اصحاب احمدؑ کی قبولیت دعا – مصائب ومشکلات سے نجات

روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 21؍اپریل 2004ء میں مکرم عطاء الوحید باجوہ صاحب نے بعض ایسے واقعات بیان کئے ہیں جن میں حضرت اقدس مسیح موعودؑ کے صحابہؓ کی دعاؤں کے طفیل اللہ تعالیٰ نے مختلف مصائب سے نجات عطا فرمائی۔
حضرت اماں جانؓ
٭ موضع ’’ماڑی بچیاں‘‘ تحصیل بٹالہ میں ایک احمدی دوست میاں اللہ رکھا صاحب دیہات میں غلہ خرید کر آس پاس کی منڈیوں میں فروخت کرتے تھے۔ ایک دفعہ وہ قادیان گئے تو ان کا گھوڑا خود بخود کھل گیا یا کوئی لے گیا۔ انہوں نے قریبی علاقوں میں بہت تلاش کیا مگر ناکام آئے۔ پھر حضرت اماں جانؓ کی خدمت میں حاضر ہو کر درخواست دعا کی۔ آپؓ نے ایک دعا کاغذ پر لکھ دی اور فرمایا ’’ میں بھی دعا کروں گی آپ گھوڑے کو تلاش کریں انشاء اللہ مل جائے گا‘‘۔ میاں صاحب بیان کرتے ہیں کہ ’’دعا کے الفاظ پڑھتا ہوا اور سیاہی خشک کرنے کیلئے کاغذ پر پھونکیں مارتا ہوا ابھی میں لنگر خانہ سے تھوڑا ہی آگے گیا تھا تو دیکھا کہ میرا گھوڑا سامنے سے دوڑتا ہوا آرہا تھا جسے میں نے پکڑ لیا۔
حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ
٭ حضرت ابوالمبارک محمد عبد اللہ صاحب بیان فرماتے ہیں کہ پسرور میں پہلے چھ مہینے سخت پریشانی میں گزرے کیونکہ بیوی دو سال سے بیمار تھی۔ میں نے حضرت مصلح موعود ؓ کی خدمت میں کئی بار دعا کی درخواست کی اور حضورؓ نے تسلی دی تھی کہ میں دعا کروں گا۔ ایک دن خواب میں دیکھا کہ اخبار الفضل آیا ہے اور اس میں عربی میں لکھا ہے اللہ تمہارے لئے کافی ہو گا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے سب ظلمتیں دُور فرمادیں۔
حضرت مفتی محمد صادق صاحبؓ
٭ حضرت مفتی محمد صادق صاحب ؓ انگلستان سے روانہ ہو کر بغرض تبلیغ امریکہ پہنچے تو ساحل پر اترنے سے پہلے ایک ڈاکٹر جہاز پر ہی آیا تاکہ مسافروں کا طبی معائنہ کرے اور جن کو ناقابل سمجھے ان کو اترنے کی اجازت نہ دے۔ حضرت مفتی صاحب کی آنکھوں میں روئے تھے اور ایسے مریض کو امریکہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوتی۔ آپؓ نے بہت الحاح وزاری کے ساتھ دعا کی اور پھر مسافروں کی قطار میں جا کھڑے ہوئے۔ ڈاکٹر جب معائنہ کرتا کرتا آپؓ کے پاس آیا تو سبز پگڑی دیکھ کر کہنے لگا کیاآپ ہندوستان سے آئے ہیں؟ آپؓ نے کہا جی ہاں۔ پھر بہت سی باتیں ہوئیں اور آخر میں وہ خود ہی کہنے لگا کہ آپؓ کی صحت بہت اچھی ہے، آپ بے شک امریکہ میں داخل ہوسکتے ہیں۔ اور یہ کہہ کر اُس نے سرٹیفیکیٹ لکھ دیا۔ محض اللہ تعالیٰ کا فضل تھا کہ معائنہ کی نوبت نہ آئی۔ ورنہ آپؓ کاامریکہ میں داخلہ ناممکن تھا۔
حضرت مولانا غلام رسول راجیکی صاحبؓ
٭ حضرت مولانا غلام رسول صاحبؓ راجیکی تحریر فرماتے ہیں کہ ایک بار چوہدری اللہ داد خان صاحب نے مجھ سے دریافت کیا کہ یہ جو دست غیب کے متعلق مشہور ہے کہ بعض وظائف یا بزرگوں کی دعا سے انسان کی مالی امداد ہو جاتی ہے کیا صحیح بات ہے؟ میں نے کہا کہ ہاں، بعض خاص گھڑیوں میں جب انسان پر ایک خاص روحانی حالت طاری ہوتی ہے تو اس وقت اس کی تحریری یا تقریری دعا
باذن اللہ یقینا حاجت روائی کا موجب ہو جاتی ہے۔ میری یہ بات سن کر چوہدری اللہ داد کہنے لگے تو پھر آپ مجھے کوئی ایسی دعا یا عمل لکھ دیں جس سے میری مالی مشکلات دُور ہو جائیں۔ میں نے کہا اچھا اگر کسی دن کوئی خاص وقت اور گھڑی میسر آگئی تو انشاء اللہ میں آپ کو دعا لکھ دوں گا چنانچہ ایک دن جب افضال ایزدی اور سیدنا حضرت مسیح موعود ؑ کی برکت سے مجھے روحانی قوت کا احساس ہوا تو میں نے ایک دعا لکھ دی جس کے الفاظ غالباً ’’اَللّٰھُمَّ اکْفِنِیْ بِحَلَالِکَ عَنْ حَرَامِکَ وَاَغْنِنِیْ بِفَضْلِکَ عَمَّنْ سِوَاکَ‘‘ تھے اورتلقین کی کہ وہ اس دعا کو ہمیشہ اپنے پاس رکھیں ۔ چنانچہ انہوں نے اسی وقت اس کو اپنی پگڑی کے ایک گوشہ میں باندھ کر محفوظ کر لیا۔ خدا کی حکمت ہے کہ ایک سال تک چوہدری اللہ داد غیبی امداد اور مالی فتوحات کے کرشمے اور عجائبات ملاحظہ کرتے رہے۔ اس کے بعد سوء اتفاق سے یہ دعا اُن سے ضائع ہو گئی اور وہ دست غیب کا سلسلہ ختم ہوگیا۔
٭ ایک دفعہ میری بیوی کے بڑے بھائی حکیم محمد اسمٰعیل صاحب کی ایک آدمی سے لڑائی ہو گئی جس میں حکیم صاحب نے اس آدمی کو مار مار کر لہو لہان کر دیا۔ اس مضروب کے وراثوں نے جب اسے قریب الموت پایا تو وہ اسے چارپائی پر ڈال کر حافظ آباد تھانہ میں لے گئے۔ میری خوشدامن صاحبہ نے جب یہ سنا تو مجھے حکیم صاحب موصوف کیلئے دعا کرنے کیلئے کہا۔ میں نے جب دعا کی تو اللہ تعالیٰ نے مجھے ایسی تسکین دی کہ میں نے سب کو بتایا کہ نہ تو وہ مضروب مرے گا اور نہ ہی اس کے وارث اسے تھانے میں لے جائیں گے۔ چنانچہ جو لوگ زخمی کو لے جارہے تھے، وہ قریباً ڈیڑھ کوس کے فاصلہ سے ازخود واپس آگئے اور مضروب بھی چند دنوں میں اچھا ہو گیا۔
٭ ایک بار میاں فیروز الدین صاحب احمدی سخت پریشانی میں مبتلا ہوئے تو اُن کی ہمشیرہ کو خواب میں بتلایا گیا کہ میاں فیروزالدین اگر مولوی غلام رسول صاحبؓ راجیکی سے دعا کرائے تو اس کے جملہ مصائب خدا تعالیٰ کے فضل سے دُور ہوجائیں گے۔ چنانچہ میاں صاحب نے مجھے دعا کیلئے تحریک کی۔ پھر اُن کے واسطے ایک دفعہ مجھے دعا کی خاص تحریک ہوئی تو میں نے اُن سے دریافت کیا کہ آپ کو کونسی ضروریات ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ایک تو اپنی بیوی کے لئے جو بعارضہ جنون بیمار ہے۔ دوسرے مالی پریشانی سے نجات کے لئے۔ تیسرا اولاد نرینہ کے لئے۔ میں نے ان تینوں مقاصد کے لئے دعا کا خاص موقعہ ملنے پر دعاکی۔ اور قلبی تحریک کی بنا پر ان کو اطلاع دیدی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کی بیوی کی بیماری ہفتہ عشرہ میں دور ہو گئی۔ بیکاری بھی اتنے ہی عرصہ میں جاتی رہی۔ اور ایک سال کے اندر ان کو اللہ تعالیٰ نے لڑکا بھی عطا فرمایا۔ جو اب ماشاء اللہ صاحب اولاد ہے۔
٭ ایک بار حضرت خلیفۃ المسیح الثانی ؓ کے ارشاد کے ماتحت پرائیویٹ سیکرٹری کی طرف سے مجھے یہ پیغام ملا کہ جناب سیٹھ عبد اللہ الہ دین صاحب کی مالی مشکلات سے نجات کے لئے خاص طور پر دعا کی جائے۔ چنانچہ بالالتزام ان کے لئے دعا کا سلسلہ جاری کیا۔ ایک کشفی حالت میں سیٹھ صاحب کو یہ مصرعہ پڑھتے دیکھا: ’’قادر ہے وہ بارگاہ جو ٹوٹا کام بناوے‘‘۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے بہت جلد اُنکی حالت کو بدل کر مالی وسعت کے سامان پیدا فرمائے۔
حضرت محمد ابراہیم بقاپوری صاحبؓ
٭ جنوری 1910ء میں چوہدری غلام حسین صاحب نے مجھے کہا کہ میری دو مربعہ زمین اس قدر خراب ہے کہ اس کی آمد سے سرکاری لگان بھی بڑی مشکل سے ادا ہوتا ہے۔ میں تین چار سال سے مربعوں کی تبدیلی کیلئے کئی درخواستیں دے چکا ہوں لیکن کوئی شنوائی نہیں ہوئی۔ چونکہ چوہدری صاحب بہت مخلص اور سلسلہ کی مالی خدمت کرنے میں مستعد تھے اس لئے میں نے ان کے حق میں دعا کی۔ چنانچہ 15؍جنوری 1910ء کو مجھے ایک خاص قطعہ زمین دکھایا گیا جو اُن کو دیا جانا تھا۔ چنانچہ جون 1912ء میں اسی زمین کے ساتھ ان کے مربعہ جات کا تبادلہ ہو گیا جو خواب میں دکھائی گئی تھی۔
حضرت مولوی رحمت علی صاحبؓ
حضرت مولوی رحمت علی صاحبؓ نے بتایا کہ جب میرپور خاص سے ٹرین گزرنی شروع ہوئی تو انگریز کا زمانہ تھا۔ ایک رات میں سفر کر رہا تھا کہ آنکھ لگ گئی اور مَیں دواسٹیشن آگے نکل گیا کہ اچانک ٹکٹ چیکر نے مجھے جگایا اور ٹکٹ دیکھ کر کہا کہ تم تو دو اسٹیشن بغیر ٹکٹ کے آگے نکل آئے ہو، اس کا جرمانہ بھرنا ہوگا، اور اگلے سٹیشن پر اتر جانا، وہیں مَیں آپ سے جرمانہ وصول کروں گا ۔ مگر میرے پاس تو اس وقت کوئی پیسہ نہ تھا۔ اتنی ہی رقم تھی جس سے میں نے ٹکٹ خرید کرلی ہوئی تھی۔ تب میں نے وہ دعا جو حضرت مسیح موعود ؑ نے آڑے وقت کے لئے تحریر کی ہوئی تھی وہ درددل سے پڑھنی شروع کر دی۔ ابھی میں نے دعا کو ختم کیا ہی تھا کہ اسٹیشن بھی آگیا اور میں اتر کر پلیٹ فارم سے باہر جانے کے لئے گیٹ پر پہنچا کہ وہی ٹکٹ کلکٹر بھی روشنی پکڑے گیٹ میں آکھڑا ہوا۔ اسی نے میری ٹکٹ چیک کی اور مجھے باہر جانے کی اجازت دیدی۔ وہ دعا اس طرح سے ہے: ’’اے میرے محسن اور اے میرے خدا۔ میںایک تیرا ناکارہ بندہ، پُرمعصیت اور پُرغفلت ہوں۔ تُو نے مجھ سے ظلم پر ظلم دیکھا اور انعام پر انعام کیا! اور گناہ پر گناہ دیکھا اور احسان پر احسان کیا۔ تُو نے ہمیشہ میری پردہ پوشی کی اور اپنی بے شمار نعمتوں سے مجھے متمتع کیا۔ سو اب بھی مجھ نالائق اور پُرگناہ پر رحم کر اور میری بے باکی اور ناسپاسی کو معاف فرما اور مجھ کو میرے اس غم سے نجات بخش کہ بجز تیرے چارہ گر کوئی نہیں۔ آمین۔‘‘
الحاج مولوی ابوالمبارک محمد عبد اللہ صاحبؓ
٭ طالب علمی کے زمانہ میں ایک بار جب مَیں چھٹیوں میں گاؤں گیا تو میری غیر حاضری کے دنوں میں کسی کے گھر میں چوری ہو گئی۔ کھوجی نے جن دو لڑکوں کی کھوج نکالی ان میں ایک مَیں تھا۔ حضرت یعقوب علی عرفانی صاحبؓ کے سپرد اس امر کی تحقیق تھی۔ میں نے عرض کی کہ اُن دنوں میں مَیں تو قادیان میں تھا ہی نہیں۔ اس پر انہوں نے فرمایا کہ دیکھو یہ کاغذ، اس میں حکم ہے کہ دونوں لڑکوں کو پولیس کے حوالہ کر دیا جائے۔ اس حوالگی میں صرف نماز ظہر کا وقفہ تھا۔ چنانچہ مسجد مبارک میں حضرت صاحب ؑ کے اقتداء میں نماز ظہر ادا کی اور سنتیں ادا کرنے کے لئے مَیں مسجد کی چھت پر چڑھ گیا اور گریہ وزاری سے دعا کی۔ ابھی سجدہ میں تھا کہ کسی نے کہا کہ عرفانی صاحب فرماتے ہیں کہ نماز ختم کر کے جلدی نیچے آجاؤ۔ حاضر ہونے پر معلوم ہوا کہ دوسرے لڑکے نے چوری کی تھی اور اُس نے مال بھی برآمد کروادیا۔
حضرت شیخ فضل احمد صاحبؓ بٹالوی
٭ جب میں چکدرہ جانے لگا تو کسی نے بتایا کہ وہاں کا ملیریا کا موسم بہت خطرناک ہے۔ مجھے بہت فکر ہوا اور میں عاجزی سے دعائیں مانگتے ہوئے روانہ ہوا۔ چکدرہ آنے پر آنحضرت ﷺ کی بتائی ہوئی دعا

اَللّٰھُمَّ رَبَّ السَّمٰوٰتِ السَّبْعِ… (الخ)

بہت عاجزی سے پڑھی۔ حضرت خلیفہ اولؓ فرماتے تھے کہ اگر کسی وبازدہ شہر میں جانا پڑے تو اس دعا کے پڑھنے والے کو اللہ تعالیٰ اس وبا سے بچا لے گا۔ دراصل قلعہ چکدرہ کے پاس دریا کا پانی وہاں کی فصل والی زمین میں سے گزرتا ہے جسے پینے سے ملیریا ہو جاتا ہے۔ وہاں میرے ایک ہم جماعت ہندو ڈاکٹر نے بتایا کہ یہاں سخت ملیریا کی وجہ سے نوے فیصد فوجی بیمار ہوجاتے ہیں۔ مگر میری کوشش کے باعث اس دفعہ تیس فیصدی کے قریب ہی بیمار ہوئے ہیں۔ اس پر میں نے اُسے بتایا کہ اس کا باعث یہ ہے کہ حضرت رسول کریم ﷺ کی دعا نے میرے جیسے گنہگار کی زبان پر آکر اپنا خاص اثر دکھلایا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں