محترمہ امۃالقیوم ناصرہ صاحبہ
(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، روزنامہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ ؍مارچ 2026ء)
رسالہ ’’خدیجہ‘‘ جرمنی برائے 2014ء میں مکرمہ ڈاکٹر امۃالرقیب ناصرہ صاحبہ اور مکرمہ امۃالرفیق صاحبہ کے قلم سے اُن کی والدہ محترمہ امۃالقیوم ناصرہ صاحبہ کا تفصیلی ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔
محترمہ امۃالقیوم صاحبہ بنت حضرت میاں عبدالعزیز صاحبؓ یکم نومبر 1933ء کو امرتسر میں پیدا ہوئیں۔ آپ کی والدہ محترمہ زینب بی بی صاحبہ کو حضرت اُمّ ناصرصاحبہؓ کے گھر ایک لمبا عرصہ خدمت کی توفیق ملی۔
محترمہ امۃالقیوم صاحبہ کو حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کے قائم فرمودہ مدرسۃالخواتین میں تعلیم حاصل کرنے کا موقع بھی ملا۔ آپ کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت محبت تھی اور کثرت سے درود شریف پڑھتی تھیں۔ آنحضرت ﷺ کی مدح میں حضرت مسیح موعودؑ کا قصیدہ اور منظوم کلام خوش الحانی سے پڑھا کرتیں۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے نام سے تحریکِ جدید کا چندہ ہر سال ادا کرتیں۔ خود بھی نعت کہی اور احادیث یاد کرکے اُن پر عمل کرنے کی ہمیشہ کوشش کرتیں۔
آپ کو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام اور آپؑ کے خاندان سے بھی والہانہ محبت اور عقیدت تھی۔ حضرت اماں جانؓ کا ذکربہت محبت سے کرتی تھیں۔ آپ کو رتن باغ لاہور اور ربوہ میں لمبا عرصہ حضرت اُمّ المومنین ؓکی بابرکت صحبت سے فیضیاب ہونے کا موقع ملتا رہا۔ خو اتین مبارکہ کی پاک اور نیک سیرت کو بار بار جماعت میں بیان کرتیں۔ اِس غرض کے لیے آپ نے بکثرت مضامین لکھے، تقاریرکیں اور MTA پر پروگرام ریکارڈ کروائے۔ آپ کی وفات کے بعد آپ کی ڈائری میں ہم نے پڑھا ’’میں چاہتی ہوں کہ جب میں اس دنیا سے جاؤں تو لوگ کہیں کہ یہ خاندانِ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی عاشق تھی جو چلی گئی۔‘‘
آپ کو 1991ء میں جلسہ سالانہ قادیان میں شمولیت کا موقع ملا تو دہلی میں کوشش کرکے حضرت امّاں جانؓ کا آبائی گھر ڈھونڈا جہاں اُن کے رشتے میں ایک بھائی اور بھابھی مقیم تھے۔ آپ نے ان سے خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر ہونے والی بر کات کا ذکر کیا اور سمجھایا کہ آپ بھی بیعت کرلیں۔ انہوں نے آپ کو وہ مسجد بھی دکھائی جہاں حضرت امّاں جانؓ کا نکاح ہوا تھا۔ انہوں نے اپنا شجرہ نسب بھی دیا جو آپ نے حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی خدمت میں پیش کردیا۔ آپ کا اُن سے مستقل رابطہ تھا اور آپ نے ان کو اخبارالبدر بھی لگواکر دیا تھا۔ وہ بعدازاں قادیان بھی آئے۔
آپ کوخلافت سے نہایت درجہ کا عشق تھا اور کامل اطاعت کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔ یہی عشق اور فرمانبرداری اپنی اولاد میں پیدا کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔ حضرت مصلح موعودؓ اور حضرت اُمِّ ناصرؓ کی باتیں بہت محبت سے بتایا کرتیں۔ قادیان سے پاکستان ہجرت پھر رتن باغ لاہور اور ربوہ کے ابتدائی حالات و واقعات بھی بتاتیں کہ حضرت مصلح موعودؓ کا یہ بہت بڑا کارنامہ تھا کہ کس طرح خدا تعالیٰ کی مدد سے ساری جماعت کو محفوظ طریق پر قادیان سے نکال لیا۔ آپ بیان کیا کرتی تھیں کہ مَیں رتن باغ میں تھی کہ ایک قافلہ قادیان سے آیا۔ حضرت مصلح موعودؓ دوسری منزل میں اپنے کمرے میں کچھ لکھ رہے تھے۔آپؓ کو جیسے ہی علم ہوا آپؓ جلدی سے بالکنی میں آئے اور ساتھ ساتھ الحمدللہ الحمدللہ فرماتے جارہے تھے۔ اُس وقت خطرے کے پیش نظر عورتوں نے برقعے نہیں پہنے ہوئے تھے بلکہ چادریں لی ہوئی تھیں تاکہ حملہ کرنے والوں کو معلوم نہ ہو کہ یہ عورتیں ہیں۔ حضورؓ کو بہت فکر ہوئی کہ شاید مرد آگئے ہیں اور عورتوں کو قادیان چھوڑ آئے ہیں۔ آپؓ نے مجھے فرمایا کہ بھاگ کر جاؤ اور معلوم کرو کہ یہ عورتیں ہیں یا مرد ہیں۔ مَیں نے معلوم کیا تو محافظوں نے بتایا کہ یہ عورتیں ہیں۔ اس پہ حضرت مصلح موعود ؓکو اطمینان ہوا۔ آپ بتاتی تھیں کہ خاندان حضرت اقدس ؑ کی خواتین مبارکہ آنے والی خواتین کو بہت پیار سے خوش آمدید کہتیں اور اُن کی خدمت کے لیے ڈیوٹیاں دیتیں۔ اسی طرح ربوہ میں آمد اور پھر ساری جماعت کا ایک احاطے میں اکٹھے رہنا، سب سنایا کرتی تھیں۔
آپ بیان کرتی تھیں کہ میں جب سیرالیون سے واپس پاکستان آئی اور حضرت مصلح موعودؓ کی زیارت کے لیے حاضر ہوئی تو آپ بہت بیمار تھے اور چارپائی پر لیٹے ہوئے تھے۔ مَیں پاس فرش پر بیٹھ گئی۔ حضورؓ نے سیرالیون کی جماعتوں کا حال دریافت فرمایا تو مَیں نے اُن کا سلام عرض کرکے کہا: حضور! وہ لوگ آپ سے بےحد محبت کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ہمیں تم سے اس لیے محبت ہے کہ تم ہمارے پیارے خلیفہ کے پاس سے آئی ہو۔ اِس پر آپؓ نے بےحد خوشی سے گلوگیر آواز میں فرمایا کہ اسلام بھی پہلے افریقہ سے ہی پھیلا تھا اب احمدیت بھی پہلے افریقہ سے ہی پھیلے گی دیکھنا۔
حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے جب وقف نو کی تحریک جاری فرمائی تو آپ نے حضورؒ کی خدمت میں خط تحریر کیا کہ میری آئندہ جتنی نسل ہوگی وہ تمام کی تمام میں وقف کرتی ہوں۔ حضورؒ نے ازراہ شفقت اس درخواست کو قبول فرمایا اور خط کے اوپر ہی بہت پیارے جواب سے نوازا۔
حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے بہت محبت تھی۔ حضورانور اور حضرت آپا جان کے لیے دعائیں کرتیں اور صدقہ نکالتیں۔ حضورانور جرمنی تشریف لاتے تو دُعاؤں اور صدقات میں تیزی آجاتی اور اپنی خرابی صحت کے باوجود نمازوں کی ادائیگی کے لیے قریباً سارا دن بیت السبوح سینٹر فرینکفرٹ میں گزارتی تھیں۔ حضورانور کے استقبال کے لیے ترانے اور نظمیں لکھتیں۔ آپ کی دونظمیں جلسہ سالانہ جرمنی کے دو جلسوں کے لجنہ سیشن کے ترانوں میں پڑھی گئیں۔ دسمبر2006ء میں جس دن حضورانور جرمنی تشریف لائے تو آپ بعارضہ قلب ہسپتال میں داخل تھیں لیکن انہوں نے کہا کہ میں نے حضور کے استقبال کے لیے جانا ہے۔ ڈاکٹروں نے منع کیا لیکن وہ بیت السبوح آئیں اور حضورانور کی زیارت سے ہی خدا تعالیٰ کے فضل سے صحت یاب ہوگئیں۔

آپ کی شادی 1950ء میں محترم مولانا محمد صدیق امرتسری صاحب واقف زندگی سے ہوئی۔ اس حوالے سے حضرت مصلح موعودؓ نے سالانہ اجتماع انصاراللہ 1957ء کے موقع پر احمدی خواتین کی قربانیوں کے ضمن میں آپ کا ذکر اِس طرح فرمایا: ’’اس طرح ہمارا ایک مبلغ افریقہ گیا تھا، واپس آکر ایک لڑکی سے اُس نے شادی کرنی چاہی۔ اُس کی پہلے ایک شادی ویسٹ افریقہ میں ہو چکی تھی۔ اب ایک غیرملکی مبلغ سے شادی کرنا جبکہ اُس کی ایک بیوی پہلے سے موجود ہو اور جبکہ اُس ملک میں اتنا رواج ہو کہ لوگ ڈیڑھ ڈیڑھ سو بیویاں کرتے ہوں بڑی قربانی چاہتا ہے مگر وہ لڑکی راضی ہوگئی۔ چنانچہ اب وہ افریقہ پہنچ چکی ہے۔ اُس نے بڑی محبت سے اپنی سوکن کے بچوں کو پالا۔ وہ مبلغ افریقہ سے یہاں آیا تھا اور اپنی ایک بیوی کو بھی یہاں لایا تھا اور دو بچے بھی ساتھ تھے۔ وہ لڑکی اپنے خاوند کی پہلی بیوی کا بھی خیال رکھتی رہی اور اس کے بچوں کا بھی خیال رکھتی رہی۔ … اب وہ میرے ایک بھتیجے کی بیوی کے ساتھ مل کر انگلستان کے رستہ اپنے خاوند کے پاس پہنچ گئی ہے۔‘‘ (روزنامہ الفضل 5؍نومبر1957ء)
سیرالیون میں آپ نے لجنہ اماءاللہ اور ناصرات الاحمدیہ قائم کی۔ تاریخ لجنہ جلد دوم میں تحریر ہے کہ (امۃالقیوم) اہلیہ مولوی محمد صدیق صاحب کی آمد پر ان کے خیرمقدم کے لیے جلسہ کیا گیا۔ ایڈریس کے جواب میں انہوں نے لجنہ اماءاللہ کی تاریخ اور اس کی غرض و غایت سے آگاہ کرکے لجنہ کے قیام کی تحریک کی اور اس طرح Bo (سیرالیون کا ایک شہر) میں لجنہ کا احیاء ہوا اور Muzuluma میں بھی لجنہ کی ایک برانچ قائم ہوئی۔ مئی1957ء میں ان کی زیر نگرانی لجنہ کے باقاعدہ اجلاس شروع ہوئے جن میں لجنہ کی لوکل عہدیداران کے علاوہ محترمہ امۃالقیوم صاحبہ خود بھی باقاعدہ حسب موقع تربیتی اور تنظیمی لیکچرز دیتی رہیں۔… محترمہ موصوفہ نے یہ بھی تحریک کی کہ احمدی بہنیں بو (Bo) میں آکر دینی ٹریننگ حاصل کریں۔… لجنہ کے علاوہ پانچ سے پندرہ سال کی عمر کی احمدی بچیوں کی تربیت کے لیے ناصرات الاحمدیہ کا قیام بھی عمل میں آیا اور ان کے بھی ہفتہ وار اجلاس ہوتے رہے۔
