خطاب حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز برموقع جلسہ سالانہ یوکے30؍جولائی2017ء
(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
میں جب بھی کسی ایسے پروگرام میں شامل ہوتا ہوں جس میں غیر مسلم بھی بلائے گئے ہوں اور وہاں جب اسلام کی خوبصورت اور پُر امن تعلیم پیش کی جاتی ہے تو اکثریت حیران ہوتی ہے کہ کیا حقیقت میں یہ اسلام کی تعلیم ہے۔ اور یہ ردّ عمل، یہ اظہار کسی ایک ملک کے رہنے والوں کا نہیں ہے بلکہ بلا تخصیص ہر ملک میں یہی اظہار ہوتا ہے۔ اور آجکل جبکہ مختلف ممالک میں ہماری جماعتیں اپنے نظام کے تحت اسلام کی امن اور سلامتی کی تعلیم کے پمفلٹ تقسیم کر رہی ہیں جیسا کہ کل بھی مَیں نے رپورٹ میں بتایا تھا کہ اب لاکھوں کی تعداد میں یہ پمفلٹ تقسیم ہو رہے ہیں ۔ تو وہاں ہر ایک کا یہی اظہار ہوتا ہے کہ حیرت ہے کہ میڈیا تو ہمیں اسلام کے متعلق کچھ اور بتاتا ہے اور آپ اس سے بالکل مختلف باتیں کر رہے ہیں۔
میڈیا نے چند شدت پسند گروہوں کے عمل کو لے کر دنیا میں اسلام کو بحیثیت مذہب اس قدر بدنام کر دیا ہے کہ افریقہ کے دور دراز علاقوں میں رہنے والے لوگ بھی یہی اظہار کرتے ہیں اور امریکہ کے رہنے والے لوگ بھی یہی اظہار کرتے ہیں۔ ساؤتھ امریکہ کے جزائر کے رہنے والے، آسٹریلیا کے لوگ ،یورپ کے لوگ جاپان کے لوگ، غرض غیر مسلم دنیا کے نزدیک دنیا کی بدامنی اور فتنہ و فساد کی وجہ صرف اسلام کی تعلیم اور مسلمان ہیں جبکہ حقیقت میں اسلام کی تعلیم ہی حقیقی امن کی ضامن ہے اور دنیا کی سلامتی کی ضامن ہے۔ اسلام کے لفظ میں ہی سلامتی اور امن کا پیغام ہے جو بلا تخصیص، بغیر کسی فرق کے، بغیر کسی امتیاز کے ،ہر ایک کو امن اور سلامتی دینا چاہتا ہے۔ اسلام کی تعلیم وہ خوبصورت تعلیم ہے جو ہر قسم کے احساس کمتری و برتری اور فرق کو ختم کر کے کہتی ہے کہ سب انسان برابر ہیں ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ اعلان فرمایا کہ عربی کو عجمی پر اور عجمی کو عربی پر اور گورے کو کالے پر اور کالے کو گورے پر کوئی فضیلت نہیں۔(مسند احمد بن حنبل جلد 7 صفحہ 760 حدیث 23885 حدیث رجل من أصحاب النبیﷺ مطبوعہ عالم الکتب بیروت 1998ء) بحیثیت انسان سب برابر ہیں۔ پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالیٰ نے رحمۃ للعالمین کا خطاب دے کر تمام انسانوں کے لئے بالخصوص امن اور سلامتی کا ضامن بنا دیا۔ جو شخص عالَم کے لئے رحمت بنا کر بھیجا گیا ہو یہ کس طرح ہو سکتا ہے کہ اس کی تعلیم اور اس کا عمل دنیا کے امن اور سلامتی کو برباد کرنے والا ہو ۔اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اسلام اُس خدا پر یقین رکھتا ہے جو ربّ العالمین ہے ۔جو کائنات کی ہر چیز کو پیدا کرنے والا اور پالنے والا ہے ۔جو تمام مذاہب کے ماننے والوں کا ربّ ہے ۔بلکہ جو خدا کو نہیں مانتے ان کی بھی دنیاوی ضروریات مہیا کرنے والا اور انہیں امن دینے والا ہے۔ اسلام کا خدا وہ خدا ہے جو کہتا ہے کہ ہر مذہب کی بنیادی تعلیم جس خدا کا تصور پیش کرتی ہے حقیقت میں وہ ایک ہی خدا ہے جو کہتا ہے کہ ہر چیز کا مہیا کرنے والا مَیں ہوں۔ مختلف مذاہب نے اپنے مذہب کے نبی کی زبان کے مطابق اس کے مختلف نام رکھ لئے ہیں اور اس وجہ سے بعض سمجھتے ہیں کہ خدا اَور ہے اور اس وجہ سے اختلاف بھی پیدا ہوا ہے۔ اسلام نے واضح طور پر فرمایا کہ لڑنے کی ضرورت نہیں۔ مذہب کے نام پر گردنیں کاٹنے کی ضرورت نہیں۔ خدا ایک ہی ہے جو یہودیوں کا بھی خدا ہے، عیسائیوں کا بھی خدا ہے، ہندوؤں کا بھی خدا ہے ،مسلمانوں کا بھی خدا ہے اور دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کا بھی خدا ہے۔ وہ ہر ایک کا ربّ ہے۔ پس تمام مخلوق اس کی ہے اور وہ مخلوق کا پالنے والا ہے ۔اس کا فیض عام ہے۔ جب اس کا فیض عام ہے اور تمام مخلوق اسی کی ہے، سب کو وہ پالنے والا ہے تو پھر مذہبی یا کسی بھی اختلاف کی وجہ سے فتنہ کیوں پیدا کر رہے ہو۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں اس زمانے میں اس بات کا اِدراک دیا کہ فتنہ و فساد کی بنیاد اُس وقت پڑتی ہے جب احساس برتری جنم لینا شروع کر دیتا ہے ۔جب مذاہب اور قوموں میں یہ احساس پیدا ہونا شروع ہوتا ہے کہ خدا صرف ہمارا ہے اور دوسری قوموں اور مذہبوں سے اس کا کچھ بھی تعلق نہیں ہے۔ لیکن اسلام جب یہ کہتاہے کہ ہمارا خدا ربّ العالمین ہے تو گویا وہ اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ جب ہم سب کا خدا ایک ہے، وہی ایک خدا ہے جو ہم سب کا پالنے والا ہے اور پیدا کرنے والا ہے تو پھر ہم آپس میں امن و سلامتی سے رہیں۔
چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ ’’خدا نے قرآن شریف کو پہلے اسی آیت سے شروع کیا ہے جو سورۃ فاتحہ میں ہے کہ اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْن۔ یعنی تمام کامل اور پاک صفات خدا سے خاص ہیںجو تمام عالَموں کا ربّ ہے۔‘‘ فرمایا کہ ’’عالَم کے لفظ میں تمام مختلف قومیں اور مختلف زمانے اور مختلف ملک داخل ہیں اور اس آیت سے جو قرآن شریف شروع کیا گیا یہ درحقیقت ان قوموں کا ردّ ہے جو خدا تعالیٰ کی عام ربوبیت اور فیض کو اپنی ہی قوم تک محدود رکھتے ہیں اور دوسری قوموں کو ایسا خیال کرتے ہیں کہ گویا وہ خدا تعالیٰ کے بندے ہی نہیں اور گویا خدا نے ان کو پیدا کر کے پھر ردّی کی طرح پھینک دیا ہے یا ان کو بھول گیا ہے اور یا( نعوذ باللہ) وہ اس کے پیدا کردہ ہی نہیں۔‘‘(پیغام صلح، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 440)
پس جن کی یہ سوچ ہو کہ خدا نے صرف ہمیں ہی ہر ایک سے برتر بنایا ہے اور دوسرے گویا خدا کے پیدا کردہ ہی نہیں ہیں یا خدا نے ان لوگوں کو پیدا کر کے ردّی کی طرح پھینک دیا ہے وہ حقیقت میں اپنے اس احساس برتری کی وجہ سے دنیا میں فتنہ پیدا کرتے ہیںا ور دنیا کے امن کو برباد کرتے ہیں۔
