خطاب حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز برموقع جلسہ سالانہ جرمنی 27؍اگست 2017ء
(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)
أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔
دنیا میں جتنے بھی مذاہب ہیں ان کی مخالفت ان کی ابتدا میں ہوئی اور ایک وقت تک یہ مخالفت کا دَور چلتا رہا اور پھر آہستہ آہستہ وہ مخالفت کا دَور اس طرح نہیں رہا۔ اس زمانے میں سوائے اسلام کے کوئی مذہب ایسا نہیں ہے جس کی مذہب کے حوالے سے مخالفت ہو رہی ہو۔ مشرکین مکہ نے اسلام کو پھیلنے سے روکنے اور ختم کرنے کی اور مسلمانوں کو تکلیفیں پہنچانے اور ختم کرنے کی اپنے وسائل اور اپنی طاقت اور اپنے طریقے سے کوشش کی اور پھر مختلف دوروں میں یہ کوششیں ہوتی رہیں۔ جب زمانہ کتابیں لکھنے اور پریس کا آیا تو مستشرقین نے اسلام کی مخالفت میں تاریخی حقائق کو غلط رنگ میں لکھ کر اور قرآن کریم کی غلط تشریح کر کے اس کی مخالفت کی اور آج تک جیسا کہ میں نے کہا یہ مخالفت کا سلسلہ جاری ہے۔ اور بد قسمتی سے مسلمانوں کا ایک طبقہ جن میں شدت پسند اور نام نہاد جہادی گروہ بھی شامل ہیں اور مسلمان علماء کا ایک طبقہ جنہیں نام نہاد علماء کہنا چاہئے جن کو نہ قرآنی تعلیم پر غور کرنے اور اسے سمجھنے کی صلاحیت ہے اور نہ ہی تاریخ کا صحیح تجزیہ کرنے کی صلاحیت ہے اور علم ہے، انہوں نے اسلام کے مخالفین کو اپنے خیالات پھیلانے اور اسلام کی غلط تصویر پیش کرنے کا موقع دیا ہوا ہے۔ بلکہ بہت سے تاریخی حقائق جن کا ان کو علم ہی نہیں اور مستشرقین کی تاریخ کو دیکھ کر وہ سمجھتے ہیں کہ اسلام کی تاریخ ہے اور اس سے بھی بڑھ کر اب اور پہلے بھی مسلمان حکومتوں نے اپنی حکومتوں کے غلط نظام چلا کر، اپنی رعایا پر ظلم کر کے مخالفینِ اسلام کے خیالات کو مزید ہوا دی اور ان کو یہ کہنے کا موقع ملا کہ دیکھو جو لوگ، جو حکومتیں، جو لیڈر اپنے عوام کو ظالمانہ طریق پر مار سکتے ہیں ان سے دوسروں پر، غیر مذاہب پر ظلم نہ کرنے کی کیا توقع رکھی جا سکتی ہے۔
لیکن یہ سب باتیں بھی اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے سچا ہونے کی دلیل ہیں۔ ایک تو اسلام مخالف طاقتوں کے بیانات اور کتابیں لکھنا اور اس کے تاریخی حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ انہیں خطرہ ہے اور دل میںیہ فکر ہے کہ کیونکہ ابھی بھی مسلمانوں کا ایک طبقہ اپنی دینی تعلیم پر قائم ہے اور ابھی بھی قرآن کریم اپنی اصلی حالت میں موجود ہے اور انشاء اللہ تعالیٰ اس نے ہمیشہ رہنا ہے یہ اللہ تعالیٰ کا وعدہ ہے اس لئے کہیں ایسا نہ ہو کہ ایک وقت میں اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن جائے اور اس کے ماننے والے سب دوسرے مذاہب کے ماننے والوں سے زیادہ ہو جائیں۔ اس لئے وہ اسلام کی مخالفت میں اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں کہ کس طرح اس کو ختم کیا جائے۔
دوسرے جہاں تک مسلمان علماء اور بادشاہوں کا سوال ہے تو اس کی پیشگوئی بھی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرما دی تھی کہ ایک وقت کے بعد نہ انصاف پسند بادشاہ مسلمانوں میں رہیں گے(مسند احمد بن حنبل جلد 6 صفحہ285 حدیث 18596 مسند نعمان بن بشیرؓ مطبوعہ عالم الکتب بیروت 1998ء) اور نہ ہی علم و عمل والے علماء رہیں گے۔ قرآن کریم کی سمجھ ان کو نہیں ہو گی بلکہ آسمان کے نیچے بدترین مخلوق ہوں گے۔(الجامع لشعب الایمان جلد 3 صفحہ 317-318 حدیث 1763 مطبوعہ مکتبۃ الرشد ناشرون 2003ء) ایسے حالات میں پھر خدا تعالیٰ مسیح موعود اور مہدی معہود کو بھیجے گا جو دین اسلام کی حقیقت کو دنیا کو بتائے گا۔ مسلمانوں کی بھی صحیح رہنمائی کرے گا اور دنیا کو بھی بتائے گا کہ اسلام کی حقیقی تعلیم کیا ہے۔ اور اسلام کی تعلیم پر جو الزام لگائے جاتے ہیں ان کی حقیقت کیا ہے۔ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات کو جو غلط باتیں آپ کی طرف منسوب کر کے اعتراض کا نشانہ بنایا جاتا ہے اس کی حقیقت کیا ہے۔ وہ دنیا کو بتائے گا کہ تم جس نبی اور جس دین کو دنیا کے لئے تباہ کُن تصور کرتے ہو وہی اصل میں دنیا کی بقا کا ضامن اور نجات دہندہ بھی ہے۔ گھریلو عائلی معاملات اور بچوں کی تربیت سے لے کر آپس کے معاشرتی تعلقات، رشتوں کے حقوق، تک اور معاشرے کے حقوق تجارتی لین دین اور حکومت چلانے کے طریق سے لے کر بین الاقوامی تعلقات اور حکومتوں کے آپس کے تعلقات اور دنیا کے امن کی ضمانت اور بین المذاہب تعلقات تک اسلام کی حقیقی تعلیم وہ آنے والا مسیح و مہدی بتائے گا۔
اسلام پر اعتراض کرنے والے اسلام پر اس اعتراض کو بھی بڑی شدت سے پیش کرتے ہیں کہ اسلام جنگجو مذہب ہے۔ وہ اس اعتراض کو بھی رد کرے گا اور یہ بھی بتائے گا کہ اسلام جنگوں کے ذریعہ نہیں پھیلا اور نہ ہی یہ جنگجو مذہب ہے اور یہ سب کچھ قرآن کریم کی تعلیم اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اسوہ سے ثابت کرے گا۔ ہم احمدی اس بات کے گواہ ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئی کے مطابق جس مسیح و مہدی نے آنا تھا وہ آیا اور اس نے اپنے مسیح و مہدی ہونے کا دعویٰ کیا اور صرف دعویٰ ہی نہیںکیا بلکہ مسیح و مہدی کی آمد سے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی بیان فرمودہ نشانیاں اور خدا تعالیٰ کے اپنی کتاب میں بیان کردہ حالات و نشانات جو اس آنے والے مسیح و مہدی کے زمانے سے متعلق تھے ہم نے پورا ہوتے دیکھے اور دیکھ رہے ہیں۔ چاند سورج گرہن کے رمضان کے مہینے اور خاص تاریخوں میں لگنے کے نشان کو مشرق و مغرب کے اخبارات نے آپ کے دعوے کے بعد پورا ہونے کی خبر کے ساتھ آج سے تقریباً 120 سال پہلے محفوظ کر لیا۔ (سول اینڈ ملٹری گزٹ مورخہ 11 اپریل 1894ء)بہرحال ان پیشگوئیوں اور نشانات کا ایک لمبا سلسلہ ہے۔
اس وقت جو مَیں بیان کرنا چاہتا ہوں اور جیسا کہ میں نے شروع میں کہا تھا اسلام پر اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر جو اعتراضات ہیں ان میں سب سے بڑا اعتراض جسے آجکل دنیا میں پیش کیا جاتا ہے اور بڑی شدت سے مغربی میڈیا بھی اور اسلام مخالف طاقتیں بھی پیش کر رہی ہیں وہ اسلام کی جنگجوانہ تعلیم اور اسلام کا شدت پسند اور دہشتگرد مذہب ہونا ہے۔ حقیقت میں یہ ایسا اعتراض ہے جس کا اسلامی تعلیم یا آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے کچھ بھی تعلق نہیں۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اس اعتراض کو ردّ کر کے اسلامی جنگوں اور جہاد کی حقیقت کھول کر بتائی ہے۔ پس یہ ہماری خوش قسمتی ہے کہ ہم ہی ہیں جو صحیح رنگ میں اس حقیقت کو جانتے ہیں۔ چنانچہ آپ اس حقیقت کو بیان فرماتے ہوئے فرماتے ہیں کہ:
’’ ہم یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ اسلامی جنگ بالکل دفاعی جنگ تھے‘‘۔(ملفوظات جلد سوم صفحہ 99۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
پھر آپ نے فرمایا کہ:’’ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے خادموں کو مکّہ والوں نے برابر تیرہ سال تک خطرناک ایذائیں دیں اور تکلیفیں دیں اور طرح طرح کے دکھ اُن ظالموں نے دئیے۔ چنانچہ ان میں سے کئی قتل کئے گئے اور بعض بُرے بُرے عذابوں سے مارے گئے۔ چنانچہ تاریخ پڑھنے والے پر یہ امر مخفی نہیں ہے کہ بیچاری عورتوں کو سخت شرمناک ایذاؤں کے ساتھ مار دیا یہاں تک کہ ایک عورت کو دو اونٹوں سے باندھ دیا اور پھر ان کو مخالف جہات میں دوڑا دیا اور اس بیچاری کو چیر ڈالا۔ اس قسم کی ایذا رسانیوں اور تکلیفوں کو برابر تیرہ سال تک آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور آپؐ کی پاک جماعت نے بڑے صبر اور حوصلہ کے ساتھ برداشت کیا۔ اس پر بھی انہوں نے اپنے ظلم کو نہ روکا اور آخر کار خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے قتل کا منصوبہ کیا گیا۔ اور جب آپؐ (صلی اللہ علیہ وسلم) نے خدا تعالیٰ سے ان کی شرارت کی اطلاع پا کر مکّہ سے مدینہ کو ہجرت کی۔ پھر بھی انہوں نے تعاقب کیا اور آخر جب یہ لوگ پھر مدینہ پر چڑھائی کر کے گئے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے حملہ کو روکنے کا حکم دیا۔ کیونکہ اب وہ وقت آ گیا تھا کہ اہلِ مکّہ اپنی شرارتوں اور شوخیوں کی پاداش میں عذاب الٰہی کا مزہ چکھیں۔ چنانچہ خدا تعالیٰ نے جو پہلے وعدہ کیا تھا کہ اگر یہ لوگ اپنی شرارتوں سے باز نہ آئیں گے تو عذاب الٰہی سے ہلاک کئے جائیں گے۔ وہ پورا ہوا۔ خود قرآن شریف میں ان لڑائیوں کی یہ وجہ صاف لکھی ہے‘‘۔ فرمایا’’ اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا۔ وَاِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِھِمْ لَقَدِیْرُ۔ اَلَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ(الحج40:-41)یعنی ان لوگوں کو مقابلہ کی اجازت دی گئی جن کے قتل کے لئے مخالفوں نے چڑھائی کی۔( اس لئے اجازت دی گئی) کہ ان پر ظلم ہوا اور خدا تعالیٰ مظلوم کی حمایت کرنے پر قادر ہے۔ یہ وہ مظلوم ہیں جو نا حق اپنے وطنوں سے نکالے گئے۔ ان کا گناہ بجز اس کے اَور کوئی نہ تھا کہ انہوں نے کہا کہ ہمارا ربّ اللہ ہے‘‘۔ فرماتے ہیں ’’یہ وہ آیت ہے جس سے اسلامی جنگوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے‘‘۔ یہ وہ پہلی آیت ہے جس میں جنگ کی اجازت دی گئی۔ ’’پھر جس قدر رعایتیں اسلامی جنگوں میں دیکھو گے‘‘۔ جنگ کی اجازت کے بعد بھی بعض شرطیں ہیں۔ فرمایا یہ رعایتیں جنگوں میں دیکھو گے’’ ممکن نہیں کہ موسوی یا یشوعی لڑائیوں میں اس کی نظیر مل سکے۔ موسوی لڑائیوں میں لاکھوں بےگناہ بچوں کا مارا جانا، بوڑھوں اور عورتوں کا قتل، باغات اور درختوں کا جلا کر خاک سیاہ کر دینا تورات سے ثابت ہے۔ مگر ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے باوصفیکہ ان شریروں سے وہ سختیاں اور تکلیفیں دیکھی تھیں جو پہلے کسی نے نہ دیکھی تھیں پھر ان دفاعی جنگوں میں بھی بچوں کو قتل نہ کرنے، عورتوں اور بوڑھوں کو نہ مارنے، راہبوں سے تعلق نہ رکھنے اور کھیتوں اور ثمردار درختوں کو نہ جلانے اور عبادتگاہوں کے مسمار نہ کرنے کا حکم دیا جاتا تھا‘‘۔
آپ فرماتے ہیں ’’اسرائیلی نبیوں کے زمانے میں جیسے شریر اپنی شرارتوں سے باز نہ آتے تھے اس زمانہ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت میں بھی حد سے نکل گئے تھے۔ پس اسی خدا نے جو رؤوف و رحیم بھی ہے، پھر شریروں کے لئے اس میں غضب بھی ہے، اُن کو ان جنگوں کے ذریعہ جو خود انہوں نے ہی پیدا کی تھیں، سزا دے دی‘‘۔ فرمایاکہ’’ لوط کی قوم سے کیا سلوک ہوا۔ نوح کے مخالفوں کا کیا انجام ہوا۔ پھر مکّہ والوں کو اگر اس رنگ میں سزا دی تو کیوں اعتراض کرتے ہو۔ کیا کوئی عذاب مخصوص ہے کہ طاعون ہی ہو یا پتھر برسائے جائیں۔ خدا جس طرح چاہے عذاب دے دے۔‘‘ فرماتے ہیں ’’سنّت قدیمہ اس طرح پر جاری رہی ہے۔ اگر کوئی ناعاقبت اندیش اعتراض کرے تو اُسے موسیٰ کے زمانہ اور جنگوں پر اعتراض کا موقع مل سکتا ہے جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ میں کوئی رعایت روا نہیں رکھی گئی۔ نبی کریم( صلی اللہ علیہ وسلم) کے زمانے پر اعتراض نہیں ہو سکتا۔ آجکل عقل کا زمانہ ہے اور اب یہ اعتراض کوئی وُقعت نہیں رکھ سکتے کیونکہ جب کوئی مذاہب سے الگ ہو کر دیکھے گا تو اسے صاف نظر آ جائے گا کہ اسلامی جنگوں میں اوّل سے آخر تک دفاعی رنگ مقصود ہے اور ہر قسم کی رعایتیں روا رکھی ہیں‘‘۔ پس عقل کی آنکھ سے دیکھنا ضروری ہے اور ہمیںان کو دکھانا ضروری ہے۔ آپ فرماتے ہیں ’’مجھ سے جب کوئی آریہ یا ہندو اسلامی جنگوں کی نسبت دریافت کرتا ہے تو اسے میں نرمی اور ملاطفت سے یہی سمجھاتا ہوں کہ جو‘‘( کفار لوگ)’’ مارے گئے وہ اپنی ہی تلوار سے مارے گئے۔ جب ان کے مظالم کی انتہا ہو گئی تو آخر ان کو سزا دی گئی اور ان کے حملوں کو روکا گیا۔‘‘
پھر آپ فرماتے ہیں کہ ’’قرآن شریف کو خوب غور سے پڑھو تو صاف معلوم ہو جائے گا کہ اس کی یہی تعلیم ہے کہ کسی سے تعرّض نہ کرو۔جنہوں نے سبقت نہیںکی ان سے احسان کرو‘‘۔ بلا وجہ لڑو نہیں۔ جو پہلے لڑائی شروع نہیں کرتے ان سے نہ صِرف صَرفِ نظر کرنا ہے بلکہ ان سے احسان کا سلوک کرو ’’اور ابتدا کرنے والوں اور ظالموں کے مقابلہ میں بھی دفاع کا لحاظ رکھو۔ حد سے نہ بڑھو۔ اسلام کی ابتدا میں ایسی مشکلات درپیش تھیں کہ ان کی نظیر نہیں ملتی۔ ایک کے مسلمان ہونے پر مرنے مارنے کو تیار ہو جاتے تھے‘‘۔ کفّار میں سے جب کوئی مسلمان ہوتا تھا تو مرنے مارنے پر تیار ہو جاتے تھے۔’’ اور ہزاروں فتنے بپا ہوتے تھے اور فتنہ تو قتل سے بھی بڑھ کر ہے۔ پس امن عامہ کے قیام کے لئے مقابلہ کرنا پڑا‘‘۔
پھر آپ فرماتے ہیں :’’پھر منجملہ اور جزئیات کے غلامی کے مسئلہ پر اعتراض کرتے ہیں حالانکہ قرآن شریف نے غلاموں کے آزاد کرنے کی تعلیم دی ہے اور تاکید کی ہے اور جو اَور کسی کتاب میں نہیں ہے‘‘۔ (ملفوظات جلد سوم صفحہ 100 تا 103۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
فرماتے ہیںکہ ’’ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھو کہ جب مکّہ والوں نے آپؐ کو نکالا اور تیرہ برس تک ہر قسم کی تکلیفیں آپؐ کو پہنچاتے رہے۔ آپؐ کے صحابہ کو سخت سخت تکلیفیں دیں جن کے تصوّر سے بھی دل کانپ جاتا ہے۔ اُس وقت جیسے صبر اور برداشت سے آپؐ نے کام لیا وہ ظاہر بات ہے۔ لیکن جب خدا تعالیٰ کے حکم سے آپؐ نے ہجرت کی اور پھرفتح مکّہ کا موقع ملا تو اس وقت ان تکالیف اور مصائب اور سختیوں کا خیال کر کے جو مکہ والوں نے تیرہ سال تک آپ پر اور آپ کی جماعت پر کی تھیں آپؐ کو حق پہنچتا تھا کہ قتلِ عام کر کے مکّہ والوں کو تباہ کر دیتے اور اس قتل میں کوئی مخالف بھی آپ پر اعتراض نہیں کر سکتا تھا کیونکہ ان تکالیف کے لئے وہ واجب القتل ہو چکے تھے۔ اس لئے اگر آپ میں قوت غضبی ہوتی‘‘ یعنی آپ نے صرف غصّہ سے کام لینا ہوتا اور بدلے لینے ہوتے اور کینے رکھنے ہوتے ’’تو وہ(فتح مکّہ) بڑا عجیب موقع انتقام کا تھاکہ وہ سب گرفتار ہو چکے تھے۔ مگر آپ نے کیا کِیا؟ آپؐ نے اُن سب کو چھوڑ دیا اور کہا لَا تَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْم۔ یہ چھوٹی سی بات نہیں ہے۔ مکّہ کی مصائب اور تکالیف کے نظارہ کو دیکھو کہ قوت و طاقت کے ہوتے ہوئے کس طرح پر اپنے جان ستاں دشمنوں کو معاف کیا جاتا ہے۔ یہ ہے نمونہ آپ کے اخلاق فاضلہ کا جس کی نظیر دنیا میں نہیں پائی جاتی‘‘۔ (ملفوظات جلد سوم صفحہ 162۔ ایڈیشن 1985ء مطبوعہ انگلستان)
پس یہ باتیں جو آپ نے بیان فرمائی ہیں یقیناً ابتدائی تاریخ اس کی گواہ ہے۔ یہ ایک دو واقعات نہیں یا کبھی کبھار ہونے والے واقعات نہیں ہیں بلکہ مسلمان روزانہ کفّار کے ظالمانہ رویّوں سے گزرتے تھے۔ ایک دو واقعات مَیں پیش کرتا ہوں۔
جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعویٰ کیا اور اہل مکہ کو بتایا کہ مَیں اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا ہوں اور رسول ہو کر آیا ہوں اور تمہیں کہتا ہوں کہ بتوں کی پوجا چھوڑ دو کہ یہ تمہیں کوئی نفع یا نقصان نہیں دے سکتے بلکہ ایک خدا کی عبادت کرو جو سب طاقتوں کا مالک ہے اور ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ رہنے والا ہے۔ پہلے تو اہل مکہ مذاق میں یہ باتیں ٹالنے لگے۔ لیکن جب دیکھا کہ لوگوں پر ان باتوں کا اثر ہو رہا ہے اور چند لوگ آپ کے گرد جمع ہو کر، ایمان لا کر پھر ایک چھوٹی سی جماعت بن گئے ہیں تو پھر انہیں خطرہ پیدا ہوا کہ یہ چھوٹی سی جماعت ایک روز اکثریت بن جائے گی۔ تب رؤوسائے مکہ بھی گھبرائے کہ ہم تو اس پیغام کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی اہمیت نہیں دے رہے تھے لیکن یہ پیغام تو ایک طبقہ میں تعریف اور تحسین حاصل کر رہا ہے، مقبول ہوتا چلا جا رہا ہے۔ تب انہوں نے فیصلہ کیا کہ اس آواز کو سختی سے روکا جائے اور اس رسول کے ماننے والوں پر سختی کی جائے۔ چنانچہ انہوں نے اسلام لانے والوں پر ظلم و تعدی کی انتہا شروع کر دی جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی بیان فرمایا ہے۔ ایک دفعہ جبکہ اسلام کے پھیلنے کا زمانہ شروع ہو چکا تھا، بعض مسلمانوں نے ایک ابتدائی صحابی حضرت خبابؓ کی کمر پر سے کپڑا اٹھا ہوا دیکھا تو آپ کی پیٹھ کی کھال کی عجیب قسم کی حالت تھی۔ عجیب طرح سخت کھال تھی اور انسان کی ایسی کھال نہیں ہو سکتی۔ لوگوں نے گھبرا کر پوچھا کہ یہ آپ کوکیا ہوا ہے۔ تو ان صحابی نے ہنس کر جواب دیا کہ ہم نو مسلم جوانوں کو عرب کے رؤوسا مکّہ کی گلیوں میں سخت اور کھردرے پتھروں پر گھسیٹا کرتے تھے اور کئی کئی دن یہ ظلم ہم پر ہوتا تھا اور بار بار ہوتا تھا اس کی وجہ سے میری پیٹھ کے چمڑے کی یہ حالت ہو گئی ہے۔ (الطبقات الکبریٰ لابن سعد جزء 3 صفحہ 88 باب ومن حلفاء بنی زھرۃ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت 1996ء)
پھر اسی طرح دوسرے غلاموںکے حالات ہیں۔ حضرت عمّار ہیں۔ حضرت بلال ہیں جن کو ان کے مالک گرم ریت پر لٹا کر اور اوپر پتھر رکھ کر گھسیٹا کرتے تھے بلکہ بعض دفعہ دوسرےنو جوان کافروں کو کہا کرتے تھے کہ ان کے سینوں پر کودو۔ جب یہ گرم ریت میں لیٹے ہوں گے تو ان کے سینوں پر چڑھ جاؤ اور پھر ان پر کودو۔ جب تک یہ بتوں کی بڑائی اور الوہیت کا اقرار نہ کریں ایسا کرتے چلے جاؤ۔ لیکن تاریخ نے حضرت بلالؓ کے اس ظلم کی حالت میں بھی ادا کئے ہوئے الفاظ سنہری حروف میں محفوظ کئے ہیں کہ اَحَدْ اَحَدْ۔ کہ اللہ ایک ہے۔اللہ ایک ہے۔(مسند احمد بن حنبل جلد 2صفحہ 86حدیث 3832مسند عبد اللہ بن مسعودؓ مطبوعہ عالم الکتب العلمیۃ بیروت 1998ء) ،(سیرت ابن ہشام صفحہ 235 باب ذکر عدوان المشرکین علی المستضعفین … الخ مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت 2001)
ایک دفعہ حضرت یاسرؓ اور ان کی بیوی پر ظلم ہو رہا تھا اُس وقت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کی حالت کو جب دیکھا تو آپ کا دل بھر آیا۔ آپ نے انہیں دیکھ کر فرمایا اے یاسر کے خاندان! صبر سے کام لو۔ اللہ تعالیٰ نے تمہارے لئے جنت تیار کی ہوئی ہے۔ چنانچہ اسی ظلم کے دوران حضرت یاسرؓ نے اپنی جان دے دی لیکن خدائے واحد کی وحدانیت کا انکار نہ کیا۔ اس پر بھی ان ظالم کافروں کی تسلی نہیں ہوئی اور انہوں نے بوڑھی عورت حضرت سمیّہؓ پر بھی ظلم جاری رکھا اور ابوجہل نے ان کو نیزہ مارا جو اُن کی ران میں سے گزرتا ہوا پیٹ کے آر پار ہو گیا او رتڑپتے ہوئے اس کمزور بوڑھی عورت نے بھی جان دے دی لیکن اپنے ایمان کو قربان نہیں کیا۔(شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ جلد 1 صفحہ 496 باب اسلام حمزۃ مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت 1996ء) زُنَیرہ ایک لونڈی تھی۔ ابوجہل نے ان کو ایک دن اتنا مارا کہ ان کی آنکھ کی بینائی ضائع ہو گئی۔(شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ جلد1 صفحہ 502 باب اسلام حمزۃ مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت 1996ء) اور اس طرح کی بیشمار مثالیں ہیں ظلموں کی جو کفار مکّہ نے مسلمان غلاموں پر کئے۔ ایسے ایسے ظلم ہیں جو برداشت کرنے انسانی طاقت سے باہر لگتے ہیں لیکن ان مظلوموں کے ایمان ایسی حالت میںبھی چٹان کی طرح مضبوط تھے۔ کیوں نہ ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کے حبیب نے ان کی اس ایمانی حالت پر انہیں جنت کی بشارت دی تھی۔ انہوں نے اِس دنیا کی بجائے اُس دنیا کو ترجیح دی جو دائمی ہے اور جہاں خدا تعالیٰ کے پیار کے ہر وقت نظارے ہیں۔یہ جنتیں انہیں ظلم سہنے کی وجہ سے ملی تھیں، ظلم کرنے کی وجہ سے نہیں جو آجکل کے دہشتگرد گروپ اسلام کے نام پر کر رہے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ جنت ملے گی۔ جو ظلم معصوموں کو قتل کر کے یہ دہشتگرد کر رہے ہیں یا جو ظلم امن قائم کرنے کے نام پر حکومتیں کر رہی ہیں یا علماء کر رہے ہیں یہ جنت کی نہیں بلکہ جہنم کی بشارتیں ہیں۔ تو بہرحال اہل مکّہ نے یہ ظلم اپنی انتہا تک پہنچائے۔
اور صرف مسلمان غلاموں تک یہ بات محدود نہیں رہی بلکہ آزاد مسلمانوں پر بھی یہ ظلم ہوئے۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیںکہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ جو مالدار شخص تھے اور عمر کے لحاظ سے بھی اس وقت تقریباً چالیس سال کے قریب تھے لیکن ان کے اسلام لانے پر ان کے چچا نے انہیں رسّیوں سے باندھ کر پھر مارا ہے۔(الطبقات الکبریٰ لابن سعد جزء 3 صفحہ 31 باب ذکر اسلام عثمان بن عفانؓ مطبوعہ دار احیاء التراث العربی بیروت 1996ء) اسی طرح ایک صحابی زبیر بن العوام کا ذکر ملتا ہے۔ بڑے کڑیل جوان تھے۔ ان کا چچا انہیں چٹائی میں لپیٹ کر دھواں دیا کرتا تھا تا کہ ان کا سانس رک جائے اور اس حالت میں پوچھتا تھا کہ ابھی بھی کہتے ہو کہ اسلام سچا مذہب ہے اور اللہ ایک ہے؟ مگر یہ وہ لوگ تھے جن کے ایمان متزلزل نہیں ہو سکتے تھے اور کہتے تھے کہ صداقت کو پہچان کر ہم اب کس طرح اس کا انکار کر سکتے ہیں۔ (شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ جلد 1 صفحہ 457 ذکر اوّل من اٰمن باللہ ورسولہ مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت 1996ء)اسی طرح کے اور واقعات ہیں آزاد مسلمانوں کے بھی جو خاندانی بھی تھے اور صاحب ثروت بھی تھے جن پر کفار مکہ نے ان کے دین سے ہٹانے کے لئے ظلم کئے لیکن انہوں نے سچائی کو پہچان کر، خدا تعالیٰ کی عبادت کے لطف کو دیکھ کر، اللہ تعالیٰ کی محبت کے مزے کو چکھ کر پھر اپنے آرام پر ہر ظلم کو ترجیح دی اور کفر کا انکار کیا۔
پھر اسی پر بس نہیں ہے۔ کفار نے خود آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات کو بھی ظلم کا نشانہ بنایا اور انہیں بھی نہیں چھوڑا۔ چنانچہ ایک دفعہ آپ عبادت کر رہے تھے کہ کفار نے آپ کے گلے میں پٹکا ڈال کر آپ کو کھینچنا شروع کیا یہاں تک کہ آپ کی آنکھیں باہر نکل آئیں۔ آخر حضرت ابوبکر وہاں آئے تو انہوں نے ان کافروں سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چھڑوایا اور ان کافروں کو کہا کہ کیا تم اس لئے ایک آدمی کو قتل کرنا چاہتے ہو کہ وہ کہتا ہے کہ خدا میرا معبود حقیقی ہے۔(صحیح البخاری کتاب مناقب الانصار باب ما لقی النبیؐ واصحابہ من المشرکین بمکۃ حدیث 3856) اسی طرح ایک دفعہ آپ سجدہ میں تھے تو اونٹ کی اوجھڑی لا کر آپ کی پیٹھ پر رکھ دی اور آپ اس کی وجہ سے سجدہ سے سر نہیں اٹھا سکتے تھے یہاں تک کہ کسی نے آ کر اس کو اٹھایا۔(صحیح البخاری کتاب مناقب الانصار باب ما لقی النبیؐ واصحابہ من المشرکین بمکۃ حدیث 3854) ایک دفعہ مکہ کے اوباشوں کی ایک جماعت آپ کی گردن پر یہ کہہ کر تھپڑ مارتی چلی گئی کہ لوگو یہ شخص کہتا ہے کہ مَیں نبی ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر مسلسل پتھر مارے جاتے تھے۔(سیرت خاتم النبیینﷺ از حضرت مرزا بشیر احمد صاحبؓ صفحہ 143)
بہر حال مسلمانوں سے یہ ظالمانہ سلوک جاری رہا اور مخالفت ترقی کرتی چلی گئی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بعض صحابہ کو حبشہ کی طرف ہجرت کو کہا لیکن یہ ہجرت بھی چوری چھپے ہوئی۔ مکّہ والوں کو یہ برداشت نہیںہو سکتا تھا کہ ان کے پنجے سے اس طرح یہ لوگ آزاد ہو کر نکل جائیں۔ جب مکّہ والوں کو اس ہجرت کا علم ہوا تو انہوں نے ان کا پیچھا کیا لیکن پکڑ نہ سکے اور یہ لوگ حبشہ پہنچ گئے۔ پھر وہ کفّار لوگ حبشہ کے بادشاہ تک پہنچے اور اس کے کان بھرنے کی کوشش کی کہ اس طرح بعض لوگ جو تمہارے دین کے بھی خلاف ہیں مکہ سے بھاگ کر یہاں آ گئے ہیں اور بادشاہ سے درخواست ہے کہ انہیں ہمارے حوالے کیا جائے۔ لیکن بادشاہ نے حقیقت معلوم کرنے کے بعد ان لوگوں کو کفار کے سپرد کرنے سے انکار کر دیا۔(شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ جلد 1 صفحہ 503،506 باب الھجرۃ الأولیٰ الیٰ الحبشۃ مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت 1996ء) یہاں سے وہ ناکام لوٹے۔ اور پھر جو باقی مسلمان تھے جن میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات اور آپ کا خاندان بھی شامل تھا ان پر ظلم کرنے کا فیصلہ کیا کہ اب ان کو دین سے باز رکھنے کا اور ان کو ہٹانے کا یہی علاج ہے کہ ان لوگوں سے مکمل بائیکاٹ کیا جائے۔ کوئی شخص ان کے پاس سودا فروخت نہ کرے۔ انہیں کھانے پینے کی چیزیں نہ دے۔ ان سے لین دین نہ کرے۔ آخر اس ظالمانہ فیصلہ کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اپنے مسلمان رشتہ دار اور وہ رشتہ دار جو مسلمان نہیں بھی تھے لیکن آپ کی حمایت میں تھے اور دوسرے ساتھیوں کے ساتھ، مسلمانوں کے ساتھ ایک جگہ جو ابوطالب کی ملکیت تھی وہاں چلے گئے تا کہ وہاں پناہ لی جائے۔ سب بے سروسامان تھے۔ نہ روپیہ پیسہ تھا ہاتھ میں، نہ کھانے پینے کا سامان تھا۔ ایسے حالات میں آپ اور آپ کے ساتھی تقریباً تین سال تک رہے۔(شرح الزرقانی علی المواھب اللدنیۃ جلد 2 صفحہ 12 تا 14باب دخول الشعب وخبر الصحیفۃ مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت 1996ء) ان حالات کا اندازہ کوئی دوسرا نہیں لگا سکتا۔ بہرحال شعب ابی طالب کے یہ تین سال مسلمانوں کے لئے بڑے کٹھن تھے۔ فاقہ زدہ مسلمان فاقوں مرنے کو تو تیار تھے لیکن اپنا دین بیچنے پر نہیں۔ ایک صحابی کہتے ہیں کہ ایک رات چلتے ہوئے مَیں نے پاؤں کے نیچے کوئی نرم چیز محسوس کی اور فوراً اسے اٹھا کر کھا لیا کہ شاید کھانے کی چیز ہو۔ مجھے آج تک نہیںپتا کہ وہ کیا چیز تھی۔(سیرت ابن ہشام صفحہ 274 باب حدیث نقض الصحیفۃ مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت 2001) تو یہ تھی ان لوگوں کی فاقے کی حالت۔ آخر تین سال بعد مکّہ کے پانچ شرفاء نے اس فیصلہ کے خلاف آواز اٹھائی اور شعب ابی طالب کے دہانے پر گئے اور محصورین کو آواز دی کہ وہ باہر نکلیں ہم معاہدہ توڑنے کو تیار ہیں۔(سیرۃ الحلبیۃ جلد 1 صفحہ 487 باب الھجرۃ الثانیۃ الیٰ الحبشۃ مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت 2002ء) آخر یہ محاصرہ ختم ہوا۔ مکہ والوں کا یہ ظلم بھی انتہا کا ظلم تھا۔ ان فاقوں کی وجہ سے آپ کی وفاشعار بیوی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی وفات معاہدہ ختم ہونے کے چند دن بعد ہوئی اور مہینے بعد تقریباً ابوطالب بھی اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ (امتاع الأسماع جلد اوّل صفحہ 45 باب موت خدیجۃ و ابی طالب (عام الحزن) مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت 1999ء)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کے بعد بھی مخالفتوںکا سامنا رہا اور تبلیغ میں رکاوٹیں کھڑی کی جاتی رہیں لیکن اسلام کا پیغام خاموشی سے مکہ کی حدود سے باہر بھی نکلنا شروع ہوا اور مدینہ میں کچھ لوگ ایمان لے آئے۔ پھر اللہ تعالیٰ کے اِذن سے آپ نے بھی ہجرت کرنے کا فیصلہ کیا اور مدینہ کی طرف ہجرت کی۔ اس دوران میں کفّار مکّہ نے آپ کو قتل کرنے کا بھی فیصلہ کر لیا تھا منصوبہ بنا لیا تھا لیکن آپ کی ہجرت خاص الٰہی تقدیر سے ہوئی تھی اور کفار اپنے ارادے میں ناکام ہوئے اور آپ مدینہ پہنچ گئے۔ یہاں مسلمانوں کی ایک جماعت نے آپ کا استقبال کیا اور مدینے کے انصار نے مہاجروں کے لئے اور آپؐ کے لئے اپنی مہمان نوازی اور قربانی کا بہترین نمونہ دکھایا۔ یہاں پھر مدینہ کے رہنے والے مسلمانوں، یہودیوں اور دوسرے لوگوں کے ساتھ معاہدہ ہوا اور پھر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو سربراہِ حکومت کے طور پر وہاں نظام چلانے کے لئے اختیارات دئیے گئے اور ساتھ ہی آپ نے پیار اور محبت اور امن کے ساتھ اسلام کی تبلیغ بھی جاری رکھی۔ کوئی جبر، کوئی سختی کسی پر نہیں کی۔ یہودی اپنی شریعت کے مطابق پابند تھے۔ مسلمان شرعی معاملات میں، فیصلوں میں اپنی شریعت کے مطابق پابند تھے۔ لیکن ساتھ ہی تعلیم، انصاف اور عورتوں کے حقوق اور غرباء کے حقوق، شہر کی سہولتوں اور راستوں کے حقوق وغیرہ کے متعلق ایک طریق اور قانون بھی وضع ہو گیا۔ لیکن کفّار کو مسلمانوں کا امن میں رہنا کس طرح بھا سکتا تھا۔ چنانچہ انہوں نے بہانے سے منصوبہ بندی کر کے مدینہ پر حملے کی کوشش کی اور یوں پہلی جنگ ہوئی جس میں دشمن کے ایک ہزار سپاہی پورے جنگی سازوسامان کے ساتھ لیس تھے اور مسلمان صرف 313 اور ان کے پاس بھی چند تلواریں۔ جنگی فنون سے ناواقف۔ بہرحال یہ جنگ’’ جنگِ بدر‘‘ کہلاتی ہے۔ دنیاوی لحاظ سے تو ایسے حالات میں مسلمانوں کی شکست یقینی ہونی چاہئے تھی لیکن اللہ تعالیٰ کی تائید مسلمانوں کے شامل حال تھی اس لئے ان نہتّے مسلمانوں نے کفار پر فتح پائی جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بیان فرمایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ جنگ کی اجازت اس لئے دی تھی کہ مسلمان کافروں کے ظلم سے بچ کر ہجرت کر گئے ہیں لیکن پھر بھی کفار نے پیچھا کیا ہے اور جنگ کر کے ظلم سے مسلمانوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اب تمہیں اجازت ہے کہ ان کا جواب دو۔ اور ان آیات میں صرف اتنا ہی نہیں ہے کہ مسلمانوں کو جنگ کی اجازت دی گئی ہے بلکہ ساتھ ہی دوسرے مذاہب کو بھی محفوظ کیا ہے۔ پس ظلم کا خاتمہ کرنے اور مذاہب کو بچانے کے لئے مسلمانوں کو جنگ کی اجازت دی گئی۔ چنانچہ یہ مکمل آیات اس طرح پر ہیں کہ اُذِنَ لِلَّذِیْنَ یُقٰتَلُوْنَ بِاَنَّھُمْ ظُلِمُوْا۔ وَاِنَّ اللّٰہَ عَلٰی نَصْرِھِمْ لَقَدِیْرُ۔ اَلَّذِیْنَ اُخْرِجُوْا مِنْ دِیَارِھِمْ بِغَیْرِ حَقٍّ اِلَّا اَنْ یَّقُوْلُوْا رَبُّنَا اللّٰہُ وَلَوْلَا دَفْعُ اللّٰہِ النَّاسَ بَعْضَھُمْ بِبَعْضٍ لَّھُدِّمَتْ صَوَامِعُ وَبِیَعٌ وَّصَلٰوتٌ وَّمَسٰجِدُ یُذْکَرُ فِیْھَا اسْمُ اللّٰہِ کَثِیْرًا۔ وَلَیَنْصُرَنَّ اللّٰہُ مَنْ یَّنْصُرُہٗ اِنَّ اللّٰہَ لَقَوِیٌّ عَزِیْزٌ۔(الحج40:-41)ان لوگوں کو جن کے خلاف قتال کیا جا رہا ہے اس قتال کی اجازت دی جاتی ہے۔(پریس والے بھی بڑے اعتراض کر رہے ہیں۔ دو تین دن سے مجھ پر یہی سوال کر رہے ہیں کہ جنگ کی اجازت بھی تو دی گئی ہے۔) اجازت دی جاتی ہے کیونکہ ان پر ظلم کئے گئے۔( اس وجہ سے اجازت دی گئی۔) اور یقیناً اللہ تعالیٰ ان کی مدد پر پوری قدرت رکھتا ہے۔ یعنی وہ لوگ جنہیں ان کے گھروں سے ناحق نکالا گیا محض اس بناء پر کہ وہ کہتے تھے کہ اللہ ہمارا رب ہے اور اگر اللہ کی طرف سے لوگوں کا دفاع ان میں سے بعض کو بعض دوسروںسے بھڑا کر نہ کیا جاتا تو راہب خانے منہدم کئے جاتے اور گرجے بھی اور یہود کے معابد بھی اور مساجد بھی جن میں بکثرت اللہ کا نام لیا جاتا ہے۔ اور یقیناً اللہ تعالیٰ ضرور اس کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کرتا ہے۔ یقیناً اللہ بہت طاقتور اور کامل غلبہ والا ہے۔
پس کون ہے جو عقل رکھتا ہو پھر اسلام پر اعتراض کرے کہ یہ جنگجوانہ مذہب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تو جنگ کی اجازت کا پہلا حکم نازل کر کے ہی مسلمانوں کو مذہبی آزادی کی حفاظت کا ذمہ دار بنا دیا کہ یہ مذہب مخالف طاقتیں ہیں جو گرجوں کو بھی گرا دیںگی۔ راہب خانوں کو بھی گرا دیں گی۔ یہود کے معابد کو بھی گرا دیں گی اور مساجد کو بھی گرا دیں گی۔ ایسے خوبصورت حکم کو دیکھ کر اور سن کر تو پھر دوسرے مذاہب کے ماننے والوں کو اسلام کو دہشتگرد کہنے کے بجائے اس کی حمایت میں کھڑا ہونا چاہئے۔ جب بھی پریس کو یہ جواب دیا جاتا ہے تو وہ تسلیم کرتے ہیں کہ یہ بڑا اعلیٰ حکم ہے اور ہر ایک sensible آدمی جو ہے، عقلمند آدمی جو ہے وہ اس بات پر حیران ہوتا ہے کہ کیسا عمدہ حکم ہے قرآن کا۔
پس آج یہ ہر احمدی کا کام ہے کہ دنیا کو بتائے کہ تم جو اسلام پر اعتراض کرتے ہو، اسلام تو تمہارے مذاہب کے عبادتخانوںکی حفاظت کی ہدایت دیتا ہے اور تیرہ سال کی مسلسل انتہائی درندگی کی انتہا کو پہنچے ہوئے ظلموں کے بعد بھی جب اہل مکہ نے حملہ کیا تو اس خدا نے جو رب العالمین ہے مسلمانوں کو ان پر کئے ظلموں کا بدلہ لینے کے لئے نہیں کہا بلکہ ایسے وقت میں بھی اسلام کی امن پسند تعلیم کو یاد رکھنے کا حکم دیا کہ ظلم کے خلاف اگر تلوار اٹھانی ہے تو صرف امن قائم کرنے کے لئے اٹھانی ہے۔ بیشک اسلام آخری شرعی اور مکمل دین ہے لیکن اس کے باوجود یاد رکھو کہ دین کے بارے میںکوئی جبر نہیں۔ اپنی تعلیم دنیا کو بتاؤ۔ یہ بتا دو کہ اسلام ہی اب حقیقی اور سچا مذہب ہے اور حق اور جھوٹ میں فرق ظاہر ہو چکا ہے لیکن پھر بھی تم نے دوسرے مذاہب کے عبادت خانوں کو مسمار نہیں کرنا بلکہ ان کی حفاظت کرنی ہے۔
یہ آیت ان نام نہاد خلافت کے دعویٰ کرنے والوں اور اس کے ماننے والوں کے خیالات اور عمل کی بھی نفی کرتی ہے جو دوسرے مذاہب کی عبادتگاہوں اور چرچوں وغیرہ کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرتے ہیں اور انہیں مسمار کر رہے ہیں۔ بہرحال اس جنگ کے بعد بھی کفّار نے بار بار مسلمانوں سے جنگیں کی۔ بڑی تیاریوں کے ساتھ حملے کئے۔ جنگِ اُحد ہے۔ جنگِ خندق ہے اور دوسری جنگیں ہیں لیکن مسلمانوں کی طرف سے کبھی بھی پہلے حملے نہیں کئے گئے۔ اگر فوجیں بھیجی بھی گئیں، لشکر بھیجے بھی گئے تو امن قائم کرنے کے لئے۔ بعض جگہ سے جب یہ اطلاعیں آتی تھیں کہ دشمن حملہ کرنے کی تیاری کر رہا ہے تو وہاں فوجیں بھیجی جاتی تھیں اور جب دشمن نے حملہ نہیں کیا اور جس خبر کی بناء پر لشکر بھیجے جاتے تھے وہ غلط ثابت ہوئی تو مسلمان بغیر جنگ کے واپس آ گئے۔
اور پھر جو جنگیں ہوئیں ان میں بھی اللہ تعالیٰ نے بعض شرائط اور پابندیاں رکھیں جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی بیان فرمایا ہے کہ جس قدر جنگ کی حالت میں بھی رعایتیں اسلام نے رکھی ہیں کسی دوسرے مذہب نے یہ تعلیم نہیں دی۔ بلکہ آجکل کی دنیا جو اپنے آپ کو مہذّب کہتی ہے اس میں بھی ان باتوں کا خیال نہیں رکھا جاتا۔ چنانچہ مختلف جگہوں میں قرآن کریم جنگ کی صورت میں بھی نہایت انصاف کی تعلیم دیتا ہے۔ ایک جگہ فرمایا وَقَاتِلُوْا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ الَّذِیْنَ یُقَاتِلُوْنَکُمْ وَلَا تَعْتَدَوْا اِنَّ اللّٰہَ لَا یُحِبُّ الْمُعْتَدِیْنَ۔ وَاقْتُلُوْھُمْ حَیْثُ ثَقِفْتُمُوْھُمْ وَاَخْرِجُوْھُمْ مِّنْ حَیْثُ اَخْرَجُوْکُمْ وَالْفِتْنَۃُ اَشَدُّ مِنَ الْقَتْلِ وَلَا تُقٰتِلُوْھُمْ عِنْدَ الْمَسْجِدَ الْحَرَامِ حَتّٰی یُقٰتِلُوْکُمْ فِیْہِ فَاِنْ قٰتَلُوْکُمْ فَاقْتُلُوْھُمْ۔ کَذٰلِکَ جَزَآءُ الْکٰفِرِیْنَ۔ فَاِنِ انْتَھَوْا فَاِنَّ اللہَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ۔ وَقٰتِلُوْھُمْ حَتّٰی لَا تَکُوْنَ فِتْنَۃٌ وَّیَکُوْنَ الدِّیْنُ لِلہِ۔ فَاِنِ انْتَھَوْا فَلَا عُدْوَانَ اِلَّا عَلَی الظّٰلِمِیْنَ۔(البقرۃ191۔194)اور اللہ کی راہ میں ا ن سے قتال کرو جو تم سے قتال کرتے ہیں اور زیادتی نہ کرو۔ یقیناً اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا اور اس جنگ کے دوران انہیں قتل کرو جہاں کہیں بھی تم انہیں پاؤ اور انہیں وہاں سے نکال دو جہاں سے تمہیں انہوں نے نکالا تھا۔ اور فتنہ قتل سے زیادہ سنگین ہوتا ہے۔ اور ان سے مسجد حرام کے پاس قتال نہ کرو یہاں تک کہ وہ تم سے وہاں جنگ کریں۔ پس اگر وہ تم سے جنگ کریں تو پھر تم ان کو قتل کرو۔ اور کافروں کی ایسی ہی جزا ہوتی ہے۔ پس اگر وہ باز آ جائیں تو یقیناً اللہ بہت مغفرت کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔ اور ان سے جنگ کرتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اختیار کرنا اللہ کی خاطر ہو جائے۔ (آزادی مل جائے۔ دین اختیار کرنے کی کوئی پابندی نہ ہو) پس اگر وہ باز آ جائیںتو زیادتی کرنے والے ظالموں کے سوا کسی پر زیادتی نہیں کرنی۔
پس یہ ہے خوبصورت تعلیم کہ جو عقل اور انصاف سے کام نہیں لینا چاہتے تو پھر انہیں انصاف قائم کرنے کے لئے سختی سے سمجھانا پڑتا ہے۔ لیکن اگر وہ عقل اور انصاف سے کام لیں تو پھر پیچھے نہیں پڑنا۔ پھر اپنے ہاتھ روک لو۔ بیشک انہوں نے پہلے بھی حملہ کیا ہو۔ لیکن ایک دفعہ جب ہاتھ روک لئے تو پھر ان کے پیچھے نہ پڑ جاؤ ۔ اور پھر یہ کہا کہ جنگ صرف دین کے معاملے کے لئے ہے۔ اگر دوسروںکو پتا چل جائے کہ دین صرف اللہ کے ساتھ تعلق رکھتا ہے اور اس میں جبر نہیں ہے تو پھر اپنی ذاتی دشمنیوں کو یا ذاتی مفادات کو دین کا نام دے کر زیادتیاں نہ کرو۔
پس بڑا واضح حکم ہے کہ اگر جنگ ہے تو صرف اس لئے کہ اللہ کے دین کو ختم کرنے کے لئے جنگ کی جا رہی ہے اس لئے اللہ کے دین کو قائم رکھنے کے لئے تم بھی اسی طرح جواب دو۔ ذاتی مفادات اور ذاتی لالچوں اور دوسروں کی دولت پر قبضہ کرنے کی حرص اور ملکوں کو فتح کر کے اپنے زیر نگیں کرنے کے لئے جنگ نہیں کرنی۔یا پھر اپنا اثر اور رعب قائم کرنے کے لئے جنگ کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ یہ بھی بڑا واضح ہے کہ اگر کوئی حملہ کرے تو جنگ کرو، خود حملہ نہیںکرنا۔ پھر جنگ صرف انہی سے کرنی ہے جو تم سے کر رہے ہیں۔ معصوموں اور غیر متعلقہ لوگوں کو ناجائز طور پر مارنا نہیں ہے۔ آج اگر مسلمان شدت پسند اس طرح کی جنگ کر رہے ہیں تو وہ بھی غلط کر رہے ہیں اور جو حکومتیں اور بڑی طاقتیں ہوائی حملے کر کے جو جنگیں کر رہی ہیں وہ بھی غلط کر رہی ہیں۔ پھر یہ بھی بڑا واضح ہے کہ باوجود اس کے کہ دشمن نے حملہ میں پہل کی ہے پھر بھی جنگ کو وہیں تک محدود رکھو۔ جنگ کو پھیلانا نہیں۔ آجکل کی بڑی بڑی حکومتیں اپنا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ کیا وہ جنگ کو محدود رکھنے کی کوشش کررہی ہیں یا پھیلانے کی۔ آجکل تو ذرا سی بات پر ایٹم بموں کے برسانے کی دھمکی دی جاتی ہے جس سے تباہی پھیلتی چلی جائے۔ پھر عبادت خانوں کو نقصان نہ پہنچاؤ ان کے اندر جا کر نہیں لڑنا۔ ہاں اگر دشمن یہ زیادتی کر رہا ہے اور باز نہیں آ رہا تو مجبوری ہے پھر اندر جا کر بھی لڑنا پڑتا ہے۔
پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ وَاِنْ جَنَحُوْا لِلسَّلْمِ فَاجْنَحْ لَھَا وَتَوَکَّلْ عَلَی اللہِ اِنَّہٗ ھُوَ السَّمِیْعُ الْعَلِیْمُ۔ وَاِنْ یُّرِیْدُوْٓا اَنْ یَّخْدَعُوْکَ فَاِنَّ حَسْبَکَ اللہُ۔ ھُوَ الَّذِیْٓ اَیَّدَکَ بِنَصْرِہٖ وَبِالْمُؤْمِنِیْنَ(الانفال62:-63)اور اگر وہ صلح کے لئے جھک جائیں تو تُو بھی ان کے لئے جھک جا اور اللہ پر توکل کر۔ یقیناً وہ بہت سننے والا اور دائمی علم رکھنے والا ہے۔ اور اگر وہ ارادہ کریں کہ تجھے دھوکہ دیں تو یقیناً اللہ تجھے کافی ہے۔ وہی ہے جس نے اپنی نصرت کے ذریعہ اور مومنوں کے ذریعہ تیری مدد کی۔
پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر دشمن صلح کے لئے آمادہ ہو تو تم بھی فوراً جھک جاؤ، فوراً صلح کرو۔ پھر اس وہم میں نہ پڑو کہ کہیں وہ ہمیں دھوکہ نہ دے رہے ہوں۔ بیشک وہ دھوکہ دینے کا ارادہ بھی کرتے ہوں تب بھی تم نے صلح کی کوشش کرنی ہے۔ اگر جنگ خدا کے لئے ہے تو پھر خدا تعالیٰ ان کے دھوکے کے باوجود تمہیں کامیابی عطا فرما دے گا۔
اسی طرح قرآن کریم میں بہت سے احکامات ہیں جو مومنوں کو جنگ سے باز رہنے، صلح کی کوشش کرنے، ظلم سے بچنے اور بچانے کی ہدایت دیتے ہیں۔
پھر اس کے علاوہ اللہ تعالیٰ کے احکامات کی روشنی میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جنگ کی صورت میں مسلمانوں کو ہدایت فرماتے تھے۔ اس زمانے میں جب جنگ میں دشمن کو قتل کر کے پھر اس کا چہرہ بھی بگاڑا جاتا تھا جسے مُثلہ کہتے تھے۔ مقتول کی کسی رنگ میں ہتک کرنا جائز سمجھا جاتا تھا۔ اس کے اعضاء کاٹے جاتے تھے۔ آپؐ نے فرمایا کہ ایک مسلمان کے لئے کسی بھی صورت میں یہ چیز جائز نہیں ہے۔جو مر گیا اس کی کسی بھی طرح بے حرمتی نہیں ہونی چاہئے چاہے وہ دشمن ہے۔(صحیح البخاری کتاب العتق باب اذا ضرب العبد فلیجتنب الوجہ حدیث 2559)
پھر آپ نے یہ بھی فرمایا کہ کبھی دھوکہ دے کر قتل نہیںکرنا چاہئے۔(صحیح مسلم کتاب الجہاد والسیر باب تامیر الامام الامراء علی البعوث … الخ حدیث 4521) پھر آپؐ نے یہ بھی فرمایا کہ نہ ہی کسی عورت کو مارنا ہے اور نہ ہی کسی بچے کا قتل کرنا جائز ہے۔(مؤطا امام مالک کتاب الجہاد باب النھی عن قتل النساء والولدان فی الغزو حدیث 981)
آجکل ٹی وی میں ہی ہم دیکھتے ہیں کہ ایئر سٹرائیکس(Air Strikes) سے کتنے معصوم بچے اور عورتیں مر رہی ہیں یا اپاہج ہو رہے ہیں۔ پھر بھی یہ لوگ کہتے ہیںکہ ہم صحیح ہیں اور اسلام کی تعلیم غلط ہے۔
پھرآپ نے پادریوں اور مذہبی رہنماؤں کو قتل کرنے سے منع فرمایا۔ پھر بوڑھوں کو مارنے سے منع فرمایا(سنن الکبریٰ للبیہقی جلد التاسع صفحہ 154 حدیث 18664-18665 باب جماع ابواب السیر مطبوعہ الرشد ناشرون ریاض 2004ء) اور آپ نے فرمایا کہ ہمیشہ صلح اور احسان کا سلوک رکھنا ہے اور اس کی بنیاد ڈالنی ہے۔
پھر آپ نے دشمنوں کے ملکوں میں اپنا ڈر اور خوف اور دہشت پیدا نہ کرنے کا ارشاد فرمایا(صحیح مسلم کتاب الجہاد والسیر باب فی الأمر بالتیسیر … الخ حدیث 4525) کہ اگر گئے ہو، جنگ کی صورت پیدا ہوئی ہے، اس ملک پہ تمہارا قبضہ ہو بھی گیا ہے تو جو تمہارے اس ملک کے شہری ہیں چاہے وہ تمہارے مذہب کو نہیں بھی ماننے والے تب بھی تم نے ان سے نیک سلوک کرنا ہے۔ تمہارا ڈر اور خوف ان پر قائم نہیںہونا چاہئے۔
یہ نام نہاد مسلمان جو آجکل جنگ کی وجہ سے دہشتگردی کرتے پھر رہے ہیں اور مختلف جگہوں پر ان کی وجہ سے ایک خوف اور دہشت پھیلی ہوئی ہے ان کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو دیکھنا چاہئے۔ لیکن بات وہی ہے جو ایک فرانس کے پریس والے نے کہی تھی کہ جب میں نے چند دہشتگردوں سے پوچھا کہ تمہیں پتا ہے دین کا علم کیا ہے؟ تو انہوں نے کہا ،نہ ہمیں قرآن کا علم ہے اورنہ دین کا علم ہے۔ ہم نے تو وہ کرنا ہے جو ہمارے لیڈروں نے ہمیں کہہ دیا۔
پھر دشمن کے چہرے پر زخم لگانے سے آپؐ نے منع فرمایا۔(صحیح البخاری کتاب العتق باب اذا ضرب العبد فلیجتنب الوجہ حدیث 2559) آجکل کی جنگ کے نتائج دیکھ لیں کہ چہرے بگڑ جاتے ہیں۔ لوگ اپاہج ہو جاتے ہیں۔
قیدیوں کے آرام کا خیال رکھنے کی آپؐ نے خاص طور پر ہدایت فرمائی۔(المعجم الصغیر للطبرانی جلد 1صفحہ 146 مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت) عمارتیں گرانے اور درختوں کے کاٹنے سے آپ نے منع فرمایا۔(سنن الکبریٰ للبیہقی جلد التاسع صفحہ 154 حدیث 18666 باب جماع ابواب السیر مطبوعہ الرشد ناشرون ریاض 2004ء)
اب کیا کچھ ہے جو آجکل کی جنگوں میں نہیں ہو رہا۔ اور ہر جنگ میں آنحضرت صلی اللہ علیہ واٰلہ وسلم کے عمل اور آپ کے خلفائے راشدین کے عمل سے اور آپ کے صحابہ کے عمل سے یہ ثابت ہے کہ یہ صرف ہدایتیں نہیں تھیں بلکہ ایسا ان پر عمل بھی ہوا اور انصاف پسند تاریخ دان اس کا اظہار کئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ چنانچہ بعض انصاف پسند مستشرقین بھی ہیں اور یہ لکھے بغیر نہیں رہتے۔
1949ء میں ایک امریکن پروفیسر روتھ کرینسٹن(Ruth Cranston) لکھنے والی ہیںجو مذہب کی ماہر بھی سمجھی جاتی تھیں اور اُس زمانے میں مذہب پڑھاتی تھیں۔ وہ کہتی ہیں کہ محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی بھی جنگ یا خونریزی کا آغاز نہیں کیا۔ ہر جنگ جو انہوں نے لڑی مدافعانہ تھی۔ وہ اگر لڑے تو اپنی بقا کو برقرار رکھنے کے لئے اور ایسے اسلحہ اور طریق سے لڑے جو اس زمانے کا رواج تھا۔ یہ بات یقین سے کہی جا سکتی ہے کہ چودہ کروڑ عیسائیوں میں سے ( 1949ء میں جب اس نے یہ کتاب لکھی تھی اس وقت امریکہ کی آبادی چودہ کروڑ تھی ) جنہوں نے حال ہی میں ایک لاکھ بیس ہزار سے زائد انسانوں کو ایک بم سے ہلاک کر دیا۔( یہ اس تباہی کا حوالہ ہے جو جاپان میں ایٹم بم گرا کے امریکہ نے کی تھی۔) کوئی ایک قوم بھی ایسی نہیں جو ایک ایسے لیڈر پر شک کی نظر ڈال سکے جس نے اپنی تمام جنگوں کے بدترین حالات میں بھی صرف پانچ یا چھ سو افراد کو تہ تیغ کیا۔ یعنی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری زندگی میں جو جنگیں ہوئیں ان میں زیادہ سے زیادہ پانچ چھ سو آدمی مرے ہوں گے۔ یہ وہ لکھنے والی لکھ رہی ہے۔(Ruth Cranston, World Faith, Harper and Row Publishers, New York, 1949, page 155 )
پس اگر اعتراض کرنے والے ہیں تو بعض انصاف پسند بھی ہیں۔
تاریخ اس کی گواہ ہے کہ آپؐ نے انسانی جانوں کو بچانے کے لئے دشمنوں سے بعض ایسے معاہدے بھی کئے جن میں بظاہر مسلمانوں کی ذلّت نظر آتی تھی۔ ان میں سے ایک صلح حدیبیہ کا معاہدہ بھی ہے جو کفّار کی بدعہدی کی وجہ سے بعد میں ٹوٹ بھی گیا اور اس کے بعد پھر فتح مکہ بھی ہوئی۔ یہ بھی اللہ تعالیٰ کی تقدیر تھی۔ مکہ میں جو مسلمانوں کے ساتھ سلوک ہوتا رہا جس کے بعض واقعات مَیں نے شروع میں پیش کئے ہیں اور پھر کفّار کے مسلمانوں پر بار بار کے حملے جو ہوتے رہے یہ سب یہ تقاضا کرتے ہیںکہ کفار کو فتح مکہ کے بعد جو بھی سزا دی جاتی کم تھی جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی تحریر فرمایا۔ لیکن رحمۃ للعالمین اور امن و سلامتی کے شہنشاہ نے کیا سلوک کیا؟ جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے آپ نے اعلان کیا کہ لَاتَثْرِیْبَ عَلَیْکُمُ الْیَوْمَ۔ کہ آج کے دن تم پر کوئی پکڑ نہیں ہے۔ تم آزاد ہو۔ بیشک اپنے دین پر قائم رہو لیکن امن سے رہنا ہو گا اور فتنوں اور جنگوں کو ختم کرنا ہوگا۔ چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ جب حضرت عباس کسی طرح ابوسفیان کو جو اسلام کا سب سے بڑا دشمن تھا لے کر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے جب فتح مکّہ سے پہلے مکّہ کے باہر مسلمانوں نے پڑاؤ ڈالا ہوا تھا تو اس وقت اسلامی لشکر کی وسعت دیکھ کر ابوسفیان کی زبان گنگ ہو گئی تھی۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے ابوسفیان سے پوچھا کہ ابوسفیان کیا اب بھی وہ وقت نہیں آیا کہ تجھ پر حقیقت روشن ہو جائے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔ ابوسفیان نے کہا مَیں اب سمجھ گیا ہوں کہ خدا کے سوا کوئی معبود ہوتا تو پھر ہماری مدد کرتا۔ ہمارے تین سو ساٹھ بت ہیں۔ ابوسفیان نے لَااِلٰہَ اِلَّا اللہ کا اقرار تو نہیں کیا لیکن متأثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ حکیم بن حزام جو اس وقت ابو سفیان کے ساتھ تھےوہ ایمان لے آئے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عرض کی کہ آپ جو اتنا بڑا لشکر لے کر آئے ہیں یہ اپنی قوم کو تباہ کرنے کے لئے لائے ہیں؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم لوگوں نے ظلم کئے، معاہدے توڑے اور جنگیں کی اور اب کہتے ہو کہ سزا بھی تمہیں نہ ملے۔ یہ سن کر ابوسفیان نے کہا کہ اگر مکّہ کے لوگ تلوار نہ اٹھائیں تو کیا وہ امن میں ہوں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، ہر وہ شخص جو اپنے گھر کا دروازہ بندکر لے اسے امن دیا جائے گا۔ ابوسفیان کی طبیعت فخر پسند تھی۔ حضرت عباس کے کہنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ جو شخص ابوسفیان کے گھر میں آ جائے گا اسے بھی امن دیا جائے گا۔ جو کعبہ میں چلا جائے گا اسے بھی امن دیا جائے گا۔ جو اپنے ہتھیار پھینک دے گا اسے بھی امن دیا جائے گا۔ پھر آپ نے فرمایا کہ ابی رویحہؓ کے جھنڈے کے نیچے آنے والے کو بھی امن دیا جائے گا۔ ابی رویحہؓ کو آپ نے حضرت بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھائی بنایا ہوا تھا اور آپ نے حضرت بلال کو اس وقت کہا کہ تم یہ اعلان کرتے جاؤ کہ جو میرے بھائی ابی رُویحہ کے جھنڈے تلے آئے گا اسے بھی امن دیا جائے گا۔(سیرۃ الحلبیۃ جلد 3 صفحہ 114 تا 116 باب ذکر مغازیہﷺ مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت 2002ء) پس ایک خوبصورت انتقام کا سبق آپ نے حضرت بلالؓ کو بھی دیا کہ وہ حبشی غلام جسے مکہ کی گلیوں میں گرم ریت پر پتھر رکھ کر گھسیٹا جاتا تھا وہ حبشی غلام آج مکّہ والوںکو اعلان کر کے یہ کہہ رہا ہے کہ اے مکّہ والو! اگر آج تم امن چاہتے ہو تو بلال کے بھائی کے جھنڈے کے نیچے آ جاؤ۔
پس یہ ہے وہ خوبصورت انتقام جو آپ نے مکّہ والوں سے حضرت بلال کو لینے کے لئے کہا۔ اس دوران جب لشکر مکّہ میں داخل ہو رہا تھا تو سعد بن عبادہ انصار کے کمانڈر تھے۔ انہوں نے ابوسفیان کو دیکھ کر کہا کہ آج خدا نے ہمارے لئے مکّہ میں داخل ہونا تلوار کے زور سے حلال کر دیا ہے۔ آج قریش قوم کو ذلیل کر دیا جائے گا۔ اس پر ابوسفیان نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں عرض کیا کہ یارسول اللہ کیا آپ نے اپنی قوم کو قتل کرنے کی اجازت دے دی ہے کیونکہ ابھی ابھی انصار کے سردار اور اس کے ساتھی ایسا کہہ رہے تھے۔ یا رسول اللہ! آپ تو دنیا میں سب سے زیادہ نیک، سب سے زیادہ رحیم اور سب سے زیادہ صلہ رحمی کرنے والے انسان ہیں۔ ابوسفیان کی یہ حالت دیکھ کر اس وقت صحابہ کے دل میں بھی رحم پیدا ہو گیا کہ کیا بیچارگی کی حالت ہے اس کی اور بجائے انتقام کے رحم کا جذبہ ان کو ابھر آیا۔ مکہ کی گلیوںمیں جن صحابہ پر ظلم کیا جاتا تھا ان کے دلوں میںبھی رحم آ گیا۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان کی بات سن کر فرمایا کہ سعد غلط کہتا ہے۔ فرمایا آج کا دن تو رحم اور امن کا دن ہے۔ چنانچہ آپ نے جھنڈا سعد سے لے کر ان کے بیٹے قیس کو دے دیا کہ انصار کی کمانڈ اب تم کرو گے۔ (سیرۃ الحلبیۃ جلد 3 صفحہ 118 باب ذکر مغازیہﷺ مطبوعہ دار الکتب العلمیۃ بیروت 2002ء)
پس اس کے بعد بھی سوائے جن چند لوگوں نے جنگ کی کوشش کی کسی نے کسی کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھایا اور تمام ان لوگوں کو جو سالہا سال آپ اور آپ کے ساتھیوں پر ظلم کرتے رہے تھے اور جنگوں کے ذریعہ سے ختم کرنے کی کوشش کرتے رہے تھے رحم فرماتے ہوئے معاف کر دیا۔
پس اسلام اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اگر ایسے حالات میںرحم اور شفقت کا سلوک فرماتے ہیں تو آجکل جبکہ اسلام کو بحیثیت دین تلوار کے زور سے ختم کرنے کی کوئی حکومت اور کوئی طاقت کوشش نہیں کر رہی پھر کس طرح یہ جائز ہے کہ غیر مسلموں کو ظلم سے مارا جائے جن میں معصوم بچے بھی ہیں، عورتیں بھی ہیں بوڑھے بھی ہیں، اور پادری بھی ہیں اور مذہبی رہنما بھی ہیں۔
پس ہم خوش قسمت ہیں کہ ہم نے اس زمانے کے امام کو مانا اور حقیقی اسلام کو پہچانا۔ دوسرے مسلمان اس انتظار میں ہیں کہ کوئی خونی مہدی آئے گا اور پھر جنگوں کا اجراء کرے گا لیکن وہ اپنے اس خیال میں غلط ہیں۔ جس نے آنا تھا وہ آ گیا اور امن اور پیار اور محبت سے اسلام کی خوبصورت تعلیم دنیا میں پھیلانے کے لئے ایک جماعت قائم کر گیا۔
پس آج ہر احمدی کا فرض ہے کہ اسلام کی حقیقی تعلیم بتا کر غیر مسلموں کے منہ بھی بند کریں اور مسلمانوں کو بھی بتا دیں کہ اب اگر تم اسلام کی ترقی دیکھنا چاہتے ہو اور اس کا حصہ بننا چاہتے ہو تو مسیح محمدی کی جماعت میں شامل ہو کر ہی یہ کر سکتے ہو۔ اس کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔ کسی خونی مہدی نے نہیں آنا۔ اب اسلام نے پھیلنا ہے اور یقیناً پھیلنا ہے اور اپنی امن پسند تعلیم سے پھیلنا ہے۔ انشاء اللہ تعالیٰ۔ اور اب دنیاکی بقا ہے تو اس میں کہ اسلام کو قبول کرے۔ اب مسلمانوں نے اپنی ترقی کو دیکھنا ہے تو صرف اس مسیح و مہدی کے ساتھ جڑ کر دیکھ سکتے ہیں اس کے علاوہ اَور کوئی راستہ نہیں ہے۔ اور وہی مسیح و مہدی جو اللہ تعالیٰ کے وعدوں کے مطابق آیا اور جس نے جماعت کا ایک سلسلہ قائم کر دیا۔ اللہ تعالیٰ ہمیںتوفیق دے کہ ہم پہلے سے بڑھ کر اسلام کی عظمت کو قائم کرنے کے لئے اپنی تمام تر طاقتوں اور اپنی صلاحیتوںکے ساتھ تبلیغ اسلام کرنے والے ہوں اور دنیا میںاسلام کی حقیقی تعلیم پھیلانے والے ہوں، حقیقی پیغام پھیلانے والے ہوں اور دنیا کو بتائیں کہ آج اگر تمہاری بقا ہے تو اسلام میں ہے ورنہ دنیا تباہی کے گڑھے کی طرف جا رہی ہے۔ یہ تباہ ہو جائے گی اور اس کو بچانے والا کوئی اَور دین نہیں صرف دین اسلام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اس کی توفیق عطا فرمائے اور دنیا کو عقل بھی عطا فرمائے۔ اب دعا کر لیں۔
دعا کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:
یہ حاضری کی جو رپورٹ ہے اس کے مطابق مستورات، لجنہ کی حاضری 20455 ۔مرد حضرات کی حاضری 20618۔ کُل حاضری ہے 41073۔
نعروں کے بعد حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے فرمایا:حاضری میں سب سے زیادہ جو بیرونی ممالک سے حاضری ہے وہ یُوکے(UK) کی ہے۔تقریبًا پونے تین ہزار۔ لیکن میرا خیال ہے کہ جرمنی والے بھی یُوکے(UK) کی حاضری بڑھانے میں کافی کردار ادا کرتے ہیں۔ وہ اس سے زیادہ ہوتی ہے۔
