محترم چودھری شبیر احمد صاحب

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ 11 مئی 2026ء)

محترم چودھری شبیر احمد صاحب

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 7؍اپریل2014ء میں مکرم صفدر نذیر گولیکی صاحب کے قلم سے محترم چودھری شبیراحمد صاحب سابق وکیل المال اوّل کا مختصر ذکرخیر شائع ہوا ہے۔
محترم چودھری شبیر احمد صاحب نے باون سال تک مسلسل ایک ہی ادارہ میں، ایک ہی عہدہ پر خدمت کی توفیق پائی۔ آخری سانس تک آپ کو دفتر میں جاکر کام کرنے کی تمنا رہی۔ آپ کے بیٹے مکرم قمر احمد کوثر صاحب بیان کرتے ہیں کہ آپ نے اپنی وفات سے پندرہ دن پہلے خواب میں دیکھا کہ بالکل تندرست ہیں اور لاہور سے پیدل چل کر ربوہ آئے ہیں۔ صبح آپ نے یہ خواب گھر میں سناکر کہا کہ دفتر نہ ہو آؤں؟ ہم نے کہا: ٹھیک ہے، آپ کو لے چلتے ہیں۔ اس پر اُٹھ کر بیٹھ گئے۔ لیکن پھر کہنے لگے کہ دل تو بہت کرتا ہے مگر یہ ٹانگیں کام نہیں کرتیں۔
مضمون نگار رقمطراز ہیں کہ محترم چودھری صاحب نہ صرف خود تحریک جدید کے مطالبات پر عمل پیرا تھے بلکہ اپنے قول و فعل کے ذریعے احمدی جماعتوں کے بےشمار دورے کرکے احباب کی تربیت کرتے رہے۔ آپ ایک دفعہ جس سے مل لیتے اُس کو یاد رکھتے۔ پاکستان کے جس گاؤں یا شہر کا بھی آپ نے دورہ کیا اُس کو بعد میں یاد رکھا حالانکہ یہ بہت مشکل کام تھا۔ میری آپ سے پہلی ملاقات غالباً 1972ء میں ہوئی جب میں آٹھویں کلاس کا طالب علم تھا۔ آپ خانیوال تشریف لائے تھے جہاں کے صدر جماعت میرے والد محترم چودھری محمد نذیر صاحب گولیکی تھے اور خانیوال لوکوشیڈ میں ملازم تھے۔ ہم ریلوے کالونی میں رہتے تھے۔ والد صاحب سٹیشن سے چودھری صاحب کو گھر لے آئے۔ آپ دو دن ہمارے ہاں قیام فرما رہے۔
چودھری صاحب کے پاس دو بیگ تھے۔ اگلے روز والد صاحب اور چودھری صاحب سائیکلوں پر سوار ہوکر احمدیہ مسجد گئے جو اڑہائی کلومیٹر کے فاصلے پر تھی۔ وہاں چودھری صاحب نے تحریک جدید کے حوالے سے سلائیڈز دکھاکر بہت ایمان افروز واقعات بیان کیے۔ گھر واپس آئے تو میری والدہ نے گذشتہ دن والا آپ کا لباس دھوکر اور استری کرکے رکھا ہوا تھا۔ اگلی شام آپ رخصت ہوگئے اور پھر ربوہ سے چند دن کے بعد خط میں شکریہ ادا کیا اور ایک ایک خدمت کرنے والے کا نام لے کر دعائیں دیں۔ یہ آپ کی بہت اعلیٰ خصوصیت تھی کہ کسی نے ذرا سا بھی محبت کا اظہار کیا ہو یا نیکی کی ہو تو آپ ہمیشہ کے لیے اُس کے ہوگئے۔ اخبار الفضل میں دعائیہ اعلانات شائع ہوتے تو بھی اکثر احباب کا پتہ حاصل کرکے انہیں خط لکھتے اور دعاؤں سے نوازتے۔ آپ کی وفات 22؍جولائی 2012ء کو ہوئی۔

اپنا تبصرہ بھیجیں