خطاب حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز برموقع جلسہ سالانہ برطانیہ 29؍ جولائی 2023ء

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کیے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

بروز ہفتہ بمقام حدیقۃ المہدی (جلسہ گاہ) آلٹن ہمپشئر۔ یوکے

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

آج کی اس دن کی جو تقریر ہے اس میں اللہ تعالیٰ کے جو فضل ہیں جماعت احمدیہ پر ان کا ذکر ہوتا ہے سو اس لحاظ سے میں کچھ کوائف پیش کروں گا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس سال دنیا بھر میں پاکستان کے علاوہ جو نئی جماعتیں قائم ہوئی ہیں ان کی تعداد 329ہے۔ ان نئی جماعتوں کے علاوہ دس سوسولہ (1016) نئے مقامات پر پہلی بار احمدیت کا پودا لگا ہے اور ان جماعتوں کے قیام میں کونگو کنشاسا سرفہرست ہے۔ اس کے بعد تنزانیہ ہے کونگو برازاویل ہے گھانا، نائیجیریا، سینیگال، گنی بساؤ، لائبیریا، نائیجر، بینن، گنی کناکری، مالی، ٹوگو، سیرالیون، روانڈا، آئیوری کوسٹ، گیمبیا میں جماعتیں قائم ہوئی ہیں۔ اسی طرح مزید پچیس ممالک ہیں جن میں چھوٹی چھوٹی چندایک جماعتیں قائم ہوئی ہیں یہ زیادہ تعدادوالی تھیں۔ ان نئی جماعتوں کے قیام کے سلسلے میں بعض واقعات بھی سامنے آتے ہیں جو ایمان افروز ہوتے ہیں۔

گنی بساؤ کے مبلغ لکھتے ہیں کہ گنی بساؤ کے ڈمبا کابرا کے علاقہ میں شدید مخالفت کی وجہ سے احمدیت کا پودا نہیں لگا تھا۔ جلسہ سالانہ یوکے کے موقع پر اس علاقے کے چیف سیکھو بالڈے صاحب کو مدعو کیا گیا۔ سیکھو بالڈے صاحب کہتے ہیں کہ میرے علاقے میں جماعت کی بہت مخالفت ہوئی جو کہ ایک چیف کی حیثیت سے مجھے روکنی چاہئے تھی مگر پہلے میں بھی جماعت احمدیہ کی شدید مخالفت کرتا تھا مگر آج اس جلسےکی برکت سے اور خلیفة المسیح کو دیکھ کر اور انہیں سن کر مجھے یقین ہو گیا کہ آپ کی جماعت سچی ہے اور آج میں اپنے چار سو سے زائد لوگوں کے ساتھ جماعت میں شامل ہونے کا اعلان کرتا ہوں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس علاقے میں تین نئی جماعتوں کا قیام ہوا۔

کیمرون کے انتہائی نارتھ میں ایک گاوٴں میمے میں ایم ٹی اے العربیہ کے ذریعے جماعت قائم ہوئی۔ یہ گاؤں مروہ شہر سے اَسّی کلو میٹر دور ہے۔ ان لوگوں کے ساتھ فون پررابطہ ہوا پھرہمارے معلم ابوبکر صاحب دو افراد کے ساتھ وہاں گئے۔ ان لوگوں نے بتایا کہ وہ جماعت سے پوری طرح واقف ہیں۔ کئی سال سے ایم ٹی اے العربیہ دیکھ رہے ہیں اور جماعت سے اچھا تعارف ہے۔ معلم نے جماعت کا مزید تعارف کروایا اور دوبارہ آنے کا پروگرام طے کیا اور یہاں بھی سو سے اوپر افراد نے بیعت کر لی اور جماعت میں شمولیت اختیار کی۔

واقعات تو بہت ہیں اب میں چھوڑتا ہوں کیونکہ اَور بھی رپورٹ ہے۔ امیر صاحب

لائبیریا نے جو رپورٹ دی ہے کہ بومی کاؤنٹی کے ایک گاؤںساقی ٹاؤن میں ہماری ٹیم تبلیغ کے لیے گئی۔ گاؤں کے امام اور سرکردہ احباب سے مل کر باقاعدہ تبلیغی پروگرام کے لیے تاریخ اور وقت طے کر لیا گیا۔ چھوٹے دیہات کو بھی اطلاع پہنچائی گئی اور مقررہ وقت پر پروگرام ہوا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد اور دعویٰ کے بارے میں تفصیل سے بتایا گیا۔ جماعت میں خلافت اور تبلیغ کی کوششوں کا ذکرکیا گیا۔ اسی طرح غیروں کی طرف سے جماعت کے بارے میں جو غلط باتیں پھیلائی جاتی ہیں ان کی وضاحت کی گئی۔ آخر پر اس گاؤں کے امام عبداللہ صاحب نے کہا۔ آج مجھ پر حقیقت کا اظہار ہو گیا ہے او رہمیں پہلے جماعت کے بارے میں جو کچھ بتایا جاتا تھا وہ اچھا نہیں تھا۔ اور کہتے ہیں جب آپ پچھلی دفعہ آئے تھے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر اور قرآن کے بارے میں بیان سن کر تعجب ہوا تھا کیونکہ ہمیں یہی بتایا جاتا تھا کہ آپ اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کے خلاف ہیں لیکن آپ کی تو ساری باتیں ہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرت اور قرآن کی تعلیم کے گرد گھومتی ہیں۔ پس انہوں نے پھر ان باتوں کو دیکھ کر اپنے بہت سے افراد کے ساتھ بیعت کی اور جماعت میں شامل ہو گئے۔

اس سال نئی مساجد کی تعمیر اور جماعت کو عطا ہونے والی مساجد کی جو رپورٹ ہے وہ ہے، اللہ تعالیٰ کے حضور اس دفعہ مجموعی تعداد جو جماعت نے مساجدکی صورت میں پیش کی وہ 185 ہے جن میں 129مساجد نئی تعمیر ہوئی ہیں اور 56بنی بنائی عطا ہوئیں اور ان میں مختلف ممالک میں مساجد ہیں۔ گھانا میں سب سے زیادہ ہیں پھر سیرالیون میں نائیجیریا میں بینن میں تنزانیہ، برکینا فاسو، کونگو کنشاسا، آئیوری کوسٹ، مالی، لائبیریا، گیمبیا، گنی بساؤ، نائیجر، کیمرون، یوگنڈا، سینیگال، گنی کناکری، چاڈ، برونڈی، سینٹرل افریقہ، کینیا، ٹوگو، کونگو برازاویل، زیمبیا، ساؤ تومے۔ ہندوستان میں بھی مساجد کا اضافہ ہوا ہے۔ انڈونیشیا، بنگلہ دیش، نیپال، جرمنی، برطانیہ، فرانس، امریکہ۔

پاکستان میں مُلّاں کے کہنے پر انتظامیہ بھی ہماری مسجدیں اور منارے گرانے پر تلی ہوئی ہے اور دنیا میں اللہ تعالیٰ ہمیں مساجد عطا فرما رہا ہے اور ہم ہی اسلام کا پیغام پہنچا رہے ہیں۔

سینٹرل افریقہ کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک دن ایک امیر تاجر جو مسلمان تھا ہماری مسجد کے پاس سے گزرا اور اس مسجد کی فوٹو بنانے لگا۔ اس کے پوچھنے پر اس کوبتایا گیا کہ یہ مسجد جماعت احمدیہ کی ہے تو کہنے لگا کہ بڑی خوبصورت مسجد ہے۔ مستری آپ نے باہر سے منگوایا ہے اور اس پہ کتنا خرچہ آیاہے؟ ہمارے ممبر صاحب نے بتایا کہ اس مسجد کو پانچ ملین سے زیادہ نہیں لگا۔ کہنے لگا کہ اس مہنگائی کے باوجود آپ نے اتنی سستی مسجد بنائی ہے! ہمارے مولوی تو اس طرح کی مسجد دس دس ملین میں بنا رہے ہوتے ہیں پھر بھی مکمل نہیں ہوتی اور آپ لوگوں نے تو بڑی جلدی اس کو مکمل بھی کر لیا ہے۔

بیلیز کی رپورٹ ہے کہ بلیدن گاؤں بیلیز کے مرکز سے پانچ گھنٹے کے فاصلے پر جنوب میں واقع ہے۔ یہاں کے نومبائعین کے ایک خاندان نے اپنے گھروں کے قریب مسجد کی خواہش ظاہر کی۔ یہ خاندان چاہتا تھا کہ وہ اسلام کے بارے میں زیادہ سیکھ سکیں۔ انہیں کہا گیا کہ وہ مسجد کے لیے ایک زمین تلاش کریں تو انہوں نے فوری طور پر اپنی ہی زمین پیش کر دی اور کہا کہ خداکے گھر کو اپنی ہی جائیداد پر تعمیر کرنا میرے لیے اعزاز کا باعث ہوگا۔ انہوں نے نہ صرف زمین پیش کی بلکہ اپنا ایک بیٹا بھی دین کی خدمت کے لیے وقف کر دیا اور اب یہ نوجوان مرکز میں رہ رہا ہے اور جامعہ احمدیہ میں داخل ہونے کی تیاری کر رہاہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نوازتا ہے۔

مساجد کی تعمیر میں مخالفت کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔

بینن کی رپورٹ ہے کہ یہاں کے ریجن ناتی ٹنگو کا ایک گاؤں ہے جس میں جماعت کو مسجد تعمیر کرنے کی توفیق ملی۔ گاؤں ناتی ٹنگو مشن سے پچاس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے جس میں چھیالیس کلو میٹر کچا انتہائی خراب اور پہاڑی راستہ ہے۔ یہ گاؤں فولانی قوم کے لوگوں پر مشتمل ہے۔ 2016ء میں یہاں جماعت قائم ہوئی تھی اور ڈیڑھ سو سے اوپر بیعتیں ہوئی تھیں۔ یہاں کی جماعت بہت مستحکم اور فعال ہے۔ صدر جماعت نے مسجد کے لیے قطعہ زمین جماعت کو پیش کیا۔ علاقہ کے سینٹرل امام نے لوگوں کو مسجد کی تعمیر روکنے کا کہا اور مختلف طریقوں سے ڈرانے کی کوشش کی۔ بہرحال انہوں نے مجھے بھی رپورٹ کی، خود بھی کوشش کرتے رہے دعائیں بھی کرتے رہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اپریل میں ہی وہ روک دور ہو گئی مسجد کا سنگ بنیاد رکھا گیا اور وقار عمل کے ذریعےسےاور دوسرے تعمیری کام کے ذریعےسے اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہاں مسجد تعمیر ہو گئی۔ مخالفین نے بہت زور لگایا، میئر کو بھی کہا اور میئر صاحب نے کہا کہ نہیں ان کو میں اجازت دیتا ہوں بلکہ جب مسجد کا افتتاح ہوا تو میئر خود آئےاور انہوں نے کہا کہ باوجود بیماری کے اس لیے آیا ہوں کہ مجھے پتا ہے کہ جماعت جس طرح فلاحی کام کرتی ہے اور جس طرح مذہب کی تعلیم دے رہی ہے اور امن پھیلا رہی ہے وہ انہی کاکام ہے۔

چاڈ کے مبلغ صاحب لکھتے ہیں کہ جب سے جماعت احمدیہ کی مسجد دارالحکومت چاڈ میں تعمیر ہوئی ہے مخالفت میں شدید اضافہ ہوا ہے۔ چند علماء جماعت کے خلاف پروپیگنڈا کر رہے ہیں کہ جماعت احمدیہ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان نہیں لاتی۔ اس سال فروری میں جماعت احمدیہ چاڈ کو پہلا جلسہ سالانہ منعقد کرنے کی توفیق ملی تو علماء کی طرف سے علاقے کے لوگوں کو منع کیا گیا کہ جماعت کے جلسےمیں نہ جائیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان کی تدبیر بھی کامیاب نہ ہونے دی اور محلے کے لوگ جلسےمیں شامل ہوئے۔ ان شاملین جلسہ میں ایک شخص عبداللہ صاحب بھی تھے۔ انہوں نے جلسہ کے موقع پر اپنے خیال کا اظہار کرتے ہوئے کہا۔ ہم مسلمانوں میں بھی جماعت احمدیہ کے متعلق تشویش رہتی ہے۔ مشائخ کرام بہت کچھ جماعت احمدیہ کے متعلق کہتے رہتے ہیں لیکن آپ لوگوں کی تقاریر سن کر پتا چلا ہے کہ جتنی محبت آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کرتے ہیں اتنی ہم مسلمان نہیں کرتے۔

پھر مشن ہاؤسز اور تبلیغی مراکز میں اضافہ جوہوا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے 124مشن ہاؤسز کا اضافہ ہوا اور یہ دنیا کے مختلف ممالک میں ہیں جن میں افریقہ بھی شامل ہے یورپ بھی شامل ہے اور قرغیزستان وغیرہ بھی۔ آسٹریلیا بھی۔

رقیم پریس کی رپورٹ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے انہوں نے اس سال کافی کتب شائع کی ہیں خاص طور پر قرآن کریم ناظرہ اور حضرت میر محمد اسحٰق صاحبؓ کا جو لفظی ترجمہ ہے وہ شائع کیا ہے اور اللہ کے فضل سے بڑی اعلیٰ پرنٹنگ بھی ہے اور بائنڈنگ وغیرہ بھی ہے۔ یہاں displayمیں لگا بھی ہوا ہے اور بڑی سستی قیمت پہ ہمیں یہ مہیا ہو گیا ہے۔

وکالت تصنیف یوکے کی رپورٹ کے مطابق ایرانی ترجمہ قرآن بھی اس سال شائع ہوا۔ اب تک 76 زبانوں میں قرآن کریم کا ترجمہ شائع ہو چکا ہے۔ البانین ترجمہ قرآن بھی تیار ہے اور چھپنے کے لیے پریس میں ہے، ڈینش ترجمہ قرآن بھی پریس میں ہے۔ اسی طرح حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰة والسلام کی پانچ کتب کے انگریزی ترجمے ہوئے ہیں اور اسی طرح اَور بھی بہت ساری کتب کے تراجم ہو رہے ہیں۔ یہ ساری کتب بک سٹال میں بھی مہیا ہیں جو شائع ہوئی ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑی خوبصورت اور اچھی پرنٹنگ ہے ویسے بھی ان کی جلد وغیرہ بھی بڑی دیدہ زیب ہے اور سستی ہے قیمت بھی زیادہ نہیں ہے ہدیہ بہت تھوڑا ہے۔

نظارت اشاعت قادیان کی رپورٹ ہے۔ ناظرہ قرآن کو نئی پندرہ لائنوں کی سیٹنگ جس میں ہر صفحےکے آخر میں آیت کا اختتام ہوتا ہے اس کی سیٹنگ کرنے میں اور میر اسحٰق صاحب والےترجمہ میں انہوں نے بڑا کام کیا ہے اور خط منظور کے ساتھ ترجمہ کیا ہے اس کے علاوہ ہندی اور ملیالم کا ترجمہ ہے، گجراتی ترجمہ ہے۔ حضرت مولوی شیر علی صاحب کا جو ترجمہ قرآن ہے اس کا مراٹھی ترجمہ اس طرح قرآن کریم کے تراجم پر بہت سارا کام انہوں نے بھی کیا ہے۔ لوگوں کو بڑے پسند آتے ہیں غیر بھی لے کر جاتے ہیں۔

مالی کے ریجن کے مربی لکھتے ہیں۔ سکاسو شہر کے تجارتی اور ثقافتی فیسٹیول میں قرآن کریم اور جماعتی لٹریچر کے حوالےسے ایک بک سٹال لگانے کی توفیق ملی۔ ایک غیر ازجماعت پولیس افسر جماعتی سٹال پر آئے اور جماعت کے فرنچ ترجمہ قرآن سے اس قدر متاثر ہوئے کہ دس کاپیاں خرید لیں اور بتایا کہ قرآن کریم کو سمجھنے کے لیے یہ سب سے بہترین ترجمہ ہے۔ یہ دس کاپیاں میں نے اپنے محلے کی مسجد میں رکھنے کے لیے لی ہیں تا کہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس سے استفادہ کر سکیں۔

روحانی خزائن کے عربی ترجمہ کی تکمیل اور اشاعت بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہو چکی ہے۔ اس سال بارہ کتب شائع ہو چکی ہیں اور اس طرح ترجمہ مکمل ہو گیا ہے۔

جرمن زبان میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے ترجمے ہو کر شائع ہو چکے ہیں۔ 82کتب ترجمہ ہو چکی ہیں۔ اس سال بھی 10کتب انہوں نے شائع کیں۔ انڈیا کی مختلف زبانوں میں تیلگو، بنگلہ، تامل وغیرہ میں مختلف کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اور جماعتی لٹریچر شائع ہوا۔

حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے مختلف زبانوں میں شائع ہونے والے تراجم جو ہیں بنگلہ زبان میں 20کتب، جرمن میں 10، انڈونیشین میں 10، انگریزی میں 7، تیلگو میں 4، عربی، اردو فارسی اور تامل زبان میں تین تین، فرانسیسی، ترکش اور لوگانڈا زبان میں دو دو، پرتگیزی اور کریول زبان میں ایک ایک کتاب شائع ہوئی۔

کتب حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر تبصرے اور ان کے ذریعےسے جو بیعتیں ہوئیں اس کے بارے میں امیر صاحب بیلجیم لکھتے ہیں کہ ایک بیلج پروفیسر Renaud Quoidbach ہیں مارچ میں ان کو اسلام قبول کرنے کی توفیق ملی، انہوں نے فلاسفی میں پی ایچ ڈی کی ہوئی ہے۔ ان کی بیعت کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ ان کا تعلق پہلے عیسائی مذہب سے تھا لیکن حضرت عیسیٰ کو خدا نہیں مانتے تھے پھر انہوں نے زندہ خدا کی جستجو شروع کی۔ یہ صاحب مسجد بیت المجیب میں بھی آتے رہے اور مشنری انچارج صاحب سے بھی ان کی تفصیلی نشست ہوئی تھی۔ کافی بیمار بھی رہتے تھے۔ انہوں نے خدا کے وجود کی تلاش شروع کی اور اس حوالے سے ان کو حضرت مسیح موعود علیہ لسلام کی کتب بھی دی گئیں اور میرا خطبہ باقاعدہ سنتے تھے۔ چھ مارچ کا خطبہ انہوں نے سنا جس میں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی تحریرات کی روشنی میں محاسنِ قرآن جو میں نے بیان کیے تھے وہ انہوں نےسنے تو کہتے ہیں آہستہ آہستہ اس کے بعد ان کو خدا تعالیٰ کے وجود پر ایمان پیدا ہونے لگا اور یہ خدا تعالیٰ کا بار بار نام لے کر ذکر الٰہی بھی کیا کرتے تھے۔ کچھ دنوں کی چھٹی لے کر یہ ہالینڈ بھی گئے تا کہ خدا کی جستجو میں کسی جگہ تنہائی میں رہیں اور خدا تعالیٰ کی ہستی کے بارے میں مطالعہ بھی کرتے رہےجس سے ان کو خداتعالیٰ کے وجودپر ایمان پیدا ہو گیا اور اب انہوں نے بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کر لی ہے۔

وکالت اشاعت طباعت جو ہے ان کی رپورٹ کے مطابق 105 ممالک سے موصولہ رپورٹ کے مطابق دوران سال 448 مختلف کتب پمفلٹ اور فولڈرز وغیرہ 47 زبانوں میں 50 لاکھ 89ہزار کی تعداد میں طبع ہوئے۔ جن 47 زبانوں میں لٹریچر کی تفصیل بھی ہے یہ مختلف زبانیں ہیں۔ سینتالیس زبانیں ہیں جن میں لٹریچر طبع ہوا۔ دنیا بھر میں جماعت اور ذیلی تنظیموں کے تحت 26زبانوں میں 124تعلیمی تربیتی اور معلوماتی مضامین پر مشتمل اخبارات اور رسائل شائع ہو رہے ہیں۔ جن 26 زبانوں میں اخبارات اور رسائل شائع ہو رہے ہیں ان کی بھی ایک لمبی فہرست ہے۔ مختلف زبانیں ہیں ان میں افریقہ کی اور یورپ کی زبانیں بھی ہیں۔

وکالت اشاعت ترسیل کی رپورٹ کے مطابق 45 ممالک کو 24 زبانوں میں ایک لاکھ 62ہزار سے زائد کتب بھجوائی گئیں۔ مختلف ممالک میں 4ہزار 814مختلف عناوین کی کتب، فولڈر 99لاکھ 56ہزار سے زائد کی تعداد میں مفت تقسیم کیا گیا۔ اس کے ذریعےسے دنیا بھر میں 15لاکھ 90ہزارافراد تک پیغام پہنچا۔

نمائشوں اور بک سٹالز کے ذریعے سے بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بڑا کام ہو رہا ہے۔ موصولہ رپورٹس کے مطابق 9ہزار 166نمائشوں کے ذریعے 4لاکھ 20ہزار سے اوپر افراد تک اسلام احمدیت کا پیغام پہنچا۔ 1774سے زائد تراجم قرآن کریم تحفةً مختلف مہمانوں کو دیے گئے۔ 8ہزار 567بک سٹال اور بک فیئرز کے ذریعے 17لاکھ 24ہزار سے زائدافراد تک پیغام پہنچانے کی توفیق ملی۔

نمائشوں کے حوالے سے واقعات کا بھی ذکرہے۔ کہتے ہیں ایک یونیورسٹی کے طلبہ چیک ریپبلک میں ہماری نمائش میں آئے۔ ایک طالب علم نے لکھا کہ ہم طلبہ آپ سب کا دلی گہرائیوں سے شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آپ کے اس پروگرام نے ہمیں خدا کے قریب کیا ہے۔ ایک خاتون نے لکھا کہ میں بہت خوش ہوں کہ میں اس نمائش میں شامل ہوئی۔ مجھے آج بہت اچھی اور نئی معلومات ملیں۔ جو میرے ذہن میں اس سے قبل تعصبات تھے وہ اس نمائش سے دور ہوئے اور اب میرے سامنے اسلام کی ایک بالکل نئی اور خوبصورت تصویر ہے۔ نمائش کو دیکھنے کے بعد ایک رئیل اسٹیٹ ایجنٹ اپنے تاثرات لکھتے ہیں، اس نمائش کے ذریعے سے میرے علم میں بہت اضافہ ہوا ہے اور اسلام اور قرآن کے متعلق بہت سی نئی چیزوں کا علم ہوا۔ میرا ذہن کھلا اور میرے دماغ نے ان کی باتوں کو تسلیم کیا۔ آج احمدیہ جماعت نے میری آنکھیں کھولیں۔ بہت سی باتیں میں نے پہلے سنی ہوئی تھیں جو کہ آج غلط ثابت ہوئیں۔ میں جہاں اسلام کو منفی مذہب ہونے کا مترادف سمجھتا تھا وہاں آج اس نمائش کے ذریعے میرے لیے اب اسلام میں محض مثبت باتیں ہی ہیں۔

نمائش دیکھ کر ایک نوجوان طالب علم نے کہا۔ میں کچھ عرصےسے خدا کی تلاش میں ہوں۔ صحیح مذہب کی تلاش میں ہوں مگر مجھے مسلمانوں میں تفرقہ اور فساد نظر آتا ہے۔ آج جماعت احمدیہ مسلمہ کی نمائش میں شامل ہو کر میرے جملہ شکوک دور ہوئے اور مجھے اس جماعت میں امن محسوس ہوتا ہے لہٰذا اگر میں مسلمان بنا تو میںاحمدی مسلمان بنوں گا۔

بک فیئرز اور بک سٹالز میں جو لوگ شامل ہوتے ہیں ان کے بھی تاثرات ہیں۔ ایک تاثر دھیما جی آسام کے ایک ضلع کا ہے۔ اس ضلع میں مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے۔ اس علاقے میں بک فیئر کے موقعےپر جماعتی نمائندگان کی طرف سے اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمانوں سے ملاقات کی گئی۔ ہمارا سٹال بک فیئر میں مسلمانوں کا واحد سٹال تھا اور اس سٹال کی اخبارات کے ذریعے بھی تشہیر ہوئی تھی چنانچہ یہاں کے چیف جج مرتضیٰ چودھری صاحب از خود ہمارے سٹال پر تشریف لائے۔ جماعت کی طرف سے بک فیئرز میں اسلام کی نمائندگی سے بہت خوش ہوئے۔ سٹال پر ڈیوٹی دینے والے تمام خادمین سلسلہ کو اپنے گھر کھانے پر دعوت بھی دی۔ جماعتی نمائندگان کے لیے خصوصی دعوت کا انتظام کیا اس دوران موصوف نے بار بار اس بات کااظہار کیا کہ اس علاقے میں جہاں مسلمانوں کی تعداد بہت کم ہے آپ نے اسلام کی نمائندگی کر کے بڑا اچھااور اہم کام کیا۔ نیز موصوف نے اپنی بیٹی کو ہمارے سٹال سے کتب خرید کر دیں اور انٹرنیٹ پر بھی یہ ریسرچ کر رہے ہیں۔ اسی طرح اَور بھی لوگ ہیں یہاں انڈیا میں آسام میں جو ریسرچ کر رہے ہیں۔ بک سٹالوں کا ان پہ اثر ہو رہا ہے۔

سپین سے عبدالصبور نعمان صاحب کہتے ہیں اتوار والے دن میڈرڈ میں مولانا کرم الٰہی صاحب ظفر مرحوم کی جگہ پر تبلیغی سٹال لگانے کا موقع ملتا رہتا ہے۔ سٹال پر ایک الجزائری پروفیسر آیا۔ اسے کتاب القول الصریح اور دیگر جماعتی لٹریچر دیا۔ اس نے بتایا کہ اس نے یہ کتاب تین مرتبہ پڑھ لی ہے اور اپنی فیملی سمیت چھ افراد نے الجزائر میں بیعت کر لی ہے۔

دنیا کی لائبریریوں کے بارے میں رپورٹ ہے کہ دنیا کے 104 ممالک میں اب تک 620 سے زائد ریجنل اور مرکزی لائبریریوں کا قیام ہو چکاہے جن کے لیے لندن سے اور قادیان سے کتب بھجوائی گئی ہیں۔

وکالت تعمیل و تنفیذ کی رپورٹ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کے ہندی تراجم کروانے کا کام جاری ہے۔ کل88کتب میں سے 78کتب کے ہندی تراجم شائع ہو چکے ہیں اور باقی بھی تیار ہیں۔ اسی طرح نظارت اشاعت کی رپورٹ بھی میں نے پڑھ لی۔ اسی طرح مہمان وہاں آتے ہیں ان کو بھی اسلام کا تعارف کرایا جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کے ذریعے اچھا کام ہو رہا ہے۔

عربی ڈیسک کے تحت گذشتہ سال تک جو کتب اور پمفلٹس عربی زبان میں تیار ہو کر شائع ہوئے ان کی تعداد 178ہے۔ ملفوظات کی دس جلدوں پر مشتمل مکمل سیٹ کا عربی ترجمہ پرنٹنگ کے لیے پریس کو دیا جا رہا ہے اور ملفوظات کی پرنٹنگ کے بعد کُل شائع شدہ عربی مجلدات اور کتب وغیرہ کی تعداد 188ہو جائے گی۔ حضرت مصلح موعودرضی اللہ تعالیٰ عنہ کی 34کتب کا عربی ترجمہ اس میں تفسیر کبیر کا دس جلدوں کا سیٹ بھی سر فہرست ہیں۔ علاوہ ازیں انوار العلوم کی بعض کتب اور دیگر بہت سی کتب کا عربی ترجمہ ہوچکا ہے اور تیاری کے مراحل میں ہے۔

عربوں کے بعض تاثرات لکھے ہیں۔ ایک خاتون کہتی ہیں کہ میرا نام اُمِّ اسلام ہے میرا جماعت سے رابطہ ایم ٹی اے العربیہ کے ذریعے سے ہوا۔ ابھی تک بیعت نہیں کی۔ مجھے خط لکھا۔ کہتی ہیں آپ کو میرا یہ پہلا خط ہے۔ کہتی ہیں کہ مجھے دعاکے ذریعے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا یقین ہو گیا ہے۔ دعا کے بعد خواب میں دیکھا کہ ایک امام صاحب ہیں جن کے ہاتھ میں ایک پیپر ہے جس سے وہ کچھ پڑھ رہے ہیں۔ اس کے بعد ایک دن ٹی وی پر مختلف چینل بدل کر دیکھ رہی تھی تو ایک چینل پر مجھے وہی امام صاحب نظر آئے جنہیں میں نے خواب میں دیکھا تھا اور وہ حضرت خلیفة المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ تھے۔ کہتے ہیں میرا سلام قبول کریں اور حالات درست ہونے کے لیے دعا کریں۔ اس طرح ان عرب لوگوں کے بھی بہت سارے واقعات ہیں۔ انہوں نے احمدیت میں داخل ہونے کے بعد قبولیت دعا کے مختلف واقعات لکھے ہیں کس طرح ان کو فیض پہنچتا رہا اور اللہ تعالیٰ نے کس طرح ان پرفضل فرمایا کس طرح بعض واقعات ایمان میں پختگی کا باعث بنے۔

رشین ڈیسک ہے۔ رشین زبان میں ترجمہ قرآن کریم کی نظر ثانی کی گئی ہے اور پروف ریڈنگ کے آخری مراحل میں ہے۔ پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب میں سے سرالخلافہ اور برکات الدعا کا رشین ترجمہ ہو چکا ہے۔ دہرائی اور پروف ریڈنگ ہو رہی ہے۔ اسی طرح حقیقة الوحی کا بھی ترجمہ کیا جا رہا ہے۔ تذکرةالشہادتین کا بھی نصف ترجمہ ہو چکا ہے۔ ملفوظات کی تمام جلدوں کا ترجمہ مکمل ہو چکا ہے، دہرائی ہو رہی ہے اور سیرت حضرت اقدس مسیح موعودعلیہ السلام، حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی ہے، دہرائی ہو رہی ہے ترجمہ ہو گیاہے۔ رحمة للعالمین، دنیا کا محسن یہ بھی حضرت مصلح موعودؓ کی ہے یہ بھی ترجمہ ہو گیا ہے۔ پھر میری کچھ چھوٹی چھوٹی کتب ہیں ان کا ترجمہ انہوں نے کیا ہے۔ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب کی کتاب ہمارا خدا اور حیات طیبہ از شیخ صاحب سوداگر مل اس کا بھی ترجمہ ہو گیا ہے۔ اس طرح اَور بہت ساری کتب ہیں جن کا انہوں نے ترجمہ کیا ہے اور رشین ویب سائٹ پہ بھی انہوں نے بہت سارے ترجمے ڈالے ہیں۔ کہتے ہیں دوران سال اس ویب سائٹ کو وزٹ کرنے والوں کی تعداد 11ہزار 200رہی اور یوٹیوب پر راہ ہدیٰ چینل بھی ہے جو بڑی تیزی سے ازبک قوم میں اپنی جگہ بنا رہا ہے۔ اب تک 115 ویڈیوز اس چینل پر اپ لوڈ ہو چکی ہیں۔ 71ہزار مرتبہ دیکھی گئی ہیں۔ کئی سو افراد اس کو سبسکرائب بھی کر رہے ہیں۔ قرغیز سائٹ بھی ہے اس میں ایک لاکھ 98ہزار 715دفعہ یہ ویب سائٹ وزٹ کی گئی اور پیج وزٹس کی تعداد 4لاکھ 32ہزار سے اوپر ہے۔

بنگلہ ڈیسک ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے تبلیغی کام بھی کرر ہے ہیں ایم ٹی اے پر پروگرام بھی دے رہا ہے لٹریچر کا ترجمہ بھی کر رہا ہے قرآن شریف کا ترجمہ بھی انہوں نے کیا ہے اور ایم ٹی اے پر باون گھنٹے کے لائیو بنگلہ پروگرام انہوں نے دیے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتاب گورنمنٹ انگریزی اور جہاد اور ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی کا ترجمہ کیا گیا۔ دس دلائل ہستی باری تعالیٰ حضرت مصلح موعودؓ کی کتاب کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ اسی طرح باقی کتب کا بھی ترجمہ یہ کر رہے ہیں۔ بس ان کو تھوڑی سی اپنی رفتار تیز کرنے کی ضرورت ہے باقی آہستہ آہستہ ان کا کام ہو رہا ہے۔

فرنچ ڈیسک ہے اس میں بھی تحفہ بغداد، سیرة الابدال، احمدی اور غیر احمدی میں فرق، قاعدہ وغیرہ کا ترجمہ ہو گیا ہے۔ بعض کتب پر یہ نظر ثانی کر رہے ہیں اور اس کے علاوہ خطبات کا ترجمہ ہے سوشل میڈیا وغیرہ پربھی ان کے کافی پروگرام آتے رہتے ہیں جس سے اسلام احمدیت کا تعارف دنیامیں ہو رہا ہے۔

ٹرکش ڈیسک ہے ترکی زبان میں تذکرة الشہادتین، احمدی اور غیر احمدی میں فرق، دافع البلاء، حقانی تقریر بر واقعہ وفات بشیر اس کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ اور بہت سارے پروگرام ہیں ایم ٹی اے پر پروگرام بھی انہوں نے پیش کیے۔ خلافت اسلامیہ، خلافت احمدیہ، ختم نبوت وغیرہ پر پروگرام بھی انہوں نے ایم ٹی اے پر پیش کیے۔

چینی ڈیسک ہے یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے ترجمےکے کام کر رہے ہیں اور چودھری ظفر اللہ خان صاحبؓ کی کتاب ’’اسلام میں عورت کا مقام‘‘ کا چینی ترجمہ طبع ہوا ہے۔ اسی طرح ’’مسیح ہندوستان میں‘‘ کا ترجمہ ہورہا ہے ’’دیباچہ تفسیرالقرآن‘‘ پرکام جاری ہے۔ ’’مذہب کے نام پر خون‘‘ اس پر بھی کام ہو رہا ہے اور بہت ساری کتب پہ یہ کام کر رہے ہیں۔

سواحیلی ڈیسک ہے ان کے بھی ایم ٹی اے پر باقاعدہ پروگرام آ رہے ہیں۔ اسی طرح بعض کتب کا یہ ترجمہ بھی کر رہے ہیں۔

انڈونیشین ڈیسک ہے یہ بھی مختلف پروگرام دے رہے ہیں اور کتب کا ترجمہ بھی کر رہے ہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی کتب کا بھی ترجمہ کر رہے ہیں اسی طرح خطبات کا باقاعدہ ترجمہ کرتے ہیں۔

سپینش ڈیسک ہے اس میں بھی اللہ کے فضل سے کام ہو رہا ہے انہوں نے بھی بہت ساری کتب کا سپینش ترجمہ کر دیا ہے۔ ازالہ اوہام، دافع البلاء، ضرورة الامام، تجلیات الٰہیہ، حجة الاسلام اور اس کے علاوہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کتب کا بھی ترجمہ کیا ہے اور شائع بھی ہو گئیں۔ اسی طرح خطبات وغیرہ کا بھی ترجمہ یہ کرتے ہیں۔

فارسی ڈیسک کا بھی قیام کیا گیا ہے اور اس میں بھی اب تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بائیس کتب کا فارسی ترجمہ ہو چکا ہے۔

لیف لیٹس اور فلائرزکی تقسیم کا منصوبہ جو تھا اس سال 107 ممالک میں مجموعی طور پر ایک کروڑ 17لاکھ 14ہزار لیف لیٹس تقسیم ہوئے جس سے ایک کروڑ 80لاکھ 91ہزار سے زائد افراد تک پیغام پہنچا۔ اس میں جرمنی، یوکے، ہالینڈ، آسٹریا، ڈنمارک، سوئٹزرلینڈ، ناروے، سویڈن، پرتگال، فرانس، سپین، بیلجیم، مالٹا، فن لینڈ، چیک ریپبلک، ہنگری، پولینڈ وغیرہ شامل ہیں۔ امریکن بلاک کے ممالک ہیں۔ کینیڈا سب سے اول ہے پھر امریکہ ہے ٹرینی ڈاڈ ہے میکسیکو ہے ہیٹی ہے گوئٹے مالا ہے ڈومینیکن ریپبلک، ارجنٹائن، یوراگوئے، ہنڈورس، بیلیز، پیراگوئے، جمیکا، گیانا، بولیویا۔ پھر آسٹریلیا، نیوزی لینڈ فار ایسٹ کے ممالک ہیں۔ آسٹریلیا، فجی، نیوزی لینڈ، مارشل آئی لینڈ، مائیکرونیشیا۔ افریقہ کے ممالک ہیں برکینا فاسو، بینن، تنزانیہ، کیمرون، مڈغاسکر، کینیا، چاڈ، زیمبیا، نائیجیریا، کونگو برازاویل، کونگو کنشاسا، نائیجر، ماریشس، گھانا، گیمبیا، سیرالیون، مالی، زمبابوے، ٹوگو، لائبیریا، برونڈی، ایکویٹوریل گنی، یوگنڈا، گنی کناکری۔ اس کے علاوہ انڈیا میں بھی تین لاکھ سے اوپر تقسیم ہوا جاپان میں تقسیم کیا گیا بنگلہ دیش میں تقسیم کیا گیا انڈونیشیا میں بھوٹان نیپال وغیرہ میں فلپائن میں یہ ہزاروں میں لیف لیٹس تقسیم ہوئے۔

نائیجیریا کے معلم لکھتے ہیں۔ ہم نے دوسے جماعت کے گردو نواح میں گھر گھر تبلیغ کی۔ پمفلٹ تقسیم کیے۔ ہمارے ایک پمفلٹ کو پڑھ کر ایک دوست اگلے جمعہ ہماری مسجد آئے۔ کہتے ہیں خاکسار اتفاقاً اس دن جماعت کو درپیش مخالفت اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آمد پر لیکچر دے رہا تھا۔ کہتے ہیں اس دن جمعہ کی نماز کے بعد میں نے ان کے مختلف سوالوں کے جواب دیے۔ اس پر اس نے کہا کہ میں اتنی جلدی یہ سب کچھ ماننے کو تیار نہیں۔ اس پر ان سے کہا کہ وہ دو تین سال جماعت کو دیکھیں اور مطالعہ کریں۔ جاتے وقت ان کو ایک کتاب Ahmadiyyat or Qadianism مطالعے کے لیے دی۔ معلم صاحب کہتے ہیں کہ اس رات میں نے دل کی گہرائی سے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ اس بھائی کو ہدایت عطا فرمائے تا کہ یہ لوگوں کی تبلیغ کا ذریعہ بن جائے۔ کہتے ہیں کہ حیرت انگیز طور پر وہ اگلے ہی دن دوبارہ آئے اور آتے ہی جماعت میں شامل ہونے کا ارادہ ظاہر کیا۔ ان سے پوچھا کہ کس بات نے اتنی جلدی احمدیت قبول کرنے پر آمادہ کیا جس پر اس نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ نے اور کتاب کے مطالعےنے میری مدد کی ہے چنانچہ وہ بیعت کر کے جماعت میں شامل ہو گئے۔ ایک ماہ کے اندر ہی جماعت میں فعال ہو گئے جماعت کی بہت ساری کتب کا مطالعہ کر رہے ہیں اور ایک نوجوان نے بھی ان کے ذریعے سے احمدیت قبول کی ہے۔

یوکے میں لیف لیٹ کے ذریعے ایک یہودی پروفیسر کا قبول احمدیت کا واقعہ ہے۔ رپورٹ دینے والے رفیع الدین صاحب کہتے ہیں کیمبرج میں لیف لیٹنگ کرنے کے لیے گیا۔ لیف لیٹنگ سے قبل میں نے دعا کے لیے بھی لکھا (مجھے لکھ رہے ہیں) پھر بارش کا موسم تھا کہتے ہیں بارش میں ایک شاپنگ سینٹر کے باہر لیف لیٹس تقسیم کرنے کے لیے کھڑا ہو گیا۔ کافی دیر وہاں کھڑا رہا کسی نے لیف لیٹ لینے میں دلچسپی کا اظہار نہیں کیا۔ کچھ دیر بعد ایک دوست سوینے (Sweeney) صاحب میرے پاس آئے اور کہنے لگے کہ میں کچھ دیر سے دیکھ رہا ہوں کہ تم بارش اور ٹھنڈ میں کھڑے ہو کر لوگوں کو کچھ دینا چاہ رہے ہو باوجود اس کے کہ لوگ کوئی دلچسپی نہیں دکھا رہے اس پر میں نے انہیں بتایا کہ میں اسلام کا پیغام پھیلا رہا ہوں اور اس کو جماعت کا تعارف کروایا۔ اس پر کہنے لگے کہ میں آپ لوگوں کے متعلق مزید سیکھنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ اس نے میرے سے رابطہ لے لیا۔ کچھ دیر بعد اس سے ملاقات کی، ملاقات کے دوران پتا چلا کہ اس کا تعلق یہودی مذہب سے ہے۔ اکنامکس کے ایک سینئر لیکچررہیں۔ اسلامک فنانس میں ایک لمبا عرصہ کام کیا ہے۔ اس کو سوالات کے جواب دیے گئے۔ رابطہ جاری رہا۔ بعد میں ان کو مبلغین سے بھی ملاقات کروائی گئی۔ اسلامک فنانس میں چونکہ ایک لمبا عرصہ انہوں نے کام کیا ہے اس لیے ان کو اسلام کے بارے میں پہلے بھی دلچسپی تھی۔ ان کو اسلامی اصول کی فلاسفی اور دیگر کتب بھی مطالعےکے لیے دی گئیں۔ ان کو بتایا گیا کہ اگر آپ اللہ تعالیٰ کے حضور سچے دل کے ساتھ دعا کریں تو اللہ تعالیٰ ضرور آپ کی حق کی طرف راہنمائی کرے گا۔ چنانچہ انہوں نے لائیو خطبات بھی سننے شروع کر دیے خط بھی لکھنے شروع کر دیے مجھے اور دعا بھی کی۔ بعض خوابیں دیکھیں۔ ایک خواب میں دیکھا کہ ہر طرف جنگ کا سامان ہے۔ بموںاور گولیوں کی برسات ہو رہی ہے۔ زندگی موت کی جنگ چل رہی ہے اس دوران کہتے ہیں مجھے کہاجاتا ہے کہ جس شخص نے تمہیں اسلام احمدیت کا پیغام دیا ہے اس کے قریب چلے جاؤ اور جس طرف وہ جائے اسی طرف تم چلے جاؤ۔ یہ خواب دیکھ کر تسلی ہو گئی اور انہوں نے ایک سال تک تحقیق کرنے کے بعد پھر بیعت کر لی۔ اور ابھی بھی قائم ہیں۔ بیعت کے بعد کافی مخالفت کا بھی ان کو سامنا کرنا پڑا ہے ان سے گھر والوں نے تعلقات توڑ لیے۔ یونیورسٹیوں میں لیکچر دیتے تھے یونیورسٹیوں نے کانٹریکٹ ختم کر دیے۔ پھر بیمار تھےبیچاروں کو کینسر تھا وہ بھی پھیل گیا بہت سی آزمائشوں سے انہیں گزرنا پڑا لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے یہ شکر گزاری کے جذبات رکھتے رہے اور تبلیغ کا شوق پورا کرتے رہے احمدیت پر قائم رہے۔

ریویو آف ریلیجنز حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اس رسالے کا اجرا فرمایا تھا۔ پہلا شمارہ 1902ء میں شائع ہوا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس رسالے کو 121 سال ہو چکے ہیں۔ اب یہ انگریزی، جرمن، فرنچ اور سپینش زبان میں شائع ہورہاہے اور اس سال دو لاکھ ایک ہزار سے اوپر کی تعداد میں پرنٹ ہوا۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ریویو آف ریلیجنز کو بین الاقوامی پبلشنگ باڈیز اور سینئر میڈیا ڈائریکٹرز ایک انتہائی معتبر اشاعت کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ پروفیشنل پبلشنگ ایسوسی ایشن یوکے میں ایک نیشنل ادارہ ہے جو ملکی سطح پر پبلشرز کی نمائندگی کا جائزہ لیتا ہے اور یوکے حکومت کے ساتھ ساتھ دیگر اداروں کے ساتھ بھی مل کر کام کرتا ہے۔ اس نے اپنی کئی نیشنل کمیٹیوں یا پینلز میں ریویو آف ریلیجنز کو شامل کیا ہے۔ ریویو آف ریلیجنز کو نیشنل ایوارڈز کے لیے بطور جج منتخب کیا گیا تا کہ نیشنل سطح پر میگزینز میں بہترین مصنفین اور ایڈیٹرز کا انتخاب کیاجا سکے۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کا بہت زیادہ ایکسپوژر (exposure) دنیا میں اب ہو رہا ہے علاوہ اس کے کہ جماعت کے افراد بھی پڑھ رہے ہیں۔

الفضل انٹرنیشنل ہے اس کا اجرا 1994ء میں ہفت روزہ کی شکل میں یہاں سے ہوا تھا۔ پھر اس کے بعد 2019ء میں اس کو مَیں نے ہفتے میں دو شمارے کر دیا تھا۔ اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے روزنامہ ہو چکا ہے اور اس میں اب ہر ماہ پہلے اور تیسرے اتوار کو بچوں کا الفضل بھی شائع ہوتا ہے۔ خصوصی نمبر سمیت اس کے 149 شمارے شائع ہوئے۔ پاکستان میں الفضل کی ویب سائٹ پر پابندی عائد کی گئی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے فضل سے دوران سال ویب سائٹ، ٹوئٹراور فیس بک وغیرہ کے ذریعے 7کروڑ 26لاکھ سے زائدلوگوں تک پیغام پہنچا۔

الحکم ہفت روزہ ہے۔ یہ بھی آن لائن اور طبع شدہ حالت میں پہنچتا رہتا ہے۔ مختلف لائبریریوں میں جاتا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کی اشاعت میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

انٹرنیشنل ٹرانسلیشن اینڈ ریسرچ آفس ہے۔ اس شعبہ کے تحت جو کام ہوئے ہیں صحیح بخاری کی شرح حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحبؓ کا انگریزی ترجمہ جاری ہے اور فقہ المسیح کا ترجمہ مکمل ہو چکا ہے۔ مجموعہ اشتہارات جلد اول کا انگریزی ترجمہ مکمل ہو چکا ہے۔ حمامة البشریٰ کا ترجمہ کیا جا رہا ہے۔ قول الصریح کا انگریزی ترجمہ ہو رہا ہے اور فائیو والیم کمنٹری کا انگریزی سے عربی میں ترجمہ کیا گیا تھا اس ترجمےکی چیکنگ اور پروف ریڈنگ کی جا رہی ہے۔ اسی طرح بدری صحابہؓ اور خلفائے راشدین پر جو میرے خطبات ہیں ان کا مجموعہ تیار کر کے ان کو بھی ترجمہ کیا جا رہا ہے۔ اسی طرح اور بہت ساری کتب ہیں جن کا ترجمہ یہ کررہے ہیں۔

مخزن تصاویرہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچھا کام کر رہا ہے۔ اب تک ان کے ریکارڈ میں 13لاکھ 30ہزار سے اوپر تصاویر ہیں اور ویب سائٹ پر آٹھ سو تصاویر کا اس دفعہ اضافہ کیا ہے سوشل میڈیا پر آتی ہیں۔

تحریک وقف نو ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس وقت دنیا بھر میں واقفین نو کی کل تعداد 80 ہزار چھ سوہے جس میں 47ہزار 222لڑکے اور 33ہزار 378لڑکیاں ہیں۔ اس سال نئی درخواستیں جن پر والدین کو ابتدائی منظوری بھجوائی گئی ہے ان کی تعداد 3ہزار688ہے اور حتمی طورپر جن کے فیصلے ہو چکے ہیں وہ دو ہزار چھ سوہے۔ ان میں پندرہ سال سے زائد عمر کے واقفین نو کی تعداد 39ہزار سے اوپر ہے جن میں 24ہزار لڑکے اور 14ہزار لڑکیاں ہیں۔ پاکستان میں 35ہزار واقفین نو ہیں پھر جرمنی ہے پھر یوکے ہے پھر انڈیا ہے کینیڈا وغیرہ ہیں افریقن ممالک میں واقفین نو میں شامل ہونے کے لحاظ سے گھانا سرفہرست ہے جہاں واقفین کی تعداد 1780ہے۔ ان میں 959لڑکے اور 821لڑکیاں ہیں۔ اسی طرح یونیورسٹی اور کالج جانے والے بھی ہیں اور بعض کاموں پہ بھی لگ گئے ہیں بعض واقفین نو اپنی پروفیشنل زندگی میں آ کے جماعتی کام بھی کر رہے ہیں۔

احمدیہ آرکائیوز اینڈ ریسرچ سینٹر ہے تبرکات حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفاء کو محفوظ کرنے کا کام ان کے سپرد ہے۔ حضرت خلیفة المسیح الاولؓ سے متعلق ڈوگرہ راج کے زمانے کے شاہی دستاویزات جموں سے حاصل کیے گئے اور محفوظ کیے گئے۔ بہت سے پرانے اخبارات حضرت مصلح موعودؓ کی پرانی تصاویر اور مواد حاصل کیا گیا، محفوظ کیا گیا۔ مختلف یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے محققین کو آرکائیوز کا تعارف کروایاگیا، انہیں جماعت پر تحقیق پر آمادہ کیا گیا۔ اسی طرح بعض اَور کام یہ کر رہے ہیں۔ پھر

مرکزی شعبہ آئی ٹی ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے بہت اچھا کام کر رہا ہے۔ اب انہوں نے غلام قادر شہید آئی ٹی ریسرچ لیب افریقہ میں گھانا اور نائیجیریا میں قائم کی ہے۔ اسی طرح یہ مختلف شعبہ جات کو راہنمائی بھی کرتے رہتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچھا کام کر رہے ہیں۔

پریس اینڈ میڈیا آفس ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب کافی اچھا کام کر رہا ہے اور دنیا کے مختلف ٹی وی چینلز اور ریڈیو سے ان کا رابطہ ہے اور جماعت کے بارے میں خبریں بھی شائع ہوتی رہتی ہیں یا چینلز پر دکھائی جاتی ہیں۔ دورانِ سال کئی یونیورسٹیز اور سکولز کا وزٹ کیا گیا۔ اسلام پر چھ لیکچر بھی ان کے سٹاف نے دیے۔ مختلف ممالک کے میڈیا کی راہنمائی بھی یہ لوگ کرتے رہتے ہیں۔

الاسلام ویب سائٹ ہے۔ اس ویب سائٹ پر ملفوظات اور تفسیر کبیر کے جدید کمپیوٹرائزڈ ایڈیشن کا اضافہ کیا گیا۔ آن لائن قرآن اور موبائل appsمیں خطِ منظور کا اضافہ ہوا۔ آن لائن قرآن میں انگریزی اردو لفظی ترجمہ شامل کیا گیا۔ صحیح بخاری اور عربی تفسیر کبیر شامل کی گئی۔ ہر آیت کے ساتھ متعلقہ ترجمة القرآن کلاس کا ویڈیو لنک شامل کر دیا گیا ہے۔ میانمر زبان میں ترجمہ قرآن کا اضافہ کیا گیا ہے۔ موبائل app میں تفسیر صغیر، شارٹ کمنٹری، فائیو والیم کمنڑی کا اضافہ کیا گیا۔ Open Quran سرچ انجن میں Lane Lexiconاور لفظی ترجمےکا اضافہ کیا گیا۔ براہین احمدیہ سمیت اٹھاون نئی انگریزی کتب ایپل،گوگل،ایمازون پر شائع کی گئیں، اب تک کل ایک سوپچاس کتب شائع کی جا چکی ہیں۔ کل تین سو چھپن انگریزی اور ایک ہزار اردو کتب ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔ میرے خطبات جمعہ جو ہیں بیس زبانوں میں آڈیو اور ویڈیو میں دستیاب ہیں۔ تقاریر اور کتب اور پریس ریلیز وغیرہ بھی دستیاب ہیں۔ اکثر والنٹیئرز ہیں جو بڑا اچھا کام کر رہے ہیں سٹاف میں تو شاید ایک ان کا مربی ہے۔

ایم ٹی اے انٹرنیشنل ہے اس کےمینیجمنٹ بورڈ میں اس وقت کل سولہ ڈیپارٹمنٹ ہیں۔ کل 506کارکنان اس میں اب کام کررہے ہیں۔ طوعی طور پر 279مرد اور 154خواتین ہیں جبکہ 79 باقاعدہ جماعتی payroll پہ ہیں، الاؤنس لے رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے دنیا کے مختلف علاقوں کے لیے ایم ٹی اے کے آٹھ چینلز چوبیس گھنٹے کی نشریات پیش کر رہے ہیں۔

ان چینلز پر اس وقت تیئس مختلف زبانوں میں رواں ترجمے نشر کیے جا رہے ہیں۔ جن میں انگریزی، عربی، فرانسیسی، جرمن، بنگلہ، سواحیلی، افریقن انگریزی، انڈونیشین، ترکی، بلغارین، سپینش، بوسنین، ڈچ، جاپانی، ملیالم، تامل، روسی، پشتو، فارسی، سندھی، چوئی، یوروبا اور ہاؤسا زبانیں شامل ہیں۔ دوران سال ایم ٹی اے ایشیا کے دو چینلز ایم ٹی اے 6ایشیا اور ایم ٹی اے 7ایشیا کی سٹریمنگ سروس کا آغاز کیا گیا۔ اب دنیا بھر میں یہ چینلز چوبیس گھنٹے آن لائن میسر ہیں۔ ایم ٹی اے 6ایشیا پر فار ایسٹ انڈونیشیا، جاپان، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ اور روس کے ممالک کے لیے پروگرام نشر کیے جاتے ہیں جبکہ ایم ٹی اے 7ایشیا پر پاکستان، ہندوستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور نیپال کے لیے ان ممالک کی علاقائی زبانوں میں پروگرام پیش کیے جا رہے ہیں۔

دوران سال نائیجیریا اور سیرالیون میں ایم ٹی اے کے دو نئے سٹوڈیوز کا آغاز ہوا اس کے علاوہ انڈونیشیا میں جدید سہولتوں سے مزین تین منزلہ نئے سٹوڈیوز نے کام شروع کر دیا ہے۔ اب یہاں انڈونیشین زبان میں معیاری پروگرام تیار کیے جار ہے ہیں۔ یوکے اور یورپ میں سکائی پلیٹ فارم پر ایم ٹی اے کی ہائی ڈیفینیشن HD نشریات کی ٹیسٹ ٹرانسمشن جاری تھیں اب باقاعدہ طور پر HDنشریات کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ افریقہ میں ایم ٹی اے کی بیرونی براڈکاسٹ کے لیے ٹریننگ کی سہولیات بھی ہیں۔ گذشتہ سال سے افریقہ کے مختلف میڈیا اور تنظیموں اور براڈ کاسٹرزکی خواہش پر ایم ٹی اے ان کو تربیت فراہم کر رہا ہے۔ یہ سلسلہ دوران سال بھی جاری رہا۔ اس کے علاوہ دیگر کئی ادارے اپنے عملہ کو ٹریننگ کے لیے ہمارے سٹوڈیو بھجواتے ہیں۔ اس ٹریننگ پروگرام کے ذریعے ایم ٹی اے کو افریقہ کی میڈیا تنظیموں اور براڈ کاسٹرزکے مابین ایک خصوصی مقام حاصل ہوا ہے۔

افریقہ کے مختلف ممالک کے نیشنل چینلز پر ایم ٹی اے کے پروگرامز پیش کیے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ ان کے ذریعے اسلامی تعلیم اور جماعت کی عالمی خدمات پر روشنی ڈالی جاتی ہے۔ دوران سال گیمبیا کے مختلف لوکل ٹی وی چینلز پر 78ہزار گھنٹے سے زائد دورانیہ کے 15ہزار 373پروگراموں کے ذریعے اسلام احمدیت کا پیغام پہنچایا گیا۔ ایم ٹی اے افریقہ مختلف زبانوں میں چل رہا ہے اور ایم ٹی اے افریقہ کی برانچز کی تعداد بھی اب بارہ ہو چکی ہے۔ یہ برانچز غانا، گیمبیا، مالی، آئیوری کوسٹ، کینیا، تنزانیہ، یوگنڈا، مایوٹ آئی لینڈ، روانڈا، نائیجیریا، بینن، سیرالیون اور ماریشس میں ہیں اور ان میں بعض جگہوں پر نئے سٹوڈیو بھی قائم ہو رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچھا کام ہو رہا ہے۔

ایم ٹی اے  کے ذریعے سے بیعتیں بھی ہوتی ہیں۔ امیر صاحب فرانس لکھتے ہیں کہ سٹراس برگ میں ایک مقامی فرانسیسی دوست نے اسلام قبول کیا۔ اس نے جماعت احمدیہ کے بارےمیں یوٹیوب پر ایم ٹی اے فرانسیسی نشریات میں سے ایک پروگرام کے ذریعے پتا لگایا۔ دس سال تک یہ صاحب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی زندگی کے بارے میں مسلمانوں کے عقیدے پر شک میں رہا چنانچہ جیسے ہی اسے ایم ٹی اے چینل کا پتا چلا اس کے دل نے سچائی کو قبول کر لیا۔ بیعت کرنے کے بعد اس نے اپنے ارد گرد تبلیغ شروع کر دی اور اس کی تبلیغ سے نومبر 2022ء کو اس کی اہلیہ اور بڑے بیٹے نے بھی احمدیت قبول کر لی۔

کیمرون کے ایک دور دراز گاؤں کے رہنے والے ڈیگا سلمان صاحب نے بیان کیا کہ میں کیبل کے ذریعے ایم ٹی اےالعربیہ دیکھتا رہتا ہوں۔ میں سیکنڈری سکول میں ٹیچر ہوں۔ گذشتہ سال یوکے کا سارا جلسہ میں نے ایم ٹی اے کے ذریعے سے دیکھا۔ دوسرے روز غیر مسلم مہمانوں کے جماعت کے متعلق تبصرے سن کر مجھے بہت خوشی ہوئی کہ جماعت احمدیہ دنیا میں صحیح اسلامی تعلیم پیش کر رہی ہے۔ تیسرے دن میرے لیے مزید دلچسپی کا باعث ہوا کہ میں نے دیکھا کہ امام جماعت احمدیہ اپنے پیروکاروں سے بیعت لے رہے ہیں اور ساری دنیا سے لوگ اس میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس نظارے نے مجھے یاد کرایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی حکم تھا کہ لوگوں سے بیعت لیں اور آپ مسلمان ہونے والوں سے بیعت لیا کرتے تھے چنانچہ اسی وقت میں کیبل آفس گیا اور وہاں سے جماعت کا رابطہ نمبر لیا جو معلم ابوبکر صاحب کا تھا۔ اس طرح میرا جماعت سے رابطہ ہوا اور میں نے مزید معلومات لیں۔ دل کی تسلی ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے خاکسار کو فیملی کے ساتھ جماعت میں شامل ہونے کی توفیق عطا فرمائی۔

فرنچ نژاد ایک دوست سلیم صاحب ہیں۔ انہیں سٹراس برگ میں مسجد کے بارے میں پتا لگا انہوں نے اپنے دوستوں سے رائے طلب کی تو انہوں نے کہا کہ یہ لوگ مسلمان نہیں ہیں ان سے بچ کےرہنا۔ موصوف نے ایم ٹی اے پر پروگرام دیکھا تھا ان پر اس کاگہرا اثر ہوا تھا چنانچہ انہوں نے دوستوں کی بات نہیں مانی تجسس تھا۔ کہنے لگے کہ باوجود اس کے کہ لوگوں نے روکا تھا نماز جمعہ پر انہوں نے ہماری مسجد میں آنا شروع کر دیا۔ چنانچہ ان کے ساتھ تبلیغ شروع ہوئی سوال و جواب ہوتے رہے۔ انہوں نے جماعت احمدیہ کی تعلیمات سے اتفاق کرتے ہوئے بیعت کر لی۔ احمدیت کے بعد بتایا کہ میں سترہ سال پہلے عیسائیت سے اسلام میں داخل ہوا تھا۔ مجھے اسلام کی تمام تعلیمات سے اتفاق تھا صرف حیات مسیحؑ کے عقیدے پر کچھ تحفظات تھے۔ ان سوالات کو لے کر میں تمام مسلمانوں کے فرقوں کے پاس گیا لیکن کوئی بھی مجھے تسلی بخش جواب نہیںدے سکا۔ میں اس عقیدہ کی وجہ سے بہت پریشان رہتا تھا لیکن مجھے جماعت احمدیہ میں اس کا جواب مل گیا جب میں نے ایم ٹی اے پر وفات مسیح پر مبنی پروگرام دیکھے اور مسجد آ کر سوالات کرنے کا موقع ملا تو میرے دل کو تسلی ہوئی کہ یہی اسلام کی حقیقی تعلیمات ہیں اور پھر انہوں نے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیعت کر لی۔

احمدیہ ریڈیوسٹیشنز جماعت احمدیہ کے اپنے ریڈیو سٹیشنز کی تعداد اس وقت 25ہے۔ مالی میں 15، برکینا فاسو میں، سیرالیون میں، تنزانیہ، گیمبیا، کونگو کنشاسا اور اس کے ذریعے سے بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے پیغام پہنچ رہا ہے اور دنیا میں ہزاروں لاکھوں لوگ اس کے ذریعے سے اسلام اور احمدیت کا پیغام سن رہے ہیں۔ جرمنی میں تین ریڈیو سٹیشنز کا قیام ہو چکا ہے۔

عربی ریڈیو سٹیشن کا نام ’’الاحمدیہ صوت الاسلام‘‘ ہے۔ ترک ریڈیو سٹیشن کا نام ’’صدائے اسلام احمدیت‘‘ ہے۔ جرمن ریڈیو سٹیشن کا ’’وائس آف اسلام‘‘ ہے۔ دوران سال ان تینوں ریڈیو سٹیشنز پر 778 گھنٹے کے مختلف پروگرام ہوئے۔ ’’وائس آف اسلام، یوکے‘‘ یہ سب سے پہلے یہاں یورپ میں شروع ہوا تھا۔ اس یوکے ریڈیو کی توسیع ہوئی ہے اور دوران سال یوکے کے مزید تین شہروں کارڈف لیڈز اور کوونٹری میں وائس آف اسلام کی کوریج شروع کی گئی ہے۔ اس طرح اب یہ نشریات نو شہروں میں سنی جا سکتی ہیں۔ قبل ازیں لندن، بریڈ فورڈ، ایڈنبرا ،لنڈنڈیری، مانچسٹر اور گلاسگو میں نشریات جاری تھیں۔ یوکے کے ادارہ Ofcomکے مطابق اس کی کوریج 5.8ملین گھرانوں اور اندازاً پندرہ ملین افراد تک ہے۔ وائس آف اسلام بہت مقبول ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ کے فضل سے۔ اور اسلامی تعلیم کا بھی لوگوں کو پتہ لگ رہا ہے۔

احمدیہ ریڈیو کے ذریعے سے اللہ تعالیٰ کے فضل سے بیعتیں بھی ہو رہی ہیں، افریقہ میں بھی اور اَور جگہوں پر بھی۔ اس کے ذریعے سے خود لوگوں میں اور احمدیوں میں بھی نمایاں تبدیلیاں پیدا ہو رہی ہیں۔ مثلاً

سینٹرل افریقہ کے ایک مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک روز ہمارے مبلغ نے ریڈیو پر حقوق العباد کے موضوع پر پروگرام کیا اور میاں بیوی کے حقوق بیان کیے۔ ایک عیسائی فیملی اس پروگرام کو سن رہی تھی۔ اس فیملی نے کچھ عرصےبعد مبلغ سلسلہ کو فون کیا اور کہا کہ آپ نے میاں بیوی کے جو حقوق اسلام کی رو سے بیان کیے تھے اس کے بعد ہمارے گھر میں اب کوئی لڑائی جھگڑا نہیں ہوتا۔ اس سے پہلے ہمارا گھر جہنم بنا ہوا تھا۔ ہم آپ کا ریڈیو پروگرام مستقل سنتے ہیں۔ ہم جماعت احمدیہ کا شکریہ ادا کرتے ہیں کہ آپ کے پروگرام نے ہمارے درمیان صلح کروا دی۔

صرف اپنوں پر اثر نہیں ہو رہا بلکہ غیر بھی اس سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ اب احمدیوں کو سوچنا چاہیے کہ ان کو کس قدر فائدہ اٹھانا چاہیےاور اپنے گھروں کو جنت نظیر بنانا چاہیے۔

اخبارات میں جماعتی خبروں اور مضامین کی تعداد کے بارے میں لکھا ہے کہ 67ممالک سے جو رپورٹیں آئی ہیں ان میں دو ہزار 900 اخبارات اور رسائل نے 1494جماعتی مضامین آرٹیکل اور خبریں شائع کی ہیں اور ان کے پڑھنے والوں کی تعداد 22کروڑ 57لاکھ 68ہزارہے۔

ایم ٹی اے انٹرنیشنل کی چوبیس گھنٹے کی نشریات کے علاوہ ستر ممالک میں ٹی وی اور ریڈیو چینلز پر بھی جماعت کو اسلام کا پرامن پیغام پہنچانے کی توفیق مل رہی ہے۔ اس سال تین ہزار 266ٹی وی پروگراموں کے ذریعے دو ہزار 848گھنٹے وقت ملا۔ اسی طرح ریڈیو کے ذریعے سے وقت ملا۔

انٹرنیشنل ایسوسی ایشن آف احمدیہ آرکیٹکٹس یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے اچھا کام کر رہے ہیں۔

مرکزی شعبہ اے ایم جے کے تحت بھی کام ہو رہا ہے۔ ان کے بھی آرکیٹکٹ جو ہیں وہ مختلف ملکوں میں جا کر جماعتی عمارات کے نقشے وغیرہ بناتے ہیں ان کی راہنمائی کرتے ہیں۔

سینٹرل لیگل ڈیپارٹمنٹ ہے۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کے فضل سے قانونی مشورے دیتاہے، اچھے کام کر رہا ہے۔

مجلس نصرت جہاں ہے۔ اس کے تحت افریقہ کے 13ممالک میں 37ہسپتال اور کلینک قائم ہیں۔ ان میں 42مرکزی ڈاکٹرز، 37لوکل اور 8وزٹنگ ڈاکٹرز خدمت میں مصروف ہیں۔ گذشتہ سال پانچ لاکھ سے زائد مریضوں کو علاج معالجہ کی سہولت مہیا کی گئی۔ لائبیریا میں ایک کلینک کاکاٹا کے مقام پر زیر کارروائی ہے۔ افریقہ کے بارہ ممالک میں ہمارے 616 پرائمری اور مڈل سکولز اور دس ممالک میں 80سیکنڈری سکولز کام کر رہے ہیں جن میں 18مرکزی اساتذہ خدمت کر رہے ہیں۔ یہاں بھی نصرت جہاں بورڈ یوکے میں بنایا گیا تھا اس میں مختلف ممبران ہیں۔ یہ بھی ہسپتالوں اور سکولوں وغیرہ کے لیے پروگرام بناتے ہیں، ان کی مدد کرنے میں کافی اچھا کردار ادا کررہے ہیں۔ ہمارے ان ہسپتالوں کے ذریعے سے نادار لوگوں کے آنکھوں کےفری آپریشن ہوئے۔ اب تک اس پروگرام کے ذریعے 20ہزار سے زائد افراد کے فری آپریشن ہو چکے ہیں۔ فری میڈیکل کیمپس لگائے جاتے ہیں۔ 37ممالک میں 776 فری میڈیکل کیمپ لگائے گئے۔ دو لاکھ دو ہزار سے اوپر مریضوں کو مفت دوائیاں تقسیم کی گئیں۔ اس میں بہت سارے افریقہ کے ممالک ہیں۔

خون کے عطیات کے ذریعے سے بھی ضرورتمندوں کو مفت خون مہیا کیا جاتا ہے۔ ہیومینٹی فرسٹ کے ذریعے سے بھی انسانیت کی خدمت کی جا رہی ہے۔ 64ممالک میں ہیومینٹی فرسٹ رجسٹرڈ ہو چکی ہے۔ اس کے تحت بھی اب ہسپتال وغیرہ نے باقاعدہ کام شروع کر دیے ہیں۔ صرف ہنگامی مدد نہیں بلکہ مستقل بنیادوں پر بھی یہ کام کر رہے ہیں۔ چیریٹی واک کے ذریعے سے ان کے لیے رقمیں بھی اکٹھی کی جاتی ہیں۔ قیدیوں سے رابطہ اور ان کی خبر گیری کا بھی انتظام ہے۔ مجموعی طور پر 14ہزار 586 قیدیوں سے رابطہ کیا گیا اور ان کی ضروریات پوری کی گئیں۔ 11ممالک میں 21قیدیوں نے احمدیت میں داخل ہونے کی توفیق پائی اور اس طرح ان سے بھی رابطے کیے جارہے ہیں ان کو بھی اسلام کی تعلیم کے متعلق بتایا جا رہا ہے۔

نومبائعین سے رابطےکی بحالی کی رپورٹ یہ ہے کہ کیمرون نے 12ہزار 437 نومبائعین سے رابطہ کیا۔ سینیگال نے 8ہزار 760، نائیجر میں 5 ہزار 74، کونگو کنشاسا میں 2ہزار 900، برکینا فاسو میں 2 ہزار 300، بینن میں 2 ہزار 200، تنزانیہ میں دوران سال ایک ہزار 900 نومبائعین سے رابطہ ہوا۔ آئیوری کوسٹ میں پھر نائیجیریا، سیرالیون، کینیا، گنی بساؤ، مڈغاسکر، کونگو برازاویل، گنی کناکری، لائبیریا وغیرہ گھانا، یوگنڈا، گیمبیا۔ ایشیا میں بنگلہ دیش، ہندوستان، انڈونیشیا اور ملائیشیا میں نومبائعین سے رابطے ہوئے۔ یوکے میں بھی ایک سو اکسٹھ 161 نومبائعین سے رابطہ ہوا اور اللہ کے فضل سے دوبارہ ان کو جماعتی نظام کا حصہ بنایا گیا۔ نومبائعین کے لیے تربیتی کلاسز اور ریفریشرکورسز بھی منعقد کیے گئے۔

اکانوے ممالک سے موصولہ رپورٹ کے مطابق دوران سال 41ہزار 177 تربیتی کلاسز اور تعلیمی کلاسز اور ریفریشر کورسز کا انعقاد ہوا اور ایک لاکھ 10ہزار سے زائد شاملین تھے اور کلاسز میں ایک ہزار 246 اماموں کو ٹریننگ دی گئی۔

اس سال اللہ تعالیٰ کے فضل سے جو اللہ تعالیٰ نے جماعت احمدیہ کو پھل عطا فرمائے ہیں جو بیعتیں عطا فرمائی ہیں ان کی تعداد 2لاکھ 17ہزار 168ہے۔ گذشتہ سال کی نسبت 40ہزار 323 کا اضافہ ہے۔ 114ممالک سے 430 سے زائد اقوام کے لوگ جماعت میں داخل ہوئے۔ نائیجیریا میں سب سے زیادہ بیعتیں ہیں اکتالیس ہزار، گنی کناکری ہے، پھر کونگو برازاویل ہے، گنی بساؤ ہے، پھر کیمرون ہے، سینیگال ہے، تنزانیہ ہے، لائبیریا کونگو کنشاسا، سیرالیون، ٹوگو، گیمبیا، گھانا۔

پھر برکینا فاسو میں بیعتیں ہیں، مالی، نائیجر، بینن،آئیوری کوسٹ، سینٹرل افریقن ریپبلک، روانڈا، چاڈ، کینیا، یوگنڈا، برونڈی، زمبابوے، ساؤ تومے، مڈغاسکر۔ اس کے علاوہ جو ممالک ہیں ملاوی، زیمبیا، صومالیہ، الجیریا، ایکویٹوریل گنی، ایتھوپیا، ماریشس، مصر، گبون، لیسوتھو، موریطانیہ، ساؤتھ افریقہ، سوازی لینڈ، مراکش، کوموروس آئی لینڈ، ری یونین آئی لینڈ، کیپ ورڈے آئی لینڈ یہاں بھی بیعتیں ہوئی ہیں، انڈونیشا، انڈیا، بنگلہ دیش، فلپائن، ملائیشیا، نیپال، قرغیزستان، ترکی، قازقستان، کمبوڈیا، سری لنکا، کبابیر پھر اس کے علاوہ تھائی لینڈ، بھوٹان، چائنا، جاپان، رشیا، میانمار یہاں بیعتیں ہوئی ہیں۔ یوکے میں بھی اس سال 153 کے قریب بیعتیں ہوئی ہیں۔ پھر جرمنی ہے، سوئٹزر لینڈ، فرانس، سپین، ناروے، بیلجیم، آئرلینڈ، البانیہ، آسٹریا، آذربائیجان، بلغاریہ، ڈنمارک، فن لینڈ، یونان، اٹلی، کوسووو، ہالینڈ، پرتگال، سلووینیا، نارتھ امریکہ میں کینیڈا میں دوران سال اٹھاسی بیعتیں ہیں۔ ہیٹی پھر امریکہ، ڈومینیکن ریپبلک، بیلیز، جمیکا، ہنڈورس، گوئٹے مالا، ٹرینی ڈاڈ ٹوباگو، میکسیکو، کیمن آئی لینڈ، پھر ساؤتھ امریکن بلاک میں پیراگوئے، گیانا، بولیویا، فرنچ گیانا، پیرو، پانامہ، برازیل، ارجنٹائن، کولمبیا، سورینام، وینزویلا۔ فجی، آسٹریلیا، نیوزی لینڈ، مارشل آئی لینڈ، مائیکرونیشیا، گوام اور اس طرح بہت سارے تقریباً دنیا کے ہر ملک میں اللہ تعالیٰ نے بیعتیں عطافرمائی ہیں۔ ان شاء اللہ تعالیٰ کل عالمی بیعت میں اس کا مزید ذکر ہو گا۔

اس کے بہت سارے واقعات بھی ہیں۔ بیان کرنا تو مشکل ہے۔امیر صاحب تنزانیہ لکھتے ہیں۔ ڈوڈوما ریجن کے ایک گاؤں سے عبداللہ صاحب ہماری مسجد آئے اور جماعت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ انہوں نے بتایا کہ وہ پہلے بھی اس مسجد کے سامنے سے گزرے ہیں لیکن کبھی اندر آنے کا اتفاق نہیں ہوا۔ آج ان کے دل میں ڈالا گیا کہ وہ مسجد کے اندر آئیں، وہاں موجود مبلغ اور معلمین نے انہیں تفصیل سے جماعت کے عقائد کا تعارف کروایا، سوالات کے جوابات دیے۔ اس کے بعد بھی متعدد بار مسجد آتے رہے اور اپنے علماء کی طرف سے جماعت پرہونے والے اعتراضات کے جوابات حاصل کرتے رہے۔ جب ان کو تسلی ہو گئی کہ جماعت احمدیہ سچی ہے تو انہوں نے بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیارکر لی اور اپنے علاقے میں بھی تبلیغ شروع کر دی۔ بیعت کرنے سے قبل اس علاقے میں غیر از جماعت مسلمانوں کی مسجد بن رہی تھی۔ عبداللہ صاحب اس کے چندے کے محصل تھے اس وجہ سے پہلے ہی اہل علاقہ میں ان کی نیکی اور شرافت مشہور تھی۔ انہوں نے ہمارے مبلغ کو وہاں تبلیغ کرنے کی دعوت دی اور لوگوں کو اکٹھا کیا۔ ان لوگوں کے ساتھ غیر از جماعت عالم بھی موجود تھے۔ گفتگو کے دوران غیر از جماعت عالم نے کہا میرے پاس تو احمدیوں کی باتوں کا کوئی جواب نہیں ہے۔ ہر کسی کو اپنا فیصلہ کرنے کا اختیار ہے۔ اس پر وہاں موجود انتالیس احباب نے بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کرلی۔ کم از کم مولوی وہاں کے اتنے ایماندار ہیں کہ جو حقیقت کا اظہار ہے وہ کر دیتے ہیں۔ پاکستانی مولویوں کی طرح نہیں ہیں۔

اسی طرح مائیکرو نیشیا میں بھی، کانگو برازاویل میں مختلف جگہوں پر بےشمار واقعات ہیں بیان کرنا تو اس وقت مشکل ہے۔

کانگو برازاویل میں پگمیز (Pygmies) بھی رہتے ہیں۔ وہاں معلم صاحب کہتے ہیں ہم پگمیز کے ایک گاؤں اوندابا میں تبلیغ کی غرض سے گئے لیکن گاؤں والوں نے ہمارے ساتھ تعاون نہ کیا۔ صرف ایک عورت کو ہم نے تبلیغ کی اور وہاںسے پھر دوسرے گاؤں چلے گئے۔ کچھ دنوں کے بعد ایک پرانی جماعت سے ایک لڑکا ہمارے پاس آیا جس کا تعلق بھی پگمیز کے خاندان سے ہے۔ اس نے کہا کہ ہمیں پتہ چلا کہ آپ ہمارے خاندان کے دوسرے افراد کو تبلیغ کرنے کی غرض سے گئے تھے لیکن انہوں نے آپ سے تعاون نہیں کیا تو ہم آپ سے اس پر معافی مانگنے آئے ہیں۔ ہم نے ان کو سمجھا دیا ہے کہ جب بھی جماعت احمدیہ کے مشنری آپ کے پاس آئیں تو آپ نے ان کی بات غور سے سننی ہے کیونکہ احمدی ہی تو ہیں جو ہماری بات کو سنتے ہیں اور ہماری تکالیف کا خیال رکھتے ہیں۔ جتنا پیار محبت ہمیں ان سے ملا ہے کسی سے آج تک نہیں ملا۔ چنانچہ جب دوسری دفعہ ہم وہاں پر گئے تو سارا گاؤں اکٹھا ہو گیا اور تبلیغ اور مجالس سوال و جواب کے بعد تیئس افراد نے بیعت کر کے جماعت میں شمولیت اختیار کرلی اور پھر یہ لوگ ہمیں اپنے خاندانوں کے دوسرے دیہات میں تبلیغ کی غرض سے ساتھ لے کر گئے اور اللہ کے فضل سے اب تک 27دیہات میں 462بیعتیں ہو چکی ہیں۔

خوابوں کے ذریعے سے بھی اللہ تعالیٰ راہنمائی کرتا رہتا ہے۔ اس میں بھی بے شمار لوگوں کے واقعات ہیں جن کا بیان کرنا تو مشکل ہے۔

مالی سے مبلغ لکھتے ہیں سکاسو ریجن کا ایک واقعہ ہے۔ ایک مشن ہاؤس میں ابوبکر صاحب بیعت کرنے کے لیے آئے۔ کہنے لگے کہ وہ ریڈیو احمدیہ سنا کرتے تھے لیکن کبھی بیعت کرنے کی جانب دل مائل نہیں ہوتا تھا۔ کہتے ہیں کل رات میں نے خواب میں د یکھا کہ ایک سفید گھوڑا آسمان کی بلندیوں میں اڑ رہا ہے جس پر ایک نہایت خوش لباس بزرگ سوار ہیں جنہوں نے عمامہ پہنا ہوا ہے اور آسمان سے آواز آ رہی ہے کہ یہی اس زمانے کےامام ہیں ان کی بیعت کرو۔ اس کے بعد ان کی آنکھ کھل گئی اور دل مطمئن تھا۔ جب انہیں حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی تصویر دکھائی گئی تو کہنے لگے کہ بالکل کل رات اسی بزرگ کو انہوں نے خواب میں دیکھا تھا۔ چنانچہ وہ بیعت کر کے جماعت میں داخل ہو گئے۔

کانگو کنشاسا سلمان فانی صاحب لوکل مشنری ہیں، کہتے ہیں باندوندو شہر میں ایک کلاریس نامی بیوہ خاتون ہے جس کے شوہر کی وفات کو پانچ برس ہو چکے ہیں۔ کہتی ہے کہ بار بار ان کے مرحوم خاوند اس کو خواب میں آ کر تلقین کرتے تھے کہ اسلام قبول کر لو اس کے ساتھ ساتھ وہ خواب میں ایک بزرگ کی زیارت بھی کرتی۔ چنانچہ ایک دن مشن ہاؤس آئی اور دیوار پر لگی ہوئی میری تصویر جب انہوں نے دیکھی تو کہنے لگی کہ یہی تو تھے جن کو میں خواب میں دیکھتی تھی اس کے بعد اس خاتون نے بیعت کر لی۔

لائبیریا کے ایک نومبائع تھامس شریف صاحب کہتے ہیں ایک روز خواب دیکھا کہ ایک شخص میرے پاس آیا اور کہنے لگا آؤ اور نبی کو دیکھو۔ میں نے اس شخص سے کہا کہ میرے استاد نے مجھے بتایا ہے کہ اب کوئی نبی نہیں آئے گا اس لیے مجھے اکیلا چھوڑ دو۔ اس نے مجھے تین مرتبہ بلایا پھر میں دیکھنے گیا تو میں نے ایک آدمی کو دیکھا جس کے سر پر پگڑی کی طرح سفید کپڑا بندھا ہوا تھا۔ کئی سال بعد جب میں سیرالیون گیا تو وہاں مجھے ایک مسجدجانے کا موقع ملا جہاں اسی بزرگ کی تصویر دیکھی جومجھے خواب میں دکھائے گئے تھے۔ پھر مجھے معلوم ہوا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تھے۔ چنانچہ میں نے فوراً بیعت کر لی اور جماعت میں شامل ہو گیا۔ اس طرح مختلف ممالک کے واقعات ہیں یورپ میں بھی ہیں امریکہ میں بھی ہیں افریقہ کے بھی ہیں۔

مایوٹ آئی لینڈ ایک دور دراز علاقہ ہے ایک نومبائع دوست ہارون صاحب نے بیعت کرنے کے بعد بتایا کہ میں نے بہت سی مسجدوں میں نمازیں ادا کی ہیں مگر کہیں بھی سکون نہیں ملا مگر جب سے احمدیوں کے ساتھ نماز پڑھی ہے سکون ہی سکون ہے۔ موصوف اپنی ایک خواب کا ذکر کرتے ہیں کہ وہ پہلے جماعتی سینٹر کے پاس ایک سلفی مسجد میں نماز ادا کرتے تھے مگر ایک رات خواب میں ایک سفید رنگ کے کپڑے پہنے ایک شخص نے ان سے کہا کہ جاؤ احمدیہ مسجد میں نماز ادا کرو۔ کہتے ہیں کہ یہ خواب کئی دفعہ آئی جس کے بعد انہوں نے احمدیہ مسجد میں نماز ادا کرنے کا فیصلہ کیا اور مطمئن ہو کر بیعت کر لی۔

ایک لمبا واقعہ کینیڈا کے ایک عیسائی دوست کا بھی ہے۔ اسی طرح یوکے سے واقعات ہیں رشیا کے ہیں۔ بعض لوگوں کو اللہ تعالیٰ نے ہدایت دینی ہوتی ہے تو قیافہ شناسی بھی دیتا ہے۔

گنی بساؤ کے مبلغ لکھتے ہیں کہ سینچنگ نامی ایک علاقے میں تبلیغ کے لیے گئے تو جماعت کا تعارف کرواتے ہوئے انہوںنے موبائل کی مدد سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور خلفائے احمدیت کی تصاویر دکھانی شروع کیں تو اس گاؤں کے ایک شخص الحسن جالو صاحب نے تصویریں دیکھ کر تمام لوگوں میں کھڑے ہو کر یہ اعلان کیا کہ یہ جو ساری تصویریں ہیں یہ جھوٹوں کی تصویریں نہیں ہو سکتیں۔ یقیناً یہ خدا تعالیٰ کے نمائندے ہیں اور میں ابھی سے اپنی فیملی کے ساتھ احمدیت میں داخل ہوتا ہوں۔ پھرنشان دیکھ کر ان کے ذریعےبہت ساری بیعتیں ہوئی ہیں۔

مخالفین کے پروپیگنڈے کے نتیجےمیں اللہ تعالیٰ بیعتیں عطا فرماتا ہے۔ احمدیوں کا نمونہ دیکھ کر بیعتیں ہوتی ہیں۔ اس لیے اس بارے میں میں بار بار تلقین کرتا رہتا ہوں کہ لوگوں کو اپنے نمونے دکھائیں۔

میکسیکو کے مبلغ لکھتے ہیں کہ ایک نومبائع نے بیعت کرنے کے بعد بتایا کہ میرے بھتیجے کے ایک عمل نے مجھے اسلام احمدیت کی طرف مائل کیا۔ کہتے ہیں کہ ایک دن ہم دونوں سڑک پر چل کر کہیں جا رہے تھے کہ زمین پر ان کو کسی کا بٹوہ نظر آیا۔ ان کے بھتیجے جس نے کچھ سال پہلے بیعت کی تھی اس بٹوے کو اٹھایا اور اس میں سے شناختی کارڈ نکال کر مالک کا پتہ لگانے لگا۔ کہتے ہیں کہ میں نے اس سے کہا کہ لوگوں کو تو جب بٹوہ ملتا ہے تو پہلے اس میں سے پیسے نکالتے ہیں اور تم نے ایسا نہیں کیا تو اس نے کہا کہ میں احمدی مسلمان ہوں اور ہم ایسے نہیں کرتے۔ اس بات نے ان کے ذہن پر گہرا اثر کیا۔ ان کا خدا پر ایمان تھا لیکن کسی مذہب کے پیروکار نہیں تھے۔ اس کے بعد انہوں نے جماعت سے رابطہ کیا اور تحقیق کے بعد بیعت کر لی۔ تو نمونوں کا بھی اثر ہوتا ہے۔ مخالفین جماعت سے بدظن کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں لیکن ہمیشہ ناکام ہی ہوتے ہیں اس کے بھی بہت سارے واقعات ہیں جو بیان کرنا مشکل ہے۔

انڈیا کا ایک واقعہ ہے۔ ایک گاؤں ہے راما منڈی وہاں سے تیس افراد بیعت کر کے جماعت میں شامل ہوئے۔ آس پاس کے مولویوں کو اس بات کا علم ہوا انہوں نے ایک اثر و رسوخ والے آدمی کو ان نومبائعین کے پاس بھیجا کہ ان کو احمدیت سے توبہ کروائے۔ چنانچہ وہ شخص نومبائعین کو جماعت کے بارے میں غلط باتیں بتانے لگا تو وہاں کی مستورات نے، عورتوں نے جواب دیا کہ جب ہم لوگوں کو اسلام کے بارے میں بالکل جان کاری نہیں تھی تب آپ ہمیں اچھے مسلمان سمجھتے تھے۔ اب جب ہمیں کوئی دین اسلام کی تعلیم دینے لگا ہے تو ہم مسلمان نہیں رہے۔ لہٰذا جو ہیں وہی ہیں۔ اب ہم جماعت احمدیہ کے ساتھ رہیں گے اور وہ آدمی شرمندہ ہوکے واپس چلا گیا۔ اسی طرح بہت سارے اور جگہوں کے بھی ہیں۔

مالی کے مبلغ لکھتے ہیں کہ عبداللہ صاحب کو بیعت کی توفیق ملی۔ بیعت کے بعد ان کے خاندان اور دوستوں نے انہیں احمدیت کے متعلق بدظن کرنے کی بہت کوشش کی۔ اس پر انہوں نے بہت دعا کی۔ کہتے ہیں کہ انہوں نے ایک روزخواب میں دیکھا کہ وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ ایک بہت بڑے دودھ کے دریا کے کنارے موجود ہیں۔ وہ اپنی اہلیہ سے خواب میں کہتے ہیں کہ یہ سب احمدیت کی برکت سے انہیں ملا ہے۔ اس خواب کے بعد اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کا دل پوری طرح مطمئن ہو گیا کہ ان کا بیعت کا فیصلہ درست تھا۔

ارجنٹائن میں بھی اسی طرح بیعت کا ایک واقعہ ہے۔ نومبائعین کو احمدیت چھوڑنے کی دھمکیاں، شدیدمخالفت ہوئی لیکن احمدیوں کی ثابت قدمی کا مظاہرہ ہوا بعض غیر معمولی تبدیلیاں بھی پیدا ہوئیں۔ اس نے بھی لوگوں کو متاثر کیا۔

برکینا فاسو میں جو ہمارے شہید ہوئے تھے ان کی فیملیوں میں چند ایک کے تاثرات بھی بیان کر دیتا ہوں۔ موسیٰ آگ علی صاحب شہید برکینا فاسو کی اہلیہ بیان کرتی ہیں کہ مہدی آباد کا سانحہ بہت بڑا واقعہ تھا۔ میں اپنے خاوند کی شہادت کی عینی شاہد تھی اور اس واقعہ کا بیان کرنا ممکن نہیں۔ موجود تھیں۔ ان کی موجودگی میں ان ظالموں نے خاوند کو مارا۔ کہتی ہیں ہم بے یارومددگار اپنے گاؤں سے نکل پڑے تھے۔ کچھ معلوم نہ تھا کہ آئندہ کیا ہونے والا ہے لیکن جماعت نے ہمارا اس قدر خیال رکھا کہ ہمارے زخم بہت جلد مندمل ہو گئے۔ ہم مہدی آباد سے نکلے تو ہمیں بچوں کی تعلیم کی فکر تھی لیکن خلیفہ وقت کی ہدایات کی روشنی میں جماعت نے بہت خیال رکھا ہمارے بچوں کی تعلیم کے لیے انتظامات کیے۔ انہیں معاشرے کا مفید وجود بنانے کے لیے جماعتی کوششیں قابل قدر ہیں۔ شاید وہاں رہتے ہوئے اپنے بچوں کا اتنا خیال نہ رکھ سکتے جتنا جماعت رکھ رہی ہے۔

پھر ابراہیم بیدگا صاحب کی اہلیہ ہیں۔ کہتی ہیں گیارہ جنوری کے سانحہ اور خاوند کی شہادت کے بعد یوں محسوس ہوتا تھا جیسے سب کچھ ختم ہو گیا ہے۔ مجھے لگتا تھا کہ اب میں زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکوں گی۔ سانحہ مہدی آباد کا بہت گہرا اثر ہم پر تھا لیکن خدائے قادرِ مطلق نے خود ہمارے زخموں پر مرہم رکھی، ہمارے دلوں کو سہارا دیا اور مضبوط کیا۔ میرے دل کو تسلی عطا ہوئی کہ یہ واقعہ تو خدا کی تقدیر کے تحت ہی ہوا ہے اور ہمیں ہمت نہیں ہارنی چاہیے۔ ہمارے خلیفہ نے اور ساری جماعت نے ہمارا بہت خیال رکھا ہمیں زندہ رہنے کا حوصلہ دیا ہماری ہمت بڑھائی اور یہ ہمارے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔

فاطمہ صاحبہ ہیں جو موسیٰ آگ علی صاحب شہید کی دوسری بیوی ہیں۔ کہتی ہیں اپنے خاوند کے راستے پر چلنے کے لیے اپنے خداسے وعدہ کر چکی ہوں۔ میں شہادت کے لیے تیار ہوں۔ خاوند کی شہادت کے بعد مجھے خیال آیا کہ اب میں چھوٹے بچوں کی ضروریات کا کیسے خیال رکھوں گی۔ میں اپنے مولیٰ کی شکر گزار ہوں کہ اس نے اس قدر عمدہ انتظام کر دیا کہ میرے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔ میرے بچے یہاں ڈوری محمد آباد آکر نمازوں میں باقاعدہ ہوگئے ہیں۔ قرآن مجید پڑھ سکتے ہیں، دعائیں یاد کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس قدر احسانات کیے ہیں کہ بیان سے باہر ہیں۔ اسی طرح اور بہت سارے لوگوں کے ہیں۔ پھر ایک خاتون موسیٰ آگ صاحبہ کی والدہ کہتی ہیں کہ میں اپنے بیٹے کی شہادت کی خبر سن کر اپنے ہواس کھو بیٹھی۔ مجھے یوں لگتا تھا کہ غم کی شدت سے میں پاگل ہو جاؤں گی۔ پھر جب خلیفہ وقت نے ہمارے پاس تعزیت کے لیے وفد بھیجا اور امیر صاحب برکینا فاسو اور امیر صاحب گھانا نے رقت کے ساتھ ہمیں خلیفہ وقت کا سلام اور پیغام پہنچایا تو مجھے لگا جیسے میرے اوسان بحال ہوناشروع ہو گئے ہیں۔ بعد ازاں ہم خلیفہ وقت کے ارشاد کے مطابق محمد آباد ڈوری میں آ کر بس گئے تو میں بالکل ٹھیک ہو گئی۔ بہرحال یہ بہت سارے ان کے واقعات ہیں ان شاء اللہ آئندہ کسی وقت بیان ہو جائیں گے۔

خدمت دین میں مشکلات اور نصرت الٰہی کے واقعات بھی ہیں۔ مخالفین کے بد انجام کے واقعات بھی ہیں۔ قبولیتِ دعا کے واقعات بھی ہیں۔ بے شمار واقعات ایسے ہیں جن کو اس محدودوقت میں بیان کرنا مشکل ہے۔ اب میں یہیں پہ ختم کرتا ہوں۔

اللہ تعالیٰ جو جماعت احمدیہ پر فضلوں کی بارش برسا رہا ہے، اسے ہمیشہ جاری رکھے اور ہم اللہ تعالیٰ کے فضلوں کو حاصل کرنے والے بنتے چلے جائیں۔ کبھی ایسا عمل ہمارے سے نہ ہو جو اللہ تعالیٰ کی کسی بھی قسم کی ناراضگی کا موجب ہو۔

حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام مخالفین کو مخاطب ہو کر فرماتے ہیں:’’باز آ جاؤ اور اس کے قہر سے ڈرو اور یقیناً سمجھو کہ تم اپنی مفسدانہ حرکات پر مہر لگا چکے۔ اگر خدا تمہارے ساتھ ہوتا تو اس قدر فریبوں کی تمہیں کچھ بھی حاجت نہ ہوتی۔ تم میں سے صرف ایک شخص کی دعا ہی مجھے نابود کر دیتی۔ مگر تم میں سے کسی کی دعا بھی آسمان پر نہ چڑھ سکی بلکہ دعاؤں کا اثر یہ ہؤا کہ دن بہ دن تمہارا ہی خاتمہ ہوتا جاتا ہے …

کیا تم دیکھتے نہیں کہ تم گھٹتے جاتے اور ہم بڑھتے جاتے ہیں۔ اگر تمہارا قدم کسی سچائی پر ہوتا+ تو کیا اس مقابلہ میں تمہارا انجام ایسا ہی ہونا چاہئے تھا۔‘‘

(نزول المسیح، روحانی خزائن جلد 18 صفحہ 409)

پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا بڑا یہ واضح اور کھلاچیلنج ہے کہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہوں اور ان شاء اللہ تعالیٰ یہ جماعت بڑھتی رہے گی۔ اللہ کرے ہم بھی ہمیشہ اس جماعت کا حصہ بنیں اور اللہ تعالیٰ کی جو تقدیر ہے اس غلبےمیں ہمارا بھی حصہ ہو۔

السلام علیکم ورحمة اللہ وبرکاتہ

اپنا تبصرہ بھیجیں