خطاب حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز برموقع تقریب تقسیم اسناد جامعہ احمدیہ جرمنی 17؍ اکتوبر 2015ء

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

وَمَنْ اَحْسَنُ قَوْلاً مِّمَّنْ دَعَآ اِلَی اللّٰہِ وَعَمِلَ صَالِحاً وَّ قَالَ اِنَّنِیْ مِنَ المُسلِمِینَ۔ (السجدۃ:34)

                    الحمدللہ کہ آج جامعہ احمدیہ جرمنی کی یہ پہلی کلاس سات سال کا کورس مکمل کرنے کے بعد میدانِ عمل میں آ رہی ہے۔لیکن میدانِ عمل میں آنے کے بعدآپ لوگوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ آپ کی ذمہ داریاں بہت بڑھ گئی ہیں۔آپ کی بعض باتیں، بعض عمل ، بعض حرکتیںجن سے ایک طالب علم ہونے کی وجہ سے صرفِ نظر کیا جاتا تھا، اب آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ اب طالبِ علم تو بے شک آپ ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے کہ تم علم حاصل کرتے رہو اور حدیث کے مطابق بھی انسان جب تک لحد تک نہیں پہنچ جاتا تب تک اسے علم حاصل کرتے رہنا چاہئے لیکن ساتھ ہی آپ سے یہ توقع بھی کی گئی ہے کہ اب آپ استاد بھی ہیں۔جو علم آپ نے حاصل کیا اور جو آئندہ حاصل کرنا ہے اس کو آپ نے آگے پھیلانا بھی ہے۔اور اس علم کو پھیلانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے بھی آپ سے ایک توقع رکھی ہے۔ آپ ایک ایسا گروہ ہیں جس نے دین کے لئے اپنے آپ کو وقف کیا،تفَقُّہ فی الدّین پیدا کرنے کی کوشش کی۔ اب آپ کا یہ کام ہے کہ ان لوگوں میں شامل ہوںجوپھر اس کو پھیلاتے ہیں۔

                    اور اللہ تعالیٰ نے یہی فرمایا ہے کہ قول کے لحاظ سے سب سے احسن وہی ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف بلاتاہے۔  عملِ صالح کرتاہے اورپھریہ اعلان کرتا ہے کہ میں فرمانبرداروں میں سے ہوں، کامل فرمانبرداروں میں سے ہوں۔پس یہ بہترین مثال ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں ایک مسلمان کے لئے دی ہے۔ ایک مومن کی خصوصیات کا ایک اہم ترین حصہ ہے۔لیکن وہ جنہوں نے زندگی وقف کی ہو، جنہوں نے یہ عہد کیا ہے کہ ہم نے اپنی زندگی کا ہرلمحہ اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے، ان کو پھیلانے،ان کی تبلیغ کرنے پرخرچ کرنا ہے انہیں اس مثال کو خاص طورپراپنے لئے ایک لائحہ عمل بناناچاہئے۔

                     آپ نے یہ عہد کیا ہے کہ مَیں تمام عمر خدا تعالیٰ کے دین کے لئے، تعلیم کے پھیلانے اوراشاعت اور تبلیغ کے لئے  وقف رکھوں گا۔یہ کوئی چھوٹا سا عہد نہیں ہے۔یہ معمولی عہد نہیں ہے۔آپ لوگ اب صاحبِ علم کہلانے والے ہیں۔رپورٹ میں بھی پیش کیا گیا۔ آپ لوگوں نے ترجمہ قرآن بھی پڑھا اور تفسیریں بھی پڑھیں۔ آپ کو یہ بھی پتا  ہے کہ عہد کی کیا اہمیت ہے ؟ اورہرعہد کے بارے میں پوچھا جائے گااور وہ عہدجو خاص طورپر خدا تعالیٰ سے آپ نے کیا ہے اس کے بارے میں تو آپ کو یاد رکھنا چاہئے کہ پوچھاجانے کا خوف ہر وقت طاری رہنا چاہئے اور اس کی ادائیگی کے لئے ہر وہ کوشش جو انسان کے بس میں ہے، جو ممکن ہے وہ کرنے کی ضرورت ہے۔ پس اس طرف بہت توجہ دیں۔ لیکن یہ یادرکھیں کہ یہ عہد اس وقت تک نہ نبھایاجا سکتا ہے جب تک اپنی اصلاح کی طرف توجہ نہ ہو۔اپنے جائزے لینے کی طرف توجہ نہ ہو۔اپنے عمل کو ہر لمحہ پرکھنے کی طرف توجہ نہ ہو۔اور پھر اس عہد کی تکمیل اُس وقت ہو گی جب آپ میں، ہر ایک میں یہ احساس پیدا ہوکہ آپ لوگوں نے اسلام کی تعلیم کا کامل نمونہ بننا ہے۔ اورنمونہ بنے بغیر نہ آپ کسی کی تربیت کرسکتے ہیں اور نہ تبلیغ کرسکتے ہیں۔پس اپنے اعمال پر نظررکھنے کی ہر وقت ضرورت ہے۔ان اعمال کی فہرست بنانی ہو گی۔ ان اوامر اور نواہی کی فہرست بنانی ہوگی جن کا ذکراللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں کیا ہے۔اپنی دینی حالت کی درستگی کی طرف توجہ دینی ہوگی۔اب یہ نہیں ہو گا کہ نماز میں اگر سستی ہو گئی، نوافل میں اگر سستی ہو گئی تو کوئی حرج نہیں۔