آپ نے ایک واقف زندگی سے شادی کے بعد ہر قسم کے حالات میں نہایت صبر اور شکر سے وقت گزارا۔ مشکل سے مشکل حالات میں ثابت قدم رہتیں اور بچوں کو بھی شکرگزاری اور ثابت قدم رہنے کی تلقین کرتی تھیں۔ محترم مولوی صاحب لمبا عرصہ تبلیغ کی غرض سے بیرون ملک رہے اس دوران نہ صرف نہایت ذمہ داری اور صبر کے ساتھ بچوں کی پرورش کی بلکہ تقریباً 15 سال تک نصرت گرلز ہائی سکول ربوہ میں ملازمت بھی کی اور دوسری بچیوں کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ہم سب بہن بھائیوں کی دینی تربیت کا خیال رکھا۔ ہم کوارٹرز تحریک جدید میں رہتے تھے۔ یہ گھر آمنے سامنے تھے۔ ان کوارٹرز کا نقشہ حضرت مصلح موعودؓ نے انتہائی خوبصورت بنوایا تھا۔ ان کوارٹرز کے دو کمروں، ایک سٹور، برآمدے اور صحن پر مشتمل گھروں میں چھ، سات بچوں والے خاندان رہتے تھے اور کبھی جگہ کی تنگی محسوس نہیں ہوتی تھی۔
آپ ایک انتہائی محبت کرنے والی ماں تھیں۔ اگر کوئی بچہ بیمار ہوجاتا تو بہت تیمارداری کرتیں اور بہت خیال رکھتیں۔ اپنا کھانا پینا آرام سب چھوڑ دیتیں۔ اس لیے ہم اکثر آپ سے بیماری چھپانے کی کوشش کرتے تھے۔ اگرچہ آپ ہم سب کے لیے خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسے تھیں جیسے سخت تپتے ہوئے صحرا میں کوئی ٹھنڈی چھاؤں ہو۔ ہمسایوں سے بھی ہمیشہ اچھا سلوک کرتیں۔ اگر کسی کے گھر اچانک کوئی ایمرجنسی ہوتی تو فوراًجاکر مدد کرنے کی کوشش کرتی تھیں۔ بیماروں کا بھی بہت خیال رکھتیں۔ مختلف ہومیوپیتھک اور حکمت کی دوائیاں مثلاً معجون، چورن وغیرہ اپنے پاس رکھا کرتی تھیں۔ کوئی بھی بیمارہوتا اس کو مناسب حال دوا پیش کر دیتیں۔
ہم نے اپنے بچپن ہی سے آپ کوباقاعدگی اور انہماک سے عبادات بجالاتے ہوئے دیکھا۔ وہ بتایا کرتی تھیں کہ انہوں نے چھوٹی عمر سے ہی نماز تہجد ادا کرنا شروع کردی تھی۔ اُن کی ساری عمر کا یہ طریق تھا کہ مشکل وقت میں حضرت خلیفۃالمسیح کی خدمت میں دُعائیہ خط تحریر کرکے نوافل کی ادائیگی شروع کردیتیں یا پھر سارے بچوں کو ساتھ ملاکر قرآن کریم پڑھتی اور دُعائیں کرتی تھیں۔ ان کو باجماعت نماز ادا کرنے کا بہت شوق تھا۔ گھر میںبھی ہمیشہ نماز باجماعت ادا کرتی تھیں۔ ہم چھوٹے تھے تو اکثر امی کو دیکھتے کہ وہ نوافل ادا کرنے کے لیے نہا دھو کے خوشبو لگا کر خوبصورت سا دوپٹہ لے کر خدا تعالیٰ کے حضور کھڑی ہوتیں۔
آپ کو قرآن کریم سے بے پناہ محبت تھی۔ آپ نے کئی احباب و خواتین سے قرآن کریم کا ترجمہ پڑھا تھا۔ ان میں حضرت امّ داؤد سیّدہ صالحہ بیگم صاحبہؓ حرم حضرت میر محمد اسحاق صاحبؓ اور حضرت سیدہ چھوٹی آپا صاحبہ بھی شامل ہیں۔ حضرت سیدہ امّ متین صاحبہ نے جب اپنے گھر میں ترجمۃالقرآن کلاس لگانی شروع کی تو آپ بھی جاتیں اور ہمیں بھی بھیجتیں۔ ربوہ میں اپنے گھر میں باقاعدہ شام کو مستورات کی ترجمۃالقرآن کی کلاس لگاتی تھیں۔ کئی سال محلّہ میں رمضان کے مہینہ میں خواتین میں قرآن کریم کا درس دینے کی توفیق پائی۔ جرمنی آکر بھی ہمبرگ سٹی کے متعدد حلقہ جات میں کلاس میں قرآن کریم باترجمہ پڑھاتی رہیں اور اِسی طرح بوسنین مہاجرین کے کیمپوں اور کئی گھروں میں خود جا کر قرآن کریم پڑھاتیں۔ خداتعالیٰ کے فضل سے کئی غیرملکی خواتین و بچیوں کو قرآن کریم ناظرہ و باترجمہ پڑھایا۔ فرینکفرٹ سٹی میں سالانہ تعلیمی تربیتی کلاسز کے مواقع پر خواتین مبارکہ کے واقعات آسان فہم انداز میں ناصرات کو سُناتیں۔ آپ جماعتی عہدیداران کا بےانتہا احترام کرتیں اور خدمت دین کے لیے ہمہ وقت تیار رہتیں۔ لجنہ کے ہر پروگرام میں شمولیت کو سعادت جانتے ہوئے شرکت کی کوشش کرتیں۔
آپ بڑھ چڑھ کر مالی قربانی کرنے والی تھیں۔ خلیفہ وقت کی طرف سے کی جانے والی ہر تحریک پر اوّل وقت میں لبّیک کہتیں۔ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے کوپن ہیگن (ڈنمارک) کی مسجد کی تحریک فرمائی تو آپ نے اپنا زیور فروخت کرکے چندہ کی ادائیگی کی۔ خود انتہائی کفایت شعاری سے گزارہ کرکے چندہ دینے کی کوشش کرتیں۔ ہمیں بھی ہمیشہ نصیحت کرتیں کہ فضول خرچی سے بچو اور پیسے بچا کے زیادہ چندہ دو۔ اگر معلوم ہوتا کہ ہم میں سے کسی نے زیادہ خرچ کیا ہے تو ناراض ہوتیں۔ بعض اوقات پیسے نہ ہوتے اور زیادہ چندہ لکھوا دیتیں لیکن خدا تعالیٰ کا اتنا پیارا سلوک تھا کہ خدا خود ہی غیب سے سامان کر دیتا تھا۔ چنانچہ حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ نے جب فضل عمر فاؤنڈیشن کے لیے چندہ کی تحریک کی تو آپ نے تین صد روپے کا وعدہ کیا۔ ڈیڑھ صد روپے جو کسی ضرورت کے لیے رکھے ہوئے تھے فوراً ادا کردیے، باقی نصف ادا کرنے کے لیے قرض لینے کی کوشش کی مگر نہ ملا۔ چندہ کی ادائیگی کی مدت ختم ہونے میں صرف تین دن رہ گئے تو بہت دعائیں کیں۔ انہی دنوں ڈاکیا کراچی بینک کا منی آرڈر لایا۔ آپ نے کہا کہ کراچی میں میرا کوئی اکاؤنٹ نہیں ہے۔ ڈاکیے نے کہا آپ کا ہی نام اور ایڈریس لکھا ہوا ہے۔ آپ نے پھر بھی انکار کیا تو اس نے کہا آپ وصول کرلیں اگر کسی اَور کا ہوا تو میں آپ سے لے لوں گا۔ آپ نے کہا اگر میں نے خرچ کرلیے تو کیا ہوگا۔ بحث کے باوجود وہ رقم دے گیا۔ وہ پونے دوصد روپے تھے۔ خدا کا شکر ادا کرکے پہلے تو آپ نے بقیہ ڈیڑھ صد روپے چندہ ادا کیا۔
آپ تدریس کے شعبہ سے وابستہ تھیں۔ تنخواہ ملتی تو سکول سے سیدھی سیکرٹری مال مکرمہ نعیمہ حمید صاحبہ اہلیہ مکرم حمید احمد خالد صاحب کے گھر جاتیں اور چندہ جات کی ادائیگی کے بعد جو باقی بچتا وہ لے کر گھر آتیں۔ آنحضرت ﷺ، بعض انبیاء علیہم السلام، کچھ خواتین مبارکہ اور اپنے مرحومین کی ایک فہرست بنا کرچندہ تحریک جدید کی مد میں ادائیگی کرتیں۔ بڑی فراخدلی اور خاموشی سے صدقہ و خیرات بھی کرتیں۔ ہمیں بھی صدقہ وخیرات کی تلقین کرتیں۔ ہیومینٹی فرسٹ کے تحت افریقہ میں ایک بچے کی کفالت بھی کررہی تھیں۔ آپ کی ذات میں بنی نوع انسان سے ہمدردی کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔ ہمارے بچپن میں گھر میں انتہائی مشکل حالات اور تنگدستی کے باوجود محلے میں مقیم غرباء کی ضروریات کو اہمیت دیتیں اور اپنے ہاتھ سے کھانا تیار کرکے بھجواتی تھیں۔ کسی کی تکلیف پر بےچین ہوکر تب تک دعا میں لگی رہتیں جب تک خیریت کی خبر نہ آجاتی ۔
آپ کے دل میں تبلیغ دین کرنے کے لیے بےانتہا تڑپ تھی۔ افریقہ میں قیام کے دوران لجنہ کے کام کے علاوہ تبلیغ میں ہمارے والد محترم کی مدد کرتی تھیں۔ بڑی بہادری سے بغیر کسی جھجک کے ہر کسی کو حکمت سے تبلیغ کرتیں۔ پا کستان میں مولویوں کو بھی تحریری تبلیغ کرتی تھیں اور جرمنی آکر بھی پاکستان کی بعض سیاسی شخصیات اور مولویوں کو تبلیغی خطوط لکھتی رہیں۔ لمبا عر صہ ہمبرگ سٹی میں تبلیغ کا فریضہ سرانجام دیتی رہیں۔ روزانہ بوسنین کیمپوں میں جا کر تبلیغ کرتیں اور اُن کے لیے کھانے پکا کر، ہومیوپیتھک ادویات اور کپڑے لے کر جاتی تھیں۔ بہت سی بوسنین خواتین آپ کی بہنیں بنی ہوئی تھیں۔ تبلیغ کی غرض سے قریباً 74 سال کی عمر میں جرمن زبان سکول جاکر سیکھی۔ تبلیغی پروگراموں کے دعوت نامے ہمسایوں کے علاوہ بس سٹاپ پہ کھڑے ہوکر بھی تقسیم کرتیں۔ بعض لوگ بہت خوش ہوتے تھے اور پروگرام میں آنے کا وعدہ بھی کرتے تھے مگر کچھ لو گ ڈانٹ بھی دیتے تھے۔

ایک بار میرا بھتیجا بھی ان کے ساتھ تھا ۔ اس نے کہا کہ مجھے اچھا نہیں لگتا کہ لوگ آپ کو ڈانٹ دیتے ہیں۔ آپ نے کہا مجھے تو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ میں نے تو پیغام پہنچانا ہے کیونکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ ’’ہمارے اختیار میں ہو تو ہم فقیروں کی طرح گھر بہ گھر پھر کرخدا تعالیٰ کے سچے دین کی اشاعت کریں…‘‘ (ملفوظات جلد دوم صفحہ نمبر219۔ایڈیشن 2003ء)
آپ نے خدا تعالیٰ کے فضل سے ہمبرگ میں ایک سو سے زائد بیعتیں کروائیں۔ تبلیغ کی غرض سے اپنے پاس چاکلیٹ اور لٹریچر رکھتی تھیں۔ تعلقات مضبوط کرنے کے لیے ہمسایوں میں کھانا پکاکر تقسیم کرتیں۔ آخری بیماری میں ہسپتال کے عملے کو بھی تبلیغ کرتی رہیں۔ اُن میں چاکلیٹ، پمفلٹ اور کتب تقسیم کیں۔ وہاں پر موجود ایک غانین خاتون نے چار دنوں میں آپ کو ماما (والدہ) بنا لیا تھا۔ ہر کسی سے بےپناہ محبت اور اخلاص کے ساتھ پیش آتی تھیں۔ بچوں کے ساتھ بچہ بن جاتیں۔ آپ کے جرمن، افغانی، ترک، عرب، سب ہمسائے آپ کی وفات پہ غمزدہ تھے۔
آپ میں ہر کام کے لیے بہت جوش اور ولولہ ہو تا تھا۔ اگر کبھی طبیعت خراب بھی ہوتی تو بھی جلسے پر لندن یا سوئٹزرلینڈ جانے کا پروگرام بنالیتیں کہ خلیفہ وقت کو دیکھ کر طبیعت ٹھیک ہوجائے گی۔ اور یہی ہوتا بھی تھا۔ ہمیشہ خداتعالیٰ سے دعا کرتیں کہ ان کو کبھی کوئی محتاجی نہ ہو۔ سو خداتعالیٰ نے اپنے فضل اور رحم سے ان کو بغیر لمبی بیماری یا محتاجی کے اپنی رحمت کی چادر میں ڈھانپ لیا۔ مورخہ 22؍مئی 2013ء کو قریباً 80 سال کی عمر میں آپ نے وفات پائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین ہوئی۔ حضرت خلیفۃ المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے ازراہِ شفقت نمازِ جنازہ غائب بھی پڑھائی۔
