افراد جماعت احمدیہ میں پاک تبدیلیوں کے ایمان افروز نظارے

حضرت مسیح ناصری علیہ السلام کا قول ہے: ’’ہرایک درخت اپنے پھل سے پہچانا جاتا ہے‘‘۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’اس درخت کو اس کے پھلوں سے اور اس نیّر کو اس کی روشنی سے شناخت کروگے‘‘۔
حضرت مسیح موعودؑ پر ایمان لانے کے نتیجہ میں جو پاکیزہ تبدیلیاں افراد میں پیدا ہوئیں ان کا مختصر ذکر روزنامہ ’’الفضل‘‘ ربوہ 28؍ و 29؍جون 2003ء کے شماروں میں مکرم عبدالسمیع خانصاحب کے قلم سے شامل اشاعت ہے۔
نماز اور دعا
حضرت مسیح موعودؑکے صحابی حضرت مولانا سید محمد سرور شاہ صاحبؓ کو نماز با جماعت کا اس قدر خیال تھا کہ شدید بیماری میں بھی نمازبا جماعت ادا کرتے۔آخری بیماری میں ایک دن بخار کی حالت میں مسجد تشریف لے گئے تھرمامیٹر لگایا گیا تو بخار 105درجہ تھا۔
حضرت میر ناصر نواب صاحب ؓ نماز باجماعت کے ایسے پابند تھے کہ آخری عمر میں جب کہ چلنا بھی مشکل ہوگیا تھا آپ نماز باجماعت پڑھتے تھے اور کبھی اس میں ناغہ نہ کرتے تھے۔
حضرت منشی محمد اسمعیلؓ فرماتے تھے کہ مجھے صرف ایک نماز یاد ہے جو میں نماز باجماعت ادا نہیں کرسکا وہ بھی مسجد سے ایک ضروری حاجت کے لئے واپس آنا پڑا تھا۔
حضرت منشی امام دین صاحبؓ اور آپ کی زوجہ محترمہ ؓ ہر جمعہ کے روز صبح گاؤں سے پیدل چل کر قادیان آتے جمعہ پڑھتے اور پھر پیدل واپس جاتے۔
انگلستان میں مکرم بلال نٹل صاحب جب احمدی ہوئے تو انہوں نے اپنے لئے ’’بلال‘‘ نام کا انتخاب کیا اور پھرحضرت بلالؓ ہی کے تتبع میں انہوں نے نماز کیلئے اذان دینے میں ایک خاص نام پیدا کیا۔انہیں سچ مُچ نماز کیلئے بلانے کا از حد شوق تھا۔
سردار دیوان سنگھ مفتون ایڈیٹر ریاست دہلی کی گواہی ہے: ہم کہہ سکتے ہیں کہ جہاں تک اسلامی شعار کا تعلق ہے ایک معمولی احمدی کا دوسرے مسلمانوں کا بڑے سے بڑا مذہبی لیڈر بھی مقابلہ نہیں کرسکتا کیونکہ احمدی ہونے کیلئے یہ لازمی ہے وہ نماز روزہ، زکٰوۃ اور دوسرے اسلامی احکام کا عملی طور پر پابند ہو۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ’’میں حلفاً کہتا ہوں کہ کم از کم ایک لاکھ آدمی میری جماعت میں ایسے ہیں کہ سچے دل سے میرے پر ایمان لاتے ہیںاور اعمال صالحہ بجا لاتے ہیں اور باتیں سننے کے وقت اس قدر روتے ہیں کہ ان کے گریبان تر ہوجاتے ہیں‘‘۔
محبت قرآن
حضرت مسیح موعود ؑ کے کئی صحابہ نے پہلے بزرگوں کی اتباع میں بڑی عمر میں قرآن کریم حفظ کیا۔اُن میں حضرت چوہدری نصراللہ خان صاحبؓ اور حضرت صوفی غلام محمد صاحبؓ کے نام خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
اطاعت امام
حضرت مسیح موعود ؑ ایک دفعہ مسجد اقصیٰ میں لیکچر دے رہے تھے کہ بابا کریم بخش صاحب سیالکوٹی کسی کام کے لئے باہر گئے۔ واپس آرہے تھے کہ حضور کے یہ الفاظ ان کے کان میں پڑے کہ ’’بیٹھ جاؤ‘‘ جو حضورؑ مسجد کے اندر موجود لوگوں سے فرما رہے تھے۔وہ یہ الفاظ سنتے ہی وہیں بازار میں بیٹھ گئے اور بیٹھے بیٹھے مسجد اقصیٰ کی سیڑھیوں پر پہنچے اور حضور کی تقریر سنی۔
حضرت مولوی عبداللہ سنوری صاحبؓ ایک دفعہ مسجد مبارک قادیان میں ظہر کی نماز سے پہلے سنتیں پڑھ رہے تھے کہ حضرت اقدس مسیح موعودؑ نے بیت الفکر کے اندر سے انہیں آواز دی تو وہ نماز توڑ کر حضور کی خدمت میں حاضر ہوگئے۔
حضرت مسیح موعودؑ 1892ء میں جالندھر تشریف لے گئے تھے۔حضور کی رہائش بالائی منزل پر تھی۔کسی خادمہ نے گھر میں حقہ رکھا اور چلی گئی۔ اسی دوران حقہ گر پڑا اور بعض چیزیں آگ سے جل گئیں۔حضور نے اس بات پر حقہ پینے والوں سے ناراضگی اور حقہ سے نفرت کا اظہار فرمایا۔یہ خبر جب نیچے بیٹھے ہوئے احمدیوں تک پہنچی جن میں سے کئی حقہ پیتے تھے اور ان کے حقے بھی مکان میں موجود تھے۔انہیں جب حضور کی ناراضگی کا علم ہوا تو سب حقہ والوں نے اپنے حقے توڑ دئیے اور حقہ پینا ترک کردیا۔جب عام جماعت کو بھی معلوم ہوا کہ حضور حقہ کو نا پسند فرماتے ہیں تو بہت سے با ہمت احمدیوں نے حقہ ترک کردیا۔
مرزا احمد بیگ صاحب ساہیوال روایت کرتے ہیں کہ حضرت مصلح موعودؓ نے ایک دفعہ میرے ماموں مرزا غلام اللہ صاحب سے فرمایا کہ مرزا صاحب دوستوں کو حقہ چھوڑنے کی تلقین کیا کریں۔ماموں صاحب خود حقہ پیتے تھے انہوں نے حضور سے عرض کیا بہت اچھا حضور۔ گھر آکر اپناحقہ جو دیوار کے ساتھ کھڑا تھا اسے توڑ دیا۔ممانی جان نے سمجھا کہ آج شاید حقہ دھوپ میں پڑا رہا ہے اس لئے یہ فعل ناراضگی کا نتیجہ ہے۔ لیکن جب ماموں نے کسی کو کچھ بھی نہ کہا تو ممانی صاحبہ نے پوچھا آج حقے پر کیا ناراضگی آگئی تھی؟ فرمایا مجھے حضرت صاحب نے حقہ پینے سے لوگوں کو منع کرنے کی تلقین کرنے کے لئے ارشاد فرمایا ہے اور میں خود حقہ پیتا ہوں اس لئے پہلے اپنے حقہ کو توڑا ہے۔چنانچہ ماموں صاحب نے مرتے دم تک حقے کو ہاتھ نہ لگایا اور دوسروں کو بھی حقہ چھوڑنے کی تلقین کرتے رہے۔
حضرت منشی برکت علی خاں صاحبؓ شملہ میں ملازم تھے۔احمدی ہونے سے پہلے انہوں نے ایک لاٹری ڈالی ہوئی تھی وہ لاٹری نکلی تو ساڑھے سات ہزار روپے کی رقم ان کے حصے میں آئی۔انہوں نے حضور علیہ السلام سے پوچھا تو حضورؑ نے اسے جؤا قرار دیا اور فرمایا اپنی ذات پر ایک پیسہ بھی خرچ نہ کریں۔ چنانچہ حضرت منشی صاحبؓ نے وہ ساری رقم غرباء اور مساکین میں تقسیم کردی۔
حضرت خلیفۃ المسیح الرابعؒ فرماتے ہیں: ’’یورپ کے بعض احمدی دکانداروں کے متعلق مجھے معلوم ہوا کہ اُن کے ہوٹل کے کاروبار ہیں اور وہاں شراب بھی بکتی ہے چنانچہ جب میں نے اس کا سختی سے نوٹس لیا کہ آپکو یہ کاروبار چھوڑنا ہوگا تو اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بڑی بھاری تعداد ایسی تھی جنہوں نے اس کاروبار کو ترک کردیا بعضوں کو خداتعالیٰ نے فوراً بہتر کاروبار بھی عطا کئے بعضوں کو ابتلاء میں بھی ڈالا۔ وہ لمبے عرصہ تک دوسرے کاروبار سے محروم رہے لیکن وہ پختگی کے ساتھ اپنے فیصلے پر قائم رہے‘‘۔
