اداریہ: ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ کی صدسالہ جوبلی کا سال 1996ء

اداریہ
(ہفت روزہ الفضل انٹرنیشنل لندن 6 دسمبر 1996ء)

’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ کی صدسالہ جوبلی کا سال 1996ء

1896ء میں سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ادیانِ عالَم پر اسلام کی برتری اور دنیابھر کی الہامی کتب پر قرآن کریم کی عظمت ثابت کرنے کے لئے ایک مضمون رقم فرمایا تھا جو 1896ء میں لاہور میں منعقد ہونے والے جلسہ اعظم مذاہب میں حضرت مولوی عبدالکریم صاحب سیالکوٹی رضی اللہ عنہ نے پڑھ کر سنایا تھا۔ بعدازاں یہی مضمون ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ کے نام سے شائع ہوا اور اپنوں اور غیروں نے اس عظیم الشان مضمون کو شاندار خراج تحسین پیش کیا۔

امر واقعہ یہ ہے کہ الٰہی تائیدیافتہ اس مضمون نے دنیابھر کے دانشکدوں میں ایسا زلزلہ بپا کیا کہ نہ صرف عظیم مفکّرین اس کی تعریف و توصیف میں رطب اللّساں ہوگئے بلکہ اُس زمانے کے اخبارات نے بھی جلسہ اعظم مذاہب سے متعلق اپنی رپورٹس اور ریویوز میں واضح طور پر اس مضمون کی عظمت کا اقرار کرتے ہوئے اسے جلسہ میں پڑھے جانے والے تمام مضامین میں اعلیٰ ترین قرار دیا۔ اور دنیابھر سے تعلق رکھنے والے عظیم دانشوروں کا اس مضمون کے لئے اظہارعقیدت یقینا سلطان القلم حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذات گرامی کے لئے بھی شاندار خراج تحسین ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ خداتعالیٰ نے پہلے ہی سے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کو الہاماً بتا دیا تھا کہ

’’مضمون بالا رہا‘‘۔

’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ کا مضمون بلاشبہ قرآن کریم کے حقائق و معارف کی بے نظیر تفسیر اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے بے پایاں عشقِ قرآن کا مظہر ہے۔ جس طرح سو سال پہلے یہ مضمون دنیابھر کے مذاہب کے مقابل پر اسلام کی ایک شاندار فتح کا اعلان تھا اور دیگر الہامی کتب کے مقابل پر قرآن کریم کی برتری کا بے مثال اظہار تھا، اسی طرح آج بھی یہ اسلامی تعلیمات کی حقیقی روح کو دنیا کے سامنے ایک نمایاں شان کے ساتھ پیش کرنے کے قابل ہے کیونکہ یہ وہ اعجازی مضمون ہے جس کے غلبہ کی بشارت دیتے ہوئے جلسہ سے قبل ہی اللہ تعالیٰ نے فرمایا تھا کہ اس میں سچائی اور حکمت اور معرفت کا وہ نُور ہے جو دوسری قوموں کو شرمندہ کردے گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور خدائی وعدوں کے مطابق اس جلسہ میں

’’اَللہ اَکْبَر۔ خَرِبَتْ خَیْبَر‘‘

کے روحانی نظارہ کا وہ سماں پیدا ہوا جس نے مذاہبِ باطلہ کے محلّات ایک بار پھر زمیں بوس کردیئے۔
’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ میں سیّدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے پانچ اہم سوالات کا قرآن کریم کی روشنی میں جواب دیا ہے اور ایسے دلنشیں پیرائے میں تشریح فرمائی ہے جو روحوں پر وجد طاری کردینے والی اور اسلام کی عظمت کو دلوں میں قائم کرنے والی ہے۔
پانچ سوالات یہ تھے:
۱۔ انسان کی جسمانی، اخلاقی اور روحانی حالتیں۔
۲۔ حیات بعدالموت۔
۳۔ انسانی پیدائش کا مقصد
۴۔ دنیا اور آخرت میں اعمال کا اثر۔
۵۔ علم اور معرفت کے ذرائع۔
اب تک پچاس سے زائد زبانوں میں ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ کے تراجم شائع ہوچکے ہیں جبکہ بعض زبانوں میں یہ کتاب زیرترجمہ ہے یا طباعت کے مراحل سے گزر رہی ہے۔
اس مضمون کی دنیابھر میں اشاعت کرنا ہر احمدی کا فرض ہے کیونکہ یہ وہ الٰہی تائیدیافتہ کلام ہے جو سو سال پہلے بھی غالب تھا، آج بھی ہے اور قیامت تک ادیانِ عالَم پر دینِ اسلام اور قرآن کریم کی برتری کی مُہر ثبت کرتا چلا جائے گا۔ اور اِس زمانہ میں یہ بھی اُن تلواروں میں سے ایک تلوار ہے جسے مسیح محمدیؑ نے اپنے غلاموں کے ہاتھوں میں دے کر یہ اعلان فرمایا تھا:

’’اَللہ اَکْبَر۔ خَرِبَتْ خَیْبَر‘‘۔

جماعت ہائے احمدیہ عالمگیر 1996ء کا سال ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ کی صدسالہ جوبلی کے طور پر منارہی ہے۔ سیّدنا حضرت امیرالمومنین خلیفۃالمسیح الرابع ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے نصیحت فرمائی ہے کہ ہر احمدی اِس سال یہ کتاب ضرور پڑھے۔ چنانچہ اس بارہ میں خاص توجہ کی ضرورت ہے۔ اگر آپ خود مطالعہ کرچکے ہیں تو اپنے ماحول میں بھی جائزہ لیں کیونکہ اس کتاب کا مطالعہ نہ صرف ہماری اخلاقی اور روحانی ترقیات میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے بلکہ حضورانور ایدہ اللہ تعالیٰ کی خواہش کی تعمیل میں اس کتاب کا مطالعہ کرنا ہر احمدی پر فرض قرار پاتا ہے۔
امر واقعہ یہ ہے کہ ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص اپنے ذوق کے مطابق اور اپنے فہم و استعداد کے مطابق اس روحانی مائدہ سے لُطف اٹھاتا ہے۔ اس لئے اگر ابھی تک آپ نے کسی وجہ سے اس مضمون کا مطالعہ شروع نہیں کیا تو ابھی سے اس کا ارادہ فرمالیں۔ یاد رہے کہ 1996ء کا سال ختم ہونے میں محض چند یوم باقی ہیں۔
’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ کا مطالعہ ہر اُس شخص کے لئے فائدہ مند ہے جو اخلاقی اور روحانی میدانوں میں ترقیات کا خواہشمند ہے اور دنیا و آخرت میں اپنے خالق و مالک سے زندہ تعلق پیدا کرنے کا شوق رکھتا ہے اور اپنی قوّتوں اور استعدادوں کو خدا تعالیٰ کی کامل رضا کے تابع رکھ کر ان سے استفادہ کرنا چاہتا ہے۔
ہم میں سے کئی جب ’’اسلامی اصول کی فلاسفی‘‘ کا پہلی بار مطالعہ کریں گے تو اُنہیں یقینا خیال آئے گا کہ ابھی تک وہ کیوں اس شاندار مضمون کے مطالعہ سے محروم رہے ہیں!۔

(محمود احمد ملک)

اپنا تبصرہ بھیجیں