اسلام میں واپسی – بشریٰ اولیانکا کی سرگزشت

نائیجریا سے شائع ہونے والے ماہنامہ ’’العرفان‘‘ دسمبر 2002ء میں ایک خاتون مکرمہ بشریٰ اولیانکا صاحبہ نے اپنی داستان بیان کی ہے۔ وہ پیدائشی احمدی تھیں لیکن آہستہ آہستہ اسلام سے دُور اور عیسائیت کے قریب ہوتی گئیں، لیکن جب انہیں اسلام کی حقیقی تعلیم کا علم ہوا تو اُن کی زندگی میں عظیم انقلاب رونما ہوا اور وہ ایک باعمل مسلمان بن گئیں۔
وہ بیان کرتی ہیں کہ یہ میرے لئے بڑی حیرت انگیز بات ہے کہ مَیں اب ایک مسلمان ہوں اور ایسی مسلمان جو سارے احکامات پر عمل کرتی ہے۔اب وہ دن نہیں رہے جب مَیں عملی قسم کے مسلمانوں سے نفرت کرتی تھی۔اور اپنے خیال میں اُن کو انتہا پسند گردانتی تھی۔ کیونکہ میرے عقیدہ کے مطابق مذہب کا تعلق محض دل اور اپنی ذات سے ہے نہ کہ اُسے اپنے تقویٰ کے اظہار کا ذریعہ سمجھا جائے۔ میرے خیالات کی وجہ سے میری سہلیاں جو کہ اکثر عیسائی تھیں مجھے ایک ’’سوشل قسم کی مسلمان‘‘ خیال کرتی تھیں۔ ہماری کافی باتیں مشترک تھیں خاص طور پر لباس کے معاملہ میں۔
عجیب بات ہے کہ مَیں پیدائشی احمدی ہوں اور میرے ذہن میں شروع سے یہ موجود تھا کہ کسی عیسائی سے شادی کرنا ناپسندیدہ بات ہے بلکہ عیسائیوں کے ساتھ خصوصی میل جول بڑھانے کو بھی بُرا سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اپنے لباس کی وجہ سے مَیں اُن کی کشش کا باعث بنتی تھی جبکہ میرے ذہن میں اُن کے لئے نفرت کے خیالات ہوتے تھے۔ اپنے لباس کی آزادی کے باوجود مجھے دوسروں کو یہ بتانا پڑتا تھا کہ مَیں ایک مسلمان لڑکی ہوں۔
جب مَیں یونیورسٹی پہنچی جہاں میری دوستی ایک بہت اچھی مسلمان لڑکی سے ہو گئی جو میری ہم نام ہی تھی لیکن اُس نے میرے انداز کا بھرپور محاسبہ کیا۔ مَیں بشریٰ کی بجائے ینکسؔ کہلانا پسند کرتی تھی۔ اُس کے پوچھنے پر مَیں نے بتایا کہ بشریٰ نام کو مَیں اپنے لئے ایک دھبہ خیال کرتی ہوں اور یہ کہ مَیں ایک سوشل قسم کی مسلمان ہوں۔ ایک دن وہ میرے پاس آئی اور میرے لباس پر گفتگو کرنے لگی۔ پھر ہم اکثر مسجد میں ایک دوسرے کو ملنے لگے اور جلد ہی اُس نے میرا مسلمان ہونا میرے لئے قابل فخر بات بنادی۔ آہستہ آہستہ مجھے اپنے آپ سے شرم آنے لگی۔ کیونکہ وہ مجھ سے کہیں زیادہ بہتر نظر آتی تھی اور بڑی ذہین تھی۔ مَیں اپنے دل میں اُس جیسا بننے کی تمنا کرنے لگی۔ اور میرے خیالات تیزی سے تبدیل ہونے لگے۔
مَیں نے مذہبی تعلیمات کا مطالعہ شروع کیا۔ جس سے مجھے معلوم ہواکہ اسلام ہی دراصل اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ دین ہے۔ اس طرح میں اعتماد سے اسلام کے بارہ میں زیادہ پڑھنے لگی۔ پھر مجھے احمدیت کی تعلیمات کا علم ہوا اور مَیں دل سے احمدی بن گئی۔
پھر میری مذہبی بنیادوں میں ہلچل اُس وقت بھی ہوئی جب مَیں بیمار ہوکر ہسپتال میں داخل ہوئی تو کچھ عیسائی دوستوں نے میری مزاج پُرسی کے ذریعے دوبارہ مجھ پر اثر کرنا شروع کیا۔
اسلام سے انحراف کی طرف ایک موقعہ تب آیا جب مَیں نے اسلامی تعلیمات کے مطابق پردہ کرنا شروع کیا۔ اس وقت مولوی ایوب صاحب نے میری رہنمائی اور مدد کی۔ پھر ایک اور موقعہ پر مجھے اسلام کے لئے قربانی دینا پڑی جب مجھے ملازمت کی تلاش تھی۔ تب میرے اسلامی لباس کی وجہ سے میرا مذاق اُڑایا جاتا تھا۔ اور لوگ کہتے تھے کہ بیشمار لڑکیاں مِنی سکرٹ پہنے اس ملازمت کے انتظار میں بیٹھی ہیں، مجھے کوئی اُن پر فوقیت کیوں دے گا؟۔ الحمدللہ کہ مجھے لیگوس کی سٹیٹ گورنمنٹ میں جاب مل گئی۔ مجھے یہ بھی کہا جاتا تھا کہ مَیں اسلامی لباس پہن کر شادی کیسے کرسکتی ہوں کہ کوئی مجھے دیکھ بھی نہیں سکتا۔ لیکن اب اللہ تعالیٰ کے فضل سے مَیں شادی شدہ ہوں۔ اور اُن لوگوں کو جو اللہ تعالیٰ پر کمزور ایمان رکھتے ہیں کہتی ہوں کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں کسی بھی قسم کی قربانی کرنا بے شمار فوائد کا موجب ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں