اداریہ: ایسے سنہری موقع کو اپنے ہاتھ سے گنوانا کہاں کی عقلمندی ہے؟

(مطبوعہ رسالہ ’’انصارالدین‘‘ جولائی اگسست 2021ء)

اداریہ

ایسے سنہری موقع کو اپنے ہاتھ سے گنوانا کہاں کی عقلمندی ہے؟

سیّدنا حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی منظوری سے امسال جماعت احمدیہ برطانیہ کا جلسہ سالانہ 6تا 8؍اگست 2021ء کو منعقد ہورہا ہے۔ انْ شَاء اللہ تعالیٰ
جلسہ سالانہ کی ایمان افروز تاریخ پر نظر ڈالنے سے معلوم ہوتا ہے کہ 27؍دسمبر 1891ء کو قادیان میں منعقد ہونے والے پہلے جلسہ سالانہ میں 75؍ احباب شامل ہوئے جنہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے شرفِ مصافحہ بخشا اور پھر بعد نماز ظہر مسجد اقصیٰ میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹیؓ نے حضرت اقدسؑ کی تصنیف ’’آسمانی فیصلہ‘‘ پڑھ کر سنائی۔ پہلے جلسہ سالانہ کا یہی مکمل پروگرام تھا۔
یہ مختصر سا رسالہ ’’آسمانی فیصلہ‘‘ کیا ہے؟
دراصل حضورعلیہ السلام کی اسلام کے لیے محبت اور غیرت ایسی تھی کہ اسلام کے دفاع میں عظیم الشان لٹریچر شائع کرنے کے علاوہ دیگر مذاہب کے علماء کو روحانی مقابلوں (مباہلوں) کے چیلنج بھی دیا کرتے تھے اور اس طرح اسلام کی برتری ثابت کرنے کے لیے ہرممکن اور ہر سطح پر جدوجہد فرماتے۔ لیکن اس رسالہ میں پہلی مرتبہ آپؑ نے مسلمان مکفّر علماء اور اُن کے ہمنواؤں کو بھی اس چیلنج میں شامل فرمادیا اور فرمایا کہ امور غیبیہ کے اظہار، دعاؤں کی قبولیت اور معارف قرآنی کے انکشاف وغیرہ میں جو چاہے مجھ سے روحانی مقابلہ (مباہلہ) کرلے۔ گویا اس امر کا علی الاعلان اظہار فرمادیا کہ اس دَور میں وہ مَیں ہی ہوں اور مَیں ہی رُوئے زمین پر دین اسلام کا حقیقی محافظ اور خداتعالیٰ کا تائیدیافتہ ہوں جس کے آنے کی پیشگوئیاں تمام مذاہب اور خصوصاً آنحضورﷺ اور مسلم اولیاء اللہ کرتے آرہے تھے اور تمام مذاہب اور مسلمان فرقے جس وجودباجود کی بابرکت بعثت کے انتظار میں دن گن رہے تھے۔
پھر اس اجلاس کو مجلس شوریٰ کا رنگ بھی دیا گیا اورحضور علیہ السلام کی اس رائے پر مشورہ لیا گیا کہ لاہور میں ایک انجمن قائم کی جائے جو فریقین کے مذکورہ بالا روحانی مقابلے کا ریکارڈ رکھے۔
پھر ایک اہم بات یہ تھی کہ اس مضمون میں حضور علیہ السلام نے اپنی دعوتِ مباہلہ کو بھی شامل فرمادیا اور تحریر فرمایا کہ اگر ایک سال کے عرصے میں کوئی فریق وفات پاجائے تب بھی وہ مغلوب سمجھا جائے گا کیونکہ خداتعالیٰ نے اپنے خاص ارادے سے اُس کے کام کو ناتمام رکھا تاکہ اس کا باطل پر ہونا ظاہر کرے۔
پس ’’آسمانی فیصلہ‘‘ اگرچہ ایک مختصر سا رسالہ ہے جو محض دو گھنٹے میں اُس اجلاس میں پڑھ کر سنایا گیا تھا۔ لیکن اس کا مضمون اتنا اہم ہے کہ چند سال بعد جب حضور علیہ السلام کا مولوی عبدالحکیم کلانوری سے مباحثہ طے پایا اور اُس نے آپؑ سے مطالبہ کیا کہ نبوت کی بات بعد میں آئے گی پہلے اپنا مسلمان ہونا ثابت کریں۔ تو حضور علیہ السلام نے فرمایا کہ میرے مسلمان ہونے کا ثبوت وہ معیار ہیں جو قرآن کریم نے پیش کیے ہیں اور مَیں نے رسالہ ’’آسمانی فیصلہ‘‘ میں بیان کردیے ہیں۔
اس مضمون میں ایک اہم چیز وہ دعا بھی تھی جو حضور علیہ السلام نے ان الفاظ میں فرمائی کہ ’’مجھے اِس سے بڑھ کر کچھ نہیں چاہیے کہ تُو راضی ہو۔‘‘
پس اگر اب تک ہم یہ مختصر رسالہ نہیں پڑھ سکے تو ہمیں چاہیے کہ اب اسے ضرور پڑھ لیں اور کوشش کریں کہ آئندہ جلسہ سالانہ کے انعقاد سے پہلے محض دو تین گھنٹے کا وقت نکال کر اسے پڑھ ڈالیں۔
جہاں تک پہلے جلسہ سالانہ کے دلچسپ اعدادوشمار کا تعلق ہے تو اُس وقت دنیابھر کے احمدیوں کی کُل تعداد (رجسٹر بیعت کے مطابق) 285 تھی اور حاضرینِ جلسہ کی کُل تعداد 75 تھی۔ جلسہ میں شامل ہونے والوں میں سے بارہ افراد نے اُس روز بیعت کرنے کی سعادت بھی پائی۔ جبکہ بعض بغیر بیعت کیے واپس چلے گئے اور ایک وہ بدنصیب بھی تھا جو چند سال بعد مُرتد ہوگیا۔
جس سرزمین پر یہ جلسہ سالانہ منعقد ہوا یعنی قادیان دارالامان کی اُس زمانہ میں حالت ابتدائی صحابہ کے مطابق یہ تھی کہ یہ ایک نہایت بے رونق بستی تھی۔ بازار خالی پڑے تھے اور سارے بازار سے دو تین روپے کا آٹا یا چار پانچ آنے کا مسالا نہیں مل سکتا تھا۔ معمولی ضرورتوں کے لیے قریبی قصبے بٹالہ جانا پڑتا تھا۔
سیّدنا حضرت مصلح موعودؓ فرماتے ہیں کہ اُس زمانے میں چار پانچ آنے ماہوار پر ایک مکان کرایہ پر مل جاتا تھا۔ اور دس بارہ روپے میں مکان بنانے کو زمین بھی مل جاتی تھی۔
پھر جس مقام، یعنی مسجد اقصیٰ، میں یہ جلسہ منعقد ہوا یہاں پہلے سکھوں کی ایک حویلی تھی جو قیدخانے کے طور پر استعمال ہوتی تھی۔ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے والد ماجد حضرت مرزا غلام مرتضیٰ صاحب نے سات سو روپے میں اس حویلی کو خرید کر 1876ء میں یہاں مسجد تعمیر کروائی۔ اس مسجد کے پہلے امام محترم میاں جان محمد صاحب تھے جو اکثر اکیلے ہی نماز ادا کیا کرتے تھے۔
بہرحال حضورعلیہ السلام نے پہلے جلسے کے بعد اس جلسے کو مستقل طور پر ہرسال منعقد کرنے کے بارے میں اشتہار شائع فرمادیا۔ چنانچہ اگلے سال یعنی 1892ء کے جلسہ سالانہ میں 327؍افراد شامل ہوئے۔ حضور علیہ السلام کی زندگی کا یہ واحد جلسہ سالانہ تھا جو مسجد اقصیٰ میں منعقد نہیں ہوا۔ اس جلسے میں چند تقاریر کے علاوہ مجلس شوریٰ بھی منعقد کی گئی جس میں بہت اہم اور دُوررس فیصلے ہوئے۔ مثلاً فیصلہ کیا گیا کہ یورپ اور امریکہ میں تبلیغ کے لیے ایک رسالہ جاری کیا جائے، قادیان میں اشاعت کے امور کے لیے مطبع (پریس) کا قیام عمل میں لایا جائے اور ایک اخبار بھی جاری کیاجائے۔ اس کے علاوہ بھی بہت سے فیصلے کیے گئے اور بعدازاں 40؍افراد کی بیعت کے بعد دعا کے ساتھ یہ سالانہ جلسہ اختتام پذیر ہوا۔
اسی سال جلسہ سالانہ کی غیر معمولی اہمیت اور اغراض و مقاصد کو حضور علیہ السلام نے تفصیل کے ساتھ اپنے اشتہارات میں بیان فرمایا اور مہمانوں اور میزبانوں کے لیے نہایت اہم ہدایات بھی ارشاد فرمائیں۔جلسہ سالانہ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے آپؑ نے فرمایا:
’’اس جلسہ کو معمولی جلسوں کی طرح خیال نہ کریں۔ یہ وہ امر ہے جس کی خالص تائیدِ حق اوراعلائے کلمۃ اللہ پر بنیاد ہے۔ اس سلسلہ کی بنیادی اینٹ خدا تعالیٰ نے اپنے ہاتھ سے رکھی ہے اوراس کے لیے قومیں تیار کی ہیں جو عنقریب اس میں آملیں گی کیونکہ یہ اس قادر کافعل ہے جس کے آگے کوئی بات انہونی نہیں۔‘
(مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 341)
اسی طرح شاملینِ جلسہ سالانہ کو اپنی دعاؤں سے یوں سرفراز فرمایا:
’’ہر یک صاحب جو ا س للہی جلسے کے لیے سفر اختیار کریں خدا تعالیٰ ان کے ساتھ ہو اور ان کو اجرعظیم بخشے اور ان پررحم کرے اور ان کی مشکلات اور اضطراب کے حالات ان پر آسان کر دیوے اور ان کے ہم و غم دور فرمائے اور ان کو ہریک تکلیف سے مخلصی عنایت کرے اور ان کی مرادات کی راہیں ان پرکھول دیوے اور روزِآخرت میں اپنے ان بندوں کے ساتھ ان کو اٹھاوے جن پراس کا فضل ورحم ہے۔ تااختتام سفر ان کے بعد ان کاخلیفہ ہو۔‘‘
(اشتہار 7؍دسمبر 1892ء۔مجموعہ اشتہارات جلد اول صفحہ 342)
اگلے سال یعنی 1893ء میں اگرچہ جلسہ سالانہ بوجوہ مُلتوی کردینا پڑا۔ تاہم اس سال کی ایک اہم پیش رفت، حضور علیہ السلام کی کتاب ’’شہادۃالقرآن‘‘ کی اشاعت ہے جس میں حضور علیہ السلام نے جلسہ سالانہ کی عظیم الشان اغراض پر روشنی ڈالتے ہوئے فرمایا:
’’ہماری جماعت کے لوگ کسی طرح بار بار کی ملاقاتوں سے ایک ایسی تبدیلی اپنے اندر حاصل کرلیں کہ اُن کے دل آخرت کی طرف بکلّی جھک جائیں اور اُن کے اندر خداتعالیٰ کا خوف پیدا ہو اور وہ زہد و تقویٰ اور خداترسی اور پرہیزگاری اور نرم دلی اور باہم محبت اور مؤاخات میں دوسروں کے لیے ایک نمونہ بن جائیں اور انکسار اور تواضع اور راستبازی ان میں پیدا ہو اور دینی مہمّات کے لیے سرگرمی اختیار کریں۔‘‘
حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی حیات طیّبہ کا آخری جلسہ سالانہ 1907ء میں منعقد ہوا جس میں تین ہزار افراد شامل ہوئے۔
سیّدنا حضرت مصلح موعود ؓ فرماتے ہیں کہ ’’حضرت مسیح موعود علیہ السلام 1907ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر باہر سیر کے لیے تشریف لے گئے تو جلسہ پر آنے والے مہمان بھی آپ کے ساتھ چل پڑے۔ رستہ میں لوگوں کے پاؤں کی ٹھوکریں لگنے کی وجہ سے آپ کی جوتی باربار اُترجاتی اور کوئی مخلص آگے بڑھ کر آپ کو جوتی پہنا دیتا۔ جب باربار ایسا ہوا تو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کھڑے ہوگئے اور آپ نے فرمایا معلوم ہوتا ہے کہ اب ہماری زندگی ختم ہونے کے قریب ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے جماعت کو جو ترقی مقدّر کی ہے وہ اُ س نے ہمیں دکھا دی ہے۔‘‘ (افتتاحی خطاب حضرت مصلح موعودؓ برموقع جلسہ سالانہ مطبوعہ الفضل 8؍دسمبر1958ء)
پس جس جلسہ سالانہ کی بنیاد حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے ذریعے خدا تعالیٰ نے مرکز احمدیت قادیان میں رکھی تھی وہی جلسہ آج زمین کے کناروں تک پھیلی ہوئی ہر ملک کی جماعتہائے احمدیہ میں منعقد کیا جاتا ہے اور مجموعی طور پر ان سالانہ جلسوں میں لاکھوں افراد شریک ہوکر اُن پاکیزہ دعاؤں کے وارث بنتے ہیں جو اُن کے محبوب آقا علیہ الصلوٰۃ والسلام نے اُن کے لیے کی تھیں۔ امسال جماعت احمدیہ برطانیہ کا جلسہ سالانہ 6تا 8؍اگست 2021ء کو منعقد ہورہا ہے۔ ہم خوش قسمت ہیں کہ حضرت خلیفۃالمسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز بنفسِ نفیس اس جلسے کو رونق بخشیں گے۔ ان شاء اللہ تعالیٰ۔
ہم بخوبی آگاہ ہیں کہ عالمی وبا کے تناظر میں دنیا کے حالات یکسر تبدیل ہوچکے ہیں اور عوام کو بگڑتی ہوئی معاشی صورتحال اور صحت کے علاوہ بھی دیگر بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ سفر اور حضر میں نئے ضوابط کی پابندی اور ایس او پیز کے مطابق اجتماعات میں شمولیت اس سے سوا ہے۔ ایسے میں جلسہ سالانہ میں شامل ہونے کے لیے رخت سفر باندھنا کچھ ایسا بھی سہل نہیں۔ تاہم اگر اُن برکات کو ملحوظ رکھا جائے جو خداتعالیٰ نے اس جلسے سے وابستہ فرمادی ہوئی ہیں تو یہی تکالیف برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا ہوجائے گا۔ اس حوالہ سے حضرت مولوی محمد الیاس خاں صاحب (متوفی 1948ء) کا ایک نہایت ایمان افروز اور روح پرور واقعہ ہدیۂ قارئین ہے۔
حضرت مولوی صاحب صوبہ سرحد (خیبرپختونخواہ) کے ایک پاک نفس، پیکر صبر و حیا اور صاحب کشف و الہام بزرگ تھے جنہیں 1909ء میں چارسدہ میں سب سے پہلے احمدیت میں داخل ہونے کی سعادت نصیب ہوئی۔ قادیان جلسہ سالانہ پر جاتے ہوئے کوئٹہ میں عموماً آپ کا مختصر قیام ہوتا۔ ایک دفعہ جلسہ سالانہ قادیان میں شمولیت کے لیے جاتے ہوئے جب آپ چند دن کے لیے کوئٹہ میں فروکش ہوئے تو ڈاکٹر عبداللہ صاحب امیر جماعت کوئٹہ نے حضرت مولوی صاحب سے فرمایا کہ کل کا خطبہ جمعہ آپ دیں اور دوستوں کو قادیان جلسہ سالانہ پر جانے کی تلقین کریں۔ کیونکہ گزشتہ سال کوئٹہ میں آنے والے زلزلے کی وجہ سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ مالی تنگی کی وجہ سے دوست کم جائیں گے۔ چنانچہ حضرت مولوی صاحب نے خطبہ میں دیگر امور کے علاوہ جلسہ سالانہ پر جانے کے لیے ایسے زور دار الفاظ میں تحریک فرمائی کہ جس سے احباب جماعت کے دلوں میں جلسہ سالانہ پر جانے کا جوش پیدا ہوا اور کافی دوست جلسہ سالانہ پر گئے۔ یہ خطبہ حضرت مولوی صاحب کے تعلق باللہ کی بھی شاندار مثال ہے۔ آپ نے فرمایا:
محمد الیاس کو چند اہم امور درپیش تھے۔ بہت دعائیں کیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تیری دعا قبول ہو گی مگر تین شرطوں کے ساتھ۔ پہلی یہ کہ تم بیس ہزار احمدیوں کو بلاؤ اور تین دن کی ان کی دعوت کرو، رہائش کا انتظام کرو۔ دوسری یہ کہ صحابہ کرام کو بلاؤ، وہ بھی آئیں۔ اور تیسری یہ کہ خلیفہ وقت کو بھی بلاؤ اور ان سب سے عرض کرو کہ تمہارے لیے رو رو کر دعا کریں۔ میں نے اپنے خدا سے عرض کی میری حقیر حیثیت کوتُو خوب جانتا ہے۔ میں تو تین آدمیوں کو تین دن بھی کھانا نہیں دے سکتا اور نہ رہائش کا انتظام کر سکتا ہوں۔ پھر میری حیثیت کیا ہے کہ میں بیس ہزار احمدیوں کو بلاؤں۔ جواب میں لوگ کہیں گے ہمیں فرصت نہیں۔ پھر صحابہ کرام اور خلیفۂ وقت کی خدمت میں کیسے عرض کروں کہ میرے یہ اہم کام ہیں؟ آپ ان امور کی انجام دہی کے لیے رو رو کر خدا سے میرے لیے دعا کریں۔ ممکن ہے جن امور کو میں اہم سمجھتا ہوں وہ ان کو کوئی اہمیت نہ دیتے ہوں۔ مَیں اللہ تعالیٰ کے حضور بہت رویا کہ اے اللہ! یہ شرائط بہت سخت ہیں… یہ شرائط میری وسعت سے باہر ہیں، مجھ پر رحم فرما۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ محمد الیاس! یہ سب انتظام میں نے تمہارے لیے کر دیا ہے۔ تم قادیان جلسہ سالانہ پر جاؤ۔ وہاں بیس ہزار احمدی بھی آئیں گے۔صحابہ کرام بھی آئیں گے، خلیفۂ وقت بھی موجود ہو گا۔ ان کی خوراک اور رہائش کا انتظام بھی میں کروں گا۔ جلسہ سالانہ کی افتتاحی اور اختتامی دعا میں جب جلسہ سالانہ کے تمام احباب مع خلیفۂ وقت روئیں گے، تم بھی رونا اور اپنا مدعا پیش کرنا،میں قبول کروں گا۔
پھر آپ نے فرمایا: مَیں احباب جماعت سے پوچھتا ہوں۔ کیا یہ سودا مہنگا ہے؟ کیا تم لوگوں کی کوئی ضروریات نہیں ہیں اور تم ہر چیز سے بے نیاز ہو؟
اٹھو اور جلسہ سالانہ پر جانے کی تیاری کرو کہ یہ وقت پھر ایک سال بعد ہاتھ آئے گا۔ کس کو پتا اس وقت کون زندہ ہو گا؟ ایسے سنہری موقع کو اپنے ہاتھ سے گنوانا کہاں کی عقلمندی ہے؟
(حیات الیاس صفحہ 87-85)
پس آئیے کہ ہم بھی ان برکات کو سمیٹنے کی کوشش کریں جو ان بابرکت جلسوں کے ساتھ وابستہ کردی گئی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین

(محمود احمد ملک)

100% LikesVS
0% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں