دُور ہے اس سے خزاں اب مسکراتی ہے بہار… نظم

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ مسیح موعود نمبر)
روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 21؍مارچ2015ء میں مکرم انور ندیم علوی صاحب کی ایک نظم شامل اشاعت ہے۔ اس نظم میں سے انتخاب ہدیۂ قارئین ہے:

دُور ہے اس سے خزاں اب مسکراتی ہے بہار
ایک سو چھبیس سالوں کا شجر یہ سایہ دار

حضرت صاحبزادہ عبداللطیف صاحبؓ شہید

پیارے آقاؑ نے جو بویا تخم اپنے ہاتھ سے
آبیاری خون سے کرتے رہے پھر جاں نثار
اُس مرید باوفا کا نام نامی ہے ’’لطیف‘‘
رحمتیں ہوں اُس پہ حق کی بےحساب و بےشمار
’’نور دیں‘‘ کے نُور کا چمکا ستارہ اس طرح
ظلمتوں کی شب کا دامن بھی ہوا ہے تار تار
’’حضرت فضل عمر‘‘ فہم و فراست کا نشاں
کانِ علم و فضل تھا اور قیدیوں کا رستگار

’’ناصر دیں‘‘ امن کا شہزادہ اُلفت کا سفیر
ابتلاؤں میں بھی تھا وہ صبر کا اِک کوہسار
’’حضرت طاہر‘‘ خدا کا شیر ہر میدان میں
کامیاب و کامراں دیکھا بفضل کردگار
’’حضرت مسرور‘‘ صلح و آشتی کا ہیں نشاں
امن عالم کے لیے بےچین ہر پل بےقرار
چار جانب اس طرح پھیلی نوائے قادیاں
نیک فطرت کے لیے صدہا نشاں لیل و نہار
لہلہاتا پیڑ ہے یہ آندھیوں میں بےخطر
دیدۂ بینا! نشاں آئیں نظر تجھ کو ہزار

اپنا تبصرہ بھیجیں