کرنل ڈگلس … پیلاطوس ثانی

(مطبوعہ انصارالدین جولائی اگست 2016ء)

کرنل ڈگلس … پیلاطوس ثانی
(M.W. Douglas, Lt. Col. C.S.I.C.I.E)

کیپٹن ڈگلس اور حضرت مصلح موعودؓ
(محمود احمد ملک)

سید نا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے خلاف ڈاکٹر ہنری مارٹن کلارک نے انگریزوں، آریوں اور مسلمانوں کی مدد سے ایک سنگین مقدمٔہ قتل ڈپٹی کمشنر امرتسر مسٹر اے ای مارٹینو کی عدالت میں زیر دفعہ 107 آئی پی سی دائر کیا۔ ڈپٹی کمشنر نے یکم اگست 1897ء کو حضورؑ کے نام وارنٹ گرفتاری جاری کردیا جس کے ساتھ چالیس ہزار روپیہ کی ضمانت کا حکم اور بیس ہزار کا مچلکہ تھا لیکن الٰہی تقدیر سے یہ وارنٹ راستہ میں ہی گم ہوگیا۔ 7؍اگست1897ء کو ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ امرتسر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا کہ وہ دوسرے ضلع کے کسی باشندے کے نام وارنٹ جاری کرنے کا اختیار نہیں رکھتا۔ چنانچہ عجلت میں اس نے یہ مقدمہ ڈپٹی کمشنر گورداسپور جناب کرنل ڈگلس کی عدالت میں منتقل کردیا۔ کیپٹن مانٹیگو ولیم ڈگلس، اگست 1897ء میں، ڈسٹرکٹ مجسٹر یٹ گورداسپور (انڈیا ) کے عہدہ پر فائز تھے اور بعد میں ترقی کرکے لیفٹیننٹ کرنل سی ایس آئی۔ سی آئی ای چیف کمشنر جزائر اَنڈِمان کے منصب تک پہنچے اور ریٹائر ہوکر واپس اپنے وطن انگلستان روانہ ہوئے۔ آپ نے 93؍سال کی عمر میں 25؍جنوری1957ء کو وفات پائی۔
کیپٹن ڈگلس نے اپنی خدا داد فراست سے بہت جلد بھانپ لیا کہ یہ مقدمۂ قتل سخت بد نیتی اور عناد کا شاخسانہ ہے اور 23؍اگست 1897ء کو سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو صاف بری قراردیدیا اور ساتھ ہی فیصلہ میں کہا کہ ’’آپ ان عیسائیوں کے برخلاف مقدمہ کرسکتے ہیں ‘‘۔ حضرت اقدس نے جواباً فرمایا: ’’عیسائیوں سے ہمارا مقدمہ تو آسمان پر چل رہا ہے ہمیں آسمانی عدالت کافی ہے۔ دنیا کی عدالتوں میں ہم کوئی مقدمہ نہیں چلا نا چاہتے۔‘‘
سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی راست گوئی، عظیم شخصیت اور معصومانہ انداز کا ایسا گہرا اثر کرنل ڈگلس پر ہؤا کہ وہ کبھی آپ کو بھلا نہ سکے حتی کہ بعض اوقات اپنی نجی محفلوں میں اس واقعہ کا ذکر کرتے اورکہتے کہ مجھے یہ خیال نہیں تھا کہ ایک دن مرزا صاحب کو یہ عظمت حاصل ہوجائے گی کہ ان کی جماعت نہ صرف انگلستان میں بلکہ ساری دنیا میں پھیل جائے گی۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیپٹن ڈگلس کے عدل وانصاف کا اپنی متعدد تصانیف میں تعریفی رنگ میں ذکر فرمایا ہے اور انہیں پیلاطوس کا خطاب دے کر حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کے عہد کے پیلاطوس سے زیادہ بہادر اور نڈر اور زیادہ عدل و انصاف کو قائم کرنے والا قرار دیا ہے۔
1937ء میں حضرت مولانا شیر علی صاحب کی موجودگی میں حضرت مولانا عبدالرحیم درد صاحبؓ نے کرنل ڈگلس کو مسجد فضل لنڈن میں مدعو کیا اور اس مقدمہ کی رُوداد بیان کرنے کی درخواست کی ۔ صاحب موصوف نے بتایا کہ:
’’ ایک صبح ڈاکٹر مارٹن کلارک میرے پاس آئے اور مجھ سے کہا کہ ایک لڑکا عبدالحمید نامی میرے پاس آیا ہے اور وہ عیسائی ہوگیا ہے ۔ اس نے مجھے بتایا ہے کہ اسے مرزا غلام احمد آف قادیان نے میرے قتل کیلئے بھجوایا ہے ۔ اس لئے میں چاہتا ہوں کہ اُس کے خلاف مقدمہ دائر کروں ۔ مَیں نے ڈاکٹر کلارک سے کہا کہ یہ یقینا بہت سنگین معاملہ ہے اس لئے اسے پہلے پولیس کے پاس جانا چاہئے تا وہ عدالت میں پیش کرنے سے قبل ضروری تفتیش مکمل کرے۔ لیکن ڈاکٹر کلارک نے کہا کہ مجھے ڈر ہے کہ میرے گواہ کو ورغلا لیا جائے گا لہٰذا میں چاہتا ہوں کہ فی الفور مقدمہ دائر کردوں۔ مَیں نے کہا کہ صرف تمہارے بیان کی روشنی میں میرے لئے ہرگز ممکن نہیں کہ مرزاغلام احمد کو ملزم قرار دے سکوں جب تک کہ میرے سامنے تفتیش موجود نہ ہوچنانچہ مقدمہ کی کارروائی میری عدالت میں 10اگست 1897ء کو شروع ہوئی جو اس بیان پر مبنی تھی کہ 16؍جولائی1897ء کو ایک 18 سالہ نوجوان، ڈاکٹر کلارک کے پاس امرتسر آیا اور کہا کہ میرا نام عبدالحمید ہے اور وہ عیسائی ہونا چاہتا ہے ۔ جبکہ وہ پیدائشی طو ر پر برہمن تھا اور اس کا اصلی نام رلیہ رام تھا۔ وہ رام چند آف کھجوری گیٹ بٹالہ کا لڑکا ہے۔ جب وہ پندرہ سال کا تھا تو اسے مرزا غلام احمد نے مسلمان بنالیا اور وہ سات سال تک قادیان میں رہا۔ اس کے خیال میں مرزاغلام احمد چونکہ اچھا آدمی نہیں ہے اس لئے اب وہ عیسائی ہونا چاہتا ہے اور یہ کہ مرزا غلام احمد نے لڑکے کو اس لئے بھجوایا ہے کہ مارٹن کلارک کوقتل کردے۔
اس بیان کے مطابق مَیں نے 10؍اگست تا 13؍اگست تفتیش کی۔ اس وقت تک عبدالحمید چرچ مشنری سوسائٹی کی کڑی نگرانی میں رہ رہا تھا۔ مَیں ذاتی طور پر اُس کی کہانی کو بعید از قیاس سمجھتا تھا کیونکہ اس کا وہ بیان جو مجھے امرتسر کی عدالت سے موصول ہوا تھا اور جو بیان اب وہ گورداسپور میں دے رہا تھام دونوں ایک دوسرے سے نہ صرف مختلف اور متضاد تھے بلکہ بعد کا بیان بہت سے اضافوں پر مبنی تھا۔ چنانچہ میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ یا تو اسے کچھ آدمیوں کے ذریعہ پڑھایا جا رہا ہے یا وہ بعض باتیں تاحال چھپا رہا ہے۔ چنانچہ مَیں نے انسپکٹر آف پولیس لی مرچینٹ (Le Marchant ) سے کہا کہ وہ عبدالحمید کو اپنی تحویل میں لے کر بیان لے۔ چنانچہ لی مرچینٹ اُسے انارکلی بٹالہ لے آیا۔ جب تفتیش شروع کی تو تھوڑی دیر کے بعد ہی لڑکا اُس کے قدموں میں گر پڑا اور اُس نے کہا کہ یہ ساری کہانی اُسے مارٹن کلارک کی ہدایت پر عیسائی مشنریوں نے سکھائی تھی۔ انہوں نے مجھے کئی دن قید اور نگرانی میں رکھا۔
اس عرصہ میں عبدالحمید نے عدالت میں اپنا تفصیلی بیان لکھوایا جس میں ذکر تھا کہ ’امرتسر عیسائی مشن‘ کے کارندوں کے سخت دباؤ کی وجہ سے اس نے اپنے بیان میں مکمل طور پر غلط بیانی سے کام لیا تھا۔
کرنل ڈگلس جب ہندوستان سے واپس انگلستا ن تشریف لائے تو ایک مدّت تک جماعت سے کوئی رابطہ نہیں رہا تھا۔ 1922ء کا یہ واقعہ ہے کہ حضر ت مولوی مبارک علی صاحب برطانیہ میں مبلغ انچارج تھے۔ اُن دنوں لندن میں ریٹائرڈ انڈین سول سرونٹس کی ایسو سی ایشن کے اجلاس کبھی کبھار منعقد ہوا کرتے تھے۔ حضرت مولوی مبارک علی صاحب بھی چونکہ سینئر سروس کے رکن تھے اور آپ ایک ایسی ہی میٹنگ میں شریک تھے جب آپ نے دوسری میز پر دو انگریزوں کو اپنے ماضی کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے سنا۔ اپنے ساتھی کے اس سوال پر کہ کوئی واقعہ سنائیں جس کا دل پر دائمی اور گہرا اثر ہوا ہو، دوسرے انگریز نے بیان کرنا شروع کیا کہ کس طرح عیسائیوں کی طرف سے قادیان کے مرزا غلام احمد کے خلاف ایک مقدمہ قائم کیا گیا اور اس کا کیا نتیجہ نکلا۔ حضرت مولوی مبارک علی صاحبؓ فوراً سمجھ گئے کہ یہ کرنل ڈگلس ہیں چنانچہ اس اجلاس کے اختتام پر آپ نے اپنا تعارف کروایا اور بتایا کہ آپ حضرت مرزا صاحب کے مرید ہیں اور جماعت احمدیہ کے مشن کی بنیاد انگلستان میں رکھ دی گئی ہے اور آجکل آپ مبلغ انچارج کے عہدہ پر فائز ہیں۔ پھر آپ نے کرنل ڈگلس کا پتہ لیا اور آئندہ ملاقات کا وعدہ کیا ۔ اس طرح خدا تعالیٰ کے فضل سے 25 سال کے بعد کرنل ڈگلس گویا از سرِ نو دریافت ہوئے اور پھر جماعت کے ساتھ یہ تعلق کم و بیش ان کی وفات تک جاری رہا۔
حضرت خلیفۃالمسیح الثانی رضی اللہ عنہ جب 1924ء میں ویمبلے کانفرنس میں شرکت کے لئے لندن تشریف لائے تو اس موقع پربھی کرنل ڈگلس حضورؓ سے شرفِ ملاقات حاصل کرنے کے لئے آئے۔ آپ ویمبلے کانفرس کے خصوصی مدعووین میں بھی شامل تھے۔ کرنل ڈگلس کا بعد میں اپنی وفات تک لنڈن مسجد سے تعلق قائم رہا۔ جب بھی انہیں دعوت دی جاتی آپ تشریف لاتے، بعض جلسوں کی صدارت بھی کرتے اور سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ کی ایمان افروز یادوں سے محفل گرما دیتے ۔ حضرت چودھری سر محمد ظفراللہ خان صاحبؓ سے آپ کے قریبی مراسم تھے اور حضر ت مولانا عبد الرحیم صاحب دردؓ سے بھی بے تکلّف دوستی تھی۔ جناب کرنل ڈگلس سے متعلق حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمسؓ کا ایک نوٹ بعنوان ’’پیلاطوس ثانی‘‘ ہدیۂ قارئین کیا جاتا ہے:
’’1939ء میں مَیں نے یوم تبلیغ کی تقریب پر کرنل ڈگلس کو دارالتبلیغ لنڈن میں اجلاس کی صدارت کے لئے مدعو کیا تھا اور مَیں نے اپنی تقریرمیں حضرت مسیح موعودؑ کی وہ تحریریں سُنائیں تھیں اور انہوں نے مقدمہ کے واقعات سُنائے تھے۔ چالیس سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود آپ کو واقعاتِ مقدمہ یاد تھے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی شکل کی یاد اُن کے دماغ میں تازہ رہتی تھی۔ آپ نے بتایا کہ مَیں نے ایک دفعہ مرزا صاحب کی تصویر کاغذ پرکھینچی اور پھر اس کے بعد مجھے آپ کی فوٹو دیکھنے کا اتفاق ہوا تو بالکل اپنی کھچی ہوئی تصویر کے مطابق پائی۔ مزید آپ نے فرمایا کہ ڈاکٹر کلارک کی شکل میرے ذہن سے با لکل اُتر گئی ہے۔
اس میٹنگ کی صدارتی تقریر میں انہوں نے جماعت احمدیہ سے متعلق فرمایا: ’’مجھ سے بار بار سوال کیا گیا ہے کہ احمدیت کا سب سے بڑا مقصد کیا ہے؟ مَیں اس سوال کایہی جواب دیتا ہوں کہ اسلا م میں روحانیت کی روح پھونکنا اور اسلام کوموجودہ زمانے کی زندگی کے مطابق پیش کرنا ہے۔ مَیں نے جب 1897ء میں بانیّ جماعت احمدیہ کے خلاف مقدمہ کی سماعت کی تھی اس وقت جماعت کی تعداد چند سو سے زیادہ نہ تھی۔ لیکن آج دس لاکھ سے بھی زیادہ ہے۔ پچاس سال کے عرصہ میں یہ نہایت شاندار کامیابی ہے۔ اور مجھے یقین ہے کہ موجودہ نسل کے نوجوان اس کی طرف زیادہ توجہ دیں گے اور آئندہ پچاس سال کے عرصے میں جماعت کی تعداد بہت بڑھ جائے گی‘‘۔
(ریویو آف ریلیجینز اردو بابت ماہ ستمبر1939ء، روحانی خزائن جلد نمبر13 صفحہ18 اور 19)
مکرم بشیر احمد رفیق خان صاحب (سابق امام مسجد فضل لندن) اپنی کتاب ’’خوشگوار یادیں‘‘ میں مکرم عزیز دین صاحب مرحوم کے حوالہ سے رقمطراز ہیں کہ:
’’آپ کے کرنل ڈگلس سے بہت قریبی مراسم تھے۔ انہوں نے عزیز صاحب کو سارا واقعہ کئی دفعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ جب حضرت مرزا صاحب کو میری عدالت میں پیش کیا گیا تو ان پر نظر پڑتے ہی میرے دل میں یہ بات میخ کی طرح گڑ گئی کہ یہ شخص بالکل معصوم ہے۔ لیکن دوسری طرف گواہیاں بہت مضبوط تھیں اور عیسائی، مسلمان و ہندو سب مل کر حضرت مرزا صاحب کو قاتل ثابت کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ چند دن مقدمہ کی کارروائی جاری رہی اور میرا تذبذب بڑھتا رہا۔ آخرایک دن جب مقدمہ ختم ہوا تو میں اپنے گھر کے برآمدہ میں ٹہلنے لگا اور مقدمہ کی کارروائی پر غور کرنا شروع کر دیا۔ اچانک میں نے دیکھا کہ مرزا صاحب میرے سامنے آن کھڑے ہوئے اور فرمایا کہ میں بے گناہ ہوں۔ میں نے آپ کے مطہرچہرہ کی طرف دیکھا تو میرا دل بھی کہنے لگا کہ اچھی طرح دیکھ لو۔ کیا یہ چہرہ کسی قاتل کا ہوسکتا ہے؟ یقینًا نہیں، ہرگز نہیں! مَیں واپس گھر کے اندر چلا گیا اور سپرنٹنڈنٹ پولیس کو بلایا کہ یہ شخص گناہ گار ہرگز نہیں ہوسکتا۔ اگرچہ تمام گواہیاں اس کے خلاف ہیں۔ سپرنٹنڈنٹ پولیس نے کہا کہ اس مقدمہ کا مرکزی کردار عبدالحمید ہے جس کے اس بیان پر کہ حضرت مرزا صاحب نے اسے قتل کے لئے بھیجا ہے، سارے مقدمہ کا دارو مدار ہے۔ لیکن عبد الحمید پادریوں کے پاس رہتا ہے۔ اگر اسے ان سے الگ کرکے پولیس کی تحویل میں دیا جائے تو شاید وہ سچ بولنے پر آمادہ ہو جائے۔ چنانچہ ڈگلس صاحب نے اگلے دن حکم جاری کر دیا کہ عبدالحمید کو پولیس کی تحویل میں دے دیا جائے۔ پولیس کے پاس آتے ہی عبدالحمید پھٹ پڑا اور روتے روتے کہا کہ مَیں نے تو مرزا صاحب سے کوئی بات نہیں کی۔ یہ سب تو مجھے پادری مارٹن کلارک نے سکھا کر مجھ سے مقدمہ کروایا ہے۔‘‘
کرنل ڈگلس حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ایک عظیم الشان ریفارمر یعنی مصلح سمجھتے تھے۔ اُن کا ذکر جماعت احمدیہ کی تاریخ میں قیامت تک نہایت احترام سے قائم رہے گا۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان کی منصف مزاجی، بیدار مغزی اور حق پسندی کا ذکر کرکے فرماتے ہیں:
’’جب تک دنیا قائم ہے اور جیسے جیسے یہ جماعت لاکھوں کروڑوں افراد تک پہنچے گی ویسی ویسی تعریف کے ساتھ اس نیک نیت حاکم کا تذکرہ رہے گا اوریہ اس کی خوش قسمتی ہے کہ خد تعالیٰ نے اس کام کے لئے اسی کو چُنا۔‘‘
( کشتی نوح، روحانی خزائن جلد19، صفحہ56)

اپنا تبصرہ بھیجیں