اتباع شریعت
ایک دفعہ نمازکے بعد حضرت مصلح موعودؓ مسجد سے باہر تشریف لے جانے لگے تو دروازہ کے قریب ایک صاحب نماز پڑھ رہے تھے۔ حضورؓ وہاں کھڑے ہوگئے اور جب تک وہ صاحب نماز پڑھتے رہے آپؓ وہیں کھڑے رہے اور نمازی کے فارغ ہونے کے بعد تشریف لے گئے۔
سیرالیون کے علی روجرز نے احمدیت قبول کی تو اس وقت وہ جوان تھے اور ان کی بارہ بیویاں تھیں۔جماعت کے مربی مولانا نذیر احمد صاحب علی نے انہیں فرمایا کہ اب آپ احمدی ہوچکے ہیں اسلئے قرآنی تعلیم کے مطابق چار بیویاں رکھ سکتے ہیں باقی کو طلاق اور نان نفقہ دے کر رخصت کردیں۔ انہوں نے نہ صرف اس ہدایت پر فوراً عمل کیا بلکہ مربی سلسلہ کے کہنے پر ادھیڑ عمر چار بیویاں اپنے پاس رکھیں اور نوجوان بیویوں کو رخصت کردیا۔
مسابقت فی الخیرات
1923ء میں ہندوؤں نے شدھی تحریک شروع کی تو اس کے خلاف احمدیہ جماعت کی کوششوں میں بچے بھی بڑوں سے پیچھے نہیں رہے۔5سالہ بچے بھی ملکانہ کے علاقوں میں جانے کے لئے تیار ہوگئے۔ایک بارہ سالہ بچے نے اپنے والد کو لکھا کہ اسلام کی خدمت کرنا بڑوں کا ہی نہیں ہمارا بھی فرض ہے۔اس لئے جب آپ تبلیغ کے لئے جائیں تو مجھے بھی لے چلیں اور اگر آپ نہ جائیں تو مجھے ضرور بھیج دیں۔
حیرت انگیز تبدیلی
حضرت منشی محمد اسماعیل صاحب ؓ حضرت مسیح موعود ؑ کی بیعت کرکے اپنے شہر سیالکوٹ واپس گئے تو یکدم لوگوں نے دیکھا کہ انہوں نے اپنی سابقہ لغو عادات یعنی تاش کھیلنا اور بازار میں بیٹھ کرگپیں ہانکنا سب چھوڑ دیا ہے اور نماز تہجد باقاعدہ شروع کردی ہے۔ان کے حالات میں اس قدر غیر معمولی تغیر دیکھ کر سب بہت حیران ہوئے۔
انگریز احمدی محترم بشیر احمد صاحب آرچرڈ 1944ء میں احمدیت میں داخل ہوئے۔قادیان میں کچھ عرصہ دینی تعلیم حاصل کرنے کے بعد زندگی وقف کردی۔ احمدیت قبول کرتے ہی ان کی زندگی میں ہمہ گیر انقلاب واقع ہوا۔عبادات الٰہی اور دعاؤں میں بے انتہا شغف پیدا ہوگیا۔ان کے قادیان کے پہلے دورہ کا سب سے پہلا ثمرہ ترک شراب نوشی اور جوئے سے توبہ تھی۔
مکرم مولانا بشیر احمد صاحب قمر بیان کرتے ہیں کہ خاکسار جماعت احمدیہ غانا کے افراد کے ساتھ ایک عید کی نماز کے بعد پیراماؤنٹ چیف سے ملنے گیا۔وہ اپنے سرکردہ افراد کے ساتھ ہمارے انتظار میں تھے۔ جب ہم اندرداخل ہوئے تو تین صد احمدی دوستوں نے چیفوں کے سامنے بڑے جوش سے گانا گاتے ہوئے اللہ تعالیٰ کے احسانات اور احمدیت کی برکات کا ذکر کیا کہ ہم بت پرست اور مشرک تھے۔ ہمیں حلال و حرام اورنیکی بدی کا کوئی علم نہ تھا۔ ہماری زندگی بالکل حیوانی تھی ہم وحشی تھے۔ شراب کو پانی کی طرح پیتے تھے۔احمدیت نے ہمیں سیدھا راستہ دکھایا اور ہماری بدیاں ہم سے چھوٹ گئیں اور ہم انسان بن گئے۔ یہ لوگ اپنے ہی شہر کے ایک پیراماؤنٹ چیف اور دیگر اکابر کے سامنے جو اُن کی سابقہ عادات و اخلاق سے پوری طرح واقف تھے اپنی تبدیلی بڑی تحدی کے ساتھ بیان کر رہے تھے اور جماعت کی صداقت کے طور پر پیش کر رہے تھے۔
امریکہ میں ایک بہت بڑے موسیقار احمدی ہوئے جن کے متعلق ماہرین کا خیال تھا کہ یہ اس زمانہ کے عظیم الشان میوزیشن بنیں گے۔ لیکن وہ احمدی ہوئے تو نہ میوزک کی پرواہ کی، نہ میوزک کے ذریعہ آنے والی دولت کی طرف لالچ کی نظر سے دیکھا۔ سب کچھ یک قلم منقطع کردیا اور اب وہ درویشانہ زندگی گزارتے ہیں۔با قا عدگی کے ساتھ نماز تہجد ادا کرتے ہیں۔آنحضرتؐ کا نام لیتے ہی ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوجاتے ہیں۔
افریقہ کے PAGENمذاہب کے پیروکاروں کے اندر بہت سی گندی رسمیں اور عادتیں عام پائی جاتی ہیں۔مگر احمدیت کے اندر داخل ہوتے ہی وہ ان بد رسموں پر تنسیخ کی لکیر پھیر دیتے ہیں اور اپنے اندر پاک تبدیلی پیدا کرتے ہیں۔ایسی رپورٹیںبھی آئیں کہ شراب کے پرانے رسیا ایک دم شراب سے نفرت کرنے لگ گئے اور اس کا دوسروں پر بہت گہرا اثر ہوا اور جب وہ اس بات کا تذکرہ کرتے ہیں تو مولوی کہتے ہیں کہ احمدیت نے ان پر جادو کردیا ہے اور اس وجہ سے انہوں نے شراب چھوڑ دی۔
اخبار سٹیٹسمین دہلی کے ایڈیٹر لکھتے ہیں: ’’قادیان کے مقدس شہر میں ایک ہندوستانی پیغمبر پیدا ہوا جس نے اپنے گر و پیش کو نیکی اور بلند اخلاق سے بھر دیا۔یہ اچھی صفات اس کے لاکھوں ماننے والوں کی زندگی میں بھی منعکس ہیں‘‘۔
شوق قربانی
حضرت مولوی نعمت اللہ صاحبؓ کو کابل میں 1924ء میں شہید کیا گیا۔ شہادت سے پہلے انہوں نے قید خانہ سے ایک احمدی دوست کو خط لکھا جس میں فرمایا: ’’ میں ہر وقت قید خانہ میں خدا سے یہ دعا کرتا ہوں کہ الٰہی اس نالائق بندہ کو دین کی خدمت میں کامیاب کر۔میں نہیں چاہتا کہ مجھے قید خانہ سے رہائی بخشے بلکہ میں یہ عرض کرتا ہوں کہ الٰہی اس نالائق کے وجود کا ذرہ ذرہ احمدیت پر قربان کردے‘‘۔
ڈاکٹر عبدالقدوس صاحب کے چھوٹے بھائی ڈاکٹر عبدالقدیر صاحب کو شہید کیا گیا تو انہوں نے حضرت خلیفۃالمسیح الرابعؒ کی خدمت میں لکھا: ’’ہم اس (شہادت) کے نتیجہ میں ڈرے نہیں، مَیں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ میرے دل میں شہادت کا جذبہ پہلے سے کئی گنا بڑھ گیا ہے۔ انہوں نے میرا ایک بھائی شہید کیا ہے مگر مَیں قسم کھاکے کہتا ہوں کہ میری ساری اولاد بھی اس راہ میں شہید ہوتی چلی جائے تو مجھے اس کا دکھ نہیں ہوگا‘‘۔ خدا تعالیٰ نے اُن کی آرزو سن لی اور جلد ہی انہیں بھی شہادت کا رتبہ عطا فرمادیا۔
1947ء میں قادیان کی حفاظت کے لئے ایک احمدی خاتون نے اپنے بیٹے کو بھیجا اور جاتے ہوئے یہ وصیت کی ’’بیٹا دیکھنا پیٹھ نہ دکھانا‘‘سعادت مند بیٹے نے ماں کے اس فرمان کی لاج رکھ لی اور شہادت سے چند لمحے پہلے اپنی ماں کے نام یہ پیغام دیا’’میری ماں سے کہہ دینا کہ تمہارے بیٹے نے تمہاری وصیت پوری کر دی ہے اور لڑتے ہوئے مارا گیا ہے‘‘۔
مصائب و شدائد کی برداشت
حضرت مسیح موعود ؑ دعویٰ کے بعد ایک دفعہ دہلی تشریف لے گئے وہاں سے آپ نے کپور تھلہ کے تین دوستوں حضرت منشی ظفر احمد صاحب، حضرت منشی اروڑا صاحب اور حضرت محمد خان صاحب کو خط لکھا کہ یہاں کے لوگ اینٹ پتھر بہت پھینکتے ہیں اور اعلانیہ گالیاں دیتے ہیں ۔ میں بعض دوستوں کو اس ثواب میں شامل کرنا چاہتا ہوں اسلئے تینوں صاحب فوراً آجائیں۔ یہ تینوں بزرگ اس وقت کچہری میں تھے۔ وہاں سے گھر گئے بغیر سیدھے دہلی جانے کے لئے روانہ ہوگئے۔حضرت منشی ظفر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ وہاں پہنچ کر ہمیں پتہ چلا کہ لوگ حضور کی رہائش گاہ پر روزانہ صبح و شام گالی گلوچ کرتے تھے اور ہجوم اینٹ پتھر پھینکتا تھا۔
1923ء میں کارزار شدھی گرم کیا گیا تو احمدی مبلغین کا یہ حال تھا کہ وہ تیز چلچلاتی دھوپ میں کئی کئی میل روزانہ پیدل سفر کرتے۔بعض اوقات کھانا تو الگ پانی بھی نہیں ملتا تھا۔ اکثر اوقات کچا پکا باسی کھانا کھاتے یا بھنے ہوئے چنے کھا لیتے اور پانی پی کر گزارہ کرتے۔بعض اوقات ستو رکھے ہوئے ہوتے تھے۔اور انہیں پر گزارہ کرتے۔صوفی عبدالقدیر صاحب سولہ میل روزانہ کی اوسط سے چالیس دیہاتوں کے مابین سفر کرتے رہے۔
احمدیت کی خاطر قطع تعلقی
گیمبیا کے ایک عیسائی نوجوان نے احمدیت قبول کی تو ماں نے اس کی شدید مخالفت شروع کردی۔ پہلے تو وہ برداشت کرتا رہا مگر جب اس کی ماں نے قرآن کریم کی توہین شروع کی تو گھر چھوڑ کر نکل گیا اور دوبارہ اس گھر میں نہیں گیا۔
معاند احمدیت عبدالرحیم اشرف آزاد نے احمدیوں کے اندر پیدا ہونے والے انقلاب کا ذکر کرتے ہوئے لکھا: ’’ہزاروں اشخاص ایسے ہیں جنہوں نے اس نئے مذہب کی خاطر اپنی برادریوں سے علیحدگی اختیار کی۔ دنیاوی نقصانات برداشت کئے اور جان و مال کی قربانیاں پیش کیں…ہم کھلے دل سے اعتراف کرتے ہیں کہ قادیانی عوام ایک معقول تعداد ایسے لوگوں کی ہے جو اخلاص کے ساتھ اسے حقیقت سمجھ کر اس کے لئے مال و جان اور دنیاوی وسائل و علائق کی قربانی پیش کرتی ہے۔یہی وہ لوگ ہیں جن کے بعض افراد نے کابل میں سزائے موت کو لبیک کہا۔بیرون ملک دور دراز علاقوں میں غربت و افلاس کی زندگی اختیار کی‘‘۔
مالی قربانی
حضرت مولانانور الدین صاحبؓ نے حضرت مسیح موعودؑ کی خدمت میں لکھا :’’میں آپ کی راہ میں قربان ہوں۔ میرا جو کچھ ہے میرا نہیں آپ کا ہے۔ حضرت پیر و مرشد میں کمال راستی سے عرض کرتا ہوں کہ میرا سارا مال و دولت اگر دینی اشاعت میں خرچ ہوجا ئے تو میں مراد کو پہنچ گیا‘‘۔
حضرت مسیح موعودؑ حضرت مولوی نورالدین صاحبؓ کے متعلق فرماتے ہیں : ’’کثرت مال کے ساتھ کچھ قدر قلیل خدا کی راہ میں دیتے ہوئے تو بہتوں کو دیکھا مگر خود بھوکے پیاسے رہ کر اپنا عزیز مال رضائے مولیٰ میں اٹھا دینا اور اپنے لئے دنیا میں سے کچھ نہ بنانا یہ صفت کامل طور پر مولوی صاحب موصوف میں دیکھی …جس قدر ان کے مال سے مجھ کو مدد پہنچی ہے اس کی نظیر اب تک کوئی میرے پاس نہیں‘‘۔
حضرت بابو فقیر علی صاحبؓ امرتسر میں تھے کہ حضورؑ کی طرف سے چندہ لینے والے پہنچ گئے۔ آپؓ کے پاس اس وقت ٹین میں صرف آدھ سیر کے قریب آٹا تھا۔ آپ نے وہی پیش کردیا اور اُس رات آپؓ اور آپ کے اہل و عیال بھوکے سوئے۔
ایثار
1947ء میں قیام پاکستان کے وقت لاکھوں مہاجر لٹے پٹے قافلوں میں پاکستان کا رخ کئے ہوئے تھے اور مسلمان عورتوں کی عزت و حرمت کے ساتھ ظلم کی ہولی کھیلی جارہی تھی اس وقت احمدیہ جماعت کا مرکز قادیان جو خود بھی دشمنوں کے نرغہ میں تھا، دور دور کے مسلمان دیہات کی پناہ گاہ بن چکا تھا۔ اس چھوٹی سی بستی نے 75ہزار بے خانماؤں کو سہارا مہیا کیا اور کسی ایک کو بھی بھوکا نہیں مرنے دیا۔حضرت مرزا ناصر احمد نے ان ننگے جسموں کو ڈھانپنے کے لئے سب سے پہلے اپنی بیگم صاحبہ کے تمام کپڑے تقسیم کئے اور پھر گھر کے دیگر افراد کے بکس کھولے اور تمام کپڑے غرباء میں بانٹ دئیے۔
سخت سردی کا موسم تھا۔ضلع امرتسر کے احمدی نور محمد صاحب کے پاس نہ کوٹ تھا، نہ کمبل۔صرف اوپر نیچے دو قمیصیں پہن رکھی تھیں کہ گاڑی میں ایک معذور بوڑھا ننگے بدن کانپتا ہوا نظر آیا۔اسی وقت اپنی ایک قمیص اتار کر اسے پہنادی۔ ایک سکھ دوست بھی ساتھ سفر کر رہاتھا وہ یہ دیکھ کر کہنے لگا’’بھائیاجی ہن تھاڈاتے بیڑا پار ہوجائے گا، آپاں داپتہ نئیں کی بنے؟‘‘ چند دن بعد وہ احمدی ایک گرم کمبل خرید کراسے اوڑھ کر حسب معمول احمدیہ مسجد مغلپورہ میں نماز فجر کے لئے داخل ہوئے تو دیکھا کہ فتح دین نامی ایک شخص جو کسی وقت بہت امیر تھا، بیماری اور افلاس کا مارا سردی سے کانپ رہا ہے۔ نور محمد صاحب نے اسی وقت وہ نیا کمبل اسے اوڑھا دیا۔
جانوروں پر شفقت
حضرت مسیح موعود ؑ کے صحابی حضرت حافظ معین الدین صاحب بینائی سے محروم تھے۔ وہ سرما کی ایک سرد رات میں جب کہ بارش کی وجہ سے قادیان کی کچی گلیوں میں سخت کیچڑ تھا افتاں و خیزاں کہیں جارہے تھے۔ ایک دوست نے پوچھا تو فرمایا بھائی یہاں ایک کتیا نے بچے دئے ہوئے ہیں۔میرے پاس روٹی پڑی تھی۔میں نے کہا کہ جھڑی کے دن ہیں اس کو ہی ڈال دوں۔
مشہور مفکر اور شاعر علامہ اقبال نے کہا: ’’پنجاب میں اسلامی سیرت کا ٹھیٹھ نمونہ اس جماعت کی شکل میں ظاہر ہوا ہے جسے فرقہ قادیانی کہتے ہیں‘‘۔
علامہ نیاز فتح پوری نے حضرت مسیح موعودؑ کے متعلق لکھا: ’’اس میں کلام نہیں کہ انہوں نے یقیناً اخلاق اسلامی کو دوبارہ زندہ کیااور ایک ایسی جماعت پیدا کر کے دکھادی جس کی زندگی کو ہم یقینا اسوہ نبی کا پر تَو کہہ سکتے ہیں‘‘۔

50% LikesVS
50% Dislikes

اپنا تبصرہ بھیجیں