خطاب حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز برموقع تقریب تقسیم اسناد جامعہ احمدیہ کینیڈا11جولائی2012ء

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

آج اللہ تعالیٰ کے فضل سے جامعہ احمدیہ کینیڈا کی تین کلاسوں کی گریجوایشن ہے۔ پہلی دوکلاسیں تقریباً  دو سال سے کچھ نہ کچھ حد تک میدان عمل میں جا چکی ہیں یا ان کی وہ تربیت ہو چکی ہے جو مختلف انتظامی شعبوں سے گزرنے کے لئے کی جاتی ہے۔ اور جو 2012ء کی کلاس ہے اس نے اس مرحلہ سے ابھی گزرنا ہے۔بہر حال  تقسیم اسناد کی جو رسمی تقریب ہے وہ آج ہوئی۔

یاد رکھیں کہ جامعہ احمدیہ سے یہ سندلے لینا کافی نہیں ہے یا یہ آپ کی انتہا نہیں ہے۔ یہ وہ ابتدائی قدم ہے جو آپ نے آج اٹھایا ہے۔ اور اس پہلی سیڑھی پریہ پہلا قدم رکھا ہے جس کی موٹائی بھی اور جس کی چوڑائی بھی بہت کم ہے۔ یہی پہلا قدم ہے جو احتیاط سے رکھا جائے گا تو سیڑھی کاجو اگلا stepہے اس پہ آپ صحیح طرح اپنا قدم لے جا سکیں گے اور پھر اس طرح آپ کے قدم آگے بڑھتے چلے جائیں گے۔ جو ترقی کی منازل طے کرنی ہیں ان پر آپ چلتے چلے جائیں گے۔جن اونچائیوں تک آپ نے پہنچنا ہے اس پر آپ کے قدم آگے بڑھتے چلے جائیں گے۔پس اس ڈگری کو اس سند کو اپنی انتہا نہ سمجھیں۔ یہ انتہا نہیں بلکہ ابتدا ہے۔ اور ابھی بہت سے مرحلے آپ نے طے کرنے ہیں۔

یہاں ہادی علی صاحب جب اناؤنس(Announce) کر رہے تھے تو ہر ایک کے ساتھ ’مبلغ سلسلہ ‘کا لفظ استعمال ہو رہا تھا جبکہ جامعہ احمدیہ یوکے (UK) کی جب تقسیم اسناد ہوئی وہاں ہر ایک کے ساتھ’ مربی سلسلہ ‘کا لفظ استعمال ہوا۔ آپ نے MTAپر دیکھا بھی ہو گا۔ تو جامعہ سے فارغ التحصیل نہ صرف مربی ہیں بلکہ مبلغ بھی ہیں۔ اور نہ صرف مبلغ ہیں بلکہ مربی بھی ہیں۔ اس لئے یہ دونوں چیزیں آپ کو اپنے سامنے رکھنی ہوں گی۔ تربیت بھی آپ کا کام ہے اور تبلیغ بھی آپ کا کام ہے۔ اور تبلیغ کے لئے تربیت پہلا قدم ہے۔ خود آپ کی تربیت اچھی ہو گی تو تبلیغی میدانوں میں بھی آپ آگے بڑھتے چلے جائیں گے۔ آپ کی اپنی تربیت نہیں ہو گی تو تبلیغی میدان میں بھی برکت نہیں پڑے گی۔آپ کا قول و فعل ایک جیسا نہیں ہوگا تو کوئی آپ کی بات نہیں سنے گا۔ اللہ تعالیٰ نے داعی الی اللہ کے لئے وَ عَمِلَ صَالِحاً  فرمایا ہے۔ پس عمل صالح کے لئے اپنی تربیت بھی ضروری ہے۔ اور پھر ہی آپ دوسروں کی بھی ان صالح اعمال کی طرف راہنمائی کر سکیں گے۔پس اس بات کو ہمیشہ یاد رکھیں اور اس کے لئے سب سے بڑی چیز جو ایک مربی اور مبلغ میں ہونی چاہئے وہ اس کی عاجزی ہے۔ کوئی تعلیمی میدان میںاگر اول آیا ہے یا دوئم آیا ہے یا تیسری پوزیشن حاصل کی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہی کامیاب مربی اور مبلغ ہے۔

مَیں نے دیکھا ہے اور افریقہ میں بہت سے ایسے مربیا ن اور مبلغین کے ساتھ مَیں نے کام کیا ہے جو تعلیمی میدان میں اتنے اچھے نہیں تھے لیکن عملی میدان میں، تبلیغ کے میدان میں، تربیت کے میدان میں ا ُنہو ں نے اُن لوگوں کو بہت پیچھے چھوڑ دیا جو تعلیمی میدان میں اچھے تھے۔ پس تعلیمی میدان میں اوّل آنے والوں کو بھی اس بات پر فخر نہیں ہونا چاہئے کہ وہ اب اوّل آگئے اور ہمیشہ ان کی زندگی میں اوّل ہونا ہی لکھا گیا ۔ اوریا یہ ان کا حق بن جاتا ہے کہ وہ ہمیشہ اوّل ہی رہیں ۔ اوّل اُس وقت رہیں گے جب وہ اپنے اندر عاجزی پیدا کریںگے، اپنے اندر انکسار پیدا کریں گے اوراس کے لئے آپ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگیں گے۔اور پھر عاجزی اورانکسار جو ہے وہ آپ کو اپنی علمی قابلیت بڑھانے کی طرف متوجہ رکھیں گے۔پس اس بات کا خیال رکھیں کہ جامعہ احمدیہ سے فارغ ہونے کے بعد  ایک طالب علم کی زندگی علم کی جستجو کے لئے ہی ہونی چاہئے۔ اور ایساعلم ہونا چاہئے جو اس کی زندگی پر بھی لاگو ہو۔ صرف دوسروں کو نصیحت کرنے والے نہ ہوں بلکہ جب بھی کوئی علم حاصل کریں سب سے پہلا مخاطب اپنے آپ کو سمجھیں ۔ قرآن کریم پڑھنے کا حکم ہے تو جہاں اللہ تعالیٰ نے بشارات دی ہیں وہاں ان کو حاصل کرنے کے لئے دعا کرو۔ جہاں اِنذاری باتیں ہیں وہاں توبہ و استغفار کرو۔ اور آپ لوگ بھی اسی اصول پر عمل کرتے رہیں گے توانشاء اللہ تعالیٰ زندگی کے میدان میں آپ کے قدم آگے سے آ گے بڑھتے چلے جائیں گے اوراُس مقصد کو حاصل کرنے والے ہوںگے جس کے لئے آپ میں سے جو واقفین نَو ہیں ان کو پہلے ان کے والدین نے پیش کیا اور پھر آپ نے ان کے عہد کی تجدید کرتے ہوئے اپنے آپ کو پیش کیا اور خود اپنے عہد کی تجدید کی۔ پس یہ باتیں ہمیشہ آپ کے ذہن میں ہونی چاہئیں کہ عملی میدان میں آکر اپنے علم کو بڑھاتے چلے جائیں، پرانے علم پر نازاں نہ ہوں اور عاجزی پیدا کرتے چلے جائیں۔ اور عاجزی کے ساتھ ساتھ، علم بڑھانے کے ساتھ ساتھ محنت کی بھی عادت ڈالیں۔ دو چار چھ گھنٹے کام کرنا آپ کا کام نہیں ہے۔ واقفِ زندگی ہیںاور واقفِ زندگی کے لئے گھنٹے معین نہیں کئے گئے کہ اتنے گھنٹے کام کرو گے تو تم نے مقصد پورا کر لیا۔ آپ نے چوبیس گھنٹے، ہفتے کے سات دن اور سال کے 365دن اور زندگی کے آخری لمحہ تک اپنے آپ کو وقف کے لئے پیش کیا ہے اور یہی آپ کا مقصد ہونا چاہئے جس کے حصول کے لئے کوشش کرتے رہیں اور اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے رہیں کیونکہ کوئی کام خدا تعالیٰ کی مدد اور تائید کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ پس اس سوچ کے ساتھ میدان عمل میںجائیں۔ جہاں جائیں وہاں اپنے نمونے قائم کریں ۔صرف علم نہ ہو بلکہ اپنے عمل سے اپنے علم کی اہمیت کو دنیا پر واضح کریں۔ بہت سے غیر احمدی علماء ہیںکہ اگر علمی لحاظ سے دیکھیں تو بہت سوں کے پاس ایسا علم ہے کہ جب وہ بحث کرتے ہیں ، مذہبی بحث کرتے ہیں، ٹی وی پروگراموں پہ آتے ہیں تو نمبروں کے حساب سے قرآن کریم کی آیات ، سورتیں ، ریفرینس(Reference) پورے دیتے ہیں۔لیکن ان کایہ علم جو ہے صرف کھوکھلا علم ہے کیونکہ ان کے عمل ویسے نہیں ہیں اور پھر اُس کی وضاحت وہ اُس طرح نہیں کرسکتے جو اُس کی حقیقت ہے کیونکہ یہ حقیقت ہمیں اس زمانہ میں اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعہ سے ملی ہے ۔پس اس علم کو جاننے کے لئے جہاں آپ قرآن کریم پڑھیں گے، اس کی تفاسیر پڑھیں گے، غور اور تدبر کریں گے وہاں آپ ہمیشہ یاد رکھیں کہ آپ نے حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ والسلام کی کتب کو اپنے علم میں اضافہ کا ذریعہ بنانا ہے۔ آپ کا کوئی دن ایسا نہیں ہونا چاہئے جس میں آپ نے کچھ نہ کچھ حصّہ حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃوالسلام کی کتب کا نہ پڑھا ہو۔ اسی سے آپ کو قرآن کریم کی صحیح تعلیم کی حقیقت پتہ چلے گی۔ اس کے بغیر کوئی اور چیز نہیںہے ۔ پس یہ ایک اہم پہلو بھی ہمیشہ مد نظر رکھیں ۔

 پھر یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ میں سے بہت سوں کو جو یہاں سے فارغ ہوئے ہیں انہی مغربی ممالک میں بھیجا جا ئے۔ ساؤتھ امریکہ میں بھیجا جا سکتا ہے۔ افریقن ممالک میں بھی بھیجا جا سکتا ہے یا اور جگہوں پہ بھیجا جا سکتا ہے اور وہاں رہنے کے لئے بعض دفعہ بڑے سخت حالات سے گزرنا پڑتا ہے۔ پس سخت جانی کی عادت ڈالنی چاہئے۔ اسی لئے مَیں نے آپ کے پروگرام میں یہ رکھا تھا کہ ہر مربی و مبلغ جو جامعہ سے فارغ ہوتا ہے وہ پہلے چھ مہینے افریقہ کے کسی ملک میں گزارے اور اس کے لئے مَیں نے آپ کو وہاں بھیجا اور اللہ کے فضل سے میرا خیال ہے کہ پہلا اور دوسرا بیچ(Batch) دونوں ہی اپنا اپنا یہ چھ، چھ ماہ کا عرصہ ،یا چند ماہ کاعرصہ جہاں ویزے کی وجہ سے مسائل تھے، پورا کر کے آئے ہیں۔ وہاں اسی لئے بھیجا تھا تا کہ آپ کو پتہ لگے کہ اُن ملکوں کے حالات کیا ہیں اور اُن ملکوں کی سختیاں کیا ہیں اور ان میں سے آپ کو گزرنا پڑ سکتا ہے ۔ہو سکتا ہے کہ دس سال،  پندرہ سال کسی کو کینیڈا یا امریکہ میں مبلغ کے طور پر کام کرنا پڑے اور اس کے بعد آپ کو کہا جائے کہ افریقہ کے کسی ریموٹ(Remote) علاقہ میں چلے جاؤاور وہاں بیٹھ کر احمدیت کی تبلیغ کرو، اسلام کا پیغام پہنچاؤ تو ذہن میںیہ خیال نہیں ہونا چاہئے کہ ہم دس پندرہ سال ایسے ملک میں رہے جہاں ہر طرح کی سہولتیں تھیں اور اب ہمیں ایسی جگہ بھیجا جا رہا ہے، ہمارے سے انصاف نہیں کیا جا رہا، ہمیں تکلیف دی جا رہی ہے۔ قطعاً یہ خیال ایک مربی کے، ایک مبلغ کے ذہن میں نہیں آنا چاہئے۔ اگر آپ کو یہاں محلات میں بٹھایا ہوا ہے اور وہاں سے اگر آپ کو کہا جاتا ہے کہ جھونپڑی میں جا کے بیٹھو تو ایک واقف زندگی کا کام ہے کہ اس جھونپڑی میں جا کر بیٹھ جائے اور یہ نہ سوچے کہ مَیں پہلے کہاں تھا اور اب کہاں ہوں۔ یہ سوچے کہ مَیں نے اپنی زندگی وقف کی ہے اور اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے وقف کی ہے۔ اسلام اور احمدیت کا پیغام پہنچانے کے لئے وقف کی ہے اور اس کے لئے مجھے جس سختی سے بھی گزرنا پڑے مَیں گزروں گا ۔ حضرت مصلح موعودؓ کی جو نظم یہاں پڑھی گئی ہے اس میں بھی ایک شعر میںآپ ؓ نے اسی طرف توجہ دلائی ہے۔ صرف نظمیں پڑھ لینا کہ ہم جہاں سے گزرجائیں گے، جہاں بھی جانا پڑے گا ہم چلے جائیں گے، اتنا کافی نہیں ہے بلکہ عملی طور پر آپ کو دکھانا پڑے گا کہ ہم وہ لوگ ہیں جو صرف کہتے نہیں بلکہ کرتے بھی ہیں۔یہ سوچ جامعہ سے فارغ ہونے والے ہر طالب علم کی ہو نی چاہئے، ہر مربی کی ہونی چاہئے، ہر مبلغ کی ہونی چاہئے چاہے وہ نئے ہیں یا پرانے ۔ ہر واقف زندگی کی ہونی چاہئے اور سختیاں جھیلنے کی عادت ہونی چاہئے۔ پس یہ سخت جانی کی عادت بھی آپ میں پیدا ہونی چاہئے اور اس کے لئے اپنی سو چوں کو اس طرح اپنے قابو میں رکھنا چاہئے کہ کبھی یہ خیال نہ آئے کہ ہم پہلے کیا تھے اور اب کیا ہیں۔ یا پہلے ہمیں سہولتیں تھیں اور اب نہیں ہیں۔ یا دفتر نے یا مرکز نے ہمیں کہیں اور بھیج کر ہمارے پر ظلم اور زیادتی کر دی ہے۔ نہ یہ ظلم ہے نہ زیادتی ہے ۔آپ نے اپنے آپ کو پیش کر دیا ہے کہ ہم ہر قربانی کے لئے تیار ہیں۔ اس لئے ہمیشہ اس سوچ کے ساتھ اپنی زندگی گزاریں کہ آپ نے تیار رہنا ہے اور کل کو آپ کے ساتھ کچھ بھی ہو سکتا ہے۔

پھرایک اور پہلو بھی بڑا اہم ہے جس کی طرف آپ کو توجہ دینی چاہئے کہ خلافت سے وفا کا تعلق ہو۔ صرف ترانے گانے سے ، نظمیں پڑھنے سے تعلق پیدا نہیں ہو جایا کرتا۔ ہاں بعض لوگوں پر بعض مختلف طریقوں سے اثر ہوتا ہے۔ جذبات کو ابھارنے کے لئے، توجہ دلانے کے لئے نظمیں اور ترانے بھی کام آتے ہیں ۔ لیکن  آپ لوگ اس کو انتہانہ سمجھ لیں ۔ آپ کا یہ تعلق ذاتی طور پر خطوط لکھنے سے، باقاعدہ رابطہ رکھنے سے، خلیفۂ وقت کے لئے دعا کرنے سے ، خلیفۂ وقت کو دعا کے لئے لکھنے سے پیدا ہو گا۔ پس یہ تعلق بھی قائم رکھیں ۔اور پھر اس تعلق کو اپنی ذات تک محدود نہ رکھیں بلکہ یہ تعلق پھر آگے بڑھنا چاہئے۔ جس جماعت میں آپ ہوں، جس میدان میں آپ ہوں، جس جگہ آپ ہوں، وہاں کے ماحول میں اس تعلق کو اتنا اجاگر کریں کہ خلافت کے ساتھ جماعت اس طرح ہو جائے جس طرح یک جان دو قالب۔ذرّہ بھر بھی فرق نہ ہو۔ کہیں کسی قسم کی منافقت کی آواز نہ اُٹھے۔ جس جگہ آپ ہوں وہاں ہر احمدی خلیفہ ٔ وقت کی مکمل اطاعت کرنے والا ہو۔ طاعت در معروف کا جو حکم ہے اللہ تعالیٰ نے آیت استخلاف سے پہلے کی آیتوں میں قرآن کریم میں بھی لکھا ہے کہ صرف دعوے نہ کرو، قسمیں نہ کھاؤ کہ ہم یہ کردیں گے، وہ کر دیںگے بلکہ عمل سے ثابت کر کے دکھاؤ کہ تمہارا واقعی اطاعت کا ،کامل اطاعت کا تعلق ہے کہ نہیں۔ پس یہ بھی مربیان کی، مبلغین کی  ایک بہت بڑی ذمہ داری  ہے کہ خود اپنے اندر بھی پیدا کریں اور اپنی جماعت میں بھی پیدا کریں۔

