عائلی زندگی کے بارہ میں اسلامی تعلیمات
(مطبوعہ رسالہ ’’انصارالدین‘‘ نومبر و دسمبر2014ء اور جنوری و فروری 2015ء)

(مکرم عطاءالمجیب راشد صاحب امام مسجد فضل لندن کی جلسہ سالانہ یوکے 2014ء کے موقع پر کی گئی تقریر)
رَبَّنَا ھَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا (الفرقان:75)
اللہ تبارک و تعالیٰ کی پیدا کردہ یہ حسین و جمیل دنیا آج بے شمار مصائب اور مسائل میں گھِر چکی ہے۔خود اپنی شامتِ اعمال کے نتیجہ میں انسانیت مختلف نوعیت کی مشکلات سے دوچار ہے۔ خدا کی ہستی کا انکار، لادینیت، سیاسی اور معاشی، ملکی اور عالمگیر مسائل کی ایک لمبی فہرست ہے۔ اس تناظر میں ایک بہت بڑا عالمگیر مسئلہ گھروں کے سکون اور عائلی زندگی کی خوشی کا فقدان ہے۔
عائلی زندگی کے حوالہ سے مذہب اسلام اس بات کا عَلم بردار ہے کہ اس کی تعلیمات میں ازدواجی زندگی کو کامیاب اور خوشگوار بنانے کے سلسلہ میں کامل رہنمائی موجود ہے۔ یہی بات میری آج کی تقریر کا موضوع ہے کہ عائلی زندگی کے بارہ میں اسلامی تعلیمات کیا ہیں؟
اللہ تعالیٰ کی توفیق سے مَیں اسلامی تعلیمات کے چند پہلو اختصار سے پیش کروں گا۔ لیکن یہ بات یاد رہے کہ صرف تعلیمات کا علم کافی نہیں بلکہ ان کے مطابق عمل کرنے سے ہی عائلی زندگی کامیاب اور راحت بخش ہوسکتی ہے۔
کامیاب عائلی زندگی کا نسخۂ کیمیا۔ تقویٰ
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ایک نہایت خوبصورت مصرعہ لکھا کہ:
’’ہر اک نیکی کی جڑ یہ اتقاء ہے‘‘
دوسرا مصرعہ ابھی آپ سوچ ہی رہے تھے کہ الہاماً اللہ تعالیٰ نے عطا فرمادیا:
’’اگر یہ جڑ رہی سب کچھ رہا ہے‘‘
غور کیا جائے تو اس خوبصورت شعر میں انسان کی ساری زندگی، اس کے دین، ایمان ، فلاح اور کامیابی کا راز بیان کر دیا گیا ہے۔ایک مسلمان کی ازدواجی زندگی کا نقطۂ آغاز تقریب نکاح ہے۔ اس موقعہ پر رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے تلاوت کے لئے قرآن مجید کے تین مقامات سے چار آیات کریمہ کا انتخاب فرمایا۔ ان میں پانچ مرتبہ تقویٰ کی تاکید کی گئی ہے۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا ہے:
’’اللہ تعالیٰ نے پانچ جگہ نکاح کے موقع پر تقویٰ کا لفظ استعمال کر کے ہمیں اس طرف توجہ دلائی ہے کہ تمہارا ہر فعل، تمہارا ہر قول، تمہارا ہر عمل صرف اپنی ذات کے لئے نہ ہو بلکہ تقویٰ پر بنیاد رکھتے ہوئے، اللہ تعالیٰ کا خوف رکھتے ہوئے اللہ کے بھی حقوق ادا کرنے والا ہو اور ایک دوسرے کے بھی حقوق ادا کرنے والا ہو‘‘۔ (مستورات سے خطاب، فرمودہ 23؍جولائی 2011ء برموقع جلسہ سالانہ یوکے)
تقویٰ کی اہمیّت حضرت مسیح پاک ؑ کے مبارک الفاظ میں سنیے۔ آپؑ فرماتے ہیں: ’’قرآن شریف میں تمام احکام کی نسبت تقویٰ اور پرہیز گاری کے لئے بڑی تاکید ہے۔وجہ یہ ہے کہ تقویٰ ہر ایک بدی سے بچنے کے لئے قوّت بخشتی ہے۔ اور ہر ایک نیکی کی طرف دوڑنے کے لئے حرکت دیتی ہے۔ اور اس قدر تاکید فرمانے میں بھید یہ ہے کہ تقویٰ ہر ایک باب میں انسان کے لئے سلامتی کا تعویذ ہے اور ہر ایک قسم کے فتنہ سے محفوظ رہنے کے لئے حصنِ حصین ہے‘‘۔ (ایام الصلح۔ روحانی خزائن جلد 14 صفحہ 342)
حق یہ ہے کہ کامیاب اور بابرکت عائلی زندگی کا نسخۂ کیمیا یہی تقویٰ ہے۔یہی وہ گوہرِ آبدار ہے جس کی برکت سے ازدواجی زندگی ایک شجرۂ طیبہ بن جاتی ہے۔اس کی جڑیں تقویٰ کی زمین میں پیوستہ ہوتی ہیں اور اس کی شاخیں آسمان کی بلندیوں کو چھوتی ہیں اور اسی جوہر کی برکت سے یہ درخت ایک سدا بہار درخت بن جاتا ہے جو زندگی کے ہر مرحلہ میں ہمیشہ تازہ بتازہ لذیذ پھل عطا کرتا ہے۔ ازدواجی زندگی اور اس کی کامیابی کی حقیقی بنیاد تقویٰ ہے۔جس گھر میں تقویٰ کی دولت ہے وہ گھر رحمتوں اور برکتوں کا خزینہ ہے اور جس گھر میں تقویٰ نہیں وہ ایک ویرانے سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی جماعت کو تقویٰ کی بار بار نصیحت فرمائی ہے۔ آپ اپنے منظوم کلام میں فرماتے ہیں :
عجب گوہر ہے جس کا نام تقویٰ
مبارک وہ ہے جس کا کام تقویٰ
سنو ! ہے حاصلِ اسلام تقویٰ
خدا کا عشق، مے اور جام تقویٰ
تقویٰ کا مضمون بہت وسیع ہے اور انسان کی ساری زندگی پر حاوی ہے۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے تقویٰ کی ایک خوبصورت تعریف فرمائی۔ فرمایا: ’’تقویٰ یہی ہے کہ ہر چھوٹی سے چھوٹی بُرائی کو بھی بیزار ہو کر ترک کرنا، ہر چھوٹی سے چھوٹی نیکی کو دل کی گہرائیوں سے چاہتے ہوئے اختیار کرنا‘‘۔ (خطاب فرمودہ 23؍جولائی 2011 برطانیہ)
عائلی زندگی کا اصل الاصول
عائلی زندگی کو خوشگوار بنانے کے لئے اسلام نے ایک بنیادی اصول بیان فرمایا ہے۔اللہ تعالیٰ مسلمان مردوں کو تاکیداً فرماتا ہے : عَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ (النساء:20) کہ اے مسلمان مردو! تم اپنے گھروں کو جنّت کا گہوارہ بنانا چاہتے ہو تو اس اصول پر مضبوطی سے کاربند ہو جاؤ کہ ہمیشہ اپنی بیویوں سے نیک سلوک کے ساتھ زندگی بسر کرو۔ اس آیت کریمہ میں ایسی سنہری ہدایت دی گئی ہے جو اصولی اور بنیادی ہے اور عائلی زندگی کو خوبصورت بنانے کی پختہ ضمانت بھی ہے۔
اس سنہری اصول کی وضاحت میں رسول مقبول صلی اللہ علیہ و سلم کی یہ خوبصورت حدیث ہے جس میں آپ نے فرمایا: خَیْرُکُمْ خَیْرُکُمْ لِأَھْلِہٖ وَ أَنَا خَیْرُکُمْ لِأَھْلِیْ (مشکوٰۃ۔ باب عشرۃ النّساء) کہ اے مسلمانو! خدا کی نظر میں تم میں سب سے بہتر وہ شخص ہے جو اپنی بیوی سے سلوک کرنے میں سب سے بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ و سلم نے اپنے صحابہ کو مزید ترغیب دلانے کی غرض سے ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ دیکھو مَیں تم کو جو تعلیم دیتا ہوں اس پر سب سے پہلے میں خود عمل کرتا ہوں۔ مَیں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ مَیں اپنے اہلِ خانہ سے سلوک کرنے میں تم سب سے بہتر ہوں۔ پس میرے نمونہ کو سامنے رکھو اور اس کی پیروی کرو ، تم بھی خداکی نظر میں اس کے محبوب بن جاؤ گے۔
رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے مزید فرمایا کہ مومن مرد اپنی بیوی کے منہ میں ایک لقمہ بھی ڈالتا ہے تو خدا تعالیٰ کی طرف سے اسے اس کا ثواب ملے گا۔ (صحیح بخاری، کتاب النکاح)
حسن معاشرت کے بارہ میں رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم کے عاشق صادق حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی جگہ جگہ تاکیدی نصیحت فرمائی ہے۔ آپ نے فرمایا: ’’خدا تعالیٰ خود فرماتا ہے کہ بیویوں سے نیک سلوک کرو۔ عَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ۔ لیکن اگر انسان محض اپنی ذاتی اور نفسانی اغراض کی بنا پر وہ سلوک کرتا ہے تو فضول ہے اور وہی سلوک اگر اِس حکم الٰہی کے واسطے ہے تو موجب برکات‘‘۔ (ملفوظات جلد ششم۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان۔ صفحہ 351)
پھر ایک موقع پر فرمایا : ’’بیوی اسیر کی طرح ہے اگر یہ عَاشِرُوْھُنَّ بِالْمَعْرُوْفِ پرعمل نہ کرے تو وہ ایسا قیدی ہے جس کی کوئی خبر لینے والا نہیں ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد ششم۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان۔ صفحہ 381)
ایک دفعہ ایک دوست کی شکایت ہوئی کہ وہ بیوی سے سختی سے پیش آتا ہے تو آپ نے فرمایا: ’ہمارے احباب کو ایسا نہ ہونا چاہئے‘۔ (ملفوظات جلد دوم۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان۔ صفحہ 2)
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’چاہیے کہ بیویوں سے خاوند کا ایسا تعلق ہو جیسے دو سچے اور حقیقی دوستوں کا ہوتا ہے۔ انسان کے اخلاق فاضلہ اور خداتعالیٰ سے تعلق کی پہلی گواہ تو یہی عورتیں ہوتی ہیں۔ اگر ان ہی سے اس کے تعلقات اچھے نہیں ہیں تو پھر کس طرح ممکن ہے کہ خدا تعالیٰ سے صلح ہو‘‘۔ (ملفوظات جلد 5۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان۔ صفحہ 418)
خوشگوار عائلی زندگی کی کلید : دعا
عائلی زندگی کی کامیابی کی کلید دعا ہے۔ دعا کیا ہے ؟ اپنے آپ کو لا شیٔ محض یقین کرتے ہوئے، قادر و توانا خدا کے حضور پیش کرنا، اس کامل یقین کے ساتھ کہ دعا کے بغیر کچھ بھی ممکن نہیں اور دعا کے ساتھ ہر چیز ممکن ہے۔ حضرت مسیح پاک علیہ السلام نے کیا خوب فرمایا ہے کہ اگر مُردے زندہ ہو سکتے ہیں تو دعا سے اور اگر اندھے بینا ہو سکتے ہیں تو دعا سے۔ پس یہی دعا ہے جو پتھر دل خاوند کو موم کر سکتی ہے، جو باغیانہ سرشت کی بے باک عورت کو رام کر سکتی ہے۔ پس عائلی زندگی کو خوشگوار اور کامیاب بنانے کا تِیر بہدف نسخہ دعا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اور اس کے محبوب رسول اکرم صلی اللہ علیہ و سلم نے ازدواجی زندگی کے قدم قدم پر مومنوں کو دعائیں سکھائیں اور اس بارہ میں تاکید فرمائی۔
دعا کا آغاز کس مرحلہ سے ہونا چاہیے؟ سنیے:
’’حضرت میر ناصر نواب صاحب سے کسی نے پوچھا کہ آپ کو یہ اعزاز کس طرح ملا اور کیا کام آپ نے کیا تھا جس کی وجہ سے آپ کو اتنا بڑا مقام حاصل ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کے داماد بنے؟ انہوں نے بتایا کہ جب میری یہ بچی پیدا ہوئی تھی تو میں نے اس طرح تڑپ کے ساتھ جس طرح ایک ذبح کیا ہوا جانور تڑپتا ہے اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دعا کی تھی کہ اس کو خود سنبھالنا اور ایسا مقام عطا کرنا جو دنیا میں کسی کو نہ ملا ہو۔ جب حضرت میر صاحب یہ بیان فرما رہے تھے تو آپ کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے‘‘۔ (خط حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز محررہ یکم اپریل 2011ء مطبوعہ احمدیہ گزٹ کینیڈا اپریل 2011ء)
حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک موقع پرفرمایا ہے:
’’ہر ماں باپ کو اولاد کے لئے اس کی شادی کی عمر سے بہت پہلے دعائیں شروع کردینی چاہئیں تاکہ انہیں نیک نصیب عطا ہوں اور ان کی آئندہ عائلی زندگی پُرسکون اور خوشیوں سے معمور ہو۔ شادی شدہ جوڑے بھی اپنے ہاں نیک اولاد عطا ہونے کی دعائیں کرتے رہیں تو یہ بہت مبارک طریق ہے‘‘۔ (خط حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز محررہ یکم اپریل 2011ء۔ مطبوعہ احمدیہ گزٹ کینیڈا اپریل 2011ء)
اسلامی تعلیم یہ ہے کہ جب رشتہ کی تلاش کا مرحلہ آئے تو اس موقع پر خود بھی دعا کرو، بچوں کو دعا کی تلقین کرواور دعائیں کرتے ہوئے سب مراحل طے ہوں۔ دینی پہلو اور کفو کو ترجیح دی جائے۔ اعلانِ نکاح ہو، رخصتانہ ہو، خلوت کا وقت ہو غرض ہر مرحلہ پر دعا ہی مومن کا سہارا ہے۔ قرآن مجید نے عبادالرّحمن کی ایک مستقل خوبی یہ بیان کی ہے کہ وہ ہمیشہ عائلی زندگی کے حوالہ سے یہ دعا کرتے رہے ہیں: رَبَّنَا ھَبْ لَنَا مِنْ اَزْوَاجِنَا وَذُرِّیّٰتِنَا قُرَّۃَ اَعْیُنٍ وَّاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِیْنَ اِمَامًا (الفرقان:75) کہ اے ہمارے رب ! ہمیں اپنے جیون ساتھیوں اور اپنی اولاد کی طرف سے آنکھوں کی ٹھنڈک عطا فرما اور ہمیں متقیوں کا امام بنا دے۔
ایک تو یہ با ت یاد رکھنے والی ہے کہ جو دعا خود خدا تعالیٰ نے سکھائی ہو وہ اپنی افادیت اور قبولیت میں سب سے بڑھ کر ہوتی ہے۔ دوسرے یہ دعا ایسی ہے کہ مَردوں اور عورتوں دونوں سے متعلق ہے کیونکہ عربی میں ’’زوج‘‘ کا لفظ خاوند اور بیوی دونوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ تیسرے یہ کہ نیکی دراصل وہی ہے جس میں تسلسل اور دوام پایا جائے۔ آنکھوں کی حقیقی ٹھنڈک میں یہ دعا بھی شامل ہے کہ بچے بھی حقیقی معنوں میں متقی ہوں اور نیکی کا تسلسل جاری رہے۔ یہ ایک نہایت ہی جامع دعا ہے جس سے سارا گھر خوشی اور مسرت کی آماجگاہ بن سکتا ہے۔ ساری زندگی اس کابکثرت ورد کرنا چاہئے۔
دعا کا ذکر چل رہا ہے تو حضرت مسیح موعودؑ کے مبارک طریق کا ذکر بھی ضروری ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں : ’’میری اپنی تو یہ حالت ہے کہ میری کوئی نماز ایسی نہیں ہے جس میں مَیں اپنے دوستوں اور اولاد اور بیوی کے لئے دعا نہیں کرتا۔‘‘ (تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد 6 صفحہ 355)
مردوں اور عورتوں کے حقوق و فرائض
اسلام نے خوشگوار عائلی زندگی کے حوالہ سے مردوں اور عورتوں دونوں کے حقوق و فرائض اور دائرہ کار کی پوری وضاحت فرمائی ہے۔ خدا تعالیٰ کی نظر میں مرد اور عورت بحیثیت انسان یکساں درجہ رکھتے ہیں جیسا کہ قرآن مجید میں متعدد بار ذکر آتا ہے کہ مرد عورت میں سے جو بھی نیک اعمال کرے گا اس کا اجر یکساں دیا جائے گا اور کوئی کمی نہیں کی جائے گی۔ یہ حقیقی روحانی مساوات ہے جو اسلامی تعلیم کا طرّۂ امتیاز ہے۔
جسمانی لحاظ سے خدا تعالیٰ نے مردوں اور عورتوں کو مختلف قویٰ عطا فرمائے اور اسی نسبت سے ان کے فرائض مقرر فرما دیئے۔ عائلی زندگی کے حوالہ سے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : وَلَھُنَّ مِثْلُ الَّذِیْ عَلَیْھِنَّ بِالْمَعْرُوْفِ۔ وَلِلرِّجَالِ عَلَیْھِنَّ دَرَجَۃٌ۔ (البقرۃ:229) کہ عورتوں کا دستور کے مطابق مردوں پر اتنا ہی حق ہے جتنا کہ مردوں کا ان پر ہے۔ جبکہ مردوں کو ان پر ایک قسم کی فوقیت بھی ہے۔ اس فوقیت کا ذکر دوسری جگہ اَلرِّجَالُ قَوَّامُوْنَ عَلَی النِّسَآء (النساء:35) کے الفاظ میں آتا ہے کہ مرد عورتوں پر نگران ہیں اس فضیلت کی وجہ سے جو اللہ نے ان میں سے بعض کوبعض پر بخشی ہے اور اس وجہ سے بھی کہ وہ اپنے اموال ان پر خرچ کرتے ہیں۔ قوّام کے لفظ میں مردوں کی وسیع ذمّہ داریوں کا ذکر ہے جو عائلی زندگی کے حوالہ سے ان پر عائد ہوتی ہیں۔ مردگھر کا سربراہ ہے اور اس حوالہ سے اس عظیم ذمہ داری کا مکلّف بنایا گیا ہے۔
اس نہایت متوازن اسلامی تعلیم کو صحیح طور پر اپنانے سے عائلی زندگی میں ایک حسن اور نکھار پیدا ہوتا ہے۔ جو اس گھر کو رحمتوں اور برکتوں سے بھر دیتا ہے۔
میاں بیوی میں باہمی تعاون اور موافقت
ازدواجی زندگی کو خوشگوار اور کامیاب بنانا مرد اور عورت دونوں کی ذمّہ داری ہے۔ تالی ہمیشہ دونوں ہاتھوں سے بجتی ہے۔ بالکل بجا کہا جاتا ہے کہ میاں اور بیوی ایک گاڑی کے دو پہیے ہیں۔ ان کے ایک ساتھ چلنے سے ہی ازدواجی زندگی کا سفر بخیر و خوبی طے ہو سکتا ہے۔ ان کے درمیان باہم موافقت اور تعاون سے ہی یہ رشتہ ، جو انسانی زندگی میں سب سے نازک رشتہ ہے ، باہمی مودّت اور رحمت سے ہر دو کے لئے جسمانی اور روحانی تسکین اور خوشی کا موجب ہوسکتا ہے۔ اس باہمی تعاون کو اللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے : ھُنَّ لِبَاسُ لَّکُمْ وَ اَنْتُمْ لِبَاسُ لَّھُنّ (البقرۃ : 188) کہ اے مردو ! عورتیں تمہارا لباس ہیں اور تم ان کے لئے بطور لباس ہو۔
حضرت مصلح موعود ؓ اس کی تفسیر میں فرماتے ہیں : ’’ مردوں اور عورتوں کے لئے ضروری ہے کہ وہ ایک دوسرے کے لئے ہمیشہ لباس کا کام دیں۔ یعنی
(1) ایک دوسرے کے عیب چھپائیں۔ (2) ایک دوسرے کیلئے زینت کا موجب بنیں۔ (3) پھر جس طرح لباس سردی گرمی کے ضرر سے انسانی جسم کو محفوظ رکھتا ہے اُسی طرح مرد و عورت سُکھ دُکھ کی گھڑیوں میں ایک دوسرے کے کام آئیں۔ اور پریشانی کے عالم میں ایک دوسرے کی دلجمعی اور سکون کا باعث بنیں۔ غرض جس طرح لباس جسم کی حفاظت کرتا ہے اور اۡسے سردی گرمی کے اثرات سے بچاتا ہے۔ اِسی طرح انہیں ایک دوسرے کا محافظ ہونا چاہئے‘‘۔ (تفسیر کبیر جلد 2 صفحہ 411)
اسلامی معاشرہ کو حسین بنانے اور گھروں کو جنت نظیر بنانے کی ذمّہ داری یکساں طور پر مرد اور عورت پر ڈالی گئی ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر دلوں میں کدورت پیدا کرنا، معمولی معمولی باتوں کو طول دے کر گھر کی فضا کو مکدّر کر دینا پرلے درجہ کی جہالت ہے۔ شادی تو وہ مقدّس رشتہ ہے جس کو مودّت و رحمت اور باہمی سکون اور سکینت کے لئے قائم کیا جاتا ہے۔ ہر مرد اور عورت کو یہ ارشاد خداوندی ہمیشہ یاد رکھنا چاہئے کہ : جَعَلَ بَیْنَکُمْ مَوَدَّۃً وَ رَحْمَۃً (الروم:22)۔ باہمی محبت اور رحمت ہی ازدواجی زندگی کا حقیقی مقصد اور حسن ہے۔
اس سلسلہ میں حضرت مسیح پاک علیہ السلام کا یہ ارشاد بہت قابل توجہ ہے۔ آپؑ نے فرمایا: ’’میرے نزدیک یہ نعمت اکثر نعمتوں کا اصل الاصول ہے اور چونکہ مومن اعلیٰ درجہ کے تقویٰ کا طالب و جویاں بلکہ عاشق و حریص ہوتا ہے اس لئے میری رائے میں وہ گھر بہشت کی طرح پاک اور برکتوں سے بھرا ہوا ہے جس میں مرد اور عورت میں محبت و اخلاص و موافقت ہو‘‘ ۔ (مکتوبات احمد جلد دوم، مکتوب 37 صفحہ 59)
ایک مومنہ بیوی کے اوصاف

اسلام نے اگر ایک طرف ایک خاوند کو بیوی سے حسن معاشرت کا پابند کیا ہے تو ایک مومنہ بیوی کے اوصاف کا بھی خوب وضاحت سے ذکر کیا ہے۔ ظاہر ہے کہ ان خوبیوں والی بیوی ہی عائلی زندگی کو خوبصورت بنانے میں اپنا کردار ادا کر سکتی ہے۔ ان صفات کا جامع ذکر قرآن مجید کی سورۃ الاحزاب آیت 36 میں ملتا ہے۔
رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی ایک مومنہ بیوی کی صفات اور فرائض کا تذکرہ فرمایا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’کوئی عورت اس وقت تک خدا تعالیٰ کا حق ادا کرنے والی نہیں سمجھی جاسکتی جب تک کہ وہ اپنے خاوند کا حق ادا نہیں کرتی‘‘۔ (سنن ابن ماجہ)
پھر فرمایا :’’جس عورت نے پانچوں وقت کی نماز پڑھی۔ رمضان کے روزے رکھے۔ اپنے خاوند کی فرمانبرداری کی اور اُس کا کہا مانا۔ ایسی عورت کو اختیار ہے کہ جنت کے جس دروازے سے چاہے داخل ہو‘‘۔ (طبرانی)
آنحضورصلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا۔ ’’بہترین عورت وہ ہے جسے اس کا خاوند دیکھے تو اس کا دل خوش ہو اور جب خاوند اس کو کوئی حکم دے تو وہ اس کی اطاعت کرے۔ اور جس بات کو اُس کا خاوند نا پسند کرے اُس سے بچے‘‘۔ (مشکوٰۃ)
اسی طرح ایک موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’خاوند کے گھر کی عمدگی کے ساتھ دیکھ بھال کرنے والی اور اسے اچھی طرح سنبھالنے والی عورت کو وہی ثواب اور اجر ملے گا جو اس کے خاوند کو اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے پر ملتا ہے‘‘۔ (حدیقۃ الصالحین، صفحہ 404)
حضرت ام سلمہؓ بیان کرتی ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم نے فرمایا: ’’جو عورت اس حالت میں فوت ہوئی کہ اس کا خاوند اس سے خوش اور راضی ہے تو وہ جنت میں جائے گی‘‘۔ (سنن ابن ماجہ، کتاب النکاح، باب حق الزوج علی المرأۃ)
مسیح پاک علیہ السلام کا ایک ارشاد بہت توجہ سے سننے کے لائق ہے۔ آپ نے فرمایا ہے : ’’عورتوں کے لئے خداتعالیٰ کا وعدہ ہے کہ اگر وہ اپنے خاوندوں کی اطاعت کریں گی تو خدا ان کو ہر ایک بلا سے بچاوے گا۔ اور ان کی اولاد عمر والی ہوگی اور نیک بخت ہوگی۔‘‘ (تفسیر حضرت مسیح موعودؑ، سورۃ النساء ،جلد 2، صفحہ237)
کسی بھی نظام کی کامیابی کا دارومدار اس بات پر ہوتا ہے کہ ہر فرد اپنی ذمہ داری صحیح طور پر ادا کرے۔ عائلی زندگی کی کامیابی کا مدار بھی اسی اصول پر ہے۔ خاوند اور بیوی دونوں اپنی اپنی ذمہ داری کو، اللہ تعالیٰ کی رضا کی خاطر، پورے اخلاص اور وفا سے ادا کرنے والے ہوں تو تب ہی ان کی زندگی برکتوں کی آماجگاہ بن سکتی ہے اور عاقبت بھی سنور جاتی ہے۔
ماں باپ سے حسن سلوک اور ان کے لئے دعا
اللہ تعالیٰ نے میاں بیوی کا رشتہ اس مقصد سے قائم فرمایا ہے کہ دونوں میاں بیوی ایک دوسرے کے لئے باعث تسکین ہوں۔ لیکن اس باہمی محبت و الفت کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ دونوں ایک دوسرے کی چاہت میں اس قدر ڈوب جائیں کہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ دیگر ذمہ داریوں کو بھول جائیں یا ان میں کوتاہی کریں۔
ایک بہت اہم ذمہ داری ماں باپ کے حوالہ سے ہے۔ بچے خواہ چھوٹے ہوں یا شادی شدہ ہوں ماں باپ کی خدمت کا سلسلہ ہمیشہ جاری رہنا چاہیے۔ ماں کو کندھوں پر اٹھا کر حج کروانے سے بھی ماں کی خدمت کا حق ادا نہیں ہوتا۔ سوئے ہوئے ماں باپ کے پاس ساری رات دودھ کا پیالہ لے کر کھڑے رہنے والے بیٹے کی نیکی کو اللہ تعالیٰ نے کس طرح نوازا۔ ماں کے قدموں کے نیچے جنت کی نوید ایسی نہیں کہ شادی ہو جانے کے بعد بیٹا بیٹی اپنی اس ذمہ داری کو بھول جائیں۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ساری زندگی دونوں طرف کے والدین کی خدمت لازم ہے اور بڑھاپے کی عمر میں تو یہ فرض اور بھی ضروری ہو جاتا ہے۔ خدمت کے علاوہ ماں باپ کے لئے مسلسل دعاؤں کی تعلیم اللہ تعالیٰ نے دی ہے۔ فرمایا کہ والدین کے لئے یہ دعا کیا کرو: رَّبِّ ارْحَمْہُمَا کَمَا رَبَّیٰنِیْ صَغِیْرًا (بنی اسرائیل25:) کہ اے میرے ربّ! ان دونوں پر رحم کر جس طرح ان دونوں نے بچپن میں میری پرورش اور تربیت کی۔
حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل ؓ کا نمونہ دیکھیں۔ آپؓ نے فرمایا : ’’میں اپنے ماں باپ کے لئے دعا مانگنے سے تھکتا نہیں۔ مَیں نے اب تک کوئی جنازہ ایسا نہیں پڑھا جس میں ان کے لئے دعا نہ مانگی ہو۔‘‘ (روزنامہ الفضل ربوہ 5 اکتوبر 2009ء )
یاد رکھنا چاہئے کہ جس گھر میں والدین کا ادب، احترام اور خدمت کا وصف نہیں وہ رحمتوں اور برکتوں سے محروم ہو جاتا ہے۔
تر بیت اولاد
خوشگوار اور با برکت عائلی زندگی کا ایک اور اہم پہلو بچوں کی نیک تربیت ہے۔ اس بات کی اہمیّت کو نظر انداز کرنے سے ، میاں بیوی کی باہمی محبت کے باوجود، ان کو آنکھوں کی حقیقی ٹھنڈک نصیب نہیں ہو سکتی۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’اللہ تعالیٰ نے قرآن شریف میں یہ دعا سکھلائی ہے کہ اَصْلِحْ فِی ذُرِّیَّتِیْ میرے بیوی بچوں کی بھی اصلاح فرما۔ اپنی حالت کی پاک تبدیلی اور دعاؤں کے ساتھ ساتھ اپنی اولاد اور بیوی کے واسطے بھی دعا کرتے رہنا چاہئے۔ کیونکہ اکثر فتنے اولاد کی وجہ سے انسان پر پڑجاتے ہیں اور اکثر بیوی کی وجہ سے‘‘۔ (ملفوظات جلددہم۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان۔ صفحہ 139)
اگر مرتے وقت کسی ماں یا باپ کو یہ نظر آئے کہ وہ ایک متقی اولاد پیچھے چھوڑ کر جا رہے ہیں تو ان کا سفر آخرت پُر سکون ہو جاتا ہے۔ رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم نے بھی فرمایا ہے کہ کیا ہی خوش قسمت وہ شخص ہے جو اپنے پیچھے ایسی اولاد چھوڑ کر جاتا ہے جو اس کے لئے دعا کرنے والی ہوتی ہے۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اچھی تربیت سے بڑھ کر کوئی تحفہ نہیں جو ایک باپ اپنی اولاد کو دے سکتا ہے۔ (ترمذی) نیز اس بات کی تلقین فرمائی: اَکْرِمُوْا اَوْلَادَکُمْ وَ اَحْسِنُوْا اَدَبَھُمْ (ابن ماجہ)کہ اپنے بچوں سے عزت سے پیش آیا کرو اور ان کی اچھی تربیت کرو۔
یہ بات اچھی طرح یاد رکھنے والی ہے کہ بچوں کی تربیت ماں اور باپ دونوں کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ باپ بھی اۡسی طرح مکلف ہے جس طرح ماں۔ دراصل دونوں مل کر ہی اس ذمہ داری کا حق صحیح طور پر ادا کرسکتے ہیں۔ بچوں کی نیک تربیت سے ہی ایک گھر واقعی طور پر جنت نظیر بنتا ہے۔اِس حوالہ سے یہ بات بہت اہم ہے کہ خود والدین بچوں کے لئے نیک نمونہ ہوں۔
حضرت مسیح پاک ؑ نے فرمایا : ’’خود نیک بنو اور اپنی اولاد کے لئے ایک عمدہ نمونہ نیکی اور تقویٰ کا ہو جاؤ اور اس کو متقی اور دیندار بنانے کے لئے سعی اور دُعا کرو۔ جس قدر کوشش تم ان کے لئے مال جمع کرنے کی کرتے ہو اسی قدر کوشش اس امر میں کرو… وہ کام کرو جو اولاد کے لئے بہترین نمونہ اور سبق ہو۔ اور اس کے لئے ضروری ہے کہ سب سے اوّل خود اپنی اصلاح کرو۔ اگر تم اعلیٰ درجہ کے متقی اور پرہیزگار بن جاؤگے اور خدا تعالیٰ کو راضی کر لو گے تو یقین کیا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہاری اولاد کے ساتھ بھی اچھا معاملہ کرے گا‘‘۔ (ملفوظات جلد8۔ ایڈیشن1985ء مطبوعہ انگلستان۔صفحہ110-109)
گھریلو زندگی میں آنحضورصلی اللہ علیہ و سلم کا اسوۂ حسنہ
حسنِ معاشرت کے بارہ میں ہمارے آقا محمد عربی صلی اللہ علیہ و سلم نے دنیا کے سامنے جو ایمان افروز نمونہ پیش فرمایا وہ رہتی دنیا تک سب مردوں کے لئے سبق آموز اسوۂ حسنہ ہے۔ مَیں چند امور آپ کے سامنے رکھتا ہوں اور مرد احباب سے اور بالخصوص ان مردوں سے جو گھریلوکام میں شامل ہونے کو عار سمجھتے ہیں مَیں ان سے کہتا ہوں کہ ذرا اسوۂ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے اس مصفّا آئینہ میں دیکھیں اور پھر خود اپنا جائزہ لیں کہ ان کا طرز عمل کیسا ہے؟
حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں کہ جتنا وقت آپؐ گھر پر ہوتے تھے گھر والوں کی مدد اور خدمت میں مصروف رہتے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ و سلم کو نماز کا بلاوا آتا اور آپؐ مسجد میں تشریف لے جاتے۔ (بخاری ، کتاب الادب)
حدیث میں آتا ہے کہ آپؐ گھر میں ہنستے کھیلتے، اہل و عیال سے خندہ پیشانی سے پیش آتے۔ ازواج مطہرات سے مزاح کرتے اور ان کی دلداری فرماتے۔ گھر کے کاموں میں مدد فرماتے۔ اگر کوئی بیوی آٹا گوندھ رہی ہوتی تو پانی لا دیتے۔ کھانا تیار ہورہا ہوتا تو چولہے میں لکڑیاں ڈال دیتے۔ گویا کہ بلا تکلف گھر کے کام کاج کرتے۔ (صحیح بخاری، کتاب النکاح)
اگر کبھی رات کو دیر سے گھر لوٹتے تو کسی کو زحمت دئیے یا جگائے بغیر کھانا یا دودھ خود ہی تناول فرما لیتے۔ (مسلم ، کتاب الاشربہ)
اس جگہ ذرا ایک لمحہ کے لئے رک کر سو چئے کہ ہم میں سے کتنے ہیں جو اِن باتوں میں ہادیٔ کامل صلی اللہ علیہ و سلم کی اقتدا کرنے والے ہیں؟
واقعات کے آئینہ میں
آئیے اب رسول پاک صلی اللہ علیہ و سلم کی مقدس زندگی میں حسن معاشرت کے چند واقعات پر نظر ڈالتے ہیں جن کی روشنی میں ہم سب اپنے اپنے حالات کا جائزہ لے سکتے ہیں۔
ایک دفعہ آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم اپنی زوجہ مطہرہ حضرت صفیہؓ کے ساتھ اونٹ پر سوار تھے کہ اونٹ کا پاؤں پھسلا اور آپ دونوں گر پڑے۔ حضرت ابو طلحہؓ فوراً آنحضور صلی اللہ علیہ و سلم کی طرف بڑھے۔ آپؐ نے فرمایا: عَلیْکَ بِالْمَرْاَۃِکہ پہلے عورت کا خیال کرو۔
ایک دفعہ کچھ ازواج مطہرات آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر میں ہمراہ تھیں۔ ایک غلام انجشہ نامی حُدی پڑھنے لگے۔ جس کی وجہ سے اونٹ تیز چلنے لگے اور خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں ازواج مطہرات جو اونٹوں پر سوار تھیں گر نہ جائیں۔ آپؐ نے فرمایا: رِفْقاً بِالْقَوَارِیْرِ کہ ذرا آہستہ چلو، آبگینوں کا خیال رکھو۔ (صحیح مسلم، کتاب الفضائل)
ایک ایرانی باشندہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و سلم کا ہمسایہ تھا جو سالن بہت عمدہ پکاتا تھا۔ اس نے ایک دن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے کھانا تیار کیا اور آپؐ کو دعوت دینے آیا۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم کا قیام حضرت عائشہؓ کے ہاں تھا۔ وہ اس وقت پاس ہی تھیں۔ آپؐ نے ان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ کیا یہ بھی ساتھ آجائیں۔ اس نے غالباً تکلیف اور زیادہ اہتمام کرنے کے اندیشہ سے نفی میں جواب دیا۔ آپؐ نے فرمایا: پھر میں بھی نہیں آتا۔ تھوڑی دیر بعد وہ دوبارہ بلانے آیا تو آپؐ نے پھر بتایا میری بیوی بھی ساتھ آئے گی۔ اس نے پھر نفی میں جواب دیاتو آپؐ نے دعوت میں جانے سے معذرت کردی۔ وہ چلا گیا۔ تھوڑی دیر بعد پھر آکر گھر آنے کی دعوت دی تو آپ نے پھر اپنا وہی سوال دہرایا کہ عائشہؓ بھی آجائیں تو اس مرتبہ اس نے حضرت عائشہؓ کو ہمراہ لانے کی حامی بھرلی۔ اس پر آپؐ اور حضرت عائشہؓ دونوں اس ایرانی کے گھر تشریف لے گئے اور وہاں جا کر کھانا تناول فرمایا۔ (مسلم کتاب الاشربہ)
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہود خیبر پر احسان فرماتے ہوئے حضرت صفیہؓ بنت حیی کو اپنے عقد میں لینا پسند فرمایا۔ جنگ خیبر سے واپسی کا وقت آیا تو صحابہؓ نے یہ عجیب نظارہ دیکھا کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم اونٹ پر حضرت صفیہؓ کے لئے خود جگہ بنا رہے ہیں۔ وہ عباجو آپ نے زیب تن کر رکھی تھی اُتاری اور اُسے تہہ کر کے حضرت صفیہؓ کے بیٹھنے کی جگہ پر بچھادی۔ پھر ان کو سوار کراتے وقت اپنا گھٹنا ان کے آگے جھکا دیا اور فرمایا، اس پر پاؤں رکھ کر اونٹ پر سوار ہو جاؤ۔ (بخاری کتاب المغازی باب غزوۃ خیبر)
ہمارے آقا محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن معاشرت کی اس سے زیادہ روشن دلیل اور کیا ہو سکتی ہے کہ اپنی وفات سے قبل جب آپ ؐ نے بیویوں سے فرمایا کہ تم میں سے سب سے پہلے مجھے آکر دوسرے جہاں میں وہ ملے گی جس کے ہاتھ لمبے ہوں گے۔ اس پر بیویوں کی محبت کا اور آپؐ کی قربت کے شوق کا یہ عالم تھا کہ وہ فورًااپنے ہاتھ ناپنے لگ گئیں۔ اس شوق میں وہ یہ بات کلیۃً فراموش کر بیٹھیں کہ یہ تو تب ہوگا جب موت کے دروازہ سے گزریں گی۔ یہ تڑپ اور شوقِ لقا آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے حسن واحسان اور حسن معاشرت کی بے مثل دلیل ہے۔

حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے تاکیدی ارشادات
آنحضرت صلی اللہ علیہ و سلم کے غلامِ صادق حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے چند ارشادات بھی سماعت فرمائیں جو حسن معاشرت سے تعلق رکھتے ہیں :
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنی جماعت کے دوست احباب کے متعلق ناپسند فرماتے تھے کہ وہ عورتوں سے سختی سے پیش آئیں۔ حضرت مولانا عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ جو طبیعت کے ذرا سخت تھے۔ایک بار اپنی بیوی کے ساتھ سختی کے ساتھ پیش آئے۔ حضرت مسیح موعودؑ کو الہام ہوا۔ ’’یہ طریق اچھا نہیں۔ اس سے روک دیا جائے۔ مسلمانوں کے لیڈر عبدالکریم کوخُذِالرِّفْقَ۔ اَلرِّفْقَ فَاِنَّ الرِّفْقَ رَأْسُ الْخَیْرَاتِ۔ نرمی کرو۔ نرمی کرو کہ تمام نیکیوں کا سر نرمی ہے۔‘‘ (تذکرہ صفحہ 409 ایڈیشن 1956ء )
اس الہام الٰہی کی تشریح کرتے ہوئے حضرت مسیح پاک ؑ فرماتے ہیں:
’’اس الہام میں تمام جماعت کے لئے تعلیم ہے کہ اپنی بیویوں سے رِفق اور نرمی کے ساتھ پیش آویں۔ وہ ان کی کنیزکیں نہیں ہیں۔ درحقیقت نکاح مرد اور عورت کا باہم ایک معاہدہ ہے۔ پس کوشش کرو کہ اپنے معاہدہ میں دغا باز نہ ٹھہرو۔ … روحانی اور جسمانی طور پر اپنی بیویوں سے نیکی کرو۔ ان کے لیے دعا کرتے رہو‘‘۔ (اربعین نمبر 3۔روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 428حاشیہ)
ایک صحابی کے بارہ میں یہ بات حضرت مسیح موعودؑ کے علم میں آئی کہ ان کا سلوک اپنی اہلیہ سے اچھا نہیں۔اس پر ان کے نام ایک درد بھرے مکتوب میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے تحریر فرمایا:
’’اپنی بیویوں… کو اس مسافر خانہ میں اپنا ایک دلی رفیق سمجھو اور احسان کے ساتھ معاشرت کرو۔ … عزیز من انسان کی بیوی ایک مسکین اور ضعیف ہے جس کو خدا نے اس کے حوالہ کردیا اور وہ دیکھتا ہے کہ ہر یک انسان اس سے کیا معاملہ کرتا ہے۔ نرمی برتنی چاہئے اور ہر یک وقت دل میں یہ خیال کرنا چاہئے کہ میری بیوی ایک مہمان عزیز ہے جس کو خدا تعالیٰ نے میرے سپرد کیا ہے اور وہ دیکھ رہا ہے کہ میں کیونکر شرائط مہمان داری بجالاتا ہوں۔ میں ایک خدا کا بندہ ہوں اور یہ بھی ایک خدا کی بندی ہے۔ مجھے اس پر کونسی زیادتی ہے۔ خونخوار انسان نہیں بننا چاہیے۔ بیویوں پر رحم کرنا چاہئے اور ان کو دین سکھلانا چاہیے۔ درحقیقت میرا یہی عقیدہ ہے کہ انسان کے اخلاق کے امتحان کا پہلا موقعہ اس کی بیوی ہے‘‘۔ (تفسیر حضرت مسیح موعودؑ جلد 2 صفحہ 230)
حضرت مسیح پاک علیہ السلام کی عائلی زندگی کے چند نمونے
حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت امّاں جان رضی اللہ عنہا کے درمیان محبت و پیار ، اطاعت و خدمت اور حسن سلوک کا جو شاندار اور مثالی تعلق تھا وہ بھی ہم سب کے لئے ایک اور آئینۂ ہدایت ہے۔ ان واقعات کو سنتے ہوئے ہم میں سے ہر ایک کو اپنا جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ چند نمونے پیش کرتا ہوں۔
حضرت ڈاکٹر میر محمد اسما عیل صاحبؓ فرماتے ہیں:
’’مَیں نے اپنے ہوش میں نہ کبھی حضورؑ کو حضرت امّ المؤمنین سے ناراض دیکھا، نہ سنا۔ بلکہ ہمیشہ وہ حالت دیکھی جو ایک آئیڈیل (Ideal) مثالی جوڑے کی ہونی چاہئے‘‘۔ (سیرت حضرت سیّدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہؓ صفحہ 231)
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی اہلی زندگی کیسی پُر سکون اور محبتوں والی زندگی تھی۔ غور فرمائیں حضرت امّ المؤمنین سیّدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان فرماتی ہیں:
’’میں پہلے پہل جب دلّی سے آئی تو مجھے معلوم ہوا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام گُڑ کے میٹھے چاول پسند فرماتے ہیں۔ چنانچہ میں نے بہت شوق سے اور اہتمام سے میٹھے چاول پکانے کا انتظام کیا۔ تھوڑے سے چاول منگوائے اور اس میں چار گنا گُڑ ڈال دیا۔ وہ بالکل راب سی بن گئی۔ جب پتیلی چولہے سے اتاری اور چاول برتن میں نکالے تو دیکھ کر سخت رنج اور صدمہ ہوا کہ یہ تو خراب ہو گئے۔ ادھر کھانے کا وقت ہو گیا تھا۔ حیران تھی کہ اب کیا کروں اتنے میں حضرت صاحب آگئے۔ میرے چہرے کو دیکھا جو رنج اور صدمہ سے رونے والوں کا سابنا ہوا تھا۔ آپ دیکھ کر ہنسے اور فرمایا کیا چاول اچھے نہ پکنے کا افسوس ہے؟ پھر فرمایا نہیں ،یہ تو بہت اچھے ہیں۔ میرے مزاج کے مطابق پکے ہیں۔ ایسے زیادہ گُڑ والے تو مجھے پسند ہیں۔یہ تو بہت ہی اچھے ہیں اور پھر بہت خوش ہو کر کھائے۔ حضرت صاحب نے مجھے خوش کرنے کی اتنی باتیں کیں کہ میرا دل بھی خوش ہوگیا۔‘‘
(سیرت حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ از شیخ محمود احمد عرفانی، حصہ اول صفحہ 218-217)
کھانے میں ذرا سی کمی رہ جانے پر سیخ پا ہو جانے والے خاوند اس مثال کو یاد رکھیں تو کیا ہی اچھا ہو !۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت امّاں جان کی چھوٹی سے چھوٹی بات کا خیال رکھا کرتے تھے اور ہر تکلیف کو فوری دور کرنے کی کوشش کرتے۔ اسی طرح بیماری میں آپ کی تیمارداری کرتے۔ حضرت اماں جانؓ کی بات کو بڑی عزت دیا کرتے تھے یہاں تک کہ جو خادمائیں آپ کے گھر کام کرنے آیا کرتی تھیں وہ یہ کہا کرتی تھیں کہ ’’مِر جا بیوی دی گل بڑی مندا ہے۔‘‘ (سیرت حضرت مسیح موعودؑ صفحہ 40)
اس تعلق میں دلداری کا یہ واقعہ بھی ایمان افروز ہے۔
ابتدائی زمانہ میں حضرت امّاں جان پانی لینے کے لئے مرزا سلطان احمد صاحب کی حویلی میں جایا کرتی تھیں جہاں ایک کنواں ہوتا تھا۔ ایک مرتبہ آپ اس کنویں سے رات نو بجے کے قریب گرمیوں کے موسم میں پانی لینے گئیں … ۔ اس دوران باتوں باتوں میں حضرت امّاں جان کسی بات پر ہنسیں۔ مرزا سلطان احمد صاحب کی اہلیہ نے جب آپ کے ہنسنے کی آواز سنی تو کہنے لگیں کہ اگر ایسی بات ہے تو گھر میں کنواں کیوں نہیں لگا لیتیں؟ یہ بات سن کر حضرت امّاں جان نہایت غمگین ہو کر گھر واپس آگئیں۔
جب حضرت صاحب کو اس واقعہ کا علم ہوا تو آپ نے اسی وقت حضرت ملک غلام حسین صاحب کو بلا کر … فرمایا کہ ابھی مرزا محمد اسمٰعیل صاحب کے پاس جائیں اور کہیں کہ دو چار کھودنے والوں کو بلایا جائے۔ چنانچہ رات کے دس بجے چار کھودنے والے آگئے اور صبح تک آٹھ سے نو فٹ تک کنواں کھود دیا گیا۔ بعد میں ایک آدمی بٹالہ سے اینٹیں لینے بھی بھیجا گیا اور جلد سے جلد کام کروا کر یہ کنواں 15 دن کے اندر اندر تیار کردیا۔ (الحکم 28 اپریل 1935ء صفحہ4)
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی اہلی زندگی ہمارے لئے مثال ہے۔ آپس (کی محبت) کا یہ عالم تھا کہ ایک روز حضرت امّاں جانؓ نے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام سے مخاطب ہو کر کہا: ’’میں ہمیشہ دعا کرتی ہوں کہ خدا تعالیٰ مجھے آپ کا غم نہ دکھائے اور مجھے آپ سے پہلے اٹھالے۔‘‘یہ سن کر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: ’’اور میں ہمیشہ دعا کرتا ہوں کہ تم میرے بعد زندہ رہو اور میں تم کو سلامت چھوڑ جاؤں۔‘‘ (سیرت حضرت امّاں جان شائع کردہ مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان صفحہ3)
گھروں کو جنت نظیر بنانے کے مختلف طریق

شادی جو ایک مقدس دائمی رفاقت کا نام ہے اس کو واقعی طور پر کامیاب اور خوشگوار بنانے کے لئے اسلامی تعلیمات سے متعلق چند اور امور کا ذکر کرتا ہوں۔
میاں بیوی کے اکثر جھگڑے ایک دوسرے کی خامیاں تلاش کرنے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ کتنی کم ظرفی کی بات ہے کہ میاں بیوی ایک دوسرے کی کمزوریاں تو چُن چُن کر تلاش کریں اور ان کی وجہ سے آپس میں جھگڑتے رہیں اور یہ کوشش نہ کریں کہ اپنے جیون ساتھی کی خوبیوں پر بھی نظر کرلیں۔
حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرماتے ہیں:
’’آپس میں صلح و صفائی کی فضا پیدا کرنی چاہئے۔ یہ میاں بیوی دونوں کو نصیحت ہے کہ اگر دونوں ہی اپنے جذبات کو کنٹرول میں رکھیں ….۔ ذرا ذرا سی بات پر معاملات بعض دفعہ اس قدر تکلیف دِہ صورت اختیار کر جاتے ہیں کہ انسان سوچ کر پریشان ہوجاتا ہے کہ ایسے لوگ بھی اس دنیا میں موجود ہیں کہ جو کہنے کو تو انسان ہیں مگر جانوروں سے بھی بد تر۔‘‘ (خطبہ جمعہ 2 جولائی 2004 ء از خطباتِ مسرور جلد دوم صفحہ 450)
حضور انور کی یہ پیاری نصیحت ہر وقت یاد رکھنے کی ضرورت ہے۔ایک موقع پر آپ نے فرمایا: ’’ایک دوسرے کی خامیاں تلاش کرنے کی بجائے ایک دوسرے کی خوبیاں تلاش کریں‘‘۔ (خطبہ جمعہ 8 نومبر 2013ء )
اگر میاں بیوی میں کسی بات پر اختلاف ہو جائے اور وہ غصہ میں آکر بد کلامی اور الزام تراشی کی راہ پر چل نکلے ہوں تو دونوں کے لئے یہ نصیحت بہت ہی مفید ہے کہ وَالْکَاظِمِیْنَ الْغَیْظَ کے مطابق اپنے غصّہ کو پی جائیں۔اور جواب دینے کی بجائے خاموشی اختیار کر لیں۔ اس طریق سے ان کی لڑائی آگے نہیں بڑھے گی۔
ایک اور عمدہ طریق یہ ہے کہ میاں بیوی کو ہمیشہ باہم ایک دوسرے پر پورا اعتماد رکھنا چاہئے۔ بلا وجہ تجسّس اور عیب چینی کا طریق اختیار نہیں کرنا چاہئے۔ ایک دوسرے کے خطوط پڑھنا، فونوں پر نظر رکھنا ، جیبوں کی خفیہ تلاشی لینا وغیرہ بہت سی باتیں ہیں جو بد ظنی کا موجب بن کر بالآخر تعلقات کو ختم کرنے کا باعث بن جاتی ہیں۔ اس ضمن میں حضرت خلیفۃالمسیح الاوّلؓ کی ایک بات ہمیشہ یاد رکھنے والی ہے ، آپ فرماتے ہیں کہ ’’مَیں نے جب سے شادیاں کی ہیں آج تک اپنی کسی بیوی کا کوئی صندوق کبھی ایک مرتبہ بھی کھول کر نہیں دیکھا۔‘‘ (بحوالہ الفضل ربوہ 5؍اکتوبر 2009ء)
قول سدید کی ضرورت
خطبہ نکاح کے موقع پر پڑھی جانے والی آیات میں ایک خاص نصیحت قول سدید کے بارہ میں ہے۔ یعنی جب بھی بات کی جائے سچی اور کھری ہو۔ سیدھی اور صاف بات ہو۔ اس میں کوئی بھی ایچ پیچ نہ ہو۔ یہ ایک ایسی سنہری نصیحت ہے جس کو اگر دیانتداری سے پلّے باندھ لیا جائے تو وہ مشکلات اور مسائل جو شادی کے بعد سر اٹھاتے ہیں کبھی پیدا نہیں ہو سکتے۔ رشتہ طے کرتے وقت بہت سے والدین اپنے بچوں کی کمزوریاں ، بُری عادات اور جسمانی حالات کُھل کر بیان نہیں کرتے اس خوف سے کہ ان باتوں کا ذکر ہوا تو رشتہ نہیں ملے گا۔ یہ بات دونوں طرف سے ہوتی ہے۔ ایک دوسرے کو اندھیرے میں رکھ کر والدین سمجھتے ہیں کہ ہم نے بچوں کا فائدہ کیا ہے حالانکہ جب یہ باتیں شادی کے بعد کھل کر سامنے آتی ہیں تو بات ناچاقی سے شروع ہو کر خلع یا طلاق تک نوبت پہنچ جاتی ہے بلکہ خاندانوں کے تعلقات تک منقطع ہو جاتے ہیں۔ جھوٹ اور اخفاء سے اور قولِ سدید سے کام نہ لینے کی وجہ سے دونوں خاندان ساری زندگی مشکلات میں گرفتار رہتے ہیں اور اپنی غلطی کا خمیازہ بھگتتے رہتے ہیں۔
کیا ہی مبارک ہے وہ گھرانہ جس میں صدقِ دل سے محبت اور پیار کی زبان بولی جاتی ہے ، کہ دلوں کو جیتنے کا اس سے بہتر کوئی اور ذریعہ نہیں !
بے جا مداخلت کی مضرّت
طلاق اور خلع کی بڑھتی ہوئی رفتار کی ایک وجہ میاں اور بیوی دونوں کے والدین کا بچوں کے عائلی معاملات میں بے جا مداخلت اور اپنی مرضی کو بچوں پر زبردستی ٹھونسنا ہے۔ وہ والدین بہت خوش نصیب اور مبارکباد کے مستحق ہیں جو بچوں کی شادی کے بعد ان کے معاملات میں ہرگز بے جا مداخلت نہیں کرتے۔
اسلام نے ایک طرف تو بچوں کو یہ تعلیم دی کہ وہ اپنے والدین کی اطاعت بھی کریں ان کی خدمت بھی کریں احسان کا سلوک کریں ان کے لئے دعائیں بھی کرتے رہیں اور دوسری طرف والدین کو نصیحت فرمائی کہ چھوٹی عمر میں بچوں کی تربیت کا پورا پورا حق ادا کریں اور بلوغت کے بعد ان پر یہ بات اچھی طرح واضح کردیں کہ اب وہ اپنے اعمال کے خود ذمہ دار اور اللہ تعالیٰ کے حضور پوری طرح جواب دِہ ہیں۔ شادی کے بعد جب ان کے بچے اور بچیاں اپنی ازدواجی زندگی میں داخل ہوتے ہیں تو پھر انہیں آزادی اور باہمی اتفاق سے اپنے معاملات طے کرنے کا موقع دینا صحیح طریق عمل ہے۔
رحمی رشتہ داروں سے حسن سلوک
ایک اور قابل توجہ اور اہم بات رحمی رشتہ داروں سے حسن سلوک ہے۔اس بات کی اہمیّت اس امر سے واضح ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تقویٰ کی نصیحت کے معاً بعد اس کا ذکر فرمایا ہے۔ آیت قرآنی ہے کہ :وَاتَّقُواللّٰہَ الَّذِیْ تَسَآء لُوْنَ بِہٖ وَالْاَرْحَامَ (النّساء: 2) کہ اے مومنو ! اللہ تعالیٰ کی ناراضگی اور پکڑ سے ڈرو کہ جس کے نام کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے مانگتے ہو اور پھر رِحموں کے تقاضوں کا بھی خاص طور پر خیال رکھو۔ اس ارشاد سے پتہ لگتا ہے کہ تقویٰ کا ایک تقاضا یہ ہے کہ رشتہ داروں سے حسن سلوک کیا جائے کہ یہ نیکی بھی حصول تقویٰ کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا یہ ارشاد بھی حرزِ جان بنانے کی ضرورت ہے۔ آپؑ فرماتے ہیں: ’’جو شخص اپنی اہلیہ اور اس کے اقارب سے نرمی اور احسان کے ساتھ معاشرت نہیں کرتا وہ میری جماعت میں سے نہیں ہے‘‘۔ (کشتی نوح، روحانی خزائن، جلد 19، صفحہ19)
رِحمی رشتہ داروں سے تعلقات کے حوالہ سے ایک افسوسناک بات یہ سامنے آتی ہے کہ اگر ایک طرف سے کوئی بدسلوکی ہو تو کہا جاتا ہے کہ ہم بھی ویسا ہی جواب دیں گے۔ یہ بات مومنانہ اخلاق کے بالکل خلاف ہے۔ اس سلسلہ میں حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے زمانہ کا ایک واقعہ پیش کرتا ہوں جس سے سخت مزاج لوگوں کو سبق سیکھنا چاہئے۔ ’’چوہدری نذر محمد صاحبؓ روایت کرتے ہیں کہ میں حضور ؓ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک اور دوست ملنے کے لئے آئے اور انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے ذکر کیا کہ ان کے سسرال والوں نے، ان کی بیوی بڑی مشکلوں سے ان کو دی ہے اس لئے اب وہ بھی اپنی بیوی کو اس کے ماں باپ کے پاس نہ بھجوائیں گے۔ چوہدری نذر محمد صاحب بیان کرتے ہیں کہ حضور ؑ کا چہرہ سرخ ہو گیا اور حضورؑ نے بڑے غصّہ سے اس دوست کو فرمایا کہ فی الفور یہاں سے دُور ہو جاؤ۔ ایسا نہ ہو کہ تمہاری وجہ سے ہم پر بھی عذاب آجائے۔ اس پر وہ دوست باہر چلے گئے اور پھر تھوڑی دیر بعد حضورؑ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ وہ تو بہ کرتا ہے جس پر حضورؑ نے اسے بیٹھنے کی اجازت عطا فرمائی۔‘‘ (رجسٹر روایات صحابہ نمبر 1 از محمد اکبر صاحب محلہ کبیرآباد ملتان)
طلاق میں جلدی کی ممانعت
ایک اور خرابی جو آج کل بڑی تیزی سے پھیل رہی ہے یہ ہے کہ شادی کے مقدس بندھن کو توڑنا یعنی طلاق دینا ایک معمولی بات سمجھ لیا گیا ہے حالانکہ اس رشتہ کو توڑنا ایک سنگین معاملہ ہے اور ہمارے آقا محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اَبْغَضُ الْحَلَالِ اِلیٰ اللّٰہِ عَزَّوَجَلّ اَلطَّلَاقُ۔ (ابو داؤد کتاب الطلاق) کہ ان باتوں میں سے جو شرعی طور پر جائز تو ہیں لیکن خدائے بزرگ و برتر کے نزدیک سب سے بۡری اور ناپسندیدہ بات ایک خاوند کا اپنی بیوی کو طلاق دینا ہے۔ وہ مرد جو ذرا ذرا سی بات پر سیخ پا ہوجاتے ہیں اور غصہ میں ایسے بے قابو ہوجاتے ہیں کہ بیوی کی ساری خوبیاں اور عائلی زندگی کی سب خوشیاں یکسر بھول جاتے ہیں اور اسلامی تعلیمات کو بڑی جہالت سے پسِ پشت ڈالتے ہوئے سالوں کے رشتوں کو ایک لمحہ میں ختم کردیتے ہیں۔ انہیں کچھ خیال نہیں آتا کہ اس جلدبازی کے اقدام سے وہ اپنے لئے، اپنی بیوی کے لئے اور اپنے بچوں کے لئے کن مشکلات کے دروازے کھول رہے ہیں۔ نفسانی جوش سے مغلوب ہو کر وہ اس ارشاد کو بھی بھول جاتے ہیں کہ اللہ اور رسول کا فرمان کیا ہے اور مسیح پاک علیہ السلام نے ہمیں کیا تعلیم دی ہے۔
مسیح پاک علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’طلاق سے پرہیز کرو کیونکہ نہایت بد، خدا کے نزدیک وہ شخص ہے جو طلاق دینے میں جلدی کرتا ہے۔ جس کو خدا نے جوڑا ہے اس کو ایک گندہ برتن کی طرح جلد مت توڑو‘‘۔ (ضمیمہ تحفہ گولڑویہ صفحہ 25 حاشیہ اور اربعین نمبر 3 صفحہ 38 حاشیہ اور روحانی خزائن جلد 17 صفحہ 429-428)
ایسے مغلوب الغضب خاوند جو ذرا ذرا سی بات پر بپھر جاتے ہیں اور نہایت متکبرانہ انداز میں سالوں کے مقدس تعلق کو چکنا چور کر دیتے ہیں انہیں یہ بات یاد رکھنی چاہئے کہ ایک بنی ہوئی دیوار کو گرانا تو آسان ہے۔ ایک دھکے سے دیوار گر جاتی ہے لیکن اس کو بنانے کے لئے لمبی محنت درکار ہوتی ہے۔ پس یہ بہت ہی نادانی اور نا عاقبت اندیشی کی بات ہے کہ کھڑے کھڑے ایک ہنستے بستے خاندان کو اجاڑ کر رکھ دیا جائے۔ ایک مومن کو خدا خوفی سے کام لیتے ہوئے ایسا قدم اٹھانے سے قبل سو بار سوچنا چاہئے اور کبھی بھی جلدی نہیں کرنی چاہئے۔
قطع تعلقی اور طلاق کے حوالہ سے ایک واقعہ قابل ذکر ہے۔
؎ شاید کہ اتر جائے کسی دل میں مری بات
حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ایک صحابی ’’ افریقہ میں ملازم تھے اور بہت خوشحال زندگی بسر کرتے تھے۔ ان کی دو بیویاں تھیں۔ دونوں ہی قادیان دار الامان میں رہا کرتی تھیں۔ 1899ء کی بات ہے انہوں نے حضرت حکیم مولانا نور الدین رضی اللہ عنہ کو ایک خط لکھ کر ان سے درخواست کی کہ ان دونوں بیویوں کو ان کے پاس افریقہ بھجوادیا جائے۔ اس خط میں انہوں نے یہ بھی لکھ ڈالا کہ جو بیوی آنے سے انکار کرے اسے مَیں طلاق دیتا ہوں۔ ان کا یہ خط حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا گیا تو حضور علیہ السلام کو بہت ہی دکھ پہنچا۔ امام الزماں نے حضرت مولوی نور الدین رضی اللہ عنہ کو فرمایا وہ تو جب طلاق دے گا۔ ان کو لکھ دیں کہ: ’’ایسے شخص کا ہمارے ساتھ تعلق نہیں رہ سکتا کیونکہ جو اتنے عزیز رشتہ کو ذرا سی بات پر قطع کر سکتا ہے وہ ہمارے تعلقات میں وفاداری سے کیا کام لے گا‘‘۔ (سیرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام از شیخ یعقوب علی عرفانیؓ صفحہ 253)
پس مقامِ خوف ہے ایسے خاوندوں کے لئے جو طلاق میں جلد باز ہیں۔ دیکھیں اس جلد بازی سے معاملہ کہاں سے کہاں پہنچ سکتا ہے!
حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی نصائح
اس تقریر کی تیاری کے سلسلہ میں جب میں نے سیّدنا حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ارشادات کو دیکھنا شروع کیا تو یہ بات بہت نمایاں ہو کر سامنے آئی کہ عبادات، قربانیوں اور عملی اصلاحات کے ساتھ ساتھ جو بات آپ کے ارشادات میں نمایاں طور پر شامل رہی ہے وہ عائلی معاملات کی اصلاح ہے۔ ایک موقع پر مردوں اور عورتوں دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا: ’’ہر ایک نے اپنے اپنے اعمال کا جواب دینا ہے۔ خدا تعالیٰ کے آگے جب پیش ہونا ہے تو اپنے اعمال کا جواب ہر ایک نے خود دینا ہے۔ اس لئے اس سوچ کے ساتھ ہر ایک کو اپنے جائزے لینے کی ضرورت ہے۔‘‘ (خطاب 14 جون 2014 برموقع جلسہ سالانہ جرمنی بحوالہ الفضل ربوہ 18 جولائی 2014)
مختلف انداز میں، دلی محبت اور پیار سے حضور انور نے جو نصائح بیان فرمائی ہیں ان کو حرز جان بنانا ہمارا فرض ہے۔ اگر یہ نہیں تو خلافت کی اطاعت اور وفا کے دعوے سب جھوٹے اور بے بنیاد ہیں۔ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے ایک موقع پر فرمایا کہ :’’اللہ تعالیٰ میرے الفاظ میں اثر پیدا کر دے کہ اجڑتے ہوئے گھر جنّت کا گہوارہ بن جائیں‘‘۔ (خطبات مسرور جلد چہارم ، صفحہ 564)
اس درد اور کرب کو جو ہمارے پیارے آقا حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے دل میں ہے خود اپنے دلوں میں اتارنے کی ضرورت ہے تا ہماری طرف سے ہمارے پیارے آقا کی آنکھیں ہمیشہ ٹھنڈی رہیں۔
اختتامیہ
آج ظلمت و گمراہی کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں بھٹکنے والی انسانیت امن کی متلاشی ہے۔ وہ امن جو ایک فرد کی ذات اور اس کے گھر سے شروع ہو کر رفتہ رفتہ ساری دنیا کو اپنی آغوش میں لے لیتا ہے۔ جب تک دلوں میں سکون اور عائلی زندگی میں جنت کی کیفیت نہ ہو، امنِ عالم کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ پس ضرورت ہے کہ آج احمدی گھرانوں کو اسلامی تعلیمات کی روشنی میں جنت نظیر بنا دیا جائے۔ یہی جنتیں ہیں جو بالآخر ساری دنیا کو امن کا گہوارہ بنا دیں گی۔
پس ہم احمدی مسلمان جواللہ تعالیٰ کے فضل سے ساری دنیا کو رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ و سلم کے جھنڈے تلے لانے کے لئے کوشاں ہیں ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم صرف زبان سے نہیں بلکہ اپنے عمل سے دنیا پر ثابت کریں کہ ہم ہیں جنہوں نے اسلامی تعلیمات پر عمل کر کے یہ جنت اپنے گھروں میں پیدا کرلی ہے۔ آؤ اے محرومو ! تم بھی اسی راہ پر چل کر اپنے گھروں کو امن اور آشتی کے نور سے بھر دو کہ آج حقیقی امن اور سکون کی راہ ایک ہی ہے جو معاشرہ کی جہنم کو جنت میں تبدیل کرنے کی طاقت رکھتی ہے۔
پس اے محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ و سلم کے سچے غلامو ! جن کو امام الزّمان حضرت مسیح پاک علیہ السلام کے ذریعہ ایک نئی زندگی اور نیا عرفان نصیب ہوا ہے اٹھو ! اور اپنے عمل سے دنیا پر ثابت کر دو کہ آج اندھیروں سے نکلنے کی ایک ہی راہ ہے جو اسلام کی نورانی شاہراہ ہے۔ اپنے نمونہ سے دنیا کو بتا دو کہ اسلامی تعلیمات کو اپنانے کے سوا دنیا و آخرت کو سنوارنے کی کوئی اور ضمانت نہیں۔
اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق دے کہ ہم اپنے نیک نمونہ کے ذریعہ ساری دنیا کو نجات کا پیغام دینے والے بن جائیں۔
واٰخر دعوانا ان الحمد للّٰہ ربّ العالمین
