خلیفہ وقت سے محبت اور اُن کی اطاعت
(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ -2- مئی 2026ء)

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 5؍اپریل2014ء میں مکرم ڈاکٹر حبیب الرحمٰن صاحب اپنے والد محترم فضل الرحمٰن خان صاحب (سابق امیر جماعت احمدیہ ضلع راولپنڈی) کی خلافت احمدیہ سے محبت اور خلیفہ وقت کی اطاعت کے حوالے سے چند واقعات بیان کرتے ہیں۔

محترم فضل الرحمٰن خان صاحب جب انجینئرنگ کالج لاہور میں زیرتعلیم تھے اور احمدی طلبہ کی تنظیم کے صدر بھی تھے تو اطلاع ملی کہ حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ لاہور جانے کا قصد فرمارہے ہیں۔ احمدی طلبہ نے پروگرام بنایا کہ حضورؓ کی خدمت میں غیراحمدی طلبہ سے خطاب کرنے کا پروگرام بھی بنالیا جائے۔ چنانچہ خان صاحب ربوہ جاکر حضورؓ کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ آپ بیان کرتے ہیں کہ مَیں نے حضورؓ سے خطاب کے لیے درخواست کرتے ہوئے اپنی حماقت میں موضوع بھی عرض کردیا کہ حضورؓ اپنے لیکچر ’’اسلام میں اختلافات کا آغاز‘‘ کا دوسرا حصہ موضوع سخن بنائیں۔ میری درخواست سن کر حضورؓ کے چہرے پر ناپسندیدگی کے آثار نمایاں ہوئے اور حضورؓ نے فرمایا کہ تمہیں معلوم ہے کہ مَیں کیوں لاہور جارہا ہوں، مَیں بیمار ہوں اور بغرضِ علاج لاہور جارہا ہوں، کیا بیمار آدمی لیکچر دیا کرتا ہے؟ چونکہ مَیں نے حضورؓ کی ناراضگی پہلی مرتبہ دیکھی تھی اس لیے برداشت نہ ہوسکا اور رونے لگ گیا۔ اس کے بعد حضورؓ نے اَور باتیں شروع کردیں اور کافی وقت گزر گیا۔ اس دوران پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے گھنٹی بجائی کہ ملاقات کا وقت پورا ہوگیا ہے۔ مَیں اٹھنے لگا تو حضورؓ نے بٹھادیا اور باتیں کرنے لگے اور اُس وقت تک جانے نہ دیا جب تک میرے چہرے پر بشاشت نہ آگئی اور مَیں ہنس نہ پڑا۔ یہ ملاقات آدھے گھنٹے کے لگ بھگ رہی۔ بعد میں مَیں نے غور کیا تو اس نتیجے پر پہنچا کہ پیشگوئی مصلح موعود کے مطابق حضورؓ دل کے نہایت حلیم تھے۔ آپؓ نے گوارا نہ کیا کہ ایک طالب علم کو مضطرب حالت میں اپنے پاس سے رخصت کریں۔
مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ 1991ء میں جب حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی بیگم صاحبہ کی وفات ہوئی تو ابا جان بھی صرف جنازے میں شرکت کے لیے پاکستان سے خاص طور پر لندن آئے۔ مصافحہ ہونے پر جب حضورؒ کے علم میں یہ بات آئی تو حضورؒنے اس پر خوشنودی کا اظہار فرمایا۔
اباجان کا دستور تھا کہ ہر سال جلسہ سالانہ یوکے میں شمولیت کے لیے تشریف لاتے اور جلسے کے بعد چند ہفتے اپنے بچوں کے ساتھ لندن میں گزارتے۔ وفات سے ایک سال قبل جب معمول کے مطابق جلسے کے بعد حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں ملاقات کے لیے حاضر ہوئے تو حضورانور نے فرمایا کہ خان صاحب! آپ ابھی گئے نہیں؟ ملاقات کے بعد آپ نے گھر آتے ہی میری امی کو کہا کہ چلنے کی تیاری کرو اور بچوں کو کہا کہ ہماری واپسی کی سیٹ بُک کرادو۔ چند روز کے بعد عید تھی۔ بچوں نے کہا کہ عید کرکے جائیں۔ کہنے لگے کہ خلیفہ وقت کے ارشاد کی تعمیل ضروری ہے۔ چنانچہ باوجود بچوں کے اصرار کے آپ کو جو پہلی سیٹ ملی اُسی پر واپس چلے گئے۔

2012ء میں جلسہ سالانہ یوکے کے چند ہفتے بعد جب آپ حضورانور کی خدمت میں واپسی کی اجازت لینے کے لیے حاضر ہوئے تو اس مرتبہ حضورانور نے فرمایا: خان صاحب جانے کی کیا جلدی ہے، ابھی کچھ عرصہ یہیں رہیں۔ چنانچہ آپ ٹھہر گئے۔ چند ہفتے بعد امّی نے آپ سے کہا کہ اب حضور سے واپسی کی اجازت لینی چاہیے تو کہنے لگے کہ ہرگز نہیں۔ خلیفہ وقت نے خود ہی ہمیں رہنے کا کہا ہے، وہ جب مناسب سمجھیں گے حکم کریں گے، مَیں اجازت نہیں مانگوں گا۔ چونکہ لندن میں آپ کا زیادہ تر وقت فراغت میں گزرتا تھا اس لیے جلد تنگ بھی آجاتے تھے۔ دل بھی پاکستان جلد جانے کے لیے مضطرب تھا اور کئی مرتبہ بہت پژمردہ خاطر بھی ہوتے تھے لیکن یہی اصرار تھا کہ جب تک خلیفہ وقت خود نہیں فرمائیں گے تب تک یہیں ٹھہریں گے۔ دراصل یہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر تھی کہ آپ نے 29؍اکتوبر 2012ء کو لندن کے ایک ہسپتال میں وفات پائی اور حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ نے آپ کا جنازہ پڑھایا۔