                    ایک مربی کو، ایک مبلغ کو یاد رکھناچاہئے کہ اس کا کوئی کام، اوّل تو کسی کا بھی نہیں ہو سکتا،لیکن آپ کے کام جو خالصۃًاللہ تعالیٰ کے لئے ہیں، اللہ تعالیٰ کی مدد کے بغیر نہیں ہو سکتے ۔ نہ آپ کی تربیت میں کوئی اثر ہو سکتاہے، نہ آپ کی تبلیغ میں کوئی اثر ہو سکتاہے جب تک کہ آپ کی توجہ نوافل کی طرف نہیں ہوتی۔ دعاؤں کی طرف نہیں ہوتی، نمازوں کی صحیح ادائیگی کی طرف نہیں ہوتی۔پس جہاں تربیت کے لئے آپ کو جہاں بھی آپ متعین ہوں اپنے یہ نمونے پیش کرنے ہیں کہ پانچ وقت کی نمازیں باجماعت اداکرنے کی کوشش کرنی ہے،وہاں دعاکے ذریعے سے (بھی کام لینا ہے)۔ یہ چیز ظاہر تو نہیں ہوتی۔ نمازیں پانچ وقت کی ادائیگی ہے وہ لوگوں کو نظر آرہی ہے۔ لگ رہا ہے کہ مربی صاحب آئے ہیں،مسجدمیں آئے ہیںیاسنٹر میں آئے ہیںاور نمازباجماعت ہو رہی ہے۔لیکن نوافل ایسی چیز ہے جس کا علم خالصتاً اللہ تعالیٰ کوہے یا پھر شادی کے بعد آپ کی بیویوں کو ہوتاہے یا گھر والوں کو علم ہوتا ہے۔ گویا کہ یہ عبادت ایسی ہے جو مخفی عبادت ہے۔اس لحاظ سے کہ لوگوں کے سامنے نہیں ادا کی جا رہی ۔ لیکن اس کی اہمیت بے انتہاہے۔فرائض کی کمی کو نوافل سے پوراکرنے کا حکم ہے۔ اورانسان کس طرح یہ دعویٰ کر سکتاہے کہ اس نے ہر قسم کے فرائض ادا کر دیے ہیں۔جب یہ دعویٰ ہی نہیں کہ فرائض ادا کر دیے اورخاص طورپروہ فرائض جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ادا کرنے کا حکم  ہے۔اور پھر وہ فرائض جن کا معیارایک جگہ پر قائم نہیں رہتابلکہ ہر لمحہ اور ہردن انسان کی علمی اورروحانی ترقی کے ساتھ وہ معیار بھی بڑھتاجاتاہے۔اورپھر یہ بھی علم نہیں کہ آیا وہ معیار بڑھا بھی ہے کہ نہیںتو اس کے لیے کس قدر دعاؤں کی ضرورت ہے اوروہ دعائیں صرف اللہ تعالیٰ کے حضور خالص ہوتے ہوئے، اس کے آگے جھکتے ہوئے، اپنے دن اوررات اس کی طرف توجہ رکھتے ہوئے ہی انسان کرنے کی کوشش کرتاہے تاکہ جو کمیاں رہ گئی ہیں وہ پوری ہو جائیں۔

