Sunday, 16th August, 2026
»»
خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2026ء الفضل ڈائجسٹ ایمان میں تازگی الفضل ڈائجسٹ محترم صوفی منظور احمد صاحب خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 17؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ10؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ03؍جولائی 2026ء خطبات جمعہ و عیدین خطبہ جمعہ سیدنا امیرالمومنین حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز فرمودہ 26؍جون 2026ء الفضل ڈائجسٹ ایمان میں تازگی الفضل ڈائجسٹ محترم صوفی منظور احمد صاحب
««
ہفتہ، 2 / ربیع الاول، 1448ھ
فونٹ سائز:

الفضل میرا راہنما

(مطبوعہ ’’الفضل ڈائجسٹ‘‘، الفضل انٹرنیشنل لندن 5؍اگسست 2024ء)

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ کے صدسالہ جوبلی سوونیئر ۲۰۱۳ء میں مکرم محمد عاصم حلیم صاحب یہ ایمان افروز واقعہ بیان کرتے ہیں کہ ۱۹۷۳ء میں معلّمین وقف جدید کی کلاس منعقد ہوئی تو اس میں گلگت سکردو کے ایک نواحمدی مکرم مولوی غلام محمد صاحب بلتستانی بھی شامل ہوئے۔ انہوں نے بیان کیا کہ ایک روز مَیں سکردو میں واقع اپنے گاؤں دُم سُم میں ایک دکان سے سوداسلف لایا تو جس کاغذ میں مجھے سودا دیا گیا تھا وہ الفضل اخبار کا پہلا صفحہ تھا۔ جب مَیں نے اُس کو پڑھا تو دیکھا کہ حضرت خلیفۃالمسیح کی صحت کی اطلاع بھی شائع ہوئی تھی۔ یہ پڑھ کر مَیں اس خیال میں گم ہوگیا کہ واقعی یہ زمانہ تو امام مہدی اور اُس کی خلافت کا ہے۔ مگر یہ خلافت کہاں قائم ہے، یہ معلوم نہ ہوسکا۔ مَیں جستجو میں لوگوں سے پوچھتا رہتا تھا تو کسی نے مجھے بتایا کہ اس فرقے کے کچھ لوگ راولپنڈی میں رہتے ہیں۔ آخر اسی تلاش میں ایک دن احمدیہ مسجد راولپنڈی جا پہنچا۔ وہاں کے احباب نے میری راہنمائی کی اور ربوہ کا پتہ بتایا۔ چنانچہ مَیں ربوہ پہنچا اور خداتعالیٰ کے فضل سے بیعت کرنے کے بعد اپنی زندگی برائے خدمت دین بطور معلّم وقف جدید پیش کردی۔ بعدازاں میری اولاد کو بھی زندگی وقف کرنے کی توفیق ملی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *