مکرمہ نسیم اختر صاحبہ

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، روزنامہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ …؍مارچ 2026ء)
مکرمہ نسیم اختر صاحبہ 29؍جون 2011ء کو حرکت قلب بند ہوجانے سے وفات پاگئیں۔ آپ کو سترہ سال بطور صدر لجنہ اماءاللہ ہمبرگ خدمت کی تو فیق ملی۔ مرحومہ کا ذکرخیر رسالہ ’’خدیجہ‘‘ جلد2014ء میں اُن کی بیٹیوں مکرمہ طاہرہ ملک صاحبہ اور مکرمہ سمیرا کھوکھر صاحبہ کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔ (ترجمہ:مکرمہ صائمہ بھٹی صاحبہ)
مکرمہ نسیم اختر صاحبہ کے خاندان میں احمدیت اُن کے والدین مکرم چودھری حاتم علی صاحب اور مکرمہ نذیر بیگم صاحبہ کے ذریعے آئی جن کا تعلق سرگودھا کے ایک گاؤں سے تھا۔ نوجوانی میں ہی احمدیت قبول کرنے پر اُن کی شدید مخالفت ہوئی لیکن وہ ثابت قدم رہے۔ مرحومہ نے بچپن سے ہی احمدیت کی صداقت کے دلائل سنے اور تبلیغ کا جذبہ بھی خوب پایا۔ آپ خدا پر ایمان، خلافت سے محبت اور جذبۂ تبلیغ میں ایک مثالی احمدی تھیں۔ جرمنی آکر بھی زبان میں مہارت نہ ہونے کے باوجود سفر میں، دکان میں حتّٰی کہ ہسپتال میں داخل ہونے کے باوجود بھی لٹریچر کی تقسیم اور دعوت الی اللہ میں خوب حصہ لیتیں۔ کئی لوگ آپ کے ذریعے احمدیت کی آغوش میں آئے۔ زیر تبلیغ لوگوں کے ساتھ ایک مستقل اور بےتکلف رابطہ رکھتی تھیں جن میں بوسنین اور افغان مہاجرین بھی شامل تھے۔ نومبائعین اور بہت سے غیرازجماعت بھی آپ کی شخصی خوبیوں کے معترف تھے۔ اکثر بوسنین اور افغان مہاجرین کے کیمپس میں یا اپنے پڑوس میں رہائش پذیر مہاجرین کے ساتھ اپنا وقت گزارتی تھیں۔ مکرمہ امۃالحیٔ صاحبہ سابق صدر لجنہ اماءاللہ جرمنی اُس وقت کم عمر ہونے کے باوجود ایک پُرجوش سیکرٹری تبلیغ تھیں۔ ان کی والدہ محترمہ امۃالقیوم صاحبہ مرحومہ بھی ہر موقع پر مختلف ہومیوپیتھک ادویات اپنے ساتھ رکھتیں جو بوقت ضرورت کام آتیں۔ امی کی زیر صدارت ہمبرگ کی تقریباً تمام لجنہ بہت فعال تھی۔ اگر کوئی مسلمان پناہ گزین خاتون فوت ہوجاتی تو امی جان دیگر لجنہ کے ساتھ مل کر ان کو غسل دیتیں اور تدفین کے انتظامات کرتیں۔ اسی طرح بلقان کے لوگوں کے ساتھ ان کا اتنا گہرا تعلق ہوگیا تھا کہ اپنی کمزور صحت کے باوجود اپنے ذاتی خرچ پر بوسنیا ہرزیگووینا کے پہلے جلسہ سالانہ میں شرکت کی۔ بوسنیا کی خوبصورت اور حیران کن وادیوں اور پہاڑیوں کے نظاروں نے بھی آپ کو بہت ہی متاثر کیا اور آپ نے اس خطے میں امن اور حضرت مسیح موعودعلیہ السلام کی تعلیم کے فروغ کے لیے بہت دعائیں کیں۔
ایک ماں کی حیثیت سے امی ہمارے لیے تو محبت اور پیار سے کھانا بناتی ہی تھیں لیکن مہمانوں کو بھی اکثر کھانے پر بلایا کرتی تھیں۔ بہت لذیذ کھانا بناتیں۔ حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ اور حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے لیے کھانا تیار کرنے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔ چنانچہ ایک بار جب ہم دونوں بہنوں کو حضورؒ کی اردو کلاس میں شریک ہونے کا موقع ملا تو حضور ؒنے ہم سے ہمارے والدین کے نام پوچھے اور یہ جاننے پر کہ ہم نسیم اخترصاحبہ کی بیٹیاں ہیں توآپؒ نے امی کے کھانے کی تعریف پُرجوش انداز میں فرمائی۔
حضورؒ اپنی وفات سے قبل پرہیزی کھانا کھاتے تھے اس وجہ سے جماعت جرمنی نے ایک خاص باورچی کا انتظام کیا ہوا تھا۔ ایک تبلیغی پرو گرام کے موقع پر جب امی کی ملاقات حضورؒ سے ہوئی تو آپؒ نے پوچھا کہ اب آپ کھانا کیوں تیار نہیں کرتیں؟ امی نے جواب دیا کہ اس مرتبہ کسی اَِور ٹیم کا انتظام کیا گیا ہے۔ اس پر حضورؒ نے امی کی ٹیم سے کھانا تیار کروانے کی ہدایت فرمائی۔ اکثر ایسا بھی ہوتا کہ حضورؒ کے لیے کھانا تیار کرنے کی غرض سے دوسرے شہروں مثلاً برلن وغیرہ میں امی کو خاص طور پر بلایا جاتا۔
امی ہمسایوں کے حقوق کا بہت خیال رکھا کرتی تھیں۔ اس بات سے بےنیاز کہ ان کا تعلق کس ملک سے ہے۔ اکثر کوئی خاص ڈش بناکر بھجواتیں۔ اس طرح ان کے ساتھ پیار محبت کا گہرا تعلق قائم ہوگیا۔
امی نے ہمیشہ جماعت کی بےلوث خدمت کی۔ آپ کہا کرتی تھیں کہ ہم سب خدا کے کارکن اوردین کے خادم ہیں۔ عہدہ صرف دوسروں کی ذمہ داری بانٹنے کا ذریعہ ہے۔ وہ ہمیشہ پسِ پردہ رہنا پسند کرتی تھیں اور ہر کام بہت جانفشانی سے کرتیں۔ مختلف شعبہ جات مثلاً MTA، ریسرچ اور خاص طور پر شعبہ تبلیغ میں ہمبرگ کی لجنہ بہت سرگرم عمل رہی۔ 1990ء کی دہائی میں MTA کے لیے ہمبرگ جماعت کے دو پروگرام ’’المائدہ‘‘ اور ایک گیم شو ’’رش رش‘‘ ناظرین میں بہت مقبول ہوئے۔ ان دونوں پروگراموں کی تیاری میں وہ ہماری راہنمائی کیا کرتی تھیں۔
لجنہ ممبرات اور ناصرات کو قریب لانے کے لیےاکثر جرمنی یا یورپ کے مختلف مقامات کی سیر کا پروگرام بنایا کرتی تھیں۔ وہاں ہماری رہائش مسجد میں ہوا کرتی تھی۔ باجماعت نمازیں ادا کرتے۔ دن کا وقت کسی میوزیم میں یا تفریح گاہ میں گزارتے اور شام کو کسی پارک میں پکنک کیا کرتے۔ سب ایک خاندان کی طرح رہتے۔
امی کشادہ دل کی مالک تھیں اور ہمیشہ دوسروں کی مدد کیا کرتیں۔ لوگوں میں خوشیاں بانٹنا آپ کی زندگی کا مقصد تھا۔ پاکستان میں مقیم ہمارے عزیز رشتہ دا ر شادیوں کے موقع پر یا کسی اَور مالی ضرورت کی وجہ سے مدد کا اظہار کرتے تو آپ نے کبھی بھی انکار نہیں کیا۔ ہمیں بھی پیسے جمع کرکے کسی کی مدد کے لیے پاکستان بھجوانے کا کہا کرتیں۔ کئی کئی گھنٹے لوگوں سے ان کے مسائل سنا کرتی تھیں۔ اُن کی مدد کرنے کے لیے ہم کو نصیحت آموز حکایات اوراحادیث سنایا کرتی تھیں۔ کسی بےگھر شخص کو دیکھتیں تو اس کو ضرور کچھ پیسے دیتیں اور کہا کرتیں کہ کسی کو کچھ دینے سے انسان کبھی غریب نہیں ہوتا۔ گھر کی بالکنی میں ایک پانی کا پیالہ اور ہاتھ سے گوندھا ہوا آٹا رکھا کرتی تھیں اورکہتیں کہ پرندوں کا بھی انسانوں پر حق ہوتا ہے۔

چودھری ظہور احمد صاحب

امی نے جماعت کی ایک فعال رکن ہونے کے باوجود ہم بچوں اور ہمارے ابو مکرم چودھری ظہور احمد صاحب کوکبھی نظرانداز نہیں کیا۔ ہمیشہ جماعت کے اور گھر کے کاموں میں ایک توازن رکھتی تھیں۔ ہماری تربیت کے ساتھ ہماری صحت اور پسند ناپسند کا خیال رکھ کر کھانا بناتی تھیں۔ بعض اوقات سب کی الگ الگ پسند کے مطابق مختلف ڈشیں بناتی تھیں۔
ابو بھی تقریباً بیس سال ریجنل اور لوکل امیر ہمبرگ رہے ہیں۔ ہمارے والدین نے ہمیشہ ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرکے کام کیا اور ہمارے جذبات کا خیال رکھا۔ دونوں کا خلافت سے پختہ تعلق تھا۔ ہمارے گھر روزانہ کئی بچے قرآن کریم پڑھنے کے لیے آتے تھے۔ آپ ہمیشہ بلند آواز سے تلاوت کرنے کی تلقین کرتیں۔ بعض اوقات دور بیٹھے بھی غلطی کی درستگی کرتے وقت پوری آیت کی زبانی تلاوت کردیتیں۔
امی اکثر ہمیں حضرت اماں جان ؓکی زندگی کے واقعات سنایا کرتی تھیں اور آپؓ کے نمونے کی پیروی کرنے کی کوشش کیا کرتی تھیں۔ اگر ہم زندگی میں کسی مشکل کی شکایت کرنا چاہتے تو وہ ہماری شکایت کو سختی سے ردّ کر دیا کرتی تھیں اور ہماری غلطیوں کی نشاندہی کرتیں۔ تربیت کے معاملہ میں آپ نے ہم دو بہنوں اور ایک بھائی کے درمیان کبھی کوئی فرق نہیں کیا۔ اپنے دامادوں کے ساتھ بھی آپ کا دوستانہ اور محبت کا رشتہ تھا۔ ان کے ساتھ سگے بیٹوں جیسا سلوک کر تیں۔
ایک عورت ہونے کے ناطے آپ خوبصورت اور صاف لباس کی شوقین تھیں۔ اپنے اور ہمارے پہننے اوڑھنے پر بہت توجہ دیتی تھیں۔ یہی نصیحت ہوتی تھی کہ پردے کے معیار کو برقرار رکھتے ہوئے اپنے شوہروں کے لیے اپنے آپ کو خوبصورت بنایا کرو۔ گھر کی صفائی ستھرائی کا بہت خیال رکھتیں۔ اپنے ساتھ ہمیں بھی اکثر مسجد لے جاتیں اس طرح مسجد ہمارا دوسرا گھر بن گیا تھا۔
آپ ایک زندہ دل خاتون تھیں۔ اگرچہ اپنی زندگی کے آخری چند سال شدید بیماری میں گزارے لیکن کبھی مایوس نہیں ہوئیں بلکہ بہت بہادری سے اپنی بیماری کا مقابلہ کیا۔ 29؍جون2011ء کو امی کی وفات ہوئی۔ 2؍جولائی کو مسجد بیت السمیع ہنوور میں حضور انورایدہ اللہ تعالیٰ نے امی کا جنازہ پڑھایا جو ہمارے خاندان کے لیے بہت بڑا اعزاز ہے۔ یہ ہماری خوش قسمتی تھی کہ ان دنوں حضورانور جرمنی میں موجود تھے۔ اگرچہ برلن سے انگلینڈ کے راستے میں Hannover نہیں آتا پھر بھی حضورایدہ اللہ تعالیٰ امی کا جنازہ پڑھانے کے لیے تشریف لائے اور اس طرح امی کی خواہش پوری ہوئی کہ خلیفۂ وقت ان کی نماز جنازہ پڑھائیں۔ اس خواہش کا اظہار وہ اپنی زندگی میں بارہا کرچکی تھیں۔ پھر ہمبرگ میں نماز جنازہ ہوئی جہاں قریباً دو ہزار افراد شامل ہوئے۔ جنازہ ربوہ لے جایا گیا اور تدفین بہشتی مقبرہ ربوہ میں ہوئی۔ آپ نے اپنے پیچھے دو بیٹیاں اور ایک بیٹا یاد گار چھوڑے ہیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں