محترمہ کوثر شاہین ملک صاحبہ — جرمنی
(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، روزنامہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ 3؍مارچ 2026ء)
لجنہ اماءاللہ جرمنی کے رسالہ ’’خدیجہ‘‘ جلد2014ء نمبر1 میں محترمہ کوثر شاہین ملک صاحبہ سابق نیشنل صدر لجنہ اماءاللہ جرمنی کا اختصار سے ذکرخیر مکرمہ نادرہ یاسمین رامہ صاحبہ کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
مکرمہ کوثر شاہین صاحبہ 1945ء میں پیدا ہوئی تھیں اور 24؍جنوری2012ء کو 67؍سال کی عمر میں آپ کی وفات ہوئی۔ آپ نے مڈل تک تعلیم لاہور سے حاصل کی۔ پھر ربوہ آگئیں اور بی اے تک تعلیم حاصل کی۔ بعدازاں گورنمنٹ کالج لاہور سے ایم اے کیا اور پھر بی ایڈ کی ڈگری حاصل کی۔ اکتوبر1974ء میں شادی کے بعد آپ جرمنی آگئیں۔
جرمنی آنے کے چند ماہ بعد لجنہ اماءاللہ جرمنی کی جنرل سیکرٹری بنائی گئیں اور 1985ء میں صدر منتخب ہوئیں اور چھ سال تک یہ خدمت سرانجام دی۔ یہ سارا دَور ایسا تھا جس میں جماعت جرمنی نے پاکستان سے آنے والے ہزاروں مہاجرین کی وجہ سے ہر پہلو سے ترقی کی۔ چنانچہ 1985ء میں لجنہ کے کُل 11؍حلقہ جات تھے جن کی تعداد آپ کے دورِ صدارت کے اختتام تک 114؍ تک پہنچ گئی۔ آپ کے دورِ صدارت میں حضرت سیّدہ مریم صدیقہ صاحبہؒ (چھوٹی آپا) دو دفعہ جرمنی تشریف لائیں اور بہت سے تربیتی اور تنظیمی امور انہیں سمجھائے۔ ایک بار آپ کے کام کی تعریف کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ آگے کام کرنے والے بھی بناؤ، یہ سوچو کہ میرے بعد ایسے لوگ ہوں جو اس کام کو میرے سے بہتر کرسکیں۔ اس نصیحت کو آپ نے ہمیشہ پیش نظر رکھا۔
آپ کو دیگر کئی اہم خدمات سرانجام دینے کی توفیق بھی ملتی رہی مثلاً ریجنل صدرلجنہ فرینکفرٹ، نیشنل سیکرٹری اشاعت لجنہ اور ہیومینٹی فرسٹ کی نیشنل معاونہ وغیرھ۔ جب حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے آپ کو شعبہ سمعی و بصری کے تحت آڈیو کیسٹس کی لائبریری بنانے کا ارشاد فرمایا تو آپ نے ایک بڑی ٹیم بناکر بہت محنت کرکے حضورؒ کے تمام خطبات، خطابات اور مجالس عرفان کی کیسٹس کی لائبریری بنائی اور انڈیکس تیار کروایا۔ لجنہ کے تحت جلسہ سالانہ اور اجتماعات کے مواقع پر ان کیسٹس کے سٹال بھی لگائے جاتے۔
آپ کا حلقۂ احباب بہت وسیع تھا۔بہت مہمان نواز اور بااخلاق تھیں۔ دوسروں کی خدمت کرکے خوشی محسوس کرتیں۔ اللہ کی ذات پر بہت توکّل تھا۔
