محترم وسیم احمد قمر صاحب

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، روزنامہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ ؍جنوری2026ء)

روزنامہ’’الفضل‘‘ربوہ 12؍مارچ 2014ء میں مکرمہ ط۔وسیم صاحبہ نے اپنے شوہر محترم وسیم احمد قمر صاحب ابن مکرم چودھری خورشید محمد صاحب کا ذکرخیر کیا ہے جو چار روز برین ہیمرج کے نتیجے میں بیمار رہنے کے بعد 21؍نومبر2011ء کو پچاس سال کی عمر میں وفات پاگئے۔ وہ پاکستان ریلوے کے I.T سینٹر میں اسسٹنٹ پروگرامر تھے اور والٹن میں ریلوے آفیسرز فلیٹ میں مقیم تھے۔
مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ میرے میاں 25؍اگست 1961ء کو دھرمپورہ لاہور میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد اپنے خاندان میں اکیلے احمدی تھے لیکن وہ خود اور اُن کے بیوی بچے سب مخلص احمدی تھے۔ میرے میاں بھی ایک نیک، ایماندار اور پانچ وقت نماز کے پابند تھے۔ قرآن کریم کی تلاوت بہت خوبصورت آواز میں کیا کرتے تھے اور ترجمہ بھی بلند آواز میں پڑھتے۔ آپ کو تلاوت کرتے دیکھ کر میں دعا کرتی کہ اللہ تعالیٰ مجھے اور میرے بچوں کو بھی ان کی طرح تلاوت کرنے کی توفیق دے۔ آپ درودشریف کا ورد اور ذکرالٰہی کثرت سے کیا کرتے تھے۔ رمضان آتا تو گھر میں نماز فجر اور نماز مغرب باجماعت کرواتے۔ اکثر جماعتی پروگراموں میں بھی تلاوت کرتے یا نظم پڑھتے۔ اپنے چاروں بچوں کو قرآن کریم کا دَور مکمل کروانے کی سعادت بھی پائی۔
آپ ایک سچے اور سادہ انسان تھے۔ ہمیشہ رزق حلال کی دعا کرتے تھے اور صبروشکر کرتے تھے۔ حسد سے کوسوں دُور تھے اور کہتے تھےکہ ہر بندے کو اپنا نصیب ملتا ہے۔
تین سال قبل انہوں نے خواب میں حضرت مسیح موعودؑ کو دیکھا۔ حضورؑ نے فرمایا کہ تم اور تمہارے بیوی بچے سورت الم نشرح اور ربّ کُلُّ شَیءٍ خَادِمُکَ رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ وَانْصُرْنِیْ وَارْحَمْنِیْ پڑھا کرو۔ تب سے ہم سب یہ پڑھتے ہیں۔ مرحوم کو رمضان المبارک میں لیلۃالقدر بھی نصیب ہوئی۔
مرحوم ہمیشہ نماز جمعہ اور عیدین دارالذکر میں ادا کرتے تھے۔ 28؍مئی 2010ء کو بھی وہاں موجود تھے۔ شرپسندوں نے حملہ کیا تو آپ نے قریبی لوگوں کو رَبِّ کُلُّ شَیءٍ خَادِمُکَ رَبِّ فَاحْفَظْنِیْ وَانْصُرْنِیْ وَارْحَمْنِیْ پڑھنے کو کہا اور خود بھی پڑھنے لگے۔ کہتے تھے دوسری یا تیسری بار جب گرنیڈ پھٹا تو پوری مسجد ہل گئی اور اُس وقت میرے اوپر کانچ ہی کانچ تھا لیکن خراش بھی نہیں آئی تھی۔ اسی اثنا میں کسی نے مجھے ایک چابی دی کہ جاکر تہ خانہ کھول لو۔ مَیں نے جاکر basement کا دروازہ کھولا تو اَور لوگ بھی وہاں آگئے۔ اُس دن دارالذکر میں آپ کے بڑے بھائی چودھری مظفر احمد صاحب اور آپ کے بھانجے کامران ارشد (رضاکار ایم ٹی اے) کی بھی شہادت ہوئی۔
آپ ایم ٹی اے پر خطبات جمعہ اور راہ ہدیٰ کا پروگرام باقاعدہ سنتے۔ خلیفۂ وقت کو دعائیہ خط لکھ کر فیکس کرتے رہتے اور بچوں کو بھی اس کی تلقین کرتے۔ کسی مخالفت سے نہیں ڈرتے تھے۔ اپنے دفتر میں مختلف دعائیں اور دعائیہ اشعار اپنے ہاتھ سے لکھ کر آویزاں کیے ہوئے تھے۔ آپ کی وفات کے بعد دفتر والوں نے ان کے بیٹے سے کہا کہ یہ تحریریں یہیں آویزاں رہنے دیں کیونکہ یہ ایک نیک اور ایماندار آدمی کی یادگار ہیں جو دوسروں کی مدد کرکے خوش ہوتا تھا۔ ان تحریروں میں حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کا یہ شعر بھی تھا ؎

مَیں تجھ سے نہ مانگوں تو نہ مانگوں گا کسی سے
مَیں تیرا ہوں تُو میرا خدا میرا خدا ہے

دفتر میں آپ بہت قابل اعتماد تھے۔ ان کے کولیگ کہتے تھے کہ ان کا تیار کیا ہوا خط ہم آنکھیں بند کرکے دستخط کردیتے تھے۔ ان کے کئی سینئر افسروں نے بھی تعزیتی فون کیے اور وہ بھی یہی کہہ رہے تھے کہ ایک فرشتہ چلاگیا ہے اور ہمارے سینٹر کا یہ نقصان کبھی پورا نہیں ہوگا۔
مرحوم بچوں کے ساتھ بہت پیار کرتے، اُن کے ساتھ بچے ہی بن جاتے۔ غرباء کا بھی خاص خیال رکھتے بلکہ ہر دوسرے کی تکلیف کو اپنی تکلیف سمجھتے اور مدد کرتے۔ چوبیس سال کی ازدواجی زندگی میں مَیں نے اُن سے صرف محبت، چاہت اور اعتماد دیکھا۔ کبھی مجھے ’تم‘ نہیں کہا۔ ہمیشہ ’آپ‘ کہتے تھے۔ میری والدہ کی بھی بہت خدمت کی اور میرے بھائی بہنوں سے بھی پیار اور عزت سے پیش آتے۔
وفات سے کچھ عرصہ قبل بہت خاموش ہوگئے۔ کچھ خواب بھی ایسے دیکھے۔ ایک خواب میں سورۃ العصر دیکھی۔ پھر ایک خواب میں اپنے مرحوم والد کو دیکھا جو بہت خوش تھے۔ بہرحال دعاؤں کا انمول خزانہ چھوڑ کر وہ اچانک چلے گئے۔

اپنا تبصرہ بھیجیں