محترم راجہ محمد نواز صاحب (آف ڈلوال)

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ 25 مئی 2026ء)

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 10؍اپریل2014ء میں مکرم راجہ مسعود احمد صاحب نے اپنے والد محترم راجہ محمد نواز صاحب کے چند ایمان افروز واقعات پیش کیے ہیں۔ مرحوم کا تفصیلی ذکرخیر قبل ازیں ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں شائع ہوچکا ہے:

محترم راجہ محمد نواز صاحب

مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ جب مَیں تعلیم الاسلام کالج ربوہ میں زیرتعلیم تھا تو گرمیوں کی چھٹیوں میں چکوال اپنے گھر گیا۔ معلوم ہوا کہ والد صاحب اُن دنوں ایک ریگستانی علاقے میں بطور سرکاری ٹھیکیدار کام کروارہے تھے اور قیام بھی وہیں تھا۔ ایک رات جب آپ وہاں ایک مجلس لگائے بیٹھے تھے تو ایک کاریگر نے کہا کہ تعمیری کام کے لیے پانی ختم ہوچکا ہے اس لیے ٹرک ڈرائیور کو کہہ دیں کہ صبح نماز کے وقت چشمے سے پانی بھر لائے۔ آپ نے کہا کہ جب بھی پانی ختم ہوجاتا ہے، میرا اللہ بارش کردیتا ہے۔ کاریگر کہنے لگا کہ کیا اللہ نے اس کا ٹھیکہ لیا ہوا ہے؟ آپ نے جواباً فرمایا: ہاں۔ اُس کاریگر نے دوبارہ کہا کہ ڈرائیور سے پانی منگوالیں کیونکہ آسمان صاف ہے اور بارش کے کوئی آثار نہیں۔ آپ کا جواب پھر بھی وہی تھا۔ اللہ کی شان تھی کہ فجر کی اذان سے قبل اچانک بادل آیا اور اتنے زور سے برسا کہ ہر طرف جل تھل ہوگیا۔
1974ء میں ایک پہاڑ کے دامن میں ایک بہت اونچی اور چوڑی دیوار بنانے کا ٹھیکہ کوئی نہیں لے رہا تھا کیونکہ سرکاری ریٹس پر کام کرنا ناممکن تھا۔ چونکہ والد صاحب کے پہلے ٹھیکے مکمل ہوچکے تھے اور بیکار بیٹھنا آپ گناہ سمجھتے تھے۔ آپ نے دیوار کا ٹھیکہ لینے پر رضامندی ظاہر کی تو سرکاری افسران نے آپ سے کہا کہ آپ ہمارے بزرگ ہیں، یہ بہت نقصان والا کام ہے، آپ کو ٹھیکہ دے کر ہم ظلم نہیں کرسکتے۔ آپ نے کہا کہ میرا کام محنت کرنا ہے اور میرا ایمان ہے کہ اللہ رزق دیتا ہے اور کسی کی محنت ضائع نہیں کرتا۔ لیکن اُن افسران نے پھر بھی انکار کردیا۔ تب آپ ڈپٹی کمشنر سے ملے جن کے ساتھ دوستی بھی تھی۔ اُنہیں ٹھیکہ دینے کے لیے کہا لیکن انہوں نے بھی یہ کہتے ہوئے انکار کردیا کہ اس میں نقصان بہت زیادہ ہے۔ لیکن پھر آپ کے اصرار پر وہ مان گئے۔ بعد میں احساس ہوا کہ بظاہر نقصان والے اس کام میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کے لیے غیرمعمولی منافع پوشیدہ تھا۔ سوائے سیمنٹ کے باقی تمام میٹیریل جائے تعمیر پر مفت مل گیا۔ حتّٰی کہ ریت بھی قریب ہی ایک کھائی میں مل گئی۔ جب پانی کی ضرورت پڑتی تو بارش ہوجاتی چنانچہ آپ کو صرف سیمنٹ اور لیبر کی قیمت ادا کرنی پڑی اور اس کام میں اس قدر منافع ہوا کہ آپ نے پہلی مرتبہ نئی کار خریدی۔
ایک مرتبہ اپنے ایک عزیز دوست کے ہاں گئے۔ کھانے کا وقت ہوا تو انہوں نے بتایا کہ گھر میں پکی ہوئی دال اور ساگ حاضر ہے۔ آپ نے جواب دیا کہ آج میرے نصیب میں دال نہیں دعوت ہے۔ پھر آپ اپنے ایک اَور دوست کے ہاں گئے جنہوں نے آپ کی دعوت کی ہوئی تھی لیکن کسی ایمرجنسی کی وجہ سے اُنہیں شہر سے باہر جانا پڑا۔ چنانچہ آپ واپس اپنے پہلے دوست کے پاس آئے تو انہوں نے مذاقاً کہا کہ میری بات مان لیتے۔ آپ کہنے لگے کہ میرے نصیب میں آج دال نہیں دعوت ہے۔ اسی دوران دروازے پر دستک ہوئی تو معلوم ہوا کہ کسی اَور کے ملازم نے دعوت کا کھانا پلاؤ، روسٹ مرغ، دو تین سالن اور سویٹ ڈش بھجواتے ہوئے بتایا کہ صاحب نے آج دوستوں کی دعوت کی تھی لیکن آپ کو بلانا بھول گئے اور اب دعوت کا کھانا بھجوایا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کے لیے دعوت کے کھانے کا انتظام کردیا۔
تعلیم سے فراغت کے بعد مَیں بھی والد صاحب کے ساتھ کاروبار میں شامل ہوگیا۔ پہلے ایک مہینے میں ہی مَیں نے دیکھا کہ آپ نے تین مختلف ضرورت مندوں کے کام کروانے کے لیے تین مختلف اعلیٰ افسران سے ملاقات کی۔ وہ تینوں آپ کو نہیں جانتے تھے لیکن جیسے بھی آپ نے اُن سے کہا انہوں نے آرڈر جاری کردیے۔ میرے لیے یہ حیران کُن بات تھی۔ مَیں نے اس حیرانی کا اظہار کیا تو آپ نے فرمایا: ’’میرا زندگی بھر یہ معمول رہا ہے کہ جب بھی کسی افسر سے ملنے کے لیے جاتا ہوں تو دعا کرتا ہوں یاباری تعالیٰ! اس افسر کے دل میں میرا احترام ڈال دے، جس کام کے لیے آیا ہوں عزت اور وقار سے میرا کام کردے۔ دعا کرنے کے بعد درودشریف پڑھنا شروع کردیتا ہوں۔ میرا زندگی کا تجربہ ہے کہ جب مَیں متعلقہ افسر کے کمرے میں داخل ہوتا ہوں اور اُس کی نظر مجھ پر پڑتی ہےتو مجھے فوراً محسوس ہو جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اُس کا دل جھکادیا ہے۔ پھر جس طرح مَیں عرض کرتا ہوں وہ اُسی طرح کردیتا ہے۔‘‘ دراصل یہ سب کچھ حضرت مسیح موعودؑ پر ایمان لانے اور خلافت کی غلامی کی برکت کے نتیجے میں تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں