خلفائے کرام — شفقت و محبت کے پیکر

(ڈاکٹر مبارز احمد ربانی)

خدا تعالیٰ کی سنت ہے کہ وہ ایک نبی کے دنیا سے رخصت ہونے کے بعد بنی نوع انسان کی ہدایت اور راہنمائی کے لئے خلافت کا نظام قائم فرماتا ہے۔ خلفائے کرام نبی کی تعلیم پر عمل کرتے ہوئے بنی نوع انسان کی راہنمائی کرتے ہیں۔ وہ ایسا گھنا سایہ دار درخت ہوتے ہیں جن کے سایہ میں ہر کوئی آرام و سکون پانے کی کوشش کرتا ہے۔ خاکسار کے خاندان کے حصے میں خلافت سے وابستہ جو سکون و خوشی کے لمحات میسر آئے اُن میں سے چند ایک قارئین کے لیے پیش خدمت ہیں۔ ان واقعات میں خلفائے کرام کی شفقت و محبت اور فکر جھلکتی نظر آتی ہے۔
خاکسار کے والد محترم ملک عابد ربانی صاحب بیان کرتے ہیں:

ملک بشارت ربانی صاحب

غالباً 1955ء کی بات ہے۔ میری عمر پانچ سال ہوگی۔ میں اپنے والد صاحب محترم ملک بشارت ربانی صاحب مرحوم اور بڑے بھائی خالد ربانی صاحب مرحوم کے ساتھ جلسہ سالانہ ربوہ گیا۔ اس زمانے میں خلیفہ وقت سے ملاقات کرنے کے لئے اضلاع کے حساب سے لمبی لمبی لائنیں بنا کرتی تھیں۔ ہم بھی ملاقات کرنے کے لئے لائن میں کھڑے اپنی باری کا انتظار کر رہے تھے۔ ہماری لائن کے چلنے سے پہلے والد صاحب نے ہم دونوں بھائیوں کے ہاتھ میں ایک ایک روپے کا نوٹ دیا اور کہا کہ حضورؓ سے ہاتھ ملاتے ہوئے پیسے حضورؓ کے ہاتھ میں چھوڑ دینا۔ خود ان کے ہاتھ میں پانچ روپے کا نوٹ تھا۔ جب مصافحہ کے لئے میری باری آئی تو میں نے دیکھا کہ حضورؓ چارپائی پر تشریف فرما تھے۔ مصافحہ کرتے ہوئے نہ میں پیسے چھوڑ رہا تھا اور نہ ہاتھ چھوڑتا تھا۔ صرف آپؓ کے چہرہ مبارک کو دیکھتا جارہا تھا۔ پیچھے سے والد صاحب فرما رہے تھے: ہاتھ چھوڑو اور پیسے بھی چھوڑو۔ پھر حضورؓ نے آہستہ آہستہ مسکرانا شروع کیا اور پھر جب حضورؓ کھل کر مسکرائے تو میں نے گھبرا کر ہاتھ اور پیسے دونوں چھوڑ دیے۔ یہ واقعہ جب حضرت خلیفۃالمسیح الربعؒ کو فمیلی ملاقات کے دوران میں نے سنایا تو حضورؒ بہت محظوظ ہوئے اور ہنستے ہوئے اس بات کو کئی بار دوہرایا۔ حضورؒ کا اس طرح دوہرانا ہمارے لئے باعث راحت تھا اور ہے۔

خاکسار کے دادا جان محترم ملک بشارت ربانی صاحب مرحوم جب پہلی بار زعیم انصاراللہ بنے تو آپ نے ضلع گجرات کی جماعتوں کے دورے شروع کیے۔ ایک بار آپ ایک ایسے گاؤں میں پہنچے جہاں بہت سے احمدی مرکز سےکوئی رابطہ نہ ہونے کی وجہ سے جماعت سے دور ہوچکے تھے۔ آپ نے انھیں وہاں ازسرنو منظم کیا اور خلافت کی اہمیت سمجھائی۔ واپس آکر آپ نے حضرت صاحبزادہ میاں ناصر احمد صاحبؒ کو جو ان دنوں صدر انصاراللہ مرکزیہ تھے رپورٹ بھجوائی۔ جب حضرت صاحبزادہ میاں صاحبؒ نے امیر صاحب سے اس سلسلہ میں بات کی تو انھوں نے لکھا کہ یہ محض چند افراد ہی ہیں۔ اس پر حضرت میاں صاحبؒ نے ناراضگی کا اظہار کیا اور فرمایا کہ میں کہتا ہوں کہ ایک احمدی بھی کیوں ضائع ہو۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسند خلافت پر متمکن ہونے والے بابرکت وجود کو پہلے سے ہی کس قدر جماعت کے ایک ایک فرد کی فکر ہوتی ہے۔ یہ اللہ تعالیٰ کا احسان ہے کہ اس نے ہمیں خلافت کی نعمت سے نوازا ہے۔
خاکسار کے والد ملک عابد ربانی صاحب فرماتے ہیں کہ حضرت مرزا ناصر احمد صاحب ؒ جب صدر انصاراللہ مرکزیہ تھے تو ایک بار ضلع گجرات کے انصاراللہ کے اجتماع پر گجرات شہرتشریف لائے۔ چونکہ آپؒ کی دوستی میرے والد محترم ملک بشارت ربانی صاحب کے ساتھ تھی اس لئے انھوں نے آپؒ کو اپنے گھر میں آنے کی دعوت دی جو آپؒ نے خوشی سے قبول کرلی۔ محلے کی عورتوں کو جب پتہ چلا کہ مرزا صاحب آ رہے ہیں تو انھوں نے بھی آپ ؒ کو دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ مغرب کا وقت تھا۔ گلی سے گزرتے ہوئے آپؒ کے چہرہ مبارک پر ٹارچ کی روشنی ڈالی گئی تاکہ لوگ آپؒ کو دیکھ لیں۔ گھر کے اندر آپؒ ایک صوفے پر تشریف فرما تھے کہ اتنے میں ہماری دادی جان محترمہ ام سلمیٰ صاحبہ مرحومہ بنت حضرت مرزا امیرالدین صاحبؓ آف گجرات کمرے میں داخل ہوئیں اور عزت کے طور پر نیچے قالین پر بیٹھنے لگیں تو آپؒ نے فرمایا: نہیں نہیں اوپر بیٹھیں۔ اور پھر اوپر بٹھایا۔ میرے چچا ملک اعجاز ربانی صاحب مرحوم (جو اس وقت میجر تھے) نے آپؒ کی خدمت میں چائے پیش کی۔ چائے اور دوسرے لوازمات کے ساتھ انگور بھی پیش کیے گئے۔ آپؒ نے صرف انگور کا ایک دانہ لیا۔ میرے چچا نے عرض کیا کہ آپ نے تو کچھ لیا ہی نہیں۔ آپؒ نے مسکراتے ہوئے فرمایا: میں نے پورا ایک انگور کھایا ہے۔ اس موقع پر حضرت مولانا جلال الدین شمس صاحبؓ بھی آپؒ کے ہمراہ تھے۔

میرے والد محترم ملک عابد ربانی صاحب بیان کرتے ہیں کہ 1965ء کی بات ہے جب حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی وفات کے موقع پر والد صاحب میرے بڑے بھائی اور خاکسار کو لے کر ربوہ پہنچے۔ کچھ دیر کے بعد ہم حضرت صاحبزادہ میاں ناصر احمد صاحبؒ سے ملاقات کرنے کے لئے قصرخلافت پہنچے اور پرائیویٹ سیکرٹری صاحب سے ملاقات کی درخواست کی۔ انھوں نے بتایا کہ حضرت میاں صاحبؒ خاندان کے افراد کے ساتھ تشریف فرما ہیں جہاں نعش مبارک رکھی ہے۔ اتنے میں حضرت صاحبزادہ ڈاکٹر میاں منور احمد صاحب تشریف لے آئے۔ آپ بھی دالد صاحب کے قریبی دوستوں میں سے تھے۔ والد صاحب کو اور ہمیں گلے لگایا۔ ان کے جانے کے چند منٹ بعد حضرت صاحبزادہ میاں ناصر احمد صاحبؒ تشریف لے آئے۔ انھوں نے ایک طرف والد صاحب کو اور دوسری طرف ہمیں گلے لگالیا۔ والد صاحب رو رہے تھے۔ آپ ؒ نے فرمایا: رونا نہیں، رونا نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منع فرمایا ہے۔ والد صاحب نے آپؒ سے کہا کہ میں نے ایک بات عرض کرنی ہے۔ خلافت کے انتخاب کے لئے میرا بھی ووٹ ہے۔ میری منظوری ہوچکی ہے مگر حضورؓ کی طبیعت کی ناسازی کی وجہ سے دستخط نہیں ہوسکے (چونکہ آپ کے والد محترم (راقم الحروف کے پردادا) حضرت ملک عطاءاللہ صاحبؓ صحابی حضرت مسیح موعودؑ تھے اور صحابی کے بڑے بیٹے کو ووٹ دینے کا حق حاصل ہوتا تھا)۔ حضرت میاں صاحبؒ نے فرمایا: دیکھو بشارت! مَیں ایسا نہیں کروں گا تاکہ کل کو کوئی یہ نہ کہے کہ اپنا دوست تھا اس لیے نام لکھوا دیا تاکہ ایک ووٹ بڑھ جائے۔ یہ خلافت پر دھبہ ہوگا۔ اس پر میرے والد صاحب خاموش ہوگئے اور اسی وقت فیصلہ کرلیا کہ آپ الیکشن میں شامل نہیں ہوں گے۔ جب انتخاب شروع ہونے لگا تو والد صاحب کا نام دو تین بار پکارا گیا کہ ملک بشارت ربانی صاحب جہاں کہیں ہیں فوراً آجائیں۔ مگر آپ الیکشن میں حصہ لینے نہیں گئے۔ آپ نے اس کی وجہ یہ بتائی کہ آپ حضرت میاں صاحبؒ کی بات کو برقرار رکھنا چاہتے تھے۔ الیکشن کے بعد جب بیعت ہو رہی تھی تو ہم تقریباً تین میٹر کے فاصلے پر موجود تھے۔ جب بیعت کے بعد حضورؒ ہمارے پاس سے گزرے تو والد صاحب نے خاکسار سے کہا کہ میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ وہ شخص نہیں تھا جن سے ہمیں چند گھنٹے پہلے ملاقات کا شرف حاصل ہوا تھا۔

میرے والد محترم ملک عابد ربانی صاحب مزید بیان کرتے ہیں کہ جن دنوں مَیں جرمنی میں رہتا تھا ایک روز حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کی وفات کی اچانک خبر ملی۔ میرے گھر کے باہر ایک نہر تھی۔ میں گھر سے نکل کر اس کے کنارے کنارے چلتا جاتا اور روتا جا تا تھا۔ اسی دکھ اور پریشانی میں جب رات کو بستر پر سونے کے لئے لیٹا تو میرے دل میں ایک دم خیال آیا کہ اگلا خلیفہ کون ہوسکتا ہے؟ اس پر میں نے خاندان مسیح موعود کے افراد کے نام دل میں لینے شروع کیے۔ جب میں حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحبؓ کے نام پر پہنچا تو میں نے محسوس کیا کہ میری روح اور جسم یک دم سکون میں آ گئے ہیں۔ سکون کی وہ حالت ایسی تھی جو بیان سے باہر ہے۔ اسی اطمینان و سکون کی حالت میں مَیں سوگیا کہ اگلے خلیفہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحبؒ ہوں گے۔ پھر اگلے دن جب آپؒ کے خلیفہ منتخب ہونے کی اطلاع موصول ہوئی تو دل حمد و شکر سے بھر گیا۔ اس طرح میرے دل نے جو گواہی دی تھی وہ خدا کے فضل سے پوری ہوئی۔

ایک دفعہ حضرت خلیفۃالمسیح الربعؒ جلسہ سالانہ فرانس میں شرکت کے لیے تشریف لائے ہوئے تھے۔ شام کے وقت سوال و جواب کی نشست جاری تھی کہ میرے برادر نسبتی محترم سہیل احمد مبارک صاحب نے سوال کرنے کی اجازت چاہی جس پر حضورؒ نے فرمایا: جی سہیل احمد ربانی صاحب سوال کریں۔ اس پر حضورؒ کی توجہ دلائی گئی کہ حضور، یہ سہیل احمد مبارک صاحب ہیں۔ حضورؒ نے فرمایا: اصل میں مجھے جرمنی سے عظمیٰ ربانی اور عابد ربانی صاحب کے دعا کے لئے بہت خطوط آتے ہیں۔

اس سے پتہ چلتا ہے خلیفہ وقت کی خدمت میں دعا کے باقاعدگی سے خط لکھنے سے خلیفہ وقت کے ساتھ ذاتی تعلق پیدا کردیتا ہے۔

والد محترم ملک عابد ربانی صاحب نے مزید بیان کیا کہ خلافت خامسہ کے الیکشن کے وقت خاکسار جرمنی میں تھا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی وفات کی خبر سے ہم سب بہت افسردہ تھے۔ خاکسار بھی لندن جانا چاہتا تھا مگر میرے چھوٹے بچے کی طبیعت بہت خراب تھی۔ اس وجہ سے میں اپنے ہم زلف بھائی محترم عمر شیخ صاحب کے ساتھ لندن نہ جا سکا جو اسی وقت روانہ ہورہے تھے۔ اللہ تعالیٰ کا فضل اس طرح آیا کہ میرے بچے کی حالت بہتر ہوگئی اور پھر ایک احمدی دوست اکرم صاحب کا فون مجھے آیا کہ ہمارے پاس ایک بندے کی جگہ ہے اگر آپ نے جانا ہے تو آپ کو ساتھ لے جاتے ہیں۔ میں حیران رہ گیا تھا کہ کس طرح اللہ تعالیٰ نے خاکسار کی اضطرابی کیفیت کو جانتے ہوئے بچے کو صحت دی اور پھر اپنے ایک بندے کو بھیجا کہ وہ مجھے لے جائے۔ میں نے فوراً جانے کے ليے حامی بھرلی اور یوں ہم لندن کے لئے روانہ ہوئے۔ جب ہم لندن پہنچے تو انھوں نے مجھے کہا کہ ربانی صاحب، مسجد فضل کا ایڈریس بتائیں؟ حیرت کی بات ہے کہ پچھلے بیس سالوں سے باقاعدگی سے حضورؒ کی خدمت میں دعا کا خط لکھنے کے باوجود مجھے اس وقت مسجد کا ایڈریس ذہن میں نہیں آرہا تھا (اس بات میں بھی حکمت تھی جو آگے چل کر بیان کروں گا)۔ خیر اِدھر اُدھر سے پوچھ کر ہم جب مسجد پہنچے تو نماز کا وقت تھا۔ مَیں نے وضو کیا اور مسجد کے دروازے کی طرف بڑھا۔ وہاں پہنچا تو پہلے سے موجود پندرہ سے بیس احباب کو ایک قطار میں کھڑے ہوکر مسجد فضل میں داخل ہونے کے لئے منتظر پایا۔ دروازے پر دو سیکیورٹی گارڈز موجود تھے۔ ان کی نظر جب مجھ پر پڑی تو بیک وقت دونوں نے مجھے مخاطب کرکے کہا کہ آپ اندر آجائیں اور باقی سب احباب کو کہا کہ آپ پیچھے جاکر مارکی میں نماز ادا کریں۔ اس کے ساتھ ہی انھوں نے مسجد کے دروازے بند کردیے۔

جب میں مسجد میں داخل ہوا تو آخری صف تقریباً خالی تھی۔ خاکسار وہاں بیٹھ گیا۔ تھوڑی دیر کے بعد خاکسار نے دیکھا کہ حضرت صاحبزادہ مرزا مسرور احمد صاحب مسجد میں داخل ہوئے ہیں اور میرے بعد مسجد میں داخل ہونے والوں میں سے وہی آخری تھے۔ مجھ سے اگلی صف میں بھی چند لوگوں کے لئے جگہ خالی تھی۔ جب حضرت صاحبزادہ میاں صاحب وہاں تشریف رکھنے کے لیے رُکے تو آپ سے عرض کی گئی کہ آپ آگے آجائیں۔ پھر امام صاحب نے نماز پڑھانی شروع کی۔ ہر آیت کو دو تین بار دہراتے۔ نماز ختم ہوتے ہی حضرت صاحبزادہ میاں صاحب بڑی تیزی سے مسجد سے باہر تشریف لے گئے۔ خاکسار کے ذہن میں ایک دم حضرت خلیفۃالمسیح الربعؒ کا نقشہ گھوم گیا جس کا ذکر خاکسار کے دوست محترم ڈاکٹر عبدالغنی قیصر صاحب مرحوم نے ایک بار مجھ سے یوں کیا تھا کہ خلافت سے قبل ربوہ میں حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحبؒ نماز ختم ہوتے ہی فوراً مسجد سے باہر نکل جاتے تھے کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ کی موجودگی میں مسجد میں کھڑے ہوکر لوگ اُن سے ملاقات شروع کردیں۔ آپ اس کو بےادبی سمجھتے تھے۔ نماز کے بعد مسجد کے احاطے میں خاکسار کی ملاقات محترم راجہ منیر احمد صاحب اور سلیم بھٹی صاحب سے ہوئی۔ اُن کے پوچھنے پر مَیں نے مذکورہ واقعہ اور اس کا پس منظر بیان کیا۔ بعد ازاں اسلام آباد میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی نماز جنازہ سے فارغ ہونے کے بعد میں نے اپنے ان دوستوں کو یاد دہانی کروائی کہ مذکورہ واقعے کے پس منظر سے جو معلوم ہوتا تھا اور مَیں نے بتادیا تھا، وہ یاد ہے؟ انھوں نے کہا جی ہاں یاد ہے۔

والد صاحب بتاتے ہیں کہ لندن پہنچ کر مسجد کا ایڈریس یاد نہ آنے میں غالباً یہ حکمت معلوم ہوتی ہے کہ ہم عین نماز کے وقت مسجد پہنچیں۔ اس کے نتیجے میں پھر میرا آخری صف میں موجود ہونا اور میرے بعد حضرت صاحبزادہ میاں مسرور احمد صاحب کا تشریف لانا اور حضرت خلیفۃالمسیح الربعؒ کے واقعہ کا یاد آنا، میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب خدا تعالیٰ کی طرف سے تھا تاکہ خاکسار بھی اس بات کا گواہ کا بن سکے کہ ہونے والے خلیفہ کی جانے والے خلیفہ سے یہ بھی ایک مشابہت ہے۔ الحمدللہ
خاکسار کی والدہ محترمہ عظمیٰ ربانی صاحبہ کی خالہ محترمہ ناصرہ احمد صاحبہ مرحومہ بنت حضرت شیخ عبدالغفور صاحبؓ آف گجرات نے خاکسار سے بیان کیا کہ ایک دفعہ حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ ایبٹ آباد تشریف لائے۔ اس وقت وہ ایبٹ آباد اسکول میں ہیڈ مسٹریس تھیں۔ آپ حضورؓ کی رہائش گاہ پر ملاقات کرنے گئیں تو حضورؓ کی ایک بیگم صاحبہ بھی وہاں موجود تھیں۔ ملاقات کے دوران آپ حضورؓ سے آٹوگراف لینے کے لئے اپنی نوٹ بک بار بار حضورؓ کے سامنے کرتیں۔ مگر بیگم صاحبہ سامنے سے نوٹ بک ایک طرف کردیتں۔ حضورؓ گفتگو کے دوران یہ سب دیکھ رہے تھے۔ آخر حضورؓ نے نوٹ بک پکڑ کر اس میں تحریر فرمایا: ’’مومن مشکلات سے گبھرایا نہیں کرتا۔‘‘
خاکسار کی والدہ محترمہ عظمیٰ ربانی صاحبہ نے خلافت کی نعمت میں سے جو حصہ پایا اس کا ذکر کرتے ہو‎ئے وہ بیان کرتی ہیں: میری پہلی ملاقات کسی خلیفۃالمسیح سے 1990ء میں جلسہ سالانہ جرمنی کے موقع پر ہوئی۔ یہ ایک ہمیشہ یاد رہنے والی ملاقات تھی۔ اس وقت مَیں امید سے تھی اور آٹھواں ماہ تھا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے فرمایا کہ آٹھواں ماہ ہے تھوڑی احتیاط کرنا۔ یہ پُرشفقت بات ایک خلیفہ وقت ہی کہہ سکتا ہے جو ماں باپ سے بڑھ کر پیار کرنے والا ہوتا ہے۔ پھر میرے میاں محترم ملک عابد ربانی صاحب کو فرمایا کہ عابد! عظمیٰ کا خیال رکھو، جماعت کے کام ہوتے رہیں گے۔

اس بات میں یہ نصحیت فرمائی کہ یہ تو خدا تعالیٰ کی قائم کردہ جماعت ہے اس کے کام تو رکنے نہیں۔ اصل دین تو اس کی مخلوق سے ہمدردی اور اس کا خیال رکھنا ہے اور نیکی گھر سے شروع ہوتی ہے۔ حضورؒ نے نہایت پیار کا اظہار فرماتے ہوئے میرے میاں سے فرمایا: میں نے اس کا ایک خط سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ اس بات کی مجھے بہت خوشی ہوئی۔ دوران گفتگو میرے میاں نے حضورؒ سے عرض کیا کہ مجھے اللہ تعالیٰ نے بتایا ہے کہ آپ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے کامل وجود کا حصہ ہیں۔ اس پر ہم نے دیکھا کہ حضورؒ کا چہرہ مبارک ایک دم سرخ ہو گیا اور ایسا محسوس ہوا کہ گویا حضورؒ وہاں موجود نہیں ہیں۔

شفقت کا ایک انداز

پھر تھوڑی دیر بعد آپؒ نے شفقت اور محبت کا اظہار کرتے ہوئے میرے میاں کے ہاتھ کو زور سے پکڑ کر اپنے بازو کے نیچے سے نکال کر تصویر بنوائی۔ یہ یادگار تصویر احباب کی خدمت میں پیش ہے۔ اس ملاقات کے بعد مجھے یوں محسوس ہوا کہ دنیا کی ہر محبت خلیفہ وقت کی محبت کے آگے ہیچ ہے۔

ایک دفعہ میں بہت بیمار ہوگئی۔ حضورؒ کی خدمت اقدس میں دعا کے لئے درخواست کی گئی۔ ان دنوں ہم جرمنی ہوا کرتے تھے۔ حضرت صاحبؒ کا دعاؤں سے بھرا ہوا خط آیا۔ اس خط کے آخر میں آپؒ نے علیحدہ سے میرے میاں کے نام پیغام لکھوایا ہوا تھا کہ میری طرف سے آپ عیادت کریں۔ میں تو سوچ بھی نہیں سکتی تھی کہ مجھ جیسی عاجز اور کمزور انسان کے لئے حضورؒ ایسی محبت و شفقت کا اظہار کریں گے۔

ایک دفعہ میرے میاں لندن آئے اور حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے ملاقات کے دوران مجھ عاجزہ کے لئے راڈو کی گھڑی بطور تحفہ عطا فرمائی اور میرے میاں کو شیفر پن تحفہ دیا اور فرمایا: آئندہ عظمیٰ کے بغیر نہ آنا۔ نیز فرمایا: عابد! تم بہت خوش قسمت ہو کہ اللہ تعالیٰ نے تمیں بہت نیک بخت بیوی دی ہے۔ یہ محض اللہ کا فضل اور احسان ہے۔ ایسی محبت تو نصیبوں سے ملا کرتی ہے۔ الحمدللہ

ڈاکٹر مبارز ربانی حضورؒ کی گود میں

خاکسار (مضمون نگار) کی ولادت کے بعد میری والدہ مجھے لے کر حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی خدمت میں حاضر ہوئیں۔ اس وقت میری عمربمشکل ایک ماہ تھی۔ میری والدہ بتاتی ہیں کہ خاکسار نے ملاقات کے دوران رونا شروع کردیا۔ میری والدہ پریشان تھیں کہ اتنی چھوٹی سی تو ملاقات ہوتی ہے اور میں چپ ہی نہیں ہورہا۔ حضورؒ میری والدہ کی پریشانی کو محسوس کررہے تھے اور ساتھ ساتھ باتیں بھی کرتے جا رہے تھے۔ آخر حضورؒ نے فرمایا: لاؤ، اسے مجھے دے دو۔ میری والدہ بتاتی ہیں کہ خاکسار حضورؒ کی گود میں جاتے ہی خاموش ہوگیا جیسے سکون میں آگیا ہو۔ حضورؒ نے خاکسار کو گود میں اٹھائے ہوئے تصویر بھی بنوائی۔ میری والدہ نے ملاقات ختم ہونے کے وقت جب مجھے حضورؒ سے لیا تو خاکسار نے دوبارہ رونا شروع کردیا۔ بےشک خلیفہ وقت کی گود میں ہی آرام و سکون ہے جس کو ایک ماہ کے بچے نے بھی محسوس کیا۔ ملاقات کے دوران حضورؒ نے خاکسار کے بارے میں فرمایا کہ یہ ماں اور باپ دونوں کی نیکیاں لے گا۔
آخر میں خدا تعالیٰ کے حضور عاجزانہ دعا ہے کہ ہمیں اور آنے والی نسلوں کو خلافت کے ساتھ ہمیشہ وابستہ رہنے، اس نعمت کی قدر کرنے اور اس کی چھاؤں میں آرام وسکون پانے والا بنائے۔ اے اللہ! تُو ایسا ہی کر، اے اللہ! تُو ایسا ہی کر ۔ آمین ثم آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں