الأزھر یونیورسٹی کا قیام

ماہنامہ ’’تشحیذالاذہان‘‘ ربوہ مئی 2005ء میں ایک مختصر تاریخی مضمون (مرسلہ:مکرم ظہیر احمد خالد صاحب) میں دنیا کی مشہور یونیورسٹی الأزھر کے قیام سے متعلق دلچسپ معلومات پیش کی گئی ہیں۔
969ء میں فاطمیوں کے ایک سپہ سالار جوہر صقلی (جوھر رومی) نے مصر کو فتح کرکے عرب سلطنت کے مرکز فسطاطؔ کے پاس نئے شہر قاہرہؔ کی بنیاد رکھی جو تب سے مصر کا دارالحکومت چلا آتا ہے۔ فاطمیوں، ایوبیوں، مملوکوں، ترکوں اورخدیووں کے عہد میں اس شہر کی عظمت درجہ کمال پر پہنچ گئی اور آج بھی مشرق وسطی میں تاریخی آثار کا نہایت بیش قیمت خزانہ اس شہر کی گود میں محفوظ ہے۔ لیکن قاہرہ کی ساری عظمت جہاں مادی تھی وہاں جوہر رومی نے ایک ایسی عمارت بھی بنائی جو ایک ہزار سال سے مشرقی اور اسلامی علوم وفنون کا سب سے بڑا سرچشمہ چلی آتی ہے۔
جوہر نے ایک عالی شان مسجد تعمیر کرائی جس کا نام الأزھر رکھا گیا۔ پانچویں فاطمی خلیفہ العزیز (992-975ء) نے اس مسجد میں دینی علوم کا سلسلہ شروع کر کے اس کے لئے اوقاف کا انتظام کر دیا تاکہ اساتذہ کی تنخواہوں اور طلبہ کے وظیفوں کا انتظام ہوتا رہے۔ آہستہ آہستہ یہ یونیورسٹی سارے عالم اسلام کے لئے ایک مرکزی درسگاہ بن گئی جس میں قدیم تعلیم کے علاوہ دَورِ حاضر کی تعلیم کا بھی انتظام کیا گیا ہے۔

50% LikesVS
50% Dislikes
0

اپنا تبصرہ بھیجیں