نے واپس ان کو پہلے خدا تعالیٰ کے وجود سے اور پھر مذہب کی ضرورت سے آگاہ کرنا ہے۔ اور پھر اسلام کی خوبصورت تعلیم کو بتانا ہے تا کہ ان لوگوں کو پھر اُس نقطہ پر جمع کیا جائے جو خدا تعالیٰ کی طرف لے جانے والا نقطہ ہے جس کو لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آئے تھے۔ پس اس طرف آپ کو ہمیشہ توجہ دینی چاہئے کہ تبلیغی میدان میں کس طرح آپ نے نئے نئے راستے تلاش کرنے ہیں اور کس طرح لوگوں سے رابطوں میں وسعت اختیار کرنی ہے اور دنیا کو حق کا پیغام پہنچانا ہے۔

پس یہ انعامات ہیں جو اللہ تعالیٰ نے آپ پر کئے ہیں۔ ایک بہت بڑا انعام یہ ہے کہ اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو اپنے مسیح و مہدی کے اُن غلاموں کے لئے چنا ہے، یورپ میں رہنے والے لوگوں کو، جنہوں نے اُن سفید پرندوں کو پکڑ کے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع کرنا ہے اور توحید پر عملدرآمد کرتے ہوئے خدائے واحد کے آگے اور خدائے واحد کے حضور جھکنا ہے۔ پس یہ انعام جو ہے اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے یورپ میں رہنے والے اُن لڑکوں کو، اُن افرادِ جماعت کو، اُن نوجوانوں کو عطا فرمایا ہے جنہوں نے دین کی خاطر اپنا وقف کیا یا جن واقفینِ نو میں سے جن کے والدین نے اپنے بچوں کو وقف کیا تا کہ وہ خادمِ دین بنیں۔ اور پھر آپ نے اس عہد کو، اپنے والدین کے عہد کو نبھاتے ہوئے خود بھی اس کی تجدید کی اور اس میدان میں آئے۔ پس اس انعام کی قدر کریں اور اس مقصد کے حصول کے لئے اپنی بھر پور کوشش کرتے چلے جائیں۔ اور اس دنیا میں، ان ممالک میں، مغربی ممالک میں جہاں دہریت پھیلتی جا رہی ہے، ان لوگوں کو خدائے واحد کے حضور جھکنے والا بنائیں۔ اور یاد رکھیں کہ اس مقصد کے حصول کے لئے مسلسل دعاؤں اور کوشش میں لگے رہیں۔ اپنی تمام تر طاقتوں اور استعدادوں اور استطاعتوںکے ساتھ اس کام کو سر انجام دیں۔ اللہ تعالیٰ آپ لوگوں کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ اور یہ پہلا Batch جو جامعہ احمدیہ سے فارغ ہو کر میدانِ عمل میں آ رہا ہے، اللہ کرے کہ یہ لوگ وہ مثالی مبلغین اور مربیان ہوں جن کے نقشِ قدم پر چلنے والے پھر اَور بھی پیدا ہوتے چلے جائیں۔

پہلے بھی میں نے آپ کو کہا تھا کہ آپ لوگ pioneer ہیںجامعہ احمدیہ یوکے کے طلباء میں سے، اور جو شروع کے ابتدائی لوگ ہوتے ہیں وہ وہ لوگ ہوتے ہیں جن کے نقشِ قدم پر دوسرے بھی چلتے ہیں۔ پس پیچھے رہنے والے طلباء کے لئے جو مثالیں قائم کرنی ہیں وہ آپ نے کرنی ہیں۔ آپ پر نظر رہے گی پچھلے لوگوں کی بھی، باقی جو آپ کے پیچھے آنے والے وہ طلباء جو پیچھے کلاسوں میں ہیں۔ پس جس پہلو سے بھی آپ دیکھ لیں، آپ کے اوپر بہت بڑی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ آپ نے نمونہ بننا ہے، اپنے ساتھیوں کے لئے جو جامعہ میں پڑھ رہے ہیں، افرادِ جماعت کے لئے جہاں آپ کو بھیجا جائے گا، جہاں آپ نے کام کرنے ہیں، اور اس معاشرے کے لئے، دنیا والوں کے لئے جن کو خداتعالیٰ سے دوری پیدا ہو گئی ہے، اُن کو خدا تعالیٰ کے قریب لانے کے لئے۔

پس ایک بہت بڑی ذمہ داری ہے جو آج آپ پر عائد ہو رہی ہے، شاہد کا امتحان آپ نے پاس کر لیا۔ اچھے نمبروں سے پاس کر لیا۔ کچھ نے درمیانے نمبر لئے۔ لیکن بہر حال اب سب مربی بن گئے، مبلغ بن گئے۔ لیکن اصل امتحان اب زندگی میں شروع ہونے ہیں جس کے نمبر یہاں دنیاوی طور پر نہیں لگنے، جس کے نمبر خداتعالیٰ نے لگانے ہیں۔ پس ہمیشہ یاد رکھیں کہ اپنے عہد کو جو آپ نے کیا ہے اُس کو آپ نے اس طرح نبھانا ہے کہ جب خدا تعالیٰ کے حضور حاضر ہوں تو آپ اُن لوگوں میں شامل ہوں جن کے عہد کے بارے میں یہ نہ پوچھا جائے کہ تم نے عہد کیوں نہیں نبھائے بلکہ یہ ہو کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خوشنودی کا اظہار ہو۔ پس ہمیشہ اس بات کو ہمیں اپنے سامنے رکھنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو اس کی توفیق عطا فرمائے۔ اب دعا کر لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں