خطاب حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز برموقع تقریب سنگ بنیاد Marburg مسجد 19؍ اپریل 2017ء

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

               سب سے پہلے تو مَیں آپ سب معزز مہمانوں کو السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہٗ کہتا ہوں۔ سلامتی امن پیار اور محبت کا تحفہ دیتا ہوں۔

اس وقت مَیں دیکھ رہا ہوں کہ کافی بڑی تعداد میں مقامی لوگ ہماری مجلس میں آئے ہوئے ہیں اور آپ لوگوں کا یہاں آنا یقیناً اس بات کا ثبوت ہے کہ آپ لوگ بڑے کھلے دل کے ہیں اور ایسے کھلے دل کے لوگوں کے لئے جس حد تک محبت اور سلامتی اور پیار کا تحفہ دیا جائے وہ کم ہے۔ یہی حقیقت ہے کہ اگر ہم کھلے دل کے ہوں، ایک دوسرے کو سمجھنے والے ہوں، ایک دوسرے کی رائے کو سننے والے ہوں تبھی معاشرے میں امن اور سلامتی بھی پیدا ہوتی ہے۔ پس اس بات پہ سب سے پہلے جہاں مَیں نے آپ کو سلامتی کا تحفہ دیا آپ کو مبارکباد بھی دیتا ہوں کہ آپ لوگوں میں یہ خصوصیت ہے کہ آپ دوسرے کی بات سننا بھی چاہتے ہیں اور یہی حقیقت ہے اور یہی وجہ ہے کہ آپ لوگ اس وقت یہاں موجود بھی ہیں اور یہاں موجود ہونا اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ آپ چاہتے ہیں کہ اسلام کے بارے میں کچھ سنیں ،کچھ سمجھیں کیونکہ یہ خالصۃً ایک ایسا فنکشن ہے جو ایک مسلم جماعت کا مذہبی فنکشن ایک لحاظ سے اس لئے ہے کہ یہ اپنی عبادتگاہ کی بنیاد رکھ رہے ہیں اور اس میں آپ لوگوں کا آنا کسی دنیاوی مقصد کے لئے نہیں ہو سکتا۔ یقینا ًآپ لوگوں کے دل میں یہ خیال ہو گا کہ جائیں ۔ ہم بڑے عرصے سے احمدیوں کے واقف بھی ہیں، ان سے تعلقات بھی ہیں ،جانتے بھی ہیں، جماعت کی یہاں activities بھی ہیں اس کو تو ہم نے سمجھا لیکن مسجد کی بنیاد کے فنکشن کو جا کے دیکھنا چاہئے کہ وہاں کس طرح یہ لوگ اپنے فنکشن کرتے ہیں اور کیا باتیں ہوتی ہیں۔ تو اس لحاظ سے آپ لوگ واقعی قابل تعریف ہیں۔

دوسرے یہاں کے احمدیوں سے جو یہاں رہتے ہیں ان سے بھی مَیں اس لحاظ سے خوش ہوں کہ انہوں نے مقامی لوگوں سے یہاں آ کے تعلقات بڑھائے اور یہ احمدیوں سے تعلقات کی وجہ سے ہی ہے، احمدیوں کا آپ لوگوں میں گھل مل جانا یہ بھی ایک وجہ ہےجو آپ لوگ ان کی دعوت پر یہاں تشریف لائے اور ہمارے اس فنکشن کو رونق بخشی۔

جہاں تک جماعت احمدیہ مسلمہ کا تعلق ہے ہم جہاں بھی جاتے ہیں محبت ،پیار، امن اور سلامتی کا پیغام دیتے ہیں اور یہ اسلام کی تعلیم ہے۔

امیر صاحب نے ذکر کیا کہ یہاں ہم خدمت خلق کے کام کرتے ہیں۔ بوڑھوں کے old people houses میں یا دوسری مختلف قسم کی چیریٹیز میں تو خدمتِ خلق کے کام ایک انسان کا فرض ہے۔ ایک انسان کا یہ فرض ہے کہ وہ اپنے دوسرے بھائی کے کام آئے قطع نظر اس کے کہ اس کا مذہب کیا ہے۔ بحیثیت انسان ہمیں ایک دوسرے کو سمجھنا چاہئے ۔ہمیں ایک دوسرے کے کام آنا چاہئے اور ایک دوسرے کی ضروریات کو پورا کرنا چاہئے اور یہ انتہائی ضروری چیز ہے۔ اگر یہ نہیں تو عبادت کا بھی کوئی فائدہ نہیں۔ اسی لئے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے بڑا واضح فرمایا ہے کہ ایسے لوگ جو صرف مسجدوں میں آتے ہیں یا نمازیں پڑھنے والے ہیں اور پھر نمازیں پڑھ کے دوسروں کو دکھ دیتے ہیں، ان کے کام نہیں آتے، یتیموں کی خبر گیری نہیں کرتے ،بوڑھوں کی خدمت نہیںکرتے ،غریبوں کی مدد نہیں کرتے یا اور مختلف قسم کے خدمت خلق کے کام نہیں کرتے ،امن اور پیار اور محبت اور سلامتی نہیں پھیلاتے تو ان کی نمازیں قبول نہیں ہوتیں بلکہ وہ ان کے لئے گناہ بن جاتی ہیں۔ پس قرآن کریم اس حد تک جا کے ہمیں یہ حکم دیتا ہے کہ تم نے خدمت خلق کے کام کرنے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جماعت احمدیہ مسلمہ جو حقیقی اسلامی تعلیم پر عمل کرنے والی ہے وہ خدمتِ خلق کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہے۔

لارڈ میئر نے یہاں اپنی تقریر میںیونیورسٹی کا ذکر کیا۔جہاں تک تعلیم کا سوال ہے جماعت احمدیہ دنیا کے غریب ممالک میں تعلیم کے پھیلانے میں بھی بڑا کردار ادا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس سے پہلے کہ میں وہ باتیں بتاؤں کہ کس طرح جماعت احمدیہ تعلیم کو پھیلا رہی ہے، عورتوں کے حوالے سے ایک دلچسپ تجزیہ یہ بھی بتا دوںکیونکہ یہاں مَیں دیکھ رہا ہوں کافی تعداد میں عورتیں بھی بیٹھی ہوئی ہیں کہ جماعت احمدیہ میں مَردوں کی نسبت عورتیں زیادہ تعلیم یافتہ ہیں اور یونیورسٹی کی تعلیم بھی حاصل کرنے والی ہیں۔ مختلف پیشوں میں پیشہ ورانہ تعلیم بھی حاصل کرنے والی ہیں۔ اور یہ اس لئے ہے کہ ایک عورت جب تعلیم حاصل کرتی ہے تو پھر اس کی تعلیم صرف اس کی اپنی ذات تک محدود نہیں رہتی۔ یقیناً ہر مرد اور عورت جب تعلیم حاصل کرتے ہیں تو اس تعلیم کو وہ پھیلاتے ہیں۔ اس تعلیم کو حاصل کر کےکسی نہ کسی رنگ میں وہ ملک اور قوم کی خدمت کر رہے ہوتے ہیں ۔ لیکن ایک عورت کو مرد پر یہ فوقیت حاصل ہےکہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ اپنے بچوں کو پالنے والی بھی ہے۔ اور اسی لئے بانیٔ اسلام حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جنّت عورت کے پاؤں کے نیچے ہے۔ جنّت عورت کے پاؤں کے نیچے اس لئے ہے کہ ایک عورت تعلیم حاصل کرنے کے بعد آگے جب اپنے بچوں کی اچھی تعلیم و تربیت کرتی ہے تو انہیں اچھا شہری بناتی ہے۔ انہیں ملک و قوم کا ایک اثاثہ بناتی ہے اور اس طرح وہ اپنے بچوں کو جنت میں لے جانے والی بنتی ہے۔ اور جنت کا تصور جو اسلام میں ہے وہ یہ ہے کہ جنت دو طرح کی ہے۔ اس دنیا میں بھی جنت ہے اور ایک مرنے کے بعد کی جنت۔ اور اس دنیا کی جنت یہیں شروع ہو جاتی ہے جب ایک انسان ایک باعمل انسان بنتا ہے۔ اعلیٰ اخلاق والا انسان بنتا ہے۔ جہاں وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے والا بنتا ہے وہاں وہ اپنے دوسرے بھائیوں سے، انسانوں سے محبت اور پیار کرنے والا ہوتا ہے اور امن اور سلامتی اور سکون پھیلانے والا ہوتا ہے۔ یقیناً وہ شخص جو امن اور سلامتی اور سکون پھیلانے والا ہو وہ جہاں خود اپنے آپ کو محفوظ کر لیتا ہے گویا کہ وہ جنت میں ہے، وہ دوسروں کے لئے بھی اس دنیا میں جنت کا ذریعہ بن جاتا ہے۔ ایک طرف ہم دیکھتے ہیں دہشت گرد ہیں، دہشت گردی کر رہے ہیں، معصوم لوگوں کو کلب میں جا کر فائرنگ کر کے قتل کر دیا یا  suicide bombing کر کے قتل کر دیا یا کسی اور جگہ فتنہ فساد پیدا کر دیا یا مسلمان ملکوں میں بھی ہم دیکھتے ہیں کہ اپنے ملکوں میں ہی اپنے مسلمان مسلمانوں کو قتل کر رہے ہیں۔ مغربی ممالک میں قتل کر رہے ہیں تو یہ لوگ اس دنیا کو جو اللہ تعالیٰ نے جنت بنائی تھی اس کو بھی جہنم بنانے والے ہیں اور اس لحاظ سے کبھی وہ قابل تعریف نہیں ہو سکتے۔ دوسری طرف اچھے مسلمان ہیں، اچھے انسان ہیں چاہے وہ عیسائی ہیں یا یہودی ہیں یا کسی بھی مذہب کے ہیں جو اپنے ماحول میں امن اور سلامتی اور محبت اور پیار پھیلاتے ہیں گویا کہ انہوں نے اس دنیا کو بھی جنت بنا دیا اور جو لوگ انسانوں کی خدمت کرتے ہیں اس دنیا کو بھی جنت بناتے ہیں۔ ان کے بارے میں جیسا کہ مَیں نے ذکر کیا اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ ان کی میں عبادتیں بھی قبول کرتا ہوں اور یہ عبادتیں ہی ہیں جو پھر اگلے جہان میں انسان کو جنت کا وارث بناتی ہیں۔ اور عبادتیں جیسا کہ ذکر ہو چکا بغیر انسانوں کی خدمت کے نہیں بجا لائی جا سکتیں۔ وہ عبادتیں بے فائدہ ہیں جس میں دوسرے انسان کے لئے دل میں ہمدردی اور درد اور پیار نہ ہو۔ پس اس دنیا کی حقیقی جنت بھی بسانے والے وہی لوگ ہیں جو امن پسند اور پیار اور محبت کو پھیلانے والے ہیں اور اگلے جہان کی جنت میں جانے والے اور دنیا کو لے جانے والے بھی وہی لوگ ہیں جو یہ پیار اور محبت پھیلاتے ہیں۔ حضرت بانیٔ جماعت احمدیہ نے کہا کہ مَیں دو بڑے مقاصد کے لئے آیا ہوں۔ ایک یہ کہ انسان اپنے خدا کو پہچانے اور اس کی عبادت کرے، اس کا حق ادا کرے۔ دوسرے یہ کہ انسان دوسرے انسان کی عزت اور احترام کرے اور اس کا حق ادا کرے۔

ایک دفعہ مجھے کسی نے پوچھا کہ امن اور سلامتی دنیا میں کس طرح قائم ہو سکتی ہے؟ میں نے کہا اگر حقیقی امن اور سلامتی قائم کرنی ہے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ بجائے اپنے حق لینے کا مطالبہ کرنے کے دوسروں کے حق دینے کی کوشش کرو۔ جب ہم دوسروں کے حق دینے کی کوشش کریں گے تو تبھی ہم حقیقی پیار اور محبت پھیلا سکتے ہیں۔ پس یہ تصور ہے جماعت احمدیہ مسلمہ کا عبادت کے بارے میں بھی اور انسانیت کی خدمت کے بارے میں بھی۔

 ایم پی(MP) صاحبہ یہاں آئی تھیں انہوں نے بھی رواداری کا ذکر کیا۔ یقیناً رواداری ایک بڑی اہم چیز ہے اور مَیں پہلے بھی ذکر کر چکا ہوں کہ رواداری ہی ہے جس سے ہم ایک دوسرے کا خیال رکھ سکتے ہیں اور آپس میں مل جل کر رہ سکتے ہیں۔ دنیا میں مختلف مذاہب ہیں۔ مسلمان ہیں، عیسائی ہیں، یہودی ہیں۔ ہم حقیقی مسلمان یہ یقین رکھتے ہیں کہ تمام مذاہب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آئے ہیں اور ہم یہ یقین رکھتے ہیں کہ ہر مذہب کے بانی اور انبیاء سچے تھے۔ ہم حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک آنے والے تمام نبیوں اور بانیانِ مذاہب پر ایمان لاتے ہیں اور یقین رکھتے ہیں اور یہی اسلام کی حقیقی تعلیم ہے اور یہی وہ تعلیم ہے جس سے رواداری بڑھتی ہے۔کوئی حقیقی مسلمان نہیں کہہ سکتا کہ مَیں فلاں مذہب کے ماننے والے کو نہیں مانتا یا اس کا بانی جھوٹا ہے یا اس کے خلاف میں غلط بات کروں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں تو یہاں تک فرمایا ہے کہ تم بتوں کی پوجا کرنے والوں کے بتوںکو بھی برا نہ کہو کیونکہ اس کے جواب میں وہ خدا کو برا کہیں گے۔ اور جب وہ برا کہیں گے تو پھردلوں میں رنجشیں پید اہوتی ہیں۔ پھر فساد پیدا ہوتا ہے۔ آپس میں ایک دوسرے کے خلاف کارروائیاں کرنے کی کوششیں کی جاتی ہیں، نقصان پہنچانے کی کوششیں کی جاتی ہیں اور اس طرح بجائے محبت کے نفرتیں پیدا ہوتی ہیں۔ اس لئے ایک حقیقی مسلمان کا کام ہے کہ جہاں وہ ہر مذہب والے کی عزت کرے اور جو تمام انبیاء ہیں ان پہ یقین رکھے اور ایمان لائے وہاں یہ بات بھی یاد رکھے کہ کسی کے بتوں کو بھی برا نہ کہے جو خدا کے شریک ٹھہرائے جاتے ہیں کیونکہ اس سے بھی فساد پیدا ہوتا ہے۔ پس یہ ہیں وہ معیار محبت، پیار اور امن اور سلامتی پھیلانے کے جو اسلام نے ہمیں بتائے ہیں۔ روایات مختلف ہو سکتی ہیں۔ مذہب مختلف ہو سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میںفرمایا ہے کہ دین کے بارے میں کوئی جبر نہیں ہے۔ باوجود اس کے کہ ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اسلام آخری مذہب ہے اور تمام مذاہب کی اچھی باتیں اسلام کے اندر پائی جاتی ہیں۔ ایک حقیقی مسلمان ان پر عمل کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں، جس طرح کہ مَیں نے ذکر کیا ہے، بڑا واضح طور پر فرمایا کہ تمام رسولوں پر ایمان لاؤ۔ تو یہ ہم جب یقین رکھتے ہیں اور اس پر ایمان لاتے ہیں تو مختلف روایات، مختلف مذاہب جو ہیں وہ کبھی ہمارے اندر کسی قسم کی نفرت نہیں پیدا کر سکتے۔ لوگ کہتے ہیں اسلام بڑا شدت پسند مذہب ہے، دہشت گردی کا مذہب ہے یہ اسلام کی تعلیم کی حقیقت نہیں۔ وہ جو اس قسم کے کام کر رہے ہیں وہ لوگ ہیں جنہوں نے اسلام کو نہ سمجھا اور نہ کبھی اس پر عمل کیا بلکہ گزشتہ سال کی بات ہے ایک فرنچ جرنلسٹ داعش کے علاقے میں گیا۔ اس نے   وہاں داعش کے بعض ممبران سے پوچھا کہ تم لوگ جو یہ ظلم اور زیادتی کر رہے ہو کیا یہ قرآن کی تعلیم ہے؟ تو ان میں سے بہت سوں نے کہا کہ ہم نے تو نہ قرآن پڑھا ہے، نہ ہمیں اس کا پتا ہے کہ کیا تعلیم ہے۔ ہمیں تو یہ پتا ہے جو ہمارے لیڈر کہتے ہیں وہ ہم نے کرنا ہے۔ اور behead کرنا یا قتل کرنا یا مارنایا معصوموں کو مارنا یہ کوئی اسلام کی تعلیم نہیں بلکہ یہ ان کے اپنے ذاتی عمل ہیں جو اپنے لیڈروں کی وجہ سے کرتے ہیں۔

پس یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ اسلام اس قسم کی تعلیم دے۔ جب persecutionکے بعد بانیٔ اسلام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آنا پڑا اور حقیقی تاریخ یہی کہتی ہے کہ وہاں کافروں نے آپ پر حملہ کیا تو اس وقت اللہ تعالیٰ نے جو جنگ کی اجازت دی تھی وہ بھی قرآن کریم میں بڑے واضح الفاظ میں درج ہے اور وہ یہ ہے کہ اگر ظالموں کے ہاتھوں کو نہ روکا گیا تو یہ لوگ مذہب کے دشمن ہیں۔ قرآن کریم میں یہ آیت  ہے کہ پھر اگر ان کے ہاتھوں کو نہ روکا گیا تو نہ کوئی چرچ باقی رہے گا، نہ کوئی سیناگاگ(synagogue) باقی رہے گا، نہ کوئی ٹیمپل باقی رہے گا، نہ کوئی مسجد باقی رہے گی جہاں خدا کا نام لیا جاتا ہے، لوگ عبادت کے لئے اکٹھے ہوتے ہیں۔

پس یہ اسلام کا حقیقی تصور ہے جو دوسرے مذاہب کے ساتھ رواداری اور مل جل کر رہنے کا تصور ہے اور یہی وجہ ہے کہ جہاں بھی ہماری مساجد ہیں ہم اللہ تعالیٰ کے فضل سے وہاں پہلے سے بڑھ کر صحیح اسلامی تعلیم کو پھیلانے والے بنتے ہیں۔ بلکہ مَیں اکثر کہا کرتا ہوں کہ ہمارا فرض ہے کہ قرآن کریم کی یہ آیت جو ہمیں یہ کہتی ہے کہ مذہب کے دشمن جو ہیں وہ مذہب کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور اس وجہ سے اگر ان کے ہاتھوں کو نہ روکا تو یہ ہر مذہب کو ختم کر دیں گے یہ ہمیں اس بات کی طرف بھی توجہ دلاتی ہے کہ ہر احمدی جہاں اپنی مسجد کی حفاظت کرنے والا ہو وہاں وہ چرچ کی حفاظت کرنے والا بھی ہو۔ وہاں وہ سیناگاگ(synagogue) کی حفاظت کرنے والا بھی ہو اور وہاں وہ دوسرے مذاہب کی عبادتگاہوں کی حفاظت کرنے والا بھی ہو۔

پس یہ وہ خوبصورت تعلیم ہے اور نظریہ ہے جس کے تحت ہم مساجد بناتے ہیں کیونکہ مسجد بنانے کے بعد ہم پر جس طرح یہ فرض بن جاتا ہے کہ ہم اپنی مسجد کی حفاظت کریں، اس کی صفائی ستھرائی کا خیال رکھیں، اس کے ماحول کو پاک رکھیں، اسی طرح ہمارا یہ بھی فرض ہے کہ ہم اپنے ماحول میں اگر دوسرے مذاہب کی عبادتگاہیں ہیں تو ان کی بھی حفاظت کریں اور ان کے ماحول کو صاف ستھرا رکھنے کی بھی کوشش کریں۔

نیشنل اسمبلی کے سپیکر صاحب نے بھی اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس بارے میں بھی مَیں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ  سب مقررین کا یہ اظہار کرنا بڑی اچھی بات ہے کہ احمدی اس سوسائٹی کا ایک ایسا حصہ بن چکے ہیں جو ایک طرح اس قوم کا مربوط حصہ ہیں ۔ integrateہو چکے ہیں۔ اس میں ضم ہو چکے ہیں۔ پس یہ ایک خصوصیت ہے جو ایک احمدی کی ہونی چاہئے۔ اگر یہ نہیں تو اس کا مطلب ہے کہ وہ احمدی اسلام کی صحیح تعلیم پر عمل نہیں کر رہا۔

جرمن شہریت ملنے کے بعدچاہے پاکستان سے آیا ہوا ایک احمدی ہے یا افریقہ سے آیا ہوا ایک احمدی ہے یا کسی اور ملک سے آیا ہوا احمدی ہے اگر وہ جرمن شہری ہے تو پھر اس کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے  ملک سے وفادار بن جائے۔ پرانی شہریت اس کی ختم ہو گئی اب وہ جرمن شہری ہے اور یہاں رہنے والے پاکستانی احمدی جو پاکستان سے ہجرت کر کے آئے اب وہ جرمن شہری ہیں۔ ان کا یہ فرض اس لئے بنتا ہے کیونکہ بانیٔ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وطن کی محبت تمہارے ایمان کا حصہ ہے۔ پس ہمارے ایمان کا بھی یہ تقاضا ہے کہ جس جس ملک میںاحمدی رہتا ہے وہاں اس ملک سے محبت کرے اور اس کی بہتری کے لئے کام کرے اور وہاں کے لوگوں میں محبت اور امن اور پیار کا پیغام پہنچائے اور پھیلائے۔

پس یہ باتیں ایسی ہیں کہ  اگر ان پر عمل کیا جائے تو یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ کسی کو اسلام کی تعلیم کے بارے میں تحفّظات ہوں۔ اور ہم احمدی یہ کوشش کرتے ہیں کہ اس تعلیم پر جہاں زیادہ سے زیادہ عمل کریں وہاں دنیا کو بھی بتائیں کہ یہ وہ تعلیم ہے جو حقیقی تعلیم ہے اور دوسروں کو ہمارے سے پیار، محبت، رواداری کے علاوہ کوئی اور چیز نہیں ملے گی۔ یا ہمارے اندر ان باتوں کے علاوہ کوئی اور چیز نظر نہیں آئے گی۔ اور مسجد بننے کے بعد انشاء اللہ تعالیٰ آپ دیکھیں گے کہ یہاں کے رہنے والے احمدی پہلے سے بڑھ کر یہاں کے لوگوں کا حق ادا کرنے والے ہوں گے۔ کیونکہ یہ بھی بانیٔ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اور قرآن کریم میں بھی اس بات کا ذکر ہے کہ تمہارے  ہمسایوں کےحقوق ہیں ا ور تمہارے ہمسائے تمہارے گھروں کے ہمسائے ہیں، تمہارے ساتھ کام کرنے والے لوگ تمہارے ہمسائے ہیں، تمہارے ساتھ سفر کرنے والے لوگ بھی تمہارے ہمسائے ہیں۔ روزانہ لوگ اپنے اپنے کاموںپہ جاتے ہیں۔ بسوںاور ٹرینوں پہ میلوں کا سفر کرتے ہیں گویا کہ وہ سب ہمسائے بن گئے اور چاہے اس کو پہچانتے ہو یا نہیں پہچانتے وہ سب تمہارے ہمسائے ہیں۔ بانیٔ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس شدت سے اللہ تعالیٰ نے مجھے ہمسایوں کے حق ادا کرنے کی طرف توجہ دلائی کہ مجھے خیال ہوا کہ شاید یہ وراثت میں بھی حق دار بن جائیں۔

تو یہ اہمیت ہے اسلام میں ہمسائے کی اور ہمسائے کا حق ادا کرنا ہمارا ایک فرض بنتا ہےاور اس فرض کو ہم نے ادا کرنا ہے اور امید ہے انشاء اللہ تعالیٰ جب مسجد بن جائے گی تو ہمارے اس مسجد کے ہمسائے بھی اور یہاں آنے والے تمام لوگوں کے ہمسائے، تمام وہ لوگ جو یہاں عبادت کے لئے آتے ہیں ان سب کے ہمسائے، ہمارے سے پہلے سے بڑھ کر امن، سلامتی، پیار اور محبت کا پیغام حاصل کرنے والے ہوں گے۔ اور انشاء اللہ تعالیٰ ہم ہر معاملے میں نہ صرف محبت پیار منہ سے کہنے والے اور پھیلانے والے ہوں گے بلکہ عملی طورپر آپ کے ساتھ اس کو پھیلانے میں کردار ادا کریں گے ورنہ نہ کسی مذہب کا فائدہ ہے، نہ کسی تعلیم کا فائدہ ہے۔ یونیورسٹیوں میں پڑھ کر اگر ہم نے دہشت گردی کرنی ہے تو وہ تعلیم بے فائدہ ہے۔ اگر کسی مذہب میں شامل ہو کر شدت پسندی دکھانی ہے تو وہ مذہب بے فائدہ ہے۔ اصل مذہب وہی ہے جو پیار اور محبت کو پھیلائے اور یہی اسلام کی تعلیم ہے۔

مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ اس مسجد کے بننے کے بعد آپ لوگ پہلے سے بڑھ کر احمدیوں سے محبت پیاراور ہمدردی اور بھائی چارے کے نعرے سنیں گے۔ انشاء اللہ۔ شکریہ۔

اپنا تبصرہ بھیجیں