محترم چودھری نور احمد عابد صاحب

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، روزنامہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ 26؍جنوری2026ء)

نور احمد عابد صاحب

روزنامہ’’الفضل‘‘ربوہ 8؍مارچ2014ء میں مکرم چودھری نور احمد عابد صاحب کا ذکرخیر شامل اشاعت ہے۔
محترم چودھری نوراحمد عابد صاحب 3؍اپریل1919ء کو علی پور ضلع لاہور (حال ضلع قصور) میں پیدا ہوئے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے آپ کا نام رکھا۔ اپنے بہن بھائیوں میں آپ کا نمبر دسواں تھا۔ آپ کے والد حضرت میاں محمد ابراہیم صاحبؓ کا تعلق خودپورمانگا سے تھا جو نقل مکانی کرکے ضلع ساہیوال کے ایک گاؤں میں آباد ہوگئے۔ وہاں سے ہی عابد صاحب نے ابتدائی تعلیم حاصل کی اور پھر آپ کو مدرسہ احمدیہ قادیان میں داخل کروادیا گیا۔ 1937ء میں حضرت مصلح موعودؓ کی اس تحریک پر کہ ’’نوجوان خدمت دین کے لیے باہر جائیں، خود کمائیں اور تبلیغ کریں‘‘ آپ عازمِ سندھ ہوئے۔ کئی مقامات پر مقیم رہے، معاشی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ریلوے سٹیشن پر قُلی کا کام بھی کیا، اُبلے چنے فروخت کیے، چوڑیاں پگھلاکر میناکاری سیکھی، ٹیوشن پر بچے پڑھائے اور کچے چمڑے کی خریدوفروخت جیسے کام کیے۔ اسی دوران حضرت مصلح موعودؓ ایک دفعہ سندھ تشریف لے گئے تو حیدرآباد ریلوے سٹیشن کے بنگلہ میں آپ کو بھی شرفِ میزبانی بخشا۔
پھر آپ فوج میں بھرتی ہوگئے۔ آغاز میں وائرلیس آپریٹر کے طور پر کام کیا۔ پھر حوالدار کلرک کے طور پر دوسری جنگ عظیم میں سنگاپور اور برما کے محاذ پر رہے۔ بعد ازاں مختلف شہروں میں متعین رہے اور 6؍جون1962ء کو کوئٹہ سے ریٹائر ہوئے۔ دورانِ ملازمت کارکردگی کی بنیاد پر چند سرٹیفکیٹس اور تمغوں سے بھی نوازے گئے۔ دورانِ ملازمت آپ نے بی اے کرلیا اور ادیب عالم اور منشی فاضل بھی کرلیا۔ اسی طرح رومن اردو، انگلش، ایجوکیشن انسٹرکٹر اور طب یونانی کا امتحان بھی پاس کرلیا۔ آپ کو مطالعہ کا ازحد شوق تھا۔ دو ہی مشغلے تھے مطالعہ اور شکار۔ حضرت مسیح موعودؑ اور حضرت مصلح موعودؓ کی کتب ہمیشہ زیرمطالعہ رکھتے۔
ریٹائرمنٹ سے پہلے ہی آپ نے اپنے اہل خانہ کی رہائش کا انتظام احمدنگر نزد ربوہ میں کیا ہوا تھا۔ ریٹائر ہونے پر آپ نے فضل عمر ریسرچ انسٹیٹیوٹ ربوہ میں ملازمت کرلی۔ چند ماہ بعد ربوہ میں ٹاؤن کمیٹی کے قیام کی منظوری ہوئی تو آپ نے بھی جھنگ جاکر انٹرویو دیا جس پر ڈپٹی کمشنر نے آپ کو ٹاؤن کمیٹی ربوہ کا سیکرٹری مقرر کردیا۔ 25؍اکتوبر1962ء سے 10؍اکتوبر1968ء تک آپ اس خدمت پر مامور رہے۔ ٹاؤن کمیٹی ربوہ کے آپ پہلے اور آخری احمدی سیکرٹری تھے۔ اہل ربوہ کے لیے سوئی گیس اور صاف پانی کی سپلائی آپ کے دور میں ہی شروع ہوئی۔ سڑکوں کے کنارے سایہ دار درخت بھی لگوائے۔ ربوہ کے علاوہ آپ کئی شہروں میں بطور ٹیکسیشن آفیسر تعینات رہے۔ 1979ء میں اس سرکاری ملازمت سے باعزت ریٹائر ہوگئے۔
آپ نے ساری زندگی خلیفۂ وقت سے گہرا تعلق رکھا۔ ایک بار برما کے محاذ سے آپ نے حضرت مصلح موعودؓ کی خدمت میں خط ارسال کیا تو اُنہی دنوں آپ کی چھٹی منظور ہوگئی۔ آپ سیدھے قادیان پہنچے تو حضورؓ نے ملاقات میں پوچھا کہ آپ تو برما میں تھے۔ آپ نے عرض کیا کہ رخصت پر آیا ہوں، گاؤں جانے سے پہلے سوچا کہ اپنے آقا سے ملاقات کرلوں۔ اسی طرح سنگاپور سے بھی آپ قادیان حضورؓ کی خدمت میں پہنچے۔ مسجد مبارک میں اعلان ہوا کہ اگر کوئی دوست سنگاپور سے آیا ہے تو حضور نے ارشاد فرمایا ہے کہ مجھ سے مل کر جائے۔ چنانچہ آپ خدمت اقدس میں حاضر ہوئے تو حضورؓ نے ارشاد فرمایا کہ اپنا چندہ سنگاپور میں دیا کریں۔
ربوہ میں خدمت کے دوران حضرت خلیفۃالمسیح الثالثؒ سے مسلسل راہنمائی حاصل رہی اور ربوہ کی بہبود کے کاموں کی سرانجام دہی کا موقع ملتا رہا۔ حضرت خلیفۃالمسیح الربعؒ سے بھی خلافت سے بہت پہلے عزت اور محبت کا رشتہ تھا۔ 1979ء میں ریٹائرمنٹ کے بعد آپ کو ربوہ میں پراپرٹی کنسلٹنسی کے لیے دکان کی تلاش تھی۔ معلوم ہوا کہ حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کی گولبازار میں ایک دکان خالی ہے۔ آپ نے دفتر وقف جدید اور حضور کے اکاؤنٹنٹ ضیاءالرحمٰن صاحب سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ محترم میاں صاحب نے فرمایا تھا کہ اب دکان کسی کو نہیں دینی۔ لیکن اگلے ہی دن وہ آئے اور آپ کو بتایا کہ مَیں نے برسبیل تذکرہ میاں صاحب سے یہ بات کی تھی تو آپ نے برجستہ فرمایا کہ اگر عابد صاحب نے دکان مانگی ہے تو اُن کو دے دیں۔
محض حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ سے ملاقات کی خاطر آپ ایک بار لندن بھی آئے۔ خلافتِ خامسہ کے انتخاب سے دو ماہ قبل آپ کو مسلسل دو رات نماز تہجد سے قبل الہام ہوتا رہا: ’’انتخاب خلافت، انتخاب خلافت۔‘‘
حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کی خواہش شدید تھی لیکن بڑھاپا اور کمزوری آڑے آتی رہی۔ ایک خط میں حضورانور کی خدمت میں آپ نے لبیدؔ کا شعر لکھا: (ترجمہ) لبید کے دیار سے میرا آپ کو سلام کیونکہ مَیں آپ تک پہنچنے کی سعی سے عاجز ہوں۔ یہ میرا خط میرے وہاں نہ پہنچنے کی وجہ سے میری نیابت میں ہے کیونکہ پانی کی عدم موجودگی تیمّم کو جائز کردیتی ہے۔
اپنی زندگی کی آخری نصیحت مجھے آپ نے یہی کی:خلیفۂ وقت کو بلاجواز خط لکھتے رہا کرو۔
آپ شاعری بھی کرتے تھے جس میں قادیان اور خلفاء کی محبت نمایاں تھی۔ ایک شعر یوں ہے ؎

زندگی گزرے تو گزرے سایۂ محمودؔ میں
اور گر مر جاؤں تو مدفن ہو میرا قادیاں

اسی طرح حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی وفات پر کہا ؎

اے جانے والے طاہرِ عزت مآب جا
لاکھوں دلوں کی دھڑکنوں کے ہم رکاب جا
خُلدِ بریں ہے روحِ مقدّس کا منتظر
دنیا و آخرت ہے تری کامیاب جا

قادیان میں 1931ء میں جلسہ سیرۃالنبیﷺ میں آپ کو بھی تقریر کرنے کا موقع ملا جب آپ صرف بارہ سال کے تھے۔ 1937ء میں حیدرآباد میں میلادالنبیؐ کے ایک جلسے میں بھی آپ نے تقریر کی۔ جلسے کے صدر ایک غیرازجماعت پیر صاحب تھے جنہوں نے آپ کی تقریر کے بعد آپ کے ہاتھوں پر بوسہ دیا۔
آپ کو مختلف مقامات سے مجلس شوریٰ میں بطور نمائندہ شمولیت کی توفیق ملتی رہی۔ 1953ء کے فسادات کے دوران آپ مغلپورہ لاہور کی مجلس کے قائد خدام الاحمدیہ تھے۔ وہاں نمازوں اور جمعہ پڑھانے کی توفیق بھی ملتی رہی۔ 1986ء میں آپ کے ایک بیٹے کو پشاور کی ایک احمدیہ مسجد میں نماز عشاء پڑھانے کا موقع ملا تو مقتدیوں میں ایک نابینا حافظ قرآن بھی شامل تھے۔ نماز کے بعد انہوں نے پہچان لیا کہ نماز پڑھانے والا عابد صاحب کا بیٹا ہے اور بتایا کہ 1953ء میں انہوں نے گنج مغلپورہ میں عابد صاحب کی اقتدا میں نمازیں ادا کی ہوئی ہیں۔ یہ بات سن کر احباب کو خوشی کے ساتھ محترم حافظ صاحب کی سماعی پہچان پر حیرت بھی ہوئی۔
تحریک جدید مجاہدین کی کتاب میں بھی آپ کا نام گنج مغلپورہ کی فہرست میں پہلے نمبر پر درج ہے۔
1962ء میں فوج سے ریٹائرمنٹ کے بعد جب آپ احمدنگر میں رہائش پذیر ہوئے تو حضرت مصلح موعودؓ کی منظوری سے احمدنگر جماعت کے صدر نامزد کیے گئے۔ بعد میں مسلسل دو بار صدر جماعت منتخب ہوکر خدمت کرتے رہے۔ پھر آپ ربوہ منتقل ہوگئے تو 1982ء میں آپ مرکزی قاضی مقرر ہوئے اور 2004ء تک اس خدمت پر مامور رہے۔ محلّہ کی مسجد میں قریباً پچیس سال امام الصلوٰۃ بھی رہے۔ نماز تہجد بالالتزام ادا کرتے جس میں طوالت اور گریہ و زاری کا حسن نمایاں تھا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سادہ مگر سحر انگیز لحن عطا فرمایا تھا۔ عابدؔ نام کے اعتبار سے اسم بامسمیٰ تھے۔ محلے میں بطور سیکرٹری وصایا اور زعیم انصاراللہ نیز دیگر خدمات کی توفیق لمبا عرصہ ملتی رہی۔
ایسے سرکاری محکموں میں رہنے کے باوجود جہاں رشوت لینا معمول تھا، آپ نے نہایت دیانتدارانہ زندگی گزاری جس کا اعتراف غیر بھی کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ ہمیشہ سرکاری مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی۔ آپ کے ایک داماد نے آپ کو ایک بار دفتر آکر بتایا کہ اُنہیں بینک میں اس شرط پر ملازمت مل جائے گی اگر پانچ لاکھ روپے اپنے اکاؤنٹ میں جمع کروادوں۔ اُس وقت آپ کے پاس ٹیکس کے سلسلے میں ایک بڑی پارٹی بیٹھی ہوئی تھی۔ انہوں نے پیشکش کی کہ وہ پانچ لاکھ روپے جمع کروادیتے ہیں بشرطیکہ اُن کا ٹیکس دو فیصد کم کردیا جائے۔ آپ نے جواب دیا گورنمنٹ کو ایک پیسے کا بھی نقصان نہیں ہونے دوں گا بےشک میرا داماد فارغ پھرتا رہے۔
آپ ایک صابرشاکر اور قانع انسان تھے۔ دھیماپن اور درگزر کرنا فطرت ثانیہ تھی۔ کم گو تھے مگر صائب الرائے تھے۔ خودنمائی ناپسند تھی۔ بچوں کو نصیحت کا انداز مؤثر اور شستہ تھا۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے چھ بیٹوں اور پانچ بیٹیوں سے نوازا۔
آپ نے 15؍نومبر2013ء بروز جمعۃالمبارک وفات پائی اور بہشتی مقبرہ ربوہ میں تدفین عمل میں آئی۔

محترم چودھری نور احمد عابد صاحب” ایک تبصرہ

  1. آج کے خادم مسرور میں جن بزرگ ہستیوں کا ذکر خیر شائع ہوا ہے انکے بچوں کے نام بھی اگر شائع کر دینے چاہئیں تاکہ ان سے مل کر انکے بزرگوں کا ذکر خیر بھی خود بخود ہو جایا کرے گا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں