خطاب حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز برموقع جلسہ سالانہ یوکے28؍جولائی2017ء
(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ایک جگہ فرماتے ہیں کہ :
’’اگر تم ایماندار ہو تو شکر کرو اور شکر کے سجدات بجا لاؤ کہ وہ زمانہ جس کا انتظار کرتے کرتے تمہارے بزرگ آباء گزر گئے اور بے شمار روحیں اس کے شوق میں ہی سفر کر گئیں وہ وقت تم نے پا لیا۔ ا ب اس کی قدر کرنا یا نہ کرنا اور اس سے فائدہ اٹھانا یا نہ اٹھانا تمہارے ہاتھ میں ہے‘‘۔ فرمایا ’’مَیں اس کو بار بار بیان کروں گا اور اس کے اظہار سے مَیں رک نہیں سکتا کہ مَیں وہی ہوں جو وقت پر اصلاحِ خَلق کے لئے بھیجا گیا تا کہ دین کو تازہ طور پر دلوں پر قائم کیا جائے‘‘۔ (فتح اسلام، روحانی خزائن جلد 3 صفحہ 7-8)
اللہ تعالیٰ کا ہم پر بڑا فضل اور احسان ہے کہ اس نے ہمیں اپنے اس فرستادہ کو ماننے کی توفیق عطا فرمائی جو اس زمانے میں اصلاحِ خلق کے لئے اللہ تعالیٰ نے بھیجا ہے۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ماننا ہم پر یہ ذمہ داری ڈالتا ہے کہ ہم آپ کے ارشادات اور نصائح کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنائیں تبھی ہم اپنی اصلاح بھی کر سکتے ہیں اور تبھی ہم آپ کی بیعت میں آنے اور آپ کو ماننے کے مقصد کو پورا کر سکتے ہیں۔
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اللہ تعالیٰ سے خبر پا کر اور اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہماری اصلاح کے لئے جو انتظام فرمایا اس میں ایک جلسہ سالانہ کا انتظام بھی ہے تا کہ ہم اپنی علمی ،اعتقادی اور عملی بہتری اور ترقی کے سامان کر سکیں۔ اس وقت مَیں آپ کے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے مختلف وقتوں میں کہے گئے بعض ارشادات پیش کروں گا جو آپ نے اپنے ماننے والوںکی اصلاح اور بہتری اور ان کے معیار تقویٰ اور اللہ تعالیٰ سے تعلق جوڑنے اور ان کی عملی حالتوں کو بہتر کرنے کے لئے ارشاد فرمائے۔
ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں تقریباً ایک چوتھائی تعداد مسلمانوں کی ہے ۔ اکثریت پوچھنے پر یہ جواب دیتی ہے کہ الحمد للہ ہم مسلمان ہیں لیکن عملاً نہ عبادتوں کا صحیح اِدراک ہے جس سے حقوق اللہ کی ادائیگی کر سکیں نہ اللہ تعالیٰ کے بندوں کے حقوق کی ادائیگی ہے۔ آئے دن اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نام پر ظلم ہم بہت سے مسلمانوں سے دیکھتے ہیں ،ان کے عملوں سے دیکھتے ہیں۔
ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا کہ ’’ مَیں اس لئے بھیجا گیا ہوں کہ تا ایمانوں کو قوی کروں اور خدا تعالیٰ کا وجود لوگوں پر ثابت کر کے دکھلاؤں‘‘۔(کتاب البریہ، روحانی خزائن جلد 13 صفحہ 291-292 حاشیہ) اور یہ وجود اس وقت ثابت ہوتا ہے جب خدا تعالیٰ سے خالص محبت کا اظہار بھی ہو۔
آپ نے ہمیں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ سے سچی محبت بغیر کسی بدلے اور انعام کے ہونی چاہئے اور حقیقت میں خدا تعالیٰ سےیہی بے غرض محبت ہے جو ایک مسلمان کو حقیقی مسلمان بناتی ہے نہ کہ ایسے مسلمانوں کی طرح جو بعض شدت پسند دہشتگرد یا دہشتگرد تنظیموں کے ممبر پکڑے گئے تو ان کے سامانوں میں سے عجیب و غریب قسم کی عورتوں کی چیزیں نکلیں۔ پوچھنے والوں نے پوچھا یہ تم نے کس لئے رکھی ہوئی ہیں؟ اور پریس اس کا بڑا مذاق اڑا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم شہید ہوں گے اور جنت میں جائیں گے تو یہ جنت میں حوروں کو تحفہ دینے کے لئے رکھی ہوئی ہیں۔ یہ حال ہے مسلمانوں کی حالت کا۔
بہرحال حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام اس کی وضاحت فرماتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ سے کیسی محبت ہونی چاہئے اور مسلمان کیسا ہونا چاہئے۔ آپ نے فرمایا کہ ’’مسلمان وہ ہے جو اپنے تمام وجود کو اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے کے لیے وقف کر دے اور سپرد کردے اور اعتقادی اور عملی طور پر اس کا مقصود اور غرض اللہ تعالیٰ ہی کی رضا اورخوشنودی ہو اورتمام نیکیاں اور اعمال حسنہ جو اُس سے صادر ہوں وہ بمشقّت اورمشکل کی راہ سے نہ ہوں بلکہ ان میں ایک لذّت اور حلاوت کی کشش ہوجو ہر قسم کی تکلیف کو راحت سے تبدیل کردے ‘‘۔ فرمایا ’’حقیقی مسلمان اللہ تعالیٰ سے پیار کرتاہے یہ کہہ کر اور مان کر کہ وہ میرا محبوب ومولا پیداکرنے والا اورمحسن ہے اس لئے اس کے آستانہ پرسر رکھ دیتاہے۔ سچے مسلمان کو اگر کہا جاوے کہ ان اعمال کی پاداش میں کچھ بھی نہیں ملے گا اور نہ بہشت ہے اور نہ دوزخ ہے اورنہ آرام ہیں ،نہ لذّات ہیں تو وہ اپنے اعمالِ صالحہ اور محبتِ الٰہی کو ہر گزہرگز چھوڑنہیں سکتا‘‘۔ یہ ہے حقیقی مسلمان کی تعریف۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ دوسرے لوگ ہم سے زیادہ اچھے حالات میں ہیں۔ ان کو آسانیاں ہیں، آسائشیں ہیں اور ہم مسلمانوں میں نہیں ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ یہ دنیا کی آسائشیں اور آسانیاں یہ ہمارا مطمح نظر نہیں ہیں ۔ہمارا مطمح نظر ،ہمارا مقصد تو خالصۃً اللہ تعالیٰ کی محبت حاصل کرنا ہے اور اس کو حاصل کرنے کے لئے تم کوشش کرو۔
آپ فرماتے ہیں’’ محبت الٰہی کو ہرگز ہرگز نہیں چھوڑ سکتا کیونکہ اس کی عبادات اور خداتعالیٰ سے تعلق اور اس کی فرمانبرداری اور اطاعت میں فنا کسی پاداش یااجر کی بناء اور امید پر نہیں ہے بلکہ وہ اپنے وجود کو ایسی چیز سمجھتاہے کہ وہ حقیقت میں خداتعالیٰ ہی کی شناخت ،اس کی محبت اور اطاعت کے لیے بنائی گئی ہے۔ اَور کوئی غرض اور مقصد اس کا ہے ہی نہیں‘‘۔ فرمایا ’’اسی لیے وہ اپنی خداداد قوتوں کو جب ان اغراض اور مقاصد میں صرف کرتاہے‘‘ایک حقیقی مسلمان اپنی تمام تر طاقتوں کو جب ان اغراض و مقاصد میں صرف کرتا ہے جو اللہ تعالیٰ کے پہچاننے کے لئے ہیں ،اس کی محبت کے لئے ہیں ،اس کی ذات کے لئے ہیں، ’’تو اس کو اپنے محبوبِ حقیقی ہی کا چہرہ نظر آتا ہے۔ بہشت و دوزخ پر اس کی اصلاً نظر نہیں ہوتی‘‘۔
پھر اپنی حالت کے بارے میں بیان کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ ’’مَیں کہتاہو ں کہ اگر مجھے ا س امر کایقین دلا دیا جاوے کہ خداتعالیٰ سے محبت کرنے اور اس کی اطاعت میں سخت سے سخت سزا دی جائے گی تو میں قسم کھاکر کہتا ہوں کہ میری فطرت ایسی واقع ہوئی ہے کہ وہ ان تکلیفوں اور بلائوں کو ایک لذّت اور محبت کے جوش اور شوق کے ساتھ برادشت کرنے کوتیار ہے ۔اور باوجود ایسے یقین کے جو عذاب اوردکھ کی صورت میں دلایا جاوے کبھی خداکی اطاعت اورفرمانبرداری سے ایک قدم باہر نکلنے کو ہزار بلکہ لا انتہا موت سے بڑھ کر اور دکھوں اور مصائب کامجموعہ قراردیتی ہے‘‘۔ فرمایا ’’جیسے اگر کوئی بادشاہ عام اعلان کرائے کہ اگر کوئی ماں اپنے بچے کو دودھ نہ دے گی تو بادشا ہ اس سے خوش ہوکر انعام دے گا۔ توایک ماں کبھی گوارا نہیں سکتی کہ وہ اس ا نعام کی خواہش اور لالچ میں اپنے بچے کو ہلاک کرے‘‘۔ فرمایا ’’اسی طرح ایک سچامسلمان خداکے حکم سے باہر ہونا اپنے لیے ہلاکت کا موجب سمجھتاہے۔ خواہ اس کو اس نافرمانی میں کتنی ہی آسائش اورآرا م کا وعدہ دیاجاوے‘‘۔ یہ ہے حقیقی مسلمان کی حالت۔ فرمایا ’’پس حقیقی مسلمان ہونے کے لیے ضروری ہے کہ اس قسم کی فطرت حاصل کی جاوے کہ خداتعالیٰ کی محبت اوراطاعت کسی جزا اورسزا کے خوف اور امید کی بناءپر نہ ہو بلکہ فطرت کاطبعی خاصہ اور جزو ہوکر ہو‘‘۔ فرمایا ’’پھر وہ محبت بجائے خود اس کے لئے ایک بہشت پیداکردیتی ہے‘‘۔جب ایسی محبت پیدا ہو گی تو وہ محبت ہی ایک جنت پیدا کر دیتی ہے، اس جہان کی بھی اور اگلے جہان کی بھی۔ فرمایا’’ اور حقیقی بہشت یہی ہے۔ کوئی آدمی بہشت میں داخل نہیں ہو سکتا جب تک وہ اس راہ کو اختیار نہیں کرتا ہے ‘‘۔ فرمایا’’ اس لیےمَیں تم کو جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو اسی راہ سے داخل ہو نے کی تعلیم دیتا ہوں کیونکہ بہشت کی حقیقی راہ یہی ہے ‘‘ (ملفوظات جلد 3 صفحہ 182-183۔ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
پس یہ وہ خالص محبت کا تعلق ہے جو ہم نے اللہ تعالیٰ سے پیدا کرنا ہے۔ یہی وہ محبت ہے جو ہمیں اللہ تعالیٰ اور اس کے بندوں کے حق ادا کرنے کی طرف بھی توجہ دلائے گی۔ اللہ تعالیٰ سے اس محبت کے فلسفہ کو نہ سمجھنے کی وجہ سے نام نہاد علماء نے جو جہاد کے نام پر ایک طبقے کو ظلم و بربریت کی طرف لگا دیا ہے یہ اسی وجہ سے ہے کہ نہ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے محبت کی اور نہ اللہ تعالیٰ سے محبت کی وجہ سے اس کی مخلوق سے محبت کی۔ اللہ تعالیٰ نے تو ہمیں اپنی محبت کی وجہ سے نیک اعمال بجا لاتے ہوئے اپنی مخلوق سے محبت اور فتنہ و فساد کو دور کرنے کی تلقین فرمائی ہے۔ پس اس نکتہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے جس کو دوسرے نہیں سمجھتے۔ ایک حقیقی مسلمان کا کام یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی محبت کا حقیقی اِدراک حاصل کرے۔ پس اگر ہم احمدی مسلمان ہیں تو اس نکتہ کو سمجھنے کی ضرورت ہے ورنہ ہمارا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام پر ایمان کا دعویٰ بے معنی ہے۔
آپ نے باقی انبیاء کی طرح اپنی بعثت کی غرض بتاتے ہوئے اور حقوق اللہ اور حقوق العباد کی طرف توجہ دلاتے ہوئے ایک موقع پر فرمایا کہ:’’ تمام انبیاء علیہم السلام کی بعثت کی غرض مشترک یہی ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ کی سچی اور حقیقی محبت قائم کی جاوے اور بنی نوع انسان اور اِخوان کے حقوق اور محبت میں ایک خاص رنگ پیدا کیاجاوے۔ جب تک یہ باتیں نہ ہوں تمام امور صرف رسمی ہوں گے‘‘۔ اگر دونوں باتیں نہیں ،اللہ تعالیٰ کی محبت نہیں جو محبت کا حق ہے اور اس کی مخلوق کی محبت نہیں تو پھر بیعت بھی رسمی بیعت ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ’’ خدا تعا لیٰ کی محبت کی بابت تو خدا ہی بہتر جانتا ہے‘‘۔ انسان خدا تعالیٰ سے محبت کا دعویٰ کرتا ہے تو یہ انسان اور خدا تعالیٰ کا معاملہ ہے۔ بہت ساری باتیں ہیں جو دوسروں کو پتا نہیں لگتیں۔ خدا تعالیٰ ہی بہتر جانتا ہے۔ خدا تعالیٰ کی عبادت کی جاتی ہے اور کس غرض سے کی جاتی ہے اور اس کے حقوق ادا کئے جاتے ہیں اور کس غرض سے ادا کئے جاتے ہیں یہ اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے ۔فرمایا’’ لیکن بعض اشیاء بعض سے پہچانی جاتی ہیں‘‘۔اللہ تعالیٰ کی محبت پہچاننے کے لئے بھی ایک معیار ہے اور فرمایا بعض چیزیں پہچانی جاتی ہیں ’’مثلاً ایک درخت کے نیچے پھل ہوں تو کہہ سکتے ہیں کہ اس کے اوپر بھی ہوں گے۔ لیکن اگر نیچے کچھ بھی نہیں تو اوپر کی بابت کب یقین ہوسکتاہے۔ اسی طرح پر بنی نو ع انسان اور اپنے اِخوا ن کے ساتھ جو یگانگت اور محبت کا رنگ ہو وہ اُس اعتدال پر ہو جو خدا نے قائم کیا ہے‘‘۔ ایک پھلدار درخت ہے اس کے نیچے پھل دیکھ کر ہم پہچانتے ہیں کہ اس کے اوپر بھی پھل ہوں گے۔ اسی طرح آپ نے فرمایا کہ جو انسانوں سے محبت ہے ،بنی نوع انسان سے محبت ہے، آپس میں بھائیوں سے محبت ہے اور اگر وہ صحیح رنگ میں ہے جو خدا نے قائم کیا ہے تو اس سے پتا لگے گا کہ خدا تعالیٰ سے محبت ہے۔ آپ فرماتے ہیں ’’ اور وہ اس اعتدال پر ہو جو خدا نے قائم کیا ہے تو اس سے اندازہ ہو سکتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے ساتھ بھی محبت ہے‘‘۔ اگر اللہ تعالیٰ کی مخلوق سے محبت نہیں جس طرح اللہ تعالیٰ نے بتایا تو ہم کس طرح کہہ سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ سے بھی محبت ہو گی۔ پھر تو عبادتیںصرف ظاہری عبادتیں ہوں گی۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک موقع پر فرمایا کہ بعض جگہ موقع محل کی نسبت سے حقوق العباد بڑھ جاتے ہیں۔
پھر فرماتے ہیں کہ:’’پس بنی نوع کے حقوق کی نگہداشت اور اِخوان کے ساتھ تعلقات بشارت دیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کی محبت کا رنگ بھی ضرور ہے‘‘۔ فرمایا ’’دیکھو دنیا چند روزہ ہے اور آگے پیچھے سب مر نے والے ہیں۔ قبریں منہ کھولے ہو ئے آوازیں مار رہی ہیں اور ہر شخص اپنی اپنی نوبت پر جا داخل ہو تا ہے۔ عمر ایسی بے اعتبا ر اور زندگی ایسی ناپائیدار ہے کہ چھ ماہ اور تین ماہ تک زندہ رہنے کی امید کیسی۔ اتنی بھی امید اور یقین نہیں کہ ایک قدم کے بعد دوسرے قدم اٹھانے تک زندہ رہیںگے یا نہیں۔ پھر جب یہ حال ہے کہ مو ت کی گھڑی کا علم نہیں اور یہ پکّی بات ہے کہ وہ یقینی ہے ،ٹلنے والی نہیں تو دانشمند انسان کا فرض ہے کہ ہر وقت اس کے لیے تیار رہے۔ اسی لیے قرآن شریف میں فر مایاگیا ہے لَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَاَنْتُمْ مُّسْلِمُونَ(آل عمران103:)‘‘کہ ہرگز مرنا نہیں مگر اس حالت میں کہ تم مسلمان ہو۔ موت اپنے اختیار میں تو نہیں ہے ۔اس کا مطلب ہی یہ ہے کہ انسان ہر وقت اپنا جائزہ لیتا رہے کہ وہ ہر دو قسم کے حقوق ادا کر رہا ہے کہ نہیں۔اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی اور بندوں کے حقوق بھی اور اللہ تعالیٰ کے حکموں کے مطابق چل رہا ہے کہ نہیں چل رہا۔ آپ فرماتے ہیں کہ’’ ہر وقت جب تک انسان خدا تعالیٰ سے اپنا معاملہ صاف نہ رکھے اور ان ہر دو حقوق کی پوری تکمیل نہ کرے بات نہیں بنتی ۔جیسا کہ مَیں نے کہا ہے کہ حقوق بھی دو قسم کے ہیں۔ ایک حقوق اللہ اور دوسرے حقوق العباد‘‘۔
پھر آپ نے ہمیں کھول کر یہ بھی بتایا کہ حقوق عباد کی بھی دو قسمیں ہیں ۔کسی ایک طرح کے حقوق ادا کر کے یہ سمجھ لینا کہ ہم نے حقوق ادا کر دئیے یہ کافی نہیں ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ ’’اور حقوقِ عباد بھی دو قسم کے ہیں۔ ایک وہ جو دینی بھائی ہو گئے ہیں خواہ وہ بھائی ہے یا باپ ہے یا بیٹا‘‘۔آپس میں تم ایک بھائی ہو۔ مسلمان ہیں، احمدی مسلمان ہیں آپس میں جماعت ہے ،ایک جماعت کا تعلق ہے، بھائی بھائی ہیں۔ فرمایا کہ’’ مگر ان سب میں ایک دینی اخوّت ہے‘‘۔ ایک دینی بھائی چارہ ہے جس میں باپ بیٹا بھائی بہن سب آ جاتے ہیں اور فرمایا کہ ’’اور ایک عام بنی نوع انسان سے سچی ہمدردی ہے‘‘۔ حقوق العباد میں صرف یہی کافی نہیں کہ اپنوں کے ہی حق ادا کرنے ہیں بلکہ تمام بنی نوع انسان کے حق ادا کرنے ہیں اور سچی ہمدردی ان سے رکھنی ہے اور ان کی بہتری کے لئے کام کرنا ہے۔ فرمایا’’ اللہ تعالیٰ کے حقوق میں سب سے بڑا حق یہی ہے کہ اس کی عبادت کی جاوے اور یہ عبادت کسی غرض ذاتی پر مبنی نہ ہو‘‘۔اس بارے میں پہلے جو اقتباس پڑھا گیا ہے اس میں تفصیل سے وضاحت ہو چکی ہے کہ یہ عبادت اور اللہ تعالیٰ سے محبت بے غرض ہونی چاہئے۔
پھر فرمایا’’ بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی میں میرا یہ مذہب ہے کہ جب تک دشمن کے لئے دعا نہ کی جاوے پورے طور پر سینہ صاف نہیں ہوتا‘‘۔ فرمایا’’ اُدْعُوْنِیْٓ اَسْتَجِبْ لَکُمْ(المؤمن61:)‘‘۔(یعنی اللہ تعالیٰ فرماتا ہے مجھے پکارو مَیں تمہاری دعا قبول کروں گا، سنوں گا)۔ فرمایا کہ اس ’’میں اللہ تعالیٰ نے کوئی قیدنہیں لگائی کہ دشمن کے لئے دعا کرو تو قبول نہیں کروں گا ‘‘۔ فرمایا ’’بلکہ میرا تو یہ مذہب ہے کہ دشمن کے لئے دعا کرنا یہ بھی سنّت نبوی ہے ۔حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی سے مسلمان ہوئے ۔آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم آپ کے لئے اکثر دعا کیا کرتے تھے ۔اس لئے بخل کے ساتھ ذاتی دشمنی نہیں کرنی چاہئے اور حقیقتاً مُوذی نہیں ہونا چاہئے‘‘۔ فرمایا ’’شکر کی بات ہے کہ ہمیں اپنا کوئی دشمن نظر نہیں آتا جس کے واسطے دو تین مرتبہ دعا نہ کی ہو‘‘۔ یعنی آپ کے دشمن ہیں جو آپ سے دشمنی رکھتے ہیںا ن کے لئے بھی آپ دعا کرتے ہیں ۔یہ نہیں کہ آپ کو کسی سے دشمنی ہے ۔یہ ان دشمنوں کا ذکر ہو رہا ہے جو آپ سے دشمنی رکھنے والے ہیں۔ آپ نے تو کسی سے دشمنی کی ہی نہیں۔ فرمایا کہ جو ایسے میرے دشمن ہیں ان کے لئے بھی میں دعا کرتا ہوں۔ فرمایا کہ’’ ایک بھی ایسا نہیں‘‘ جس کے لئے مَیں نے دعا نہ کی ہو ’’اور یہی مَیں تمہیں کہتا ہوں اور سکھاتا ہوں۔ خدا تعالیٰ اس سے کہ کسی کو حقیقی طور پر ایذا پہنچائی جاوے اور ناحق بخل کی راہ سے دشمنی کی جاوے ایسا ہی بیزار ہے جیسے وہ نہیں چاہتا کہ کوئی اس کے ساتھ ملایا جاوے‘‘۔ بلا وجہ کی دشمنی سے اللہ تعالیٰ کی بیزاری اسی طرح ہی ہے جس طرح شرک ہے۔ فرمایا کہ’’ ایک جگہ وہ فصل نہیں چاہتا ‘‘یعنی جدائی نہیں چاہتا’’ اور ایک جگہ وصل نہیں چاہتا‘‘۔ ملاپ نہیں چاہتا۔ ’’یعنی بنی نوع کا باہمی فصل اور اپنا کسی غیر کے ساتھ وصل‘‘۔ انسان آپس میں جداجدا ہو جائیں، پھٹ جائیں، ایک نہ رہیں، دشمنیاں پیدا کرنی شروع کر دیں یہ اللہ تعالیٰ نہیں چاہتا اور اپنے ساتھ کسی غیر کو شریک نہیں چاہتا۔ اس لئے اس نکتے کو ہمیشہ یاد رکھو۔ فرمایا ’’اور یہ وہی راہ ہے کہ منکروں کے واسطے بھی دعا کی جاوے۔ اس سے سینہ صاف اور انشراح پیدا ہوتا ہے‘‘۔ دشمنیاں ختم ہوتی ہیں اور نفرتوں کا خاتمہ ہوتا ہے۔ فرمایا’’ اور ہمت بلند ہوتی ہے‘‘۔ انشراح پیدا ہوتا ہے اور ہمت بلند ہوتی ہے۔ مخالفتیں برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا ہوتا ہے اور یہ وہ خوبصورت اسلامی تعلیم ہے جو امن قائم کرنے کی تعلیم ہے فرمایا ’’ا س لئے جب تک ہماری جماعت یہ رنگ اختیارنہیں کرتی اُس میں اور اُس کے غیر میں پھر کوئی امتیاز نہیں ہے ۔میرے نزدیک یہ ضروری امر ہے کہ جو شخص ایک کے ساتھ دین کی راہ سے دوستی کرتا ہے اور اس کے عزیزوں سے کوئی ادنیٰ درجہ کاہے تو اس کے ساتھ نہایت رِفق اور ملائمت سے پیش آنا چاہئے اور ان سے محبت کرنی چاہئے کیونکہ خدا کی شان یہ ہے‘‘۔ فرمایا فارسی کا شعر ہے کہ
’’بداں رابہ نیکاں بہ بخشد کریم ‘‘
(کہ بدوں کو بھی نیکوں کے ساتھ خداوند کریم بخش دیتا ہے)۔ فرمایا ’’پس تم جو میرے ساتھ تعلق رکھتے ہو تمہیں چاہئے کہ تم ایسی قوم بنو جس کی نسبت آیا ہے فَاِنَّھُمْ قَوْمٌ لَا یَشْقٰی جَلِیْسُہُمْ یعنی وہ ایسی قوم ہے کہ ان کا ہم جلیس بدبخت نہیں ہوتا‘‘۔ اس کے ساتھ بیٹھنے والا بھی بدبخت نہیں ہوتا۔’’ یہ خلاصہ ہے اس تعلیم کا جو تَخَلَّقُوْا بِاَخْلَا قِ اللہِ میں پیش کی گئی ہے‘‘۔(ملفوظات جلد 3 صفحہ 95 تا 97۔ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
پس جب ہماری یہ سوچ ہو گی تبھی ہم کہہ سکیں گے کہ ہم نے آپ علیہ السلام کی بیعت کا حق ادا کیا ہے یا حق ادا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس بات کو جاننے کے لئے کہ کس طرح ہم اللہ تعالیٰ کے حق ادا کرنے کا پتا کر سکتے ہیں اس کے بلند معیار حاصل کر سکتے ہیں اور کس طرح ہم بندوں کے حقوق کی تفصیل جان سکتے ہیں ۔ایک تو یہ بات بیان فرما دی آپ نے کہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے حکم کے مطابق بندوں کے حقوق ادا کرو گےتو پھر سوچا جا سکتا ہے کہ اللہ کے حق ادا کر رہے ہو۔ اگر یہ نہیں تو پھر اس بارے میں تسلی نہیں ہو سکتی کہ بندہ اللہ تعالیٰ کے بھی حق ادا کر رہا ہے لیکن مزید تفصیل آپ نے بیان فرمائی کہ حقوق کا پتا کس طرح لگے گا۔
آپ فرماتے ہیں کہ ’’قرآن شریف میں اوّل سے آخر تک اوامر و نواہی اور اَحکامِ الٰہی کی تفصیل موجود ہے اور کئی سو شاخیں مختلف قسم کے احکام کی بیان کی ہیں ‘‘۔(ملفوظات جلد 8صفحہ 374۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)یہ حکم ہیں جن میں بہت سارے حقوق ادا کرنے کے بھی حکم ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حقوق بھی ہیں اور بندوں کے حقوق بھی ہیں۔ بہت سارے اوامر ہیں جن کا حکم دیا کہ یہ کرو۔ بہت ساری باتیں ہیں جن سے روکا گیا ہے کہ نہ کرو۔
فرمایا’’ پس بار بار قرآن شریف کو پڑھو اور تمہیں چاہئے کہ برے کاموں کی تفصیل لکھتے جاؤ اور پھر خدا تعالیٰ کے فضل اور تائید سے کوشش کرو کہ ان بدیوں سے بچتے رہو‘‘۔ (ملفوظات جلد 8صفحہ 376۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)پس ہمیں قرآن کریم بھی اس طرح پڑھنے کی ضرورت ہے کہ ہم حقیقی مسلمان بن سکیں۔
پھر اپنی جماعت کو نصیحت کرتے ہوئے ایک موقع پر آپ نے فرمایا کہ ’’مَیں سچ کہتا ہوں کہ یہ ایک تقریب ہے جو اللہ تعالیٰ نے سعادتمندوں کے لئے پیدا کر دی ہے۔ مبارک وہی ہیں جو اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔ تم لوگ جنہوں نے میرے ساتھ تعلق پیدا کیا ہے اس بات پر ہرگز ہرگز مغرور نہ ہو جاؤ کہ جو کچھ تم نے پانا تھا پا چکے۔ یہ سچ ہے کہ تم ان منکروں کی نسبت قریب تر بہ سعادت ہو جنہوں نے اپنے شدید انکار اور توہین سے خدا کو ناراض کیا ۔اور یہ بھی سچ ہے کہ تم نے حُسنِ ظن سے کام لے کر خدا تعالیٰ کے غضب سے اپنے آپ کو بچانے کی فکر کی۔لیکن سچی بات یہی ہے کہ تم اس چشمے کے قریب آ پہنچے ہو جو اِس وقت خدا تعالیٰ نے ابدی زندگی کے لئے پیدا کیا ہے۔ ہاں پانی پینا ابھی باقی ہے۔ پس خدا تعالیٰ کے فضل و کرم سے توفیق چاہو کہ وہ تمہیں سیراب کرے کیونکہ خدا تعالیٰ کے بِدُوں کچھ بھی نہیں ہو سکتا‘‘۔ جب تک پوری طرح پیغام کو نہیں سمجھیں گے، حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیم کو ہم نہیں سمجھیں گے ،اس پر عمل کرنے کی کوشش نہیں کریں گے، ہم یہ نہیں کہہ سکتےکہ ہم نے پانی پی لیا۔ فرمایا کہ پانی پینا ابھی باقی ہے۔ پس اس کے لئے کوشش کرو۔
پھر فرماتے ہیں ’’یہ مَیں یقیناًجانتا ہوں کہ جو اس چشمہ سے پئے گا وہ ہلاک نہ ہو گا کیونکہ یہ پانی زندگی بخشتا ہے اور ہلاکت سے بچاتا ہے اور شیطان کے حملوں سے محفوظ کرتا ہے۔ اس چشمہ سے سیراب ہونے کا کیا طریق ہے؟ یہی کہ خدا تعالیٰ نے جو دو حق تم پر قائم کئے ہیں ان کو بحال کرو اور پورے طور پر ادا کرو۔ ان میں سے ایک خدا کا حق ہے، دوسرا مخلوق کا‘‘۔ فرمایا’’ اپنے خدا کو وحدہٗ لا شریک سمجھو جیسا کہ اس شہادت کے ذریعہ تم اقرار کرتے ہو۔ اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ۔ یعنی مَیں شہادت دیتا ہوں کہ کوئی محبوب، مطلوب اور مُطاع اللہ کے سوا نہیں ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد 3صفحہ 184-185۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
پھر ایک موقع پر آپ نے جماعت کو استغفار، توبہ اور نماز کی طرف توجہ دلائی اوراسی طرح اخلاق کے اعلیٰ حصول کی طرف بھی توجہ دلائی۔ فرمایا کہ’’ جو خداتعالیٰ کے حضور تضرّع اور زاری کرتا ہے اور اس کے حدود و احکام کو عظمت کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور اس کے جلال سے ہیبت زدہ ہو کر اپنی اصلاح کرتا ہے وہ خدا کے فضل سے ضرور حصہ لے گا۔ اس لئے ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ تہجد کی نماز کو لازم کر لیں ۔جو زیادہ نہیں وہ دو ہی رکعت پڑھ لے‘‘۔ اب خاص طور پر یہاں مَیں کہوں گا عہدیداروں کو بھی ،واقفین کو بھی کہ ان کو اس طرف توجہ کرنی چاہئے۔عام احمدی کو بھی عام طور پر توجہ کرنی چاہئے۔ فرمایا’’ کیونکہ اس کو دعا کرنے کا موقع بہرحال مل جائے گا۔ اس وقت کی دعاؤں میں ایک خاص تاثیر ہوتی ہے‘‘۔ اور جیسا کہ چند دن پہلے ہی رمضان گزرا ہے اس میں ہر ایک ان دعاؤں کا تجربہ کر چکا ہے ۔ مجھے کئی لوگ اپنے تجربات کے متعلق خط لکھتے ہیں۔ پس ان دعاؤں کی تاثیر ہوتی ہے۔ ان سے فائدہ اٹھانا چاہئے اور مستقل اٹھانا چاہئے۔ آپ فرماتے ہیں کہ’’ اس وقت کی دعاؤں میں ایک خاص تاثیر ہوتی ہے کیونکہ وہ سچے درد اور جوش سے نکلتی ہیں ۔جب تک ایک خاص سوز اور درد دل میں نہ ہو اس وقت تک ایک شخص خوابِ راحت سے بیدار کب ہو سکتا ہے؟ پس اُس وقت کا اٹھنا ہی ایک درد دل پیدا کر دیتا ہے جس سے دعا میں رقت اور اضطراب کی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے‘‘۔ فرمایا ’’اور یہی اضطراب اور اضطرار قبولیت دعا کا موجب ہو جاتے ہیں۔ لیکن اگر اٹھنے میں سستی اور غفلت سے کام لیتا ہے تو ظاہر ہے کہ وہ درد اور سوز دل میں نہیں کیونکہ نیند تو غم کو دور کر دیتی ہے۔ لیکن جبکہ نیند سے بیدار ہوتا ہے تو معلوم ہوا کہ کوئی درد اور غم نیند سے بھی بڑھ کر ہے جو بیدار کر رہا ہے‘‘۔ فرمایا’’ پھر ایک اور بات بھی ضروری ہے جو ہماری جماعت کو اختیار کرنی چاہئے اور وہ یہ ہے کہ زبان کو فضول گوئیوں سے پاک رکھا جاوے‘‘۔ بیہودہ قسم کی باتیں، فضول باتیں ،لوگوں کو تکلیف دینے والی باتیں ،استہزاء، طنز اس قسم کی باتوں سے زبان پاک رکھو۔ فرمایا’’ زبان وجود کی ڈیوڑھی ہے اور زبان کو پاک کرنے سے گویا خدا تعالیٰ وجود کی ڈیوڑھی میں آ جاتا ہے۔‘‘ اگر زبان پاک کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمہارے قریب آ جائے گا، تمہارے گھر کے دروازے پر آ جائے گا۔’’ جب خدا ڈیوڑھی میں آ گیا تو پھر اندر آنا کیا تعجب ہے؟‘‘۔ فرمایا’’ پھر یاد رکھو کہ حقوق اللہ اور حقوقِ عباد میں دانستہ ہرگز غفلت نہ کی جاوے‘‘۔
فرمایا کہ ’’یاد رکھو کہ حقوق اللہ اور حقوق عباد میں دانستہ ہرگز غفلت نہ کی جاوے۔ جو انِ امور کو مدنظر رکھ کر دعاؤں سے کام لے گا یا یوں کہو کہ جسے دعا کی توفیق دی جاوے گی ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس پر اپنا فضل کرے گا اور وہ بچ جاوے گا‘‘۔فرمایا’’ ظاہری تدابیر صفائی وغیرہ کی منع نہیں ہیں بلکہ ’برتوکّل زانوئے اشتر ببند‘‘۔(یعنی توکّل کے لئے ضروری ہے کہ اونٹ کا گھٹنا بھی باندھا جائے)۔ ’’پر عمل کرنا چاہئے۔ جیسا کہ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْن سے معلوم ہوتا ہے۔ مگر یاد رکھو کہ اصل صفائی وہی ہے جو فرمایاہے۔ قَدْاَفْلَحَ مَنْ زَکّٰھٰا(الشمس10:)۔ ہر شخص اپنا فرض سمجھ لے کہ وہ اپنی حالت میں تبدیلی کرے‘‘۔ آپ فرماتے ہیں کہ’’ وہی خدا کے فضل کا امیدوار ہو سکتا ہے جو سلسلہ دعا ،توبہ اور استغفار کا نہ توڑے۔‘‘ وہی خدا تعالیٰ کے فضل کا امیدوار ہو سکتا ہے جو سلسلہ دعا توبہ اور استغفار کا نہ توڑے ’’اور عمداً گناہ نہ کرے ‘‘۔مسلسل دعا، توبہ اور استغفار کرتے رہو اور جان بوجھ کر کوئی گناہ نہ کروتبھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے امیدوار ہو سکتے ہو۔ فرمایا: ’’گناہ ایک زہر ہے جو انسان کو ہلاک کر دیتی ہے اور خدا کے غضب کو بھڑکاتی ہے۔ گناہ سے صرف خدا تعالیٰ کا خوف اور اس کی محبت ہٹاتی ہے‘‘۔ اگر خدا تعالیٰ کا خوف اور اس کی محبت ہو گی، اللہ تعالیٰ سے حقیقی محبت ہو گی تو پھر گناہ سے بچو گے اس لئے اللہ تعالیٰ سے محبت پیدا کرو۔ فرمایا ’’صوفی کہتے ہیں کہ سعید کسی موقع کو ہاتھ سے نہیں دیتے ‘‘۔کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔’’ بعض کے حالات سنے ہیں کہ انہوں نے دعا کی کہ کوئی ہیبت ناک نظارہ ہو تا کہ دل میں رقّت اور درد پیدا ہو‘‘۔ آپ فرماتے ہیں’’ اللہ تعالیٰ کی یہ سنّت ہے کہ وہ انبیاء علیہم السلام کو ایسے موقعوں پر ہمیشہ بچا لیتا ہے جبکہ بلائیں عذاب الٰہی کی صورت میں نازل ہوں ۔‘‘اور وہ لوگ بھی بچائے جاتے ہیں جو انبیاء علیہم السلام کے حقیقی پَیرو ہیں۔جو ان کی باتوں پر عمل کرنے والے ہیں۔ جو خدا تعالیٰ کی تعلیم کو سمجھنے کی کوشش کرنے والے ہیں اور اس کا حق ادا کرنے والے اور اس کی بتائی ہوئی تعلیم کے مطابق اس کے بندوں کے حق ادا کرنے والے ہیں۔ پس ہمیں آجکل کے زمانہ میں جو حالات دنیا کے ہو رہے ہیں اس کے لئے اللہ تعالیٰ سے خاص تعلق پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ آپ فرماتے ہیں’’ پس اس سے بچنے کے لئے یہی علاج ہے کہ دعا کے سلسلہ کو نہ توڑو اور توبہ اور استغفار سے کام لو۔ وہی دعا مفید ہوتی ہے جبکہ دل خدا کے آگے پگھل جاوے اور خدا کے سوا کوئی مفر نظر نہ آوے۔ جو خدا کی طرف بھاگتا ہے اور اضطرار کے ساتھ امن کا جُویاں ہوتا ہے وہ آخر بچ جاتا ہے‘‘۔(ملفوظات جلد 3صفحہ 245 تا 247۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
پس جیسا کہ مَیں نے کہا کہ یہ دن بھی بڑے سخت ہیں۔ دنیا کی حالت بتا رہی ہے کہ یہ اپنی تباہی کی طرف بڑی تیزی سے جا رہی ہے۔ ایسے میں ہمارے بچنے اور دنیا کو بچانے کا ایک ہی راستہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی طرف رجوع کریں۔ اپنی دعاؤں کی طرف توجہ کریں، توبہ اور استغفار کی طرف توجہ کریں اور اپنی عبادتوں کو خالص اللہ تعالیٰ کے لئے کریں۔ اللہ تعالیٰ اس کی توفیق بھی عطا فرمائے۔
پھر توبہ واستغفار اور نماز کے بارے میں مزید ہدایت فرماتے ہوئے آپ نے فرمایا ’’ استغفار کرتے رہو اور موت کو یاد رکھو ۔موت سے بڑھ کر اور کوئی بیدار کرنے والی چیز نہیں ہے۔ جب انسان سچے دل سے خدا کی طرف رجوع کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنا فضل کرتا ہے‘‘۔ فرمایا’’ جس وقت انسان اللہ تعالیٰ کے حضور سچے دل سے توبہ کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ پہلے گناہ بخش دیتا ہے پھر بندے کا نیا حساب چلتا ہے۔ اگر انسان کا کوئی ذرا سا بھی گناہ کرے تو وہ ساری عمر اس کا کینہ اور دشمنی رکھتا ہے‘‘۔ انسانوں کی تو یہ حالت ہے کسی کا گناہ کرو ،کسی سے کوئی قصور کرو تو ساری عمر گناہ اور دشمنی رکھتا ہے’’ اور گو زبانی معاف کر دینے کا اقرار بھی کرے لیکن پھر بھی جب اسے موقع ملتا ہے تو اپنے اس کینہ اور عداوت کا اس سے اظہار کرتا ہے‘‘۔ انسان کا تو یہ حال ہے کہ ظاہراً معاف بھی کر دیا لیکن کبھی موقع ملا تو پھر کبھی نہ کبھی اظہار ہو ہی جاتا ہے اور وہ پرانی تکلیف پھر یاد آ جاتی ہے۔ فرمایا ’’یہ خدا تعالیٰ ہی ہے کہ جب بندہ سچے دل سے اس کی طرف آتا ہے تو وہ اس کے گناہوں کو معاف کر دیتا اور رجوع بہ رحمت فرماتا ہے۔ اپنا فضل اس پر نازل کرتا ہے اور اس گناہ کی سزا کو معاف کر دیتا ہے۔ اس لئے تم بھی اب ایسے ہو کر جاؤ کہ تم وہ ہو جاؤ جو پہلے نہ تھے ‘‘۔یہ آپ نے اپنی جلسے کی تقریر میںفرمایا تھا کہ ایسے ہو کر جاؤ کہ تم وہ ہو جاؤ جو پہلے نہ تھے۔ ’’نماز سنوار کر پڑھو۔ خدا جو یہاں ہے وہاں بھی ہے ۔پس ایسا نہ ہو کہ جب تک تم یہاں ہو تمہارے دلوں میں رقّت اور خدا کا خوف ہو اور جب پھر اپنے گھروں میں جاؤ تو بے خوف اور نڈر ہو جاؤ ۔ نہیں ۔بلکہ خدا کا خوف ہر وقت تمہیں رہنا چاہئے۔ ہر ایک کام کرنے سے پہلے سوچ لو اور دیکھ لو کہ اس سے خدا تعالیٰ راضی ہو گا یا ناراض‘‘۔یہ بہت اہم نکتہ ہے۔ ہر کام کرنے سے پہلے اگر انسان یہ سوچ لے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اس فعل سے راضی ہو گا یا ناراض ہو گاتو گناہوں کی طرف جا ہی نہیں سکتا۔ غلط باتوں کی طرف جا ہی نہیں سکتا۔ بداخلاقیوں کی طرف جا ہی نہیں سکتا۔ فرمایا ’’نماز بڑی ضروری چیز ہے اور مومن کا معراج ہے۔ خدا تعالیٰ سے دعا مانگنے کا بہترین ذریعہ نماز ہے۔ نماز اس لئے نہیں کہ ٹکّریں ماری جاویں یامرغ کی طرح کچھ ٹھونگیں مار لیں ‘‘۔فرمایا’’ بہت لوگ ایسی ہی نمازیں پڑھتے ہیں اور بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ کسی کے کہنے سننے سے نماز پڑھنے لگتے ہیں ۔یہ کچھ نہیں۔ نماز خدا تعالیٰ کی حضوری ہے اور خدا تعالیٰ کی تعریف کرنے اور اس سے اپنے گناہوں کے معاف کرانے کی مُرکّب صورت کا نام نماز ہے۔ اُس کی نماز ہرگز نہیں ہوتی جو اِس غرض اور مقصد کو مدّنظر رکھ کر نماز نہیں پڑھتا‘‘۔ اگریہ صورتحال ہےتو فرمایا کہ پھر ایسی نماز کا فائدہ کوئی نہیں۔ فرمایا ’’پس نماز بہت ہی اچھی طرح پڑھو۔ کھڑے ہو تو ایسے طریق سے کہ تمہاری صورت صاف بتاوے کہ تم خدا تعالیٰ کی اطاعت اور فرمانبرداری میں دست بستہ کھڑے ہو۔ اور جھکو تو ایسے جس سے صاف معلوم ہو کہ تمہارا دل جھکتا ہے ۔اور سجدہ کرو تو اُس آدمی کی طرح جس کا دل ڈرتا ہے۔ اور نمازوں میں اپنے دین اور دنیا کے لئے دعا کرو‘‘۔(ملفوظات جلد 3صفحہ 247-248۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان) دین کے لئے بھی دعا کرو دنیا کے لئے بھی دعا کرو۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے سامنے اس طرح جھکو کہ اس کا خوف بھی ہو اور اس کی محبت بھی ہو۔
پھر ہمیں تقویٰ اختیار کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے کہ متقی ہمیشہ خوش قسمت ہوتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں کہ’’ ہماری جماعت کو یہ نصیحت ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ وہ اس امر کو مدّنظر رکھیں جو مَیں بیان کرتا ہوں‘‘۔ فرمایا ’’مجھے ہمیشہ اگر کوئی خیال آتا ہے تو یہی آتا ہے کہ دنیا میں تو رشتے ناطے ہوتے ہیں ۔بعض ان میں سے خوبصورتی کے لحاظ سے ہوتے ہیں۔ بعض خاندان یا دولت کے لحاظ سے اور بعض طاقت کے لحاظ سے ۔ لیکن جناب الٰہی کو ان امور کی پرواہ نہیں‘‘۔ اللہ تعالیٰ کو ان باتوں سے کوئی غرض نہیں ہے۔ فرمایا کہ’’ اس نے تو صاف طور پر فرمادیا کہ اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللہِ اَتْقٰکُمْ(الحجرات14:)یعنی اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہی معزّز و مکرّم ہے جو متقی ہے۔ اب جو جماعتِ اتقیاء ہے خدا اُس کو ہی رکھے گا اور دوسری کو ہلاک کرے گا۔ یہ نازک مقام ہے اور اس جگہ پر دو کھڑے نہیں ہوسکتے کہ متقی بھی وہیں رہے اور شریر اور ناپاک بھی وہیں ۔ ضرور ہے کہ متقی کھڑاہواورخبیث ہلاک کیا جاوے۔اور چونکہ اس کا علم خدا کو ہے کہ کون اس کے نزدیک متقی ہے۔ پس یہ بڑے خوف کا مقام ہے‘‘۔ فرمایا’’ خوش قسمت ہے وہ انسان جو متقی ہے اور بدبخت ہے وہ جو لعنت کے نیچے آیا ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد 3صفحہ 238-239۔ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
اس نکتے کو سمجھ کر جہاں ہم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کرنے والے بن سکتے ہیں وہاں اپنی گھریلو زندگیوں کو بھی جنت بنا سکتے ہیں۔
پھر اس بات کا اظہار فرماتے ہوئے کہ اس سلسلہ میں داخل ہونے کے بعد آپ علیہ السلام ہم میں کیا انقلاب دیکھنا چاہتے ہیں آپ فرماتے ہیں ’’اس سلسلہ میںداخل ہو کر تمہارا وجود الگ ہو اور تم بالکل ایک نئی زندگی بسر کرنے والے انسان بن جاؤ۔ جو کچھ تم پہلے تھے وہ نہ رہو۔یہ مت سمجھو کہ تم خد اتعالیٰ کی راہ میں تبدیلی کرنے سے محتاج ہوجاؤ گے‘‘۔ اگر اپنے آپ میں کوئی پاک تبدیلی پیدا کرو گے تو محتاج نہیں ہو جاؤ گے کہ دنیا کی چالاکیاں ہم نے چھوڑ دیں، ہوشیاریاں ہم نے چھوڑ دیں تو شاید ہم دنیاداروں کے محتاج ہو جائیں ۔نہیں۔ فرمایا یہ نہ سوچو تم’’ یا تمہارے بہت سے دشمن پیدا ہوجائیں گے‘‘۔ یہ بھی تمہیں خیال نہیں آنا چاہئے کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف دل لگاؤ گےتو دشمن پیدا ہو جائیں گے یا دنیاداروں کے محتاج ہو جاؤ گے۔ نہیں ۔فرمایا’’ نہیں۔ خدا کا دامن پکڑنے والا ہر گز محتاج نہیں ہوتا ۔اس پر کبھی بُرے دن نہیں آسکتے ۔خداجس کا دوست اور مدد گار ہو اگر تمام دنیا اس کی دشمن ہوجاوے تو کچھ پرواہ نہیں۔ مومن اگر مشکلات میں بھی پڑے تو وہ ہر گز تکلیف میںنہیں ہو تا بلکہ وہ دن ا س کے لئے بہشت کے دن ہوتے ہیں۔ خداکے فرشتے ماں کی طرح اسے گود میں لے لیتے ہیں‘‘۔فرمایا’’ مختصر یہ کہ خدا خودان کا محافظ اور ناصر ہوجاتا ہے۔یہ خد اجو ایسا خدا ہے کہ وہ عَلٰی کُلِّ شَيْءٍ قَدِیْر ہے۔ وہ عالم الغیب ہے ۔وہ حیّ وقیّوم ہے۔ اس خدا کا دامن پکڑنے سے کوئی تکلیف پا سکتا ہے؟‘‘ آپ سوال فرما رہے ہیں۔ فرمایا۔’’ کبھی نہیں۔ خدا تعالیٰ اپنے حقیقی بندے کو ایسے وقتو ں میں بچا لیتا ہے کہ دنیا حیرا ن رہ جاتی ہے۔ آگ میں پڑ کر حضرت ابرا ہیم علیہ السلام کا زندہ نکلنا کیا دنیا کے لیے حیرت انگیز امر نہ تھا؟ کیا ایک خطرنا ک طو فان میں حضرت نوح اور آپ کے رفقاء کا سلا مت بچ رہنا کو ئی چھو ٹی سی بات تھی؟ اس قسم کی بے شمار نظیریں موجود ہیں ‘‘۔فرمایا’’ اور خود اس زمانہ میں خدا تعالیٰ نے اپنے دست قدرت کے کر شمے دکھا ئے ہیں ۔دیکھو مجھ پر خون اور اقدام قتل کا مقدمہ بنایا گیا۔ایک بڑا بھاری ڈاکٹر جو پادری ہے وہ اس میں مدّعی ہوا اور آریہ اور بعض مسلمان اس کے معاون ہو ئے لیکن آخر وہی ہوا جو خدا نے پہلے سے فر مایا تھا۔اِبْرَاء۔(بے قصور ٹھہرانا) پس یہ وقت ہے کہ تم توبہ کرو اور اپنے دلوں کو پاک صاف کرو ‘‘۔فرمایا’’ اگر مصیبت سرپر آپڑی اُس وقت تو بہ کیا فائدہ دے گی؟‘‘ فرمایا کہ’’ بہت عرصہ کا ذکر ہے کہ مَیں نے ایک رؤیا دیکھی تھی کہ ایک بڑا میدان ہے۔ اس میں ایک بڑی نالی کھدی ہوئی ہے جس پربھیڑیں لٹا کر قصاب ہا تھ میں چھری لئے ہوئے بیٹھے ہیں اور آسمان کی طرف منہ کئے ہوئے حکم کا انتظا ر کرتے ہیں۔ مَیں پاس ٹہل رہا ہوں‘‘۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ’’ میں پاس ٹہل رہا ہوں۔ اتنے میں مَیں نے پڑھا ۔ قُلْ مَا یَعْبَؤُا بِکُمْ رَبِّی لَوْ لَا دُعَآؤُکُمْ(الفرقان78:) یہ سنتے ہی انہو ں نے جھٹ چھری پھیر دی۔ بھیڑیں تڑپتی ہیں اور وہ قصاب انہیں کہتے ہیں کہ تم ہو کیا ؟گوہ کھا نے والی بھیڑیں ہی ہو۔ وہ نظا رہ اِس وقت تک میری آنکھو ں کے سامنے ہے ‘‘۔فرمایا’’ غرض خدا بے نیاز ہے۔ اسے صا دق مومن کے سو ا اور کسی کی پرواہ نہیں ہوتی اور بعد از وقت دعاقبول نہیں ہو تی ہے‘‘۔فرمایا’’ جب اللہ تعالیٰ نے مہلت دی ہے اُس وقت اسے راضی کرنا چاہئے۔ لیکن جب اپنی سیہ کاریوں اور گناہوں سے اسے ناراض کر لیا اور اس کا غضب اورغصہ بھڑک اٹھا اس وقت عذاب ِ الٰہی کو دیکھ کر تو بہ واستغفا ر شرو ع کی ،اس سے کیا فا ئدہ ہو گا جب سزا کا فتویٰ لگ چکا ‘‘۔ (ملفوظات جلد 3صفحہ 263-264۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
فرماتے ہیں ’’پس قبل از وقت عاجزی کرو گے تو ہماری دعائیں بھی تمہارے لئے نیک نتیجے پیدا کریں گی‘‘۔ پہلے عاجزی کرو گے تو پھر فرمایا کہ ہماری دعائیں بھی تمہارے لئے نیک نتیجہ پیدا کریں گی۔’’ لیکن اگرتم غافل ہو گئے تو کچھ فائدہ نہ ہو گا ۔خدا کو ہر وقت یاد رکھو اور موت کو سامنے موجود سمجھو‘‘۔ فرماتے ہیں’’ دیکھو تم لوگ کچھ محنت کر کے کھیت تیار کرتے ہو تو فائدہ کی امید ہوتی ہے ۔اسی طرح پر امن کے دن محنت کے لئے ہیں ۔اگر اب خدا کو یاد کرو گے تو اس کا مزا پاؤ گے ۔اگرچہ زمینداری اور دنیا کے کاموں کے مقابلہ میں نمازوں میں حاضر ہونا مشکل معلوم ہوتا ہے اور تہجد کے لئے اَور بھی۔ مگر اب اگر اپنے آپ کو اس کا عادی کر لو گے تو پھر کوئی تکلیف نہ رہے گی‘‘۔
دعائیں کرنے کے لئے نصیحت فرماتے ہوئے آپ فرماتے ہیں کہ’’ دیکھواب کام تم کرتے ہو۔ اپنی جانوں اور اپنے کنبہ پر رحم کرتے ہو۔ بچوں پر تمہیں رحم آتا ہے۔ جس طرح اب ان پر رحم کرتے ہو یہ بھی ایک طریق ہے کہ نمازوں میں ان کے لئے دعائیں کرو‘‘ کہ ظاہری رحم تو تم کرتے ہو، ان کی خواہشات پورا کرنے کی کوشش کرتے ہو، ان کو تکلیف میں دیکھ کے تمہیں رحم آتا ہے تو ایک طریق یہ بھی ہے کہ نمازوںمیں ان کے لئے دعائیں کرو۔ ’’رکوع میں بھی دعا کرو۔ پھر سجدہ میں دعا کرو کہ اللہ تعالیٰ اِس بلا کو پھیر دے اور عذاب سے محفوظ رکھے‘‘۔
یہ جو دنیا کے حالات ہیں اگلی نسلوں کو بچانے کے لئے آج ہماری دعاؤں کی ضرورت ہے۔ ہمیں دعائیں کرنی چاہئیں اپنی نسلوں کے لئے بھی دنیا کے لئے بھی جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی کہا ہے۔فرمایا کہ ’’اللہ تعالیٰ اس بلا کو پھیر دے ‘‘۔یہ دعا کرو ’’اور عذاب سے محفوظ رکھے۔ جو دعا کرتا ہے وہ محروم نہیں رہتا ۔یہ کبھی ممکن نہیں ہے کہ دعائیں کرنے والا غافل پلید کی طرح مارا جاوے ۔اگر ایسا نہ ہو تو خدا کبھی پہچانا ہی نہ جاوے۔ وہ اپنے صادق بندوں اور غیروں میں امتیاز کر لیتا ہے۔ ایک پکڑا جاتا ہے دوسرا بچایا جاتا ہے۔ غرض ایسا ہی کرو کہ پورے طور پر تم میں سچا اخلاص پیدا ہو جاوے‘‘۔ (ملفوظات جلد 3صفحہ 266۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
پھر جماعت کو اخوّت اور ہمدردی کی نصیحت کرتے ہوئے آپ نے مزید فرمایا کہ ’’ہماری جماعت کو سرسبزی نہیں آئے گی ‘‘ہماری جماعت کو سرسبزی نہیں آئے گی ،پھلے پھولے گی نہیں ’’جب تک وہ آپس میں سچی ہمدردی نہ کریں ۔جو پوری طاقت دی گئی ہے وہ کمزور سے محبت کرے‘‘۔ جس کو طاقت دی گئی ہے وہ کمزور سے محبت کرے ،فرمایا’’ مَیں جو یہ سنتا ہوں کہ کوئی کسی کی لغزش دیکھتا ہے تو وہ اس سے اخلاق سے پیش نہیں آتا بلکہ نفرت اور کراہت سے پیش آ تاہے حالانکہ چاہئے تو یہ کہ اس کے لئے دعا کرے ،محبت کرے اور اسے نرمی اور اخلاق سے سمجھائے مگر بجائے اس کے کینہ میں زیادہ ہوتا ہے۔ اگر عفو نہ کیا جائے، ہمدردی نہ کی جاوے اس طرح پر بگڑتے بگڑتے انجام بد ہو جاتا ہے‘‘۔ فرمایا’’ خدا تعالیٰ کو یہ منظور نہیں‘‘۔ فرمایا’’ جماعت تب بنتی ہے کہ بعض بعض کی ہمدردی کر کے پردہ پوشی کی جاوے۔ جب یہ حالت پیدا ہو تب ایک وجود ہو کر ایک دوسرے کے جوارح ہو جاتے ہیں‘‘۔ مددگار بن جاتے ہیں، ہاتھ پاؤں ہو جاتے ہیں’’ اور اپنے تئیں حقیقی بھائی سے بڑھ کر سمجھتے ہیں‘‘۔ فرمایا ’’ایک شخص کا بیٹا ہو اور اس سے کوئی قصور سرزد ہو تو اس کی پردہ پوشی کی جاتی ہے‘‘۔ اپنے بچوں کی پردہ پوشی انسان کرتا ہے’’اور اس کو الگ سمجھایا جاتا ہے‘‘ کہ یہ تم نے بُری بات کی ہے۔ اگر غلط بات کی ہے تو۔’’ بھائی کی پردہ پوشی( کی جاتی ہے)‘‘۔ اپنے بھائی کے متعلق کبھی نہیں چاہتا’’ کہ اس کے لئے اشتہار دے۔ پھر جب خدا تعالیٰ بھائی بناتا ہے تو کیا بھائیوں کے حقوق یہی ہیں؟‘‘۔ جب اللہ تعالیٰ نے تمہیںایک جماعت بنا کے بھائی بنا دیا تو پھر بھائیوں کے کیا یہی حقوق ہیں کہ ان کی پردہ پوشی نہ کی جائے ۔ فرمایا ’’دنیا کے بھائی اخوّت کا طریق نہیں چھوڑتے‘‘۔ دنیا کے عام بھائی جو ہیں وہ بھی اخوت کا طریق نہیں چھوڑتے۔ مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں کہ ’’مَیں مرزا نظام الدین وغیرہ کو دیکھتا ہوں کہ ان کی اباحت کی زندگی ہے مگر جب کوئی معاملہ ہو تو تینوں اکٹھے ہو جاتے ہیں۔ فقیری بھی الگ رہ جاتی ہے‘‘۔ فرمایاکہ’’ بعض وقت انسان جانور بندر یا کتّے سے بھی سیکھ لیتا ہے۔ یہ طریق نامبارک ہے کہ اندرونی پھوٹ ہو‘‘۔ آپس میں پھوٹ پڑی ہو یہ اچھا طریق نہیں۔’’ خدا تعالیٰ نے صحابہ کو بھی یہی طریق نعمت و اخوّت یاد دلائی ہے۔ اگر وہ سونے کے پہاڑ بھی خرچ کرتے تو وہ اخوّت ان کو نہ ملتی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ ان کو ملی۔ اسی طرح پر خدا تعالیٰ نے یہ سلسلہ قائم کیا ہے اور اسی قسم کی اخوّت وہ یہاں قائم کرے گا‘‘۔ فرمایا ’’خدا تعالیٰ پر مجھے بہت بڑی امیدیں ہیں ۔اس نے وعدہ کیا ہے۔ جَاعِلُ الَّذِیْنَ اتَّبَعُوْکَ فَوْقَ الَّذِیْنَ کَفَرُوْٓا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ(آل عمران 56:)‘‘۔فرمایا’’ مَیں یقیناً جانتا ہوں کہ وہ ایک جماعت قائم کرے گا جو قیامت تک منکروں پر غالب رہے گی ۔مگر یہ دن جو ابتلاء کے دن ہیں اور کمزوری کے ایّام ہیں ہر ایک شخص کو موقع دیتے ہیں کہ وہ اپنی اصلاح کرے اور اپنی حالت میں تبدیلی کرے۔ دیکھو ایک دوسرے کا شکوہ کرنا ،دل آزاری کرنا اور سخت زبانی کر کے دوسرے کے دل کو صدمہ پہنچانا اور کمزوروں اور عاجزوںکو حقیر سمجھنا سخت گناہ ہے‘‘۔(ملفوظات جلد 3صفحہ 348-349۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہم سے کیا چاہتے ہیں ؟ اس کا اظہار بھی ایک موقع پر بڑے درد کے ساتھ آپ نے فرمایا۔ بہت ساری باتیں ہم نے سنیں۔ایک اَور پیش کرتاہوں۔ آپ نے فرمایا کہ’’ یاد رکھو ہماری جماعت اس بات کے لئے نہیں ہے جیسے عام دنیادار زندگی بسر کرتے ہیں۔ نرا زبان سے کہہ دیا کہ ہم اس سلسلہ میں داخل ہیں اور عمل کی ضرورت نہ سمجھی۔جیسے بدقسمتی سے مسلمانوں کا حال ہے۔‘‘ فرمایا’’ کہ پوچھو تم مسلمان ہو؟ تو کہتے ہیں کہ شکر اَلحمد للہ۔ مگر نماز نہیں پڑھتے اور شعائر اللہ کی حُرمت نہیں کرتے۔ پس میں تم سے یہ نہیں چاہتا کہ صرف زبان سے ہی اقرار کرو اور عمل سے کچھ نہ دکھاؤ۔ یہ نکمّی حالت ہے۔ خدا تعالیٰ اس کو پسند نہیں کرتا اور دنیا کی اس حالت نے ہی تقاضا کیا کہ خدا تعالیٰ نے مجھے اصلاح کے لئے کھڑا کیا ہے‘‘۔ فرمایا’’ پس اب اگر کوئی میرے ساتھ تعلق رکھ کر بھی اپنی حالت کی اصلاح نہیں کرتا اور عملی قوتوں کو ترقی نہیں دیتا بلکہ زبانی اقرار ہی کو کافی سمجھتا ہے وہ گویا اپنے عمل سے میری عدم ضرورت پر زور دیتا ہے‘‘۔ کہ ضرورت کوئی نہیں مسیح موعود کے آنے کی۔ مان لیا لیکن عمل یہ ہے کہ ہمیں فرق کوئی نہیں پڑا ماننے نہ ماننے سے۔ فرمایا’’ پھر تم اگر اپنے عمل سے ثابت کرنا چاہتے ہو کہ میرا آنا بے سُود ہے تو پھر میرے ساتھ تعلق کرنے کے کیا معنی ہیں؟ میرے ساتھ تعلق پیدا کرتے ہو تو میری اغراض و مقاصد کو پورا کرو اور وہ یہی ہیں ‘‘۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں کہ میری اغراض و مقاصد یہی ہیں’’ کہ خدا تعالیٰ کے حضور اپنا اخلاص اور وفاداری دکھاؤ اور قرآن شریف کی تعلیم پر اسی طرح عمل کرو جس طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کر کے دکھایا اور صحابہ نے کیا۔ قرآن شریف کے صحیح منشاء کو معلوم کرو اور اس پر عمل کرو ۔ خدا تعالیٰ کے حضور اتنی ہی بات کافی نہیں ہو سکتی کہ زبان سے اقرار کر لیا اور عمل میں کوئی روشنی اور سرگرمی نہ پائی جاوے‘‘۔ فرمایا’’ یاد رکھو کہ وہ جماعت جو خدا تعالیٰ قائم کرنی چاہتا ہے وہ عمل کے بِدُوں زندہ نہیں رہ سکتی ۔ یہ وہ عظیم الشان جماعت ہے جس کی تیاری حضرت آدمؑ کے وقت سے شروع ہوئی۔ کوئی نبی دنیامیں نہیں آیا جس نے اس دعوت کی خبر نہ دی ہو‘‘۔ فرمایا’’ پس اس کی قدر کرو اور اس کی قدر یہی ہے کہ اپنے عمل سے ثابت کر کے دکھاؤ کہ اہل حق کا گروہ تم ہی ہو‘‘۔ ( ملفوظات جلد 3 صفحہ 370-371۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
اللہ تعالیٰ ہماری عملی حالتوں کو ویسا بنائے جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام ہم سے چاہتے ہیں۔ ہم اسلام کی تعلیم کا حقیقی نمونہ بننے والے ہوں۔ حقوق اللہ اور حقوق العباد کی ادائیگی کی طرف توجہ دینے والے اور ان کی ادائیگی کرنے والے ہوں۔ قرآن کریم کے اوامر و نواہی کو تلاش کر کے اس کے مطابق عمل کرنے والے ہوں اور جلسہ کے ان دنوں سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے ایک پاک تبدیلی پیدا کر کے اپنے گھروں کو واپس جائیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔
پھر یاددہانی کرواتا ہوں کہ جلسہ کے ان دنوں میں خاص طور پر جلسہ کے ہرلحاظ سے بابرکت ہونے کے لئے بہت دعائیں کریں۔ ان مجبوروں کے لئے بھی دعائیں کریں جو اپنے ملکوں میں سختیوں کی وجہ سے کھل کر اپنے ایمان کا اظہار نہیں کر سکتے، اپنے جلسے منعقد نہیں کر سکتے۔ اللہ تعالیٰ جلد ان کے لئے بھی آسانیاں پیدا فرمائے ۔ دنیا جس تباہی کی طرف بڑھ رہی ہے جیسا کہ پہلے بھی مَیں نے کہا اس کے اس تباہی سے بچنے کے لئے بھی دعا کریں تا کہ یہ اپنے پیدا کرنے والے خدا کو پہچانےاور اپنے آپ کو تباہی سے بچا لے۔ اب آپ دعا کر لیں۔ (دعا)
٭٭٭
