محترمہ کوثر شاہین ملک صاحبہ
(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، روزنامہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ 3؍مارچ 2026ء)
لجنہ اماءاللہ جرمنی کے رسالہ ’’خدیجہ‘‘ جلد2014ء نمبر1 میں مکرمہ ہما امبر بلوچ صاحبہ اپنی والدہ مکرمہ کوثر شاہین ملک صاحبہ کی یادیں بیان کرتے ہوئے تحریر کرتی ہیں کہ حضرت قاضی محبوب عالم صاحبؓ (نیلاگنبد لاہور والے) امّی جان اور میرے والد دونوں کے نانا تھے۔ شادی کے بعد 1974ء میں امّی جرمنی آگئیں اور یہاں جرمن زبان کا کورس کرنے کے بعدایک فرم میں چار سال تک کام کیا۔ ساتھ ہی گھریلو اور جماعتی ذمہ داریاں بھی احسن رنگ میں ادا کیں۔ ان ہی دنوں حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ جرمنی تشریف لائے تو حضورؒ نے خصوصیت سے خواتین کی توجہ پردے کی جانب مبذول کروائی۔ اس پر امّی نے نہ صرف خود پردہ کرنا شروع کردیا بلکہ حضورؒ کی ہدایت کے مطابق تقریر اور تحریر کے ذریعے دوسروں کو بھی بارہا اس طرف توجہ دلائی۔ کئی مضامین لکھے۔ آپ بہت اچھی مقررہ تھیں۔ فَاسْتَبِقُوْاالْخَیْرَاتِ کے حوالے سے لجنہ میں تلقین عمل کرتیں تو ممبرات نہایت شوق اور جذبے سے چندوں میں بڑھ چڑھ کے حصہ لیتی تھیں۔

آپ کے دَورِ صدارت میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ نے جلسہ سالانہ جرمنی 1988ء کے بعد لجنہ جرمنی کی عاملہ میٹنگ میں جلسے کے دوران ڈسپلن پر خوشنودی کا اظہارفرمایا تو ایک عاملہ ممبر نے حضورؒ سے درخواست کی کہ آپ ازراہ شفقت ہمارے سر پر ہاتھ پھیردیں۔ اس پر حضورؒ مسکرائے اور امّی کے سر پر ہاتھ پھیر کر انہیں فرمایا کہ اب آپ باقی سب کے سروں پر ہاتھ پھیر دیں۔
امی کا ناصرات کے ساتھ بھی ایک خاص تعلق تھا۔ لوگوں کے دکھ سکھ میں شامل ہوتیں۔ کوشش کرتیں کہ ہر ایک آپس میں صلح اور امن سے رہے۔ آپ کی گھریلو زندگی بھی اس بات کی گواہ تھی۔ آپ عبادت گزار اور نیک خاتون تھیں۔ نماز جمعہ پابندی کے ساتھ ادا کرنے کی کوشش کرتیں۔ لجنہ جرمنی کے رسالہ ’’خدیجہ‘‘ کا آغاز آپ کے دورِ صدارت میں ہوا۔
آپ جماعتی میٹنگز کی یا دوسروں کی ذاتی بات کسی دوسرے کو کبھی نہیں بتاتی تھیں، اگر مَیں کبھی اس حوالے سے پوچھتی بھی تو کہتی تھیں یہ امانت میں خیانت ہوگی۔
امی بہت مہمان نواز تھیں، اگر کوئی تھوڑی سی دیر کے لیے بھی ہمارے گھر آتا تو آپ موسم کے مطابق ضرور کچھ کھانے پینے کے لیے پیش کرتی تھیں۔ آپ بچوں سے بہت پیار کرتیں لیکن اُن کی تربیت کا بھی خیال رکھتیں۔ میری ایک بیٹی نے مجھے بتایا کہ ایک رات میں اُن کے ساتھ لیٹی ہوئی تھی تو مَیں نے اُن سے کہا کہ آپ ماما سے کہیں کہ مَیں سوگئی ہوں۔ اس پر انہوں نے کہا یہ تو ایک جھوٹ ہوگا، یہ تو مَیں نہیں کہہ سکتی۔
ہم دو بہن بھائی ہیں اور ہمارے درمیان چار سال کا فرق ہے۔ امی جان نے ہمیں بڑے صبر و تحمل سے پالا۔ ہماری تربیت ہمیشہ اپنا اعلیٰ نمونہ دکھاکر کی۔ ہم دونوں کے ساتھ ہمیشہ برابری کا سلوک کیا۔ جب ہم سے کوئی غلطی ہوتی تو آپ ہم سے ناراض تو ہوتیں لیکن کبھی ہمیں مارا نہیں بلکہ مایوسی کا اظہار کرتیں اور کچھ دیر کے لیے بات نہ کرتیں۔ لیکن یہ تھوڑی سی دیر بھی ہمیں بہت زیادہ لگتی تھی اور ہم اپنی اصلاح کرلیتے۔ آپ کہتی تھیں کہ بچوں کو کبھی بھی مارنا نہیں چاہیے بلکہ صبر اور پیار کے ساتھ ان کی تربیت کرنی چاہیے۔ مارنے سے بچوں پر اچھا اثر نہیں پڑتا اور ان میں ضد آجاتی ہے۔
میرے شوہر مکرم ڈاکٹر محمد سرفراز بلوچ صاحب کہتے ہیں کہ مرحومہ بہت علمی شخصیت تھیں جس کا اظہار اُن کے ساتھ علمی تبادلۂ خیال کے ذریعے اکثر ہوتا رہتا تھا جس کا عملی اظہار ان کی زندگی میں ہمیشہ جاری رہا۔ مثلاً جب اُن کی گردے کی پیوندکاری کی گئی تو مَیں نے ہسپتال جاکر اُن کو سلام کیا۔ تب وہ بےہوشی کی دواؤں کے زیراثر تھیں اس لیے میری آواز پہچان نہ سکیں اور اس حالت میں بھی ان کے منہ سے بےساختہ نکلا: ’’میرا دوپٹہ میرا دوپٹہ‘‘۔ خاکسار کے دوپٹہ دینے پر وہ دوبارہ بےہوشی کی حالت میں چلی گئیں۔ یہ حیران کُن تھا کہ ایسی حالت میں بھی ان کو اپنے پردے کی فکر تھی جس حالت میں مریضوں کو اپنے زندہ ہونے کا بھی احساس نہیں ہوتا۔ گویا انہوں نے اپنی زندگی میں پردے پراتنا عمل کیا تھا کہ یہ عمل تحت الشعور کا ایک حصہ بن چکا تھا۔ اسی طرح ایک بار مجھے تعلیم کے لیے کچھ رقم کی ضرورت پڑی تو آپ نے مجھے وہ رقم قرض کے طور پر دے دی لیکن قرآنی حکم کے مطابق خاکسار سے قرضے کی تفصیلات کے بارے میں تحریری معاہدہ کیا۔ خداتعالیٰ کے احکام کی پابندی کا یہ دوسرا واقعہ بھی اثر کے لحاظ سے خاکسار کے لیے مثال ہے۔
میری بھابی بیان کرتی ہیں کہ میری امی (اُن کی ساس صاحبہ) بہت پیار اور انصاف کرنے والی خاتون تھیں۔ نکاح کے موقع پر میرا ہاتھ میرے شوہر کے ہاتھ پر رکھ کر انہیں کہا کہ وہ میرا ہاتھ آخری دم تک تھامے رکھیں اور میرے ساتھ ہمیشہ عزت سے پیش آئیں۔ یہ الفاظ ایک روایتی ساس کے نہیں بلکہ ایک ماں کے تھے۔ اسی طرح انہوں نے ساری زندگی کبھی میرے اور اپنی بیٹی کے درمیان کوئی فرق نہیں رکھا۔ یہاں تک کہ جب بات کرتیں تب بھی ان کا انداز ہم دونوں کے لیے ایک جیسا ہوتا۔ ایک مرتبہ جب وہ لندن میں میرے گھر کچھ عرصہ کے لیے رہنے کے لیے آئیں تو مجھے ایسا لگا کہ جیسے ایک مہربان ماں میرے گھر آئی ہیں۔ وہ نہ صرف گھریلو کاموں میں میرا ہاتھ بٹاتی تھیں بلکہ ایک کامیاب شادی شدہ زندگی گزارنے کے لیے بہت سے مشورے بھی دیتی رہیں۔ میرے بچوں کی تربیت میں میری مدد کی۔ وہ ان کے ساتھ بہت پیار کرتی تھیں، مگر بلا وجہ ناز نخرے نہیں اٹھاتی تھیں۔ میں نے بچوں کی تربیت کے لیے جو اصول بنائے تھے بچوں سے ہمیشہ ان کی پابندی کرواتیں۔ انہوں نے اپنے پیار اور عمل سے مجھے اور میرے بچوں کو اللہ سے پیار کرنا سکھایا۔
میرے بھائی نے بتایا کہ جب مَیں چوتھی کلاس میں تھا تو مجھے دوسرے مذاہب میں بھی دلچسپی پیدا ہوئی اور میں نے امی جان سے پوچھا کہ اسلام کیوں اتنا دلچسپ نہیں ہے جبکہ دوسرے مذاہب میں تو اتنے معجزات اور کئی خدا ہوتے ہیں۔ اس پر انہوں نے مسکراتے ہوئے سمجھایا کہ اسلام تو ایک مکمل، معجزات سے بھرپور اور زندہ مذہب ہے جسے ہر طرح کے دلائل سے سمجھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں میری حوصلہ افزائی کی کہ مَیں خود دوسرے مذاہب کے بارے میں تحقیق کرکے اسلام کے ساتھ موازنہ کروں اور پھر پورے یقین کے ساتھ اسلام قبول کروں نہ کہ بِلاسوچے سمجھے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ تم جو بھی معلومات اکٹھی کروگے ہم اُس پر ڈسکشن کریں گے اور مَیں بھی پھر اُن باتوں پر تحقیق کروں گی جن کا جواب مَیں نہیں دے سکوں گی۔
جب میں سترہ سال کا تھا توامی جان نے ایک مرتبہ مجھ سے پوچھا کہ کیا کوئی ایسی بات ہے جس کے بارے میں مَیں تمہیں مکمل طور پر نہیں بتاسکی، یعنی صحیح اورغلط میں فرق، یا اچھے اور برے کی پہچان، جس کے مطابق تم اپنی زندگی کے فیصلے کرسکو؟ یہ بات سن کر مَیں پریشان ہوگیا اور پوچھا کہ آپ کا کیا مطلب ہے؟ انہوں نے جواب دیا کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ مجھ سے پوچھے گا کہ کیا تم نے اپنے بچوں کی صحیح تربیت کی ہے؟ اس لیے اگر تمہیں کسی دینی یا دنیاوی بات کی سمجھ نہیں آئی تو مجھے ابھی بتادو کیونکہ تمہارے ہر کام میں خدا تعالیٰ کی خوشنودی شامل ہونی چاہیے۔ مَیں نے جواب دیا کہ آپ نے اپنا فرض اچھی طرح ادا کیا ہے۔ اس پر انہوں نے کہا: تم ایک مرتبہ پھر سوچ لو کیونکہ اگر کبھی تم سے کوئی کام اسلامی تعلیم کے خلاف سرزد ہوا تو میں تمہیں اپنا بیٹا تسلیم نہیں کروں گی۔ امی کی یہ بات سن کر اس وقت تومیں بہت ڈر گیا تھا لیکن ساتھ ہی فخر بھی محسوس کر رہا تھا کہ امی نے اﷲ کو دنیا کی ہر چیز پر مقدّم رکھا۔
مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ مَیں اس وقت پانچ سال کی تھی جب امی جان صدر لجنہ اماءاللہ جرمنی تھیں یعنی جب سے مَیں نے ہوش سنبھالا اور ان کی وفات تک ان کو خدمت دین میں مصروف دیکھا۔
امی نماز کی بہت پابندی کرتی تھیں۔ خواہ وہ گھر پر ہوتیں یا کسی تقریب میں، کبھی بھی نماز نہیں چھوڑتی تھیں۔ ہسپتال میں اپنے آخری دنوں میں بھی کمزوری کے باوجود ہمیشہ وضو کرکے نماز ادا کرتی تھیں۔ آپ کو تبلیغ کا بھی بہت شوق تھا۔ ہسپتال میں نرس کو بھی تبلیغ کیا کرتی تھیں۔ وہ کہتی تھی کہ مسز ملک کو مجھ سے زیادہ میرے دین کے بارے میں علم ہے۔
امی اپنے چندہ جات باقاعدگی سے پہلی تاریخوں میں ادا کرتیں اور یہ سلسلہ ہسپتال میں بھی جاری رہتا۔وہاں چندے کی رقم ادا کرنے کے لیے مجھے دیتی تھیں۔آپ کی وصیت کا حساب ہمیشہ مکمل ہوتا تاکہ اولاد پر کوئی بوجھ نہ پڑے۔ جب بھی کوئی آپ کا حال پوچھتا تو اپنی کینسر کی بیماری کے باوجود ہمیشہ یہی کہتیں کہ الحمدللہ مَیں ٹھیک ہوں۔
آپ قرآن کریم اور آنحضرت ﷺ کی تعلیمات کے مطابق مثالی نمونہ قائم کرنے والی ایک بہترین احمدی مسلمان تھیں۔ شدید بیماری کے باوجود کبھی مایوس نہیں ہوئیں۔ مَیں نے آپ سے ایک مرتبہ پوچھا کہ آپ نے تو اتنی دینی خدمت کی ہے تو پھر ﷲ تعالیٰ نے آپ کو اتنی بڑی بیماری کیوں دی؟ آپ نے جواب دیا کہ یہ تو اللہ کا فضل اور جماعتی خدمت کا پھل ہے کہ مجھے زیادہ تکلیف نہیں ہے۔ ورنہ مجھے اس سے زیادہ جسمانی تکلیف بھی ہو سکتی تھی۔
24؍جنوری2012ء کو آپ کی وفات ہوئی تو جنازہ ربوہ لے جایا گیا جہاں بہشتی مقبرہ میں تدفین ہوئی۔ ہماری درخواست پر حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے ازراہ شفقت لندن میں آپ کی نمازجنازہ غائب پڑھائی۔