گزشتہ دنوں امریکہ کے صدر کے ایک قریبی دوست اور سیاستدان نے بڑا کھل کر ٹی وی پر یہ بیان دیا کہ ہم سفید نسل کے لوگ جو ہیں دنیا کی سب نسلوں سے برتر ہیں ،بہتر ہیں اور ہمارا حق بنتا ہے کہ ہم ان پر حکومت کریں۔ اور اپنی مرضی سے جو چاہیں کریں اور سب سے کمتر اس نے کالے رنگ والوں اور افریقیوں کو کہا بلکہ یہاں تک کہا کہ ان کے رنگ کی وجہ سے ان میں وہ دماغی صلاحیتیں بھی نہیں ہو سکتیں جو سفید رنگ والوںمیں ہیں۔ گویا تکبر نے اس کو اس حد تک بے باک کر دیا ہے کہ وہ خدا کے مقابل پر اپنے آپ کو کھڑا کر رہا ہے۔ اسلام کو بدنام کرنے والے جو لوگ ہیں وہ ذرا سوچیں کہ کیا یہ بیان امن کو قائم کرنے والا بیان ہے۔ یہ بیان اُن کے دل کی آواز ہے جو متکبر لوگ ہیں اور ظاہری طور پر چاہے یہ جتنے بھی انصاف اور امن اور سلامتی کے نعرے لگا لیں حقیقت میں یہ اس مقصد اور ایجنڈے کو حاصل کرنے کی کوشش کریں گے جس کا یہ اظہار کرتے ہیں اور ابھی مَیں نے بتایا کہ یہ کر رہے ہیں۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ کی مزید وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ’’ خدا تعالیٰ نے قرآن شریف کو اسی آیت سے شروع کیا کہ اَلْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ اور جا بجا اس نے قرآن شریف میں صاف صاف بتلا دیا ہے کہ یہ بات صحیح نہیں ہے کہ کسی خاص قوم یا خاص ملک میں خدا کے نبی آتے رہتے ہیں بلکہ خدا نے کسی قوم اور کسی ملک کو فراموش نہیں کیا اور قرآن شریف میں طرح طرح کی مثالوں میں بتلایا گیا ہے کہ جیسا کہ خدا ہر ایک ملک کے باشندوں کے لئے ان کے مناسب حال ان کی جسمانی تربیت کرتا آیا ہے ایسا ہی اُس نے ہر ایک ملک اور ہر ایک قوم کو روحانی تربیت سے بھی فیضیاب کیا ہے۔‘‘ فرمایا ’’جیسا کہ وہ قرآن شریف میں ایک جگہ فرماتا ہے وَاِنْ مِّنْ اُمَّۃٍ اِلَّا خَلَا فِیْھَا نَذِیْرٌ(الفاطر25:)کہ کوئی ایسی قوم نہیں جس میں کوئی نبی یا رسول نہیں بھیجا گیا‘‘۔ فرماتے ہیں’’ سو یہ بات بغیر کسی بحث کے قبول کرنے کے لائق ہے کہ وہ سچا اور کامل خدا جس پر ایمان لانا ہر ایک بندہ کا فرض ہے وہ رب العالمین ہے اور اس کی ربوبیت کسی خاص قوم تک محدود نہیں اور نہ کسی خاص زمانے تک اور نہ کسی خاص ملک تک بلکہ وہ سب قوموں کا رب ہے اور تمام زمانوں کا رب ہے اور تمام مکانوں کا رب ہے اور تمام ملکوں کا وہی رب ہے اور تمام فیوض کا وہی سرچشمہ ہے اور ہر ایک جسمانی اور روحانی طاقت اُسی سے ہے اور اُسی سے تمام موجودات پرورش پاتی ہیں اور ہر ایک وجود کا وہی سہارا ہے۔ ‘‘فرمایا کہ’’ خدا کا فیض عام ہے جو تمام قوموں اور تمام ملکوں اور تمام زمانوں پر محیط ہو رہا ہے۔ یہ اس لئے ہوا کہ تا کسی قوم کو شکایت کرنے کا موقع نہ ملے اور یہ نہ کہیں کہ خدا نے فلاں فلاں قوم پر احسان کیا مگر ہم پر نہ کیا ۔یا فلاں قوم کو اُس کی طرف سے کتاب ملی تا وہ اس سے ہدایت پاویں مگر ہم کو نہ ملی۔ یا فلاں زمانے میں وہ اپنی وحی اور الہام اور معجزات کے ساتھ ظاہر ہوا مگر ہمارے زمانے میں مخفی رہا۔ پس اُس نے عام فیض دکھلا کر ان تمام اعتراضات کو دفع کر دیا اور اپنے ایسے وسیع اخلاق دکھلائے کہ کسی قوم کو اپنے جسمانی اور روحانی فیضوں سے محروم نہیں رکھا اور نہ کسی زمانے کو بے نصیب ٹھہرایا۔ ‘‘(پیغام صلح، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 441-442)
پس جو یہ کہتے ہیں کہ گورے زیادہ عقل والے ہیں، زیادہ دماغ والے ہیں، ان کی صلاحیتیں زیادہ ہیں۔وہ غلط ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہر قوم میں صلاحیتیں رکھی ہیں اور ہر قوم کو اپنے فیض سے فیض پہنچایا ہے۔ دنیاداروں کے اپنے آپ کو برتر اور دوسروں سے بعض معاملات میں بہتر کہنے کے علاوہ دوسرے مذاہب بھی اس طرح کھل کر برابری کا اظہار نہیں کرتے جس طرح اسلام کی تعلیم نے کیا ہے۔ یہ اسلام ہی کی تعلیم ہے جو کہتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مذہبی لحاظ سے بھی برابری کا سلوک کیا ہے اور ہر قوم میں نبی بھیجے ہیں اور تمام انبیاء اللہ تعالیٰ کے پیغام کے لحاظ سے ایک ہی پیغام لے کر آئے ہیں اور ان میں کوئی فرق نہیں۔ پس مسلمان ہی صرف اس بات کے پابند ہیں کہ وہ قرآن کریم کی تعلیم کے مطابق ہر قوم میں نبی مانیں۔ کوئی دوسرے مذاہب والے اس کے پابند نہیں کیونکہ قرآن کریم نے یہ تعلیم دی ہے کہ ہر قوم میں نبی آئے اور ہم ہر ایک پر ایمان لاتے ہیں۔ جب ہر قوم میں ہم نبی مانیں گے تو پھر یہ نہیں کہہ سکتے کہ تمہارا نبی جھوٹا ہے یا تمہارے نبی کی تعلیم غلط ہے۔ یہ ایک مسلمان کہہ ہی نہیں سکتا کیونکہ اس طرح کہنے سے وہ قرآن کریم کو نعوذ باللہ غلط کہے گا۔ پس یہ بات ثابت کرتی ہے کہ مذہبی رواداری اور امن کی تعلیم میں اسلام کی تعلیم کا کوئی اور تعلیم مقابلہ ہی نہیں کر سکتی ۔جبکہ اس کے مقابلے میں ایک عیسائی یا یہودی یا کسی بھی مذہب کا شخص جو ہے وہ نامناسب الفاظ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کر سکتا ہے۔ لیکن ایک مسلمان اس بات پر مجبور ہے کہ وہ کہے کہ عیسیٰ علیہ السلام یا موسیٰ علیہ السلام اور اسی طرح دوسرے مذاہب کے بانی اور انبیاء ہیں ان کا نام عزت سے لے۔ دوسرے مذاہب والے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق غلط باتیں کر کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ہتک کرنے والے بنتے ہیں تو ہم مسلمان ہر نبی کے ساتھ علیہ السلام کا لفظ استعمال کر کے ان پر سلامتی بھیج رہے ہوتے ہیں۔ ان کی عزت اور احترام قائم کر رہے ہوتے ہیں۔ پس اسلام ہی ہے جو سب سے زیادہ امن اور سلامتی کی تعلیم دینے والا مذہب ہے اور اپنے ماننے والوں کو کہتا ہے کہ تم نے ہر حالت میں صلح کی بنیاد ڈالنی ہے۔
چنانچہ مذہبی اختلاف کو دُور کرنے اور آپس میں امن سے رہنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اس انتہا تک مسلمانوں کو ہدایت فرمائی ہے کہ فرمایا کہ وَ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ فَیَسُبُّوا اللہَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ۔کَذٰلِکَ زَیَّنَّا لِکُلِّ اُمَّۃٍ عَمَلَھُمْ ثُمَّ اِلٰی رَبِّھِمْ مَّرْجِعُھُمْ فَیُنَبِّئُھُمْ بِمَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ(الانعام109:) اور تم ان کو گالیاں نہ دو جن کو وہ اللہ تعالیٰ کے سوا پکارتے ہیں ورنہ وہ دشمنی کرتے ہوئے بغیر علم کے اللہ کو گالیاں دیںگے۔ اسی طرح ہم نے ہر قوم کو ان کے کام خوبصورت بنا کر دکھائے ہیں۔ پھر ان کے رب کی طرف ان کو لوٹ کر جانا ہے۔ تب وہ انہیں اس سے آگاہ کرے گا جو وہ کیا کرتے تھے۔
دنیا کے فسادوں کو دُور کرنے اور آپس میں امن سے رہنے کے لئے اس سے بڑھ کر اور کیا بات ہو سکتی ہے کہ فرمایا کہ وہ لوگ جو اللہ تعالیٰ کے علاوہ بتوں کو پکارتے ہیں اور شرک کے مرتکب ہو رہے ہیں اور شرک اللہ تعالیٰ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے۔ لیکن پھر بھی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے تمہارا کام نہیں کہ ان کے بتوں کو برا کہو۔ ہر ایک کے مذہبی جذبات ہوتے ہیں یااپنے جذبات ہوتے ہیں ،صحیح ہیں یا غلط ہیں، تم بغیر حکمت کے ان کے بتوں کو برا کہو گے تو وہ جہالت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کو گالیاں دیں گے۔ پھر تمہارے جذبات بھی انگیخت ہوں گے اور فتنہ و فساد کی آگ بھڑکے گی۔ اس لئے تم اس سے بچو۔ مرنے کے بعد سب نے اللہ تعالیٰ کے حضور حاضر ہونا ہے وہاں وہ خود ان کے درمیان فیصلہ کرے گا کہ اصل رب کون ہے۔ پالنے والا کون ہے۔ضروریات پوری کرنے والا کون ہے۔ جزاو سزا کا مالک کون ہے۔ پس یہ وہ سنہری اصول ہے جو جہاں فتنہ و فساد کو مٹاتاہے وہاں سلامتی کی تعلیم دیتا ہے ،وہاں مسلمانوں کے اعلیٰ اخلاقی معیاروں کو بھی بڑھاتا ہے۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس کی وضاحت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اس قدر ہمیں طریقِ ادب اور اخلاق کا سبق سکھلایا ہے کہ وہ فرماتا ہے کہ لَا تَسُبُّوا الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللہِ فَیَسُبُّوا اللہَ عَدْوًا بِغَیْرِ عِلْمٍ۔(الانعام109:)یعنی تم مشرکوں کے بتوں کو بھی گالی مت دو کہ وہ پھر تمہارے خدا کو گالیاں دیں گے کیونکہ وہ اُس خدا کو جانتے نہیں۔ ‘‘ فرماتے ہیں کہ’’ اب دیکھو کہ باوجودیکہ خدا کی تعلیم کی رُو سے بُت کچھ چیز نہیں ہیں مگر پھر بھی خدا مسلمانوں کو یہ اخلاق سکھلاتا ہے کہ بتوں کی بدگوئی سے بھی اپنی زبان بند رکھو اور صرف نرمی سے سمجھاؤ ۔ایسا نہ ہو کہ وہ لوگ مشتعل ہو کر خدا کو گالیاں نکالیں اور اُن گالیوں کے تم باعث ٹھہرجاؤ۔ ‘‘(پیغام صلح، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 460-461)
اگر کوئی مسلمان اس تعلیم پر عمل نہیں کرتا تو یہ اس کے عمل کا قصور ہے نہ کہ تعلیم کا۔ غیر مسلم اسلام کی تعلیم کو بغیر سوچے سمجھے غلط کہتے ہیں اور استہزاء کرتے ہیں۔ حقیقت میں تو وہ لوگ ہیں جو دنیا کے امن کو برباد کر رہے ہیں نہ کہ اسلام کی تعلیم۔ پس اسلام کی تعلیم کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جا سکتا۔ اگر کوئی مسلمان غلط حرکت کرتا ہے تو یہ اس کا ذاتی فعل ہے جو تعلیم سے ہٹ کے ہے اور اگر جاننے کے باوجود اسلام کو غیر مسلم بدنام کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور پھر فتنہ و فساد پیدا ہوتا ہے تو پھر وہ لوگ اس کے ذمہ دار ہیں۔
پس اسلام میں اس قسم کی بہت سی مثالیں ہیں جو نہ تو کسی قسم کے جبر کی تعلیم دیتی ہیں، نہ فساد کی بلکہ امن اور صلح اور صفائی اور سلامتی کا پیغام جتنا اسلامی تعلیم دیتی ہے اس کا کوئی اور تعلیم مقابلہ کر ہی نہیں سکتی۔ مثلاً سورۃ یونس میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَلَوْ شَآءَ رَبُّکَ لَاٰمَنَ مَنْ فِی الْاَرْضِ کُلُّھُمْ جَمِیْعًا۔ اَفَاَنْتَ تُکْرِہُ النَّاسَ حَتّٰی یَکُوْنُوْا مُؤْمِنِیْنَ(یونس100:)اور اگر تیرا رب چاہتا تو جو بھی زمین میں بستے ہیں اکٹھے سب کے سب ایمان لے آتے۔ تو کیا تُو ان لوگوں کو مجبور کر سکتا ہے حتی کہ وہ ایمان لانے والے ہو جائیں۔
پس اگر دنیا کو جبر کے ساتھ منوانا ہوتا اور جو نہ مانے یا جو مذہبی اختلاف رکھتا ہو اس کے ساتھ زبردستی کرنی ہوتی ،امن برباد کرنا ہوتا تو اللہ تعالیٰ یہ نہ فرماتا کہ تُو لوگوں کو مسلمان ہونے کے لئے مجبور نہیں کر سکتا۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر وہ چاہتا اور یہ بات اللہ تعالیٰ کی طاقت میں ہے کہ وہ تمام دنیا کے انسانوں کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کر دیتا ۔لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں چاہا کیونکہ یہ جبر ہے۔ جب اللہ تعالیٰ نے نہیں چاہا تو اللہ تعالیٰ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتا ہے کہ تُو بھی دنیا کو مجبور نہیں کر سکتا کہ وہ مسلمان ہو جائیں۔ جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کواللہ تعالیٰ نے یہ اختیار نہیں دیا تو پھر کسی اور کا کیا اختیار ہو سکتا ہے۔ یہ مولوی اور جو دوسرے دہشتگرد کہتے ہیں کہ ہم زبردستی کر لیں گے یہ اسلام کی تعلیم کے خلاف حرکتیں ہیں جو وہ کرتے ہیں۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:وَقُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّکُمْ فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّمَنْ شَآءَ فَلْیَکْفُرْ(الکہف30:) اور کہہ دے کہ حق وہی ہے جو تمہارے رب کی طرف سے ہو۔ پس جو چاہے وہ ایمان لے آئے اور جو چاہے سو انکار کر دے۔
پس اگر ہمارے آقا و مولیٰ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اختیار نہیں کہ جبر سے منوائیں تو پھر آجکل کے علماء اور یہ نام نہاد تنظیمیں جیسا کہ میں نے کہا ان کو کس طرح اختیار ہو سکتا ہے کہ اسلام پھیلانے میں جبر کریں اور اسلام کے نام کو بدنام کریں۔ پس اگر کوئی اسلام کے نام پر غلط حرکت کرتا ہے تو وہ ملزم ہے نہ کہ ہم اسلام کی تعلیم کو غلط کہیں۔ اسلام تو صلح و آشتی اور محبت و سلامتی پھیلانے والا مذہب ہے۔ امن دینے والا مذہب ہے۔
یہ باتیں جو اَب تک میں نے بیان کی ہیں یہ ان دونوں طریقوں کو غلط قرار دیتی ہیں، ان غیر مسلموں کو بھی جو اسلام کو شدت پسندی اور فتنہ و فساد کا مذہب قرار دیتے ہیں اور ان مسلمانوں کو بھی جو اسلام کے نام پر دہشتگردی کرتے اور دنیا کے امن کو برباد کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس خوبصورت تعلیم کے بعد مسلمانوں کے ایسے عمل جس نے دنیا میں غیر مسلموں کو اسلام پر انگلی اٹھانے کی جرأت دی ہے یقینا ًان مسلمانوں کی بدقسمتی ہے لیکن نام نہاد علماء نے جو دنیا میں بگاڑ پیدا کیا ہے اس کا یہ نتیجہ ہونا تھا اور اس زمانے میںاس بگاڑ کے سُدھارنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے وعدے کے مطابق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بھیجا ہے جنہوں نے پھر قرآن کریم کی روشنی میں اسلام کی خوبصورت حقیقی تعلیم دکھانی تھی اور آپ نے دکھائی۔ قرآن کریم مسلمانوں کی مقدس کتا ب ہے۔ قرآن کریم کی تعلیم کی روشنی میں ہی اسلام کی خوبصورت حقیقی تعلیم دکھائی جا سکتی ہے اور اس پر عمل کیا جا سکتا ہے اور یہ اس زمانے میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہمیں کھول کر بیان کی اور دکھائی۔
قرآن کریم خانہ کعبہ کے مقام کے بارے میں کہتا ہے یا مکہ کے مقام کے بارے میں کہتا ہے کہ مَنْ دَخَلَہٗ کَانَ اٰمِنًا۔(آل عمران98:) جو اس میں داخل ہوا وہ امن میں آ گیا ۔ یہاں اٰمِناً کےدونوں معنی ہیں کہ جو اس میں داخل ہو گا وہ بھی امن میں ہو گا۔ جو اس کو مانے گا وہ بھی امن میں ہو گا اور یہ لوگ دوسروںکے لئے بھی امن مہیا کرنے والے ہوں گے ۔ اس کا پہلا عملی اظہار ہمیں اس وقت نظر آتا ہے جب فتح مکہ کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے اور اپنے صحابہ کے جانی دشمنوں کی جان بخشی کے لئے امن اور سلامتی کا اعلان کر دیا۔ ایک انصاری سردار نے اس وقت کہا کہ آج ہم قریش سے بدلہ لیں گے اور قریش کو ذلیل کریں گے تو ابوسفیان نے یہ بات سن لی۔ یہ سن کر وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے۔ آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ یہ مَیں نے انصاری سردار سے سنا ہے۔کیا آج اس شہر میں باوجودہمارے پرانے ظلموں کے آپ ہمیں امن نہیں دیں گے؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آج تم سب کو باوجود تمہارے ظلموں کے امن دیا جائے گا کیونکہ اب یہ امن والا شہر قرار دیا گیا ہے۔ خانہ کعبہ اب امن کی جگہ قرار دی گئی ہے ۔اور جو کچھ انصاری سردار نے کہا ہے آپؐ نے فرمایا کہ وہ غلط کہا ہے۔ آج کے دن سے ہی تو اس مقدس شہر اور خانہ کعبہ سے رحم، امن اور سلامتی کی تعلیم دنیا میں پھیلنی ہے۔ آپ نے اس انصاری سردار کے جھنڈے کو دوسرے سردار کو دے دیا کہ اس نے یہ بات کیوں کہی ہے اور اس شہر کا امن اور سلامتی کا جو مقام تھا اس کا عملی نمونہ ثابت کر کے دکھا دیا۔ (شرح زرقانی علی المواہب اللدنیہ جلد 3 صفحہ 409 باب غزوۃ الفتح الأعظم مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت 1996ء)
پس یہ ہے وہ اسلام کی امن اور سلامتی کی تعلیم کہ جانی دشمنوں کو بھی غلبہ پانے پر معاف کر دیا اور سزا کی بجائے رحم کا سلوک فرمایا۔ کون ہے جو آج کی اس نام نہاد مہذب دنیا میں یہ عمل دکھا سکے۔
اسی طرح اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں سلامتی کی طرف بلانے کے بارے میں ایک جگہ فرماتا ہے کہ وَاللہُ یَدْعُوْٓا اِلٰی دَارِالسَّلٰمِ۔(یونس26:) اور اللہ تعالیٰ تمہیںسلامتی کے گھر کی طرف بلاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ جہاں یہ فرماتا ہے کہ آؤ اور سلامتی کے گھر میں داخل ہو جاؤ وہاں سلامتی کے گھر میں داخل ہونے والوں کا نام بھی اس نے مُسلم رکھا ہے۔ یعنی وہ لوگ جو سلامتی پھیلانے والے اور امن قائم کرنے والے ہیں۔ اگر کوئی اس لفظ کے تقدّس کا خیال نہیں کرتا تو یہ اس کا قصور ہے۔
پھر ایک دوسرے کو ملنے پر اسلام کی تعلیم یہ ہے کہ اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہو۔ ایک دوسرے پر سلامتی بھیجو۔ (سنن الترمذی کتاب الاستئذان والأداب باب ما جاء فی افشاء السلام حدیث 2688)
پس کیا حقیقت میں جو اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ کہہ کر سلامتی بھیجتا ہے وہ تلوار اٹھا کر قتل و غارتگری کرے گا اور امن برباد کرے گا؟
اسی طرح اپنی نماز میں ہم دیکھتے ہیں، نماز سے فارغ ہوتے وقت دائیں بائیں اَلسَّلَامُ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَۃُ اللہِ ہم کہتے ہیں ۔یعنی مَیں اللہ تعالیٰ کی عبادت سے فارغ ہو کر دائیں بھی امن اور سلامتی کا اور بائیں بھی امن اور سلامتی کااور آگے بھی اور پیچھے بھی امن اور سلامتی کا پیغام دیتا ہوں۔ پس اسلام کبھی بھی امن و سلامتی کو ختم کرنے والا نہیں رہا۔ جبروتشدد کرنے والا نہیں رہا۔ اس کی تعلیم ہی ایک ایسی خوبصورت تعلیم ہے جو سب مذاہب سے زیادہ امن اور سلامتی کی تعلیم دیتی ہے۔