آپ لوگ خلیفۂ وقت کے نمائندے ہیں اور وہ کام آپ نے سر انجام دینے ہیں جن کی ہدایت خلیفۂ وقت کی طرف سے آتی ہے۔ تربیت کے کام آپ نے کرنے ہیں ،تبلیغ کے کام آپ نے کرنے ہیں، اسلام کا خوبصورت پیغام پہنچانے کے کام آپ نے کرنے ہیں۔ اس نمائندگی سے یہ غلط فہمی نہیں ہونی چاہیے کہ ہم کیونکہ نمائندے ہیں اس لئے جس جگہ ہم جائیں، جس جماعت میں ہم جائیں وہاں ہمیں وہ عزت و احترام بھی ملے جو جماعت کے دل میں خلیفۂ وقت کے لئے ہے۔ آپ نمائندے ہیں لیکن یہ بھی یاد رکھیں کہ آپ نے ایک عاجز غلام کی طرح وہ نمائندگی کرنی ہے۔ یہ سوچ اپنے دل میں ہمیشہ رکھیں ،اپنے دماغ میں ہمیشہ رکھیں اور اس سوچ کے ساتھ اپنی زندگیاں گزاریں اور جماعت کو اس کی تلقین کریں ۔

 پہلے بھی مَیں کہہ چکا ہوں کہ جما عت کی تربیت اسی طرح ہو گی کہ جب آپ جماعت کو خلافت کے ساتھ جوڑ دیں گے۔ اور اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے اللہ تعالیٰ نے ایسے انتظام فرما دیئے ہیں کہ ایم ٹی اے(MTA) کے ذریعہ سے ہم افریقہ کے جو ریموٹسٹ(Remotest) علاقے ہیں وہاں بھی پہنچے ہوئے ہیں۔ اور ہمارے انجینئرز نے تو اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں جا کر سولر انرجی (Solar Energy)کے ذریعہ سے مسجد میں یا مشن ہاؤس میں ایسے انتظام کر دیئے ہیں کہ وہاں کم از کم ایم ٹی اے(MTA)ہر جگہ موجود ہے۔ جہاں نہیں ہے وہاں موجود کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تو اس طرح مرکز سے جوایک رابطہ ہے وہ اللہ تعالیٰ نے قائم کر دیا ہے۔اورایک اَورسہولت اللہ تعالیٰ نے آپ کے لئے پیدا فرما دی ہے۔ اس سہولت سے فائدہ اٹھانا، اس کومزید آگے بڑھانا یہ اب آپ کا کام ہے۔ اس کے لئے جماعت کو زیادہ سے زیادہ تیار کریں۔ ان کے دلوں میں ڈالیں کہ کم ا ز کم خلیفۂ وقت کی جوتقاریر اور خطبات ہیں ان سے ان کا تعلق ہو نا چاہئے۔ اور جہاں بھی وہ ہوتی ہیں ہر احمدی کو اپنے آپ کو اس کا مخاطب سمجھنا چاہئے۔ پس یہ سوچ بھی ہے جو آپ لوگوں نے جماعت کے افراد کے دلوں اور دماغوں میں پیدا کرنی ہے۔ پھرپہلے بھی مَیں یہ کہہ چکا ہوں کہ دعاؤں کے ذریعہ سے اپنی عاجزی کو بھی بڑھائیں اور اپنے علم کو بھی بڑھائیں اور اس کے لئے آپ کا تعلق باللہ میں بڑھنا بھی ضروری ہے۔ اللہ تعالیٰ سے تعلق میں بڑھنابھی ضروری ہے۔صرف دنیاوی چیزوںپہ نظر نہ ہو، دنیاوی خواہشات پر نظر نہ ہو بلکہ آپ کا یہ مقصد ہوکہ ہم نے اپنے آپ کو بیچ دیاہے، مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا ہے اور اس کے دین کی اشاعت کے لئے اپنی زندگیاں وقف کر دی ہیں۔ اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ سے ہم مدد چاہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہی ہمیشہ ہماری راہنمائی کرتا رہے اور وہ راہنمائی جس  جس طر ح آپ کا خدا تعالیٰ سے تعلق بڑھتا جائے گا آپ کو ملتی جائے گی۔ پس یہ چیز بھی ہمیشہ ہر واقفِ زندگی، مربی اور مبلغ کے ذہن میں ہو نی چاہئے ۔ اور اس سوچ کے ساتھ آپ لوگوں کو کام کرنا چاہئے۔

بعض جگہ ایسے حالات بھی ہوتے ہیں کہ سیاسی طور پر یا دنیاوی طور پر بعض لوگوں سے آپ کا رابطہ واسطہ ، Interaction ہوتا ہے۔ لیکن اس چیز کو آپ کی سوچوں کو بدل نہیں دینا چاہئے۔ آپ کی سوچوں کا محور بہرحال یہ رہنا چاہئے۔ کہ ہم واقفِ زندگی ہیں۔ دین اسلام کی تبلیغ اور جماعت احمدیہ کے افراد کی تربیت کے لئے ہم نے اپنی زندگیاں وقف کی ہیں اور یہی ہمارا محور ہے۔ اگر دنیاوی تعلقات کی وجہ سے کوئی دنیاوی مقام ہمیں ملتا ہے تو وہ ایک ضمنی چیز ہے۔ وہ ہمارا مقصد نہیں ہے۔ وہ اللہ تعالیٰ کاایک فضل ہے۔ ایک مبلغ میدانِ عمل میں ہوتا ہے تو اللہ کے فضل سے اس کو دنیاوی لحاظ سے بھی بڑی پذیرائی ملتی ہے۔اس کو اپنے ماحول میںجو دنیاوی لوگ ہیں، غیر از جماعت ہیں ان کی طرف سے بھی بعض دفعہ بہت زیادہ appreciateکیا جاتا ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اس سے آپ کے دماغوں میں یا کسی بھی واقفِ زندگی کے دماغ میںکبھی یہ خیال آجائے کہ یہ میری ذاتی کوشش اورمیری ذاتی لیاقت اور میری اپنی خصوصیات کی وجہ سے ہے۔ بلکہ یہ سب اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور یہ فضل اس وجہ سے ہے کہ آپ واقف زندگی ہیں ۔ پس یہ سوچ بھی ہمیشہ رکھیں۔ اگر آپ لوگ دنیا کی باتوں میں پڑ گئے ، دنیا والوں کے پیچھے چلنے لگ گئے تو پھر آپ ایک تو اپنے اس مقصد سے ہٹ جائیں گے جو آپ کا مقصد ہے۔ دوسرے اس عہد کو پورا کرنے والے نہیں ہوں گے جو ایک واقف زندگی کا عَہد ہے۔ اور جب عَہد پورا نہیں کریں گے تو اللہ تعالیٰ کے فضلوں کے وارث بھی نہیں بنیں گے۔ پھر آپ کے کاموں میں برکت بھی نہیں پڑے گی۔ پس اپنے کاموں میں برکت ڈالنے کے لئے ،  اپنے عَہدوں کو پورا کرنے کے لئے، اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لئے ضروری ہے کہ ہمیشہ اپنے اصل مقصد کو سامنے رکھتے رہیں۔ دنیا آپ کا مقصد نہیں۔ دین اوراس کی اشاعت آپ کا مقصد ہے۔ خلافت سے مکمل وفا اور اطاعت کا تعلق آپ کا مقصد ہے۔ پس ان چیزوں کو ہمیشہ سامنے رکھیں ۔

 پرنسپل صاحب جب رپورٹ پیش کر رہے تھے تو انہوں نے بتایا کہ انہوں نے آپ کی اعلیٰ تعلیم کے لئے کوًشش کی ۔ بے شک اعلیٰ تعلیم بھی بہت ضروری حصہ ہے۔ ایک واقفِ زندگی کا علم حاصل کرنا ضروری ہے پہلے بھی مَیںکہہ چکا ہوں، بتا چکا ہوں۔ لیکن ہمیشہ یاد رکھیں کہ آپ کی اخلاقی قدریں جو ہیں وہ سب سے بڑھ کر ہیں اور ان قدروں کی باریکیوں کو جاننا ، پہچاننا اور اس پر عمل کرنا آپ کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ نہیںتو ہمیشہ افراد جماعت کی انگلی آپ پر اُٹھے گی کہ ہمیں یہ تلقین کرتا ہے۔اس لئے جیساکہ پہلے بھی مَیں کہہ چکا ہوں کہ عمل کہ ساتھ آپ کے الفاظ ہوں گے تو پھر ہی اس میں برکت پڑے گی۔پس اعلیٰ اخلاقی قدروں کی طرف بہت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔آپ کی ہلکی سی بھی لغزش اور غلطی جماعت میں ایک بے چینی پیدا کردیتی ہے۔ اس لئے آپ لوگوںکو ہر وقت ہر قدم بہت زیادہ پھونک پھونک کر اٹھانے کی ضرورت ہے ۔ ایک واقف زندگی کا معیار بہت اونچا ہونا چاہئے اور جماعتexpect کرتی ہے، امید رکھتی ہے، توقع رکھتی ہے کہ یہ معیار بلند ہواور جتنے معیارآپ کے اچھے ہوںگے اتنے زیادہ آپ کے اثر بھی ہوں گے ۔ پس یہ بات بھی ہمیشہ آپ کے ذہن میں ہونی چاہئے۔ نفس کو بعض دفعہ شیطان جو ہے وہ ڈراتا ہے، بھڑکاتا ہے کہ تم یہ بھی کرو وہ بھی کرو ۔لیکن توبہ اور استغفار سے، اللہ تعالیٰ کی پناہ میں آتے ہوئے، مدد چاہتے ہوئے یہ کوشش ہمیشہ کرتے رہیں کہ کبھی شیطان کے خیالات ہلکے سے بھی آپ پر حاوی ہونے کی کوشش نہ کریں۔ اورا للہ تعالیٰ مومنین کویہی نصیحت  بار بارکرتا ہے۔ اوران مومنین کو جنہوں نے اپنے آپ کو دین کی خدمت کے لئے پیش کیا ہے، جو اس گروہ میں شامل ہیں جو تفقہ فی الدّین والا گروہ ہے، جودین کا علم حاصل کر کے اس کو آگے پھیلانے والا ہے، اُن کوتو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وَ یُحَذِّ رُ کُمُ اللّٰہُ نَفْسَہٗ(آل عمران: 29)  اللہ تعالیٰ تمہیں تمہارے نفس سے ڈراتا ہے ۔ اور نفس سے ڈرانا یہی ہے کہ اپنے نفس کی جو خواہشات ہیں ان کو کبھی سامنے نہ رکھو اور وہ خواہشات جیسا کہ مَیں نے پہلے کہا جتنا جتنا آپ کا تعلق باللہ بڑھتا جائے گا پیچھے ہوتی چلی جائیں گی اور انشاء اللہ تعالیٰ پھرجب اس سوچ کے ساتھ آپ میدان عمل میں جائیں گے، کام کریں گے تو آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ کامیابیاں عطا فرماتا چلا جائے گا۔ انشاء اللہ ۔

اللہ کرے کہ آپ لوگوں میں سے ہر ایک اور ہر واقف زندگی اپنے وقف کی روح کو سمجھنے والا ہو اور اس روح کے ساتھ اپنی زندگیاں گزارنے والا ہو اور خلیفۂ وقت کا حقیقی سلطان نصیر بننے والاہو تا کہ ہم جلداسلام اور احمدیت کا غلبہ دنیا پر ہوتا ہوا دیکھیں۔ اللہ تعالیٰ کرے کہ ایسا ہی ہو ۔ اب دعا کر لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں