ہم عصر صوفیائے کرام کی طرف سے حضرت امام آخرالزماںؑ کی تصدیق

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ، روزنامہ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ 23؍مارچ 2026ء)

حضرت مسیح موعودؑ کے بعض ہم عصر علمائے کرام کی طرف سے آپؑ کے دعاوی کی تصدیق کے حوالے سے چند بیانات (مرسلہ مکرم نذیر احمد سانول صاحب) روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 28؍جون2014ء میں شامل اشاعت ہیں۔

حضرت مسیح موعود و مہدی معہود ؑ٭…حضرت خواجہ غلام فرید صاحبؒ آف چاچڑاں شریف 1842ء میں پیدا ہوئے 1901ء میں وفات پائی۔ ’’اشارات فریدی‘‘ میں تحریر ہے کہ ایک شخص حافظ مگوں نے حضرت مرزا غلام احمد صاحب قادیانی کے متعلق ناروا باتیں کہیں تو حضرت خواجہ صاحب کا چہرہ متغیر ہوگیا اور آپ نے اُس کو تنبیہ کی اور ڈانٹا۔ اُس نے عرض کی کہ قبلہ! جبکہ مرزا صاحب میں حضرت عیسیٰ بن مریم کے حالات اور صفات اور مہدی موعود کے اوصاف نہیں پائے جاتے تو ہم کس طرح اعتبار کرلیں کہ وہ عیسیٰ اور مہدی ہیں۔ حضور خواجہ صاحب نے فرمایا کہ مہدی کے اوصاف پوشیدہ اور چھپے ہوئے ہیں، وہ اوصاف ایسے نہیں جیسے لوگوں کے دلوں میں بیٹھے ہوئے ہیں، پس کیا تعجب ہے کہ یہی مرزا غلام احمد صاحب مہدی ہوں۔ جیسا کہ حدیث شریف میں آیا ہے کہ بارہ دجّال ہیں پس اسی قدر مہدی ہیں۔ اور ایک حدیث میں آیا ہے کہ عیسیٰ اور مہدی ایک ہی شخص ہے۔ یہ کوئی شرط نہیں ہے کہ مہدی کی تمام علامات جو کہ لوگوں کے دلوں میں اُن کے اپنے خیال اور فہم کے مطابق بیٹھی ہوئی ہیں ظاہر ہوجائیں۔ بلکہ اے حافظ! بات دوسری طرح ہے۔ اگر اُسی طرح ہوتا جیسا کہ لوگ خیال کرتے ہیں تو تمام دنیا مہدی برحق کو جان لیتی اور اُس پر ایمان لے آتی۔ اگر ہر نبی کی اُمّت پر اپنے وقت کے نبی کا حال منکشف ہو جاتا تو تمام مسلمان ہوجاتے۔ جیسا کہ آنحضرتﷺ کے اوصاف و علامات کتب سماویہ میں لکھے ہوئے تھے اور جب آنحضرتﷺ ظاہر ہوئے تو جن لوگوں پر آپؐ کا معاملہ ظاہر ہوگیا وہ تو ایمان لے آئے لیکن جس گروہ پر آپؐ کا حال نہ کھلا تو انہوں نے انکار کردیا۔ اسی طرح مہدی کا حال ہے۔ پس اگر مرزا صاحب مہدی ہوں تو کون سی بات مانع ہے۔
٭…دیوبند مسلک کے ممتاز عالم دین حضرت مولانا اشرف علی تھانوی صاحب کے حوالے سے علامہ عبدالماجد دریابادی مرحوم کا ایک بیان کتاب ’’سچی باتیں‘‘ میں شامل ہے۔ آپ بیان کرتے ہیں کہ غالباً 1930ء میں حکیم الامّت تھانویؒ کی محفل خصوصی میں حاضری کی سعادت حاصل تھی۔ ذکر مرزائے قادیانی اور اُن کی جماعت کا تھا اور ظاہر ہے کہ ذکر ’’ذکرِخیر‘‘ نہ تھا۔ حاضرین میں سے کسی نے بڑے جوش سے کہا کہ حضرت! ان لوگوں کا دین بھی کوئی دین ہے، نہ خدا کو مانیں نہ رسولؐ کو۔ حضرت نے معاً لہجہ بدل کر ارشاد فرمایا کہ یہ زیادتی ہے، توحید میں ہمارا اُن کا کوئی اختلاف نہیں۔ اختلاف رسالت میں ہے اور اُس کے بھی صرف ایک باب میں یعنی عقیدہ ختم رسالت میں۔ بات کو بات کی جگہ پر رکھنا چاہیے۔
٭… جناب مولانا نور محمد صاحب نقشبندی چشتی اپنے ’’معجزنما کلام قرآن شریف مترجم‘‘ کے دیباچہ میں تحریر کرتے ہیں کہ ’’اُسی زمانہ میں پادری لیفرائے پادریوں کی ایک بہت بڑی جماعت لے کر اور حلف اٹھاکر ولایت سے چلا کہ تھوڑے عرصے میں ہندوستان کو عیسائی بنالوں گا۔ ولایت کے انگریزوں سے روپیہ کی بہت بڑی مدد اور آئندہ کی مدد کے مسلسل وعدوں کا اقرار لے کر ہندوستان میں داخل ہوکر بڑا تلاطم برپا کیا۔ … حضرت عیسیٰؑ کے آسمان پر بجسم خاکی زندہ موجود ہونے اور دوسرے انبیاء کے زمین میں مدفون ہونے کا حملہ عوام کے لیے اُس کے خیال میں کارگر ہوا تب مولوی غلام احمد قادیانی کھڑے ہوگئے۔ لیفرائے اور اُس کی جماعت سے کہا کہ عیسیٰؑ جس کا تم نام لیتے ہو دوسرے انسانوں کی طرح سے فوت ہوکر دفن ہوچکے ہیں اور جس عیسیٰؑ کے آنے کی خبر ہے وہ مَیں ہوں۔ پس اگر تم سعادت مند ہو تو مجھ کو قبول کرلو۔ اس ترکیب سے اُس نے لیفرائے کو اس قدر تنگ کیا کہ اُس کو پیچھا چھڑانا مشکل ہوگیا اور اس ترکیب سے اُس نے ہندوستان سے لے کر ولایت تک کے پادریوں کو شکست دے دی۔‘‘ (صفحہ30)

اپنا تبصرہ بھیجیں