پھر قرآن کریم ہمیں بتاتا ہے کہ اصل امن اور سلامتی کا مرکز یہی حَرَم ہے۔ فرمایا: اَوَلَمْ یَرَوْا اَنَّا جَعَلْنَا حَرَمًا اٰمِنًا وَّیُتَخَطَّفُ النَّاسُ مِنْ حَوْلِھِمْ۔ اَفَبِالْبَاطِلِ یُؤْمِنُوْنَ وَبِنِعْمَۃِ اللہِ یَکْفُرُوْنَ(العنکبوت68:) کیا انہوں نے نہیں دیکھا کہ ہم نے ایک امن والا حرم بنایا ہے جبکہ اس کے ارد گرد کے لوگ اُچک لئے جاتے ہیں۔ تو پھر کیا وہ جھوٹ پر ایمان لائیں گے اور اللہ کی نعمت کا انکار کریںگے۔ یہ اعلان ہے کہ خانہ کعبہ کا حقیقی مقصد امن اور سلامتی کا قیام ہے اور یہ مسلمانوں کی بھی بڑی ذمہ داری ہے جواُن پر ڈالی گئی ہے کہ اسے ہمیشہ امن اور سلامتی کا ہی مرکز رکھیں۔اللہ تعالیٰ یہ اعلان فرما رہا ہے کہ اس سے تعلق رکھنے والے امن میں رہیں گے۔ یعنی سچا امن صرف انہی سے ملے گا جو خدا ئے واحد پر ایمان لا کر بیت اللہ کے ساتھ سچا تعلق رکھیں گے۔ یہ مسلمانوں کی بدقسمتی ہے خاص طور پر ان ملکوں کے ان مسلمان بادشاہوں کی کہ ایسی واضح ضمانت کے بعد بھی پھر بجائے اس کے کہ اپنی نظر خدائے واحد پر رکھیںا ور اس مقصد کی طرف دیکھیں جو خانہ کعبہ کی تعمیر کا مقصد ہے ،جو خانہ کعبہ کا مقصد ہے، جس کو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے، اور امن قائم کرنے کی کوشش کریں، اپنی دولت اور طاقت کے زعم میں ظلموں پر اتر رہے ہیں ۔اور امن کے ضامن اپنے دنیاوی دوستوں اور آقاؤں کو سمجھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ حرم کا امن میں نے قائم کیا ہوا ہے اور اس سے حقیقی طور پر منسلک لوگ بھی میری وجہ سے ہی امن میں رہیں گے۔ اگر دنیاوی طاقتیں اور منصوبے امن دینے والے ہوتے تو دنیا میں جو فتنہ اور فساد ہو رہا ہے وہ نہ ہوتا۔ دنیا میں جوبدامنی ہے ،بے چینی ہے وہ اس لئے ہے کہ خدا تعالیٰ کی بجائے ان کی دنیا پر نظر ہے۔ پس ایک دنیا دار تو خدائے واحد کو بھول کر اپنی تباہی کا سامان کر رہا ہے لیکن مسلمانوں کو ہوش کرنی چاہئے کہ توحید کے قیام کے لئے جو اس نے گھر بنایا ہے اور توحید جو زمانے سے گم ہو چکی ہے اسے لانے کے لئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کو بھیجا ہے اسے مانیں تا کہ اس امن کے مقام سے حقیقی فیض پا سکیں ورنہ وہ بھی ارد گردکی قوموںکی طرح تباہی میں گرتے چلے جائیں گے۔ اس امن کے شہر کا مقام تو قائم رہے گا اور ہمیشہ رہے گا لیکن ظالم اور روحانیت سے ہٹے ہوئے حکمرانوں کے بجائے انصاف پسند اور روحانیت پر قائم حکمران اللہ تعالیٰ لے کر آئے گا۔ سچا امن روحانیت کے بغیر قائم ہو ہی نہیںسکتا۔ پس جو خادم حرمین بنتے ہیں ان کو حقیقی روحانیت کی تلاش کرنا ہو گی تا کہ حقیقی امن قائم ہو اور اس کے لئے خدا تعالیٰ کے بھیجے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے غلامِ صادق کی غلامی میں آنا ضروری ہے ۔یہ ان کے لئے ضروری ہے تا کہ غیر مسلم دنیا کو بھی اسلام کی حقیقی اور امن کی تعلیم کھل کر واضح اور روشن ہو کر نظر آئے۔
پھر قرآن شریف میں اسلام کو نہ ماننے والوںکا جواب بھی ملتا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَقَالُوْٓا اِنْ نَّتَّبِعِ الْھُدٰی مَعَکَ نُتَخَطَّفْ مِنْ اَرْضِنَا(القصص58:)اور انہوں نے کہا کہ اگر ہم تیرے ہمراہ ہدایت کی پیروی کریں گے تو ہم اپنے وطن سے نکال پھینکے جائیںگے۔ پس اگر اسلام زیادتی، جبر اور شدت کا مذہب ہوتا توآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ جواب نہ ملتا کہ ہم اپنے گھروں سے نکال دئیے جائیں گے۔ ظلم و زیادتی کرنے والے تو دوسرے غیر لوگ ہیں ،نہ کہ مسلمان۔ دوسری حکومتیں ہیں۔ دوسرے سردار ہیں جن کا خوف ہے ان لوگوں کو اورجن کے خوف کی وجہ سے وہ اسلام کی تعلیم کو قبول کرنا نہیں چاہتے ۔اس بات پر تو غیروں کوبھی بالکل اتفاق ہے کہ اسلام کی تعلیم امن والی تعلیم ہے اس لئے یہ لوگ کہتے ہیں کہ اگر ہم تیرے ساتھ مل جائیں، تیری تعلیم پر عمل کرنے لگ جائیں ،اسلام کی تعلیم کو مان جائیں تو یہ لوگ ہمیں اُچک کر لے جائیں گے، ہمیں گھروں سے نکال دیں گے۔
پس اس سے ثابت ہوا کہ اسلام کی تعلیم اس وقت بھی غیروں کے نزدیک پُرامن اور سلامتی والی تعلیم ہے۔ یہ لوگ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عرض کرتے ہیں کہ آپ کہتے ہیں کہ سلامتی اور امن پھیلاؤ۔ اگر ہم امن کا راستہ اختیار کریں تو ارد گرد کی قومیں ہمیں تباہ و برباد کر دیں گی۔
آج دنیا میں جو اسلحے کی دوڑ لگی ہوئی ہے، ایٹم بم بنائے جا رہے ہیں، اس دلیل کے ساتھ بنائے جا رہے ہیں کہ یہ تو ڈٹرنٹ(Deterrent)کے طور پر، خطرہ کے توڑ کے لئے ہیں جو ہمیں دوسری قوموںسے ہے۔ اس وقت دنیا کے تقریباً نو دس ممالک کے پاس نیوکلیئر ہتھیار ہیں اور سوائے پاکستان کے ایک بھی مسلمان ملک نہیں ہے اور اس کی بھی صلاحیت کا پتا نہیں کہ کتنی صلاحیت ہے۔ سب سے بڑا خطرہ تو آئندہ جنگ میں جن ہتھیاروں کا ہے وہ ان ایٹمی ہتھیاروںکا ہے۔ اسی طرح دنیا کا بہترین اسلحہ غیر مسلم ممالک میں تیار ہوتا ہے۔ اگرمسلم ممالک استعمال کر رہے ہیں تو ان ممالک سے لے کر اور اگر شدت پسند گروہ اسلام کے نام پر یہ استعمال کر رہے ہیں تو ان سے لے کر ہی کر رہے ہیں اور یہی اپنی تجارتوں کے لئے ان کو اسلحہ بیچتے چلے جا رہے ہیں۔ تو بہرحال یہ تو آجکل کی صورتحال ہے جو کہتے ہیں کہ اسلام شدت پسندہے اور اس کی تعلیم ظلم و زیادتی کی ہے۔ یہ لوگ جو اسلحہ کی دوڑ میں آگے سے آگے بڑھتے چلے جانے کی کوشش کر رہے ہیں اب اسلامی تعلیم کے خلاف عمل کرنے والوں کو بھی یہی ملک ہیں جو اسلحہ دے رہے ہیں جیسا کہ مَیں نے کہا جن میں سب سے زیادہ شور مچایا جاتا ہے کہ اسلام کی تعلیم امن کو برباد کرنے والی ہے۔ انہی ممالک سے امن کو برباد کرنے کے لئے اسلحہ دیا جا رہا ہے۔
اسلام کی تو ایسی امن کی تعلیم ہے کہ اس وقت بھی ارد گرد کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ اگر ہم مان لیں تو ہم مارے جائیں گے۔ لوگ ہمیں مار دیں گےکیونکہ تم امن اور سلامتی کی تعلیم دیتے ہو۔ لیکن یہ بدقسمتی ہے اس زمانے میں کہ آج وہی مسلمان کہلانے والے ان لوگوں سے جو ایک طرف اسلام کو بدنام کر رہے ہیں ان سے اسلحہ لے کر اپنے ہی مسلمانوں کے خلاف بھی لڑ رہے ہیں اور غیروں کے خلاف بھی لڑ رہے ہیں اور یوں دنیا کا امن برباد کرنے کا موجب بن رہے ہیں۔
ایک حقیقت پسند غیر مسلم نے چند دہائیاں پہلے ایک کتاب لکھی تھی اور اس میں ان لوگوں کا چہرہ دکھاتے ہوئے لکھا تھا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جنگوں میں تو شاید آپ کی پوری زندگی میں دشمنوں کے چند سو لوگ مرے ہوں گے جو آپ کے حقیقی دشمن تھے۔ لیکن تمہاری ایک ہی جنگ میں، جنگ عظیم میں لاکھوں لوگ مر گئے۔
(Ruth cranston, world Faiths, new york, 1949, p.155.)
(Prophet Muhammad and His western critics vol.2 p.952 Idara Ma’arif Islami Lahore1992.بحوالہ)
پھر بھی کہتے ہو کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اوراسلام نے دنیا پر ظلم کیا ہے اور یہ امن اور سلامتی کو برباد کرنے والی تعلیم دینے والا مذہب ہے اور شدت پسندی کا مذہب ہے۔ پس اسلام کے پُرامن مذہب ہونے کا یہی حقیقی جواب ہے جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو بعض قبائل نے دیا تھا کہ اگر ہم تمہارے دین پر ایمان لے آئیں تو یہ جو تمہاری امن اور سلامتی کی تعلیم ہے وہ ہمیں ختم کر دے گی۔ اسلام تو بلا وجہ کی جنگوں سے بچنے کی تعلیم دیتا ہے اورقبائل کے لوگوں نے کہا کہ اگر ہم تمہارے کہنے پر عمل کریں تو اس کا مطلب یہ ہو گا کہ ہم ظالموں کے ظلم کا نشانہ بنیں گے کیونکہ ظالم تو جنگیں کرتا چلا جائے گا اور ہمیں نشانہ بناتا چلا جائے گا ۔پس ہم تمہارے ساتھ مل کے اپنی زندگیاں برباد نہیں کر سکتے اس لئے ہم تو ایسے ہی رہیں گے۔ تمہارے ساتھ شامل ہونے کا مطلب ہی یہ ہے کہ ہم ظلموں کا نشانہ بن جائیں۔
تاریخ پر ہم نظر ڈالیں تو صاف نظر آتا ہے کہ عرب ملکوں میں جو بدامنی تھی یہ اسلام نے دُور کی ۔یہ جواب جو قبائلی دے رہے ہیں یہ بھی اس کی ایک دلیل ہے کہ ہم اسلام کی تعلیم پر عمل کر کے مشکل میں گرفتار ہو جائیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ کے فضلوں اور اس کے وعدوں کی حقیقت تو انہیں معلوم نہیں تھی۔ ایمان ان میں نہیں تھا۔ وہ تو صرف ظاہری طور پر دیکھ رہے تھے ۔وہ یہی سمجھتے تھے کہ ایسے ماحول میں امن کی تعلیم کو قبول کرنا جب ہر طرف فتنہ اور فساد پھیلا ہوا ہے موت کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ لیکن جب فتح مکہ ہوا اور اسلام پھیلا بلکہ اس سے بھی پہلے جب قبائل کو یہ احساس ہوا کہ مکہ والوں نے صلح کا معاہدہ کر لیا ہے اور اسلام کی تعلیم ہی خوبصورت تعلیم ہے اور ہمیں دنیاوی اور روحانی فائدے بھی اس میں ملیں گے۔ بعض نے نشانات بھی دیکھے تو اسلام قبول کیا۔ کسی نے انہیں مجبور نہیں کیا تھا۔ جب تک ان کی دنیا کی نظر تھی وہ انکار کرتے رہے ۔اگر زبردستی کی بات ہوتی تو قرآن کریم تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس فکر کو بیان کر کے تسلی نہ دیتا ۔آپ کو اس طرح فرماتا ہے وَقِیْلِہٖ یٰرَبِّ اِنَّ ھٰٓؤُلَآءِ قَوْمٌ لَّا یُؤْمِنُوْنَ۔فَاصْفَحْ عَنْھُمْ وَ قُلْ سَلٰمٌ فَسَوْفَ یَعْلَمُوْنَ(الزخرف89:۔90)اور اس رسول کے یہ کہنے کے وقت کو یاد کرو کہ اے میرےرب! یہ لوگ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے ۔ میری بات نہیں سنتے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہےپس تُو ان سے درگذر کر اور کہہ سلام ۔پس عنقریب وہ جان لیں گے ۔یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کو فرما رہے ہیں کہ جو تعلیم مَیں تیری طرف سے لایا ہوں جو ہر ایک کے لئے امن اور سلامتی کی تعلیم ہے اسے یہ لوگ سمجھتے نہیں اور اس پر ایمان نہیں لاتے بلکہ لڑائیاں، جنگیں اور فساد کر رہے ہیں۔ تیرہ سال آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر مکّہ میں ظلم ہوتے رہے ۔پھر بعد میں مدینہ پر بھی فوج کشی ہوئی۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں جس قوم کے لئے امن کا پیغام لایا تھا وہ مجھے امن نہیں دے رہی بلکہ ظلموں پہ اتر آئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ فوری طور پر ان کے ساتھ بھی ویسا ہی سلوک کرو، جنگ کرو اور سخت جواب دو بلکہ فرمایا کہ فَاصْفَحْ عَنْھُمْ۔ ان سے درگذر کر کیونکہ انہیں تیری تعلیم کی عظمت اور اہمیت کا نہیں پتا اس لئے ان کے یہ عمل ہیں اور وہ یہ رویّے دکھا رہے ہیں ۔ان کے یہ رویّے دیکھ کر یہ کہہ کہ میں تم پر ان رویّوںکے باوجود سلامتی ہی بھیجتا ہوں اور بھیجوں گا کیونکہ مَیں تمہارے لئے سلامتی لایا ہوں۔ عنقریب دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کےلئے امن اور سلامتی لائے تھے ۔چنانچہ کچھ عرصہ کے بعد عرب دنیا نے دیکھ لیا ۔
پس آپ کا نہ ماننے والوں کو بھی یہ جواب صرف اپنوں کے لئے سلامتی اور امن کا پیغام نہیں تھا بلکہ نہ ماننے والوں کے لئے بھی سلامتی اور امن کا پیغام تھا۔
اگر پھر غیر یہ سوال اٹھاتے ہیں کہ چلو ٹھیک ہے سلامتی اور امن کا پیغام تھا لیکن پھر جنگیں کیوں ہوئیں ؟تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب اسلام کو ختم کرنے کے لئے کفار نے مدینہ پر حملہ کیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا۔(الحجّ 40:)کہ وہ لوگ جن سے بلاوجہ جنگ کی جا رہی ہے ان کو بھی جنگ کرنے کی اجازت دی جاتی ہے کیونکہ ان پر ظلم کیا گیا اور یہ ظلم کیا گیا کہ ان کے یہ کہنے پر کہ اللہ تعالیٰ ہمارا رب ہے انہیں ان کے گھروں سے نکالا گیا اور پھر اللہ تعالیٰ نے اگلی آیت میں یہ فرمایا کہ اگر ان کی شرارتوںکا سختی سے جواب نہ دیا گیا تو یہ مذہب مخالف طاقتیں حد سے بڑھ جائیں گی اور پھر نہ گرجے رہیں گے اور نہ یہودیوں کی عبادتگاہیں رہیں گی۔ نہ متفرق معابد رہیں گے ۔نہ مسجدیں باقی رہیں گی۔ یہ لوگ انہیں برباد کر دیں گے۔ پس اگر جنگ کی اجازت ملی تو امن اور سلامتی قائم کرنے کے لئے۔ جہاد کا مطلب قطعاً یہ نہیں ہے کہ ظلم کیا جائے۔
ہم خوش قسمت ہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ہر موڑ پر ہماری رہنمائی فرمائی ہے۔ چنانچہ قرآن کریم کی ان آیات کی وضاحت کرتے ہوئے آپ ایک جگہ فرماتے ہیں کہ’’ اسلام نے تلوار اٹھانے میں سبقت نہیںکی اور اسلام نے صرف بوقت ضرورت امن قائم کرنے کی حد تک تلوار اٹھائی ہے اور اسلام نے عورتوں اور بچوں اور راہبوں کے قتل کرنے کے لئے حکم نہیںدیا بلکہ جنہوں نے سبقت کر کے اسلام پر تلوار کھینچی وہ تلوار سے ہی مارے گئے۔‘‘ فرماتے ہیں’’ اورتلوار کی لڑائیوں میں سب سے بڑھ کرتوریت کی تعلیم ہے جس کی رُو سے بیشمار عورتیں اور بچے بھی قتل کئے گئے۔ ‘‘فرماتے ہیں کہ’’ جس خدا کی نظر میں وہ بے رحمی اور سختی کی لڑائیاں بُری نہیں تھیں بلکہ اُس کے حکم سے تھیں تو پھر نہایت بے انصافی ہو گی کہ وہی خدا اسلام کی ان لڑائیوں سے ناراض ہو جو مظلوم ہونے کی حالت میں یا امن قائم کرنے کی غرض سے خدا تعالیٰ کے پاک نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو کرنی پڑی تھیں۔‘‘ (حجۃ الاسلام، روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 46-47)
پھر آپ فرماتے ہیں’’اگر خدا تعالیٰ کی یہ عادت نہ ہوتی کہ بعض کو بعض کے ساتھ دفع کرتا تو ظلم کی نوبت یہاں تک پہنچتی کہ گوشہ گزینوں کے خلوت خانے ڈھائے جاتے۔‘‘ جو علیحدگی میں بیٹھے عبادتیں کرنے والے لوگ ہیں ان کے بھی حجروں کو ڈھا دیا جاتا’’ اور عیسائیوں کے گرجے مسمار کئے جاتے اور یہودیوں کے معبد نابود کئے جاتے اور مسلمانوں کی مسجدیں جہاںکثرت سے ذکرِ خدا ہوتا ہے منہدم کی جاتیں۔ ‘‘ فرماتے ہیں کہ’’ اس جگہ خدا تعالیٰ یہ ظاہر فرماتا ہے کہ ان تمام عبادت خانوں کا مَیں ہی حامی ہوں۔ اور اسلام کا فرض ہے کہ اگر مثلاً کسی عیسائی ملک پر قبضہ کرے تو ان کے عبادت خانوں سے کچھ تعرّض نہ کرے اور منع کر دے کہ ان کے گرجے مسمار نہ کئے جائیں اور یہی ہدایت احادیث نبویہ سے مفہوم ہوتی ہے کیونکہ احادیث سے معلوم ہوتا ہے کہ جب کہ کوئی اسلامی سپہ سالار کسی قوم کے مقابلہ کے لئے مامور ہوتا تھا تو اس کو یہ حکم دیا جاتا تھا کہ وہ عیسائیوں اور یہودیوں کے عبادت خانوں اور فقراء کے خلوت خانوں سے تعرّض نہ کرے۔ اس سے ظاہر ہے کہ اسلام کس قدر تعصّب کے طریقوں سے دُور ہے کہ وہ عیسائیوں کے گرجاؤں اور یہودیوں کے معبدوں کاا یسا ہی حامی ہے جیسا کہ مساجد کا حامی ہے۔ ہاں البتہ اس خدا نے جو اسلام کا بانی ہے یہ نہیں چاہا کہ اسلام دشمنوں کے حملوں سے فنا ہو جائے بلکہ اس نے دفاعی جنگ کی اجازت دی ہے اور حفاظتِ خود اختیاری کے طور پر مقابلہ کرنے کا اِذن دے دیا ہے‘‘۔ (چشمہ معرفت، روحانی خزائن جلد 23 صفحہ 393-394)
پس کہیں ثابت نہیں ہوتا کہ اسلام امن برباد کرنے کا مذہب ہے یا دوسرے مذاہب کے عبادت خانے برباد کرنے کا حکم دیتا ہے ۔جو لوگ یہ کام کرتے ہیں جیسے بعض مذاہب کے پرانے عبادت خانے عراق سیریا وغیرہ میں برباد کئے گئے یا چرچ گرائے گئے یا یہاں بھی چرچوںکو آگ لگائی گئی یہ سب اسلام کی تعلیم کے خلاف ہے اور ایسے لوگوں کے لئے اللہ تعالیٰ نے جنت کی جزا نہیں بلکہ جہنم کی سزا رکھی ہوئی ہے۔
پھر ایک اور امر ہے جس سے دنیا کا امن برباد ہوتا ہے۔ اسلام کہتا ہے کہ امن برباد کرنے والے ہر شر کا تم نے مقابلہ کرنا ہے۔ قرآن شریف میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَالْفِتْنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ(البقرۃ192)اور فتنہ قتل سے زیادہ سنگین ہوتا ہے۔ قتل بہت بڑا فعل ہے اور قاتل کو بہت بُری نظر سے دیکھا جاتا ہے لیکن قرآن کہتا ہے کہ قتل بہت برا کام ہے لیکن اس کے باوجود فتنہ اس سے بھی زیادہ برا کام ہے ۔کیوں؟ اس لئے کہ اس سے لاکھوں اوراربوں جانیں ضائع ہونے کا خطرہ ہے بلکہ بعض حالات میں بعض جگہ ہم دیکھتے ہیں فتنہ کی وجہ سے ہزاروں لاکھوں جانیں ضائع ہو بھی جاتی ہیں۔ فتنہ پرداز قوموں کو لڑانے کا بھی باعث بن جاتے ہیں۔ پس اسلام فتنہ پرداز کو بھی سزا دینے کی تلقین کرتا ہے۔ فتنہ پرداز گھروں کے امن اور سکون کو بھی برباد کرتے ہیں اور قوموں کے امن اور سکون کو بھی برباد کرتے ہیں۔
آجکل دنیا میں جو سیاسی جوڑ توڑ ہے یہ فتنہ ہی ہے۔ اور کیا چیز ہے ؟یہ فتنہ ہی ہے جو ایک ملک کسی دوسرے ملک سے ناراض ہو کر دوسرے ممالک کو اپنے ساتھ ملانے کے لئے جھوٹی رپورٹیں تیار کرتے ہیں یا اپنے مقاصد حاصل کرنے کے لئے سربراہوں کو لالچ دے کر اپنا ہم نوا بنا لیتے ہیںا ور پھردنیا میں آجکل اس کی اتنی وسیع طور پر لابنگ Lobbying))ہوتی ہے کہ جس سے ملکوں کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہوتی ہے۔ جب تک کسی دوسرے ملک کو ملبے کا ڈھیر نہ بنا دیں ان کو چین نہیں آتا۔ اسلام کہتا ہے کہ یہ لوگ جو فتنہ کی آگ سے قوموں کو تباہ کر رہے ہیں اور بڑی ہوشیاری سے امن کے نام پر کر رہے ہیں دراصل یہ قاتل ہیں اور ان کو قتل کی سزا ملنی چاہئے۔ ایسے لوگوںکو قرار واقعی سزا دینی چاہئے ۔ لیکن یہ صاحب اثرورسوخ لوگ ہیں اور طاقت والے ہیں۔ کون جرأت کر سکتا ہے کہ ان کو سزا دے؟ لیکن اسلام کہتا ہے کہ انہیں سزا دو۔
پھر اسلام کی ایک تعلیم جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں بتائی کہ مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرا مسلمان محفوظ رہے ۔(صحیح البخاری کتاب الایمان باب المسلم من سلم المسلمون من لسانہ و یدہ حدیث 10)اور ایک دوسری جگہ فرمایا کہ دوسرے لوگ، انسان محفوظ رہیں۔(سنن النسائی کتاب الایمان وشرائعہ باب صفۃ المؤمن حدیث 4998) پس آپس میں مسلمانوںکے امن کی ضمانت بھی اسلام کی تعلیم ہے اور دنیا کے دوسرے لوگ اور قوموں کی امن اور سلامتی کی ضمانت بھی اسلام کی تعلیم ہی ہے۔
دنیا نے تمام نظاموں کو دیکھا ہے ۔انسان کے بنائے ہوئے قانون بھی دیکھے ہیں لیکن ان قانونوں پر عمل کروانے کے باوجود یہ لوگ دنیا کے فساد کو روک نہیں سکے۔جب تک یہ اسلام کی تعلیم کا نظام اپنی اصل حالت میں دنیا پر قائم نہیں کریں گے، یہ دیکھ بھی نہیں سکتے ۔اور اسلام کی تعلیم بھی جب تک اصلی حالت میں دنیا میں قائم رہی امن اور سلامتی بھی دنیا کو ملتی رہی لیکن جب بدقسمتی سے مسلمان اسے بھول گئے تو ظالم بھی سب سے زیادہ مسلمان ہی بن گئے۔ اسلام کے امن و سلامتی کے حوالے سے بڑی تفصیلی تعلیم ہے ۔چند باتوں کا میں نے یہاں ذکر کیا ہے ۔
جلسہ پر یہاں بہت سارے پریس کے نمائندے بھی آئے ہوئے ہیںاور دوسرے غیر مسلم بھی ہیں جو مجھ سے پرائیویٹ میٹنگ میں سوال پوچھتے رہتے ہیں تو اس سے کچھ حد تک ان کو جوابات بھی مل گئے ہوں گے۔ دنیا کی حالت جو ہے اب اس میں فساد بڑھتا چلا جا رہا ہے اس لئے میں نے ضروری سمجھاکہ آج اس حوالے سے چند باتیں بیان کروں کہ شایدیہ لوگ دنیاکو بتانے والے بھی ہوں۔ اسلام کی تعلیم ہی وہ تعلیم ہے جو تمام مذاہب کے ساتھ بھی امن اور سلامتی سے رہنا سکھاتی ہے ۔اور یہی وہ تعلیم ہے جو قوموں کے درمیان امن قائم کرنا بھی چاہتی ہے اور سکھاتی ہے ۔یہی وہ تعلیم ہے جو ہر سطح پر آپس میں محبت اور پیار سے رہنا سکھاتی ہے۔ اگر اس تعلیم کو نہ سمجھنے والے اور نہ ماننے والے اپنی کم علمی اور جہالت کی وجہ سے اس تعلیم پر الزام لگاتے ہیں اور اسے محبت ،پیار اور بھائی چارے اور امن اور سلامتی کے دائرے سے باہر نکالنے کی کوشش کرتے ہیں تو ان کو یہی کہا جا سکتا ہے کہ اپنے عملوں کو صحیح کرو اور اپنی جہالت اور تعصّب کی آنکھوں کو صاف کرو اور اس میں حقیقی نور داخل کرو جو خدا تعالیٰ کے قرب سے ملتا ہے۔ آج جو دنیا کی حالت ہے اور جس تباہی کی طرف دنیا بڑھ رہی ہے اس میں بہتری پیدا کرنے اور تباہی سے بچانے کے لئے بس ایک ہی راستہ ہے کہ اپنے پیدا کرنے والے خدا کو پہچانو جو انسانوں کو تباہی سے بچانے کے لئے اپنی رحمت اور سلامتی کے سائے تلے لانے کے لئے ہمیں بلا رہا ہے۔ اب دنیا چاہے جتنے نظام آزما لے کوئی نظام ،کوئی قانون، کوئی معاہدہ، کوئی کوشش دنیا کو تباہی کے گڑھے میں گرنے سے نہیں بچا سکتی۔
پس مَیں دنیا والوں کو کہتا ہوں کہ اے دنیا والو! جو سلامتی اور امن کی تلاش میں ہو اسلام کی تعلیم پر اعتراض کرنے کی بجائے آؤ اور حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عاشق صادق کی آواز کو سنو جسے اس زمانے میں اللہ تعالیٰ نے انسانیت کو تباہی سے بچانے اور اپنی ناراضگی سے بچانے کے لئے بھیجا ہے، جو کہتا ہے کہ’’ اے یورپ تُوبھی امن میں نہیں اور اے ایشیا تُو بھی محفوظ نہیں اور اے جزائرکے رہنے والو! کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کرے گا۔ مَیں شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں۔ ‘‘(حقیقۃ الوحی، روحانی خزائن جلد 22 صفحہ 269)
پس اس سے پہلے کہ وہ وقت آئے دنیا کو واحد و یگانہ خدا کی پہچان کی طرف لوٹنا چاہئے۔
پھر آپ فرماتے ہیں ’’وہ دن نزدیک آتے ہیں کہ جو سچائی کا آفتاب مغرب کی طرف سے چڑھے گا اور یورپ کو سچے خدا کا پتا لگے گا اور بعد اس کے توبہ کا دروازہ بند ہو گا کیونکہ داخل ہونے والے بڑے زور سے داخل ہو جائیں گے اور وہی باقی رہ جائیں گے جن کے دل پر فطرت سے دروازے بند ہیں ۔اور نور سے نہیں بلکہ تاریکی سے محبت رکھتے ہیں۔‘‘ آپ فرماتے ہیں کہ’’ قریب ہے کہ سب ملّتیں ہلاک ہوں گی مگر اسلام۔ اور سب حربے ٹوٹ جائیں گے مگر اسلام کا آسمانی حربہ کہ وہ نہ ٹوٹے گا، نہ کُند ہو گا جب تک دجّالیت کو پاش پاش نہ کر دے۔ وہ وقت قریب ہے کہ خدا کی سچی توحید جس کو بیابانوں کے رہنے والے اور تمام تعلیموں سے غافل بھی اپنے اندر محسوس کرتے ہیں ملکوں میں پھیلے گی ۔اُس دن نہ کوئی مصنوعی کَفّارہ باقی رہے گا اور نہ کوئی مصنوعی خدا ۔اور خدا کا ایک ہی ہاتھ کفر کی سب تدبیروں کو باطل کر دے گا ۔لیکن نہ کسی تلوار سے اورنہ کسی بندوق سے بلکہ مستعد روحوں کو روشنی عطا کرنے سے اور پاک دلوں پر ایک نور اتارنے سے ۔تب یہ باتیں جو مَیں کہتا ہوں سمجھ میں آئیں گی۔‘‘ (مجموعہ اشتہارات جلد 2 صفحہ 304-305)
اللہ تعالیٰ ہمیں بھی خالص ہو کر اس توحید کو سمجھنے کی توفیق عطا فرمائے اور سچا عابد بننے کی توفیق عطا فرمائے اور ہم اللہ تعالیٰ کے رحم اور فضل کو حاصل کرنے والے ہوں اور دنیا کو حقیقت میں یہ بتانے والے بھی ہوں کہ اگردنیا اپنی بقا چاہتی ہے تو اپنے خدائے واحد کو پہچانے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔
اب دعا ہو گی۔ دعا میں پاکستان کے احمدیوں کو بھی یاد رکھیں جو مشکلات میں گرفتار ہیں ۔الجزائر کے احمدیوں کو بھی یاد رکھیں اور عمومی اسلامی دنیا کو بھی اپنی دعاؤں میں یاد رکھیں کہ جہالت کی وجہ سے وہ اپنے اوپر اللہ تعالیٰ کا عذاب سہیڑ رہے ہیں ۔دنیا کی عمومی حالت بھی بگڑتی جا رہی ہے جیسا کہ مَیں نے بیان کیا۔ دنیا کو عمومی طور پر بھی دعاؤں میں یاد رکھیں۔ اللہ تعالیٰ فضل فرمائے اور ہمیں اپنے فرائض ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ دعا کر لیں۔(دعا)
دعا کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:یہ حاضری کی رپورٹ بھی سن لیں ۔اس سال کُل حاضری سینتیس ہزار تین سو ترانوے(37393) ہے۔ اور ایک سو چودہ(114) ممالک کی نمائندگی ہے۔
