ابتلاؤں کا فلسفہ اور قرب الٰہی

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 7 ؍نومبر 2005ء میں شائع شدہ مکرم عبدالسمیع خان صاحب کے مضمون میں آنحضرتﷺ کے ارشادات کی روشنی میں ابتلاؤں کے فلسفہ اور قرب الٰہی کے لئے ان کی ضرورت و اہمیت بیان کی گئی ہے۔
اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ کیا تم گمان کرتے ہو کہ تم جنت میں داخل ہو جاؤ گے جبکہ ابھی تک تم پر ان لوگوں جیسے حالات نہیں آئے جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں۔ انہیں سختیاں اور تکلیفیں پہنچیں اور وہ ہلا کر رکھ دئیے گئے یہاں تک کہ رسول اور وہ جو اس کے ساتھ تھے، پکار اٹھے اللہ کی مدد کب آئے گی۔ سنو یقینا اللہ کی مدد قریب ہے۔
سورۃ بقرہ کی یہ آیت چار واضح پیغام دیتی ہے:
1۔ الٰہی جماعتوں پر ابتلاؤں کا آنا الٰہی سنت ہے۔
2۔ مصائب اور مشکلات کا یہ دَور اس لئے آتا ہے کہ مومن خدا تعالیٰ سے اپنا تعلق اور بھی بڑھائیں۔
3۔جب خدا کے سوا ہر سہارا ٹوٹ جاتا ہے تب بھی مومن اُس سے مایوس نہیں ہوتے اور خدا کو ہی مدد کے لئے پکارتے ہیں۔
4۔ خدا تعالیٰ ان ابتلاؤں کے نتیجے میں مومنوں کو ضائع نہیں کرتا بلکہ ان کو غالب اور فتح مند کرتا ہے۔
آنحضرتﷺ نے بھی اپنے غلاموں کی اسی تعلیم کے مطابق رہنمائی فرمائی۔ حضرت خباب بن ارتؓ بیان کرتے ہیں کہ ہم نے آنحضرتﷺ سے اپنی تکالیف کا ذکر کیا۔ آپؐ کعبہ کے سایہ میں چادر کو سرہانہ بنائے لیٹے ہوئے تھے۔ ہم نے عرض کی کیا آپ ہمارے لئے اللہ تعالیٰ سے مدد نہیں مانگتے اور دعا نہیں کرتے کہ اللہ تعالیٰ سختی کے یہ دن ختم کر دے۔ اس پر آپؐ نے فرمایا تم سے پہلے ایسے لوگ گزرے ہیں کہ جن کے لئے مذہبی دشمنی کی وجہ سے گڑھے کھودے جاتے اور ان میں انہیں گاڑ دیا جاتا۔ پھر آرا لایا جاتا اور ان کے سر پر رکھ کر انہیں دو ٹکڑے کر دیا جاتا ۔ لیکن وہ اپنے دین اور عقیدہ سے نہ پھرتے اور بعض اوقات لوہے کی کنگھی سے مومن کا گوشت نوچ لیا جاتا، ہڈیاں اور پٹھے ننگے کر دئیے جاتے لیکن یہ ظلم ان کو اپنے دین سے نہ ہٹا سکتا۔ اللہ تعالیٰ اس دین کو ضرور کمال اور اقتدار بخشے گا یہاں تک کہ اس کے قائم کردہ امن امان کی وجہ سے صنعاء سے حضر موت تک اکیلا شتر سوار چلے گا اور اللہ کے سوا اُسے کسی کا ڈر نہیں ہوگا۔
آنحضرتﷺ نے ایمان کے بعد سب سے زیادہ اہم چیز استقامت کو قرار دیا ہے۔ چنانچہ حضرت سفیانؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے دین کی کوئی ایسی بات بتائیے کہ اس کے بعد کسی اَور سے پوچھنے کی ضرورت نہ رہے۔ آپؐ نے جواب دیا: تم یہ کہو کہ مَیں اللہ تعالیٰ پر ایمان لایا اور پھر اس پر استقامت اختیار کرو۔
ایک بار آنحضورﷺ نے فرمایا کہ عظیم جزاء عظیم ابتلاء کے ساتھ وابستہ ہے۔ جب اللہ کسی قوم کے ساتھ پیار کرتا ہے تو انہیں ابتلاؤں میں ڈالتا ہے۔ جو استقامت دکھائے اور خدا سے راضی رہے، خدا بھی اس سے راضی ہوجاتا ہے۔ اور جو خدا سے ناراض ہوجائے، خدا بھی اس سے ناراض ہوجاتا ہے۔
ایک اور حدیث میں آتا ہے کہ مومن کا معاملہ بھی عجیب ہے۔ اس کے سارے کام برکت ہی برکت ہوتے ہیں۔ اگر اس کو کوئی خوشی اور فراخی نصیب ہو تو وہ اللہ تعالیٰ کا شکر کرتا ہے اور اگر کوئی دکھ اور رنج پہنچے تو وہ صبر کرتا ہے۔ شکرگزاری یا صبر کرنا اُس کے لئے خیرو برکت کا باعث بن جاتا ہے۔
ایک حدیث کے مطابق مومن کو کوئی مصیبت نہیں پہنچتی مگر اللہ تعالیٰ اس کی اس تکلیف کو اس کے گناہوں کا کفارہ بنا دیتا ہے۔
پھر فرمایا: مومن اور مومنہ پر قسما قسم کے ابتلاء اس کی اپنی ذات اور مال اور اولاد کے بارہ میں وارد ہوتے رہتے ہیں یہاں تک کہ جب وہ مرنے کے بعد خدا سے ملتا ہے تو اس کی کوئی خطا باقی نہیں رہ جاتی۔
حضرت جابرؓ بیان کرتے ہیں کہ حضور ؐ نے فرمایا: قیامت کے دن جب ابتلاؤں سے گزرنے والوں کو ثواب دیا جائے گا تو اہل عافیت یعنی جو ابتلاؤں سے محفوظ رہے، خواہش کریں گے کہ کاش دنیا میں ان کی کھالیں قینچیوں سے کتری جاتیں تاکہ وہ بھی ثواب حاصل کرتے۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: خدا تعالیٰ کے مامور پر ایمان لانے کے ساتھ ابتلاء ضروری ہے۔ … گویا ایمان کی شرط ہے آزمایا جانا۔ صحابہ کرام کیسے آزمائے گئے۔ ان کی قوم نے طرح طرح کے عذاب دئیے ان کے اموال پر بھی ابتلاء آئے۔ جانوں پر بھی، خویش و اقارب پر بھی۔ اگر ایمان لانے کے بعد آسائش کی زندگی آجاوے تو اندیشہ کرنا چاہئے کہ میرا ایمان صحیح نہیں کیونکہ یہ سنت اللہ کے خلاف ہے کہ مومن پر ابتلاء نہ آئے۔ آنحضرتﷺ سے بڑھ کر کوئی نہیں ہوسکتا۔ وہ جب اپنی رسالت پر ایمان لائے تو اسی وقت سے مصائب کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ … ابتلاء اسی واسطے آتے ہیں کہ صادق جدا ہوجائے اور کاذب جدا۔ خدا رحیم ہے مگر وہ غنی اور بے نیاز بھی ہے۔ جب انسان اپنے ایمان کو استقامت کے ساتھ مدد نہ دے تو خدا تعالیٰ کی مدد بھی منقطع ہوجاتی ہے۔
پھر فرمایا: خدا تعالیٰ پر پورا ایمان اور بھروسہ ہو تو پھر انسان کو تنور میں ڈال دیا جاوے اسے کوئی غم نہیں ہوتا۔ تکالیف کا بھی ایک وقت ہوتا ہے۔ اس کے بعد پھر راحت ہے۔ جیسا بچہ پیدا ہونے کے وقت عورت کو تکلیف ہے بلکہ ساتھ والے بھی روتے ہیں۔لیکن جب بچہ پیدا ہوگیا تو پھر سب کو خوشی ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں