محترم شیخ رحمت اللہ صاحب

(مطبوعہ الفضل ڈائجسٹ ’’الفضل انٹرنیشنل‘‘ …؍جولائی 2026ء)

محترم شیخ رحمت اللہ صاحب سابق امیر جماعت احمدیہ کراچی کے ساتھ گفتگو روزنامہ ‘‘الفضل’’ ربوہ 19؍دسمبر2014ء مکرم محمد اشرف کاہلوں صاحب نے رقم کی ہے۔ گفتگو کی یہ نشست محترم شیخ صاحب کےبیٹے مکرم شیخ فرحت اللہ صاحب سابق نائب امیر ضلع فیصل آباد کے ہاں منعقد ہوئی تھی۔
محترم شیخ رحمت اللہ صاحب نے بیان کیا کہ میرے آباء و اجداد کشمیری برہمن تھے۔ مذہبی لحاظ سے سری نگر میں ان کا ہندوؤں کے نزدیک نہایت معزز مقام تھا۔ میرے پڑدادا کے والد صاحب نے اسلام قبول کیا تو مخالفت کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ حالات اتنے نامساعد ہوگئے کہ خاندان کو سری نگر سے ہجرت کرکے کرم آباد آنا پڑا۔ پھر وہاں سے نقل مکانی کرکے گجرات کے ایک گاؤں دولت نگر میں قیام پذیر ہوئے۔

میرے ایک پھوپھی زاد بھائی احمدی تھے وہ اکثر ہمیں تبلیغ کیا کرتے تھے گویا خاندان میں احمدیت کی بازگشت سنائی دیتی تھی۔ پہلے میرے چھوٹے بھائی شیخ محمود احمد صاحب نے احمدیت قبول کی۔ جبکہ احمدیوں کے خلاف جلسے میں میرا بڑا اہم اور سرگرم رول ہوتا تھا۔ پھر میری قبول احمدیت کا محرک بھی ایسا ہی ایک جلسہ ہوا جس میں کسی نے حضرت مسیح موعودؑ کا ایک حوالہ متن کے سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا۔ اس سے مجھے احمدیت کی طرف توجہ پیدا ہوئی اور احمدیت میں صداقت کو پاکر میں نے 1942ء میں بیعت کا خط حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کی خدمت میں ارسال کردیا اور بعد میں دستی بیعت کرنے کی سعادت بھی پائی۔ اس پر مخالفت شروع ہوگئی اور پرانے گہرے دوست احباب بھی یارانہ چھوڑ گئے۔ میرے والد بھی شدید مخالف اور نالاں تھے چنانچہ باہمی بُعد پیدا ہوگیا۔
1953ء میں احمدیہ مخالف موومنٹ چلی تو کراچی کے امیر چودھری محمد عبداللہ خان صاحب ایک مخلص، زیرک اور دیدہ ور انسان تھے۔ حضرت مصلح موعودؓ نے حالات کی نزاکت خاص حکمت اور جماعتی مصلحت کے تحت اس ایمرجنسی مدت کے لیے امارت کی تبدیلی کا فیصلہ فرمایا اور چودھری صاحب کے ذریعہ سے مجھے علم ہوا کہ حضرت صاحب نے مجھے امیر جماعت کراچی مقرر فرمایا ہے۔ ع

ایں سعادت بزور بازو نیست

جماعت پر یہ سخت ابتلا کا وقت تھا۔ اس کٹھن دور کے اپنے جماعتی تقاضے تھے۔ حضرت صاحبؓ کے ارشاد کے مطابق ڈاک کی آمد اور ترسیل کا خصوصی انتظام و انصرام تھا۔ حضورؓ کی ہدایات کی روشنی میں امور پر عمل درآمد ہوتا۔ میرے امیر کراچی مقرر ہونے کے بعد حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحبؓ اور دیگر اکابرین سے بھی میرا تعلق قائم ہوگیا۔ حضرت خلیفۃ المسیح الثانیؓ سے جماعتی امور کی بنا پر جو رابطے کا سلسلہ قائم ہوا تھا۔ وہ وقت کے ساتھ ساتھ پختہ اور گہرا ہوتا چلا گیا۔ یہ بھی میں سمجھتا ہوں کہ مجھ پر خداتعالیٰ کا خاص فضل ہوا کہ مجھے حضور کا اعتماد حاصل ہوگیا اور آپ کی نوازشات عنایات اور شفقتوں کا مورد بنا۔ ایک مرتبہ ہمیں یہ اطلاع ملی کہ حکومت پنجاب حضرت صاحب کو گرفتار کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔ باہمی مشاورت سے مَیں اور میجر شمیم احمد صاحب بذریعہ کار کراچی سے ربوہ پہنچے تاکہ حضور کو سندھ لے آئیں۔ ہمیں ربوہ میں اچانک پا کر حضرت میاں بشیر احمد صاحبؓ کو بڑی حیرانی ہوئی۔ ہم نے آمد کا مقصد بیان کیا۔ حضرت صاحب سے ملے۔ مدعا آمد بیان کیا۔ اس سلسلہ میں حضور کے ساتھ میٹنگ ہوئی۔ حضرت صاحب سندھ تشریف لے جانے پر راضی نہ ہوئے۔ بلکہ فرمایا گھبرانے کی کوئی بات نہیں۔ خدا نے مجھے آج تک تنہا نہیں چھوڑا۔ فکر نہ کرو۔ خدا میری طرف دوڑا چلاآتا ہے۔
ہنگامی حالات ختم ہونے کے بعد حضورؓ نے چودھری محمد عبداللہ خان صاحب کو دوبارہ امیر کراچی مقرر فرمادیا اور مجھے اُن کے ساتھ نائب امیر کے طور پر دینی خدمات بجالانے کی توفیق ملی۔ چودھری صاحب کے بعد حضورؓ نے دوبارہ مجھے امیر مقرر فرمایا اور یہ امارت کا زمانہ 1964ء تک جاری رہا۔
میرے اس دور امارت میں اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے جماعتی ترقی کے مزید سامان پیدا فرمائے۔ مثلاً ربوہ آنے کے لیے ایک کار کے سوا کوئی بڑی گاڑی مقامی جماعت کے پاس نہیں تھی۔ مکرم چودھری شاہ نواز صاحب کے پاس بڑی گاڑی تھی۔ ہم نے محترمہ بیگم شاہ نواز صاحبہ سے رابطہ کیا اور جماعتی ضروریات کو ان کے سامنے رکھتے ہوئے گاڑی کی تحریک کی۔ انہوں نے گاڑی ہمیں دلوا دی۔
اس وقت کراچی میں احمدیوں کی تعداد پچیس تیس ہزار کے قریب تھی۔ مراکزِ نماز کی تعداد آٹھ تک پہنچ گئی تھی۔
حضرت خلیفۃالمسیح الثانیؓ کی ذرہ نوازی تھی کہ آپؓ نے حضرت مہر آپا صاحبہ کو ارشاد فرمایا ہوا تھا کہ کراچی کے حوالہ سے جو بھی معاملہ ہو اس سلسلے میں شیخ رحمت اللہ سے بات کرنا۔ بااعتماد آدمی ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ یہ ناچیز بندہ اس امتحان میں پورا اترا اور کبھی بھی اعتماد کو ٹھیس نہ لگنے دی۔
حضرت مصلح موعود نے جماعتی مصالح کے تحت فسادات 1953ء کے دوران جماعت احمدیہ کراچی کو الگ صدرانجمن احمدیہ کے طور پر قائم فرمایا اور مجھے اس کا ناظر اعلیٰ مقرر فرمایا۔ یہ صدر انجمن احمدیہ 1965ء تک قائم اور برقرار رہی۔ حضور کی بیماری کے دوران جو نگران بورڈ بنایا گیا تھا۔ خاکسار بھی اس کا رُکن تھا۔
جب حضورؓ بغرض علاج لندن رونق افروز ہوئے تو کچھ دنوں کے بعد مجھے بھی اپنے کاروبار کے سلسلے میں یورپ جانا پڑا۔ میں نے کراچی سے حضورؓ کی خدمت میں اپنی لندن آمد کا ذکر بذریعہ تار کردیا۔ میرا اطلاع دینے کا واحد مقصد یہی تھا کہ اگر حضور نے پاکستان سے کوئی ضرورت کی چیز منگوانی ہو تو مَیں اپنے ہمراہ لیتا آؤں۔ حضور کی جانب سے تار کا کوئی جواب موصول نہ ہوا۔ مَیں نے لندن پہنچ کر ایک ہوٹل میں کمرہ بک کروایا اپنا سامان اس میں رکھا اور حضرت صاحب کی ملاقات کے لیے چل پڑا۔ حضورؓ کے در دولت پر جب پہنچا تو پرائیویٹ سیکرٹری صاحب نے بتایا کہ حضورؓ نے آپ کے لیے ایک کمرہ آراستہ کرنے کا ارشاد فرمایا تھا جو تیار ہے۔ جب حضورؓ سے ملاقات ہوئی تو آپؓ نے میرے قیام کے لیے کمرے کا ذکر فرمایا۔ میں نے عرض کیا حضور! میرا قیام تو ایک ہوٹل میں ہے اور حضور کو تار ارسال کرنے کا مقصد محض یہ تھا کہ پاکستان سے کوئی ضرورت کی شے منگوانی ہو تو بندہ ناچیز حاضر ہے۔ حضورؓ نے فرمایا ٹھیک ہے۔ پھر شام کی چائے ساتھ پینے کا ارشاد ہوا۔
ایک موقعہ پر حضرت صاحب نے پاکستان سے چند کتب لندن بھجوانے کا ارشاد فرمایا۔ میں نے حسب ارشاد وہ کتب بذریعہ بحری جہاز بک کروائیں۔ کچھ دنوں کے بعد پھر یورپ جانے کا اتفاق ہوا اور حضورؓ سے لندن میں ملاقات ہوئی۔ آپ نے کتابوں کا ذکر فرمایا کہ ابھی تک موصول نہیں ہوئیں۔ کیا وجہ ہے؟ میں نے مختلف وجوہ کا ذکر کیا جو تاخیر کا سبب بن سکتی تھیں۔ مَیں نے دیکھا کہ حضور کی توجہ اسی معاملہ پر مرکوز ہے۔ جب بھی کتب کا ذکر ہوتا تو مَیں تاخیر کے اسباب بیان کردیتا۔ ایک موقعہ پر مَیں نے عرض کیا کہ حضور جہاز ڈوب بھی تو سکتا ہے۔ حضرت صاحب فرمانے لگے پھر تو میرا خزانہ گیا۔ اور متفکر ہوگئے۔ اب میرے دل میں ملال تھا کہ میری اس بات سے آپؓ کو ذہنی کوفت ہوئی ہے۔ عقدہ کشائی کے لیے دعائیں کررہا تھا۔ خداتعالیٰ کا کرم ہوا۔ حضورؓ کو کتابیں مل گئیں تو آپؓ نے ازراہ شفقت مجھے اس کی اطلاع بھی کردی اور یوں میرا کرب مسرت میں بدل گیا۔
مَیں نے حضورؓ کی ذات میں یہ بات خصوصاً نوٹ کی کہ خط و کتابت کے معاملے میں آپؓ جس امر کے بارے میں مطمئن ہوجاتے تو اس خط کا جواب نہیں دیا کرتے تھے۔ اس سے میں جان جاتا تھا کہ حضورؓ اس معاملے میں اب مطمئن ہیں۔
جماعت کے مفاد اور وقار کے حوالہ سے جو بھی بات ہوتی تھی مَیں اس کا برملا اظہار حضورؓ کی خدمت میں کر دیا کرتا تھا اس پر آپؓ خوشنودی کا اظہار فرمایا کرتے تھے۔
‘امیر جماعت’ کو صاحبِ کردار اور منصف مزاج ہونا چاہیے۔ میرے نزدیک عزت کردار کی ہے عہدے کی نہیں۔ ایک مرتبہ میرے پاس ایک احمدی نوجوان آیا۔ اتفاق سے میرے پاس اس وقت ایک غیراز جماعت دوست ڈاکٹر مختار صاحب بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ نوجوان احمدی نے درخواست کی کہ مجھے اس بات کا سرٹیفکیٹ چاہیے کہ میں نے آپ کے ہاں ملازمت کی ہے۔ میں نے کہا کہ جب آپ نے میرے پاس ملازمت کی نہیں تو مَیں آپ کو کیسے یہ سرٹیفکیٹ دے دوں۔ یہ ناممکن ہے۔ نوجوان نے التجا کی لیکن میں اپنے قول پر قائم رہا۔ بالآخر وہ نوجوان چلا گیا۔ گو یہ ایک بظاہر معمولی واقعہ ہے لیکن اس کا غیرمعمولی اثر میرے دوست پر پڑا ۔
گو قبولیت دعا کے واقعات ہر احمدی کی زندگی کا زیور ہیں۔ لیکن مجھے قبولیت دعا کے اپنے ذاتی واقعات بیان کرتے ہوئے حجاب محسوس ہوتا ہے کہ کہیں خودنمائی نہ ہو جائے۔ تاہم تحدیث نعمت کے طور پر ایک واقعہ بیان کر دیتا ہوں۔ ایک دفعہ میں اپنے بیٹے شیخ فرحت اللہ صاحب کے ہمراہ سندھ میں سفر پر گیا۔ دورانِ سفر ایک جگہ رکنا پڑا۔ میری ہمیشہ سے یہ عادت رہی ہے کہ ایسے موقعہ پر گاڑی سے اترتے وقت چابی گاڑی میں نہیں رہنے دیتا۔ ساتھ لے کر گاڑی سے باہرآتا ہوں۔ چونکہ فرحت اللہ ساتھ تھا لہٰذا میں بِلا چابی کار سے باہر آگیا۔ لیکن میرے اترنے کے چند ثانیے بعد وہ بھی کار سے اترا اور دروازہ بند کر دیا جس سے کار لاک ہوگئی۔ اب چابی کار کے اندر تھی۔ ویران جگہ تھی اور پریشانی کا عالم۔ خداتعالیٰ سے مشکل کُشائی کی دعا بھی جاری تھی اور کسی چیز کی تلاش میں جو کام آسکے اِدھراُدھر گھوم رہے تھے کہ اچانک ایک لوہے کی تار مل گئی۔ ویرانے میں ایسی تار کا ملنا عجب بات تھی۔ اس کی مدد سے کار کے اندر سے چابی باہر نکالی اس طرح خداوند کریم نے جنگل میں ہماری روح کی بیقرار پکار کو سنا اور عقدہ کُشائی فرمائی۔ اَور بھی ہمہ قسم کے مشکلات کے مقام زندگی میں آئے لیکن خداتعالیٰ کی کرم نوازی سے سب پریشانیاں جاتی رہیں۔
میری کاروباری زندگی میں کامیابی محض اللہ تعالیٰ کا خاص فضل، اس کی ذرہ نوازی اور غریب پروری کا نتیجہ ہے۔ خداتعالیٰ کی توفیق سے دیانت اور محنت شاقہ میری زندگی کا شعار رہا ہے۔ انہی چیزوں نے مجھے ایک فرم کا مالک یوں بنادیا کہ مَیں ایک پرائیویٹ فرم میں ملازم تھا اور اس کے ایک حصہ کا مینیجر تھا۔ نہ جانے مالک فرم کو کیا سوجھی کہ اس نے فرم کو بند کر دینے کا ارادہ کرلیا۔ میں حیران تھا کہ مالک ایسا کیوں سوچ رہا ہے جبکہ بزنس منافع میں جارہا ہے۔ میں نے بارہا کوشش کی کہ اسے اس ارادہ سے باز رکھ سکوں مگر کامیاب نہ ہوا۔ بالآخر طے پایا کہ وہ مجھے فرم کے مالکانہ حقوق دے دے۔ اُس وقت میرے پاس کوئی خاص سرمایہ بھی نہیں تھا۔ مارکیٹ میں جو کاروباری اثر و رسوخ تھا اس کی وجہ بھی کاروباری دیانتداری تھی۔ بس سمجھ لیجیے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی دین تھی اور اس کی غریب نوازی کہ میں ککھ سے لکھ بن گیا۔
نوجوان نسل کو چاہیے کہ تلاوت قرآن مجید کو زندگی کا ورد بنائیں۔ مطالعہ کی عادت اپنائیں۔ حضرت مسیح موعودؑ اور خلفائے سلسلہ کی کتب کا مطالعہ کرتے رہیں۔ سچائی اور دیانتداری اُن کی زندگی کا زیور ہوں۔ اسی میں کامیابی ہے۔ جھوٹ سے بچیں۔ یہ انسان کو بزدل بنا دیتا ہے۔
تربیت اولاد کے بارے میں میرا نقطہ نظر یہ ہے کہ احمدی والدین کی اوّلین اور بنیادی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنی آئندہ نسل میں احمدیت کی حقیقی روح پھونکیں۔ ان کی شخصیت میں اعتدال اور توازن کا رنگ جمائیں۔ دین کے رنگ میں ان کی نگرانی کریں۔
اولاد کی نگرانی کے حوالہ سے محترم شیخ صاحب کے بیٹے مکرم شیخ فرحت اللہ صاحب نے بتایا کہ اُن کے والد کا یہ طریق تھا کہ وہ مختلف جگہوں پر زیر تعلیم اپنے بچوں کا احوال معلوم کرنے کے لیے بِلااطلاع اچانک وہاں پہنچ جاتے۔ گھر سے ابا کی روانگی کا پتہ چلتا تھا۔ منزل کا کسی کو کوئی علم نہ ہوتا تھا۔

اپنا تبصرہ بھیجیں