خطاب حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز برموقع تقریب سنگ بنیاد Raunheim مسجد 19؍ اپریل 2017ء

(نوٹ: سیدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ کے پرمعارف خطبات و خطابات قرآن کریم، احادیث مبارکہ اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات کی لطیف تفسیر ہیں – چنانچہ دوستوں کی خواہش پر ویب سائٹ ’’خادم مسرور‘‘ میں حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد فرمودہ تمام خطبات جمعہ اور خطابات upload کئے جارہے ہیں تاکہ تقاریر اور مضامین کی تیاری کے سلسلہ میں زیادہ سے زیادہ مواد ایک ہی جگہ پر باآسانی دستیاب ہوسکے)

أَشْھَدُ أَنْ لَّا إِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیکَ لَہٗ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَ رَسُوْلُہٗ
أَمَّا بَعْدُ فَأَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ- بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
اَلْحَمْدُلِلّٰہِ رَبِّ الْعَالَمِیْنَ۔ اَلرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ۔ مٰلِکِ یَوْمِ الدِّیْنِ اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَ اِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ۔
اِھْدِناَ الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِیْمَ۔ صِرَاطَ الَّذِیْنَ اَنْعَمْتَ عَلَیْھِمْ غَیْرِالْمَغْضُوْبِ عَلَیْھِمْ وَلَاالضَّآلِّیْنَ۔

تمام معزز مہمانان! السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ

اللہ تعالیٰ آپ سب کو ہمیشہ امن اور سلامتی میں رکھے۔

خاص طور پر آجکل جو دنیا کے حالات ہو رہے ہیں اس میں صرف مذہبی تنظیموں یا جس طرح کہا جاتا ہے کہ بعض مسلمان شدّت پسند تنظیموں کی وجہ سے خوف اور خطرہ نہیں بلکہ اب دنیا میں جو نئی ڈویلپمنٹ ہو رہی ہے اور ملکوں اور حکومتوں کی آپس میں جو دشمنیاں بڑھ رہی ہیں اس کی وجہ سے بڑا خطرہ پیدا ہوتا چلا جا رہا ہے کہ یورپ میں بھی اور کوریا کے علاقے میں بھی، مشرق بعید میں بھی اور امریکہ میں بھی جنگ چھڑ سکتی ہے۔ اس لئے ہم سب کو امن کے لئے کوشش بھی کرنی چاہئے اور اس کے لئے دعا بھی کرنی چاہئے۔ اسی لئے مَیں نے سب سے پہلے آپ کو امن اور سلامتی کا یہ پیغام دیا ہے تا کہ ہر شخص جو انسانیت سے محبت کرنے والا ہے وہ اس بات کو سمجھے اور امن اور سلامتی کے پھیلانے کے لئے کوشش کرے۔ سیاستدان اپنی حکومتوں کو اس بات پر قائل کرنے کی کوشش کریں کہ جنگوں کی بجائے امن اور محبت کے پھیلانے کی طرف ہمیں زیادہ کوشش کرنی چاہئے۔ صلح اور آشتی کے پھیلانے کی طرف ہمیں زیادہ کوشش کرنی چاہئے۔

اسلام نام ہے امن کا۔ اسلام کا مطلب ہی امن اور سلامتی ہے۔ بدقسمتی سے بعض گروہوں نے، بعض شدت پسند تنظیموں نے اسلام کے نام کو بدنام کیا اور مسلمان ممالک میں بھی اس کی وجہ سے قتل و غارت ہو رہی ہے۔ حکومتوں اور عوام کے درمیان بھی اور شدت پسند گروہوں کے درمیان بھی جنگیں ہو رہی ہیں۔ اور اسی طرح بعض شدت پسند گروہ مغرب میں بھی بعض ممالک میں ایسی حرکتیں کر رہے ہیں۔ جرمنی، فرانس اور بیلجیم میں بھی کچھ واقعات ہوئے جس کی وجہ سے غیر مسلم دنیا میں اسلام کے بارے میں غلط تصور پیدا ہو گیا اور یہی وجہ ہے کہ جو لوگ اسلام کی صحیح حقیقت سے واقف نہیں۔ ہو سکتا ہے آپ میں بھی بعض ایسے بیٹھے ہوں جو یہی سمجھتے ہیں کہ اسلام ایک شدّت پسندی کا مذہب ہے۔ اور اس وجہ سے مسجد کی تعمیر اگر ہو رہی ہو تو آپ لوگوں میں تحفّظات پیدا ہوتے ہیں۔

لیکن اس بات کی مجھے خوشی ہے کہ یہاں آنے والے مقررین نے اس بات کا اظہار کیا کہ جماعت احمدیہ مُسلمہ کے افراد کا یہاں کی سوسائٹی میں ایک اچھا اثر ہے اور احمدی مسلمان امن، محبت، پیار اور بھائی چارہ پھیلانے اور اس سوسائٹی میں integrate ہونے میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں۔ یہی حقیقی اسلام ہے اور مسجد بننے کے بعد اس کے نمونے مزید اعلیٰ رنگ میں پیش ہوں گے۔ جب یہاں مسجد بن جائے گی تو تب پتا لگے گا کہ مسجد کے مینار سے نفرتوں کے نعرے نہیں لگتے بلکہ محبت اور پیار کی آوازیں آئیں گی۔ محبت اور پیار کے نعرے ابھریں گے۔

حضرت ابراہیم علیہ السلام کا تلاوت قرآن کریم میں بھی حوالہ دیا گیا۔ ہمارے امیر صاحب نے بھی ذکر کیا۔ انہوں نے بھی جب حضرت اسماعیل علیہ السلام کے ساتھ خانہ کعبہ کی بنیادیں استوار کیں جس کے نمونے پر ہماری مساجد قائم کی جاتی ہیں تا کہ ایک خدا کی عبادت کریں  اور انہوں نے اس وقت یہ دعا کی کہ اس جگہ کو امن اور سلامتی کی جگہ بنا۔ پس ہماری مساجد اگر اس نمونے پر قائم ہو رہی ہیں اور ہونی چاہئیں جس کو بنیاد بنا کر اس عمارت کی بنیادیں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت اسماعیل کے ساتھ اٹھائی تھیں۔ تو پھر ہماری مسجدیں بھی امن اور سلامتی کا مقام ہونا چاہئے اور یہی اس کا مقصد ہے۔

 میئر صاحب کے جذبات کا بھی مَیں شکریہ ادا کرتا ہوں۔ ہمسایوں کے حقوق کی بھی انہوں نے بات کی کہ احمدی ہمسایوں کے حق ادا کرنے والے ہیں۔ آپس میں تعلقات بڑھانے والے ہیں۔

 ہمسایوں کے حقوق کا اسلام میں اس حد تک حکم ہے اور زور ہے کہ بانیٔ اسلام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے بار بار ہمسایوں کے حقوق کی طرف اس قدر توجہ دلائی ہے بلکہ قرآن کریم میں بھی ہمسایوں کے حقوق کا بڑی تفصیل سے ذکر ہے کہ ایک وقت میں مجھے خیال ہو اکہ شاید ہمسایوں کو وراثت کے حقوق میں بھی شامل کر لیا جائے۔ تو یہ اہمیت ہے۔ اور ہمسائیگی کے حق کا جو دائرہ ہے اس کی وسعت اس حد تک ہے کہ نہ صرف یہ کہ آپ کے گھر کے ساتھ رہنے والے ہمسائے ہیں بلکہ ارد گرد کے جتنے بھی گھر ہیں وہ سب آپ کی ہمسائیگی میں آتے ہیں۔ آپ کے ساتھ سفر کرنے والے آپ کی ہمسائیگی میں آتے ہیں۔ آپ کے ساتھ کام کرنے والے آپ کی ہمسائیگی میں آتے ہیں اور اس طرح یہ دائرہ وسیع ہوتا چلا جاتا ہے بلکہ ایک جگہ یہ بھی فرمایا کہ تمہاری ہمسائیگی چالیس گھروں تک ہے۔ اب چاروں طرف اگر چالیس چالیس گھر لیں تو ایک سو ساٹھ گھر ایک احمدی کے ہمسائے میں بن گئے اور اس طرح جب ہر احمدی کے گھر میں اتنی ہمسائیگی پھیلتی چلی جائے تو گویا کہ پورا شہر ہی اس کا ہمسایہ ہو گیا اور یہی حال ہماری مسجد کا ہو گا انشاء اللہ۔

 مسجد جب بنتی ہے تو یہاں بھی مسجد میں آنے والوں کا فرض ہے کہ اپنے ہمسایوں کے حقوق کا خیال رکھیں۔ مسجد ان کے لئے کسی تنگی کا باعث نہ بنے۔ بلکہ یہاں کے رہنے والے اس بات کا اظہار کرنے والے ہوں کہ مسجد بننے سے متعلق ہمارے جو تحفّظات تھے کہ بعض ٹریفک کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں یا بعض پروگراموں کی وجہ سے ہمارے لئے دقّتیں پیدا ہو سکتی ہیں وہ سب غلط ثابت ہوئے اور احمدی مسلمانوں کی یہ مسجد جو ہے اس سے تو ہمیں فائدہ ہی فائدہ ہو رہا ہے۔ اور پہلے سے بڑھ کر اس مسجد کے بننے کے بعد احمدی اپنے ہمسائیگی کا حق ادا کرنے والے ہیں اور اسی طرح قانون کی پابندی کرنے والے ہیں۔ قانون کی پابندی تو انتہائی اہم چیز ہے۔ اگر کوئی مسلمان ملک کے قانون کا پابند نہیں تو اس کا کوئی حق نہیں کہ وہ اس ملک میں رہے۔ قانون کی پابندی کے بارے میں اور ملک سے محبت کے بارے میں تو بانیٔ اسلام حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس حد تک فرمایا ہے کہ یہ تمہارے ایمان کا حصہ ہے۔ پس ملک کے قانون بنائے جاتے ہیں وہاں کے رہنے والوں کو تحفظات دینے کے لئے، وہاں کے رہنے والوں کے لئے آسانیاں پیدا کرنے کے لئے، وہاں کے رہنے والوں کو ظلموں سے بچانے کے لئے۔ پس جب اسلام کی تعلیم ہی یہی ہے کہ تم نے امن اور سلامتی پھیلانی ہے اور ظلموں کو دور کرنا ہے تو یہ کبھی ہو نہیں سکتا کہ کوئی احمدی مسلمان یا کوئی بھی حقیقی مسلمان کبھی قانون کی خلاف ورزی کرنے والا ہو۔ ہر حقیقی مسلمان ہمیشہ قانون کا پابند ہو گا اور اس کو رہنا چاہئے۔ اگر نہیں تو اس کا اپنے مذہب اسلام سے بھی کوئی واسطہ نہیں ہے۔

پس اس لحاظ سے بھی آپ سب لوگوں کو اگر کسی کے دل میں کوئی تحفّظات ہیں تو ان کو دُور کرنا چاہئے کیونکہ اسلامی تعلیم اس بات کی ہرگز اجازت نہیں دیتی کہ کسی قسم کی بدامنی پھیلائی جائے یا قانون شکنی کی جائے۔ اگر کچھ لوگ اس طرح کرتے ہیں، اسلام کے نام پہ کرتے ہیں تو اسلام کو بدنام کرنے والے ہیں۔ اسلام کی تعلیم ہرگز ہرگز اس بات کی اجازت نہیں دیتی۔

اسی طرح میں ایم پی(MP) صاحبہ کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے بڑے نیک جذبات کا اظہار کیا اور مذہبی آزادی کا بھی ذکر کیا۔ مذہبی آزادی کے لئے جو اس ملک میں ہمیں مل رہی ہے ہم یہاں کے لوگوں کے اور حکومت کے انتہائی شکر گزار ہیں اور یہ مذہبی آزادی ہی ہے کہ یہاں کی اکثریت غیر مسلم ہونے کے باوجود، عیسائی ہونے کے باوجود یا دوسرے مذاہب رکھنے کے باوجود، مسلمانوں کو جو اس علاقے میں بالکل معمولی تعداد میں ہیں ان کو مسجد کی اجازت دے رہے ہیں۔ اور اس کے لئے مَیں یہاں کے لوگوں کا ،ہمسایوں کا اور کونسل کا بھی شکریہ ادا کرتا ہوں کہ انہوں نے ہمیں یہاں مسجد بنانے کی اجازت دی۔ اور انشاء اللہ تعالیٰ جب یہ مسجد بن جائے گی تو ان کو تب احساس ہو گا اور انشاء اللہ تعالیٰ مزید واضح ہو گا کہ مسجد کی اجازت دے کر انہوں نے ایک بہترین ہمسائیگی کا حق ادا کرنے والوں کو ان کا حق دیا ہے۔

 پس اس لحاظ سے بھی میں آپ لوگوں کا شکرگزار ہوں کہ یہاں مذہبی آزادی کی وجہ سے ہم آزادی سے اپنی عبادتیں بجا لا سکتے ہیں اور جو ہمارے باقی پروگرام ہیں ان کو ادا کر سکتے ہیں اور حقیقت میں یہی مذہبی آزادی وہ چیز ہے جو امن اور سلامتی کی بنیاد ہے۔

 ہم اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے تمام قوموں میں نبی بھیجے۔ تمام قوموں کی اصلاح کے لئے اپنے خاص چنیدہ بندوں کو بھیجا جنہوں نے ان کو دین اور مذہب سکھایا۔ ان کو اخلاق سکھائے۔ پس ہر مذہب جو ہے وہ خدا تعالیٰ کی طرف سے ہے اور آج تک جب سے کہ دنیا بنی ہے اب تک ہر قوم میں جو نبی آئے، جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے آئے، ہم یقین رکھتے ہیں کہ وہ سب سچے تھے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے بھیجے ہوئے تھے اور اللہ تعالیٰ کی تعلیم کو پھیلانے کے لئے آئے تھے۔ اس لحاظ سے ہم یہ کبھی سوچ بھی نہیں سکتے کہ ہم کسی  دوسرے مذہب کے حقوق کو غصب کرنے والے ہوں یا ان کو کسی بھی طرح نقصان پہنچانے والے ہوں۔ بلکہ اسلام میں جب ایک لمبی persecution کے بعد بانیٔ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو جنگ کی اجازت دی گئی تو اس وقت اس شرط کے ساتھ دی گئی اور قرآن کریم میں اس کا ذکر ہے کہ یہ جو تم لوگوں کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ یہ اصل میں مذہب کو ختم کرنا چاہتے ہیں اور  ضروری ہے کہ ان کے ہاتھوں کو روکا جائے کیونکہ اگر اسی طرح ان کا جنگ کا جنگ سے جواب دے کر، ہتھیاروں سے جواب دے کر، ان کے ہاتھوں کو نہ روکا گیا تو پھر دنیا میں کوئی چرچ باقی نہیں رہے گا، کوئی سیناگاگ (Synagogue) باقی نہیں رہے گا، کوئی ٹیمپل(Temple) باقی نہیں رہے گا۔ کوئی مسجد باقی نہیں رہے گی کیونکہ یہ لوگ مذہب کے خلاف ہیں۔

پس یہاں قرآن کریم نے اس بات کو قائم کر دیا کہ مذہبی آزادی اسلام کی بنیادی تعلیم کا حصہ ہے اور اس لحاظ سے میں آپ لوگوں کو اس بات کی مبارکباد بھی دیتا ہوں کہ ان ملکوں میں آپ لوگوں کو اس بات کا زیادہ اِدراک ہے بہ نسبت بعض اُن ممالک کے جو مسلمان ممالک ہیں کہ وہ مذہبی آزادی دیں۔ آپ لوگوں نے مذہبی آزادی دی اور اسی مذہبی آزادی کی وجہ سے ہی احمدی جن کو پاکستان میں مذہبی آزادی سے محروم کیا گیا تھا یہاں آ کر آباد ہوئے اور یہاں آ کر اپنی عبادات اور دوسرے پروگرام آزادی سے بجا لا رہے ہیں اور اسی آزادی کی وجہ سے اپنی مساجد کی تعمیر کر رہے ہیں۔ اس کے لئے بھی مَیں آپ لوگوں کا بہت شکرگزار ہوں۔

جمہوریت کی بات ہوئی۔ یہاں جمہوری حکومتیں ہیں اور حقیقی جمہوریت ہونے کی وجہ سے ہی آپ لوگوں میں مذہبی آزادی کا بھی اِدراک پیدا ہوا اور اسلام بھی یہی کہتا ہے کہ جمہوری آزادی ہونی چاہئے۔ بلکہ قرآن کریم نے یہ کہا کہ جب تم اپنے لیڈر منتخب کرو، جب تم اپنے سردار منتخب کرو یا اپنے حکومت کے کارندے اور اہلکار منتخب کرو تو ایسے لوگوں کو منتخب کرو جو امانت کا حق ادا کرنے والے ہوں۔ ایسے سیاستدان حکومت میں آئیں جو امانت کا حق ادا کرنے والے ہوں۔ اور امانت کا حق یہ ہے کہ عوام کی بہتری کے لئے کام کرنے والے ہوں اور ملک کی بہتری کے لئے کام کرنے والے ہوں۔ تو اسلام تو اس حد تک تعلیم دیتا ہے کہ اپنے آزادیٔ رائے کے حق کو بھی استعمال کرو۔ کسی پارٹی کی affiliation نہیں بلکہ اِس با ت کو مدّنظر رکھو کہ ایسے لوگ چُنے جائیں، ایسے لوگ حکومت میں آئیں جو عوام کی بہتری کا حق ادا کرنے والے بھی ہوں۔ اس کے لئے کام کرنے والے ہوں۔ اور ملک کی ترقی کے لئے بھی کارآمد ہوں اور اس کا حق ادا کرنے والے ہوں۔ پس اس تعلیم کے ساتھ ہم اپنی باتوں کو دنیا میں پھیلاتے بھی ہیں اور اس تعلیم پر عمل کرتے ہوئے ہم اپنی زندگی گزارنے کی کوشش بھی کرتے ہیں اور یہی احمدی کا کام ہے کہ جہاں وہ مذہبی آزادی کی وجہ سے آپ لوگوں کا شکرگزار بنے وہاں قانون کے اس حدتک پابند ہوں کہ ایک نمونہ بن جائیں اور اسی طرح ایسے لوگوں کو، ایسے لیڈروں کو چننے والے ہوں جو ملک و قوم کے لئے بہترین خدمتگار ہوں۔

مجھے امید ہے کہ انشاء اللہ تعالیٰ جب یہ مسجد تعمیر ہو جائے گی تو یہاں کے رہنے والے احمدی اپنے پروگرام زیادہ سہولت سے کر سکیں گے۔ایک جگہ جمع ہو کر جہاں وہ عبادت کریں گے وہاں دوسرے پروگرام بھی کر سکیں گے اور اپنے ملک و قوم کی ترقی کے لئے بھی بہترین کردار ادا کرنے والے ہوںگے ۔اللہ تعالیٰ ان کو توفیق بھی دے۔ اور خدا کرے کہ جب یہ مسجد بن جائے تو جو توقعات احمدیوں سے کی جا سکتی ہیں اور کی جانی چاہئیں اور جو مَیں  اُن سے امید رکھتا ہوں انشاء اللہ تعالیٰ وہ ان پر پورا اترنے والے ہوں گے اور اسلام کی حقیقی اور خوبصورت تعلیم کو اس علاقے کے لوگوں میں مزید متعارف کروانے والے ہوں گے۔ اللہ کرے کہ ایسا ہی ہو۔ شکریہ۔

               (خطاب کے بعد حضور انور نے دعا کروائی۔)

اپنا تبصرہ بھیجیں