خطاب حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز برموقع جلسہ سالانہ جرمنی26؍اگست 2017ء

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

آجکل بعض مسلمانوں کے عمل نے اسلام کو اس طرح پیش کیا ہے کہ جس سے غیر مسلم دنیا کو اسلام پر اعتراضات کا موقع ملتا ہے اور جو مذہب مخالف طاقتیں ہیں وہ تو اور بھی بڑھ کر اسلام پر حملے کرتی ہیں۔ کہیں شدت پسند ظالم مذہب کہہ کر اسلام کو بدنام کیا جاتا ہے تو کہیں انسانی حقوق غصب کرنے کے حوالے سے اسلام کو بدنام کیا جاتا ہے ۔کہیں عورتوں کے حقوق ادا نہ کرنے کا نام دے کر اسلامی تعلیم پر اعتراض کیا جاتا ہے اور بڑے طریقے سے مسلمان عورتوں کے جذبات کو ابھارا جاتا ہے کہ دیکھو تمہیں گھر کی چار دیواری میں رکھ کر یا پردہ کا کہہ کر تمہاری آزادی سلب کی جاتی ہے۔ اور جن کو دین کا زیادہ پتا نہیں ،زیادہ علم نہیں رکھتیں وہ سمجھتی ہیںکہ واقعی ہمارے حقوق ادا نہیں ہو رہے ۔اور یا پھر دوسری انتہا ہے کہ ردّ عمل کے طور پر زیادہ شدت پسندی عورتوں میں بھی آ گئی ہے اور بعض عورتیں دہشت گرد تنظیموں کی آلۂ کار بن جاتی ہیں۔

                     یہ اللہ تعالیٰ کااحمدی عورتوں پر احسان ہے کہ انہیں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو ماننے کی توفیق ملی جنہوں نے اسلام کی حقیقی تعلیم ہمارے سامنے پیش فرمائی۔ قرآن و حدیث میں سے وضاحت طلب امور کو کھول کر بیان فرمایا اور بتایا کہ اسلام میانہ روی کا مذہب ہے اور وہ مذہب ہے جو دین فطرت ہے، فطرت کے مطابق ہے اور اسلام کا ہر حکم اپنے اندر حکمت لئے ہوئے ہے۔ اسلام جہاں مردوں کے حقوق کی بات کرتا ہے تو ساتھ ہی عورتوں کے حقوق کی بھی بات کرتا ہے۔ اسلام اگر مردوں کو ان کے نیک اعمال کی وجہ سے انعامات اور اللہ تعالیٰ کی رضا کی خوشخبری دیتا ہے تو اسی طرح نیک اعمال بجا لانے پر عورت کو بھی اللہ تعالیٰ کی رضا اور انعامات کی خوشخبری دیتا ہے۔ پس جو کہتا ہے کہ اسلام نے مرد کو عورت پر ترجیح دی ہے وہ غلط کہتا ہے۔

                    اسلام کہتا ہے کہ گھر کا خرچ چلانا، بیوی بچوں کے نان نفقہ کا خیال رکھنا، ان کی ضروریات کو پوری کرنا، مرد کا کام ہے اور یہی اس کے قَوَّام ہونے کی نشانی بھی ہے۔ مرد کا قَوَّام  ہونا عورتوں پر رعب ڈالنا اور ان پر سختی کرنا نہیں ہے۔ اگر عورت کام کر رہی ہے جیسے ڈاکٹر ہے، ٹیچر ہے یا کوئی بھی کام کر رہی ہے اور اس کے خاوند کی مرضی اس کے کام کرنے میں شامل ہے تو عورت کی کمائی پر مرد کا کوئی حق نہیں ہے۔ مرد نے بہرحال اپنے گھر کا خرچ چلانا ہے اور وہ اس کا ذمہ دار ہے۔ عورت کی ضروریات پوری کرنے کابھی ذمہ دارہے اور بچوں کی ضروریات پوری کرنے کا بھی ذمہ دار ہے،چاہے عورت کام کر رہی ہو یا نہ کر رہی ہو۔ مرد عورت کو یہ نہیں کہہ سکتا کہ کیونکہ تم بھی کام کر رہی ہو اور کمائی کر رہی ہو اس لئے گھر کا آدھا خرچ تم بھی پورا کرو۔ عورت اگر اپنی مرضی سے گھر پر خرچ کرتی ہے تو یہ اس کا مَردوں پر احسان ہے ورنہ وہ کسی طرح بھی پابندنہیں ہے کہ گھر کا خرچ چلائے، گھر کے اخراجات پورے کرے۔ بیوی بچوں کے کپڑے ،کھانےپینے، رہائش اور دوسری ضروریات مہیا کرنا مرد یا خاوند کا کام ہے۔ ہاں اسلام عورت کو یہ کہتا ہے کہ جب مرد کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بیوی بچوں کی تمام ضروریات کا خیال رکھے تو پھر عورت کو اپنی پہلی ترجیح گھر کی دیکھ بھال اور بچوں کی تربیت کی طرف رکھنی چاہئے۔ جب کوئی شخص مرد ہو یا عورت کوئی پیشہ وارانہ تعلیم حاصل کرتا ہے جیسے ڈاکٹر ہے ،انجنیئر ہے، ٹیچر ہے وغیرہ وغیرہ تو ان کی خواہش بھی ہوتی ہے اور دلچسپی بھی کہ وہ اس پیشے میں کام بھی کریں تا کہ اس میں تجربہ حاصل ہو، اپنی مہارت کو مزید نکھارنے کا موقع ملے۔ ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ تعلیم حاصل کرنے کے بعد عورت کی خواہش اپنے پیشے میں مہارت حاصل کرنے اور دکھانے کی نہیں ہوتی اور مرد کی ہوتی ہے ۔لیکن اس خواہش کے باوجود مَیں بہت سی احمدی عورتوں کو جانتا ہوں جو ڈاکٹر ہیں اور اپنی فیلڈ میں انہوں نے سپیشلائز بھی کیا ہوا ہے لیکن شادی ہونے کے بعد اپنے کام اس لئے چھوڑ دئیے کہ انہوں نے بچوں کی دیکھ بھال اور تربیت کی اس پیشہ وارانہ دلچسپی سے زیادہ اہمیت سمجھی ۔اور جب بچے بڑے ہوگئے تو پھر انہوں نے دوبارہ اپنی فیلڈ میں کام کرنا شروع کر دیا ۔اور ایسی ماؤں کے بچے دینی لحاظ سے اور دنیاوی لحاظ سے بھی عموماً بہترین بچے ہوتے ہیں اور دوسرے نفسیاتی مسائل سے بھی آزاد رہتے ہیں۔ پس یہ مائیں ہیں جنہوں نے اس اسلامی حکم کو سمجھا کہ تمہارا اصل کام اپنی اور قوم کی نئی نسل کی بہترین تربیت کر کے انہیں قوم کے لئے بہترین سرمایہ بنانا ہے۔ انہیں معاشرے کا بہترین حصہ بنانا ہے۔

                    عورت کی فطرت میں اللہ تعالیٰ نے یہ خاصیت رکھی ہے کہ وہ صبر اور برداشت سے بچے کی پرورش کر سکتی ہے۔ اس کی تفصیل مَیںگزشتہ سال کے جلسہ میں بیان کر چکا ہوں۔ اور یہ بھی اللہ تعالیٰ نے انسانی فطرت میں رکھا ہے کہ بچے باپوں کی نسبت عموماً ماؤں سے زیادہattach ہوتے ہیں ۔چنانچہ چند سال پہلے ایک ریسرچ ہوئی کہ تیرہ چودہ سال تک کی عمر کے بچے ماؤں سے باپوں کی نسبت زیادہ متأثر ہوتے ہیں۔ ماؤں کی باتوں کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں، زیادہ صحیح سمجھتے ہیں۔ باپوں کو اس کے مقابلہ میں کم اہمیت دیتے ہیں۔بعد میں خاص طور پہ لڑکے جب جوان ہونے شروع ہوتے ہیں تو باپوں کی طرف بھی رجحان بڑھتا ہےاس لئے کہ باہر جانا اور دوسرے کھیل کود کے کام میں بھی لڑکوں کا رجحان زیادہ ہوتا ہے۔ اسی طرح بعض باپ ، جب آپس میں ناچاقیاں ہوتی ہیںتو اپنی بیوی کی ضد میں آ کر بچوں کی غلط خواہشات پوری کرنے لگ جاتے ہیں۔ اور یہ بات اس وقت ہوتی ہے جیسا کہ مَیں نے کہا جب خاوند بیوی میں اختلافات شروع ہو جاتے ہیں۔ باپوں کو یہ پتا ہی نہیں لگ رہا ہوتا کہ اس طرح کے غلط لاڈ پیار سے وہ اپنی ہی نسل برباد کر رہے ہیں۔ یہ تو میرا بھی تجربہ ہے اور بہت سے معاملات میرے سامنے بھی آئے۔ جب گھروں میں میاں بیوی میں اختلافات شروع ہو جاتے ہیں، یا جب میاں بیوی میںعلیحدگیاں ہوتی ہیں تو صرف بچوں کو اپنی طرف کھینچنے کے لئےباپ وقت ضائع کرنی والی گیمز بچوں کو خرید کر دے دیتے ہیںاور جب مائیں بچوں کو سمجھائیں تو پھر بچے باپوں کو بتاتے ہیں اور یوں اگر وہ رشتہ ابھی قائم ہے اور صرف اختلافات ہی ہیں تو گھروں میں لڑائیاں اور فساد بڑھتے چلے جاتے ہیں۔ اور اگر رشتے قائم نہیں اور علیحدگیاں ہو چکی ہیں تو پھر بچے دوہری زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ان کو سمجھ نہیں آتی کہ کیا صحیح ہے اور کیا غلط ہے۔ بہرحال یہ بھی میرا تجربہ ہے کہ ایک عمر کو پہنچ کر جب بچوں میں چاہے وہ لڑکے ہیں یا لڑکیاں کچھ عقل آتی ہے تو پھر بچے ماں کی حمایت کرتے ہیں اور باپوں کی زیادتیوں کی شکایت بھی کرتے ہیں۔

                     پس اسلام نے انسانی فطرت کے اس پہلو کو سامنے رکھتے ہوئے عورت اور مرد کو کہہ دیا کہ اگر اپنی نسلوں کی صحیح تربیت کرنا چاہتے ہو اور انہیں معاشرے کا بہترین حصہ بنانا چاہتے ہو تو مرد اپنی ذمہ داریاں سنبھالے اور عورت اپنی ذمہ داریاں سنبھالے۔ دونوں ایک دوسرے کے حقوق بھی ادا کرنے کی کوشش کریں اور بچوں کے حقوق بھی  ادا کرنے کی کوشش کریں تو اس سے تم قوم کا ایک بہترین سرمایہ بنا رہے ہو گے۔ اگر عورتیں گھروں میں اپنے فرائض ادا کرنے کی بجائے پیسہ کمانے کے شوق میں نوکریاں کرتی رہیں گی اور بچے جب سکول سے گھر آئیں گے تو نظر انداز ہو رہے ہوں گے۔ انہیں پتا نہیں ہو گا کہ کہاں وہ اپنے سکون کی تلاش کریں۔ مائیں جب تک تھکی ہوئی گھر آئیں گی تو ظاہر ہے کہ جلدی جلدی کھانا تیار کرنے کی فکر میں ہوں گی یا اور دوسرے کام کرنے کی فکر میں ہوں گی بچوں کو صحیح طرح وقت نہیں دے سکیں گی اور یہی چیز بہت سے بچوں میں بے چینی کا باعث بن رہی ہوتی ہے۔ جوں جوں تعلیم عام ہو رہی ہے اسی طرح اس طرف رجحان بڑھ رہا ہے۔ تعلیم یافتہ لڑکیاں سمجھتی ہیںکہ شادی کے بعد ہمارا فرض ہے کہ ہم ضرور کام کریں۔ بیشک کام کریں لیکن جیسا کہ مَیں نے کہا بچوں کی تربیت پہلا فرض ہے۔ بہرحال بچوں میں یہ باتیں بے چینی کا باعث بن رہی ہوتی ہیں چاہے وہ اس کا اظہار کریں یا نہ کریں لیکن عمر کے ساتھ ساتھ اس بے چینی کے پھر نفسیاتی اثرات بھی ظاہر ہوتے ہیں۔

                    پس اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں عورتوں کو یہ کہہ کر اس طرف توجہ دلائی ہے کہ تم میں سے بہترین عورتیں وہ ہیں جو صالحات ہیں اور قانتات ہیں اور حافظات لِلْغَیب ہیں۔ نیکیوں میں بڑھنے والی ہیں۔ دنیاوی خواہشات ان کا مطمح نظر نہیں ہے بلکہ ان کا مقصد یہ ہے کہ خود بھی اللہ تعالیٰ کے حکموں پر چلتے ہوئے نیکیاں بجا لانے والی ہوں اور بچوں کی بھی صحیح تربیت کر کے انہیں صالح بنانے والی ہوں۔ پھر غیب میں بھی ان چیزوں کی حفاظت کرنے والی ہوں جن کی حفاظت کی اللہ تعالیٰ نے تاکید فرمائی ہے۔

                     اللہ تعالیٰ نے عورت کو جن باتوں کے کرنے کی تاکید فرمائی ہے ان میں سے ایک بچوں کی تربیت ہے۔ حدیث میں آتا ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورت اپنے خاوند کی نگران بنائی گئی ہے ۔وہ اس کی غیر حاضری میں اس کے گھر اور اولاد کی حفاظت کی ذمہ دار ہے ۔ (صحیح البخاری کتاب النکاح باب المرأۃ راعیۃ فی بیت زوجھا حدیث 5200)

                    اور اولاد کی حفاظت کس طرح ہو سکتی ہے ۔یہ سوال ہے ؟یہ بچوں کی بہترین تربیت کر کے ہی ہو سکتی ہے۔ اگلی نسل کی بہترین تربیت کر کے ہی ہو سکتی ہے ۔جیسا کہ مَیں نے کہا تھا کہ اسلام اگر مرد کو تمام ضروریات کے پورا کرنے کا ذمہ دار ٹھہراتا ہے تو پھر عورت کو بھی کہتا ہے کہ تم بھی اپنی ذمہ داری ادا کرو ۔اگر بچوں کی تربیت کی    ذمہ داری عورت ادا کرتی ہے تو کہاں سے یہ نتیجہ نکلا اور کس طرح یہ نتیجہ نکلا کہ اس کو گھر میںرکھ کر اس کے حقوق غصب کئے گئے ہیں یا کئے جا رہے ہیں۔

                    جب مرد کو عورت کے حق ادا کرنے کا ذمہ دار بنایا گیا ہے اور یہ کہا گیا ہے کہ وہ باہر کے کاموں کی وجہ سے بچوں کا صحیح حق ادا نہیں کر سکتا تو پھر عورت بچوں کا حق ادا کرے ۔اور اللہ تعالیٰ نے عورت کی فطرت میں یہ رکھا ہے کہ وہ بچوں کی نگہداشت بہترین رنگ میں کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ اگر عورت بھی کہے کہ میں نے اپنا حق استعمال کرنا ہے اور سارا دن گھر سے باہر رہنا ہے تو بچوں کا حق کون ادا کرے گا۔ پس اسلام کہتا ہے کہ تم آپس میں باہمی رضا مندی سے تقسیم کار کرو۔ ہر ایک اپنے اپنے کام کو تقسیم کرے اور ضد میں آ کر بچوں کو ان کے حق سے محروم نہ کرو۔ اپنے حق لینے کے لئے بچوںکو ان کے حق سے محروم نہ کر دو۔ پس یہ قابل اعتراض نہیں بلکہ خوبصورت تعلیم ہے۔

                    پس احمدی ماؤں کو کسی قسم کے شکوہ کی ضرورت نہیں بلکہ انہیں خوش ہونا چاہئے کہ احمدی ماؤں کی پاک گودیں پاک خزانے رکھنے کی جگہ ہیں اور ان میں پلنے والے بچے پاک مال ہیں اور نیک تربیت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ مال ہیں۔ پس کون ہے جو یہ پاک مال بنانا اور لینا پسند نہیں کرے گا۔ پس اٹھیں اور پاک مال سے اپنے پاک خزانے بھرتی چلی جائیں ۔بجائے اس کے کہ ضدوں میں آ کر، مقابلوں میں آ کر، بچوں کے حق ادا کرنے چھوڑ دیں اور ان کو ان کے حق سے محروم کر دیں۔ دنیا کو نہ دیکھیں کہ یہ چند روزہ دنیا ہے۔ دنیا کی چند روزہ زندگی کے پیچھے دوڑنے کی بجائے آخرت کی اس زندگی کے حصول کی کوشش کریں جس سے اس دنیا کی زندگی بھی جنت بنتی ہے اور آخرت کی زندگی بھی دائمی جنت بناتی ہے۔ دیکھیں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے نیک بیویوں اور نیک ماؤں کو کیا مقام دیا ہے۔ آپ نے فرمایا جمع کرنے والا مال سونا چاندی نہیں ہے ۔یہ نہ سمجھو کہ تم نے سونا چاندی جمع کر لیا تو بڑا مال کما لیا۔ فرمایا بلکہ سب سے افضل مال ذکر الٰہی کرنے والی زبان ہے اور شکر کرنے والا دل ہے اور مومنہ بیوی ہے جو اس کے دین پر اس کی مددگار ہوتی ہے۔  (سنن الترمذی ابواب تفسیر القرآن باب ومن سورۃ التوبۃ حدیث 3094)

                    گویا خاوند کو دین پر چلانے کے لئے بھی مومنہ بیوی ہی کام آتی ہے اور جو دین کی خدمت کرنے والے ہیں ان کی مددگار بھی مومنہ بیوی ہی ہوتی ہے۔ پس جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمانا مردوں اور عورتوں دونوں کو اس بات کی طرف توجہ دلاتا ہے کہ اگروہ خزانے جمع کرنے ہیں جو اس دنیا میں بھی کام آئیں اور اگلے جہان میں بھی کام آئیں تو اپنی زبانوں کو ذکر الٰہی سے تر رکھو۔ اللہ تعالیٰ کے فضلوں پر اپنے دل میں شکرگزاری کے جذبات پیدا کرو۔ اس بات پر ہر وقت کڑھتے نہ رہو کہ فلاں کے پاس مال زیادہ ہے ،اس کے پاس پیسہ زیادہ ہے اور ہمارے پاس کم ہے۔ فلاں کا گھر بڑا ہے اور ہمارا چھوٹا ہے۔ فلاں کے پاس فلاں قسم کی اور نئے ماڈل کی کار ہے ہمارے پاس نہیں ہے ۔اور عورتیں یہ نہ دیکھیں کہ فلاں کے پاس سونے کا اتنا زیور ہے اور ہمارے پاس نہیں ہے ۔ہمارے خاوند ہمیں بنا کےنہیں دیتے ۔ اگر خاوندوں کو گنجائش ہے تو ضرور بیویوں کی خواہش پوری کر دینی چاہئے لیکن اگر قرضے لے کر اور قرضوںمیں ڈوب کر خواہش پوری کرنی ہے تو یہ دیندار عورت کی نشانی نہیں ہے۔

                    اللہ تعالیٰ کا رسول فرماتا ہے کہ اگر تم نیک اور دیندار ہو تو تمہاری قدر سونے چاندی سے زیادہ ہے ۔تمہاری گود میں پلنے والے بچے وہ انمول خزانہ ہیں جو دین کو دنیا پر مقدم کرنے والے، جماعت کا بہترین سرمایہ اور ملک و قوم کا بہترین اثاثہ ہیں ۔وہ ملک و قوم کی ترقی میں صفِ اوّل میں شمار ہونے والے ہیں۔ یہ ارشاد مردوں کے لئے بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک دوسرے ارشاد کی اہمیت کو مزید کھول کر واضح کرتا ہے کہ جب تم شادیاں کرنے لگو تو خاندان یا مال یا خوبصورتی کے بجائے سب سے پہلی ترجیح دین کو دو اور دیندار عورت کی تلاش کرو(صحیح البخاری کتاب النکاح باب الاکفاء فی الدین حدیث 5090) تا کہ تمہیں ایسا خزانہ اور مال اور حسن مل جائے جو نہ صرف عارضی حسن ہو بلکہ اِس دنیا کو بھی خوبصورت بنا دے اور اگلے جہان کو بھی خوبصورت بنا دے اور تمہاری نسلوں کے حسن کو بھی قائم کر دے۔

                    پس اگر مرد بھی اپنی اصلاح کریں اور اپنے رشتوں کے معیاروں کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ارشاد کے مطابق دیکھنے لگ جائیں تو عورتوں میں بھی دنیا کی دوڑ میں آگے بڑھنے کی بجائے دین کی دوڑ میں آگے بڑھنے کی کوشش شروع ہو جائے۔ مَردوں میں خود غرضیاں کم ہوں اور اس سے عورتوں کے حقوق کی ادائیگی کی طرف زیادہ توجہ پیدا ہو جائے ۔

                    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد کس خوبصورتی سے مردوں کو عورت کا حق ادا کرنے کی طرف بھی توجہ دلاتا ہے۔ آپ علیہ السلام نے ایک موقع پر فرمایا کہ مومنوں میں سے ایمان کے لحاظ سے کامل ترین مومن وہ ہے جس کے اخلاق اچھے ہیں۔ اور تم میں سے خُلق کے لحاظ سے بہترین وہ ہے جو اپنی عورتوں سے بہترین اور مثالی سلوک کرتا ہے۔(سنن الترمذی ابواب الرضاع باب ما جاء فی حق المرأۃ علی زوجھا حدیث 1162)

                     پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے عورتوں سے بہترین سلوک کو دین اور ایمان کا حصہ بنا دیا ۔ پس ایسی خوبصورت تعلیم کے بعد اگر کسی عورت کو یہ خیال آتا ہے کہ ہمیں حقوق نہیں ملتے اور دنیا داروں کے قوانین میں عورتوں کے لئے زیادہ حقوق رکھے گئے ہیں تواس سے بڑی جہالت اور کوئی نہیں ہو سکتی۔ ہر احمدی چاہے وہ مرد ہے یا عورت یہ عہد کرتا ہے کہ مَیں دین کو دنیا پر مقدم رکھوں گا اور رکھوں گی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم فرما رہے ہیں کہ اگر دین کو مقدم رکھنا ہے تو اس کی شرط یہ ہے کہ تم اپنے اخلاق کو بہترین بناؤ کہ اس سے ایمان میں ترقی ہوتی ہے اور اخلاق میں ترقی کا تبھی پتا چلے گا جب تمہارا اپنی بیویوں سے اور عورتوں سے حسن سلوک ثابت ہو گا۔ پس اس ارشاد کے بعد اگر کوئی اپنی بیوی سے زیادتی کرتا ہے اور اس سے اخلاق سے پیش نہیں آتا تو اسے اپنے ایمان کی فکر کرنی چاہئے۔

                     جو مرد ذرا ذرا سی بات پر عورتوں سے زیادتی کرتے ہیں انہیں نصیحت کرتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ عورتوں کی بھلائی اور خیر خواہی کا خیال رکھنا چاہئے کیونکہ عورت پسلی سے پیدا کی گئی ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اگر تم پسلی کی ہڈی کو سیدھا کرنے کی کوشش کرو گے تو اسے توڑ دو گے ۔لیکن اگر اس کی بناوٹ سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرو گے تو اس سے فائدہ اٹھاؤ گے۔(صحیح البخاری کتاب النکاح باب الوصاۃ بالنساء حدیث 5186)

                     کیسی خوبصورت مثال آپ نے دی۔ انسانی جسم کے دو اہم حصے پھیپھڑے اور دل پسلی کے پنجرے کے اندر ہوتے ہیں اور ڈاکٹروں کے لحاظ سے یہ جسم کابڑا اہم حصہ ہے اور دل اور پھیپھڑوں کو بہت سے نقصانات سے محفوظ رکھتا ہے۔ پس عورت کا مقام ایسا ہے کہ معاشرتی زندگی کا سانس اس سے چل رہا ہے اور پاک دلوں کی دھڑکنیں اس کی حفاظت میں ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مومن کو اپنی مومنہ بیوی سے نفرت اور بغض نہیں رکھنا چاہئے۔ اگر اس کی ایک بات اسے ناپسند ہے تو دوسری بات پسندیدہ ہو سکتی ہے۔ پس اچھی باتوں پر نظر رکھو۔(صحیح مسلم کتاب الرضاع باب الوصیۃ بالنساء حدیث (1469)) آپ نے فرمایا عورتوں کی خامیاں تلاش کرنے کی بجائے ان کی اچھی باتوں پر نظر رکھو تبھی تم حقیقی مومن ہو۔

                     پس جو مرد ذرا ذرا سی بات پر عورتوں پر ناراض ہوتے ہیں ان کی سوچوں کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد اصلاح کرتا ہے ۔اگر وہ اصلاح نہیں کرتے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کی نفی کر رہے ہیں۔ اگر ان میںایمان ہے تو پھر ان کو بہرحال بات ماننی پڑے گی۔  پھر شادی کے حق کی بات ہوتی ہے تو بعض ماں باپ خود اسلامی تعلیم پر عمل نہ کر کے غیر مسلموں کو اعتراض کا موقع دیتے ہیں۔ جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے رشتہ کرنے میں بھی لڑکی کا حق قائم فرمایا۔ چنانچہ روایت میں آتا ہے کہ ایک کنواری لڑکی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی اور بیان کیا کہ اس کے والد نے اس کی شادی کی ہے اور یہ شادی اسے ناپسند ہے چنانچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حق دیا کہ چاہے تو وہ اس نکاح کو قائم رکھے چاہے تو اسے ردّ کردے اورتوڑ دے۔

(سنن ابی داؤد کتاب النکاح باب فی البکر یزوجھا ابوھا ولا یستا ٔمرھا حدیث 2096)

                     اسی طرح ایک روایت میں آتا ہے کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہو گیا ۔اس کا اس خاوند سے ایک بچہ بھی تھا۔ اس کے فوت شدہ خاوند کے بھائی نے عورت کے والد سے اس کا رشتہ مانگا۔ وہ لڑکی ،وہ عورت جس کا ایک بچہ بھی اس کے بھائی سے تھا وہ رضا مند تھی۔ اس نے اپنی رضا مندی کا اظہار کیا کہ مَیں اپنے دیورسے یہ رشتہ کرنا چاہتی ہوں ۔لیکن لڑکی کے باپ نے اس کا رشتہ اس کی رضا مندی کے بغیر کسی اور جگہ کر دیا۔ اس پر وہ لڑکی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور شکایت کی ۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لڑکی کے والد کو بلا کر پوچھا تو اس کے باپ نے کہا کہ جہاں یہ لڑکی رضا مند ہے یعنی جس جگہ رشتہ کرنی چاہتی ہے اس کے بجائے جہاں میں نے رشتہ کیا ہے وہ بہتر ہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے باپ کے کئے ہوئے رشتہ کو توڑ کر عورت کے دیور کے ساتھ اس کا رشتہ کر دیا اور لڑکی کی پسند کو مدّنظر رکھا۔ (مسند الامام الاعظم کتاب النکاح صفحہ133 مطبوعہ المصباح اردو بازار لاہور )

                    پس اسلام رشتوں میں ولایت کا حق بیشک باپ کو دیتا ہے اور نکاح کے وقت باپ ہی ایجاب و قبول کرتا ہے لیکن رشتہ میں لڑکی کی مرضی بہرحال شامل ہونی چاہئے۔ سوائے اس کے کوئی دینی وجہ ہو ۔اگر لڑکی کا دین سے تعلق ہے، اگر وہ دین کو دنیا پر مقدم رکھنے والی ہے تو وہ دینی وجہ سے خود ہی رشتہ نہیں کرے گی۔ پس اسلام پر یہ الزام کہ وہ لڑکیوں کو اپنی مرضی سے رشتہ کرنے کا حق نہیں دیتا بالکل غلط ہے ۔ یہ بالکل غلط اعتراض ہے۔ ہاں اگر کوئی باپ اپنی لڑکی سے پوچھے بغیر اور اس کی مرضی کے بغیر رشتہ کرتا ہے تو وہ غلط کام کرتا ہے نہ کہ اسلام کی تعلیم۔ میرے پاس جب ایسے معاملات آتے ہیں تو مَیں نے تو کئی دفعہ بعض والدین کو سمجھایا کہ ضد نہ کریں اور رشتہ کر دیں ۔بعض مان بھی جاتے ہیں۔ لیکن بعض باپ انتہائی ضدی ہوتے ہیں اور وہ بات نہیں مانتے ۔لیکن اسلام کی تعلیم پر یہ اعتراض بہرحال نہیں پڑتا کہ اسلام لڑکیوں کو ان کی مرضی کے رشتوں کی اجازت نہیں دیتا۔

                    ویسے مَیں ضمناًیہ بھی بتا دوں کہ برطانیہ میں گزشتہ دنوں ایک ریسرچ ہوئی اور بڑی وسیع پیمانے پر ہوئی اور اس کے نتائج ریسرچ کرنے والوںکی حیرانگی کا موجب بھی بنے۔ ان کو یہ امید نہیں تھی کہ ایسے نتائج نکلیں گے۔ وہ نتائج کیا نکلے؟ اس کے مطابق جو arrange شادیاں تھیں جن میں بڑوں کے مشورے بھی شامل تھے زیادہ کامیاب ہوئیں۔ یا لوگوں نے، رشتہ والوں نے، لڑکے لڑکی نے یہی کہاکہ زیادہ کامیاب ہیں اور یہ جوڑے زیادہ خوش ہیں  بہ نسبت ان شادیوں کے جو شادیاں دوستیوں کی وجہ سے اور آپس کے نام نہاد پیار کی وجہ سے ہوئیں ۔ بہرحال اسلام لڑکی کی مرضی کو شامل کرتا ہے۔ لیکن ساتھ ہی یہ خوبصورت تعلیم بھی ہے کہ تمہیں پتا نہیں کہ کون سا رشتہ کامیاب ہو گا اس لئے رشتہ جوڑتے وقت صرف ظاہر نہ دیکھو بلکہ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرو کہ اگر یہ رشتہ میرے لئے اور آئندہ نسلوں کے لئے بہتر ہے تو اللہ تعالیٰ اس میں آسانیاں پیدا کر دے۔اس میں برکت ڈال دے ورنہ روک ڈال دے۔

                    یہاں مغربی معاشرے میں تو عورت مرد اپنی مرضی کی شادیاں کرتے ہیں۔یہاں تو کوئی arrange marriage  عموما ًًنہیں ہوتا پھر کیوں یہاں پینسٹھ ستّر فیصد رشتے ایک وقت میں جا کر ختم ہو جاتے ہیں ۔شادیاں ٹوٹ جاتی ہیں۔ طلاقیں ہوتی ہیں۔ مقدمے چل رہے ہوتے ہیں ۔اس لئے کہ ان میں بھی ایک وقت میں جا کر بے اعتمادی پیدا ہو جاتی ہے۔ یہ بے اعتمادی اس لئے پیدا ہوتی ہے کہ یہاں آزادی کے نام پرایک دوسرے سے دوستیاں لگائی ہوتی ہیں ۔ یہ بے اعتمادی دوستیاں لگانے سے پیدا ہوتی ہے اور یہ بے اعتمادی سچ بھی ثابت ہوتی ہے کیونکہ بہت سارے معاملات میں یہ بات سامنے آتی ہے کہ دوستیاں اس حد تک بڑھ جاتی ہیں کہ اس کے ساتھ  میاں بیوی کا اعتماد ختم ہوجاتا ہے۔ مرد اور عورت کے جو دوسرے رشتہ ہیں ان کا تقدس کوئی نہیں رہتا۔ پھر پچاس پچپن سال کی عمر میں مرد اپنی بیوی کو طلاق دے کر وہ دوسری عورت جس سے دوستی ہوتی ہے شادی کر لیتے ہیں۔ ایک دنیا دار ماحول میں شاید یہ ایسی اہم بات نہ ہو لیکن ایک دیندار ماحول میں یہ بہرحال ناپسندیدہ ہے اور اس سے اگلی نسل بھی متأثر ہوتی ہے۔ ان کے اپنے بچے متأثر ہو رہے ہوتے ہیں۔ جو اس طرح ہو جاتے ہیں جیسے باپوںکے بغیر ہیں یا ماؤں کے بغیر ہیں۔ اور اس میں مرد ہی قصوروار نہیں ہے بلکہ عورتیں بھی قصور وار ہیں۔ وہ اپنی گھریلو ذمہ داریوں کے بجائے آزادی کے نام پر باہر وقت گزارنا چاہتی ہیں۔ پاکستان سے آئی ہوئی بھی بجائے اپنی دینی روایات کو قائم کریں ،اس تعلیم پر چلیں جو اسلام ان کو سکھاتا ہے ،سہیلیوں اور دوستوں کی باتوں میں آ کر گھر پر توجہ نہیں دیتیں اور سمجھتی ہیں کہ ہم اس ملک میں آ گئے تو ہمیں آزادی مل گئی اور آزادی کے نام پربعض اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنا شروع کر دیتی ہیں۔ بچوں پر توجہ نہیں دیتیں۔ اور اس وجہ سے پھر گھروں میں لڑائی جھگڑا پیدا ہو جاتا ہے اور فساد پیدا ہو جاتا ہے اور پھرگھر ٹوٹ جاتے ہیں۔ بات بات پہ میاں بیوی لڑ رہے ہوتے ہیں اور آخر میں آ کر گھر بھی ٹوٹ جاتے ہیں اور اس سے بچے متاثر ہو رہے ہوتے ہیں ۔

                    جیسا کہ مَیں نے پہلے بھی ذکر کیا تھا کہ اگر بعض خاص حالات میں یا کسی خاص پیشہ وارانہ مہارت کی وجہ سے عورت کو کام کرنا بھی پڑے تو اسے اپنے کام کے بعد فوراً گھر آنا چاہئے تاکہ بچوں کو بھی وقت مل سکے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے عورت کو جو یہ مقام دیا کہ باپ سے زیادہ ماں کا درجہ رکھا وہ اس لئے ہے کہ ماں بچپن سے لے کر جوانی تک پالنے پوسنے اور تربیت کرنے والی ہے ۔چنانچہ ایک روایت میں آتا ہے۔ ایک سوال پوچھنے والے کے اس سوال پر کہ لوگوں میں سے میرے حسن سلوک کا سب سے زیادہ مستحق کون ہے ؟آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تیری ماں۔ اس نے کہا پھر کون ہے؟ آپ نے فرمایا تیری ماں۔ اس نے پوچھا پھر کون ہے؟ آپ نے فرمایا تیری ماں۔ اس نے چوتھی دفعہ پوچھا کہ پھر کون ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا پھر تیرا باپ تیرے حسن سلوک کا زیادہ مستحق ہے۔ پھر درجہ بدرجہ قریبی رشتہ دار اور دوست۔ (صحیح البخاری کتاب الادب باب من أحق الناس بحسن الصحبۃ حدیث 5971)

                     پس اسلام عورت اور ماں کا مقام مرد سے تین حصہ زیادہ رکھتا ہے ۔چوتھے حصہ پہ جا کے مرد کو مقام ملا۔ ماں نے جو بچے کی خاطر تکلیفیں اٹھائی ہوتی ہیں اس کا حق بنتا ہے کہ اس کو باپ پر فوقیت ہو ۔پھر بھی اعتراض کرنے والے کہتے ہیں کہ اسلام میں عورت کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ پھراسلام کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مردوں کو یہ کہتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے صرف تمہاری باتوں سے خوش ہو کر تمہیں ثواب نہیں دینا بلکہ تمہارے عمل ضروری ہیں ۔اگر تمہاری نمازیں تمہیں حسن خلق کی طرف مائل نہیں کرتیں تو تمہاری نمازیں بے فائدہ ہیں۔ یہ نہ سمجھو کہ باہر جا کے مسجد میں نمازیں پڑھ آئے یا  جماعت کے دینی کام کر لئے تو اللہ تعالیٰ تمہارے سے راضی ہو گیا۔ فرمایا یہ نہیں۔ حسن خلق بھی ضروری ہے۔اللہ تعالیٰ کو راضی کرنے اور مختلف کاموں کے کرنے کا ذکر فرماتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کی خوشنودی کی خاطر تم بیوی کے منہ میں پیار سے لقمہ بھی ڈالو تو اللہ تعالیٰ اس کا بھی ثواب دیتا ہے۔ (صحیح البخاری کتاب الفرائض باب میراث البنات حدیث 6733)

                     پس اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ میاں بیوی میں پیار اور محبت کا رشتہ قائم ہو اور اس پیار اور محبت کے رشتہ کو قائم رکھنے کی ترغیب دیتے ہوئے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ مثال بیان فرمائی ۔اس سے تمہیں ثواب بھی ہو گا اور تمہارا حسن خلق بھی ثابت ہو گا اور آپس کے رشتوںمیں مضبوطی بھی پیدا ہو گی۔ جب صرف لقمہ ڈالنے کے عمل کو بھی اللہ تعالیٰ بغیر اجر کے نہیں چھوڑتا تو پھر باقی نیک سلوک اور محبت کا اظہار اور عورت کے جذبات کا خیال رکھنا اور اسے تکلیف سے بچانے کے عمل کو اللہ تعالیٰ کس قدر نوازے گا۔ پس یہ ہے اسلام کی خوبصورت تعلیم جو مرد کو عورت کے نہ صرف حق ادا کرنے بلکہ اس سے بڑھ کر سلوک کرنے کا کہتی ہے۔ پھر بھی اسلام پر اعتراض ہے کہ اسلام میں عورت کی عزت نہیں ہے۔

                    آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص کی تین بیٹیاں ہوں وہ ان کی بہترین تعلیم و تربیت کرے تو اس نے جنت کما لی۔(سنن ابی داؤد ابواب النوم باب فضل من عال یتیماً حدیث 5147) اس زمانے میں جب بعض قبائل میںبیٹیاں پیدا ہونے پر بعض لوگ افسوس کرتے تھے اور بعض اپنی بیٹیوں کو زندہ زمین میں گاڑ دیتے تھے تو آپ نے لڑکی کی عزت قائم کی ،اسے فخر کی جگہ بنا دیا کہ تم بیٹیوں کی پیدائش پر افسوس کرتے ہو اور انہیں زمین میں گاڑ دیتے ہو لیکن اسلام تو بیٹیوں کی اعلیٰ تربیت اور انہیں اعلیٰ تعلیم دلوانے پر تمہیں جنت کی بشارت دیتا ہے کیونکہ وہ ایسی مائیں بننے والی ہیں جو اپنی اگلی نسلوں کو جنت میں لے جانے والی ہیں۔ پس اگر خدا پر ایمان ہے تو بیٹیوں کی پیدائش پر خوش ہو اور ان کا حق ادا کرو۔ دنیا والے اس دنیا کے انعام کی تو بات کر سکتے ہیں کہ ہم یہ انعام دیں گے۔ اس دنیا میں وہ انعام دیں گے۔ لیکن اگلے جہان کے انعامات کی بات وہ نہیں کر سکتے ۔یہ اسلام ہی ہے جو بیوی اور بیٹی کے حق ادا کرنے پر اگلے جہان کے انعامات کی بھی بشارت دیتا ہے۔

                     پھر کہتے ہیں کہ اسلام عورت کا حق ادا نہیں کرتا ۔ عورت کے کام کرنے اور ملازمت کرنے کی بات مَیں نے پہلے بھی کی ہے ۔اس ضمن میں یہ بھی کہوں گا کہ اگر عورت کو کسی وجہ سے ملازمت کرنی بھی پڑے تو ایک احمدی عورت کو اپنے وقار کا اور اپنے تقدس کا خیال رکھنا چاہئے۔ اپنے حیا دار لباس کا خیال رکھنا چاہئے۔ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کو ہمیشہ سامنے رکھیں کہ حیا ایمان کا حصہ ہے۔ (صحیح البخاری کتاب الایمان باب امور الایمان حدیث 9)پس ایک احمدی عورت کا لباس حیادار ہونا چاہئے۔ اسے اپنے تقدس کا ہمیشہ خیال رکھنا چاہئے۔ آہستہ آہستہ میں نے دیکھا ہے یہاں بھی، باقی ملکوں میں بھی اور پاکستان میں بھی یہی ہو رہا ہےکہ برقع کی جگہ گھٹنے کے اوپر یا زیادہ سے زیادہ گھٹنے تک کوٹ پہنے جاتے ہیں ۔اگر اس کی طرف ابھی توجہ نہ دی تو یہ اور بھی اوپر ہو جائیںگے اور پردے بھی ختم ہو جائیں گے۔ میں نے یوکے(UK) کے جلسے میں بھی کہا تھا کہ برقعوں کا پردہ ایسا ہونا چاہئے جو آگے اور پیچھے دونوں طرف سے عورت کے اعضاء کو ظاہر نہ کرے  اور نہ اس کے لباس کی زینت کو ظاہر کرے ۔دونوں طرف سے ڈھکا ہونا چاہئے اور اس کے لئے اگر کوئی پسندیدہ برقع بنانا بھی ہے تو عورتیں سوچیں۔ شعبہ نمائش و دستکاری جو ہے وہ بھی ڈیزائن کر سکتے ہیں۔ لیکن اصل چیز پردہ اور حیا ہے، اس کو قائم رکھنا ہے۔ یہ نہ ہو کہ فیشن شروع ہو جائیں۔ عجیب عجیب کاٹ کی قسم کے برقعے آنے شروع ہو گئے ہیں جیسا کہ میں نے کہا۔ حیرت ہوتی ہے کہ یہ برقعے ہیں یا فیشن کا کوئی شو (SHOW)ہے۔ اس سے ایک احمدی عورت کو بچنا چاہئے ۔بلکہ اب تو میں نے سنا ہے کہ پاکستان میں جو غیر از جماعت عورتیں ہیں ان کے پردے احمدی لڑکیوں اور عورتوں سے زیادہ بہتر ہو گئے ہیں۔ یہ ہمارے لئے قابل شرم ہے۔ بلکہ اب تو یہ بھی ہے کہ بعض اپنے لباس میں بھی حیا کا خیال نہیں رکھتیں۔ پردے تو ایک طرف رہے۔ پس کم از کم لباسوں میں حیا کا خیال رکھ لیں۔ اس طرف ہر احمدی عورت کو توجہ دینی چاہئے۔ جب آپ عہد کرتی ہیںکہ دین کو دنیا پر مقدم رکھیں گی تو پھر اس عہد کو پورا کرنے کے لئے معاشرے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے کوشش بھی کرنی ہو گی۔ اس معاشرے میں جہاں عورت کے جذبات کو بات بات پر آزادی کے نام پر ابھارا جاتا ہے ہر اسلامی فعل پر عمل کرنا عورت کے لئے ایک مجاہدہ کا تقاضا کرتا ہے۔ پس اگر احمدی عورت نے جہاد میں حصہ لینا ہے تو دین کو دنیا پر مقدم کرنے کا جہاد ہے۔ اس زمانے میں تلوار کے جہاد کی نہ مرد کو اجازت ہے اور نہ عورت کو اور نہ ہی اس کی ضرورت ہے۔اور اگر جہاد ہے تو اپنے آپ کو اسلامی تعلیم کے مطابق ڈھالنے اور اپنے نفس کی درستی کرنے کا جہاد ہے۔ دنیا کی باتوں میں آ کر کسی احساس کمتری کا شکار نہ ہوں۔

                     اسلام نے عورت کے حق قائم کئے ہیں۔ وراثت کا اسے حق دیا ہے۔ آزادیٔ رائے کا اسے حق دیا ہے ۔چنانچہ صحابیات اپنی آزادیٔ رائے کا حق استعمال کرتے ہوئے مردوں کو مشورے بھی دیا کرتی تھیں۔(صحیح البخاری کتاب المظالم باب الغرفۃ والعلیۃ المشرفۃ… الخ حدیث2468)،(سنن ابی داؤد کتاب النکاح باب فی ضرب النساء حدیث2146) تعلیم حاصل کرنے کا حق دیا ہے ۔جائداد بنانے اور رکھنے کا حق دیا ہے ۔شادی میں اپنی مرضی کے اظہار کا حق دیا ہے ۔مرد کے غلط رویے کی وجہ سے خلع لینے کا ،علیحدگی لینے کا بھی حق دیا ہے۔ آج جو ترقی یافتہ ملکوں کے قانون بن رہے ہیں اور وہ بھی پوری طرح نہیں ان کا حق اسلام نےپہلے قائم کر دیا ہے۔ پس کسی قسم کے احساس کمتری کا شکار نہ ہوں ۔اپنے ایمان کو ہر چیز پر فوقیت دیں ۔یہاں جرمن عورتیں اور دوسرے ترقی یافتہ ملکوں میں بھی وہاں کی مقامی عورتیں جب احمدیت قبول کرتی ہیں تو بڑے اعتماد سے حیادار لباس بھی پہنتی ہیں اور پردے بھی کرتی ہیں بلکہ میں نے دیکھا ہے بعض تومثال بن رہی ہیں ۔ بعضوں کو مَیں کہتا بھی ہوں کہ ان پیدائشی احمدیوں کی بھی تربیت کرو ۔چنانچہ پچھلے دنوں میں جب گیزن(Gießen)میں مسجد کا افتتاح ہوا تو وہاں بھی ایک جرمن عورت مجھے ملی ۔اسے میں نے کہا تھا کہ تمہارا پردہ ایسا مکمل اور صحیح ہے کہ اسے یہاں جو باقی پرانی احمدی عورتیں ہیں اورپاکستان سے آئی ہوئی احمدی لڑکیاں ہیں جن کے پردے اچھے ہونے چاہئیں ان کو اپنی مثال پیش کرو۔ انہیں پردہ کرناسکھاؤ ۔

                    پس اصل بات یہ ہے کہ دین کو دنیا پر مقدم کرنے کے عہد کو ہمیشہ یاد رکھیں۔ لڑکیاں یہ نہ سمجھیں کہ ہم یہاں پڑھ لکھ کر اگر اس ماحول کے مطابق اپنے آپ کو نہ ڈھالیں گی تو نَکُّو کہلائیں گی۔ لوگ ہم پر ہنسیں گے ،مذاق اڑائیں گے۔ ہمیشہ یاد رکھیں کہ آپ میں سے بہت سی ہیں جن کے باپ دادا نے دین قبول کیا ،احمدیت قبول کی اور قربانیاں دیں۔ آپ نے اسے یاد رکھنا ہے۔ اگر بھول گئیں تو اپنا دین بھی ضائع کریں گی اور اپنے بچوں کا دین بھی ضائع کریں گی۔ آپ جو پاکستانی ہیں ، ان میں سےاکثریت اس لئے اپنے ملک سے نکالی گئی ہیں۔ آپ کے باپ دادا یہاں آ کے آباد ہوئے یا خود آپ لوگ یہاں آئے کہ آپ نے نام نہاد مُلاّں کے دین کی پیروی نہیں کی۔ بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کو سمجھتے ہوئے اور قبول کرتے ہوئے زمانے کے امام اور مسیح موعود کو مانا ہے نہ کہ مُلاّں کے دین کو۔ اور مُلاّں سے خوف نہیں کھایا۔ اس لئے آپ کو وہاں سے ملک چھوڑنا پڑا ۔ورنہ کیا خصوصیت ہے آپ میں اور کیا حق ہے ان احمدیوں کا جو یہاں آ کے اسائلم لیتے ہیں اور لے رہے ہیں۔ آپ کا جو جرمنی میں آ کر آباد ہونا ہے وہ کسی خصوصیت کی وجہ سے نہیں ہے۔ آپ کے کسی اعلیٰ معیار کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ دین کی وجہ سے ہے۔ جب دین کی وجہ سے ہے تو پھر اس کو ہمیشہ یاد بھی رکھنا چاہئے۔ اس قوم نے احمدیوں کو صرف اس لئے جگہ دی کہ ہمیں اپنے ملک میں مذہبی آزادی نہیں تھی ۔ پس اس بات کو مرد بھی اور عورتیں بھی یاد رکھیں۔ اگر دین پر قائم نہیں رہتے تو پھرہم ان لوگوں کو دھوکہ دینے والے بنتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ سب کو توفیق دے کہ اپنے قول سے بھی اور اپنے عمل سے بھی یہ ثابت کریں کہ جس دین کو آپ ماننے والے ہیں وہ سچا دین ہے اور آپ کے حقوق کی حفاظت کرتا ہے۔ دنیا کو اسلام کی خوبیاں بتائیں تا کہ دنیا جانے کہ دنیا کی نجات خدا تعالیٰ کے حکموں پر چلنے اور اس پر ایمان لانے میں ہے نہ کہ دنیاوی ہاؤ ہُو میں ڈوب کر دین کو بالکل بھول جانے میں ہے، اللہ تعالیٰ کو بھول جانے میں ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ کو دنیا کی رہنمائی کی سچی توفیق عطا فرمائے اور اپنے عملی نمونے دکھانے کی آپ کو توفیق عطا فرمائے۔ دعا کر لیں۔

اپنا تبصرہ بھیجیں