                    پھر ایک بات یہ بھی یاد رکھیں کہ مربی اور مبلغ کے قول وفعل میں تضاد نہیں ہونا چاہئے۔ آپ جو نصیحت کر رہے ہیں، جو تقریر آپ کررہے ہیں، خطبے میں آپ لوگوں کو جو سمجھارہے ہیں(اس کے حوالہ سے) اپنے بھی جائزے لیتے رہیں کہ کیا مَیں اس پر عمل کرنے کی حتی الوسع کوشش کرتاہوں۔ جو کمیاں رہ گئی ہیں ان کو اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتے ہوئے دُورکرنے کی کوشش کرتاہوں۔جب یہ ہو گاتو بات میں اثر بھی ہوگا۔لوگوں نے آپ کا نمونہ دیکھنا ہے۔ یہ یادرکھیں کہ پہلے جیسا میں نے کہا آپ کی بعض باتوں سے ایک طالب علم سمجھ کے صَرفِ نظر ہو جاتاتھا۔ لیکن اب لوگوں نے آپ کا نمونہ دیکھنا ہے اور آپ کے نمونے سے کسی کی اصلاح بھی ہوسکتی ہے اور ٹھوکر بھی لگ سکتی ہے۔ پس لوگوں کو ٹھوکر سے بچانے کے لئے، افرادِ جماعت کو ٹھوکرسے بچانے کے لئے، جماعت کے ہر طبقے کو ٹھوکرسے بچانے کے لئے اپنے نمونے ایسے رکھیں کہ کسی کی آپ پر انگلی نہ اٹھے۔ کوئی یہ نہ کہے کہ مربی صاحب یا ہمارے فلاں مبلغ کے فلاں عمل میں یہ کمزوری ہے یا کمی ہے جس کی وجہ سے فلاں کو ٹھوکر لگی ہے یا مجھے ٹھوکر لگی ہے یا میرے دل میں بعض باتوں کے بارے میں انقباض پیداہؤاہے۔

                    ہمیشہ یادرکھیں کہ لوگ آپ کے ہر قول وفعل کو بہت گہری نظر سے دیکھتے ہیں اور دیکھیں گے۔اس لئے اپنے نمونے قائم کرنے کی کوشش کریں۔

                    پھر یہ بھی یادرکھیں کہ آپ جامعہ احمدیہ جرمنی سے پاس ہونے والی یہ پہلی کلاس ہیں۔ اس لحاظ سے بھی لوگوں کی نظر آپ پر ہو گی کہ یہ پہلی کلاس فارغ ہوئی ہے دیکھیں کہ یہ میدانِ عمل میں کس طرح کام کرتے ہیں؟ کیا ان کی ٹریننگ ہے؟ کیا ان کا علم ہے؟کیا ان کی تربیت ہے؟ اور پھر آپ کی حالت کو دیکھ کر جماعت پہ تو حرف آتا ہی ہے اس سے پہلے آپ کی انتظامیہ پر بھی حرف آئے گا۔پس یہ بھی یادرکھیں کہ جہاں استاد کی عزّت کا سوال ہے ایک  ذمہ داری آپ کی بھی یہ ہے کہ اپنے استادوں کی عزت کو قائم رکھنے کے لئے اب آپ نے میدانِ عمل میں بھی اپنے نمونے قائم کرنے ہیں۔ ورنہ لوگ یہی کہیں گے کہ یہ طلباء جو نکلے ہیں، یہ لاٹ جونکلی ہے ان کی یہ تربیت ہے یا یہ حالت ہے۔اگر کوئی برائی اورکمی اورکمزوری ہے تواس کا مطلب ہے کہ ان کے پڑھانے والے بھی ایسے ہی ہوں گے۔جو انتظامیہ ہے وہ بھی ایسی ہو گی۔ جو جماعتی نظام ہے وہ بھی کمزور ہی ہو گا تبھی یہ لوگ کمزورحالت میں نکلے ہیں۔ پس ہرلحاظ سے اپنی ذمہ داریوں کو آپ کو دیکھنا ہو گا، پرکھنا ہو گا،سوچنا ہوگا۔

                     پھر اسی طرح جو آپ کے پیچھے آنے والے ہیںان کے لئے بھی آپ نے مثال قائم کرنی ہے، نمونے قائم کرنے ہیں۔ گویا کے پہلی کلاس ہر لحاظ سے جسے انگریزی میں کہتے ہیں کہ Trend Setter،وہ ہوتی ہے۔آپ نے ہی رجحانوں کومتعیّن کرناہے۔ آپ نے ہی پچھلوں کو بھی راستے دکھانے ہیں اور وہ نمونے قائم کرنے ہیں جس سے پیچھے آنے والی کلاسیں جو ہیں وہ بھی یہ معیار قائم کریں کہ ہماری پہلی کلاس باوجود بہت ساری مشکلات میں سے گزرنے کے، باوجود بہت ساری سہولیات کی کمی کے ایک اعلیٰ معیار قائم کرتے ہوئے نکلی ہے اور انہوں نے  میدانِ عمل میں بھی اعلیٰ معیار قائم کئے ہیں۔ اور اب ہم نے بھی ان سے بڑھ کر اعلیٰ معیار قائم کرنے ہیں یا کم از کم ان کے برابرقائم کرنے ہیں۔ پس ایک نسل کے بعد دوسری نسل یا ایک کلاس کے بعد دوسری کلاس ان معیاروں کو دیکھے گی اور آگے بڑھنے کی کوشش کرے گی تبھی وہ معیار قائم ہو سکتے ہیں جن کی توقع حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ و السلام نے اپنی جماعت کے افراد سے کی ہے۔ جن کی توقع مبلغین اور مربیان سے کی جاسکتی ہے۔ ورنہ آگے بڑھنے کی بجائے ترقیٔ معکوس ہو جاتی ہے۔پچھلی طرف جاناشروع ہو جاتے ہیں اورمعیارگرتے چلے جاتے ہیں۔

                     ابھی رپورٹ میں انہوں نے مولانا عبدالکریم صاحب رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت مولانابرہان الدین صاحب جہلمی ؓ کا بتایا ان کے کیا معیار تھے؟ علم ومعرفت میں بڑھے ہوئے تھے۔ عاجزی اور انکساری میں بڑھے ہوئے تھے۔ وفا میں بڑھے ہوئے تھے۔ پس یہ نمونے ہمیں قائم کرنے ہوں گے تبھی ہم اپنے اُس معیار کو قائم رکھ سکتے ہیں۔  تبھی اپنے اُس مقام کو قائم رکھ سکتے ہیں جس مقام پر اللہ اور اس کا رسول ہمیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ جس مقام کو حاصل کرنے کے لیے باربار حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے ہمیں تلقین فرمائی ہے۔ پس ان چیزوں کو یاد رکھیں۔

                     پھر ایک اور اہم بات ہے جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی کہا کہ علم تو مِنَ الْمَہْدِاِلَی اللَّحْد تک انسان حاصل کرتا ہے۔ اس لئے یہ نہ سمجھیں کہ آپ نے جو کچھ جامعہ میں پڑھ لیا وہ کافی ہے۔ اس علم میں آپ نے اضافہ کرتے چلے جانا ہے۔ یہ جامعہ میں پڑھنا آپ کے علم کی انتہا نہیں ہے ۔ مَیں پہلے بھی کئی دفعہ مختلف جامعات میں یہ کہہ چکا ہوں شاید آپ کو بھی کہا ہو کہ یہ سات سال تو آپ کو یہ ٹریننگ دی گئی ہے کہ پڑھنے کے طریق کیا ہیں؟ کس طرح آپ نے پڑھنا ہے؟ کس طرح آپ نے علم میں اضافہ کرناہے؟ کن کن مضامین میں دلچسپی پیدا کرنی ہے؟ کون کون سے مضامین ہیں جو آپ کی تربیت میں آپ کے کام آ سکتے ہیں؟ کون سے مضامین ہیں جو آپ کی تبلیغ میں آپ کے کام   آ سکتے ہیں؟ قرآن کریم تو بہرحال ایک ایسی کتاب ہے جو تربیت کے لئے بھی، اصلاحِ نفس کے لئے بھی، اپنی اصلاح کے لئے بھی، دوسروں کی اصلاح کے لئے بھی، اپنی تربیت کے لئے بھی، دوسروں کی تربیت کے لئے بھی اسی طرح اہم ہے جس طرح تبلیغ کے لئے ہے۔ تبلیغ کے لیے ہر میدان میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں مضامین بیان فرمائے ہیں۔ ہر مضمون کے مضامین بیان فرمائے ہیں جس میں آپ اگر بڑھنے کی کوشش کرتے رہے تو ہر میدان میں آپ کی کامیابیاں ہیں۔ ترقی کرنے والے ہیں۔ پس اس طرف بھی توجہ دیں۔

                     پھر آج کل دنیا کی نظر اسلام پر بہت زیادہ ہے۔ سوال کئے جاتے ہیں کہ اسلام کی تعلیم کیا ہے؟ اسلام کیا  کہتاہے؟ شدت پسندی جس کا بعض مسلمان گروہوں کی طر ف سے بلکہ اکثر مسلمان گروہوں کی طرف سے اظہار ہو رہا ہے، دنیا یہی سمجھتی ہے کہ یہی اسلام کی تعلیم ہے۔ آپ نے اسلام کی خوبصورت تعلیم دنیا کو بتانی ہے۔ آپ نے ان شدت پسند گروہوں کے ردّ کے لئے قرآن کریم کی تعلیم کو ہی واضح کرکے دنیا کو بتانا ہے ۔ آج کل تودنیا کے سامنے صرف اسلام کا جو نمونہ ہے وہ شدّت پسندوں کا نمونہ ہے۔ آپ نے اس کے پیاراورمحبت کے نمونے کو دنیا کے سامنے پیش کرنا ہے۔ اوراس کے لئے پھر آپ کو دینی علم کے ساتھ ساتھ حالاتِ حاضرہ کا علم ہونا بھی ضروری ہے۔

                     آپ کوعلم ہونا چاہئے کہ آپ کے ملک میں کیا ہو رہاہے؟ جہاں بھی آپ متعیّن ہیں، ضروری نہیں کہ آپ جرمنی سے فارغ ہوئے ہیں، جرمنی میں ہی رہ جائیں۔ جہاں بھی متعیّن ہوں گے وہاں کے ملکی حالات کا آپ کو علم ہونا چاہئے۔دنیاوی حالات کا آپ کو علم ہوناچاہئے کہ کیا کچھ ہو رہا ہے؟ اور اس کاحل کیا ہے؟ بہت سے بلکہ اکثریت ہی سوالات ہیں جن کا حل جب آپ قرآن کریم پڑھیں گے، اس میں سے تلاش کریں گے تو قرآن کریم میں سے حل ملتا ہے۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کی سنت میں سے آپ کی احادیث میں سے حل ملتاہے۔ پھر حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کے کلام میں وہ حل موجود ہے۔تو یہ تلاش کریں اور پھر اسی طرح جو موجودہ حالات ہیں، جو دنیا کے حالات ہیں آپ ان میں اپنے علم میں اضافہ کرتے چلے جائیں۔ اس کے بارے میں ہمیں حضرت مصلح موعود    رضی اللہ عنہ کا مہیّا کردہ جو لٹریچر ہے، تقاریر ہیں، خطبات ہیں، ان میں کافی موضوعات ایسے مل جاتے ہیں جن کواگر آپ پڑھیں تو آپ کو ایک آئیڈیا مل جاتاہے۔ ایک تصوّر نہیں بلکہ ایک بنیادی ڈھانچہ مل جاتاہے کہ یہ سوال اس طرح حل کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ ایک طریق کار وضع کرنے کا آپ کو اصول مل جاتاہے۔ ان اصولوں پہ چل کے پھر آگے آپ اس بات کو موجودہ حالات کے مطابق پھیلا بھی سکتے ہیں۔ اس لئے اس کو پڑھنے کی بہت کوشش کریں ۔

                    پھر جیساکہ میں نے آیت پڑھی تھی۔ آیت میں ہے کہ اِنَّنِیْ مِنَ الْمُسْلِمِیْنَ۔ یہ بہت اہم نکتہ ہے۔ اس کو ہمیشہ یاد رکھیں۔ جو تلاوت کی گئی اس میں بھی یہی لفظ استعمال ہؤا تھا۔جب تک آپ میں کامل فرمانبرداری نہیں ہو گی، نہ آپ کے علم میں ترقی ہو سکتی ہے۔ نہ آپ کی عقل میں ترقی ہو سکتی ہے۔ نہ آپ کو باتیں کرنے کا سلیقہ آ سکتا ہے۔ بلکہ اس کے الٹ ہو گا۔ تکبربھی پیدا ہو گااور علم سے دُوری بھی ہو گی۔ بعض لوگ خیال کرتے ہیں کہ کامل فرمانبرداری شاید علم کو روکنے کا باعث ہے۔ حالانکہ کامل فرمانبرداری کا جب اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال ہوتا ہے تو مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی کامل فرمانبرداری کرتے ہوئے اس کے حکموں کی تلاش کرو۔ رسول کی کامل فرمانبرداری کرتے ہوئے رسول کے حکموں کی تلاش کرو۔ یہی چیزیں آپ کو قرآن، حدیث اور حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ و السلام کے کلام کی طرف متوجہ کریں گی۔ پھر خلفاء کی باتوں کی طرف توجہ دیں کہ کیا کہا؟ اور خلیفۂ وقت کیا کہہ رہا ہے؟ اور جب یہ کامل اطاعت ہو گی تو آپ کی علم و معرفت بھی بڑھے گی ورنہ تکبر ہے۔

                     کامل فرمانبردار کون ہوتے ہیں؟ جیسا کہ مَیں نے کہا، وہی جو اللہ تعالیٰ کی کامل اطاعت کرنے والے ہیں۔ رسول کی کامل اطاعت کرنے والے ہیں۔ خلافت کی اطاعت کرنے والے ہیں۔ اور درجہ بدرجہ جو بھی اولی الامر ہے  اس کی اطاعت کرنے والے ہیں۔ کیونکہ اگر اطاعت نہیں، فرمانبرداری نہیں تو پھر آپ کی نہ تربیت نتیجہ خیز ہو سکتی ہے،  نہ تبلیغ نتیجہ خیزہو سکتی ہے۔ ہر ایک کا قبلہ اپنا اپنا ہو گا۔ اور جب قبلے مختلف ہو جائیں تو اِکائی نہیں رہتی،وحدت نہیں رہتی۔اور جب وحدت نہیں رہتی تو پھر نہ ہی کسی کام میں برکت پڑتی ہے، نہ ہی اُس کام کے نیک نتائج نکل سکتے ہیں۔

                     پس یہ جو بعض لوگوں کو خیال ہوتا ہے کہ شاید اطاعت ہمیں علم سے محروم کر رہی ہے، اطاعت ہمیں سوچ سے محروم کررہی ہے، اطاعت ہمیں آگے بڑھنے سے محروم کر رہی ہے، یہ غلط ہے۔ اطاعت سے ہی یہ ساری چیزیں حاصل ہوتی ہیں اور صرف اپنے لیے نہیں بلکہ لوگوں کو بھی آپ آگے بڑھاتے ہیں ۔ اب اللہ تعالیٰ نے تو یہی فرمایا ہے ناں کہ اللہ کی اطاعت کرو۔ رسول کی اطاعت کرو۔کس بارے میں؟ کہ ان احکامات کی تلاش کرو۔ مثلاً اللہ تعالیٰ فرماتا ہے فَاسْتَبِقُواالْخَیْرَات(البقرۃ:149)۔نیکیوں میں آگے بڑھو۔ فَاسْتَبِقُواالْخَیْرَات نیکیوں میں آگے بڑھو سے ایک مراد یہ بھی ہے کہ جب تک تم آگے بڑھ رہے ہو تو پھر اپنے ساتھ ان کے بھی ہاتھ پکڑو جو پیچھے تمہارے ساتھی ہیں۔ ایک سیڑھی پر تم چڑھ رہے ہو، قدم رکھا ہے تو دوسرا تمہارا کمزور بھائی ہے اس کا ہاتھ پکڑو، اس کو بھی کھینچ کر اوپر لاؤ۔ اب یہ اطاعت، اللہ تعالیٰ کے حکم کی اطاعت آپ نے کی۔ اس کی وجہ سے جہاں اپنے آپ کو نیکیوں میں بڑھایا وہاں اپنے بھائی کو بھی نیکیوں میں بڑھایا۔ گویا کہ ایک chain ہے جو اس مضمون کو صحیح طرح سمجھنے سے بنتی ہے اور پھر ایک جماعت کی وحدت اور اِکائی پیدا ہوتی ہے۔ پس اس بات کو یاد رکھیں۔ مختصرًا مَیں بعض باتیں بتا رہا ہوں۔ ان پر غور کریں اور دیکھیں کہ کس طرح آپ نے اپنی زندگیوں کو سنوارنا ہے اور دوسروں کی زندگیوں کو سنوارنا ہے؟

                     کامل فرمانبرداری، کامل اطاعت ماحول میں، معاشرے میں امن بھی پیدا کرتی ہے۔ تحفظ بھی مہیا کرتی ہے۔ اپنی غلطیوں کی طرف نشاندہی بھی کرواتی ہے۔ دوسروں کے الزامات سے بھی بچاتی ہے۔ کامل اطاعت اگر آپ کر رہے ہوں اَطِیْعُوااللّٰہَ وَاَطِیْعُواالرَّسُوْلَ(النساء:60) پر چل رہے ہوں، اولی الامر کی طرف دیکھ رہے  ہوں تو بہت سارے فسادوں سے بھی محفوظ رہیں گے۔ بہت سارے جھگڑوں سے بھی آپ محفوظ رہیں گے۔ آپ کو علم حاصل کرنے سے کوئی نہیں روکتا ۔آپ کی سوچوں پر کوئی پابندی نہیں لگاتا۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ قرآن کریم پر غورکرو،فکر کرو،تدبّر کرو۔رسولؐ نے بھی یہی فرمایا۔ حضرت مسیح موعودؑ نے بھی فرمایا۔ لیکن تدبّر کرنے سے یہ مراد نہیں کہ جب آپ کے نزدیک کوئی بھی نکتہ جو آپ نے نکالا، کوئی ذوقی نکتہ ہے تو وہی حرفِ آخر ہے۔ اس لئے جماعت احمدیہ میں تو خلافت کا ایک خوبصورت نظام ہے جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں مہیا کیا ہوا ہے کہ اپنے نکتے نکال کے خلیفۂ وقت کو پیش کرسکتے ہیں اور پھر ان پہ اپنی بنیادرکھ کر اپنے علم میں اضافہ کر سکتے ہیں اور دوسروں کو اس علم سے فائدہ بھی پہنچا سکتے ہیں۔

                    جس طرح آج آپ اس وقت میرے سامنے بیٹھے ہوئے ڈائری میں باتیں نوٹ کر رہے ہیں ہمیشہ یاد رکھیں کہ خلیفۂ وقت کے خطبات یا کوئی بھی باتیں ہوں ان کو نوٹ کریں، ان پر غورکریں، ان کواپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں اور جماعت کو بھی بتائیں ۔ بہت سارے مربّیان ہیں جو مثلًاخطبات نوٹ کرتے ہیں اور پھر اپنی رپورٹس میں ذکر کرتے ہیں کہ سارا ہفتہ انہوں نے جو بھی درس دیے ان میں ان خطبات میں سے کوئی نہ کوئی نکتہ وہ بیان کرتے رہتے ہیں۔ پھر اگلے ہفتے کوئی اور نکات مل جاتے ہیں توان نکات سے فائدہ اٹھاتے رہتے ہیں۔اور جب وہ دہراتے ہیں تو جماعت کو بھی فائدہ ہوتا ہے۔پس تربیت میں بھی ایک اِکائی پیدا ہو تی ہے۔ اور یہ وحدت ہے جو   اللہ تعالیٰ نے ہمیں خلافت کے نظام کے ذریعہ سے عطافرمائی ہے اور اس کی حفاظت کرنا اور اس کی حفاظت کے لئے اوّل درجے پر اپنے آپ کو ذمہ دار قرار دینا یہ تمام مربیان اور مبلغین کا فرض ہے۔ آپ وہ لوگ ہیں جو خلیفۂ وقت کے نمائندے ہیں۔ آپ وہ لوگ ہیں جنہوں نے خلیفۂ وقت کی آواز کو آگے پہنچانا ہے۔ پس اس لحاظ سے بھی آپ کوہر بات کو نوٹ کرکے جب اس کو آگے پہنچانا ہے تو ظاہر ہے جب آگے پہنچانا ہے تو یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کہیں کہ آگے پہنچادو۔ ایک ڈاکیہ کا کام آپ نے نہیں کرنا۔ اس پیغام کو خود سمجھنا ہے، اپنے اوپر لاگو کرنا ہے اور پھر پہنچانا ہے۔ تبھی آپ کو بھی فائدہ ہوگا اور جن کو آئندہ پہنچا رہے ہیں ان کو بھی فائدہ ہو گا۔ اپنی عقل پر وہاں حد لگا دیں جہاں      خلیفۂ وقت نے کسی بات پر واضح فیصلہ کر دیا ہو۔ اگر اپنی عقلوں کو اس سے زیادہ استعمال کرنے کی کوشش کریں گے تو مِنَ الْمُسْلِمِیْن کی فہرست میں سے نکل جائیں گے۔ اس لئے حدیں مقرر کرنی ہوتی ہیں۔ دنیا یہ کہتی ہے کہ  آزادیٔ رائے کی بہت بڑی اہمیت ہے اور ہم یہ کہتے ہیں کہ جہاں آزادی رائے دنیا کے امن اور سکون کو برباد کر رہی ہے وہاں اس کو حد لگا دو۔ پس اس لحاظ سے دینی تعلیم میں بھی ہمیں اپنی عقل اور اپنے نظریات کو وہاں حد لگا دینی پڑے گی جہاں خلیفۂ وقت نے بعض فیصلے کر دیے ہیں۔ تبھی آپ امن میں رہ سکتے ہیں۔ تبھی آپ کو سلامتی ملے گی۔  تبھی آپ کو تحفظ ملے گا۔

باقی جہاں تک علم ہے مَیں کئی دفعہ یہ بھی بیان کر چکاہوں کہ علم کے لحاظ سے شاید بعض غیر احمدی مولوی ہمارے علماء سے بعض باتوں میں زیادہ علم رکھتے ہیں۔ لیکن ان کے علم میں برکت نہیں ہے۔ ان کا علم بے فائدہ ہے۔کیوں؟ اس لئے کہ ان کے علم نے ان کو اطاعت سے باہر کردیا۔ ان کو علم نے یہ نہیں بتایا کہ نظام کی کیا اہمیت ہے؟ جب انسان ایک نظام سے باہر نکلتا ہے تو پھر وہاں علم فائدہ دینے کے بجائے نقصان دینے لگ جاتاہے۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے عملِ صالح کی طرف بھی توجہ دلائی۔

عملِ صالح کیاہے؟ عملِ صالح یہ ہے کہ ہر کام اس کے صحیح مقام کو سمجھتے ہوئے کیا جائے۔ہر کام کو صحیح جگہ پر کیا جائے اور صحیح وقت پر کیا جائے ۔بظاہر بعض نیک کام ہیں لیکن اگر وہ صحیح وقت پر نہیں ہو رہے ۔ اور ان کے نیک نتائج حاصل نہیں ہو رہے تو عملِ صالح نہیں رہے گا۔ اس لیے ہمیشہ یادر کھیں کہ اپنے علم کو ہمیشہ عملِ صالح کے تابع رکھیں۔ یہ بھی بہت ضروری ہے۔

پھر یہ یادرکھیں کہ آپ کے سپرد نظام کی حفاظت بھی ہے اور نظام کی حفاظت کے لئے تو سب سے بڑھ کر خود آپ کو نظام کی حفاظت کرنی ہوگی۔ اور نظام کی حفاظت کے لئے بات پھر وہیں لَوٹتی ہے کہ پھر آپ کو اطاعت کے بھی بڑے نمونے قائم کرنے ہوں گے۔ اگر آپ لوگ نظام کی حفاظت نہیں کریں گے تو دوسروں کو نظام کی حفاظت کی تلقین بھی نہیں کر سکتے۔ اختلافات ضرور ہوتے ہیںلیکن ان اختلافات کو نظام میں دراڑیں ڈالنے کی وجہ نہیں بنا لینی چاہئے۔ ان اختلافات کو اطاعت سے باہرنکلنے کا ذریعہ نہ بنا لیں۔بلکہ جو بھی اولو الامر ہے اس تک اپنا اختلاف پہنچا دیں۔ نہیں تو خلیفۂ وقت تک پہنچا دیں۔ اور اس کے بعد نظام جس طرز پر آپ سے کام کرنے کی جو توقع کر رہا ہے اس کے مطابق کام کرتے چلے جائیں۔اور اسی طرح پہلے بھی جیسا کہ مَیں نے کہا ہے کہ جماعت میں نظام کی اطاعت پیدا کرنا آپ لوگوں کا کام ہے۔جہاں بھی جائیں ، جہاں بھی متعیّن ہوںافرادِ جماعت میں جماعت کے نظام کاصحیح احترام پیداکریں۔ان کو صحیح اہمیت بتائیں۔ پس یہ اس صورت میں ہوگا جیسا کہ پہلے بھی مَیں نے کہا کہ جب ہر سطح پر آپ کے اپنے عملی نمونے سامنے ہوں گے۔

نمازوں اور دعاؤں کی طرف پہلے بھی توجہ دلاچکاہوں۔ دوبارہ یاد کراتاہوں کہ ہرکام ہمارے دعاسے ہونے ہیں۔ اور حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ و السلام نے تو فرمایاہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہی بتایا ہے کہ آپ کے جو کام ہونے ہیں دعا سے ہونے ہیں۔ جماعت کی ترقی دعا سے ہونی ہے۔ اس لیے وہ لوگ جنہوں نے اپنے آپ کو خالصتاً حضرت مسیح موعودعلیہ الصلوٰۃ و السلام کی فوج کے ان سپاہیوں میں شامل کیا ہے جنہوں نے تفَقُّہ فی الدّین کے بعد اِس پیغام کو دنیا کے کونے کونے میں پہنچا نا ہے ان کے لئے تو خاص طورپر بہت زیادہ ضروری ہے کہ اپنی دعاؤں کی طرف بہت زیادہ توجہ دیں۔ نوافل کی طرف بہت توجہ دیں۔ نمازوں کی ادائیگی صحیح کریں اور اللہ تعالیٰ سے ایک ایسا تعلق پیدا کریں جو کہ ایک حقیقی مومن کا اللہ تعالیٰ سے ہونا چاہئے اورجس کی باربار حضرت مسیح موعودعلیہ السلام نے ہمیں تلقین فرمائی ہے ۔

 اللہ کرے آپ لوگ میدانِ عمل میں بھی اپنے پاک نمونے دکھانے والے ہوںاور کسی کی ٹھوکر کا باعث نہ بنیں بلکہ ہر شخص جو آپ کو دیکھے وہ یہ کہے کہ یہ مربّیان جو جامعہ سے نکلے ہیں اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت کی تربیت کے لحاظ سے بھی اور تبلیغ کے لحاظ سے بھی اعلیٰ نمونے پیش کرنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق دے۔ دعا کر لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں